ہمارے ہاں بچپن میں مائیں اور گھر کے بزرگ افراد بچے کو کسی جگہ جانے سے روکنے کے لیۓ اکثر کہتے ادھر مت جانا ہے ادھر "بھکاؤ” ہے بچہ ڈر جاتا۔ یہ سلسلہ عرصہ دراز تک قائم رہا جو غالبا 4G آنے کے بعد ٹوٹا۔ کسی بچے نے آج تک یہ جاننے کی کوشش نہیں کی وہ "بھکاؤ” ہے کیا؟ یقیناً ان کی عمر اور ذہن اس بات کی حقیقت تک پہنچنے کی نہیں تھی مگر یہ طلسم ٹوٹا۔ اب بچے کسی بھکاؤ سے نہیں ڈرتےبلکہ ایسا بھکاؤ ان سے ضرور ڈرتا ہے۔ ڈاکٹر محمد مستمر صاحب کے افسانوی مجموعہ "ارتکاب” نے اسی بھکاؤ کو دوبارہ لاکھڑا کر دیا جس سے لوگ دور بھاگتے ہیں یا بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔مستمر صاحب نے اس شۓ کو سب کے سامنے پیش کر دیا۔ نفسیات انسانی خمیر کا حصہ ہے اور جنسیات ہمارے سماج کا وہی "بھکاؤ” ہے جسے دیکھنے اور دکھانے کی جسارت مستمر صاحب نے کی ہے۔ اس کا حاصل بحث یہ نہیں کہ ان کی حالیہ افسانوی مجموعہ” ارتکاب” جنسی نفسیات پر مشتمل ہے مگر جنسی نفسیات کے علاوہ اور بھی موضوعات ہیں جہاں نفس کام کرتا ہے۔سماج کا بہ نظر غائر مطالعہ کرنے والاشخص، زندگی کے نشیب و فراز سے آشنا شخص،ظاہری آنکھوں کے پس پردہ جھانکنے والا شخص اگر قلم کار ہے تو قلم یقیناً شعلے اگلے گا۔ بدصورت کو خوبصورت بنا کر محض دل آرائی کی جاسکتی ہے مگر یہ حقیقت سے انحراف ہے جو ایک حقیقت نگار اور کھرا فن کار نہیں کر سکتا۔ آنسوؤں کو کلکاریاں نہیں بنا سکتا ،حیوانیت کو شرافت کی سند نہیں دے سکتا۔ اگرچہ حقیقت بیانی کے بدلے اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے مگر وہ تو اپنے پاؤں کے تلوے پہلے کھرچ لیتا ہے ہاتھوں کو انگاروں سے آشنا کر لیتا ہے تب کہیں جاکر قلم پکڑتا ہے۔ حقیقت نگاری جب ادب کی دہلیز پر دستک دیتی ہے تو مستمر جیسے جیالے قلم کار ادبی منظر نامے پر نمودار ہوتے ہیں۔ مذکورہ بالا جن فنی اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے وہ تمام افسانوی خوبیاں اور لوازمات مستمر کے یہاں بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد مستمر ایک حقیقت نگار ہیں۔ ان کی حالیہ تصنیف "ارتکاب” افسانوں کا مجموعہ ہے جس میں پندرہ افسانے شامل ہیں۔ افسانوں کے مطالعہ کے دوران یہ بات شدت سے محسوس ہوئی کہ مستمر صاحب ایک منفرد افسانہ نگار ہیں اور اس انفرادیت کی وجہ یہ کہ ان کے یہاں حقیقت پسندی بدرجہ اتم موجود ہے۔ ان کے افسانوں میں طلسماتی نظارا ،خواب و خیال کی باتیں، حسن و عشق کے قصے نہیں ہیں بلکہ ان کے افسانوں کو پڑھنے کے دوران قاری کے اندر بھی ایک افسانہ نگار پیدا ہو جا تا ہےاور وہ اسے بجھے چہرے کی جھریاں دکھاتا ہے، گندگی سے اٹھنے والی بو کے مقابل لا کھڑا کر دیتا ہے اور خود بھی اس کا چشم دید گواہ بنتا دکھائی دیتا ہے جو افسانہ نگار دکھا نا چاہتا ہے۔ اسے سماج سے کوئی شکایت نہیں ہے وہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ عام لوگ جن باتوں سے خود کو باز رکھتے ہیں وہ حقیقت ہے، وہ انسانی خصلت ہے، انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔ مصنف منظر اور جزئیات کو بیان کرکے قاری پر فیصلہ چھوڑ دیتا ہے تاکہ اس کے ان کہے بلیغ اشاروں کو قاری سمجھ سکیں۔ وہ محض یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ جو ہو رہا ہے اس کی تخم ریزی کسی کرشماتی یا قدرتی طور پر نہیں ہوئی یہ تو ہمارے رویوں، نظریوں اور اعمال کی تخم ریزی کا نتیجہ ہے۔ پھر آنکھیں موند کر سب چیزوں سے کنارہ کشی کرکے نہیں رہا جا سکتا۔ دو کے ملنے سے تیسرے کا وجود ہونا لازم ہو جاتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس تیسرے سے اتنا خوف کیوں؟ یا نفرت کی اداکاری کیسی؟ یہ تو انسان اور اسکے عمل سے مل کر پیدا ہوئی ہے اگر ان کا وجود بار گزرتا ہے تو ایسی ذہنیت بھی بدلنی ہوگی کہ ان کا وجود خود بخود ختم ہو جائے گا۔ ڈاکٹر مستمر کے افسانوں کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ انھیں کم فہم، مست، ذہنی مفلوج قسم (جو نہ سنتے ہیں اور نہ ان کے پاس قوت گویائی ہے، بس اشاروں میں بات کرتے ہیں اور آ آ بھا بھا کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتے ) کے لوگوں کی نفسیات پر بھی مضبوط گرفت حاصل ہے۔ یہاں ہم کچھ افسانوں کے تعلق سے فرداً فرداً بات کریں گے۔
افسانہ "بندری” میں افسانہ نگار نے ایک ایسے کردار کو پیش کیا ہے جو گونگی، بہری اور ذہنی طور سے مفلوج ہے اور جس کی قسمت نے اسے در در کی ٹھوکریں دیں اور اس کی برہنگی اور بے پرواہی نے ٹھوکروں کو کرشموں میں بدل دیا ہے ۔ لوگوں نے اس کے قدموں کا استقبال کیا تاکہ راتوں رات انکی تقدیر بدل جاۓ یعنی لوگوں کا یہ یقین ہے کہ وہ جس کے گھر پر بھی قیام کر لیتی ہے اس کی قسمت بدل جاتی ہے۔ مگر کسی نے بھی اس میں ایک عورت کو دیکھنے کی کوشش نہ کی اور جب وہ حادثاتی طور پر ایک بچے کی ماں بن گئی تب بھی لوگوں نے اپنا محاسبہ نہیں کیا بلکہ ایک ماں سے اس کے بچے کو جدا کر دیا۔ افسانہ انگار افسانے کے اختتام پر ایک سوال چھوڑ جاتا ہے جس کا جواب کسی کو دینا پسند نہیں۔
"ہیپیٹائٹس” افسانہ میں ہندوستانی عورت کی ایک خوبصورت تصویر کو پیش کیا گیا ہے جو ہر حال میں ایک بیوی رہناپسند کر تی ہے اور اپنی پوری زندگی کے فیصلے ایک آدمی کے ہاتھ دے کر تقدیر پر تکیہ کر لیتی ہے۔ چوہان اس کہانی کا مرکزی کردار بدفعل ہونے کے باوجود بھی اپنی بیوی کے سارے خدمات حاصل کرتا ہے جس کا وہ مستحق نہیں مگر یہ ہندوستانی کلچر ہے یہی مشرقی تہذیب ہے۔ اس کہانی میں بیوی کی ایک مثالی تصویر پیش کی گئی ہے۔
