Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

وکیل اختر کا شعری منطقہ – ڈاکٹر خان محمد رضوان

by adbimiras جولائی 6, 2022
by adbimiras جولائی 6, 2022 0 comment

خام کو کندن بنانے کا عمل فطری ہے اور فطری بنیادوں پر روبہ عمل ہونے والی تمام چیزیں خلّاق ِازل کی توفیق کی مرہون منت ہوا کرتی ہیں۔ بعینہ شعری اظہار بھی ایک فطری عمل ہے اور یہ خدا کی ودیعت کے بغیر ناممکن ہے۔

جس طرح ایک سنار سونے کو، بڑھی لکڑی کو اور لوہار لوہے کو اپنے مخصوص عمل سے گزار کر خام مادہ کو کندن بنانے کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ پھر اس سے بہترین اور خوبصورت اشیائ وجود میں آتی ہیں جسے انسان اپنے استعمال میں لاتا ہے۔غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے لوہے، سونے، ہیرے اور جواہرات کی شکل میں خام مادہ کو پیدا کیا۔ اگر وہ چاہتا تو ابتدا میں ہی ان خام مادوں کو تبدیل کرکے زیورات کی شکل میں بھی پیدا کرسکتا تھا مگر اس نے انھیں خام اشیائ کی شکل میں پیدا فرمایا اور پھر اس نے خام کو کندن بنانے کے سامان بھی پیداکیے۔ انسان کو شعور دیا، ہنر مند بنایا اور پھر اس ہنرمندی کے جوہر کو روبہ عمل لانے کے لیے آلات اور دیگر چیزیںپیدا کیں تب جاکر انسان ان خام چیزوں سے نادر اشیائ بنانے میں کامیاب ہوا۔ ٹھیک ایسی ہی کیفیت ایک فن کار کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے کہ وہ فن کار سے اس طرح کام لیتا ہے کہ فن کار کی عام انسانوں سے ذہنی اور فکری طور پر الگ شناخت کی جاسکے ،یہی وجہ ہے کہ فن کار ہر چیز کو ایک الگ زاویے اور مختلف نظریے سے دیکھتا ہے۔ وہ جن چیزوں کو اپنے مشاہدے میں لاتا ہے، انھیں پہلے اپنے ذہن اور فکر کا حصہ بناتا ہے۔ خام خیال اور اس خام مشاہدے اور خام تجربے کو اپنے ذہنی اور فکری عمل پر اتارتا ہے۔ جب فن کار کو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ اس کی فکر کا حصہ بن چکے ہیں، اب وہ انھیں کامیاب طریقہ سے فنی اور فکری طور پر جانچ اور پرکھ کر شعری اظہار کا وسیلہ بنا سکتا ہے، تو پھر فن کی شکل میں اتار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شعری اظہار کو فطری عمل قرار دیا گیا ہے۔ اس کام میں انسان کی قوت ارادی، اس کا جذبہ اور اس کا اپنا دخل کم سے کم ہوتا ہے۔یہی سبب ہے کہ شاعری کو جزو پیغمبری سے بھی تعبیر کیا جاتاہے۔ یہ بات صرف کہنے کی حد تک ہی نہیں بلکہ ان معنوں میں درست بھی ہے کہ پیغمبروں کا انتخاب خود خدائے تعالیٰ کرتے ہیں۔ اس کار عظیم کے لیے ان کی طبعی تہذیب و ترتیب بھی کی جاتی ہے۔جس کی وجہ سے انھیں پیغامبر اور رسول کہا جاتا ہے۔کار نبوت خدا کا انتخاب ہوتا ہے وہ اپنے بندوں سے اس کام کو انجام دلواتا ہے۔شعرائے کرام کو اسی وجہ سے جزو پیغمبری کہا جاتا ہے کہ قدرت ان کے ذہن و فکر کو اس طرح آراستہ کرتی ہے کہ شاعر اپنے خیالات اور افکار کی بلندی سے کام لے کر مشاہدات اور تجربات کو اپنی اعلیٰ فکرکی شکل میں پیش کرتا ہے۔ جس میں اس کی قوت ارادی کا زیادہ دخل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے شعرائ کے مقام و مرتبہ کو بلند کیا ہے اور ان کی تحسین بھی کی ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو اسلامی تعلیمات میں شعرائ کی قدر بہت کی گئی ہے۔ حسان بن ثابت کی مثال ہمارے سامنے ہے، جنھیں شاعر ہونے کی بنیاد پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ممبر پر متمکن کیا اور کہا شعر سنائو اور رسول اللہ نے باضابطہ شعر بھی سنے یہ مقام آپ نے ! صرف حضرت حسان بن ثابت کو بخشا اور انھیں یہ شرف صرف شاعر ہونے کی بنا پر عطا کیا گیا، اسی وجہ سے شاعری کو جزو پیغمبری بھی کہا گیا ہے۔ شاعر در اصل فطرت کا تابع دار ہوتا ہے اور شاعری فطرت کی آواز ہوتی ہے۔ شاعر کسی مسلک یا کسی فکر میں محدود نہیں ہوتابلکہ وہ صرف شاعر ہوتا ہے۔ وہ فکر و فن کی آبیاری کے لیے ہمہ آن کو شاں ہوتا ہے۔ اس بات کو بھی ذہن نشین رکھنا چاہییٔ کہ اللہ اور اس کے رسول کے دیئے ہوئے مقام و مرتبہ پر ہر شاعر فائز نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ مرتبہ اسی کو نصیب ہوگا جس نے حرمت ِ فن کی پاسداری کی ہوگی۔

