ہندوستان کی آزادی سے لیکر ۱۹۷۰ تک جن افسانہ نگاروں نے اپنے اسلوب، تکنیک اور موضوعات کے حوالے سے اردو افسانوی ادب پر اپنے نقوش چھوڑے ان میں ایک اہم نام واجدہ تبسم کا آتا ہے۔ واجدہ تبسم کی پیدائش ۹۳۵ا میں مہاراشٹر کے امراوتی میں ہوئی ۔وہ ۱۹۵۵ میں ممبئی آئیں اور یہیںسے باضابطہ طور پر ان کا تخلیقی سفر شروع ہوا ۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’۱۹۶۰ میں’شہر ممنوع ‘‘ کے نام سے شائع ہوا جسے بہت شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ۔واجدہ تبسم نے اپنے افسانوں کے ذریعہ سے زندگی کی مختلف تفسیروں اور تعبیروں کو پیش کیا ہے۔انہوں نے اپنے افسانوں میں طوائفوں، حیدرآبادی ماحول اور ان میں پرورد ہ مسلم گھرانوں کی عورتوں اور مردوں کے چھپے ہوئے جنسی مسائل اور ماحول کوبڑے ہی کھلے اور بے باکانہ انداز میں پیش کیا ہے۔انہوں نے زیادہ تر متوسط اور پسماندہ لوگوں کی زندگی کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا ۔وہ اپنے افسانوں کے بارے میں ایک جگہ لکھتیں ہیں:
’’میں نے یہ کہانیاں لوگوں کو خوش کرنے یا ناراض کارنے کے لئے نہیں لکھی ہیں۔جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ روشن پہلؤ وں پہ میں نے جو لکھا ہے وہ آنسو پوچھنے کی ایک کوشش ہے۔یہ بات سرے سے غلط ہے۔میں صرف ایک بات جانتی ہوں کہ میں نے صرف آئینہ دکھایا ہے۔میں نے اپنے قلم کے ذریعہ مظلوم طبقے کاساتھ دیا ہے۔ میری توجہ کا مستحق ہمیشہ کچلا اور پسا ہوا نچلا طبقہ رہا ہے وہی نچلا طبقہ جو در اصل سب سے اہم ہوتا ہے کسی بھی بلندی پر چڑھنے کے لئے سب سے پہلا قدم سب سے نچلی سیڑھی پررکھا جاتا ہے میں اس نچلی سیڑھی کی اہمیت کو جانتی اور مانتی ہوں اور میری ساری ہمداردی ان آنکھو ں کے ساتھ ہوتی ہے جو آنسوئوں سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں اُترن-واجدہ تبسم )
مجھے یہ بتایا گیا ہے یہ احساس دلایا گیا ہے کہ’ آج سے تم ایک لفظ بھی نہ لکھوتو بھی تم اردو ادب تمہیں فراموش نہیں کر سکتا ہے۔حیدرآبادی ماحو ل پر لکھی گئی یہ تمہاری کہانیاں اردوادب میں تمہاری یاد ہمیشہ قائم رکھیں گی۔
یہ تو لوگوں نے مجھے سمجھایا:
’’لیکن میں آپ سے بڑے اعتماد سے یہ کہوں گی کہ اردو ادب مجھے فراموش نہیں کر پائے گا۔‘‘
(’’واجدہ تبسم کے شاہ کار افسانے‘‘ رحمن بک ہائوس‘‘ ص:۴)
واجدہ تبسم نے بہت سے افسانے لکھے مگر مرے مطمح نظر ان کے وہ افسانے ہیں جن میں انہوں طوائفوں کی زندگی کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔طوائفوں سے متعلق ان کے افسانوں میں’ نتھ اترائی‘،’ چھنال،’ہنسی کہاں پر کھو گئی ‘،عبادت گاہ،’چاندنی،‘’زخم تمنا‘،آسمان اور پیٹ ہیں۔ان تمام افسانوں میں انہوں نے طوائفوں کی نفسیات اور ان کے در پیش پریشانیوں کو بڑے ہی خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے۔ ان کہانیوں کو پڑھ کر کہیں قاری کو طوایفوں سے ہمدردی بھی ہوتی ہے تو کبھی ذہنی تلذز کا احساس بھی۔ کیوں کہ ان کہانیوں میں پیش کردہ جملے اور مکالمے بہت جگہ اتنے بولڈ اور کھلے انداز کے ہیں کے جنسیت اورعریانیت کی حد یں بھی پار کر جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بہت سے ناقدین نے واجدہ تبسم پرفحش نگاری کا الزام بھی لگایا ہے۔ لیکن وہ اسکا دفاع کرتے ہوئے لکھتی ہیں :
