Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

  یٰسین احمد کے افسانوں کی فکری جہتیں – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ

by adbimiras اکتوبر 13, 2021
by adbimiras اکتوبر 13, 2021 0 comment

اردو ادب کے منظر نامے پر حیدرآباد  کے مردم خیز خطے کو خاصی اہمیت حاصل رہی ہے۔بدلتے ادوار کے ہر گام پر یہاں  کے ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تخلیقات کے توسط سے شجرِ ادب کی آبیاری کی ہے اور گلشنِ ادب میں مختلف اصناف کے گل بوٹے کھلائے ہیں۔ ایسے ہی پرستانِ و محبانِ اردو میں سے ایک اہم نام یٰسین احمد کا بھی ہے جنہوں نے چھٹی دہائی کے بعد اپنی تخلیقی حیثیت کے اظہار کا وسیلہ مختصر افسانہ نگاری کو بنایا اور اس صنف کے توسط سے اپنے افکار و خیالات، احساسات و جذبات اور تجربات ومشاہدات کی ترسیل قاری تک کرنے میں کامیاب رہے۔ایک توازن و تواتر کے ساتھ ان کی تخلیقات ملک کے مؤقر رسالوں و جریدوں میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ان کی کہانیاں دل کو چھوتی ہیں،احساسات کو جھنجھوڑتی ہیں،شعور کو مہمیز کرتی ہیں اور فکر کو نئی اڑان۔۔۔۔نیا آسمان دکھاتی ہیں کیونکہ انہوں نے روایتی موضوعات محض کو اپنی فکر کا محور نہیں بنایا ہے بلکہ ان کی نگاہ حالاتِ حاضرہ کے پیچ و خم اور مسائل کے سلگتے چہرے پر رہی ہے۔ان کی توجہ اسلوب کی تازہ کاری کی بہ نسبت موضوعات کی نادرہ کاری پر رہتی ہے۔لہٰذا وہ سیدھے سادے اور سلجھے ہوئے انداز میں اپنے افکار و احساسات کو قاری کے قلب و ذہن تک پہنچانے کی سعی کرتے رہے ہیں اور یہی ان کا کمالِ فن ہے۔لیکن ان کے سیدھے سادے انداز تحریر کو سپاٹ بیانیہ سے تعبیر کر لینا ایک گمراہ کن نظریہ ثابت ہوگا۔وہ کہانی بُننے کا فن جانتے ہیں۔کہانی کے آغاز سے ہی قاری کے ذہن میں تجسّس کی لہریں ڈوبنے ابھرنے لگتی ہیں۔کہانی کے تسلسل کے ساتھ ساتھ ارتقائے تجسّس بھی فزوں تر ہوتا جاتا ہے۔اختتام تک پہنچتے پہنچتے قاری انجام کے تعلق سے مختلف قیاس آرائیاں بھی کرتا جاتا ہے لیکن آخر کار ایک غیر متوقع اور بعید از قیاس لیکن فطری انجام سے دو چار ہوکر حیرت آمیز مسرت سے لبریز ہو جاتا ہے۔گویا کہانی قاری کو بھرپور لذت اور تسکین فراہم کرتی ہے اور افسانہ نگار کی فنکاری کی دلیل بن جاتی ہے۔افسانہ ’’ ۷ نمبر کی سینڈل‘‘ کا آغاز ان جملوں سے ہوتا ہے:

’’شام کی فلائٹ سے میری میڈم بنگلور سے آ رہی تھیں۔اس کی عدم موجودگی میں فلیٹ میں  جو جشنِ شباب ہوتا رہا اگر اس کی ذرا سی بھی بھنک میڈم کو مل جائے تو ایک قیامت آسکتی تھی۔‘‘