مجھے ہیرلڈپنٹر کا وہ قول یاد آرہا ہے جسے اس نے اپنے نویں خطبے ’’فن، صداقت اور سیاست ‘‘میں اپنے ہی ایک کوٹیشن سے آغاز کیا تھا:

There are no hard distinctions Between what is real and what is unreal, no between what is true and what is false, A Haing is not hecessarily either true or false, it can be both true and false.

          ’’حقیقت اور مجاز میں کوئی بہت بڑا امتیاز نہیں اور نہ ہی سچ اور جھوٹ میں کوئی خاص فرق ہے۔ کوئی چیز لازمی نہیں خواہ وہ سچ ہو یا جھوٹ، سچ اور جھوٹ دونوں ممکن ہیں۔‘‘

اس اقتباس کی روشنی میں ہم اگر وکیل اختر کی زندگی اور ان کی شاعری کا محاکمہ کرتے ہیں تو انھیں حقائق سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور عجیب و غریب خیالات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ وکیل اختر کی شاعری امکانی شاعری ہے۔ اس میں احساس کی شدت بھی ہے اور فکر کی تازگی بھی ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ اس تازہ کار شاعر کی زندگی نے وفانہ کی اوربہت ساری خوبیوں والا شاعر امکان کی دنیا سے صرف چالیس سال کی عمر میں رخصت ہوگیا۔

وکیل اختر نے صرف پانچ سال ہی شاعری کی ہے۔ وہ 1930میں صوبہ بہار کے ضلع ’’گیا‘‘موجودہ ـ’’ نوادہ‘‘ کے ایک چھوٹے سے گائوں پتھوری میں عبدالسبحان خان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ عباس علی خان سے شرف ِ تلمذ کیا، کلاسیکل اور رومانی شاعری سے اپنا شعری سفر شروع کیا۔ انھوں نے باقاعدہ 1966سے شاعری شروع کی اور پانچ سال تقریباً شاعری کرکے 1971میں رخصت ہوگئے۔ وکیل اختر ان معنوں میں خوبیوںوالے شاعر اور انسان تھے کہ اس کم عمری میں زندگی کے سارے ضروری کام وقت پر انجام دیئے۔ اسی کم عمری میں انھوں نے فارسی اور انگریزی زبان میں ایم۔ اے کیا اور مدرسہ عالیہ کلکتہ میں پرنسپل ہوگئے۔18سال کی عمر میں شادی بھی ہوگئی، انھوں نے شاعری کا مختصر ہی سہی مگر معتبر اور مستند سرمایہ چھوڑا۔ وکیل اختر کی طبعی عمر چالیس سال اور فنی صرف پانچ سال تھی، ان کی قلیل مدتی عمر کی شاعری کو پڑھ کر ہیرلڈپنٹر کے قول کے مطابق سچ اور جھوٹ، حقیقت اور مجاز کا التباس نہیں ہوتا ہے۔ وکیل اختر کی شاعری کو پڑھ کر یہ یقین پختہ ہوجاتا ہے کہ فطرت نے ان کی طبیعت ہی میں شاعری ڈال دی تھی یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام سے فطری ہونے کا نہ صرف احساس ہوتا ہے بلکہ یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ فطری شاعر تھے جن کے لیے عمر کی کوئی قید نہ تھی۔ انھوں نے کہا تھا:

ہنس رہا تھا ابھی وہ ابھی مرگیا

موت اور زیست کا فاصلہ دیکھئے

وکیل اختر کی شاعری زندگی کا المیہ معلوم ہوتی ہے انھوں نے زندگی کو جتنی جہتوں سے دیکھا اور پرکھا ہے اور پھر اس کی عکاسی جس خوبصورتی سے کی ہے وہ عدیم المثال ہے۔ ان کی شاعری کی عمر کم ضرور تھی مگر ان کا شعری ذہن پختہ اور فکر متنوع تھی، ورنہ ایک زندگی کو سورنگ سے باندھنے کا ہنر ہرکسی کو نہیں آتا۔ یہ ضرور ہے کہ انھیں کچھ مہلت اور ملی ہوتی تو شاید ان کی شاعری مکمل طور پر نکھر کر سامنے آتی اور شاعری کے مختلف النوع رنگ بھی نمودار ہوتے مگر کیا کیجئے قدرت کو جو منظور تھا سو ہوا۔ انھوں نے اپنے اس مختصر شعری سرمائے میںجو چھاپ چھوڑی ہے وہ انمٹ نقوش کی طرح ہیں۔

وکیل اختر سچے اور اچھے شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں اعتراف ِ ذات بھی ہے اور روزگار ِحیات بھی ، مسائل کائنات بھی ہے اور تذکرہ ممات بھی، انھوں نے اپنی زندگی کے کرب کو جس خوبی سے برتا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اپنے دردوالم اور تنگ دامانی کا ذکر جس خوش اسلوبی کے ساتھ کرتے ہیں وہ بے مثال ہے۔ وہ اوروں کی طرح سینہ کوبی اور ہائے ہائے نہیں کرتے۔ وہ اپنے درد کو سلیقے سے بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اپنے دردو الم غم کی تفسیر بیان نہیں کرنے سے گریز بھی کرتے ہیں۔ وہ زندگی کے تلخ حقائق اور تلخ تجربات کو بڑی بے باکی اور ایمانداری سے بیان کرتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کا بیانیہ لہجہ بیحد سنجیدہ اور پرشکوہ ہے۔ وہ اپنی روایات کا خاص خیال رکھتے ہوئے وقار اور سنجیدگی کو اپنے ہاتھ سے کبھی جانے نہیں دیتے اور یہ بھی سچ ہے کہ وکیل اختر نے اپنی شاعری میں جس غم و الم کا ذکر کیا ہے وہ کسی اور کا نہیں بلکہ خود ان کی ذات اور حیات کا دل خراش اظہار ہے انھوں نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں غم ہی غم اٹھائے ہیں ان کی عمر جتنی نہیں تھی ان کے غم کی عمر اس سے کہیں زیادہ تھی۔ غم ہی ان کا مقدر تھا ورنہ کم عمری میں غم کا اظہار وہ بھی اس قدر خدا کی پناہ۔ انھوں نے اپنے غم سے جس قدر استفادہ کیا تھا شاید سماج و معاشرے کے غم سے نہ کرسکے دراصل جس شخص کی زندگی ہی کرب آگیں ہو وہ کسی اور کے غم سے استفادہ کیا کرے گا۔ اس کی نظر اپنے مسائل کے علاوہ کسی اور کے مسائل کی جانب کیسے جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بیشتر غزلوں میںمسائل زندگی سے وابستہ اشعار ضرور مل جاتے ہیں۔ کمال تو یہ کہ ہر غزل میں ایک دو شعر زندگی کے تلخ حقائق کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔وہ ہمہ آن اپنی زندگی سے شکوہ کناں رہتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی میں صرف غم ہی غم تھا اور شاید ہی انھوں نے کبھی خوشی کا منہ دیکھا ہو۔ مگر کہیں کہیں وہ غم کو سرمایۂ حیات تصور کرتے ہیں اور زندگی کا حاصل بھی قراردیتے ہیں۔ چند اشعار بطور نمونہ ملاحظہ کریں:

زندگی جب موت سی آئے نظر

آدمی کیسے نہ گھبرائے بہت

جلتا ہوا گھر میرا تو دیکھا تھا سبھی نے

کیا جانئے کیوں شور مچایا نہ کسی نے

یوم ماتم کی طرح میرا ہر اک دن گزرا

میری ہر رات کٹی ہے شب ہجراں کی طرح

ہر نفس غم کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو

اور کچھ روز اختر اٹھا دیکھئے

عجیب موڑ رہِ زندگی میں آیا ہے

کسی طرف نہ کوئی راستہ دکھائی دے

دل نے آج رو رو کر مجھ سے یہ کہا اختر

غم ہی ایک اپنا ہے اور سب پرائے ہیں

پوچھتی پھرتی ہے ہر چوٹ میرا نام و پتہ

میرے ہی جسم میں ہر درد کا گھر ہو جیسے

وکیل اختر نے جہاں اپنی زندگی کو بے حد قریب سے دیکھا، برتا اور اس کا برملا اظہار کیا ہے وہیں انھوں نے زمانے کی سچائیوں کا بھی بے باکی سے اظہار کیا ہے۔ اعتراف حقیقت ان کے یہاں کسی المیے سے کم نہیں ہیں۔ انھوں نے ان حقائق کا اعتراف کیا جن کا راست تعلق انسانی زندگی سے ہے۔ اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر حساس طبیعت انسان تھے۔ بیشتر یہ احساس ہوتا ہے کہ طبیعت کی حساسیت کے ساتھ زودرنجی بھی در آئی ہے مگر وکیل اختر زودرنج نہیں ہوتے بلکہ ان کے یہاں عزم و حوصلے کی حساسیت کی پختگی پائی جاتی ہے اور وہ جس حقیقت کو دیکھتے ہیں ،پہلے اُسے محسوس کرتے ہیں اورپھر اسی شدت کے ساتھ اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ جیسے ان اشعار کو ملاحظہ کیجئے     ؎

وہ جو مرنے پہ تلا ہے اختر

 

اس نے جی کر بھی تو دیکھا ہوگا

ہے کچھ سبب جو سرِ رہگذار بیٹھا ہوں

 

سمجھ رہے ہو تو سمجھو شکستہ پا مجھ کو

خرد کی آندھیاں ان کا تغافل اپنی مجبوری

 

تمنائوں کی لو مدھم نہ کرتے ہم تو کیا کرتے

وہی ہے پیاس وہی بے بسی وہی آنسو

 

یہ شہر زیست مجھے کربلا دکھائی دے

تنگ پیراہن خوش نما دیکھئے

 

شہر کی خوبصورت بلا دیکھئے

اس شخص کے غم کا کوئی اندازہ لگائے

 

جس کو کبھی روتے ہوئے دیکھا نہ کسی نے

یہ نہیں معلوم کہ کیا بات تھی

 

رو رہے تھے میرے ہمسائے بہت

عجب خامشی اس کے ہونٹوں پہ تھی

 

عجب شور اس کی نگاہوں میں تھا

وکیل اختر کا شعری سرمایہ نیرنگ خیالات کا نادر مجموعہ ہے، اس میں جہاں خیالات کی رنگارنگی ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے وہیں فکری تنوع بھی متاثر کن ہے۔ لفظوں کی شگفتگی اور خیال کی ملائمیت دل کو چھو لینے والی ہے۔ ان کے شعروں میں ہمیں لطیف پیرایہ بیان میں طنز کی عمدہ مثالیں مل جاتی ہیں۔ ان کے یہاں زندگی کی بے ثباتی، دنیا کی بے نوری، ناموافق حالات اور مسائل کے بہتات کا ذکر جگہ جگہ پایا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں احساسات کی شدت فوری طورپر قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ان کا فکری میلان پرکیف اور کلاسیکی رچائو بھی دل گرفتہ کرلینے والا ہے۔ کہیں کہیں اپنی ناکامیوں، محرومیوں اور نارسائیوں کا اظہار بھی انھوں نے فطری انداز اور صاف گوئی سے کیا ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں لفظوں سے کھیل کر دل بہلانے کا کام نہیں کیا ہے اور نہ ہی کرشماتی، معجزاتی اور بیان و اظہار کے اس پیرائے کو اختیار کیا ہے جس کو پڑھ کر بناوٹی اظہار کا احساس ہو، انھوں نے حقیقت بیانی کے ساتھ حق گوئی کا فریضہ بھی بے حد ذمہ داری کے ساتھ نبھایا ہے اور آخر وہ اتنی دیانت داری اور ذمہ داری سے اس فریضہ کو کیوں نہ انجام دیتے کیوں کہ انھوں نے اس مختصر عمر میں جتنا حزن و ملال اور غم و اندوہ کا بوجھ جبراً اٹھایا وہ اس سے کہیں زیادہ تھا۔ ان کی عمر اور مشاہدات کے عوض میں غم، الم ناکی، درد اور افلاس زیادہ ملے تھے جس کی وجہ سے انھیں ادھر ادھر غم کی دنیا تلاش کرنے کی قطعی ضرورت نہیں تھی چونکہ خود ان کی زندگی غموں کا نگارخانہ بنی ہوئی تھی اب ایسا انسان جو ہمہ آن غموں اور دکھوں کا تاجر ہو وہ کسی اور چیز کی تجارت کیوں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی شاعری میں زیادہ تر ذاتی واقعات اور ذاتی مسائل کو بیان کیا ہے اور کہیں بھی تصنع اوربناوٹ سے کام نہیں لیا ہے۔بیحد سادگی اور پر تکلف انداز میں ان چیزوں کا ہو بہو اظہار کردیا ہے۔