زندگی تیز رفتار ہے یہاں گھڑی بھر کے لیے کسی کو فرصت نہیں وقت کا گھوڑا بڑی تیزی سے بھاگ رہا ہے جبکہ سمت کا تعین نہیں ہے مگر بھاگنا زمانے کے ساتھ ہونے کی شرط ہے پھر تہذیب یافتہ ہونے کی دلیل بھی یہی ہے کہ آدمی دوڑتا بھاگتا رہے لیکن اس گام جہاں میں قدرت ہمیں کچھ ایسے مناظر سے بھی آشنا کر دیتی ہے جہاں انسانی دماغ ضرور سوچتا ہے پر دل کیوں نہیں؟ اسی سوال کو ہاتھوں میں اٹھاۓ افسانہ "روڑے”قاری کے مطالعے کی راہ میں کھڑا ہے۔ جیسا کہ میں نے اوپر لکھا ہے کہ مستمر کو کم فہم یا یوں کہہ لیجئے کہ ہاف مائنڈ یا بالکل ہی ذہنی طور پر مفلوج لوگوں کی نفسیات پر بھی ملکہ حاصل ہے۔ اس افسانے میں بھی مستمر نے ایک تانیثی کردار کے ساتھ فلیٹ فارم پر موجود کئی مرد کرداروں کو پیش کیا ہے جو اپنا دماغی توازن کھو چکے ہیں۔ لیکن افسانے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کردار جہاں سماج کی نظر میں بے معنی اور بےکار سمجھے جاتے ہیں وہ پہلو تو اپنی جگہ مسلم ہے ہی لیکن افسانہ اور افسانہ نگار کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ اس نے حقیقت نگاری کو جو مستمر کا وصفِ خاص ہے، ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ جنسی جذبہ جو انسانی سرشت کا ایک قدرتی امر ہے وہ اسے یہاں بھی تلاش کر لیتے ہیں۔ مستمر کئی دوسرے پہلوؤں کے ساتھ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ انسان کسی بھی حال میں زندہ ہو لیکن وہ اپنے جنسی رجحان اور تقاضوں سے کبھی فرار اختیار نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں نکتۂ خفی بھی نکتہ بینی اور باریک خیالی کی مثال بن جاتا ہے۔
عورت جہاں دیوی کی روپ ہے وہی عورت کبھی بے وفائی کی مورت بھی بن جاتی ہے۔ افسانہ نگار نے زندگی کے کئی ان کہی گوشوں کو اپنے افسانوں کا لباس دیا ہے۔ جہاں "ہیپیٹائٹس” میں ساکشی کو بطور دیوی پیش کیا ہے وہیں "بال”میں رادھیکا کے کردار کو بھی اجاگر کیا ہے۔ ان دونوں کہانیوں میں عورت کے دو مختلف روپ کو کمالِ خوبی سے پیش کیا گیا ہے۔ایک ساکشی جو اپنے بد فعل شوہر کی اطاعت پر سر جھکاتی ہے تو دوسری طرف رادھیکا خوبصورتی کے چکر میں پڑ کر اپنے شوہر کو دغا دیتی ہے۔ یہاں بتانا یہی مقصود ہے کہ افسانہ نگار نے بغیر رنگ و روغن کے ان واقعات کو جو آۓ دن ہمارے سامنے آتے ہیں، رونما اور وقوع پذیر ہوتے ہیں، انہیں ہو بہ ہو افسانہ کی چاشنی دے کر پیش کر دیا ہے جو حقیقت نگاری کی بہترین مثال ہے۔
فی زمانہ دولت سے ساری بہاریں ہیں اور اس بات میں کوئی شک بھی نہیں دولت نے بوڑھے کو جوان اور بد تہذیب کو مہذب بنا ڈالا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ دولت مند ہی آج کل شرافت، دین داری، ایمان داری اور اخلاق کی سند بھی دے رہا ہے۔ دولت کی لالچ نے انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔آرام دہ اور پر وقار زندگی سب کا خواب ہوتا ہےاور پوری دنیا کا نظام اسی خواب کی تکمیل میں چل رہا ہے۔ کبھی کبھی دولت کی تلاش مصیبتوں کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ کہانی "عزت” میں افسانہ نگار نے اسی نکتے کو پیش کیا ہے۔ افسانہ نگار نے یہ کہانی بھی روزمرہ کی زندگی سے لی ہے۔ ویسے تو ہر کہانی ہی ہماری روزمرہ کی زندگی کی ہی مرہونِ منت ہوتی ہے، بس فن کار تو لفظوں کے پیراہن سے اسے خوبصورت اور سحر انگیز بنا دیتا ہے۔ لہذا مستمر کے پاس سحر انگیزی کا ہنر بھی ہے اور خوبصورتی کا وصف بھی۔ تبھی تو ان کی ہر کہانی میں قریب قریب ایک ایسی روانی اور سلاست روی ہوتی ہے جو قاری کو بوریت کا احساس نہیں کراتی۔