ان جملوں کے بعد واحد متکلم نہایت باریک بینی سے بیڈروم،باتھ روم اور کچن کا جائزہ لینا شروع کرتا ہے تاکہ کہیں کوئی نسوانی نشانی اس کی ازدواجی زندگی میں طوفان لانے کا باعث نہ بن جائے۔مصنف اس قتالۂ عالم کی اداؤں کو یاد بھی کرتا جاتا ہے اور نقوشِ شب و روز کو مٹانے کے لئے سرگرداں بھی ہے۔اس کی یہ پریشانی قاری کو بآسانی اس نتیجے پر پہنچا دیتی ہے کہ کس طرح  اکثر شوہر حضرات بیویوں کی غیر موجودگی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے شب و روز کو رنگین بنا لیا کرتے ہیں۔ساری کوششوں اور احتیاطوں کے باوجود میڈم کسی نسوانی وجود سے واقف ہو جاتی ہے اور قاری مصنف کی متوقع دُرگت کے تصور سے ہی محظوظ

ہونے لگتا ہے۔لیکن آخرکار صورت حال یہ سامنے آتی ہے کہ جس بھائی کے کسی لڑکی کے ساتھ فرار ہونے کی خبر سن کر میڈم اپنے مائیکے بنگلور روانہ ہوئی تھی ،وہی بھائی یہاں آکر اس لڑکی سے کورٹ میرج کرتا ہے اور اسی فلیٹ میں اس کی محبت تکمیل تک پہنچتی ہے۔کہانی کے انجام پر میڈم کے ساتھ ساتھ قاری بھی حیران و ششدر کھڑا رہ جاتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں بارہ قباؤں کی سہیلی: عذرا پروین –   ڈاکٹر وصیہ عرفانہ )

یٰسین احمد کے یہاں موضوعات کا تنوع اور فکر کی بو قلمونی ملتی ہے۔ان کی کہانیاں تخیل کی دھند میں جنم نہیں لیتیں بلکہ عام زندگی کے کسی نہ کسی روشن یا مخفی پہلو پر ان کی نگاہ باریک بینی سے مرکوز ہو جاتی ہے۔زندگی کے عمومی واقعات ان کے تخلیقی لمس سے خصوصی اہمیت کے حامل بن جاتے ہیں۔معاشرے کی بعض المناکیوں کو انہوں نے اپنے افسانوں میں بڑی جی داری سے برہنہ کیا ہے۔’’کسے اپنا سمجھیں‘‘ میں معزز و محترم رشتوں کے استہزا و استحصال کو پیش کیا گیا ہے۔مسعود صاحب اپنی بہو کے ایکسیڈنٹ کے بعداپنے بیٹے مقصودکی مدد کے لئے امریکہ آ جاتے ہیںاور نہایت دل سوزی اور محبت سے اپنے بیٹے،بہو اور پوتے کو راحت پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کی بہو ٹھیک ہو کر اپنے معمولات میں مشغول ہو جاتی ہے ۔اب وہ اپنے وطن لوٹ جانا چاہتے ہیں لیکن واپسی سے پہلے ان کے بیٹے کے پڑوسی کی آفر ان کے مخلص وجود کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے:

’’آپ تین مہینوں کے لئے ہمارے پاس آ جائیں۔مسز مقصود آپ کو جو بھی معاوضہ دیتی تھیں

اتنا معاوضہ ہم بھی ادا کر دیں گے۔مسز مقصود کہہ رہی تھی کہ آپ گھر گرہستی اچھا سنبھالتے ہیں۔

آج کل ایسے لوگ کہاں۔۔۔۔!‘‘

’’انسانوں کا جنگل‘‘ میں شہروں کے کنکریٹ احساسات و جذبات ،اولادِ آدم کی بے حسی اور خود غرضی ،انسانی وجود کی بے مائیگی اور ارزانی کی کہانی ہے۔یٰسین احمد نے اس ایک مختصر افسانے کو اپنی فن کارانہ لا تعلقی اور خلاقانہ چابک دستی سے مذکورہ افکار کا نگار خانہ بنا دیا ہے۔کہانی اپنی ابتداسے ہی شہری اور دیہاتی فطرت کے امتیازات کاوسیع پس منظر بیان کرنا شروع کر دیتی ہے:

