اس وقت مولانا نانوتوی اور ان کے افکار سے مجھے بحث نہیں ہے اور نہ ہی دونوں کے نظریاتی اختلافات میراموضوع ہیں۔سردست دونوں حضرات کے بیچ ہوئی مراسلت کی روشنی میں اردو نثر سے متعلق ایک جائزہ پیش کر نا مقصد ہے۔
یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ نہ تو شاعر کی شاعری سے شخص کا پورا عکس ابھرتا ہے اور نہ ہی کوئی افسانوی صنف اپنے خالق کی واضح تصویر پیش کر نے پر قادر ہے۔فنکار کے شخص کا آئینہ اگر کوئی فن پارہ ہے تو وہ اس کی غیرافسانوی تخلیق ہے اور غیر افسانوی اصناف میں بھی سب سے سچی تصویر کشی کا ملکہ ’’خط نگاری‘‘کو حاصل ہے ،کیوں کہ مکتوباتی پیرایے میں جس قدربے ساختگی،بے تکلفی اور سادگی ہوتی ہے اس سے دیگر اصناف نثر محروم ہیں۔اس آئینۂ تحریرمیں صاحب تحریرکے اندرون و بیرون کو بے کم و کاست بڑی شفافیت کے ساتھ دیکھاجاسکتا ہے،کیوں کہ خط دو افراد کے بیچ ہوئی گفتگو کا نام ہے،بس ترسیل براہ راست کی بجائے بواسطۂ تحریر ہوتی ہے۔خط نگار کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس کی نجی اور قطعی رازدارانہ گفتگو بعد کو اجتماعی حیثیت حاصل کر لے گی۔
دبستان دیوبند نے اپنی دینی ،علمی،ملی اور سماجی خدمات کے ساتھ ساتھ زبان و ادب اور لوح و قلم کی بھی پرورش کی ہے۔شاعری کی تقریباً تمام اصناف کوفکرو فن سے مالا مال کیا اور افسانوی اصناف میں بھی طبع آزمائی کی تاہم دبستان دیوبند کی ادبی خدمات غیر افسانوی اصناف میں زیادہ نمایاں ہیں ۔مثلاً خاکہ،انشائیہ،سوانح،خودنوشت،سفر نامہ اور مکتوبات وغیرہ۔یہ صحیح ہے کہ اس دبستان میں ادب کی ترویج غیر شعوری ہے لیکن ملک و قوم کی علمی،دینی،ملی اور سماجی خدمات کی انجام دہی میں اردو زبان کا استعمال شعوری تھا اور عربی و فارسی کے مقابلے اردوزبان کو ہی اولیت حاصل رہی۔
دلّی کالج کے قیام کے بعد انگریزوں نے ۱۹؍ویں صدی کے تیسرے دہے یعنی ۱۸۳۷ء میں اردو زبان کو سرکاری حیثیت دے کراسے قومی درجہ دینے کی کوشش ضرور کی لیکن دبستان دیوبند نے اردو زبان کو بین الاقوامی حیثیت عطا کی۔مولانا محمد قاسم نانوتوی کے ہاتھوں ۱۸۶۶ء میں جب دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا تو دوتین برسو ں میں ہی دیوبند کا یہ مدرسہ برما،بخارا،ایران اور افریقہ وغیر ہ ممالک کا علمی اوراسلامی مرکز بن گیااور وہاں سے آئے تمام طلبا کے لیے اردو زبان تعلیمی ضرور ت ٹھہری ۔بقول پرو فیسر عبدالصمد صارم ازہری:
’’سب سے بڑی خدمت جو دارالعلوم نے اردو ادب کی کی ہے اور جو بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے یہ ہے کہ اس نے بر ما، بنگال،دکن،رنگون،کابل،بخارا،ایران،سماٹرا،جاوا،کشمیراور نہ جانے کہاں کہاں دور دراز مقامات تک اردو زبان کو پھیلایا۔‘‘ (دارالعلوم دیوبند کا صحافتی منظرنامہ۔ص:۸۷)
یہی وجہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے بارے میں مولانا آزاد نے کہا تھا :’’صحیح معنی میں (یہ)اسلامی تعلیمات کی ایک بین الاقوامی یونیورسٹی ہے۔‘‘ (دارالعلوم دیوبند،ادبی شناخت نامہ۔ص:۳۲)
یہ حق ہے کہ اس دبستان کے خوشہ چینوں نے اپنے اپنے ممالک میں جا کر اس ادارے کے پیغام کو پھیلایاجس کا ثمرہ یوں ظاہر ہوا کہ دنیا بھر میں ارد و زبان کو اپنے بال و پر کو پھیلانے کا بھرپور موقع ملا۔مولانا نانوتوی کے شاگرد رشید حضرت شیخ الہند محمودحسنؒ کے دو شاگرد مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور مولانا محمد الیاس ؒنے اردو زبان کی جڑوں کو دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلادیا۔مولانا عبیداللہ سندھی آزادی وطن کی خاطر۲۴؍ سال جلا وطن رہے،اس دوران انھوں نے تحریک ریشمی رومال کے ذریعے انگریزوں کے خلاف کئی ممالک کو یکجاکرنے کی انتھک کوشش کی تھی ۔ریشمی رومال ایک خط تھا اور خط کی زبان اردو ہی تھی ۔ایسے ہی دیار غیر میں پہلی اردو یونیورسٹی بھی مولانا سندھی ہی کے ہاتھوں کابل میں قائم ہوئی۔مولانا الیاس کاندھلوی ؒنے تو اپنی عالمی تبلیغی تحریک کے ذریعے دنیا کے گاؤں گاؤں اور قریے قریے تک اردو زبان کی خوشبو پہنچادی۔ترویج زبان کے حوالے سے ارد و زبان کی اتنی روشن خدمات دبستان دیوبند کے سواشاید کسی کا حصہ نہیں۔ایک سے زائد اہل وطن نے وسط ایشیا کے کئی ممالک میں دبستان دیوبند کی اس اردو روشنی کا بذات خود مشاہدہ کیا ہے بلکہ تاشقند میں ایک مرتبہ جواہر لعل نہرو کا استقبال اردو زبان میں ہی ہوا تھا۔تفصیل تاریخ دارالعلوم دیوبند کی جلد اول میں دیکھی جاسکتی ہے۔(یہ بھی پڑھیں سرسیداحمدخان:تعلیمی افکارکی معنویت- نایاب حسن )
اس طرح سے دبستان دیوبند سے وابستگان نے پوری دنیا کو اردو زبان سے روشناس کر انے کے لیے محض زبانی نہیں،عملی طور پر اقدام کیا۔
دبستان دیوبند کی دیگر خدمات کا تو پوری دنیا نے اعتراف کیامگر افسوس کہ اردوزبان کے مؤرخین نے دوفیصد بھی اس طرف توجہ نہیں کی۔اردو زبان و ادب پر لکھی جانے والی مطولات ہوں یامختصرات، مؤرخین نے اس اعتراف حق کے بوجھ سے خود کو ہلکا ہی رکھا۔خدا بھلا کرے انور سدید کا کہ انھوں نے اپنی ’’اردو ادب کی مختصر تاریخ‘‘ میں مختصراً ہی سہی،دبستان دیوبند کی لسانی وادبی خدمات کا ذکر کیاہے۔ لکھتے ہیں:
’’مولانا محمد قاسم کا اسلوب اگرچہ مناظرانہ ہے لیکن یہ تاثیر سے خالی نظر نہیں آتا۔۔۔۔۔۔مدرسہ دیوبند کے علما کی تبلیغ کی زبان اردو تھی ،اس لیے ان کی تبلیغی مساعی سے فروغ اردو میں بھی معاونت ملی۔‘‘(اردو ادب کی مختصر تاریخ ۔ص:۹۲۔۲۹۱)
اس کے علاوہ دبستان دیوبند کی مجموعی ادبی خدمات پر تو اب تک کسی مؤرخ اردو نے باضابطہ قلم نہیں اٹھایا۔حقانی القاسمی کی کتاب ’’دارالعلوم :ادبی شناخت نامہ‘‘ کو اولیت حاصل ہے ۔اس کتاب کی حیثیت متن کی ہے تاہم اس کی شرح ہنوز باقی ہے۔
اسی کے ساتھ ضمناً اس دبستان کے خوشہ چینوں پر الگ الگ طورپر کچھ حضرات نے ضرور مضامین لکھے ہیں ۔اس سلسلے میں حسن عسکری کا نام سر فہرست ہے۔انھوں نے حضرت تھانوی پر کافی کچھ لکھا ہے۔اردو کے معروف معاصر نقاد شمس الر حمن فاروقی نے اپنی ایک تحریرمیں دبستان دیوبند کی اثر پذیری کا ذکر کیا ہے۔لکھتے ہیں:
’’سب سے پہلی کتا ب جو مجھے اپنے گھر میں نظر آئیں ،وہ مولانا تھانوی کے مواعظ،ان کا بہشتی زیور اور اقبال کا کلام تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا تھانوی کے مواعظ کی شگفتگی،ان کا انتہائی واضح اور دل نشیں اسلوب اور جگہ جگہ اشعار کی بر جستگی مجھے بہت اچھی لگی۔۔میرا خیال ہے کہ میں نثر میں وضاحت اور استدلال پر جو اس قدر زور دیتا ہوں تو اس کی ایک وجہ غالباً یہ بھی ہے کہ میں بچپن میں مولانا تھانوی کے اسلوب سے اثر پذیر ہوا ہوں۔ ‘‘(شعر غیر شعر اور نثر۔ص:۱۵)
مولا نا نانوتوی اپنی مختصر سی زندگی لے کر دنیا میں آئے تھے ، قول سے زیادہ عمل پر ان کاایقان تھا ۔اسلام کے خلاف ہندوئوں کی طرف سے الگ،عیسائیوں کی طرف سے علیحدہ حملے اور بھونڈے اعتراضات ہورہے تھے ،مولانا نانوتوی نے ہر اعتراض کا مسکت جواب دیا۔سچی بات یہ ہے کہ انھیں باضابطہ تصنیف و تالیف کے لیے زندگی نے موقع ہی نہ دیا۔ان کی بیشتر کتابیں یا تو مناظرانہ تقاریر کا مجموعہ ہے یا پھر مکتوباتی پیرایے میں مختلف سوالات کے جوابات کا مجموعہ۔
پیش نظر مولانا کے ایک مکتوب کی روشنی میں ان کی نثر کا تجزیہ پیش کیا جارہا ہے۔اب ذیل میں مولانا اور سید مرحوم کے خطوط کے اقتباسات درج کیے جاتے ہیں۔سیدصاحب لکھتے ہیں:
’’اگر جناب مولوی محمد قاسم صاحب تشریف لاویں تو میری سعادت ہے،میں ان کی کفش برداری کو اپنا فخر سمجھوں گا ،مگر اس وقت مرزا غالب کا ایک مشہور شعر مجھے یاد آیا ہے ؎
حضرت ناصح گر آویںدیدۂ ودل فرش راہ
کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ وہ سمجھاویں گے کیا
جناب من!میری تمام تحریریں چند اصولوں پر مبنی ہیں ۔اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان اصولوں کو بزرگان سہارنپور کی خدمت میں بھیج دیں۔اگر ان میں کچھ غلطی ہے تو بلا شبہ نصیحت ناصح کارگر ہوگی ورنہ ایسا نہ ہو کہ نا صح ہی مجھ جیسے ہوجاویں۔‘‘(تصفیۃ العقائد۔ص:۸)
اب حضرت نانوتوی کے خط کا اقتباس ملاحظہ کیا جائے۔
’’سید صاحب کی ہاں میں ہاں ملاناہم سے جبھی متصور ہے کہ سید صاحب اپنے ان اقوال مشہورہ سے رجوع کر یں جو ا ن کی نسبت ہر کوئی گاتا پھرتا ہے اور سید صاحب ان پر اصرار کیے چلے جاتے ہیں اور رجوع نہیں فرماتے۔۔۔۔۔۔آپ ہی فر مائیں کہ ہم سے گرفتاروں کی اتنی رہائی کہاں کہ بنارس،غازی پور اڑ جائیںاور ہم سے بے چارو ںکو اتنی رسائی کہاں کہ سید صاحب کے دردولت تک نوبت پہنچائیں۔اپنا مبلغ پر واز میرٹھ،حد نہایت دلّی ہے۔تسپر نقارخانے میں طوطے کی کون سنتا ہے۔۔۔۔۔۔!اجی حضرت!امیروں کے ذہن وفہم وعقل و ادراک کے ہزاروں گواہ ہوتے ہیں غریبوں کی فہم وفراست کا کہیں ایک بھی نہیں سنتا۔۔۔۔ ؎
کب وہ سنتے ہیں کہانی میری
اور پھر وہ بھی زبانی میری
ہم سے شکستہ حالوں کی باتو ںپر موافق مصرع غالب ع
میں کہوں گا حال دل اور آپ فرماویں گے کیا
۔۔۔۔۔۔پیر جی صاحب !یہ گمنام کبھی کسی سے نہیں الجھتا او رالجھے بھی تو کیوں کر الجھے،وہ کون سی خوبی ہے جس پر کمر باندھ کر لڑنے کو تیارہو۔۔۔۔۔ہاں!اس میں کچھ شک نہیں کہ سنی سنائی سید صاحب کی اولوالعزمی اور دردمندی اہل اسلام کا معتقد ہوں اور اس وجہ سے ان کی نسبت اظہار محبت کر وں تو بجا ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھ کو ان کی کمال دانش سے یہ امید تھی کہ میرے اس رنج کو ثمرۂ محبت سمجھ کر تہہ دل سے اپنے اقوال میں مجھ سے استفسار کر یںگے‘‘۔(تصفیۃ العقائد۔ص:۱۲۔۱۱ )
علمی انداز کے سوالات عموماً مختصر،جامع اور واضح ہوتے ہیں اور جوابات میں چوں کہ دلائل کی ضرور ت پڑتی ہے اس لیے سوالات کے مقابلے جوابات قدرے طویل ہوتے ہیں اور بسااوقا ت بہت طویل بھی۔
خط میں افتتاحیہ سمیت سید مرحوم کے سوالات کا حجم تین صفحات ہے اور مولانا مرحوم کے جوابات مع دلائل ۳۴؍صفحات پر مشتمل ہیں۔مولا نا نوتوی۱۸۳۲ء میں پیدا ہوئے تھے۔سرسید سے ۱۵؍سال چھوٹے تھے۔انبہٹہ سہارن پور کے باشندے پیر جی محمد عارف کے توسط سے سید صاحب نے اپنے دینی عقائد و افکار کے سلسلے میں ۱۵؍سوالات پرمشتمل ایک خط لکھا۔مولانا نوتوی نے بھی ان ہی کے واسطے سے سرسید مرحوم کو تفصیلی جوابات سے نوازا۔مرتب مجموعہ ’’مکتوبات سرسید‘‘شیخ محمد اسماعیل لکھتے ہیں:
’’خط و کتابت ۱۸۶۷ء میں اس وقت ہوئی جب سرسید بنارس میں صدرالصدور تھے اور سرسید کی مذہبی و قومی مشغولیتوں کا ابتدائی زمانہ تھا۔‘‘(مکتوبات سرسید ۔ص:۵۶۔۵۵)
مذکورہ بالا اقتباس کا جب ہم بغور مطالعہ کرتے ہیں تو خود بخود یہ حقیقت واشگاف ہوجاتی ہے کہ دونوں حضرات کی زبان،بیان،اسلوب اور لفظیات و محاورات کا خوبصورت استعمال اور اشعار کے بر محل اور بے تکلفانہ استعمال میں کس قدر ہم آہنگی اور مماثلت ہے،یہاں پر یہ امتیاز کر نا دشوار ہوجاتاہے کہ کس کی نثر زیادہ عمدہ ،خوبصورت اورمضبوط ہے۔
اس خط میں سرسید نے غالب کے ایک شعر کا استعمال کیا ہے جواب میں مولانا نے بھی غالب کی اسی غزل کا ایک مناسب مصرع درج کیا اور ساتھ ہی غالب کا ایک دوسرا شعر بھی بطورحوالہ پیش کیا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر دونوں بزرگوں کے نام خط سے حذف کر دیے جائیں تو یہ شناخت مشکل ہوجائے کہ آیا یہ خط سرسید مرحوم کی تحریر ہے یا پھر مولانا کی ۔سید صاحب کی شخصیت کی جہات مولانا کی شخصیت کی جہات سے مختلف ہیں۔مولانا نے اپنا دائرہ عمل متعین کررکھا تھا اور وہ اسی کے مطابق سرگرم عمل رہے اور سید مرحوم کی منزل تو واضح تھی لیکن وہاں تک پہنچنے کے راستے بڑے پیچیدہ تھے۔مولانا کے پیش نظر ہندوستان کی آزادی بھی تھی اورقوم کے تشخص کا مسئلہ بھی درپیش تھا ۔جب جہاد بالسیف زیادہ کارگر ثابت نہ ہوا تو تعلیم کی ایک معمولی سی چھائونی قائم کر کے مولانا نانوتوی نے زبان و قلم کے ذریعے جہاد شروع کر دیا۔اس طرح مولانا لارڈ میکالے کی سوچ کونکار کر قوم کے تشخص دینی اور ملک کی سماجی شناخت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکے۔
تصنیف و تالیف اور شاعری کے گیسو کو سنوارنے کا موقع مولانا کو اس طرح نہیں مل پایا جیسا کہ سرسید کو میسر تھا اس لیے مولانا کی بیشترتحریری سرمائے کا اسلوب مناظرانہ ہے۔تاہم مولانا کے مکتوبات کے دورنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔جب عمومی گفتگو کر تے ہیںاور ذاتی احوال کا بیان ہوتا ہے تو اس وقت ان کا اسلوب انتہائی سادہ،شستہ و شگفتہ ہوتا ہے لیکن جب علمی بحث کی باری آتی ہے تو پھر ان کا لہجہ خالص فلسفیانہ ہوجاتا ہے گویاان کا قلم علم کلام میں غوطہ زن ہے۔ہما شما سے اس کی تفہیم بھی بعید ہوجاتی ہے۔اس کے باوجود مولانا کے اسلوب نگارش کا اور آسان نثر کا اندازہ ا ن کے مذکورہ خط اور ان جیسے ذاتی خطوط سے لگایا جاسکتا ہے۔مولانانا نوتوی اردوکے علاوہ عربی و فارسی زبان میں بھی ماہر اور اس کے پارکھ تھے۔یہی وجہ ہے کہ تینوں زبانوں میں ان کے تحریری نمونے موجود ہیں۔بقول مولانا نورالحسن راشد کاندھلوی:مولانا نانوتوی کے خطوط کی کل تعداد ۱۱۲؍ ہے جن میں ۵۶؍خطوط اردو میں ، ۵۴؍ فارسی میں اور دوخط عربی زبان میں ہیں۔ان خطوط کی مولانا کاندھلوی نے تین قسمیں کی ہیں:علمی ،ذاتی اور مشترک۔(امام محمد قاسم نانوتوی ، حیات،افکار،خدمات۔ص:۳۲۱)
مولانا مرحوم نے شاعر ی بہت کم کی تاہم ان کے کلام کے جو نمونے دستیاب ہیں وہ انھیں مستند شعرا کی صف میں لاکھڑا کرتے ہیں۔حقانی القاسمی کے مطابق:
’’مولانا کا ادبی ذوق نہایت بالیدہ تھااور تخلیقی عمل میں ان کے ذہن کی کئی سطحیں متحرک رہتی تھیں۔‘‘(دارالعلو م دیوبند:ادبی شناخت نامہ۔ص:۵۲)
علمی اصطلاحات سے قطع نظر مولانا کے اس پورے خط کا بغور مطالعہ کیا جائے اور سرسید مرحوم کے خط کو بھی پڑھ لیا جائے یا دونوں کے متون کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو میرے دعوے کی دلیل بآسانی مل جائے گی۔ (یہ بھی پڑھیں افکارِسرسید کی معنویت- ڈاکٹر ابراررحمانی )
آج ضرورت ہے بالعموم تمام اردو دنیااور اس کے زبان و ادب پر تحقیق و تاریخ کا کام کر نے والے اردو کے اس طرح کے محسنین کو فراموش نہ کر کے اپنی تحقیق کا انھیں موضوع بنائیں اور اپنی تاریخ میں انھیں بھی جگہ دیں۔یہ مطالبہ نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کا تقاضاہے اور ان مخلصین کا ہمارے اوپر حق بھی ہے۔ بالخصوص مولانا مرحوم کے معنوی او رصلبی دونوں فرزندوں سے اپیل ہے کہ ان کے اس پہلو پربھی تو جہ دی جائے اور وسعت بھر عملی اقدام بھی کیے جائیں۔
مراجع:
اردوادب کی مختصر تاریخ ۔انور سدید ۔عالمی میڈیا پرائیویٹ لمٹیڈ،دہلی۔2014ء
امام محمد قاسم نانوتوی ،حیات،افکار ،خدمات (مجموعۂ مقالات)۔تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند ،نئی دہلی2005ء
تصفیۃ العقائد ۔مولانا محمد قاسم نانوتوی۔شیخ الہند اکیڈمی،دارالعلوم دیوبند ۔2009ء
دارالعلوم دیوبند :ادبی شناخت نامہ۔حقانی القاسمی۔آل انڈیا تنظیم علمائے حق،نئی دہلی۔2006ء
دارالعلوم دیوبند کا صحافتی منظر نامہ۔نایاب حسن قاسمی۔ادارہ تحقیق اسلامی، دیوبند۔2013ء
شعر ،غیر شعر اور نثر۔شمس الرحمن فاروقی ۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،نئی دہلی۔2005ء دوسرا ایڈیشن
مکتوبات سرسید ۔جلددو م۔مرتب :شیح محمد اسماعیل پانی پتی۔مجلس ترقی ادب ،لاہور۔1985ء دو سرا ایڈیشن
9718921072
faqasmijnu@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


3 comments
[…] متفرقات […]
ماشاءاللہ! بہت علمی اور تحقیق کاؤش۔ ادبی و علمی شہ پاروں سے مزین مضمون۔ پہلی بار اردو زبان و ادب کے ترویج میں دارالعلوم دیوبند کی عظیم خدمات کا علم ہوا۔ اللہﷻ آپ کے قلم و فہم کو نکھار بخشے۔ آمین
ماشاءاللہ! بہت علمی اور تحقیق کاؤش۔ ادبی و علمی شہ پاروں سے مزین مضمون۔ پہلی بار اردو زبان و ادب کے ترویج میں دارالعلوم دیوبند کی عظیم خدمات کا علم ہوا۔ اللہﷻ آپ کے قلم و فہم کو نکھار بخشے۔ آمین