کیفے میں کونے والی ٹیبل پر بیٹھا شخص،
ہونٹوں میں سگریٹ دبائے،
دھوئیں کے مرغولے بناتا ہوا جو اس کے گھنگھرالے بالوں سے مشابہ ہیں،
اس کے دوسرے ہاتھ میں بائیک کی چابی ہے
جسے انگلی سے گھما رہا ہے،
میں کب سے اسے دیکھ رہی ہوں۔۔۔!!
یہ اس کی تیسری سگریٹ ہے، شاید ابھی ایک دو اور پئے گا،
کیونکہ میں جانتی ہوں جب وہ پریشان ہوتا ہے
تو پانچ سات سگریٹ ایک ساتھ پی جاتا ہے،
حالانکہ اس نے کبھی میرے سامنے سگریٹ نہیں پی،
وہ جانتا تھا مجھے جتنا اس سے پیار ہے
اس سے کہیں زیادہ سگریٹ سے نفرت ہے۔۔۔؟؟
وہ میرا پہلا پیار تھا اور اس کا پہلا پیار سگریٹ۔۔
جسے وہ کبھی نہیں چھوڑ سکتا تھا
سو اس نے درمیان کا راستہ اختیار کیا،،،،
دس منٹ پہلے جو لڑکی اس کے بغل سے اٹھ کر گئی ہے،
وہ اپنی پرس سے سگریٹ کی ڈبی اور لائٹر نکال کر ٹیبل پر رکھ گئی ہے۔۔۔
مجھے انتظار ہے کہ وہ ” سگریٹ کا آخری کش۔۔۔۔” لے کر کیفے سے چلا جائے۔۔۔
تو میں اپنے جل کر خاک ہو چکے ارمانوں کی راکھ سمیٹ لوں۔۔۔!!!!
زیبا خان حنا
**********************************
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