’’شہروں کے آنگن میں سورج رُک رُک کر اترتا ہے۔کیونکہ لوہے،سیمنٹ،کنکریٹ اور  ریت سے بنی ہوئی بلند و بالا عمارتیں اس کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں۔بر خلاف اس کے جنگلوں،گاؤں ،پہاڑوں اور کھلے میدانوں میں سورج اُگتے ہی چاروں طرف پھیل جاتا ہے۔‘‘

دیہات میں وسائل کی خواہ کتنی بھی کمی ہو،اخلاقی وسعت عطا کرنے میں فطرت نے کوئی کوتاہ دستی نہیں کی ہے۔جبکہ شہروں کی خصلت لوہے،سیمنٹ،کنکریٹ اور ریت سے نمو پاتی ہے۔لہٰذا اپنے عناصر ترکیبی کی عکس ریزی بھی جا بجا اور وقتاً فوقتاً

کرتی رہتی ہے۔یٰسین احمد کو کہانی کی ماجرا سازی پر گہرا عبور حاصل ہے۔وہ اپنی فکر کے تخلیقی اظہار کے لئے اکثر و بیشتر استعارات وضع کرتے ہیںجن کی اساس ان کے ذاتی مشاہدے یا فطری عوامل پر ہوتی ہے۔محبت،تعاون اور ہمدردی جیسی اعلیٰ صفات سے اشرف ا لمخلوقات کو متصف کر زمین پر اتارا گیا ہے۔لیکن بدلتے ادوار کا المیہ یہ ہے کہ اب ان اوصاف کا مشاہدہ بے زبان جانوروں، چرند و پرند اورزمین کی چھاتی پر رینگنے والے کیڑوں مکوڑوں کے حرکات و عوامل میں ہی کیا جا سکتا ہے۔کہانی کے ابتدائی مراحل میں افسانہ نگار نے ایک لاغر اور بیمار کوّے کے زمین بوس ہو جانے کے منظر کی عکاسی کی ہے کہ کس طرح فضا میں اُڑتے ہوئے چند کوّے فوراً اس کے قریب پہنچ کر اس کی پریشانی کے مداوا کے لئے سر گرداں ہو گئے۔ان کی کائیں کائیں سے رفتہ رفتہ کوّوں کا ایک جم غفیر اس نا تواں کوّے کے پاس جمع ہو گیا اور آخر کار ان میں سے ایک صحت مند اور توانا کوّے نے اس لاغر کوّے کو اپنے پنجوں اور پَروں کی مدد سے سمیٹا اور فضائے محیط میں پرواز کر گیا۔کوّوں کا پورا غول بھی اس کی حوصلہ افزائی اوربہی خواہی میں اس کے ساتھ ہی شور مچاتے ہوئے اُڑ چلا۔

اسی پس منظر میں یٰسین احمد نے بیان کیاہے کہ کس طرح خشک سالی کے سبب ایک بوڑھے کسان کو بھی دیگر لوگوں کی طرح اپنی موروثی زمین کو فروخت کر دینا پڑا اور وہ رقم بھی شہر سے آکر اس کا بیٹا لے گیا۔اس کی بیوی اپنے بیٹے اور بہو سے ملنے کے لئے بے قرار تھی۔لہٰذا وہ دونوںبس میں سوار ہو کو شہر کی جانب روانہ ہوئے۔ایک جگہ بس رکی تو دوسرے لوگوں کے ساتھ وہ بھی قضائے حاجت کے لئے اتر گیا۔اسی بیچ بس اسے چھوڑ کر روانہ ہو گئی۔اپنے وجود کی بے وقعتی کے کرب کو جھیلتا ہوا وہ پیدل ہی شہر کی طرف چل پڑا۔شہر کے قریب اس نے دیکھا کہ چند بد معاشوں نے ایک نو جوان سے اس کا بریف کیس چھین کر اسے چھُرا گھونپ دیا اور فرار ہو گئے۔وہ بوڑھا اس نو جوان کو بچانے کی تگ و دو میں ہلکان ہو گیا مگر کوئی گاڑی والا اس زخمی نوجوان کی مدد کے لئے آمادہ نہیں ہوا بلکہ اسے بھی تمام بکھیڑے سے دور رہنے کی صلاح دی گئی۔ وہ بے بس بوڑھا سوچتا رہ گیا کہ کاش وہ انسان نہ ہوتا بلکہ کوّا ہوتا ،تاکہ چیخ چیخ کر اپنے ساتھیوں کو جمع کر لیتا۔ (یہ بھی پڑھیں جدید لب و لہجہ کا شاعر : خورشید اکبر -ڈاکٹر وصیہ عرفانہ )

