جدید اردو نثر کے بانی سرسید احمدخاں کانثری اسلوب انتہائی منفرد،مفید ،خطیبانہ، ناصحانہ ،مفکرانہ ، مبلغانہ سلیس اور سادہ ہے، ان سے پہلے عام طور پرمسجع، مقفیٰ ،رنگین ، پر تصنع اور پر تکلف نثر لکھنے کا رواج تھا اور ایسے ہی مرصع رقم کو باکمال انشاپرداز سمجھا جاتا تھا، مگر سرسید نے سب سے قطع نظر ایک نئی راہ نکالی اور ایک نئے انداز کے نثر کی بنیاد ڈالی ، میر امن اور دیگر قلمکاروں نے بھی ان سے پہلے سادگی اور سلاست کو اختیار کیا تھا ، مگر وہ لوگ روز مرہ کے معمولات اور داستانوں تک ہی منحصر اور محدود رہے، مگر سرسید نے علمی، ادبی ، تاریخی، تنقیدی، سیاسی ، معاشرتی، اخلاقی، اصلاحی، اور مذہبی موضوعات کو نئے نثری اسلوب میں ڈھال کرا ردو میں ایسی مثال قائم کی کہ دنیائے اردو آج بھی سرسید احمد خاں کااحسان مند ہے۔انہوں نے نہ صرف یہ کہ سادگی، سلاست، روانی ، بے تکلفی و بے ساختگی پر اکتفا کیا، بلکہ مدعا نگاری اوراستدلالی نثر کی بنیادبھی ڈالی، وہ جو بھی لکھتے ہیں تو کسی نہ کسی مقصد کے پیش نظر ہی لکھتے ہیں اور ساتھ ساتھ دلیل بھی دیتے ہیں، ان کی تحریروں میں تہہ داری ، تبلیغی و اسلامی جوش، ندرت فکر، مفکرانہ سنجیدگی، اصلاحی جذبہ اور خطیبانہ و ناصحانہ انداز جابجا دیکھا ئی دیتے ہیں ، تحریروں میں عوام و خواص سب سے خطاب کرتے ہیں کہیں ان کا انداز صحافیانہ ہوتا ہے تو کہیں خطیبانہ، ظرافت اور خوش طبعی بھی ان کی تحریروں میں نظر آتی ہے، ان کے نثر کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کے یہاں فطری طور پر بہاؤ، سلاست اور سادگی ہے سرسید ہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے ایڈیسن وغیرہ مغربی مصنفین سے متاثر ہو کر اردو میں مضمون نگاری کی بنیاد ڈالی،اس کے علاوہ اردو میں سائنٹفک طرز تحریر کی بنیاد بھی سرسید نے ہی ڈالی، ان کے مضامین میں ایک بڑی تعداد فکر انگیز اور دقیق مضامین کی ہے۔ وہ خالص نثر لکھنے کے باوجود محاکات نگاری، تشبیہات و استعارات اورروزمرہ و محاورات کواس انداز سے نثر کا حصۃ بناتے ہیں کہ کہیں کہیں شاعری کی بو آنے لگتی ہے شبلی نعمانی نے سرسید کی انشاپردازی پر ان الفاظ میںا ظہار خیال کیا ہے کہ ’’سرسیدکی انشا پردازی کا سب سے بڑا کمال اس موقع پر معلوم ہوتا ہے جب وہ کسی علمی مسئلہ پر بحث کر تے ہیں،اردو زبان چونکہ کبھی علمی زبان کی حیثیت سے کام میں نہیں لائی گئی،اس میں علمی اصطلاحات ،علمی الفاظ اور علمی تلمیحات بہت کم ہیں،اس لیے اگر کسی علمی مسئلہ کو اردو میں لکھنا چاہو تو الفاظ مساعدت نہیں کرتے،لیکن سر سید نے مشکل سے مشکل مسائل کو اس وضا حت ،صفائی اور دلآویزی سے ادا کیا ہے کہ پڑھنے والا جانتا ہے کہ وہ کوئی دلچسپ قصہ پڑھ رہا ہے‘‘(ادبی مقالات شبلی ص۶۴)۔
ہرمصنف و محقق کا اپنا الگ انداز اور منفرد اسلوب ہوتا ہے اور یہی چیز اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے ،اسی اسلوب کی بناکر اس کی الگ شناخت بنتی ہے اسی طرح ہر عہد کا بھی اپنا ایک اسلوب ہوتا ہے جس کی اکثر منصنفین پیروی کرتے ہیں اور اسی انداز کو اپناتے ہیں جو اس زمانہ میں رائج ہوتا ہے ۔
جب ہم ۱۸۵۷ ء کے آس پاس کے نثری اسلوب کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ اس دور کے نثری اسلوب پر داستانوی رنگ چھایا ہوا ہے اور لوگ اسی انداز تحریر کو پڑھتے اور پسند بھی کرتے ہیں میر امن اور غالب نے روایت سے ہٹ کر سادہ اور سلیس انداز اختیار کیا اور اپنی تحریروں میں گنجلک اور مشکل اسلوب کی جگہ سادہ اور آسان اسلوب کو اختیار کیا ۔(یہ بھی پڑھیں مولانامحمد قاسم نانو توی اور سرسید مرحوم کی اردو نثر:ایک تقابلی مطالعہ – ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی )
مگر سر سید احمد خاں وہ پہلے ادیب اور قلمکار ہیں جنہوں نے باقاعدہ مقصدیت کو ہر جگہ ترجیح دی یہی معاملہ ان کے نثری اسلوب کا بھی ہے ،ان کی نثری تحریریں خواہ مضامین کی شکل میں ہو یا پھر خطبات اور مکاتیب کی شکل میں ،ہر جگہ مقصدیت غالب نظر آتی ہے ،ڈاکٹر ابولکلام قاسمی صاحب نے سرسیدکے نثر کے حوالہ سے اس طرح اظہار خیال کیا ہے ’’ سر سید کے مـضامین کے اسلوب تحریر میں تجزیاتی طریقہ ٔ کار اور استدلالی طرز اظہار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اسی تجزیاتی اور استدلالی رویہ کی بنا پر سرسید کی نثر باوجود دقیق علمی مسائل کو زیر بحث لانے کے قابل فہم بھی رہتی ہے اور دلچسپی کے عنصر کو بھی اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ‘‘ ( جہان غالب :ص ۷۰ شمارہ دسمبر ۲۰۰۶ ء تا مئی ۲۰۰۷ ء)
بلا شبہ سرسید احمد خاں کے نثری اسلو ب میں استدلالی اور تجزیاتی انداز کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے حالاں کہ ان کی تحریروں میں وہ تمام خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں جو کسی ادیب اور شاعر کو اعلی مقام پرفائز کرتی ہے اسی کے ساتھ ساتھ مدعا نگاری کا بھی غلبہ رہتا ہے ایک طرف جہاں تشبیہات ،استعارات وغیرہ کا استعمال ہے وہیں سادگی ،سلاست،روانی ،بے تکلفی اور برجستگی کا دامن بھی کبھی نہیں چھوٹتا ۔
سر سید کا نظریۂ اسلوب :
سرسید جہاں ایک عظیم دانشور،ماہر تعلیم،مربی قوم اور رہبر ملت تھے وہیں زبان و ادب کے سلسلے میں بھی مخصوص نظریات کے حامل تھے،وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فن پارے میں ایسی زبان استعمال کی جائے جس سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیںکیوںکہ سرسید کے نزدیک عوام بیداری کی خاصی اہمیت تھی اسلیے انہوں نے اپنے مضامین و مکاتیب میں عام روایت کے مقابلے میں ایسے طرز تحریر کو اپنایاجس سے خاص و عام یکساں طورپر مستفید ہو سکیں۔وہ لکھتے ہیں ’’ جہاں تک ہم سے ہو سکا ہم نے اردو زبان کے علم وادب کی ترقی میں اپنے ناچیز پرچوں کے ذریعہ سے کوشش کی ،مـضمون کی ادا کا ایک سیدھا اور صاف طریقہ اختیار کیا ،الفاظ کی درستی ،بول چال کی صفائی پر کوشش کی ،رنگینی ٔ عبارت سے جو تشبیہات اور استعارات خیالی سے بھری ہوتی ہے اور جس کی شو کت صرف لفظوں ہی میں رہتی ہے اور دل پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا ،پرہیز کیا ،تک بندی سے جو اس زمانہ میں مقفی عبارت کہلاتی تھی ہاتھ اٹھایا جہاں تک ہو سکا سادگی ٔ عبارت پر توجہ کی ،اس میں کوشش کی کہ جو کچھ لطف ہو وہ صرف مضمون کی ادا میں ہو جو اپنے دل میں ہو وہی سادگی کہ دل میںپڑے تاکہ دل سے نکلے اور دل میں بیٹھے ‘‘۔
مکاتیب سرسید کا اسلوب :
اس میں کوئی شک نہیں کہ سر سید کے زیادہ تر مضامین اصلاحی ہیں،تحریر کے وقت مقصدپیش نظر ہے،دیگر مقاصد کے علاوہ تعلیمی مشن حددرجہ عزیز ہے،اسلیے انہیں ایک ایسے اسلوب کی ضرورت پڑی،جو نقارہ عوام ثابت ہواور ہر قاری کے فہم و ادراک سے گذرے،مضامین کے علاوہ جب ہم ان کی ذاتی تحریروں یعنی خطوط کے اسلوب پر نظر ٖڈالتے ہیں تو ہمیں وہاں بھی وہی اسلوب نظر آتاہے،کیونکہ سر سید نے اسلوب کو ایک مشن کے طورپر رواج دیا،انہوں نے غالب کی طرح یہ دعوی تو نہیں کیا کہ میں نے وہ انداز تحریر ایجاد کیا ہے کہ مراسلہ کو مکالمہ بنا دیا ہے اس کے باوجود سرسید کے مکاتیب میں مکالماتی انداز موجود ہے اور جگہ جگہ ان کی تحریروں سے ظرافت اور شوخی بھی جھلکتی ہے ،حسب ضرورت انہوں نے لمبے لمبے جملے اور مختصر جملے بھی تحریر کیے ہیں عام طور پر سرسید کے مکاتیب کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ سادہ اور سپاٹ ہے ان میں کسی طرح کی چاشنی اور دلآویزی نہیں ہے، یہ بات درست نہیں کیونکہ کئی جگہ ان کے مکاتیب میں رومانوی انداز بھی ہے اور ظرافت اور شائستگی بھی ۔ہاں یہ اور بات ہے کہ ان کے یہاں افادی اور مقصدی پہلو ہر جگہ غالب ہے،اسی افادی اور مقصدی پہلو کے پیش نظر کبھی کبھی سادہ اور سپاٹ کا دھوکا ہوجاتا ہے ۔
سادگی و بے ساختگی :
چوں کہ سرسید احمد خاں ہمیشہ افادی اور مقصدی پہلو کو ترجیح دیتے تھے اسی لیے انہوں نے مکاتیب میں بھی سادہ اور برجستہ اسلوب تحریر کو اختیار کیا ہے تاکہ ہر کوئی اسلوب کی پیچیدگی میں گم ہوئے بغیربراہ رسات مقصود اور مدعا تک پہنچ سکے ۔سر سید احمد خاں کے سادہ اسلو ب کے حوالہ سے پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کا یہ اقتباس دیکھتے چلیں ’’ غالب کے بعد سرسید کی ہمہ گیر شخصیت پیدا نہ ہوتی تو اردو میں سادگی اور بے تکلفی پیدا کرنے کا کام ادھورا رہ جاتا سرسید نے غالب کے اثرکو صرف اپنے تک محدود نہ رکھا بلکہ اسے پھیلانے کے لیے زبان و ادب کے خدام کی ایک اچھی خاصی جماعت پیدا کر دی اس تحریک کے علمبردار کی حیثیت سے سرسید کے خط بے تکلفی اور سادگی کا نمونہ ہیں ‘‘ (اردو خطوط نویسی ص: ۵۳ )
سرسید احمدخاں کی سادگی اور بے ساختگی خود ان کے ایک خط میں دیکھیں جو انہوں نے منشی محمد نیاز خاں کے نام لکھا ہے ’’ میں نے بوجہ اشد ضرورت کے جس کا بیا ن میں نے اپنی تجویز میں کیا ہے آپ کو حسب دفعہ ایک سو چالیس اختیار قواعدو قوانین ٹرسٹیاں کے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج علی گڑھ کا بشرط آپ کی منظوری کے ٹرسٹی مقرر کیا ہے ،اس لیے مجھ کو آپ سے امید ہے کہ ٰ آٖ میری زندگی میں اور نیز میرے بعد کالج کی خیر خٰواہی اور اس کی ترقی اور استحکام میں بدل و جان سعی اور کوشش فرماتے رہیں گے ‘‘۔
مکالمہ نگاری :
سرسید احمدخاں کے مکتوب کو پڑھتے وقت احساس ہوتا ہے کہ مکتوب الیہ ان کے سامنے بیٹھا ہوا ہے اوروہ اس سے باتیں کر رہے ہیں ،نیز اندازہ ہوتا ہے کہ سرسید کے خطوط نصف ملاقات ہی نہیں بلکہ مکمل ملاقات کی کیفیت کا مزہ دیتے ہیں ،مولوی ذکاء اللہ کو لکھے گئے خطوط سرسید کی مکالمہ نگاری کے عمدہ نمونے ہیں،مثلا ’’ واہ جناب واہ آپ نے خواجہ وجیہ الدین سے فرمایا کہ گیارہ بجے کا وقت جو بجٹ میٹنگ کے لیے مقرر کیا ہے اچھا نہیں ہے اگر ایک بجے کا وقت ہوتا تو اچھا ہوتا مطلب آپ کا یہ تھا کہ آ پ نو بجے دلی سے چلتے اور اجلاس میں شریک ہوکر اسی دن واپس چلے جاتے یہی آٖ کا انصاف ہے ‘‘۔
سنجیدگی :
سرسید احمد کے اسلوب کی ایک اہم خصوصیت سنجیدگی بھی ہے ،اور یہی وہ انداز ہوتا ہے کہ بآسانی اپنی بات قاری کے قلب و دماغ میں سمویا اور جاگزیں کیا جاسکے ان کے یہاں اس طرز اسلوب کے مکاتیب کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے، اس سلسلے میں محسن المک کو لکھے گئے ایک خط کو دیکھتے چلیں ۔’’ جان من حقیقت یہ ہے کہ تم نے خدا کی عظمت کا جس عظمت کے وہ لائق ہیں اور قرآن مجید کی صداقت کا جس کے وہ لائق ہیں اور مذہب اسلام کی عزت اور سچائی کا جس عزت اورسچائی کے وہ لائق ہے اپنے دل پر نقش کالحجر نہیں کیا اس لیے تمہاری رائے یا تمہارا دل اور تمہارا ایمان ڈاواں ڈول ہے ،اگر تم خیالات کو دل سے محو کرکے یہ سچا اور دلی یقین کر لو کہ خدا سچا ہے اور قرآن اس کا کلام اور بالکل سچا ہے تو تم کو اس طرح کے شبہات ہر گز نہ پیدا ہوں ‘‘۔
ظرافت :
سرسید احمد خاں جس علمی و ادبی ماحول میں جن معاصر علماء وادبا ء کے ہمراہ زندگی گذار رہے تھے وہاں ظرافت جیسے خوبصورت ملکہ کا مزاج و شخصیت میں در آناناگزیر ہے،اسلیے ان کے مکاتیب میں ظرافت کے شگفتہ نمونے جابجا بکھڑے پڑے ہیں ،چوں کہ ظرافت سرسید احمد خاں میںطبعا موجود تھی اس لیے بلاقصد و ارادہ سرسید کے مکاتیب میں بھی اس کا نقش شامل ہو گیا ہے سید میر حسن کو لکھے گئے خط کا ایک اقتباس جو مرزا غلام احمد قادیانی کی تصانیف اور الہام کے پس منظر میں ہے اس میں ان کی ظرافت کو محسوس کیا جا سکتا ہے ’’ جھگڑا اور تکرار کس بات کا ہے ان کی تصانیف میں نے دیکھیں وہ اس قسم کی ہیں جیسا ان کا الہام یعنی نہ دین کے کام کی اور نہ دنیا کے کام کی ‘‘ ۔
کبھی کبھی ان کی ظرافت میں طنزیہ انداز بھی جھلکتا ہے اس صورت میں ان کی تحریروں میں مزید شوخی دکھائی دیتی ہے ۔
’’ ان کا یہ فرمانا کہ سید احمد نے انگریزوں کا جھوٹا کھا کر اسٹار آف انڈیا لیا ہے اور انہوں نے مونچھوں پر تائو دے کر نہیں نہیں بھول گیا ان کی مونچھیں نہیں ہیں ڈاڑھی پر ہاتھ پھیر کر ‘‘۔
علمیت :
سرسید احمدخاں علمی حیثیت کے حامل شخص تھے اس لیے ان کے خطوط میں بھی علمیت کی نہ صرف جھلک موجود ہے بلکہ بسا اوقات بڑے سے بڑے علمی اور فقہی مسئلے کو خطوط میں اس انداز سے حل کر دیتے ہیں کہ احساس بھی نہیں ہوتا اوچٹکیوں میں مسئلہ حل ،انہوں نے محسن الملک کے نام جو خطوط لکھے ہیں ان میں اس پہلو او ر اسلوب کو دیکھا جا سکتا ہے ۔
منطقیت اور استدلالیت :
چونکہ سر سیداحمد خاںکی شناخت ہی منطقیت ،استدالایت اور تجزیاتی اسلوب نگارش کی وجہ سے ہے ان کی تمام تر تحریروں میں خواہ وہ مضامین ومقالات ہوں یا پھر مکتوبات ہر جگہ یہ اسلوب کارفرما نظر آتا ہے ،وہ مدمقابل اور قاری کو دلیل مانگنے کا موقع نہیں دیتے بلکہ دعوی کے ساتھ ہی دلیل بھی بیان کر دیتے ہیں ،ان کا یہ انداز بابو سرودا پرشاد سندل کے نام لکھے گئے ایک خط میں دیکھا جاسکتا ہے،انہوں نے یہ خط اردو اور ہندی نزاع کے حوالہ سے لکھا تھا ’’ جب آپ کے نزدیک ہندی زبان ان اضلاع کی موجودہ مخلوط زبان ہے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ اس میں اور اردو میں کیا فرق ہے ؟ پس جب ان دونوں زبانوں میں امتیاز نہیں ہے تو تبدیلی کے کیا معنی اور ایک زندہ زبان کے بجائے دوسری زبان کیسے رائج ہوگی ؟‘‘
تشبیہات و تلیحات :
سرسید کے خطوط کا ہم مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تحریر بالکل سپاٹ اور سادہ نہیں بلکہ اس میں تشبیہات و تلیحات بھی بکثرت موجود ہیں ،سر سید احمد خاںغیر اردای طور پر ایسے صنائع و بدائع کا بسا اوقات خطوط میں استعمال کر لیتے ہیں کہ جس سے نہ صرف خطوط کی دلکشی میں اضافہ ہوجاتا ہے بلکہ شاعری کا لطف آنے لگتا ہے ،اس حوالہ سے ایک اقتباس ’’ آپ خیا ل کیجیے کہ محبت اور دوستی ایسی سخت اور مضبوط چیز ہے کہ کسی طرح نہیں ٹوٹ سکتی اور کوئی اس کو نہیں توڑ سکتا مگر وہ ناز ک بھی ایسی ہے کہ باریک سے باریک شیشے اور حباب کو بھی اس سے نسبت نہیں ہے وہ ہتھوڑوں اور ہزاروں صدموں سے نہیں ٹوٹتی اور ایک ادنی سی خلاف محبت بات کرنے سے ٹوٹ جاتی ہے اور جوں جو ں محبت زیادہ بڑھتی ہے اس کی نزاکت زیادہ ہو تی جاتی ہے ‘‘ ۔
خلاصہ :
سر سید احمد خاں جس طرح جدید اردو نثر کے بانی ہیں اسی طرح اردو مکاتیب میں بھی منفرد اسلوب کے بانی اور موجد ہیں ،ان کے مکاتیب میں اتنے اسالیب پائے جاتے ہیں کہ ان سب کا احاطہ مختصر سے وقت اور صفحات میں نہیں کیا جاسکتا ،بطور خاص علمی ،استدلالی اور منطفی انداز بیان اور اسلوب کو جس انداز سے سرسید نے اپنے مکاتیب میں برتا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی ،ان کا میدان کافی وسیع تھا انہوںنے علمی،ادبی ،تاریخی ،تنقیدی ،سیاسی ،معاشرتی ، اخلاقی ،اصلاحی اور مذہبی موضوعات پر خطوط لکھے ہیں اس طرح کے متنوع موضوعات پر لکھنے کے لیے ایک ایسے اسلوب کی ضرورت تھی جو ان کی ترجمانی کر سکے اور ان کی باتوں کو قارئین تک پہنچا سکے ،سرسید احمد خاں اس چیز کو اچھی طرح سمجھتے تھے اس لیے انہوں نے علمی چیزوں کوبھی بہت ہی سادگی سے خطوط کا حصہ بنا دیا کہ قاری بہ آسانی مدعا اور مقصد تک بھی پہنچ جاتا ہے اور بور بھی نہیں ہوتا ۔
محمد شاداب شمیم ،
ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسٹی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت خوب,آپ نے سر سید احمد خان کے اسلوب کو بہت خوبصورتی سے واضح کیا,آپ کی ریسرچ ہم اردو کے طا لب علموں کے لیے بہت مدد گار رہےگی.