اس افسانوی مجموعے کا ایک افسانہ "تنزل” بہت اہم غالباً سب سے اہم بات پر روشنی ڈالتا ہے۔ آج سماج میں اور ملک کے مختلف شہروں میں گاؤں میں آۓ دن جو واقعات رونما ہو رہے ہیں ان کی خبریں سن کر تو ہم کبھی کبھی ایسے وقتی صدمے سے دوچار ہوتے ہیں کہ بدن پر ایک ارتعاش اور لرزہ سا طاری ہو جاتا ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کچھ بے حس قسم کے لوگ واقعے کو گرد کی طرح جھاڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں مگر افسانہ نگار اس بات کو یونہی جانے نہیں دیتا بلکہ وہ ایک معالج کی طرح کہانی میں نظر آتا ہے مصنف اس کے وجوہات ڈھونڈ نکالتا ہے اس بات کی صداقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ہمارے ماحول میں جو بے راہ روی راہ پا گئی ہے اس کی ایک اہم وجہ اخلاق کا روز بروز زوال ہے ، بے حیائی برہنہ رقص کر رہی ہے۔ اس رقص میں کیا بچے کیا بوڑھے کیا جوان سب مشغول نظر آتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ اتنی تیزی سے بگڑ رہا ہے کہ ایسے پر فتن اور تعفن زدہ دور میں نہایت ضروری معلوم پڑتا ہے کہ ہم لوٹ کر وہیں چلیں جہاں ہمارے اجداد نے تہذیب کی بنیاد ڈالی تھی ورنہ یہ بداخلاقی اور بے حیائی ہمیں وقت کی کھائی میں ایک دن ضرور ڈال دے گی۔ تنزل، مزہ، قدریں اور ارتکاب، مستمر کے ایسے ہی افسانے ہیں جن میں موصوف نے تغیر و تبدیل ہوتی تہذیب اور اخلاقی قدروں کے انحطاط پر قلم اٹھایا ہے۔ ان افسانوں میں افسانہ نگار نے ان پہلوؤں سے بھی نقاب کشائی کی ہے جس جنریشن گیپ کی وجہ سے بگاڑ کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔ ۔۔ اور ان سب بگاڑ اور خامیوں کا ذمے دار افسانہ نگار ماں باپ کو بتاتا ہے۔ جب آپ ان کے افسانوں کا مطالعہ کریں گے تو افسانہ نگار کے خیالات کا ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔
"جوگ سنجوگ” بدلتے حالات کے بدلتے فیصلے کے ہمراہ قدرت کا فیصلہ سناتا ہے۔ یعنی افسانہ نگار یہ بتانا چاہتا ہے کہ بعض اوقات ہم لاکھ جتن کرنے کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتے کیونکہ قدرت ہمارے لئے کچھ اور چاہتا ہے۔ نیز قدرت کے اس چاہنے میں انسان کے لئے زیادہ بھلائی چھپی ہوتی ہے جہاں تک انسان کی رسائی نہیں ہو پاتی ہے اور نہ ہم سمجھ پاتے ہیں کہ اصل میں مشیت ایزدی کچھ اور ہے۔ جس کا ہمیں بعد میں احساس ہوتا ہے۔ جوگ سنجوگ افسانہ کچھ ایسے ہی حالات کو بیان کرتا ہوا ایک پر اثر اور سبق آموز افسانہ ہے جس میں افسانہ نگار نے لفظی پیکر تراشی ایک رومانی اور نفسیاتی فضا بھی قائم کر دی ہے۔
افسانہ "دھرم سنکٹ” رسم و رواج کی بھینٹ نہیں چڑھتا بلکہ رسم و رواج، عقائد کی بے بنیاد اور غیر منطق فلسفوں کو ستیہ کی اگنی پریکشا میں ڈالتا ہوا افسانہ ہے۔ اس آزاد ملک میں آج بھی گاؤں دیہاتوں میں لوگ بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہیں پاپ اور پنیہ کے نام پر آج بھی ستایا جاتا ہے۔اس افسانے میں مصنف نے بر زبان بلونت سماج کے ٹھیکہ داروں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔افسانہ نگار نے اس افسانے میں نئ فکر کو سمو کر خوف سے نکل کر بے خوف زندگی کے آثار دکھانے کی کوشش کی ہے۔ واقعی یہ لمحۂ فکر ہے کہ سماج اتنا تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود آج بھی اس مکڑ جال میں پھنسا مسکرا رہا ہے۔ اور نہ ہی اسے توڑنے کی کوشش کرتا نیز کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں اپنی زندگی کے فیصلے سونپ کر سر جھکاۓ کھڑا ہے۔ افسانے میں مصنف نے actual words کا استعمال کیا ہے جو میری نگاہ میں افسانے کی ضرورت تھی۔ لہذا کچھ الفاظ جو قاری پر بار گزریں افسانے کی کوکھ سے ہی پیدا ہوئے ہیں اور مجھے ان سب الفاظ ( شبدوں ) کا استعمال اس کہانی کے اعتبار سے مناسب معلوم ہوتا ہے۔
مضمون کا ٹائٹل افسانہ”ارتکاب”مغربیت کا چڑھتا نشہ کی منھ بولتی تصویر ہے،عہد حاضر میں ہم مغربی تہذیب کے اس قدر دلدادہ ہو چکے ہیں جہاں ہمیں اپنی مشرقی تہذیب بری لگنے لگی ہے۔ یہ معاملہ زیادہ تر پڑھے لکھے گھروں میں اپنے شباب پر نظر آتا ہے۔ انگریزی تعلیم حاصل کرنے کا مآحصل یہ نہیں کہ ہم اپنی تہذیب کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالیں۔ رواں عہد کا یہ المیہ ہے کہ ہمیں ہر طرح کی دوسری برائی تو نظر آتی ہے مگر اپنی مٹتی تہذیب کا شیرازہ بکھرتا نظر نہیں آتا۔آج ہم کچھ الگ کرنے اور دکھنے کی کوشش میں، مغربیت کی تقلید کرتے ہیں اور اس تقلید میں حد سے تجاوز کر چکے ہیں۔ مصنف اپنی مٹتی تہذیب پر ماتم کناں ہے۔ افسانے میں آستھا مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کرتے ہوۓ انسانیت اور شرافت کی تمام حدیں پار کرجاتی ہے اور آکاش آخر تک اسے مشرقی تہذیب کے آداب سکھاتا رہ جاتا ہے۔ عورت سے ماں بننے تک کا سفر بھی آستھا کے اندر ممتا کو نہیں جگا پاتا۔
علاوہ ازیں دوسرے افسانے بھی ہمیں اپنی جانب مبذول کرتے ہیں اور کچھ الگ ہٹ کر سوچنے سمجھنے پر دعوتِ فکر دیتے ہیں۔ آلودگی اور تغیر کچھ اسی قبیل کے افسانے ہیں۔ آلودگی ہماری ذہنی آلودگی کو بیان کرتا ہوا ایک ایسا افسانہ ہے جو تنگ ذہنیت اور محدود سوچ پر ضربِ کاری کا کام کرتا ہے۔ شروع میں افسانہ ایک معمولی افسانہ دکھائی دیتا ہے راوی ریل گاڑی میں سفر کر رہا ہے۔ اس کے سامنے دو مسافر ایک عورت اور ایک مرد بیٹھے ہیں جو غیر مسلم ہیں اور کہانی کار کا پورے سفر کے دوران داخلی اور خارجی مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ افسانے کا اختتام قاری کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ آلودگی افسانے کے اختتامیہ جملے ملاحظہ فرمائیں:
وہ دونوں کہتے کہتے رک جاتے ہیں۔
” بولیے ۔۔۔ بولیے جلدی بولیے ۔۔۔!”
” کیا آپ مسلمان ہیں۔۔۔۔؟!”
"کیوں۔۔۔؟!”
"آپ اردو کی کتاب پڑھ رہے تھے۔۔۔۔ نا۔۔۔!!!”
” جی نہیں۔۔۔ میرا نام روی کمار ہے۔”
جیسے ہی وہ میرا نام سنتے ہیں ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ جاتے ہیں اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی۔۔۔ جیسے وہ کسی کی شراب سے پتھر کے بن گئے ہوں۔۔۔۔ یا اسکرین پر چلتی ریل کو اسٹاپ کر دیا ہو۔ میں ان کے استعجاب کا اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔ ایک لمحے کے لیے میرا ذہن بھی ان کی طرح ماؤف ہو گیا تھا۔
میری سوچوں کے تمام ہوائی قلعے مسمار ہو جاتے ہیں اور میں ذہنیت کی آلودگی کے مابین معلق ہو جاتا ہوں۔”
اس سے پہلے کہ ہم تغیر افسانے کے تعلق سے بات کریں ہمارے لئے یہ امر بھی غور طلب ہے کہ مستمر کے یہاں جو جنسی عناصر جنم لیتے ہیں خواہ پہلے افسانوی مجموعہ”حدوں سے آگے” میں شامل کہانیوں کی ہو یا پھر سرِ دست مجموعہ کی، فنکار جنسی عناصر تلذذ کے لئے استعمال نہیں کرتا بلکہ ان کے یہاں یہ جنسی پہلو سائینسی نقطہ نظر پر اطلاق کرتا ہے۔ یعنی انسان کے اندر کا افرازی نظام جب اتھل پتھل ہوتا ہے تو انسان کے اندر کس طرح کے بدلاؤ رونما ہوتے ہیں۔ تغیر افسانہ بھی ایسے ہی جنسی مسائل کی غمازی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ افسانے کا یہ اقتباس ذرا ملاحظہ کریں:
” آہستہ آہستہ فیضان کے اعصاب پر ایسٹروجن ہارمونژ غالب آتے جاتے ہیں۔۔۔ اور وہ اپنے ہم جماعت لڑکوں سے کٹا کٹا رہنے لگتا ہے۔۔۔ اور احساسِ کمتری میں مبتلا اور تنہائی ہو گیا۔ کلاس میں ایک طرف کو بیٹھنا اور ریسس میں بھی اکیلے اکیلے رہنا۔۔۔ نہ جانے کب۔۔۔؟ کیسے۔۔۔؟ وہ لڑکیوں کے لہو ولعب میں بھی دلچسپی لینے لگتا ہے۔ پرائمری سے مڈل اسکول میں داخلہ لیا تو وہ زیادہ تر لڑکیوں سے باتیں کرتا۔۔۔ ان کے ساتھ کھیلتا۔۔۔ ان کے پاس بیٹھتا۔۔۔ لڑکیوں کے پاس بیٹھنے میں اس کے چہرے پر جو تازگی دمکتی وہ لڑکوں کے پاس بیٹھنے میں زائل ہو جاتی۔ جب تک وہ نویں جماعت میں پہنچتا ہے، دھیرے دھیرے لڑکے اسے ‘آپا جی’ کے نام سے چڑانے لگتے ہیں۔ اس طرح فیضان احساسِ کمتری کے ساتھ کامپلی کیشن کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔”
مجموعے میں شامل افسانے پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد مستمر ایک مثبت نظرۓ کا حساس افسانہ نگار ہیں ان کے افسانوں کو پڑھنے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے۔ان کے افسانوں میں تخیل کی فضا بندی نہیں ملتی بلکہ وہ اپنے افسانوں کی فضا زندگی کی تلخ حقائق سے باندھتے ہیں۔ افسانوں میں ان کا نظریہ مثبت ہے اور ایک بہتر خوشحال سماج کے متمنی بھی ہیں۔مجموعے کے آخر میں انہوں نے اپنے پہلے افسانوی مجموعے کے حوالے سے مشاہیر ادب کے تاثرات کو جگہ دی ہے جس کو پڑھ کر قاری ان کے پہلے افسانوی مجموعے کے متعلق جانکاری حاصل کر سکتا ہے۔ آخر میں اس بات کی بھی وضاحت کرتا چلوں کہ مستمر کے افسانوں میں پایا جانے والا جنسی پہلو اپنے سابقہ افسانہ نگاروں سے بھی منفرد ہے اور ان کو اپنے معاصرین میں بھی انفرادیت حاصل ہے کیونکہ ان کے جنسی پہلو کا اطلاق راست طور پر سائینسی موضوعات سے ہوتا ہے یعنی کہ وہ جنس کو بطور لذت استعمال نہیں کرتے بلکہ ایک مرض کے طور پر اپنے افسانوں کا حصہ بناتے ہیں۔ جس کا ذکر میں نے اوپر بھی کیا ہے۔ مالک بحر و بر سے دعا گو ہوں ڈاکٹر محمد مستمر کا یہ سفر جاری رہے اور آئیندہ بھی اردو کے قارئین کے لیے بہترین افسانے رقم کرتے رہیں ۔آمین
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت عمدہ۔۔۔۔۔۔بہت خوصورت انداز لکھنے کا۔۔۔۔ماشاء اللہ