یہ کہانی دراصل شہروں کا المیہ ہے جہاں بسنے والوں کے دل بھی کنکریٹ کے بنتے جا رہے ہیں۔یہ انسانی بے حسی پر ایک تازیانہ ہے۔ہمارے اشرف ا لمخلوقات ہونے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔رحم و کرم اور دردمندی وہ الوہی صفات ہیں جن سے انسان کے خمیر کو متصف کیا گیا ہے ۔لیکن زندگی کی کشاکش اور حالات و حوادث نے انسان کو ان خوبیوں سے تقریباًعاری کر دیا ہے کیونکہ بعض اوقات ہمدردی اور دردمندی سامنے والے کے ذہن کو دیوالیہ پن کا شکار بھی بنا دیتی ہے جس کی مثال ’’سر‘‘ میں ملتی ہے۔شاہدہ ایسے لوگوں سے گہری ہمدردی رکھتی ہے جو سخت محنت اور جانفشانی سے اپنے رزق کا حصول کرتے ہیں۔وہ غیر محسوس طریقے سے ایسے افراد کی مدد اور ان سے حسن سلوک کرتی ہے تاکہ ان کی اَنا کو ٹھیس نہ لگے۔اسی ضمن میں وہ بچوں کے ٹیوٹرکی چائے ناشتے سے تواضع بھی کرتی ہے اور فیس کے نام پر اضافی رقم بھی دیتی ہے۔لیکن سرؔ اس ہمدردی کو من چاہا رنگ دے کراس سے راہ و رسم کا وسیلہ ڈھونڈنے لگتے ہیں۔

انسانیت اور انسان دوستی کا جذبہ یٰسین احمد کے بیشتر افسانوں میں ایک زیریں لہر کی طرح جاری و ساری رہتا ہے۔یوں

بھی ایک عام انسان اپنی حساسیت کی وجہ سے ہی فنکار بنتا ہے۔یہ خاص قسم کی حسیت اور حساسیت ہی ہوتی ہے کہ روزمرہ کے عام مناظر یا عمومی واقعات میں ایک فنکار کی نگاہ خاص پہلو کو دیکھتی بھی ہے اور دکھاتی بھی ہے۔یٰسین احمد کے یہاں یہ خاص قسم کی حسیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔

یٰسین احمد کو نہ صرف انسان دوستی اور دردمندی جیسے آفاقی جذبات کے زوال کا غم ہے بلکہ انہیں یہ دکھ بھی ہے کہ صارفیت کے بڑھتے جراثیم نے اِن آفاقی جذبات کو بھی متاثر کر لیا ہے۔اب ایک انسان کی انسان کے تئیں ہمدردی کی قیمت بھی لگائی جاتی ہے اور کبھی خودغرضی اور مفاد پرستی کی کھوج لگانے کے لئے اس انمول جذبے کو بے مول بھی کر دیا جاتا ہے۔’’مسز انجلینا فرنانڈس‘‘اپنی تشنہ ممتا کی تسکین کے لئے جوزف ابراہام کی دیکھ ریکھ میں خود کو مصروف کر لیتی ہے لیکن جوزف ماہ کے اختتام پر دیگر اسٹاف کی طرح انہیں بھی تنخواہ کا چیک دیتا ہے۔مسز فرنانڈس کی ممتا پشیمان ہو جاتی ہے اور وہ جوزف کے بنگلے سے یہ کہتے ہوئے ہمیشہ کے لئے نکل جاتی ہیں:

’’مسٹر جوزف ابراہام !ابھی تمہارے پاس اتنی دولت نہیں آئی کہ میری ممتا کو خرید سکو۔‘‘

’’رنگ‘‘ میں بہروپیا مہاتما کا بھیس بنا کر بھیک مانگا کرتا تھا۔کانسٹبل کو اس کے بھیک مانگنے پر نہیں بلکہ اس کے بہروپ پر اعتراض تھا۔جبکہ ناگاشری مثبت سوچ رکھتی ہے۔اس کا خیال تھا کہ مہاتما کا روپ اپنایا ہے تو رفتہ رفتہ اس کا رنگ بھی چڑھ جائے گا۔بہروپیا بھیک سے حاصل ہونے والی رقم ایک غریب معذور کو دان کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔’’جنت کا حقدار‘‘میں جائداد میں بٹوارے کے خوف سے یوسفؔ سے بیٹا ہونے کا شرف بھی چھین لیا جاتا ہے۔وہ محبت کا متلاشی بطور تبرک ماں کی چپل چرالیتا ہے لیکن گھر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ جائداد کے کاغذات یا زیورات کی پوٹلی چراکر رکھے ہوئے ہے۔’’نگران کار‘‘ میں نگراں بچوں کو سختی، محبت اور اپنائیت سے سدھارنے کے قائل تھے۔وہ سزا دلا کر بچوں کے مستقبل سے کھیلنا نہیں چاہتے تھے لیکن ان کی نیکی کا یہ انجام ہوا کہ کوئی ان کی زندگی سے ہی کھیل گیا۔

ایسا نہیں ہے کہ یٰسین احمد کی نظروں سے صرف منفی واقعات ہی گذرتے رہتے ہیں بلکہ ان کی نگاہ زندگی کی اعلیٰ قدروں پر بھی رہتی ہے۔وہ معاشرے کے مثبت رویوں کے بھی جویا رہتے ہیں۔ان کے افسانوں میں اگر کہیں محبت رسوا ہوئی ہے تو وہیں بعض افسانے محبت کا روشن مینار بن کر ضیا پاشی کر رہے ہیں اور زندگی کی اعلیٰ مثبت قدروں پر قاری کے یقین کو بحال رکھنے میں کامیاب ہیں۔’’مندر بنایا ہے‘‘ میں ایک غریب بیٹا مالک کی خطیر رقم چرا کر اپنی ماں کا آپریشن کراتا ہے۔وہ اپنے انجام سے بے نیاز ہے کہ اس نے ماں کی محبت میں اپنی زندگی اور اپنا کردار داؤ پر لگا دیا ہے۔’’کوئی گناہ نہیں کیا‘‘ میں حامد بھائی ایک بے

سہارا،غریب اور معذور عورت سے نکاح کرکے اسے اپنے وظیفے کا جائز حق دار بنا دیتے ہیں۔جبکہ ان کے رشتہ دار اس شادی کو ان کی بوالہوسی سے تعبیر کر رہے تھے۔’’کرب کا احساس‘‘ میں دوسرا امیدوار زیادہ تجربہ کار،زیادہ مستحق اور زیادہ ضرورت مند ہونے

