دل پہ پہرا بٹھا دیا میں نے
خود کو یوں بھی سزا دیا میں نے
شور لیکر وہ جنگ میں آیا
خامشی سے ہرا دیا میں نے
میرے اندر سے دن نکل آئے
رات خود کو بنا دیا میں نے
دیکھ کر آنسوؤں کی بے رنگی
خون اپنا ملا دیا میں نے
اے قضا آ گلے لگا مجھکو
زندگی کو بھلا دیا میں نے
لگ نہ جائے نظر زمانے کی
غم کو اپنے چھپا دیا میں نے
اپنے دل کی کتاب میں لکھ کر
نام تیرا مٹا دیا میں نے
دیکھ کر اس کو مسکرانے میں
درد ابھرا دبا دیا میں نے
آگ تو بجھ گئی نگاہوں کی
اپنا دامن جلا دیا میں نے
خوبصورت غزل تھا وہ اشہر
اپنا مقطع لگا دیا میں نے
نوشاد اشہر اعظمی
بلریا گنج اعظم گڑھ
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