’’ طوائفیں ہمارے معاشرے کی بڑی مظلوم مخلوق ہیں۔ مجھ سے پہلے بھی کئی لکھنے والوں نے بے پناہ تیز،حد درجہ گرم اور ناقابل یقین حد تک درد ناک موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ یہ عجیب و غریب بات ہے کہ ایک مرد ، عورت پر کچھ لکھے تو اسے قابل اعتراض نہیں گردانا جاتا۔اور عورت،ایک عورت پر لکھے تو فحش نگار جیسے خطاب سے نوازاجاتا ہے۔‘‘(قوس خیال،نتھ اترائی ،واجدہ تبسم، ص:۵)
واجدہ تبسم کے مذکورہ موضوع پر لکھے گئے افسانوں کو پڑھ کر بہت سے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے افسانوں کی طوائفیں حقیقی نظر نہیں آتی ان میں بناوٹ کا عنصرزیادہ نظر آتا ہے کیوں کہ طوائف کا پیشہ اختیار کرنے والی عورتیں ایسی ہو تی ہیں کہ وہ گھر کا گھر تباہ و برباد کر دیتی ہیں انہیں کسی سے محبت نہیں ہوتی انہیں صرف پیسے سے الفت ہوتی ۔کسی کا یہ بھی خیال ہے کے واجدہ تبسم جب اپنی کہانیاں لکھتی ہیں تو کسی نہ کسی قاری کو طوائفوں سے ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے اور اسے اس دلدل سے نکال کر اپنے یہاں پناہ دینے کا جذبہ بھی بیدارہو جاتا ہے۔لوگوں کی تمام باتوں سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا مگر جب ان کے اس موضوع پر لکھے ہوئے افسانوں کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ کہیں کہیں تو ان کی طوائفوں میں ایک عزت بھری زندگی گزارنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے مگر کہیں کہیں اس پیشے کو اختیار کرنے کے بعد ان کی شرشت میں وہ کجی ایسی حلول ہو جاتی ہے کہ زمانے بھر کے لوگوں کو بے وقوف بنا کر ان سے ہمیشہ پیسے لوٹتی رہتی ہیں۔ مگر وہیں ہمیں ان افسانوں کو پڑھ کر یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ اس کجی کا ذمہ دار بھی یہی معاشرہ ہے جس کی ستم ظریفیوں نے اسے اس درجہ بے حس بنا دیا ہے کہ اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا اور اسے بس دولت سے ہی مطلب ہوتا ہے واجدہ تبسم کاایک افسانہ’’ نتھ اترائی‘‘ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔
اس کہانی کا مرکزی کردار جینوں(جہاں آرا ) ہے جو کہ اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ رہتی ہے اس کی ماں تو اس پر ظلم کرتی ہی ہے مگر سماج کے لوگ بھی اسے ہوس کی نگاہ سے ہی دیکھتے ہیں اس کی وجہ اس کے ماں کا پیشہ ہوتا ہے جگہ جگہ اسے بے غیرتی کا احساس ہوتا رہتا ہے کسی نے اندھرے میں سینہ پکڑ لیا اور کسی نے کچھ اور اس میں کسی بوڑھے جوان کی بھی قید نہیں ہوتی جسے موقع ملے وہی ہاتھ لگا دیتا اورجب کسی عورت کی عزت چلی جاتی ہے تب اس کے پاس کھونے کو اور کچھ نہی رہتا اور اس کے بعد وہ نڈر اور بے خوف ہو جاتی اورکسی کام کوکرنے سے گریز نہیںکرتی ۔ جینو کے ساتھ بھی ایسا ہی وقعہ پیش آیا تھا جب وہ اپنی ماں کے ساتھ ایک گھر میں گانا گانے گئی اوررات میں گرمی کی وجہ سے گھر کے باغ والے برآمدے میں اکیلی سوئی تھی تو کسی نے اس کی عزت لوٹ لی اور بدلے میں ایک روپے کا نوٹ تھما کر چلا گیا ایک اقتباس دیکھیں۔ (یہ بھی پڑھیں اردو کی ادیبائیں : منظر پس منظر -ترنم ریاض )
’’کتنی بار ایسا ہوا کے اندھیرے اجالے کسی نہ کسی نے موٹر کے ہارن کی طرح سینہ پکڑ دبا دیا۔ اس میں بوڑھوں اور جوانوں کی بھی کوئی قید نہیں تھی۔بس موقع ملنے کا سوال تھا۔ اور وہ رازوں کے اسرار سے پردہ اٹھاتی ہوئی ایک عجیب و غریب رات!! گرمی کے مارے جب وہ شادی کے گھر کے باغ والے بر آ مدے میں اکیلی سوئی پڑی تھی تو کسی نے اندھرے میں اس کا آزار بند کھول دیا تھا اور جب تک کہ وہ حالات کی پیچیدگی کا جائزہ لیتی۔یا کچھ سوچ ہی پاتی۔سب کچھ برابر ہو چکا تھا اور کڑکڑاتے کاغذ کی ایک چھوٹی سی تہہ اس کی ہتھیلی میں پڑی فریاد کئے جا رہی تھی ۔اجالے میں چلو اور مجھے دیکھو۔ تمہیں پتہ تو چلے کی تمہاری قیمت کیا ہے۔ تمہارا مول کیا ہے۔ بڑی مشکل سے وہ اٹھی تھی۔باہر جا کر ملگجے اجالے میں نوٹ کی تہہ کھولی اور بس دیکھتی رہ گئی۔ وہ ایک روپے کا نوٹ تھا!!اسے ہنسی آگئی۔ وہ جواں مرد اگر ایک روپیہ بھی نہ دیتا تو میں اس کا کیا بگاڑ لیتی۔؟ لیکن چلو اس نے راستہ تو دکھا دیا کہ یہ بھی ایک دکان ہے جو چلائی جا سکتی ہے؟‘‘(نتھ اترائی،ص:۱۸)
اسی طرح ایک شادی میں گانے کو جب اپنی ماں کے ساتھ گئی تو کلے خاں جو کے ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا اس کی نظر اس پر پڑی اور وہ اسے محبت کر بیٹھی اور ساری دنیا چھوڑ کر اس کے ساتھ بھاگ کر ممبئی آگئی۔ لوگوں کی ہوس ناکیاں اور بری نگاہوں کا سامنا کرتے کرتے اس کی اندر کی وہ فطری محبت پہلے ہی مر چکی تھی اورسماجی بے عزتی اوربے غیرتی کے احساس نے اسے اس درجہ بے حس بنادیا تھا کہ وہ یہ سوچنے پر مجبور تھی کہ جو دکان چار لوگ چلاتے ہیں اب وہ دکان اکیلے کلے خان چلائے گا پہلے بھی پیسے کی ضرورت تھی اب بھی تھی پہلے بھی وہی طریقہ تھا اب بھی وہی طریقہ تھا۔اور مولوی کی موجودگی میں وکیلوں کی گواہی میں جو نکاح پڑھائے جاتے ہیں اورعورت کو کسی ایک مرد کی قید میں زندگی بھر کے لئے دے دیا جاتا ہے یہ بھی تو بالکل وہی سللہ ہے رات بھر کچھ لیتے رہو اور دن میں اس کے معاوضے میں کپڑا لتاکھانا دانہ دیتے رہو۔
جہاں آرا جب ممبئی آئی اور محلے میں ایک جگہ اپنے بھائی کی آمد پر کلے خاں کے دوست نے پارٹی دی پارٹی میں کسی نے جہاں آرا سے گانے کی فرمائش کردی انہوں نے محفل میں ایسا گانا گایا کہ لوگ مسحورہو گئے اور اتنی پزیرائی ہوئی کہ یہ سلسلہ چل نکلااور جہاں آرا بیگم نے رات میں گانا گانا شروع کر دیا پہلے پہل محلے کے لوگ گانا سننے آتے اور تعریف کے ساتھ کچھ پیسہ بھی دیتے جب کچھ روپے ملنے لگے تو وہ اور بھی بے باک ہوگئی اور پھر اسی پیشے کے طور پر شروع کر دیا۔واجدہ تبسم نے اس کو بڑی خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے ایک اقتباس دیکھیں:
‘’’جب عورت کمانے لگتی ہے تو عورت کے منہ میں زبان کی جگہ ایک دھار دار چھری آجاتی ہے اور یہ کمائی جب اپنی دکان کی ہو تو چھری دو دھاری ہو جاتی ہے۔ اور مرد جب یہ دیکھتا ہے کہ عورت کی دکان خوب چل نکلی ہے اور گراہکی بہت بڑھ گئی ہے تو وہ اپنی زبان بند کر لیتا ہے۔ کیونکہ بہر حال دو چیزیں ساتھ نہیں چل سکتیں۔ یا دکان چلے یا تو زبان چلے۔ پہلے پہل کلے خاں کی زبان زیادہ چلنے لگی تو اسے اپنی محفلوں کی بدمزگی جان کر جہاں آرا نے اسے افیم دینی شروع کردی۔ پھر وہ افیم کا اس قدر عادی ہوگیا کہ ہر بات سے بے فکر ہو گیا۔ بے فکری نے زبان بالکل ہی بند کر دی اور یوں جہاں آرا بیگم کی دکان خوب چل اٹھی۔‘‘ (نتھ اترائی،ص:۱۹،۲۰)
اس افسانے میں افسانہ نگار نے اس نفسیات کو بھی پیش کیا ہے جس میں ایک عورت جو پہلے سے ہی بے راہ روی کا شکار ہے محبت رچانے کے بعد بھی فطرت میں شامل چیز ہمیشہ باقی رہتی کچھ دنوں کے لئے دب جاتی ہے مگر اسے جب موقع مل جاتا ہے پھر سے اسے وہیں پر پہنچا دیتی ہیں۔ممبئی آنے کے بعد جینوں کو بھی وہی دنیا پھر سے راس آنے لگی جسے چھوڑ کر وہ آئی تھی اورجب یہ شروع ہو جاتا ہے تو پھر رکے نہیں رکتا اور جب روکنے کی کوشش کرو تو پھر اس افسانے سا ماحول ہو جاتا ہے جس کا بیان اس افسانے میں ملتا ہے۔کلے خاں شروعاتی دور میں منع نہیں کیا لیکن جب منع کیا تو دونوں میں اس طرح کی بات ہوئی۔جس کا بیان افسانے میں اس طرح ہے۔’’جب عورت کمانے لگتی ہے تو عورت کے منہ میں زبان کی جگہ ایک دھار دار چھوری آجاتی ہے اور یہ کمائی جب اپنی دکان کی ہو تو چھوری دو دھاری ہو جاتی ہے۔‘‘
اقتباس ملاحظہ کیجئے۔
’’تم تو اپنا ہنر آگرہ ہی میں گروی رکھ آگئے تھے۔۔ یہاں آکر اگر ایک دن بھی نوکری کی؟ اگر میں ہی حالات کو نہ سنبھالتی تو پتہ چلتا؟ وہ چلایا۔ حالات ایسے سنبھالے جاتے ہیں کمینی؟ وہ تڑخے کے ساتھ بولی۔
روپے روپے میں آزار بند کھلوانے والی اگر ایک
ایک رات کے پانچ پانچ سوکمانے لگے تو تجھ جیسے ڈھیلے نا مرد کو اپنا شوہر مانے گی۔۔؟؟
کمینی۔گندی ۔چڑیل۔ اپنی زبان سے خود اپنی کرتوت مجھے سنا رہی ہے۔ وہ اپنا ہاتھ بڑھا کر لپکا۔ لیکن اس نے اپنا سونے کے کنگنوں سے جھم جھماتا ہاتھ بڑھا کر مرد کا ہاتھ مروڑ کر نیچے گرا دیا۔‘‘(نتھ اترائی،ص:۲۱)
مذکورہ بالااقتباس جسے واجدہ تبسم نے ایک طوائف کے ذریعہ کہلوایا ہے اس کوپڑھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ جہاں آرا بیگم جو کہ سماجی ستم ظریفیوں سے دوچاررہی ہے اسے عزت اور ذلت سے اب کوئی سروکار نہیں پہلے بھی پیٹ بھرنے اور بدن ڈھاکنے کے لئے ایسا ہی کچھ کرنا پڑتا تھا اب بھی وہی کرنا پڑرہا ہے اور جو اسے بھگاکر لایا اس نے بھی تو کوئی باضابطہ طور پر شادی نہیں کی بلکہ ایک کالا دھاگا اس کہ گلے میں ڈال دیا ۔اور جب کسی انسان کو ایک ہی طرح کی زندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اسے قبول کر لیتا ہے ۔چونکہ جہاں آرا بیگم بھی سماج کی بے وفائیوں اور ستم ظریفیوں کا شکار رہیں تو ان کے یہاں بھی اپنے پرائے سے محبت کہاںرہتی اور آگے جا کرجہااں آرا نے بھی یہی کیا جب اس کی بیٹی چمن آراجوان ہوئی تو ایک نواب صاحب سے اس کا سودا کر دیا کہ نواب صاحب اس کے عوض میں اس کا خرچ پورا کرتے رہیں گے۔ اس درمیان اسکی بیٹی کو ایک انور نام کے نوجوان سے محبت ہو جاتی ہے اورجس دن نواب اسے لینے آتا ہے اس دن وہ انور کو اپنا سب کچھ سونپ دیتی ہے۔جہاں آرا کو اس بات کا پتہ چل جاتا ہے اسے بہت برا بھلا کہتی ہے مگر اس کے تمام جذبات و احساسات مر چکے ہوتے ہیں وہ نواب کو بھی اس کے کمرے میں بھیج دیتی۔کچھ دنوں کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس کی بیٹی ماں بننے والی ہے۔ نواب صاحب بڑے ہی دھوم دھام سے اسے اپنے حویلی لے جاتے ہیں مگر اسے جب وہی لڑکا اس گھر میں منہ دھوتا ہوا نظر آتا ہے تو وہ پوچھتی ہے کہ وہ یہاں کیا کر رہا ہے تو وہ کہتاہے کہ وہ اس کا گھر ہے اور نواب صاحب اس کے والد ہیں ۔جب اسے اس کا پتہ چلتا ہے تو اس کی کیفیت عجیب ہوتی ہے اور وہ ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی ہے اسکا بیان افسانے میںکچھ اس طرح سے ملتا ہے۔:
’’ چمن نے اسے دیکھا اور پاگلوں کے سے انداز سے چلا چلا کر ہنسنے لگی۔ امی جان ذرا ایک رشتہ مجھے سمجھا دیجئے۔ یہ بچہ جو میرے پیٹ میں، میرا بیٹا بھی ہو سکتا ہے۔ اور شاید میرا پوتا بھی۔ ہے نہ امی جان۔ ہو سکتا ہے اور کئی رشتے، رشتوں سے نکل آئیں تو میں امی جان۔ میں خود اپنی بہو بھی ہوئی اور اپنی ساس بھی۔ کیوں کہ امی جان آپ کی عنایت سے باپ بیٹے ایک ہی تھالی میں کھا کر گئے ہیں۔۔۔۔۔۔ امی جان ذرا رشتہ تو سمجھ لیجئے۔ پھر مجھے سمجھا ۔۔۔۔ اور ایک دم چیختے چیختے بے ہوش ہو گئی۔
ہڑ بونگ سن کر جاگیردار صاحب باہر نکل آئے۔
ارے بھائی کیا ہو رہا ہے۔ وہ چلائے۔ ماں کے ہاتھوں میں بیٹی کو یوں دیکھا تو بولے:
اسے کیا ہوا۔ ارے میں پوچھتا ہوں چمن کو کیا ہوا۔۔
جہاں آرا بیگم نے بڑی ادا سے سر اٹھا کر جواب دیا۔
ائے حضور مجھ سے کیا پوچھتے ہیں۔ ایسی بھی کیا جوانی کہ پھول سی بچی کو رات جھولا جھولا بنا دیا،اور اپر سے یہ سوال کہ کیا ہوا۔۔۔۔
اپنی لنگڑی جوانی کے سرایسا شان دار سہرا بندھتے دیکھ وہ کھل کھلااٹھے اور سو سو کے مٹھی بھر بھر نوٹ اپنی جیبوں سے نکال کر جہاں آرا کے سامنے ڈھیر کرتے گئے۔‘‘(نتھ اترائی،ص:۳۶،۳۷)
اس پورے افسانے میںواجدہ تبسم نے انسان کی اس جبلت کو دکھانے کی کوشش کی ہے جو سماج کی بے اعتنائی اوراستحصال کے باعث کسی کے ذہن کو اس طرح سے بے راہ روی پر ڈال دیتا ہے کہ اسے بھلے برے کی کوئی تمیز نہیں رہتی اور وہ اس میں اس طرح سے ڈوب جاتا ہے کہ رشتے ناطے اور کوئی بھی اقدار اس کے لئے کوئی معانی نہیں رکھتا اس افسانے کامرکزی کردار جہاں آرا بھی سماج کی انہیں بے اعتنائیوں کا شکار رہی جس کی وجہ سیاسے اپنی بیٹی کی محبت کا بھی کوئی پاس نہیں رہا اور آخری عمر میں آرام کی ہو س پیٹ بھرنے کی لالچ نے اپنی بیٹی کا سودا کرنے سے بھی بعض نہ رکھ سکا۔ (یہ بھی پڑھیں ‘‘آخری سردار’’ :ایک علامتی اور استعاراتی افسانہ : ڈاکٹر زاہد ندیم احسن)
اسی طرح ان کا ایک افسانہ ’’چھنال‘‘ ایک ایسے طوائف کی کہانی ہے جو کہ اس نتھ اترائی کے بالکل بر عکس ہے جس کی کردار عزت والی زندگی میں آنے کے بعد گھر کی عزت بچانے کی خاطراپنی بدلی ہوئی اچھی زندگی کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے ۔اس کہانی کا مرکزی کردار صابر میاں اور گوہر جان ہیں۔ گوہر جان ایک مجرا کرنے والی ہے صابر میاں اپنے ایک دوست کی شادی میں جاتے ہیں تو وہیں گوہر جان کو دیکھتے ہیں اور اپنا دل گوہر جان پر ہار بیٹھتے ہیں لوگوں کے لاکھ سمجھانے پر بھی ان کا دل رازی نہ ہوتا ہے کہ گوہر جان کو چھوڑیں ماں کو بھی منایا لیا ماں بیچاری اپنے ایک لوتی اولاد کی ضد کے آگے ہار گئی اور صابر میاں گوہر جان کو بیاہ کر اپنے گھر لے آئے۔گوہر جان اپنی اس زندگی میں خوش تھی ساس کا پیارتو نہیں ملا مگر ایک پیار کرنے والی نند ضرور تھی لیکن ایک دن ایسا ہوا جسے دیکھ کر گوہر جان گھر چھوڑ کر چلی گئی ان کی نندان کی ساڑی پہن کر پڑوس کے ایک شخص سے اس کے چھت پر ملنے گئی تو ان دونو کی بات کو سن کر خون ان کی رگوں میں جم سا گیا اقتباس دیکھیں۔
’’ہمت کیسے کی آج ۔۔۔
بھائی جان نے کہا تھا دیر سے آئیں گے۔۔۔
اورجو آ گئے۔۔۔ تو۔۔۔ ساتھ میں بوسے کی آواز۔۔۔۔
اتنی بے وقوف نہ سمجھو۔۔۔ اسی لئے بھابی کی ساڑی پہن کر آئی ہوں کہ جھپک لپک میں اماں اور بھائی جان نے دیکھ لیا تو سمجھیں گی کہ بھابی تھیں۔۔۔ ان کے طوائف ہونے کا ایک فائدہ ہمیں بھی تو ملا۔۔۔ ملی جلی ہنسی کی دبی دبی آوازیں۔۔ آوازیں پھر سے ابھریں۔۔ لیکن میں تو اب ترس گیا ہوں۔۔۔ صرف بوسوں سے اور لپٹا لپٹی سے اب میری سیری نہیں ہوتی۔۔۔ کوئی موقعہ۔۔۔۔؟
بھابی کی ساڑیوں کی عنایت سے مل ہی جائے گا
دیکھو ٹال تو نہیں رہی ہو۔۔۔
ٹالوں گی کیوں وہی میرے دل کی آواز نہیں ہے۔؟
اچھا ہوا تمہارے بھائی ایک رنڈی کو بیاہ کرلائے۔۔ اس کی آڑمیں تو ہم کافی دنوں تک رنگ رلیاں منا سکتے ہیں۔
کم سے کم تمہاری شادی کے دنوں تکـ۔ـ‘‘(چھنال،ص:۴۹،۵۰)
یہ باتیں سن کر گوہر جان جو کہ صابر میاں سے شادی کے بعد دلہن بیگم ہو گئی تھیں اپنے نند زہرہ کو ایک نصیحت بھرا خط لکھا اور بنا کسی کو بتائے ہوئے گھر چھوڑ کر چلی گئی اس کے ضمیر نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ وہ اپنے شوہر کو یہ بتا کر تکلیف دے کہ اس کی بہن جس کی شادی لگ چکی ہے وہ کسی اور کہ ساتھ معاشقہ کر رہی ہے لیکن چونکہ انسانیت اس کے اندر موجود تھی ور یہ انسانیت اس کے اندر صابر میاں کی محبت نے جگایا تھا تو اس نے زہرہ کے نام خط لکھنا ضروری سمجھا کہ جس شوہر نے اسے عزت بھری زندگی دی تھی اس کی رسوائی نہ ہو جائے۔اقتباس ملاحظہ کریں:
زہرہ بی بی۔۔ یہ خط پڑھ کر پھاڑ دینا خدا تمہیں خوش رکھے اور سیدھے راستے پر چلائے۔۔ تمہاری منگنی ہو چکی ہے۔۔ اللہ کرے جلد ہی شادی بھی ہو جائے۔۔تم میری ساڑیاں اتنے شوق سے کیوں پہنتی ہو مجھے پتہ چل گیاہے۔۔میری زندگی جیسی بھی گزری ۔۔گزری۔۔ رنڈی کی عزت ہی کیا۔۔ لیکن تمہارے بھائی کی بیوی بن کر میںنے اس گھر میں جو بھی عزت کی زندگی گزاری ان کا تقاضا یہ تھا کہ میں تمہیں غلط رستے پر چلنے سے نہ صرف ٹوک دوں بلکہ بچا بھی لوں۔ میری بدنامیاں تو وفادار کنیزوں کی طرح میرا دامن تھام کر عمر بھر ساتھ چلیں گی۔۔ میں تمہاری معصوم اور بے داغ زندگی کو یوں داغ کرنے میں حصہ بنوں! یہ نہیں ہوگا۔۔
بی بی میری چادر اور ساڑیاں اور چادریں استعمال کرو گی تو میلی میری ہی ساڑیاں اور چادریں ہوںگی۔۔لیکن تمہاری زندگی کی چادر پر جو داغ پڑیں گے وہ آب زمزم سے دھل کر بھی پاک نہ ہو پائیں گے۔۔ خدا اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چلو۔۔۔یہی میری نصیحت اور یہی میری دعا ہے۔۔ ایک بڑی بھابی ہونے کے ناطے۔۔۔
میں اس گھر میںسر جھکا کر ،دلہن بنکر آئی تھی،خدا گواہ ہے تمہارے بھائی کے لمس کے بعد اس جسم کو صرف ہوا، دھوپ اور چاندنی ہی چھو سکی ہے۔اور خدا کو پھر بیچ میں لاکر تمہیں یقین دلاتی ہوں کہ زندگی بھر جہاں کہیں بھی رہوں اس جسم پر تمہارے بھائی کے بے مثال محبت بھرے نقوش ثبت رہیں گے۔لیکن اس پیاری محبت کو چھوڑ کر صرف اس لئے جا رہی ہوں کہ تم سر اٹھا کر جی سکو۔۔۔
تمہاری بھابی
(چھنال،ص:۵۰،۵۱)
اس خط کو پڑھ کر قاری یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ایک مجرا کرنے والی جب ایک شرافت بھری زندگی میں داخل ہو جاتی ہے تو پھر اس کا ضمیر اسے یہ ملامت کرتا رہتا ہے کہ اب وہ اس کی پاس داری کرے اس کہانی کاکردار گوہر جان بھی اسی کیفیت میں گرفتار ہوجاتی ہے اور گھر کی عزت بچانے کے لئے اپنی ایک اچھی بھلی زندگی کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے اس کہانی کا کردار اانسانی جذبات واقدار سے سرشار نظر آتاہے۔ اگر وہ چاہتی تو نہ بھی جاتی کیوں کہ اس کے ماضی نے ابھی تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ صابر میاں کی والدہ نے صابر کی شادی تو اس سے کر دی تھی مگر اسے قبول نہیں کیا اور ہمیشہ برا بھلا کہتی رہتی تھی لوگوں کی نظروں میں اس کی کیا وقعت تھی وہ جانتی تھی اور اسے اس بدنامی سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا تھا پہلے بھی بدنام تھی اب شوہر کے علاوہ کوئی عزت نہیں ملی تھی تو وہ چاہتی تو یہ بدنامی لیکر بھی رہ سکتی تھی مگرکبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ محبت کسی ایک کا بھی ملے تو ضمیر بیچنے والے انسان کا بھی ضمیر جاگ جاتا ہے۔ اس افسانے کا کردار بھی کچھ اسی طرح کے جذبات سے دو چار ہوتاہے ۔چنانچہ گوہر جان اپنے شوہر کی عزت بچانے کی خاطر گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔اس کہانی کا اختتام صابر میاں کی ماں کے اسی جملے پر ہوتا ہے جس سے افسانہ نگار نے افسانے کا آغازکیا تھا۔
’’ میں تو پہلے ہی کہتی تھی۔۔ اماں بھی نے دھڑاک سے پان دان بند کیا، زور سے پائوں کی ٹوکری لڑھکائی، اور صابر میاں کی طرٖف کھا جانے والی نظروں سے دیکھا جو دونوں ہاتھوں میں سر تھامے غم اور ندامت کی تصویر بنے بیٹھے تھے۔
مونڈی کٹی، کوٹھے کی چھنال آخر چھنال ہی نکلی نا۔۔۔‘‘ (چھنال،ص:۵۱)
اس طرح سے ہم دیکھتے ہیں کہ واجدہ تبسم کے ان دونوں افسانوں کے کردار ایک دوسرے کے بر عکس نظر آتے ہیں ایک کامرکزی کردار جہاں آرا بیگم ہے اسے دنیا نے جس بے راہ روی کی زندگی عطا کی تھی اسے بنے خان سے محبت اور اس کے ساتھ ایک شادی شدہ زندگی گزرانے پر بھی صحیح راستے پر نہیں لاتا ۔اور دوسری طرف ایک ایسا کردارہے جومحبت کے عوض ایثار اور قربانی کا پیکربن جاتاہے ۔ ان دونوں افسانوں میں افسانہ نگار نے دو نفسیات کو ابھارنے کی کوشش کی ہے ایک میں تو سماج کی بے اعتنائیوں کا شکار ہونے والی کردار جسے ا چھی زندگی گزارانے کا موقعہ ملتا ہے مگربے حسی کا غلبہ اتنا ہے کہ اس کے اندر فطری محبت بالکل ہی نہیں آپاتی اور اس کے لئے کو ئی رشتہ معنی نہیں رکھتا تو دوسری طرف اچھی زندگی میں داخل ہونے کے بعد اس کی پاس داری اور اس کی عزت برقرار رکھنے کے لئے اپنی محبت بھری زندگی چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ یہاں واجدہ تبسم نے اپنے ان دونو ں افسانے کے ذریعہ سے یہ واضح کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ اگر انسان بری زندگی میں داخل ہے تو وہ برا بھی ہو سکتا ہے اور اچھائی بھی آسکتی اور یہ دونوں چیزیں انسانی جبلت میں شامل ہے۔
واجدہ تبسم نے طوائف کے موضوع پر جتنے بھی افسانے لکھیں ہیں ان میں بہت تنوع پایا جاتا ہے مذکورہ بالا افسانے اس کی اچھی مثال ہیں ِ،مگر اس کے علاوہ اس موضوع پر انہوں نے جو افسانے لکھے ہیں ان کی طوائف بھی قاری کے ذہن پرالگ الگ طرح کا نقش چھوڑتی ہیں۔
اگر ان کے افسانے ہنسی کہاں پر کھو گئی کی طوائف کو ہم دیکھتے ہیں تو اس کا یہ کہنا کہ۔ ہاں میں جسم بیچتی ہوں اور پیسہ کماتی ہوں وہ بی کسی مکاری سے! گاہک کو نچوڑ لینے کی حد تک مکاری سے۔ اور پھر روزی کہ سوال کی کردار۔جو کے اپنے گاہک کو پٹانے کے لئے اور اپنی اہمیت جتانے کے لئے کچھ اس طرح لڑتی ہے۔ارے او خصم کی جنی وہ میرے پاس آرہا تھا بھرے بھرے بدن والی بولی۔۔ ارے چل رے چل بھاڑ کھائونی وہ میرے پاس آرہا تھا ہاں ہاں وہ تیرا باپ تھا نا۔ اس واسطے کو ترے کو گود میں سلا نے آرہا تھا۔ ارے نہیں وہ تیرا بچہ تھا نا ۔تیری مانڈی پر لیٹ کر تیرا دودھ پینے آرہا تھا۔
ان کے علاوہ بھی اور بہت سی کہانیوں کے کردار اور موضوعات کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کے واجدہ تبسم نے طوائف کو جن افسانوں کا موضوع بنایا ہے ان کے تمام کردار اپنے پیشے کے حوالے سے پوری طرح سے مناسبت رکھتے ہیں اور ان تمام افسانوں میں جتنے بھی کردار ہیں ان تمام کداروںکی نفسیاتی سطح بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے کوئی اپنے پیشے میں پوری طرح رچی بسی ہے تو کوئی ان پیشے سے بیزار ہے اور کوئی روشنی میں لوٹنے کی متقاضی ہے تو کوئی اس پیشے میں اتنی بے حسی کا شکار ہے کے تمام اقدار پس پشت چھوڑ رکھاہے۔ انہو ں نے ان افسانوں میں جو کرداروں کے ذریعے سے جملے کہلوائے ہیں بھی بہت حد تک مناسبت رکھتے ہیں۔ کہیں کہیں جملے سے اعتراض بھی ممکن ہے جہاں پر جملے فحش ہیں اور اس طرح کے جملے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ لیکن جب کوئی افسانہ نگار اس طرح کے موضوع پر لکھتا ہے تو اس کے سامنے وہ پوراماحول ہوتا ہے ۔یہی وجہ کہ واجدہ تبسم نے جب اس موضوع پر قلم اٹھایا تو انہوں نے ان تمام ماحول اور اس پس منظرمیں ہونے والے مکالمے کو ہوبہو سامنے لا دیا جسے پڑھ کر بہت سے لوگوں نے فحش نگاری کا الزام بھی لگایا۔ مجموعی اعتبار سے ان کے مذکورہ موضوعات پر لکھے ا گئے فسانوں کا مطالعہ کرنے سے یہ احساس ہوتاہے کہ انہوں نے اس طبقے کے زندگی کی عکاسی بر محل اورنمایا ں طور پر کیا ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