کے باوجود میںؔ کے حق میں انٹرویو میں شرکت سے دست بردار ہو جاتا ہے کیونکہ میںؔ کی محبت کی تکمیل ملازمت سے مشروط تھی۔ ’’بد دعائیں‘‘ میں آٹو رکشہ ڈرائیور اپنی بیٹی کے آپریشن کے لئے صابرہ کا پرس لے کر فرار ہو جاتا ہے۔ایک عرصے بعد وہ اپنی بیٹی کی معرفت مسروقہ رقم صابرہ کو واپس بھجوا دیتا ہے،ساتھ ہی اس گناہ کے لئے معافی کا طلب گار ہوتا ہے۔صابرہ مضطرب ہوجاتی ہے کہ آٹو والے نے پیسہ لوٹا کر اپنا گناہ بخشوا لیا لیکن اس نے تمام عرصے میں جو بد دعائیں دی ہیں ،ان کا بوجھ کس طرح ہلکا  ہو۔ ’’ضمیر کا بوجھ‘‘ میں احمد علی نیک والدین کی عمدہ تربیت کا شاہکار ہے جو پولس ڈپارٹمنٹ میں نوکری کے باوجود کسی طرح کی برائی میں خود کو ملوث نہیں کرتا ہے۔اس کی بیوی عالیہ خواہشات کے جنون کی اسیر ہے۔وہ احمد علی کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح مال غنیمت بٹورے۔حالات کے دباؤ سے مجبور ہو کر احمد علی اس دلدل میں قدم رکھ دیتا ہے لیکن اپنی روح کی تدفین کے عمل پر خود کو پھوٹ پھوٹ کے رو پڑ نے سے نہیں روک پاتا ہے۔

یٰسین احمد بچوں کی نفسیات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔زمانے کی تیز رفتار ترقی آج سب سے زیادہ بچوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ہم اپنے بچپن کے تناظر میں دوسرے بچوں کو دیکھتے ہیں جبکہ آج کے بچے ہماری سوچ سے زیادہ برق رفتار ہیں۔’’پتّن‘‘میں ایک ایسے ہی نوخیز بچے کی ذہنی افتاد کی کہانی ہے۔آج کے بچے ماں کی کوکھ سے ہی بالغ پیدا ہو رہے ہیں۔ہر شئے کی جستجو،ہر واقعے کا تجسس،ہر نئی چیز کی تلاش آج کے بچوں کے خمیر میں شامل ہے۔’’آنکھ جو دیکھتی ہے۔۔۔‘‘ میں ایک نو عمر بچہ ماں باپ کے رفاقت بھرے لمحات کا مشاہدہ کرنا چاہتا ہے،تو ’’کچھ نہیں‘‘کی یاسمین انجانے میں ہی ایسے مناظر کی تماش بین بن جاتی ہے اور زندگی کے کئی سر بستہ راز اس کے نو عمر شعور کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔

جنس اور جنسی نفسیات کو بھی یٰسین احمد نے کئی افسانوں میں موضوع بحث بنایا ہے۔’’اس گلی کی کہانی‘‘ ، ’’ماسٹر جی‘‘ ، ’’ہتھیار‘‘ ، ’’ونکّم‘‘ ، ’’دھار‘‘ ، ’’ککریجہ کا فلیٹ‘‘وغیرہ افسانوں کا مرکزی موضوع جنس یا اس سے پیدا شدہ نتائج ہیں۔’’دھار‘‘ میں ایک اجنبی شخص ناہید کی بچی کا بوسہ لیتے وقت اپنی نگاہیں اس پر مرکوز و منجمد کئے رہتا ہے۔بوسہ لینے کا یہ عمل اتنا ساحرانہ تھا کہ ناہید  نفسیاتی طور پر متاثر ہوکر اپنے دائیں گال پر اس بوسے کی تپش محسوس کرنے لگتی ہے۔’’ماسٹر جی‘‘ اور ’’اس گلی کی کہانی‘‘دونوں میں معاشرے کے دو نام نہاد معزز کردار پیش امام صاحب اور ماسٹر جی کی بیویوں کی جنسی نا آسودگی کی کہانی ہے۔کبھی کبھی ننگی آوازوں کا سحر بھی جنسی تحریک کا باعث بن جاتا ہے،اس صورت حال کو نہایت فنکارانہ انداز میں یٰسین احمد نے ’’ککریجہ کا فلیٹ‘‘ میں پیش کیا ہے۔عورت کی مزاحمت بوالہوس کی بھوک بڑھاتی ہے لیکن اس کی پسپائی اور بے بسی کبھی کبھی اس کی بھوک کو زائل بھی کر دیتی ہے۔۔۔۔اس نظرئیے کو افسانہ نگار نے ’’ہتھیار‘‘ میں پیش کیا ہے۔