یہاں وکیل اختر کے چند نمائندہ اشعار نقل کرتا ہوں جس سے متذکرہ بالا باتوں کی توثیق ہوگی ۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:

آپ کی تمنا میں ہم نے کھو دیا سب کچھ

اک دیا جلانے کو سو(۱۰۰) دیئے بجھائے ہیں

 

بہ وقت رخصت بہ چشم گریاں حسین ہاتھوں میں ہاتھ لے کر

کوئی مجھے دیکھتا رہا ہے کسی کو میں دیکھتا رہا ہوں

 

پہلے سلجھائیں گے الجھے ہوئے گیسوئے حیات

پر تری زلفِ گرہ گیر کے خم دیکھیں گے

 

وہ آبھی جائے تو اس کو کہاں بٹھائوں گا

میں اپنے گھر میں تو رہتا ہوں بے گھروں کی طرح

 

زندگی دست تہ سنگ رہی ہے برسوں

یہ زمیں ہم پہ بہت تنگ رہی ہے برسوں

 

رفتار جہاں دیکھ کے محسوس ہوا ہے

اس دور کا ہر فرد و بشر آبلہ پا ہے

 

بیچ منجدھار میں کسی کے لیے

لوٹ آیا ہوں جاکے ساحل سے

ہم فرازِ دار تک تنہا گئے

دو قدم تک لوگ ساتھ آئے بہت

 

لاکھوں ہی درو بام نگاہوں میں سجاکر

اک شہر بسایا ہے مری در بہ دری نے

 

میں ڈھونڈھتا ہوں کوئی ایسا شہر اے اختر

کہ اجنبی بھی جہاں آشنا دکھائی دے

 

میں نے ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں

جن کے چہرے پہ سر نہیں ہوتا

وکیل اختر کی شاعری ان کی زندگی کا مکمل عکس پیش کرتی ہے۔ ان کی شاعری تخلیق اور تخلیقیت کا سچا اظہار معلوم ہوتی ہے۔ ان کے یہاں رسمی بیان اور ملمع کاری نظر نہیں آتی۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ شاعری تمام تر مصلحت پسندی، مفادپرستی اور خود نمائی سے پاک نظر آتی ہے۔ان کی شاعر فکری، فنی اور تخلیقی نقائص سے مبرا ہے در اصل یہ ان کا تخلیق زکوٰۃ ہے۔ اس مختصر شعری سرمائے میں ایک صدی کی فنکارانہ خوبیاں اور اس صدی کا کرب مدفون ہے۔ ان کا فنی رچائو اور مخصوص لہجہ 1960کی شاعری کا خوبصورت اور دل کش ترجمان ہے۔ ہمیں حیرت صرف اس بات پر نہیں ہے کہ انھوں نے اتنے کم عرصہ میں اتنی خوبصورت اور پختہ لب و لہجے کی شاعری کی ہے بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ علی عباس خاں کی شاگردی میں کلاسیکل لہجہ میں شعری سفر کاآغاز کرکے اتنے کم وقت میں جدید لہجے کی جانب مراجعت کرنا اور جدت فکر کا خوبصورت شعری اظہار کرنا اور پھر اس سفر کو کامیابی سے ہم کنار کرنا متحیر کردینے والی بات ہے۔ بہرحال وکیل اختر کے اس شعری سفر کو ایک کامیاب سفر کہا جاسکتا ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
متنوع پھولوں کا معطر گلدستہ: عشرہ ذوالحجہ – ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں