کہتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے۔تندرستی ہزار نعمت ہے۔مگر انسان سب سے زیادہ لاپرواہی صحت اور تندرستی کے معاملے میں کرتا ہے۔تو آئیے اسی پہلو پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں۔
اسلام نے ایک طرف انسان کو روحانی پاکیزگی عطا کی، ان کے اخلاق کو سنوارا اور تہذیب سے آشنا کیا، وہیں اس نے معاشرے کو حفظان صحت کے اصول سکھائے اور انسانوں کو رہن سہن، اٹھنے بیٹھنے اور طہارت و نظافت کا سلیقہ بھی سکھایا۔ فطری طور پر انسان صفائی ستھرائی، طہارت و پاکیزگی اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے ۔
اسلام ایک دین فطرت ہے جس نے انسانی فطرت کا کافی لحاظ کیا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے صاف ستھرا رہنے والے افراد سے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے ’’ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ وَیُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِینَ(البقرہ)’’بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور بہت پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘۔ اسلام نے صفائی ستھرائی کو یہیں تک محدود نہیں رکھا ہے بلکہ اسے عقیدہ اور ایمان کے بندھن سے جوڑ دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:الطُّہُورُ شَطۡرُ الإیمانِ(صحیح مسلم) ’’طہارت آدھا ایمان ہے‘‘۔ اسلام نے نماز جیسے اہم رکن کی صحت کے لیے جائے نماز، بدن اور کپڑوں کی طہارت کا حکم دیا ہے۔ صاف ستھرا رہنے سے نہ صرف رب کی محبت و خوشنودی حاصل ہوتی ہے بلکہ اس سے انسان متعدد امراض سے محفوظ بھی رہتا ہے۔
شریعت اسلامی کے تمام اصول و فروع، عقائد وعبادات، معاملات اور اخلاقیات پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ بڑا حصہ طہارت و نظافت اور اخلاقیات پر مشتمل ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی خود اس اصول کا اعلیٰ نمونہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاک و صاف رہتے اور اللہ جل شانہ سے یہ دعا کرتے: ’’اے اللہ میں تیری پناہ چاہتاہوںناپاک وگندی چیزوں اور بری چیزوں سے اورشیطان رجیم سے‘‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’إِنَّ اللَّہَ طَیِّبٌ یُحِبُّ الطَّیِّبَ، نَظِیفٌ یُحِبُّ النَّظَافَۃَ، کَرِیمٌ یُحِبُّ الۡکَرَمَ، جَوَادٌ یُحِبُّ الۡجُودَ، فَنَظِّفُوا أُرَاہُ قَالَ أَفۡنِیَتَکُمۡ وَلا تَشَبَّہُوا بِالۡیَہُودِ ” ((ترمذی،ج4،ص325،حدیث:2808)۔
’’بلاشبہ اللہ کی ذات پاک ہے اور پاکی کو پسند کرتا ہے۔صاف ستھرا ہے اور صفائی کو پسند کرتا ہے۔پس اپنے گھروں کو صاف رکھا کرو اور یہودیوں سے مشابہت نہ اختیار کرو(غالباً اس زمانے میں یہودی اپنے گھروں کو گندارکھتے ہوں گے)۔‘‘
چنانچہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اسی وقت مکرم و مقبول ہو سکتا ہے، جب وہ دل کے تقویٰ کے ساتھ ظاہرجسم کی پاکیزگی اور طہارت کا اہتمام کرتا رہے اور کھانے پینے، رہنے سہنے میں ناپاک و گندی چیزوں سے پرہیز کرتا رہے، اس لیے کہ پاکی و صفائی سے نہ صرف جسم کی صحت برقرار رہتی ہے ۔بلکہ صفائی عبادت ہے اوراس پر ثواب ملتا ہے، اس لیے ہر شخص کو اس کا اہتمام کرنا چاہئے۔ بندے کو چاہیے کہ ہرطرح پاک رہے جسم،نفس، روح، لباس، بدن،اخلاق غرض کہ ہر چیز کو پاک صاف رکھے، اقوال، افعال،احوال عقائد سب درست رکھے۔