یٰسین احمد کے ا فسانوں کے موضوعات انسان دوستی،جنسی معاملات یا بچوں کی نفسیات تک ہی محدود نہیں ہیں۔میں نے قبل بھی کہا ہے کہ ان کے یہاں موضوعات کا تنوع اور فکر کی بو قلمونی ملتی ہے۔بنیادی طور پر وہ اپنے عہد کی کروٹوں پر نظر رکھتے ہیں۔آج زندگی جس قدر وسعت اور پیچیدگیوں کی حامل ہوتی جا رہی ہے،اسی مناسبت سے یٰسین احمد کے فکری رویوں میں بھی نیرنگی اور جدت نظر آتی ہے۔ان کے پچاس ساٹھ افسانوں کو سامنے رکھ لیجئے۔۔۔۔۔نہ موضوع کی تکرار ملے گی اور نہ ہی گھسا پٹا، برتا ہوا فکری و فنی رویہ۔ان کا ہر افسانہ نئی منزلوں کی جھلک دکھاتا ہے،سوچ کے نئے دروبام روشن کرتا ہے،شعور کو نئی آگہی بخشتا ہے اور مثبت ارادوں کو تازگی و پختگی عطا کرتا ہے۔ذیل میں مزیدچند افسانوں پرایک طائرانہ نظر۔

’’وفادار‘‘میں جہاں ایک طرف انسانوں کو بے دردی سے مارا گیا۔وحشیانہ بمباری سے عمارتوں کو نیست و نابود کر دیا گیا،وہیں ایک کتے کو ہلاک کرنے سے ایک فوجی دوسرے فوجی کو روک دیتا ہے کیونکہ انہیں ان انسانوں کے قتل کا حکم دیا گیا تھا جو ان کے وفادار نہیں تھے۔’’درماں‘‘ میں ہتھیلی پر آڑی ترچھی لکیروں میں چھپی تقدیر کی کہانی ہے اور اس انسان کی حکایت ہے جس نے تدبیر سے اپنی تقدیر کو زیر کر لیا۔’’ پابجولاں‘‘ غریب ا لوطنی کے کرب کو پیش کرتا ہے۔اس افسانہ میںدور دیس میں شب و روز کی انتھک محنت سے روپیہ کمانے والوں کا کرب بیان ہوا ہے۔ان کے اہل خانہ کس بے دردی سے خون پسینے کی کمائی کو خاک میں ملاتے ہیں اور راحت کا متلاشی وہ وجود عمر کے آخری پڑاؤ تک نامراد ہی رہتا ہے۔’’سمتوں کا تعین‘‘ میں بین ا لمذاہب شادی کے دوررس اثرات کا ذکر ہے۔’’مغفرت‘‘ میں آج کے عہد کے بچوں کے تئیں والدین کی ناامیدی کا کرب ہے۔مشینی دور کی یہ پیداوار والدین کی قبر پر فاتحہ پڑھے یا نہ پڑھے۔بہتر ہے کہ اپنی قبر خود ہی تیار کر فاتحے کا اہتمام کر لیا جائے۔’’سلاٹر ہاؤس‘‘میں علم کی سوداگری کا المیہ پیش ہوا ہے۔آج اعلیٰ تعلیم یا اونچی ڈگری حاصل کرنے کے لئے ذہانت و علمی صلاحیت کی نہیں بلکہ قوت خرید کی ضرورت ہے۔اسی طرح ایک مضبوط و پائیدار مکان بنانے کے لئے سِول انجینئر کی بہ نسبت واستو ایکسپرٹ زیادہ اہم ہے، اس موضوع کو افسانہ نگار نے ’’طوطے کا فال‘‘ میں پیش کیا ہے۔وقت کی مار نے اچھے اچھوں کے کس بل نکال دئیے ۔’’بجھا ہوا سورج‘‘ میں ماضی کی ایک معروف اداکارہ کی عمر رفتہ کی تلاش کو موضوع گفتگو بنایا گیا ہے۔انسان سب سے زیادہ اپنے نام سے محبت کرتا ہے،اس کی جھلک ’’پاسبان‘‘ میں ملتی ہے۔’’وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘‘میں شاہان و نوابین کی عظمت رفتہ ،ان کی شان اور ان کے وقار کا دل سوز بیان ہے۔’’جواز‘‘ میں ایسی صورت حال کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ آئے دن بے قصور اور معصوم اقلیتی کردار کس طرح اخبار کی سرخیوں کی زینت بن جاتے ہیں۔ماضی کا آسیب وقت کے سینے میں بھی دفن نہیں ہوتا اور کبھی نہ کبھی ،کسی نہ کسی شکل میں انگڑائی لے کر جاگ اُٹھتا ہے اور پھر زندگی تاش کے پتوں کی طرح بکھر کر رہ جاتی ہے،اسی المیے کو افسانہ نگار نے ’’جلا ہے جسم جہاں‘‘ میں قلمبند کیا ہے۔

یٰسین احمد کے افسانے موضوعات کی ندرت کے ساتھ ساتھ انداز پیشکش کی وجہ سے بھی قاری کے ذہن پر خاص اثر چھوڑتے ہیں۔یٰسین احمد کا امتیاز یہ ہے کہ وہ غیر ضروری طوالت سے اجتناب کرتے ہیں۔ان کی اختصار پسندی اور ایجاز بیانی انہیں ایک منفرد شناخت عطا کرتی ہے۔کہانی کی پیشکش کے دوران وہ الگ الگ تکنیک کا استعمال کرتے ہیں۔کبھی کبھی سیدھے

سادے بیانیہ سے کہانی کا آغاز ہو جاتا ہے،کبھی ابتدائیہ جملہ ہی کہانی کے مزاج کا تعارفی نوٹ ثابت ہوتا ہے اور کبھی کسی غیر متعلقہ جملے سے کہانی شروع ہوتی ہے اور انجام تک پہنچتے پہنچتے اپنے سیاق و سباق کو ظاہر کرتی چلی جاتی ہے۔یٰسین احمد کے فنکارانہ روئیے کی اختصار پسندی ان کے مکالموں میں بھی جلوہ گر ہے۔چھوٹے اور برجستہ جملے ان کی تحریروں میں روانی پیدا کرتے ہیں۔موضوع اور پیشکش دونوں اعتبار سے وہ سادگی و پُرکاری اور اختصار و ایجاز کے ذریعے اپنے افسانوں کی اثر آفرینی میںاضافہ کرتے ہیں۔اردو افسانے کے موجودہ منظر نامے پر یٰسین احمدکی اہمیت مسلم ہے اور ان کا فکری و فنی رویہ وسیع امکانات کا حامل ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

 

وصیہ عرفانہیٰسین احمد
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ذکی طارق بارہ بنکوی کی غزل گوئی کے فکری و فنی اوصاف کا مطالعہ – ڈاکٹر صالحہ صدیقی
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

منو بھنڈاری: ہندی افسانوی ادب کامقبول ترین کردار...

مئی 26, 2026

بیدی کا فن – پروفیسر محمد حسن

مئی 15, 2026

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں