شاہراہِ ادب کے بطن سے پھوٹنے والے گلیاروں میں سب سے خوبصورت ،سب سے انوکھی اور ہوش ربا کلی فن شاعری ہے ۔اس ہوش رُبا گلی سے گزرنے والا راہ رو اپنے جلو میں ارد گرد کے سارے نظارے فن شاعری کی گلی سے گزرنے والے راہ رو کے لاشعور کی بلند و بالا منڈیروں سے لپٹی ہوئی شعور کی بیلوپر فکر و آگہی اور مشاہدات کے خوش رنگ پھول کھلاتی جاتی ہے تو صفحۂ قرطاس پر وجدان وایقان کی انوکھی مہک بکھر جاتی ہے ۔یہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ شاہراہِ ادب اور اس کے بطن سے پھوٹنے والے گلیاروں کی راہ روی سب کا نصیب نہیں بنتی نا ہی سب کے لاشعور کی بلند و بالا منڈیروں سے لپٹی ہوئی شعور کی بیلوں پر چھپی پھولوں کی رنگینیاں بکھر تی ہے اور نہ ہی ہر کسی کے صفحۂ قرطاس پر وجدان و ایقان کی مہک بکھرتی ہے ۔آج کی ہنگامہ پرور دنیا جہاں رات اور دن کا بھید مٹ کر رہ گیا ہے کہ پہلے دن جاگنے کے لئے اور راتیں سونے کے لیے ہوتی تھی مگر ایک مُٹھی میں سمٹی دنیا نے گھنی راتوں کو اجال کر کاجل راتوں کا خوابناک مخملی اندھیرا ختم کر دیا تو کھڑکی کے پردے کھینچ کر اندھیرا کرنے کی جدیدیت نے حیات بخش دودھیا اجالوں اور حرارت آمیز شبنمی لمس سے محرومی کے کرب سے آشنائی بھی بخش دی، مگر ان بدلتے حالات اور تغیر پذیر موسموں میں اسلاف و اجداد کی محترم و معتبر روایات کے علمبردار و امانتدار موجود ہیں جو نئے اجالوں ،نئے خوابوں نئے وسیلوں ،نئے لہجوں ،اور نئے اسلوب کی طلب میں اندھیروں کے طرفدار بننے کی کوشش نہیں کرتے ۔اسلاف کی روایات کے یہ امانتدار اپنے پیش روؤں کے بکھرے ہوئے اجالوں کی شبنمی چھتر چھایا میں اپنے آپ کو زندہ و پائندہ رکھتے ہوئے خود کو مصروفِ سفر رکھتے ہیں اور خنک راتوں کی خوابناک فضاؤں میں بسرام کرتے ہوئے دن بھر کی جمع شدہ کتھا ؤں کو یکجا کرتے ہیں پھر اپنے مشاہدے کی تیسری آنکھ کو برؤے کار لاتے ہوئے صفحہ ٔ قرطاس پر فکر و آگہی کے خزینے بکھیر دیتے ہیں ۔
خیال کے مؤثر اظہار کا بہترین وسیلہ شاعری ہے ۔ لیکن اس میں کامیابی کادارومدار اس بات پر ہے کہ شاعر کتنا باشعور ہے ۔ اس کی نگاہ کتنی تیز ہے اور سماج میں رونما ہونے والے تلخ وترش واقعات اور سنگین حادثات اس کے دل و دماغ اور حساس طبیعت پر کسی طرح اثرانداز ہوتے ہیں ۔ انسانیت کو ہدفِ ذلت بنتے دیکھ کر کیا اس کا دل درد سے تڑپ نہیں اٹھتا ہے۔ کیاوہ مظلوموں کی حمایت کو اپنے ذاتی مفادسے اوپر رکھتاہے۔ ؟ ذکی طارق اِن سوالات کی کسوٹی پر پوری طرح کھرے اُترتے ہیں ۔ ان کی غزلوںمیں زندگی کے آلام ومصائب، مسائلِ حیات اور ارضی واقعیت وحقیقت نمایاں طور پر جلوہ گر ہے۔شاعری میں حلاوت تازگی اور سادگی کا بھر پورعنصر ملتاہے جہاں گنگا جمنی تہذیب کے اقدار کی بحالی، اردو دوستی کی پیش رفت اور پیغام ہے وہیں ایک بہتر معاشرے کی آرزو اور تڑپ بھی ہے۔ان کی شاعری محض زبان دانی، محاروہ بندی اور قافیہ ردیف نہیں ہے۔ ان کے دل کی آواز ہے۔خمار بارہ بنکوی کا نرالابیان ،ا نوکھا تخیل جذبات کے اظہار میں انہیں غیر معمولی قدرت دیتا ہے ۔ جس ہمیہ گیر انہ انداز میں انہوں نے کہا ہے وہ بے مثال اور لافانی ہے ۔(یہ بھی پڑھیں سر سیداحمد خاں کے لافانی افکار – ڈاکٹرصالحہ صدیقی )
ذکی طارق غزل کے فن پر بھی کماحقہ قادرنظر آتے ہیں ۔ ان کی زبان سلاست وفصاحت اور نزاکت ونفاست سے آراستہ ہے ۔ روایت اور جدّت کے خوشگوار امتزاج کی حامل ان کی غزلیات کو علامات واستعارات اور خوشنما امیجری کے روپ رنگ سے آراستہ سنگھارنے دلہنوں والی خوبصورتی اور دلکشی عطاکی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کاغزلیہ کلام دل کوچھولیتا ہے۔ذکی طارق کی غزلیہ شاعری دھنک رنگوں سے عبارت ہے۔ اردو غزل کے آسمان میں چاند تاروں کے ساتھ کہکشاں کی سجاوٹ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا دامن وسعت افلاق سے کم نہیں۔ ذکی طارق کی غزلیہ شاعری رنگ تغزل سے آراستہ ہے۔ ان کے یہاں روایت کے ساتھ عصر سے بھر پور استفادہ ملتا ہے۔ یُوں تو ذکی طارق نے ہر صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کے لہجے کی شناخت ان کی غزل ہی سے ہوتی ہے ۔ان کی غزل میں تغزل بہت ہے ، جتنا نِکھرا ہو ا رنگِ تغزل ان کے اکثر اشعار میں پایا جاتا ہے ان کے معاصرین میں بہت کم شعرأ کو میسّر ہے کے غزل کہنے کا واقعی بالکل نیا و منفرد لب و لہجہ ہے ۔ایسا لب و لہجہ جس میں رومانیت بھی ہوتی ہے ۔عصری حسیت بھی ہوتی ہے ۔جمالیاتی وژن بھی ہوتا ہے ۔نفسیاتی رویے بھی ہوتے ہیں۔اقتصادی ،معاشرتی ،صنعتی اور سماجی عناصر بھی رہتے ہیں۔نیزوہ موضوعات و مسائل وہ چھوٹی بحروں میں بھی بیان کرتے ہیںاور بڑی بحروںمیں بھی ،اور سب سے خاص بات یہ کہ وہ جہاں لفظوں کا انتخاب کرتے ہیں ،نیز ان محاوروں اور کہاوتوں کو اشعار میں ایسے وصل کر دیتے ہیں جیسے سنگ مرمر میں یاقوت و زمرد کی پچکاری ،گو شعری سانچے میں چار چاند لگ جاتے ہیں ۔ان کی غزلوں کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں :
مناتا ہوں مگر ویسے ہی بس روٹھے ہوئے سے ہیں
وہ شاید ترکِ الفت کی قسم کھائے ہوئے سے ہیں
تمہارے ہجر کے صدموں نے حالت یہ بنا دی ہے
نہ ہم سوئے ہوئے سے ہیں نہ ہم جاگے ہوئے سے ہیں
بس اتنے سے سمجھ لو کوئے جاناں کے فضائل تم
گلوں کے مثل ہی کانٹے وہاں مہکے ہوئے سے ہیں
جہاں تک بات فنی اوصاف کی ہے ذکی طارق کلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کلام فارسی تراکیب، مغلق الفاظ اور اضافت کی کثر ت سے بڑی حد تک عاری ہے۔ استعارہ وتشبیہہ بھی بڑی فطری انداز میں دیکھنے کو ملتاہیں۔ الفاظ نہایت سادہ اور عام فہم ہیں۔ الفاظ کی نشست میں فنکاری ملتی ہے۔ کلام میں روانی اور سوز وگداز بہت ہے۔یہاں تک کہ اکثر اشعار بے ساختہ پن اور روانی کی وجہ سے ضرب المثل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سہل ممتنع کی بیشتر مثالیں ان کے کلام میں جا بجا دیکھنے کو ملتی ہیں۔ حالانکہ سادگی کے باوجود معنی کی بلندی اور تاثیر کلام ہاتھ سے نہیں جاتی، اور نہ صرف یہ کہ سادہ آسان اور عام بول چال کا لہجہ ہے۔ بلکہ وہ لمبی لمبی غزلیں، نئی زمین نکالنے او رمشکل طرحوں میں غزل کہنے سے بھی نہیں چوکتے۔ انہیں ان کی بندش کی خوبی، نئی زمینوں کا اختراع، زبان سلاست ، کلام کی پختگی اور مضامین کی بہتات نے بجا طو رپر استاد کا مرتبہ عطا کیا۔یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں :
اس کی مدت سے میسر مجھے قربت بھی نہیں
ہو جو تشخیص تو نکلے نہ مرض بھی کوئی
جانے کیا بات ہے دل کو مرے راحت بھی نہیں
کیا عجب ہے کہ جسے ڈھونڈتا رہتا ہوں میں
اس کی ہی مجھ کو "ذکی” کوئی ضرورت بھی نہیں
ذکی طارق ایسے نہج کے مرتکب ہوگئے ہیں جس کے ڈانڈے حقیقت و معرفت تک جا ملتے ہیں ۔جس کا تعلق تزکیہ نفس سے ہے ،نفس امارہ کے بجائے نفس مطمئنہ سے ہے ۔اصلاح باطن و ظاہر سے ہے ۔ایک نصیحت ہے اس دوشیزہ کو جس نے ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہے ۔جس میں استفہامیہ و خطابیہ انداز کی حسین آمیزش ہے ۔غزلوں میں تضاد کا پہلو ،تصادم اور نفسی کشمکش کی کیفیت پیدا کرتا ہے ۔شاعر نے اپنی صلاحیت اور فنی بصیرت وشعورسے ایک ایسا ماحول غزلوں میں پیدا کردیا ہے کہ دوشیزہ اس مصرع کے مصداق’’ ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر‘‘ نظر آتی ہے ۔
چاہتوں کے پۡر کشش آغاز کی باتیں کریں
پھر کسی سلمیٰ کسی شہناز کی باتیں کریں
یہ بیانِ غم غزل میں آپ لے آئے کہاں
اس سراپا ناز کے انداز کی باتیں کریں
جو بہر لمحہ پہنچ جاتی تھی اس مہوش کے پاس
آؤ یادوں کی اسی پرواز کی باتیں کریں
اس کی عزت اور حرمت کس طرح سونپیں تمہیں
کس طرح سے تم سے اس کی راز کی باتیں کریں
ذکی طارق کی شاعری ان کی دِلی کیفیات اور رومان کی گل پوش و گل افروز وادیوں کے سفر کی منظوم خود نوشت ہی نہیں بلکہ وہ عصری معاشرت کے نشیب و فراز اس کی زبوں حالی و مسائل اور رجحانات و محرکات کا منظر نامہ پیش کرتے ہوئے اپنے عہد کی سچّائیوں کی آئینہ داری اور ترجمانی کا فریضہ بھی بخوبی انجام دیتی ہے ۔ان کے اشعار میں تہذیبی زوال ،مردہ ضمیری ،بے حسی، طبقاتی کشمکش ،دہشت گردی ،رِشتوں میں لاتعلقی ، ظلم و ستم ،جبر و استبداد ،عدم تحفظ اور عدم انصاف کی جھلکیاں صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہیں۔یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
کس لئے کوئی منزل یہ پاتی بھلا
زندگی خاک تھی خاک اڑاتی رہی
دیکھو تو میرے مولا کی قدرت ذرا
تیرہ بختی مری جگمگاتی رہی
ایک کے بعد اک مسئلہ ہوگیا
زندگی با رہا آزماتی رہی
میں نے اس کے کبھی نخرے دیکھے نہیں
زندگی خود مرے ناز اٹھاتی رہی
خوشنما خواب کیا دیتی ظالم تھی وہ
صرف نیندیں ہماری اڑاتی رہی
ذکی طارق بارہ بنکوی غزل کے فن پر بھی کماحقہ قادرنظر آتے ہیں ۔ ان کی زبان سلاست وفصاحت اور نزاکت ونفاست سے آراستہ ہے ۔ روایت اور جدّت کے خوشگوار امتزاج کی حامل ان کی غزلیات کو علامات واستعارات اور خوشنماامیجری کے روپ رنگ سے آراستہ سنگھارنے دلہنوں والی خوبصورتی اور دلکشی عطاکی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کاغزلیہ کلام دل کو چھولیتا ہے۔میں ان کے شعری مجموعہ ’’الفاظ نگر ‘‘کے منظر عام پر آنے کے لیے بے شمار مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔امید ہے اس کو قاری کا بھرپور پیارملے گا اور اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا جس کا یہ مجموعہ مستحق ہے ۔
مضمون نگار کا مختصر تعارف ڈاکٹر صالحہ صدیقی
ڈاکٹر صالحہ صدیقی
(الٰہ آباد،یوپی: انڈیا)
salehasiddiquin@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت عمدہ مضمون مبارکباد