Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

یادِ ماضی،احساس زیاں اورشفیع جاوید کا متصوفانہ رویہ – ڈاکٹر محمد غالب نشتر 

by adbimiras نومبر 5, 2021
by adbimiras نومبر 5, 2021 0 comment

شفیع جاوید نے جب ہوش سنبھالا تو ترقی پسند تحریک کے عروج کا دور تھا،جب افسانہ نویسی کی ابتدا کی تو جدیدیت کا رجحان اردو افسانے میں فیشن کے طور پر برتا جارہا تھااور جب انھوں نے اپنا دبدبہ اردو افسانے پر قائم کیا تو عین اسی زمانے میں مابعد جدیدیت نے اپنی راہیں ہموار کرنی شروع کردی تھی۔گویا شفیع جاوید نے افسانے کے ساتھ اردو ادب کا تین مختلف دور دیکھا لیکن یہ سب ہوتے ہوئے بھی انھوں نے کسی بھی تحریک یا رجحان کی پیروی نہیں کی بلکہ اپنی الگ شناخت بنانے میں سرگرداں رہے البتہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ شفیع جاوید کا زیادہ رجحان جدیدیت کی طرف مائل تھا۔اس حوالے سے دو باتیں کہی جاسکتی ہیں۔ اول تو یہ کہ شفیع جاوید نے علامتی کہانیاں لکھیں تو ناقدین کی یہی رائے بنی کہ ان پر جدیدیت کا لیبل چسپاں کیا جائے اور دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے شمس الرحمن فاروقی نے اُن کی تعریف میں چند تعارفی کلمات کہہ دیے تو ہمارے ناقدین کا شک اس یقین میں بدل گیا کہ وہ [شفیع جاوید]ہو نہ ہو، فاروقی کے گروپ کے افسانہ نگار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایک ناقد کسی بھی فنکارپر مضمون لکھنے سے قبل سو بار سوچتا ہے کہ اُس پر لکھا جائے تو کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اگر جدیدیت کی بات چل نکلی ہے تو یہ بھی دریافت کرلیا جائے کہ جدیدیت کیا ہے؟جدیدیت دراصل ترقی پسند تحریک کی نفی کرتے ہوئے فرد کی داخلی کرب کا اظہار ہے۔ساتھ ہی خارجیت سے داخلیت،افراد سے فرد،شور وغل سے خاموشی اور بھیڑ سے تنہائی کی طرف بھی مراجعت ہے۔ اس رجحان نے  وجودیت کے علاوہ اشتراکیت اور فرائڈزم کے اثرات بھی قبول کیے ہیں۔اردو افسانے میں اچانک یہ تبدیلی رونما نہیں ہوئی بلکہ پچاس کی دہائی اور اس سے کچھ قبل سے ہی ایسے ہیئت و موضوعات آنے لگے تھے جو افسانے کی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔کرشن چندر کے ’’غالیچہ‘‘اور’’ایک اسرائیلی تصویر‘‘ احمد علی کے ’’قید خانہ‘‘،’’میرا کمرہ‘‘ اور ’’موت سے پہلے‘‘ایسے افسانے ہیں جس میں کافکا کی ’’دی ٹرائل‘‘ اور ’’دی کیسل‘‘ کی خصوصی تکنیک کے علاوہ علامتی عناصر بھی پائے جاتے ہیں۔ممتاز شیریں کا ’’میگھ ملہار‘‘اور منٹو کا افسانہ ’’پھندنے‘‘اس ضمن میں قابلِ ذکر ہیں۔ان افسانوں میں روایت سے بغاوت کا واضح رجحان ملتا ہے۔جس طرح سے پریم چند کے’’ کفن‘‘کو ترقی پسند کی بنیاد کہا جاتا ہے ٹھیک اُسی طرح منٹو کے ’’پھندنے‘‘کو جدیدیت کی بنیاد مانا جاتا ہے لیکن ۱۹۶۰ء تک آتے آتے جدیدیت کے نقوش پوری طرح واضح ہونے لگے۔’’شب خون‘‘،’’اوراق‘‘ ،’’آہنگ‘‘ اور اسی طرح کے دوسرے رسائل میں ایسی تخلیقات شائع ہونے لگی تھیںجن میں ابہام کا گمان ہونے لگا۔جدید افسانوں سے متعلق بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ جدیدیت کے دور میں اس صنف کی نمائش غلط طریقے سے ہوئی اور اس کی افہام و تفہیم سراب ہوگئی۔اس رجحان کے تحت لکھے گئے بعض افسانوں کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فن کار اپنی علمیت کو مخفی رکھنے اور دوسروں کے سامنے بر تر ثابت کرنے کے لیے ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جب کہ اُن کے افسانوںسے متعلق انہی سے دریافت کیا جائے تو شاید ہی اس کی تفہیم کو وہ ہمارے لیے حل کر سکیں۔جدیدیت کے ماہرین صرف اتنا ہی نہیں کہ وہ شرح نہیں کرتے بلکہ جو لوگ اُن کے شاہ کاروں کو نہیں سمجھ پاتے ،اُن پر طرح طرح کے فقرے بھی کستے رہتے ہیں۔فاروقی صاحب جدیدیت کے علم بردار ہیں،انھوں نے میر وغالب کے مشکل اشعار کی شرح کی ہے ۔کیا ہی خوب ہوتا کہ وہ تجریدی افسانوں کے معمے کو بھی حل کردیتے۔

جدیدیت ایک ایسا رجحان ہے جس کی کچھ زیادہ ہی مخالفت ہوئی۔بعض ناقدین نے اسے منفی رجحان قرار دیا تو بعضوں نے سرے سے ہی مسترد کر دیا۔اردو کی تمام اصناف میں صنفِ نظم اور صنفِ افسانہ پر یہ رجحان سب سے زیادہ اثر انداز ہوا۔دونوں ہی اصناف بیانیے کی صورتیں ہیں شاید اسی لیے ان اصناف پر شب خونی وار سب سے زیادہ ہوئے۔اگر صرف افسانوں کی بات کریں تو ناقدین نے صرف مواد کو بنیاد بنا کر اعتراضات کیے کیوں کہ اس کے مواد بعید از فہم تھے۔ایسے حالات میں ایک تازہ فنکار جسے اپنی شناخت قائم کرنی ہے،کیوں کر جدیدیت کے اس دلدل میں پھنس کر اپنی عاقبت خراب کرے گا۔شفیع جاوید اُن جینئس افسانہ نگاروں میں ہیں جنھیں اس بات کا تو اندازہ ضرور رہا ہوگا کہ ساٹھ کے عشرے میں ایسا اسلوب چنا جائے جو آگے چل کر اُن کے لیے نشان امتیاز ثابت ہو۔ایس ایم شفیع الدین [جو آگے چل کر شفیع جاوید کے نام سے معروف ہوئے]کا پہلا افسانہ ’’آرٹ اور تمباکو‘‘کے عنوان سے ۱۹۵۳ء میں شائع ہوا اور اُن کا انتقال ۱۲؍دسمبر ۲۰۱۹ء کو ہوا یعنی چھہ عشرے سے زیادہ پر محیط اُن کا یہ طویل سفر اس بات کی جانب اشارہ کررہا ہے کہ یقیناً انھوں نے اردو افسانے کی تاریخ میں ایسا نقش ضرور چھوڑا ہے جسے ادبی دنیا کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ شفیع جاوید کے تاہنوز پانچ افسانوی مجموعے’’دائرہ سے باہر‘‘[۱۹۷۹ء]،’’کھلی جو آنکھ‘‘ [۱۹۸۲ء]، ’’تعریف اس خدا کی‘‘[۱۹۸۴ء]،’’رات،شہر اور میں‘‘[۲۰۰۴ء] اور ’’بادبان کے ٹکڑے‘‘ [۲۰۱۳ء]اشاعت سے ہمکنار ہوکر داد تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ساتھ ہی ان کے چند افسانے غیر مطبوعہ بھی ہیں۔گویا انھوں نے سوچ سمجھ کر اور ٹھہراؤ کے ساتھ افسانے لکھے اور اس کام کو عبادت سمجھ کر اس طرح سے ادا کیا کہ فرض کی ادئیگی میںکوئی کسر باقی نہ رہے۔

شفیع جاوید نے جس عہد میں افسانہ لکھنے کی ابتدا کی،وہ ترقی پسندی اور جدیدیت کی روایت کے انجام و آغاز کا دور تھا۔ایسے حالات میں انھوں نے کسی بھی طور پر یہ غلطی نہیں کی کہ ایک کو چھوڑ کو دوسرے کو اپنایا جائے بلکہ مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ دونوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی الگ روایت قائم کی جائے۔یہی شفیع جاوید نے کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند ایسے افسانے ابتدائی دور میں شائع ہوئے جو بحث کا موضوع بھی بنے۔مثال کے طور پر ’ایپی ٹاف‘کو ہی لیں۔اس میں انھوں نے نئی طرز زندگی اور طرز احساس کا پرانی اقدار سے موازنہ کیا ہے۔ ایسی زندگی جہاں مشینوں پر انسانوں نے بھروسا کیا ہوا ہے ۔ افسانہ کا ایک کردار کمال نئی زندگی کو صحیح طور پر جینے کی جستجو میں اور شکم کی آگ لیے شہر بہ شہر گھوم رہا ہے اور کہیں بھی اُسے راحت میسر نہیں۔ اس کے علاوہ راوی کا دوست اقبال بٹوارے کے بعد پاکستان میں سکونت پذیر ہے۔ وہ اپنی زمین سے اکھڑنے کے غم میں گرفتار ہے۔نئے ملک میں جانے کے بعد بھی اُسے سکون نہیں ہے بلکہ اُن کا لڑکا منّا امریکہ سے واپس آکر اپنے ہی شہر میں الگ رہتا ہے اور اسے پرانی قدروں کا کوئی احساس نہیں ہے۔ اسی بات کو راوی کچھ اس انداز میں بیان کرتاہے :

’’بے چارے اقبال بھائی ۔؍بے چار منّا۔؍اور بے چارہ میں -جو حاشیے کی چاک پر چک پھیریاں کھارہا ہے ۔ وہ دونوں ٹوکیو میں ہوتے، نیو یارک میں ہوتے، ماسکو میں ہوتے یا فرض کیجیے کہ جہنم ہی میںہوتے تو جاکر اور دونوں کو سمجھا بجھا کر کم از کم اپنی طرح حاشیے پر تو لے آتا لیکن -لیکن شاید وہ تو پیچھے رہ گیا ہے ۔‘‘

اس افسانے میں انھوں نے یہ باتے کی کوشش کی ہے کہ اس پوری نسل کاالمیہ یہ ہے کہ وہ ایک خاص ہدف کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ زمین بھاگی چلی جارہی ہے اور سرحدیں پیچھے چھوٹ رہی ہیں، شاہد رہ کے آگے دلی، دلی کے آگے کراچی اور کراچی سے کیفلورنیا-یعنی کسی چیز کاحاصل نہیں ہے اور کوئی بھی شے لافانی نہیں ہے بلکہ تمام لوگ ایک خاص ہدف کے پیچھے بھاگ رہے اور ایسے میں ان کی پرانی قدریں چھوٹتی چلی جارہی ہیں اور اسی قدر کا احساس شفیع جاوید کو سب سے زیادہ ہے۔

شفیع جاوید اپنے افسانوں میں کبھی کرداروں کو خاص اہمیت دیتے ہوئے اُسی کے نام پر افسانے کانام بھی تجویز کرتے ہیں۔’’ اینگل لے ای‘‘ ایسا ہی افسانہ ہے جس میں راوی اور اینگل منی پور کے علاقے میں کسی چوٹی میں پگڈنڈیوں کے سہارے چڑھتے ہیں لیکن اس چوٹی کے بعد کیا ہے یا کون سی وادی ہے، کسی کو بھی اندازہ نہیںہوتا کیوں کہ وہاں کے لوگو ں میں کوئی ایسا نہیں ہے جو یہ نہیں جانتا کہ اُس چوٹی کے آخری سر ے پر کیا ہے۔اگرکوئی شخص یہ دریافت بھی کرلیتا ہے تو لوگ اس کی زبان سمجھنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ راوی اور دوسراکردار جب وہاں کی سچائی بتانے کی کوشش کرتے ہیں تو کوئی بھی سمجھ نہیںپاتا ہے کیوں کہ سچ کی زبان تیکھی ہوتی ہے اور سچ ہمیشہ آگے نکل جاتا ہے اور زبان پیچھے رہ جاتی ہے۔ گویا اس افسانے میں افسانہ نگار نے’’سچ ‘‘ کو بنیاد بناکر اس کے نقاب کو ہٹانے کی کوشش کی ہے کہ جب سماج میںکوئی سچ بولتا ہے تو لوگ اس کی زبان سمجھنے سے قاصر ہو تے ہیں۔اسی طرح افسانہ ’’ روشنی کے لیے‘‘ ایک خاص ذہنی کیفیت کو واضح کرتاہے۔ جہاں ایک طرف انھوں نے مزارات کے خاص مناظر کو پیش کیا ہے وہیں دوسری طرف موضوع سے الگ اعلافن کاری کانمونہ بھی پیش کیا ہے ۔ تفکر کے ساتھ جب شعری اسلوب کی آمیزش ہوجائے تو وہ تفکر خشک اور سپاٹ نہیں رہتا بلکہ ہمیں رفتہ رفتہ اپنے سحر میں لے لیتا ہے اور درد کی تہوں میں دبے ہوئے افکار دھیرے دھیرے ابھرنے لگتے ہیں۔ اس افسانہ کی قرأت کے بعد کہاجاسکتا ہے کہ شفیع جاوید کے افسانوں میں ایک خاص معیار کے ساتھ ادبیت کاموجود ہونا انھیں خاص شناخت کا مستحق ثابت کرتاہے۔ خالص ادبی زبان اور ادبی ماحول ،فن اور فن کاری پر اظہار خیال، فنون لطیفہ پر گہری نظر، یہ تمام خصائص شفیع جاوید کے افسانوں میں اکثر جگہوں پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ بہ قول لطف الرحمن:

شفیع جاوید مسلسل اپنی ذات کے عرفان کی کوششوں میں مصروف رہے ہیں جس کے لیے انھوں نے تخلیقی زندگی کو وسیلہ بنایا ہے مگر رسم ورہِ عام سے ہٹ کر نئی رہ گزر کی تلاش نے ان کو دور فہم تو نہیں دیر فہم ضروربنادیا ہے‘‘۔

پہلے مجموعے تک آتے آتے شفیع جاوید اپنی شناخت بنانے میں سرگرم نظر آتے ہیں اور اُن کی شناخت ادبی حلقوں میں بنتی جاتی ہے۔کوئی افسانہ نگار جب پہلا مجموعہ لے کر ادبی دنیا میں داخل ہوتا ہے تو اُس پر بزرگ ناقدین کی نگاہ اور توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔بہت کم ایسے افسانہ نگار ہوتے ہیں جو ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے اپنی ادبی شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور افسانوی دنیا اُسے قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ساٹھ کے عشرے میں شفیع جاوید کا شمار انہی فنکاروں میں ہونے لگا تھا کہ وہ اپنی فنی مہارت کا ثبوت پیش کریں اور اپنی حیثیت قائم کریں۔ دوسرے مجموعے کے افسانوں کا مزاج پہلے مجموعے سے قدرے مختلف ہے۔یہاں تک آتے آتے ان کا بیانیہ Narrationسادہ اور شفاف ہوگیا تھا جس کی واضح مثال دوسرے مجموعے کا پہلا ہی افسانہ ہے۔میری مراد’میری روٹیاں‘سے ہے۔چند دبیز علامات کا استعمال کرکے شاید شفیع جاوید کو اندازہ ہوچلا تھا کہ علامات کو بروئے کار لانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ باتیں عام فہم کہی جائیں اور چند نکات قاری پر چھوڑ دیا جاے اور یہی اس افسانے کا اصل مقصدہے کہ شفیع جاوید نے سماجی حقیقت کی نقاب کشائی تو کردی لیکن اس کا انجام قاری پر چھوڑدیا کہ وکیل کیا سوچتا ہے اور ملزم اس کا جواب کس طرح سے دیتا ہے۔ افسانہ کے اختتام پر وکیل ملزم سے پوچھتا ہے کہ ’’اس کی روٹیاں تم نے کیوں لوٹیں؟‘‘ تو ملزم جواب دیتا ہے کہ ’’ اس لیے کہ میری روٹیاں اس کے پاس تھیں‘‘ ۔ وکیل ثبوت طلب کرتا ہے لیکن اُسے ملزم کی باتیں بے بنیاد معلوم ہوتی ہیں۔ افسانہ کے شروع میں دو لوگوں میں باتیں ہوتی ہیں، اقتباس ملاحظہ ہو:

’’بھائی مجھے بھی ایک روٹی دے دو ‘‘ ؍چل آگے، بھاگ یہاں سے ۔ کہتے ہوئے وہ جو روغنی روٹی اور مسالہ دار سالن کھارہاتھا ، اس نے اپنی پلیٹوں کو اور نزدیک سرکایا۔ ؍بہت بھوک لگی ہے ۔ بس ایک روٹی دے دو سیٹھ۔ ؍دورر ہو، ورنہ ماردوں گا تجھے ۔؍سیٹھ بھائی کے کم سے کم آدمی روٹی دے دو پھر مار لینا ۔ میں بڑا بھوکا ہوں۔؍چلتا ہے یہاں سے یا بلائوں پولیس کو –کھانے والے نے جلدی جلدی منہ چلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ ؍پولیس بھی بلا لو لیکن روٹی کا بس ایک ٹکڑا دے دو۔؍حرام زادہ کہیں کا۔ مارتے مارتے بے حال کردوں گا۔ سالے نے کھانا حرام کردیا۔ کھانے والے نے حد درجہ بدمزہ ہوکر اپنی پیٹھ مانگنے والے کی طرف گھما لی ۔‘‘

جب یہ بات مصنف کے پاس پہنچتی ہے تو وہ اپنی بات کا معقول جواز پیش کرتا ہے ۔ وکیل مصنف سے مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے۔’’یور آنر ! یہ کتنی بے بنیاد بات ہے ، وہ روٹیاں تو اس آدمی کی تھیں جسے اس نے چھین لیا، چاقو دکھا کر اور جان مارنے کی کوشش کرکے ، مجرم کا یہ بیان سو فیصد جھوٹ ہے کہ مدعا الیہ کی روٹیاں مدعی کے پاس تھیں ۔ ملزم سوال کرتا ہے ، اگر میری روٹیاں اس کے پاس نہیں تھیں تو پھر کہاں گئیں؟ کون لوٹ لے گیا انھیں؟ وکیل کہتا ہے ، یہ تم اپنی تقدیر اور خدا سے پوچھو لیکن ملزم کہتا ہے میں تم سے پوچھتا ہوں بتاؤ میری روٹیاں کہاں ہیں؟ اس طرح سے افسانہ ختم ہوجاتا ہے۔ پورے افسانہ کا لب لباب یہ ہے کہ افسانہ نگار نے غربت کو واضح کرنے کے لیے دور کی کوڑی بیان کی ہے اور اس کا بیانیہ ، دوسرے افسانوں سے بالکل الگ ہے۔

عرض یہ ہے کہ شفیع جاوید کی اصل پہچان یادِ ماضی کے حوالے سے زیادہ ہے،دوسرے حوالے سے کم۔دوسرے مجموعے میں افسانہ ’’شکست‘‘ اور ’’غزالاں تم تو واقف ہو‘‘ ماضی کی یادوں پرمشتمل افسانے ہیں۔ مذکورہ پہلے افسانے میں لفٹننٹ ٹھاکر گلاب سنگھ کاماضی اُسے تنہا زندگی جینے پر مجبور کررہا ہے تو دوسرے افسانے میں ایک ایسا کردار ہے جو اپنا وطن چھوڑ کر کہیں دور دیس میں بس گیا ہے ۔ ایک طویل مدت کے بعد جب اپنے بھتیجے کے ہمراہ حقیقی وطن واپس آتا ہے تو ایسا محسوس کرتا ہے کہ دنیا کتنی بدل گئی ہے ، جب محلے کے لوگ اُن سے ملنے آتے ہیں تو چوں کہ وہ نئی نسل سے اُن کی پہچان نہ تھی ، اس لیے کسی کو بھی پہچاننے سے قاصر ہوتے ہیں ۔ سب سے پہلے وہ پوسٹ آفس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو وہاں پوسٹ آفس موجود نہیں ہوتا ہے اور کہیں دور جگہ پر جی پی او کے نام سے بدل گیا ہے ، اس کے علاوہ وہ قبرستان جاکر فاتحہ پڑھنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں تو بھتیجا کہتا ہے کہ قبرستان بھی اس جگہ پر نہیں ہے جہاں ہوا کرتا تھا تو وہ بس ایک ہی نصیحت کرتے ہیں کہ ’’بیٹا خود کو سمیٹ کر رکھنا‘‘ اسی میں تمام خوبیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح افسانہ’’ مورکھ میں جنم گنوائیوں‘‘ اسی موضوع پر لکھا گیاہے۔ کمال کا دوست کمار بیس سالوں سے بیرون میں آسائش کی زندگی گزار رہا ہے لیکن جب وہ اپنے دوست کے گھر انڈیا واپس آتا ہے تو فطری آب وہوا ، رات میں چاند تاروں سے باتیں کرنا، شبنم بھیگی گھاس پر چلنا اور بے تکلف ہوکر دوست سے ساری راتیں باتیں کرنا اُس کے لیے غیر معمولی ہے کیوںکہ وہ مادہ پرست ہے اور بیس سال کے طویل عرصے میں صرف پیسے کمانے کے چکر میں بھاگتا رہا ہے اور اس سے اس بات کا شدید احساس ہے کہ جس دن سے اس کا رشتہ زمین سے جڑا ، اسی دن سے وہ خرابے میں تبدیل ہوگئے ، نہ زمین چھوٹی اور نہ ہی قوت کشش ۔ وہ یعنی کمار جذباتی ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ :

’’دیکھو نا !میرا بھی رشتہ تو زمین ہی سے تھا مستراز اس پر روایت بھی تھی اور کلچر بھی تھا، تم تو صرف زمین کا درد لے کر چلے گئے اور ساحل سے طوفان کو دیکھا کیے لیکن میں تو پورے بیس سالوں سے گرداب میں ہوں ، نہ ڈوبتا ہوں نہ ابھرتا ہوں، نوکری کی ، بزنس بھی کیا، فری لانسنگ بھی کی ، کچھ دوستوں نے کوٹہ ، لائسنس اور سیاست کی رائے بھی دی لیکن دل جو ہمیشہ کا کمزور تھا لرز کر رہ گیا ۔ اس لیے گزر بسر کا اندازہ دیکھ ہی رہے ہو اور تِس پہ بکھرا ہوا وقت ، آج تک ریزوں کو اکٹھا نہ کرسکا۔ تمہاری طرح جب کبھی ذرا سکون پایا تو ویسی ہی خوشبو ایسا ڈستی ہے کہ سب کچھ درہم برہم ہوجاتا ہے ۔ ‘‘

بس افسانے میں کمار جلاوطنی کاشکار ہے تو کمال اپنے ہی ملک میں اجنبیت کی زندگی گزاررہا ہے ۔ اس کا خیال ہے کہ ملازمت اگر نہیں ہے ، روزگار نہیں ہے یا پیسے نہیں ہیں تو اس کی زندگی اجیرن ہوجاتی ۔ جہاں روشنی اور تاریکی کاادغام ہوتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے متضاد ہوتے ہیں اس لیے اگر اجنبیت نہیں ہے تو بے روزگاری ہے اور بے روزگاری ہے تو اجنبیت نہیں ہے اور یہی اس افسانے کاماحصل ہے ۔ اسی طرح ’’غبار کارواں‘‘ Nostelgiaیا یاد ماضی کا افسانہ ہے۔ انتظار حسین اِس موضوع پر یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ ان کے بیشتر افسانوں میں یہ عمل حاوی ہے۔ شفیع جاوید کے اس افسانہ میں شاہد احمد ،اپنے گھروالوں کی حالت دیکھ کر ، گلف میں نوکری کرنے چلاگیاتھا۔ والد نے سمجھایا کہ بیٹاآم کے قلم ہر مٹی میں نہیں لگتے لیکن شاہد احمد نے اپنی ضد کے آگے کسی کی نہ مانی ۔ گلف سے واپسی کے بعد اُس نے اپنی مرضی سے شادی کی اور بہت بڑے بزنس کا مالک بن بیٹھا جب کہ اُسے ہمیشہ صدر گلی کا وہ کھپریل کامکان یاد آتا جہاں برسات کے دنوں میں پانی بوند بوند ٹپکتا تھا اور گیلی مٹی کے فرش پر وہ کئی بار پھسل کرگراتھا ، اس برآمدہ کو پختہ کرانے کے لیے اس کے دادا نے بھی کوشش کی ، اس کے والدین نے بھی اور خود اُس نے بھی لیکن تین پشتیں اسے بنانے میں ناکام رہی تھیں۔ کسی میگزین کے اشتہار میں اس نے اپنے ابّا کی تصویر دیکھی اور پتا دیکھ کر ممبئی کی راہ لی جہاں اُس کا باپ اور ایک پاگل بیٹی بھیک مانگا کرتی تھی لیکن باپ نے اُسے پہچاننے سے صاف انکار کر دیا اور شاہد احمد وہیں بیٹھ کر روتا رہا—ایسے حالات میں کسی باپ کے لیے ، اپنے بیٹے کو پہچان کر انجان بننا کتنا صبرآزما ہوگا۔ یہ افسانہ نگار کاکمال ہے کہ انھوں نے یاد ماضی کے حوالے عمدہ موضوع کا انتخاب کیا ہے۔

اس طرح افسانہ ’’حکایت ناتمام‘‘ تقسیم ہند کا المیہ ،نئی صدی میں اقلیتوں کے مسائل اور تشدّد کی روداد بیان کرتا ہے جہاں ایک کردار اتنا ضعیف ہوچکا ہے کہ وہ ان مقامات کی سیر کرنا چاہتا ہے جہاں کسی زمانے میں اُس کے رشتے دار رہاکرتے تھے، اپنی موت سے قبل اس کے اندر خواہش جاگتی ہے وہاں جاکر آزادی سے قبل اور بعد کے ماحول کا جائزہ لے اور قلبی سکون حاصل کرے۔ وہاں اُس نے دیکھا کہ سڑک کے اُس پار ایک مسجد ہے۔ باہر سے حلیہ مسجد والانہ تھا لیکن اوپرکی منزل کی سیڑھیاں جہاں سے شروع ہوتی تھیں، وہاں اردو میں بڑے بڑے حروف میں لکھاتھا— مسجد پرانی کچہری والی– – اور نیچے نظر گئی تو لکھا تھا — بھوجنالیہ — جہاں دیوی دیوتاؤں کی بڑی بڑی تصویریں آویزاں تھیں اور اس وقت اُس کے ذہن میں دو لفظ تیزی سے کوندگئے۔ تقسیم اورCo-Existenceساتھ ہی اس وقت پچھلے جمعہ کا واقعہ یاد آگیا جب کھلی صحن میں ان لوگوں نے نماز پڑھی تھی ۔ اونچی سی قبر کے پاس زمین پر کچھ چادریں اور صفیں بچھادی گئی تھیں۔ ایک نئے پیپل کے درخت کے سایے میں ، ایک عرصے کے بعد اس نے اذان کی آواز سنی— نماز کے بعد معلوم ہوا کہ روپے پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ زمین بھی وقت نے الاٹ کردیا ہے لیکن نوکرشاہی مسجد بنانے کی اجازت نہیں دیتی جب کہ افسر کو معلوم ہے کہ مسجد کی ضرورت ہے اور تمام سہولیات موجود ہیں لیکن حکومت اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ افسانہ مکمل نفسیاتی ہے جس میں ایک اقلیتی ضعیف شخص خود کلامی کاشکار ہے اور وہ اندر سے ٹوٹ رہا ہے کیوں کہ اس کاماضی اُسے کچوکے لگا رہاہے اور یہ احساس دلارہا ہے کہ تمہاری شناخت کیا تھی اور اب حالت کیا ہوگئی ہے گویا اسی احساسات کا نوحہ اس افسانے کاخاصا ہے۔اسی طرح ’وہ ایک رات ‘ بازیافت کا افسانہ ہے ۔ کہانی رقص وسرور سے شروع ہوکر حزن و ملال پر ختم ہوتی ہے۔ راوی ایک ایسی محفل میں پہنچتا ہے جہاں پچاس کے لپیٹے کی عورت اپنے رقص میں مگن ہے، اسے یہ بالکل بھی احساس نہیں کہ ناظرین کی تعداد بھی ہے۔ وہ رقاصہ نیم عریاں اور جسم وجاں کی تلاش میں سرگرداں ہے، اسے اپنی بازیافت کے عمل سے گزرنا ہے لیکن راوی اس رات عجیب وغریب خواب دیکھتا ہے جہاں وہ خود اس عمل سے گزرنے کے درپے ہے۔ اس کا محبوب کہتا ہے کہ تم ٹھیک ہی کہتے ہو کہ سمبندھوں کا سکھ تیاگ میں ہے لیکن ہرندی کا یہ خواب ہوتا ہے کہ وہ سمندر جھولے، الوپ ہوجائے اس وسعت میں، کیا بتاؤں تمہارے بغیر میری کوئی گتی نہیں۔ میری کوئی متی نہیں۔ میری وَشا اور دِشا سب کھوجاتی ہیں جادو۔ کسی اور جاؤں کچھ سمجھ میں نہیں آتا ۔’’اب راوی کو بیس سال پرانی بات یاد آنے لگی ہے ، وہ سب کچھ سمجھتے ہوئے اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ الہ آباد میں اس کا محبوب ہے اور اس کی یاد داشت واپس آنے لگتی ہے۔

افسانہ ’’کھلی جوآنکھ‘‘ ایک ایسے شخص کے پاس آئی شکایتیں اور التجائیں ہیں جو یہ بات جانتے ہیں کہ اس شخص کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل نہیں کیوں کہ جس سے وہ اپنا غم شیئر کررہے ہیں، وہ خود بے سلیقگی کا شکار ہے ، اس کی زندگی میں اتھل پتھل ہے اور سکون کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے ۔ لیلیٰ کے خطوط اورمجنوں کی ڈائری میں جس طرح سے خط کی تکنیک اپنا کر پورا قصہ بیان کیا گیا ہے ، ٹھیک اسی طرح اس افسانے میں یہی تکنیک ہے لیکن یہاں راوی کے پاس دوستوں کے خطوط آتے ہیں جو دور دیس میں بسے ہیں ، مگر اُن کا جی کسی بھی حال میں نہیں لگتا اور سب کا بنیادی محور وہ سکون ہے جو حاصل نہیں ہے ۔ مرزا غالب کے بہ قول’’ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ‘‘—والی بات ہے ۔ راوی پہلا خط پڑھنا شروع کرتا ہے جو ایسے شخص کا ہے جو ادیب ہے اور دفتری زندگی کو آخری سلام اس لیے کرتا ہے کہ یونی ورسٹی کی فضا میں کچھ تخلیقی کام کر سکے گا، دانشوری کو جلاملے گی لیکن وہاں گھٹن ہے ۔ وہاں ہر آدمی ایک دوسرے کی لاش کا پُل بناکر گزرنا چاہتا ہے۔ اسی طرح دوسرا دوست یونی ورسٹی کی فضا سے پریشان ہے جہاں ہر دو گھنٹے پر ایک نہ ایک پیروی کا آنا ضروری ہے تو ایک خط میں ادیب دوست کی یہ شکایت ہے کہ معیاری رسالوں کی تعداد خوفناک حد تک کم ہوتی جارہی ہے۔ مجموعی طورپر دیکھا جائے تو یہ افسانہ انسان کے ایسے حالات کابیان ہے ۔ ان کی افسانہ نویسی کے حوالے سے لطف الرحمن رقم طراز ہیں:

’’شفیع جاوید زندگی کی اس بے ضاعتی اور بے قیمتی کے شعور کے باوصف اپنی انفرادی شخصیت وداخلیت سے کبھی دست بردار نہیں ہوئے بلکہ کامیوں کی طرح انھوں نے اپنی معنویت کی تلاش کو اہمیت دی اور سی سی فس Sisyphusکی طرح عمل اور مسلسل عمل کو اپنا مطمح نظر بنایا۔

سچ اور جھوٹ کا رزم نامہ ابد سے ہے اور ازل تک یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا۔ کچھ لوگ سچ کا سہارا لے کر اپنی زندگی وقف کردیتے ہیں تو اکثریت ایسوں کی ہے جو دروغ گوئی کو اصل خیال تصور کرتے ہیں ۔ افسانہ ’’ سچ یہ ہے‘‘کا ہیرو ایسی زمین ، ایسے لوگ اور ایسے معاشرے میں پھنسا ہوا ہے جہاں لوگ بزنس کے طور پر جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کی ملاقات زندگی کے نشیب وفراز میں ایسے ہی لوگوں سے ہوئی ہے جہاں اس کے ساتھ جھوٹ بولاتو اس نے بھی موقع کو غنیمت جان کر اُن کے ساتھ بد دیانتی کی ۔ اُسے اس کا بات کا احساس ہے کہ وہ شرمسار ہے ہے خود کلامی Manologueکی کیفیت میں بول اٹھتا ہے’’وقار میں مطمئن ہوں،بالکل مطمئن کیوں کہ میں نے صرف وہی کچھ کیا ہے جو آج کے لیے بے حد ضروری ہے ، میں نے ویسے ہی جھوٹ بولے ہیں جو بیسویں صدی کی ساتویں دہائی کے لیے ناگزیر تھے ۔ ویسے ہی وعدے کیے ہیں جیسا دوسروں نے چاہا تھا اور پورے طور سے ویسی ہی غلطیاں کی ہیں جن پر آج کا آدمی فخر کرتا ہے ۔ مجھے اپنے آپ پر فخر ہے، وقت میرے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی زمانے کی نااہلی، بدعنوانی سے بدظن ہوکر وہ بھی زمانے کا ساتھ دیتا ہے اور اسی ماحول میں رچ بس جاتا ہے ، یہی اس کردار کی بنیادی شناخت ہے ۔

شفیع جاوید کے افسانے دوسرے مجموعے تک آتے آتے بیانیہ کے لحاظ سے اور تکنیکی لحاظ سے کافی توانا دکھائی دینے لگتے ہیں۔سابقہ دو عشرے میں انھوں نے کئی اہم اور تازہ موضوعات پر افسانے خلق کیے لیکن تصوف اور یادِ ماضی ہی اُن کے افسانوں کا بنیادی حوالہ بنا۔تہہ دار بیانیے کے لحاظ سے ’’غم آروز ‘‘ تہہ دار بیانیے کی عمدہ مثال ہے جس میں نہ علائم ہیں اور نہ ہی تجریدیت کی بیزاری ۔ بلکہ ان کے علامتی افسانوںمیں یہ بات ضرور شامل ہوتی ہے کہ وہ کسی ایک خیال ، سانحہ یا واقعہ کا وقوعہ ہوتا ہے اور یہ افسانہ محبت اور نفرت کا بہترین بیانیہ ہے ۔ اس افسانے میں ڈاکٹر کمل اور اس کی دھرم پتنی کو پتا کی ازدواجی کا عروج وزوال رقم ہے۔ ڈاکٹر کمل ایک کامیاب اور مصروف ترین ڈاکٹر ہے جسے اپنے پیشے سے بے حد محبت ہے اور اس کی بیوی کو پتا کو اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ کمل وقت نہیں دیتا اور اس کی زندگی ایک بنجر زمین کی سی ہوگئی ہے ۔وہ جب بھی دوست کے ہاں دعوت میں جاتی ہے تو تنہا ہی جاتی ہے کیوں کہ کمل علاج ومعالجے میں اکثر مصروف ہوتا ہے ۔ اسی اثنا جب وہ بھیگ کے کہیں سے آرہی ہوتی ہے تو ایک شخص اپنا رین کوٹ اُسے دے کر چلاجاتا ہے۔ بعد میں اُسی شخص سے ملاقات کسی یعنی ورشا کی پارٹی میں ہوتی ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک معروف افسانہ کار اور ایک رسالہ ’’درپن‘‘ کا مدیر ہے۔کویتا ، اس لاابالی پن کاجواز پوچھتی ہے تو کمار گویا ہوتا ہے ـ:

’’وہ میرا لا ابالی پن نہیں تھا ۔ میں بہت جلدی میں تھا ۔ اُسی رات ایک کانفرنس کے لیے روانہ ہونا تھا ۔ پھر ہماری سمتیں مختلف تھیں اور مجھ سے زیادہ آپ کو ضرورت تھی ۔ ایسا میں نے محسوس کیا ۔ ان باتوں کو دھیان میں رکھیے تو میرا فوراًہی وہاں سے چل دینا عجیب نہ معلوم ہوگا۔ پھر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انجانے طور پر ہی کسی کو کچھ دے کر آگے چل دینے پر انسان مجبور ہوجاتا ہے ۔‘‘

اس کے بعد دونوں میں قربتیں بڑھتی گئیں اور جب کویتا ، کمار کے کاٹج میںجاتی تو اپنے شوہر کمل کو یاد کرتی ۔ شروع جنوری کی اداس شام کو جب افق کا آنچل سانجھ کی سلگ اٹھتا تو نہ جانے کیوں کمار کی موجود گی میں کمل کی غیر موجودگی کچھ زیادہ ستانے لگتی اور اداسی کی وجہ پوچھنے پر بتاتی کہ مجھے اب اُس گھر میں بھی لوٹنا ہے جہاں کبھی یہ نہیں پوچھتا کہ صبح کو تمہارے تکیے کاغلاف کیوں بھیگا ہوا ہے۔ ایک بار جب کمار، کویتا کے گھر میں باتیں کررہا تھا تو اچانک ڈاکٹر کمل نمودار ہوئے اور کمار سے کہا کہ میں وقت نکال کر آپ سے ملنے آیا ہوں اور دونوں میں تلخ کلامی بھی ہوئی اور ڈاکٹر کے دل میں ایک بات گھر کر گئی جب کمار نے کہا کہ ’’ چند لمحات کہاں ہیں، اگر آپ کو اعتراض نہ ہوتو میں اپنا جیون بتا کر ارپن کردوں‘‘۔اس کے بعد میاں بیوی کی کشیدگی بڑھتی چلی گئی اور سرد دنوں میں آدسی باسی علاقوں میں اُن کی خدمت کرنے چلاگیا اور کویتا کو احساس ہوا کہ اسی نے کمل کو بن باس دے دیا ہے اور اسی کے کارن وہ بھٹک رہا ہے کہ اچانک سرد دن میں ڈاکٹر کی بے جان لاش گھر میں لوگوں کے سہارے آئی ۔ کمار نے آگ دی اور کمل جل کر خاک ہوا ۔ اب کمار کی خواہش تھی کہ وہ کویتا کو ساتھ رکھ لے لیکن کویتا نے اُسے دھتکار دیا اور اس بے آب وگیاہ میں ڈاکٹر کمل کی یادوں کے سہارے جینے کی قسم کھائی ۔ افسانہ نگار نے اس افسانے میں عورت کی نفسیات کو دکھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ دو مردوں کے دوران کوئی اہم فیصلہ نہیں کرپاتی اور نتیجتاً دونوں ہی مرد اُس کی زندگی سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں یا ایسے حالات بن جاتے ہیں کہ وہ خود بہ خود اپنی ذات سے نفرت کرنے لگے۔ یہاں بھی ایسا ہی کچھ ہے۔ کویتا کی آنکھوں میں چتاکی آگ سلگ رہی تھی جب کمار پہاڑی پگڈنڈیوں کے ایک اندھے چکّر پر گم ہوگیا تو کویتا بے جان سی ہوکر بستر پر گر گئی اور تنہا اُس کامقدّر بن گئی۔

شفیع جاوید نے اپنے افسانوں میں انسان کی سفاکی ، غیر جانب داری اور کسی شخصیت کے دونوں پرتوں کو دیکھنے اور دکھانے کی سعی کی ہے۔ افسانہ ’’موم کی تعبیر‘‘ ایک ایسی شاعرہ کی داستان حیات ہے جس کے مختلف روپ ہیں۔ پہلی نظر میں کوئی شخص اُسے دیکھ کر اُس کا قائل ہوجاتا ہے تو اگلی ملاقات میں اس کی شخصیت کی کئی پرتیں سامنے ہونے لگتی ہیں۔ اس کا نام تو کچھ اور ہے لیکن شادابؔ تخلص کرتی ہے اور شاداںؔ کی شاگردی بھی اختیار کی ہے۔ کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ پاک دامن اور نفیس عورت ہے تو اگلی ہی ملاقات میں کسی کے ساتھ رات گزارنے کا واقعہ سامنے آتا ہے ۔ کبھی وہ جسبیر سنگھ کے ساتھ گنگا اشنان کررہی ہوتی ہے تو کبھی کسی کے ساتھ سگریٹ کے مرغولے اڑا رہی ہوتی ہے الغرض اس کی شخصیت حیران کن ہے اور افسانہ نگار نے ایک شخص کے اندر کئی خوبیوں اورصلاحیتوں کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔

سابقہ دونوں مجموعوں کے افسانوں کی قرأت کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ شفیع جاوید کے افسانوں میں پلاٹ کا وہ روایتی تصور کار فرما نہیں ہوتا جو آزادی سے قبل یا جدیدیت سے قبل افسانہ نگاروں کی شناخت کاخاصہ تھا بلکہ ان کے ہاں واردات وتجربات کی باز آبادکاری کو ترجیحی اہمیت دینے کی وجہ سے ان کے ہاں پلاٹ کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے اور تفکّر کو تقدم حاصل ہوجاتا ہے ۔ داخلی تنہائی پسندی ، آزاد ضمیر اور فنکارانہ سچائی انھیں ماضی کی گہری کھائیوں میں لے جاتا ہے اور ان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انسان کی حیثیت کیا ہے اور وہ کیوں کر اصل طیب کا بارگراں اٹھا نا ہر فنکار کا بنیادی فریضہ ہے جس کے لیے داخلی صداقت، جمالیاتی محویت اور آزادیٔ ضمیر لازمی جز ہے۔ تیسرے مجموعے کا پہلا افسانہ ’ٹائٹل افسانہ ‘ ہے جس میں ’’الصمت حکمہٌ‘‘کے مقولے کو علامتی اور حکایتی انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔ افسانہ تو ایک بزرگ حضرت چپ شاہ کی ہے لیکن اس کے پس پشت حضرت کی زندگی کو بچپن سے بیان کیا ہے ۔ وہ بچپن میں بہت سوالات کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے ماںباپ اکثر عاجز آجاتے۔ جب بچہ سن بلوغت کو پہنچا تو ایک فقیر کو گھر کے اندر لے آیا اور اس کے باپ نے دونوں کی خوب مرمت کی اور ماں کو تنبیہ کی کہ اس کی حرکتوں سے ہوشیار رہے کہ غفلت میں یا تو یہ لڑکا ان لوگوں کی جان تلف کروائے گا یا گھر لٹوائے گا—اس کے بعد اس کے ماںباپ نے اُسے بولنے سے سختی سے منع کیا۔ جہاں وہ کچھ بولتا تو ماں باپ جھڑک دیتے کہ اب اگر اس کے سوالوں کا سلسلہ دراز چلے گا، اس لیے وہ اکثر گھر میں چپ چاپ بیٹھا درختوں کو دیکھا کرتا ۔ اس کے بعد اس کے باپ نے مکتب میں داخلے کی ٹھان لی اور مفتی کے پاس لے گیا کہ وہ اپنے شاگردوں میں شامل کر لے۔ مفتی کے پوچھنے پر کہ بیٹا ! تم کس کا دیا کھاتے ہو؟ تو اس نے فوراً جواب دیا ۔ اپنے خالق ومعبود اللہ کا دیا کھاتا ہوں۔ اس کا یہ جواب سن کر مفتی گویا ہوا‘‘ تمہیں اتنی بھی خبر نہیں کہ مفتی اعظم کی حیثیت سے میں نے یہ فتویٰ دے رکھا ہے زمین پر بادشاہ ، خدا کا نمائندہ ہے اور ہم سب بادشاہ کا دیاکھاتے ہیں‘‘ اور اس نے اُس بچے کو شاگرد بنانے سے صاف منع کردیا- اس کے باپ کی شدید خواہش تھی کہ بچے کی کسی طرح سے شاہی خلعت میسّر ہو کیوں کہ وہ ناظم کتب خانہ تھا۔ جب ہر مولوی پنڈت نے اُسے پڑھانے سے انکار کیا تو کسی طرح بادشاہ کے ہاں اُس کے بیٹے کی رسائی ممکن ہو سکتی تو وہ دولقمہ کھاکر محفل سے اٹھ گیا اور یہ دیکھ بادشاہ آگ بگولہ ہوگیا تو اس کے وزیر نے جواب دیا:

’’جس دم وہ نوجوان مجھ سے مل رہاتھا تو تو نے نہیں دیکھا کہ وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہاتھا ، تونے نہیں دیکھا کہ وہ مسکرارہا تھا، تو نے نہیں دیکھا کہ وہ سیدھا کھڑاتھا اور تونے نہیں دیکھا کہ بجائے ہاتھ باندھنے کے اس کا ایک ہاتھ خنجر پرتھا اور تونے نہیں سنا کہ میری ہر بات کا جواب وہ حاضر دماغی کے ساتھ اور سکون سے دے رہاتھا ۔‘‘

یہ سن کر بادشاہ سمجھ بیٹھا کہ فرعون کو قتل کرنے کے لیے موسیٰ پیدا ہوگیا ہے لہٰذا وہ ماں باپ کو قتل کرنے کاحکم صادر فرمادیتا ہے اور بچے کوڈھونڈنے کاحکم نامہ جاری کردیتا ہے وہ بچہ گھر سے فرار ہوکر جنگل کی راہ لیتا ہے جہاں اس کی ملاقات ایک مرشد سے ہوتی ہے اور وہ درس حاصل کرنے لگتا ہے وہ بزرگ کے ملفوظات کو قلم بند کرتے ہوئے اتنا غرق ہوجاتا ہے کہ خاموشی اس کا مستقل ہتھیار بن جاتی ہے اور چپ رہنا اس کا مسلک بن جاتا ہے ۔ اگر کسی نے کبھی بہت سے سوالات کیے تو مسکرا کراس کی طرف دیکھ لیاکرتا کیوں کہ اب اسے معلوم ہوگیا تھا ، کہ جو بولتا ہے وہ جانتا نہیں وہ جو جانتا ہے وہ بولتا نہیں۔یہ افسانہ دراصل مارشل لا کے خلاف زبردست احتجاج ہے جہاں بادشاہت قائم وہاں خاموشی حکمت ہوتی ہے اور ہر شخص کے لیے اس میں بھلائی ہوتی ہے کہ وہ نظر انداز کرنے کا ہنر سیکھ لے کیوں کہ اسی میں راہ نجات ہے۔

اب شفیع جاوید کے آخری مجموعے کی طرف بڑھتے ہیں۔اس مجموعے میں ایک قاری ضرور محسوس کرے گا کہ شفیع جاوید کا اسلوب اور ہیئت دونوں مختلف دکھائی دے گا۔اس مجموعے کے بیشتر افسانے یادِ ماضی کے حوالے سے رقم کیے گئے ہیں جو اُن کی زندگی کا اثاثہ معلوم ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو محسوس ہوتا کہ افسانے کا جو کردار ہے،اس میں شفیع جاوید کی ہی جھلک دکھائی دے جاتی ہے۔یہاں فقط دو افسانوں کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ان میں پہلا افسانہ’بادبان کے ٹکڑے‘ہے اور دوسرا ’وہ صدا وہ دستک‘ ہے۔اول الذکر افسانے میں راوی ایک خاص مقام پر آکر ٹھہر گیا ہے۔ پہلے دوسرے لوگ اس کے محتاج ہوتے تھے ، اب وہ دوسروں کا محتاج ہوگیا ہے ۔ اسے سفری کہانی بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایک سفر کے دوران پیش آرہے حالات و واقعات کو راوی نے اپنی یاد داشتوں کے سہارے پوری اپنی زندگی کے خوشی وغم کے لمحات کو ایک انمول تحفے اور یادوں کی صورت میں قاری کے دل میں نقش کرنے کی سعی کی ہے اورکہانی کی شروعات کچھ اس طرح سے ہوتی ہے ۔ بہت دن ہوئے ایک مسافر نے کارواں سرائے کے بند دروازے پر بے حد سیاہ سناٹی رات میں دستک دے کر اونچی آواز میں پکارا’’دروازہ کھول دو میرے بھائی ! میں بے کارواں ہوں ،جانے سب کہاں چلے گئے ، پیچھے رہ گئے یا آگے چلے گئے ، بس آج کی رات بسر کرلینے دو ، بہت تاریکی ہے کل میں کوچ کرجاؤں گا۔‘‘یہ دراصل راوی ہی ہے جس نے اپنی شناخت کھودی ہے اور اس کی پہچان مشکل سے مل پارہی ،کیوں کہ جس نے کارواں کے ساتھ وہ سفر کررہا ہے وہاں اس کی اپنی کوئی شناخت نہیں ہے بلکہ دوسروں کے اشارے پراس کی زندگی کا دارو مدار ہے ۔ یہاں راوی نے ایسے وقت کاذکر کیا ہے جب اپنا ہی سایہ مہربان نہیں ہوتا ہر طرف سے طعنے سننے کو ملتے ہیں گویا یہ افسانہ زندگی کے نشیب وفراز کوواضح کرتا ہے ۔

آخر الذکر افسانہ ایک مشترکہ تہذیب کو پیش کرتے ہوئے ان پرانی یادداشتوں کی بھی وضاحت کرتا ہے جن سے آج کا مصروف ترین انسان نابلد ہے کیوں کہ آج کا مصروف زدہ شخص معاشرے سے کٹ کر ایک کمرہ میں محیط ہوگیا ہے ، اس کے اندر نفرت کا زہر گھول دیا گیا ہے اور اُسے صرف اس بات سے غرض ہے کہ وہ کس سے پیسے کمائے اور امیر سے امیر ترین بن جائے کیوں کہ اس کے نزدیک زندگی کامقصد بس یہی ہے ۔یہی المیہ اکیسویں صدی کے ایک آدمی کا ہے جو نہ بھر پور زندگی گزار سکتا ہے اور نہ ہی لوگوں کے رشتے ناطے نبھانے کی قدرت رکھتا ہے لیکن اس کہانی کا کردار پرانے وضع قطع کا ہے جسے اس بات کی فکر لاحق ہورہی ہے کہ جوبچپن میں اس نے لمحے گزارے تھے یاجہاں جوانی کی یادیں تازہ تھیں ، ان جگہوں کی شناخت کیسے مٹ گئی ہے، اسے وہ جگہ یا یہ کہہ لیں کہ آبائی وطن کے نقش نہیں مل رہے ہیں کہ انھیں یاد کرکے وہ دل کے غبار کو کم کرسکے۔ باپ اور بیٹے اپنی جائیداد ڈھوتے ہیں لیکن وہ زمین انھیں نہیں ملتی ۔ وہ ایسی جائیداد سے ضعیف شخص کی بیوی کی یادیں جڑی ہوئی ہیں ۔ اور ایسے وقت میں جب بزرگ آدمی کا آخری سہارا بھی اُسے چھوڑ دے وہی کیفیت اس کردار کے ساتھ ہوتی ہے۔

ہر فنکار کا اپنا ایک اسلوب،اسٹائل اور موضوع ہوتا ہے اور اسی ہیئت و اسلوب سے اُس کی پہچان ہوتی ہے۔بڑا فنکار وہ ہوتا ہے جو دوسری کی تقلید کرتے ہوئے یہ ظاہر نہ ہونے دے کہ اس کا اسلوب اختراع کردہ ہے۔کیوں کہ اس عالم میں موضوعات تو وہی ہیں،انسان وہی ہے بس فنکار کا انداز تحریر کسی بھی فرسودہ روایت کو بھی زندہ و جاوید بناسکتا ہے اور شفیع جاوید کا بھی یہی کمال ہے کہ انھوں نے ساٹھ سال کے زائد عرصے میں دلجمعی سے افسانے کی روایت کو آگے بڑھانے میں حتیٰ الوسع مدد کی اور کبھی بدگمان نہ ہوئے۔ساتھ ہی کبھی اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھا۔بعض حضرات ایوارڈس نہ ملنے کے غم سے اور بعض کی خواطر خواہ پذیرائی نہ ہونے ملال انھیں کہیں کا نہیں چھوڑتا اور وہ اپنی حیثیت بھی کھوبیٹھتے ہیں۔اس لحاظ سے شفیع جاوید اردو افسانے کے لیے ہمہ تن مصروف رہے اور انھوں نے جو بھی کیا،وہ اردو ادب کا عظیم سرمایہ ہے جسے ادبی دنیا کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔

٭

 


 (مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

شفیع جاویدغالب نشتر
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ایس آر میڈیا پیج کے بانی قمر اعظم صدیقی بحیثیت ایڈیٹر قومی ترجمان میں شامل
اگلی پوسٹ
بیٹی بچاؤ – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں