ہمارے بہت محترم، عزیز اور سراپا اخلاص ہندوستانی دوست ڈاکٹر اخلاق آہن بہت اچھے انسان، عالم،استاد،محقق، مترجم اور کئی زبانوں کے شاعر ہیں. اپنے نام کے جزوِ اول کی بہترین انسانی تجسیم.
ابھی تک ہم ان سے پوچھ نہیں پائے کہ وہ آہن کیسے ہوئے. خیر، وہ آہن ہیں تو بھی ایسے جس کے بارے میں کوئی مردِ عارف یہ کہہ گئے ہیں:
آہن کہ بہ پارس آشنا شد
فی الحال بہ صورتِ طلا شد
سو ہمارے یہ دوست بھی نام ہی کے آہن ہیں، اندر سے زرِ خالص اور حریر و پرنیاں سے لطیف تر. ہاتھ لگا کر سونا بنا دینے والے کرشمہ ساز.
اخلاق اور آہن کا یہ اتصالِ ظاہر و باطن بھی حقیقت میں انھی کو زیبا ہے. شاید میر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا:
تم لوگ بھی غضب ہو کہ دل پر یہ اختیار
شب موم کر لیا، سحر آہن بنا لیا
ڈاکٹر اخلاق آہن تدریس کے ساتھ ساتھ علم وتحقیق اور شعر و ادب کے کئی شعبوں میں فعال ہیں. ان کی طبیعت میں وہی فطری انکسار ہے جو اہلِ نظر کے دل میں اتر جاتا ہے. اپنی گراں قدر خدمات کی وجہ سے ان کی اپنی بین الاقوامی شناخت مسلّم ہے اور دنیا کے بہت سے ملکوں میں ان کا دائرۂ احباب وسعت پذیر ہے.
ہمارے لیے باعثِ عزت و مسرت ہے کہ وہ ہمیں نوازتے ہیں،محبت سے ہماری تحریریں دیکھتے اور پسند کرتے رہتے ہیں اور کبھی کبھی تو ہمارے کسی نثری ادبی ترجمے کو بے ساختہ منظوم بھی کر دیتے ہیں. اس مشکل اور بہت حساس فن میں بھی اللہ نے انھیں خاص صلاحیت سے نوازا ہے اور وہ اس کا خوب استعمال کرتے ہیں. ان کی برجستہ گوئی کی داد الگ.
ہمارا جی چاہتا ہے کہ ہم دنیا جہان کے دھندوں سے نکل بھاگیں، کسی کنجِ سبز میں جا چھپیں، کوئی ساقیِ گل فام نہ بھی میسّر ہو تو کوئی بات نہیں. بس ہم یک سوئی سے فارسی کے بعض قدیم و جدید شعری شاہکاروں کے نثری ترجمے کرتے ہی رہیں اور پروفیسر آہن انھیں شعری قالب میں ڈھالتے ہی رہیں، ڈھالتے ہی رہیں…
پروفیسر معین نظامی
پرنسپل، اورینٹل کالج،
پنجاب یونیورسٹی، لاہور
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