طبی اعتبار سے صفائی کی اہمیت
صفائی ستھرائی کی عاد ت ڈالنا نہ صرف اجر وثواب کے حصول کا باعث ہے بلکہ اس کے متعدد دنیوی فوائد بھی ہیں۔ اس کے برعکس گندگی اور آلودگی نہ صرف اسلامی نقطۂ نظر سے ناپسندیدہ چیز ہے بلکہ دنیوی اعتبار سے بھی اس کے کثیر نقصانات ہیں۔صفائی کا خیال نہ رکھنے کے باعث کثیر بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں مثلاً ڈائریا،ٹائیفائڈ،ٹی بی اور جلدی بیماریاں خارش وغیرہ۔
اپنے جسم اور لباس وغیرہ کو صاف ستھرا رکھنا متعدد بیماریوں سے بچانے کے ساتھ ساتھ انسان کی شخصیت کو پرکشش بناتا ہے اور اعتماد و وقار میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس گندے لباس اورمیلے جسم کے حامل افراد کو نہ صرف حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور لوگ ان سے گھن کھاتے ہیں بلکہ ایسے لوگوں میں خود اعتمادی کی کمی بھی پائی جاتی ہے۔جسم و لباس کے علاوہ اپنی سواری،موبائل فون، لیپ ٹاپ(Laptop)، ٹیبلٹ، پی سی (Tablet PC)، چپل، جرابیں، عمامہ،چادر،ٹوپی،رُومال،گھڑی،قلم،بیگ وغیرہ استعمالی اشیا کو بھی صاف ستھرا رکھا جائے اور جن چیزوں کو دھونا ممکن ہو وقتِ مناسب پر دھویا جائے۔ (یہ بھی پڑھیں جدید طریقہ تدریس کا ماخذ طریق خیر البشر صلی اللّٰہ علیہ وسلم – ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی )
ہاتھ پاؤں کے ناخن ہفتے میں ایک مرتبہ ضرور کاٹیں ورنہ ان میں میل جمع ہوجاتا ہے اور جراثیم پرورش پاتے ہیں جو کھانے کے ذریعے پیٹ میں جاکر مختلف بیماریوں مثلاً ڈائریا، ہیضہ وغیرہ کا باعث بن سکتے ہیں۔دانتوں کی صفائی کا بھی خاص اہتمام رکھیں۔سنت کے مطابق مسواک کریں۔ کھانے کے بعد دانتوں میں خلال کرنے کا معمول بنائیں۔ کھانے سے پہلے اور بعد اچھی طرح ہاتھ دھوئیں۔
ایک حدیث میں بالخصوص منہ کی صفائی کی تاکید کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺنے فرمایا ’’طَیِّبُوا اَفوَاھَکُم بِالسِّوَاکِ فَاِنَّہَا طُرُقُ القُراٰن‘‘ اپنے منہ کو مسواک کے ذریعے صاف رکھو کیونکہ یہ قرآن کا راستہ ہیں۔(شعب الایمان،ج2،ص382،حدیث:2119)
جبکہ ایک روایت میں فرمایا ’’امت کے مشقت میں پڑنے کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے وقت ان کومسواک کا حکم دیتا‘‘۔(صحیح البخاری،ج1،ص307،حدیث:887)
بچوں کی تربیت
اپنے بچوں کو بھی ابتدائ ہی سے صفائی کی تربیت دی جائے، کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونے کی مشق کرائی جائے اور کم از کم رات سونے سے پہلے اور بیدار ہونے پر دانت صاف کرنے کی عادت ڈالی جائے۔
ماحول کی صفائی
اپنے جسم کے ساتھ ساتھ بالخصوص اپنے گھر کے مطبخ (Kitchen) اور بیت الخلائ(Bathroom) کی صفائی کابھی اہتمام رکھیں۔بہتر یہ ہے کہ صفائی کا شیڈول بنالیں کہ کن چیزوں کی روزانہ،کن کی ہفتہ وار اور کن کی ماہانہ صفائی کرنی ہے مثلاً فریج،پنکھوں اورانرجی سیوروں کی صفائی مہینے میں ایک دفعہ،دروازوں الماریوں وغیرہ کی ہفتہ وار وغیرہ۔ وقتاً فوقتاً گھر کے زیر زمین اور اوپری واٹر ٹینک کی صفائی بھی نہایت ضروری ہے۔صحت مند رہنے کے لئے صاف پانی کا استعمال نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ ماحول کی صفائی صرف اپنے گھر تک ہی محدود نہ رکھیںبلکہ اپنی گلی، محلے،دفتر،مسجد، سیڑھیوں، ملازمت کے مقام، باغیچہ، صحن،دالان وغیرہ کی صفائی پر بھرپورتوجہ دینی چاہیے۔عوامی سواری مثلاً بس ٹرین وغیرہ کی صفائی بھی اس میں شامل ہے۔
اپنے جسم اورکپڑوں کے علاوہ بستر،تکیہ،پردے اورکھانے پینے کے برتن ،فرنیچر اورسواری پربیٹھنے کی جگہ(سیٹ) کو بھی پاک و صاف رکھنے کا اہتمام کریں۔
اپنے گھر کو صاف کرکے تمام کچرا گلی محلے میں ڈال دینا نیز اپنے صحن کو دھوکر گلی میں پانی جمع کردینا کہ پڑوسیوں اور راہ گیروں کو تکلیف پہنچے، یقیناًایک ناپسندیدہ عمل ہے جو دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث بھی بنتا ہے۔
پانی کی صفائی
پانی ہر مخلوق کی ضرورت ہے، اس کے بغیر حیات ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن وحدیث میں پانی کی اہمیت و ضرورت، اس کی حفاظت و صیانت ، اس کے طریقۂ استعمال اور صفائی ستھرائی کے متعلق متعدد نصوص موجود ہیں۔ اسلام نے نہ صرف پانی کی حفاظت اور صفائی ستھرائی کا حکم دیا ہے بلکہ اس کے طریقے سے بھی مسلمانوں کو روشناس کرایا ہے۔ تالاب، جھیل، ٹنکی اور کنویں وغیرہ کے پانی کی صفائی کے تعلق سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لا تَبُلۡ فی المائِ الدّائِمِ الذی لا یَجۡرِی ثُمَّ تَغۡتَسِلُ منہ.(صحیح مسلم)’’ایسے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرو جو جاری نہ ہو (تاکہ ایسا نہ ہو کہ) پھر تم اسی سے غسل کرو‘‘۔ اسی طرح برتن، ٹب، گھڑے اور مٹکے میں موجود پانی کی صفائی ستھرائی کے بارے میں فرمایا: إذا اسۡتَیۡقَظَ أحَدُکُمۡ مِن نَوۡمِہِ، فلا یَغۡمِسۡ یَدَہُ فی الإنائِ حتّی یَغۡسِلَہا ثَلاثًا؛ فإنَّہ لا یَدۡرِی أیۡنَ باتَتۡ یَدُہُ. (صحیح مسلم)’’جب تم میں سے کوئی آدمی سو کر اٹھے تو اپنے ہاتھ کو پانی کے برتن میں نہ ڈالے جب تک اسے تین بار دھو نہ لے، اس لیے کہ اسے نہیں معلوم کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا‘‘۔
راستوں اور گزرگاہوں کی صفائی
اسلام نے سڑکوں، راستوں، گزرگاہوں اور گلیوں کو بھی پاک و صاف رکھنے کا تاکیدی حکم دیا ہے اور ان میں گندگیاں پھیلانے سے منع کیا ہے، تکلیف دہ چیزوں کو وہاں سے ہٹانے کا حکم دیتا ہے ،یہاں تک کہ انسانی ضرورت کے تحت پاخانہ، پیشاب اگر محسوس ہو توسڑک،باغ،سایہ دار درخت کے نیچے اور تالاب،ندی، نالے وغیرہ کے پانی میںپاخانہ اورپیشاب نہ کرے، جو شخص ایسا کرتا ہے وہ خدا کی رحمت سے دورہوکر لعنت کا مستحق ہوجاتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: لعنت کی تین چیزوں سے بچو،پانی لینے کی جگہ،راستہ اورسایہ میں پاخانہ کرنے سے۔(ابو داؤد) راستہ میں گندی چیزوں کو ڈالنا بھی خدا کی رحمت سے دور کردیتا ہے اورانسان گنہ گار ہو کر خدا کی لعنت کا مستحق ہوجاتا ہے، چنانچہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:جوشخص اپنی گندی چیز کو مسلمانوں کے راستے میںدھوئے، اس پر لعنت ہوگی اللہ کی،اس کے فرشتوں کی اورتمام لوگوں کی لعنت ہوگی(ابوداؤد)،جانوروں کو بھی ایسی جگہوں پر نہ لے جائے جہاں ان کے بول وبراز سے پانی ناپاک اورگندہ ہو جاتاہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے ’’ اتَّقُوا اللَّعّانَیۡنِ، قالوا: وَما اللَّعّانانِ یا رَسُولَ اللہِ؟ قالَ: الذی یَتَخَلّی فی طَرِیقِ النّاسِ، أَوۡ فی ظِلِّہِمۡ. (صحیح مسلم) ’’دو لعنت کے سبب بننے والے کاموں سے بچو، لوگوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایاجو لوگوں کے راستے اور ان کے سایہ دار جگہوں میں قضائے حاجت کرتا ہے‘‘۔لہذا اس طرح کی حرکتوں سے آس پڑوس میں رہنے والے افراد کو تکلیف نہیں دینی چاہیے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: واللہِ لا یؤمنُ، واللہ لا یؤمنُ، واللہ لا یؤمنُ، قیل: من یا رسولَ اللہِ؟ قال: الذی لا یأمنُ جارُہ بوائقَہ، قالوا: یا رسولَ اللہِ! وما بوائقُہ؟ قال: شرُّہ. (صحیح الترغیب) ’’اللہ کی قسم وہ کامل مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ کامل مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ کامل مومن نہیں، صحابہ نے دریافت کیا: کون یا رسول اللہ ﷺ؟ تو آپ نے فرمایا کہ جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو‘‘۔
خلاصۂ کلام
معزز قارئین! مندرجہ بالا نصوص سے آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ اسلام نے طہارت و پاکیزگی پر مسلمانوں کو ابھارا ہے اور ہر چیز کی صفائی ستھرائی کی طرف توجہ دلائی ہے، اس لیے روحانی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی اور ماحولیاتی پاکیزگی اور نفاست بھی مسلمانوں کے ایمان کا اہم جزئ ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ مسلمان قرآن و سنت سے دور ہوکر صفائی اور پاکیزگی سے دور ہوگئے ہیں، گندگی اور غلاظت مسلمانوں کے محلّوں کی شناخت بن کرر ہ گئی ہے، گھروں میں اور گھر کے باہر کوڑے کرکٹ کا انبار، ابلتی ہوئی نالیاں، گندگی میں لوٹتے ہوئے بچے، ایسے مناظر ہیں جو آپ کو ہر مسلم محلّے میں دیکھنے کو مل جائیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سماجی و فلاحی تنظیمیں اور دینی جماعتیں مسلمانوں میں صفائی ونفاست اور خوش سلیقگی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں اور قرآن و حدیث کے طرز پر ایک مثالی مسلم معاشرے کی تشکیل کو ممکن بنائیں۔
آج کے مسلم معاشرے میں عام طور پرصفائی وستھرائی کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ آپ صرف نماز کے قابل رہیں۔خواہ آپ کا جسم،کپڑے کتنے ہی گندے اور دھول،پسینہ اور مٹی میں اٹے ہوں،آپ کی گلی کوچے کچرے کے ڈھیر سے بدبو پھیلارہے ہوں،آپ کا گھر کنجر خانے کا نمونہ ہو۔
دین اسلام میں صفائی ستھرائی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔اس کے باجود ہمارے معاشرہ میں اس کاکچھ خاص اہتمام نہیں کیا جاتا۔تنبیہ کے باوجود بعض لوگوں کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا ہے کہ ان کے کپڑے یا گھر وغیرہ گندے یا غیر منظم ہیں۔ان میں بعض توایسے ہیں جو صفائی ستھرائی کے بہت زیادہ اہتمام کو دنیا داری سمجھتے ہوئے اسے فضول عمل تصور کرتے ہیں۔حالانکہ صفائی ستھرائی شخصیت کو مضبوط ومستحکم بنانے اور متعدد بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں نمایاں رول ادا کرتے ہیں۔اس کے علاوہ اس کے بے شمار دنیوی اور اخروی فوائد ہیں۔ہمیں اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر انیس الرحمن
گیسٹ فیکلٹی، شعبۂ اسلامک اسٹڈیز
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئدہلی
Email:anisurrahmanqasmi@gmail.com
موبائل: ۹۸۹۱۷۵۵۵۰۹
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

