سرآمدشعراے ہندوستان،بلبل شیوازبان،فخرالمتقدمین والمتاخرین مرزا محمد رفیع سودا کا شمار اردو زبان وادب کے باکمال، قابل قدر اور عدیم المثال شعراء میں ہوتا ہے۔سودا کا پورانام مرزا محمد رفیع سوداتھا۔آپ سودا تخلص اختیار کرتے تھے۔اگرچہ خود ان کا مولود وطن سودا جنت نشاں ہندوستان ہی تھا۔مگر آپ کے آباواجداد ہمسایہ ملک افغانستان کے دارالسلطنت کے واقع خطۂ کابل کے رہنے والے تھے۔چنانچہ آپ کے والد ماجد مرزا محمد شفیع ایک تجارت پیشہ بزرگ تھے۔جو تجارت ہی کے سلسلہ میں کابل سےسفر کرکے ہندوستان آئے اور مختلف بلاد کی سیر کرتے ہوئے علم و ادب کے مرکز دلّی(دہلی)میں وارد ہوئے۔سودا کی پیدائش، آب حیات کے مصنف شمس العلماء مولوی محمد حسین آزاد کے مطابق سودا کی ولادت 1125ھ مطابق 1712ء کو دہلی میں ہوئی۔
شعر و سخن کا آغاز:
قصیدے کے نقّاش اول سودانے ولی،شاہ مبارک آبرو،شرف الدین مضمون، مرزا جان جانا مظہر، شاکر ناجی جیسے مایۂ ناز کہنہ مشاق شعراء،ادباء کےدور میں آنکھیں کھولیں۔اپنے گردوں نواح علمی اور شعری فضا کے باعث سودا کو ایام طفولیت سے ہی شعر و شاعری کا ذوق ہوگیا۔ سودا نے شاعری کی ابتداء فارسی زبان سے کی۔مگر خان آرزو نے انہیں سمجھایا کہ فارسی زبان میں اشعار کہنے سے اپنی زبان (اردو) میں شعر کہنا اچھاہے۔ان کی سعادت مندانہ ارادت نےبھی بگوش ہوش اس دور رس نصیحت کو بغور سنا اور اس وقت سے زیادہ تراپنی توجہ اردو کی طرف منعطف کردی۔ان کے اردو کلام کا چندہی روز میں زبردست شہرہ ہوگیا۔رفتہ رفتہ شاہ عالم بادشاہ کے کانوں تک بھی ان کے جوہر وکمال کا شہرہ پہنچا وہ خود بھی شاعر تھے۔سودا نے قلیل مدت میں شعرو سخن میں ایسا کمال پیدا کیاکہ اپنے ہم عصر تمام شعراء پر سبقت لےگئے۔سوداایک قادرالکلام شاعر تھے۔انہوں نے غزل بھی کہی اور اس میں ان کا مقام سطحی اور معمولی نہیں ہے۔ان کے کلام میں سوزوگداز،درد،غم کی گہری ٹیسیں اور خستگی تو نہیں جو میر کی غزلوں کا حاصل ہے۔اس کے باوجود سودا کی غزل جاندار ہے۔
سودا جوتراحال ہے اتنا تو نہیں وہ
کیا جانیئے تونے اسے کس آن میں دیکھا
سودا نے مروجہ شعری رنگوں کو کامیابی سےنبھایا ہے۔سنگلاخ زمینوں میں شعر کہنا، مشکل قافیوں اور ردیفوں کوباندھنا، صنائع بدائع کافنکارانہ استعمال ان کی غزلوں میں عام بات ہے۔شوکت الفاظ وخیال ،لہجے کی بلندی آہنگی جیسی قصیدے کی خصوصیات ان کی غزلوں کو منفرد بناتی ہیں۔ان کے ہاں عشق ومحبت، ہجرو وصال اور داخلیت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔
جس روز کسی اور پے پیدا کروگے
یہ یادرہے ہم کو بہت یاد کروگے
دل کے ٹکڑوں کو بغل بیچ لیے پھرتا ہوں
کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہےکہ نہیں
عشق سے تو نہیں ہوں میں واقف
دل کو شعلہ ساکچھ لپٹتا ہے
سودا کی قصیدہ گوئی:
سودا نے تقریبا تمام اصناف سخن پر طبع آزمائی کی ہے۔لیکن ان کی شہرت قصیدہ گوئی میں ہوئی ہے۔قصیدہ گوئی اور ہجوگوئی میں آج تک ان کا ثانی نہیں ہوا۔ان کے کلام میں شوخی بھی ہے۔اصل میں مرزا قصیدے کے بادشاہ ہیں۔سودا نے زبان اردو میں فارسی تشبیہات، استعارات، ترکیبیں اور محاروں کا استعمال اس خوش اسلوبی کےساتھ کیاکہ اردو زبان ایک دلکش اور شیریں زبان بن گئی۔سودا نےبے شمارقصائد لکھے جن میں حمد، نعت، منقبت، مدح، ہجو شہر آسوب وغیرہ موجود ہیں۔سودا کے قصیدے فنی معیار پربھی پورے اترتے ہیں ان کے قصائد کے تمام اجزائے ترکیبی مکمل ہوتے ہیں۔سودا کی شاعری خصوصیات پردکن کے معروف محقق شیخ چاند اپنے تحقیقی مقالہ سودا میں رقمطراز ہیں:
"سودا نے کم وبیش پچاس سال شاعری کی ہے۔ان کی شاعری میں تمام اصناف سخن قصیدہ، غزل، واسوخت، مثنوی، مرثیہ قطعہ، ترجیح بند،ترکیب بند وغیرہ موجود ہیں۔ہرصنف میں کلام کی کافی مقدار موجود ہے اس دور کے کسی شاعر کا کلام اس قدر متنوع اور ضخیم نہیں "(بحوالہ شیخ چاند،سودا،شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ مکتبہ، اردو ادب لکھنؤ،فروری 1972ء ص 136)
شیخ چاند کی تحقیق کے مطابق سودا کے قصائد کی تعداد پچپن ہے جبکہ احمد صدیقی نے اپنی کتاب "قصائد سودا” میں 58 قصائد کی نشاندہی کی ہے۔جن میں مذہبی قصائد کی تعداد 22 ہے اور ان میں مذہبی شخصیات کو موضوع بنایاگیا ہے۔ان میں سرفہرست پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےعلاوہ اوربھی کئی شخصیات شامل ہیں جن کی تفصیلات مندرجہ ذیل فہرست میں ملاحظہ فرمائیں:
(1)قصیدہ درنعت سیدالمرسلین خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وسلم (دو قصائد)
(2)قصیدہ درمنقبت علی بن ابی ابو طالب (سات قصائد)
(3)قصیدہ درمدح جناب فاطمہ الزہراء
(4)قصیدہ درمدح امام حسن
(5)قصیدہ درمدح امام حسین
(6)قصیدہ درمنقبت امام زین العابدین
(7)قصیدہ درمنقبت امام باقر
(8)قصیدہ درمنقبت جعفر صادق
(9)قصیدہ درمنقبت حضرت امام کاظمین
(10)قصیدہ درمدح ابوالحسن علی رضا ابن موسی (دو قصائد)
(11)قصیدہ درمدح امام تقی
(12)قصیدہ درمدح امام نقی
(13)قصیدہ درمدح امام حسن العسکری
(14)قصیدہ درمدح امام مہدی (دو قصائد)
ان مذکورہ بالا قصائد کے علاوہ بقیہ قصائد میں 23قصائد بادشاہوں، نوابوں اور امراء کی شان میں تحریر کیے ہیں۔ان کے علاوہ دس ہجویات بھی سودا کے کارناموں میں شامل ہیں۔سودا کے قصائد کے موضوعات میں بڑا تنوع ہے۔اجزائےترکیبی کے حوالے سےبھی انہوں نے تشبیب، گریز،مدح اور حسن طلب وغیرہ میں اپنی بے پناہ فنی مہارت کا ثبوت دیاہے۔سودا نےتشبیب میں متنوع موضوعات کو برتا ہےاور اتنا تنوع شاعر صرف سودا کے قصیدوں میں ہی ملتا ہے۔موسم بہار کی منظر کشی، عاشقانہ ورندانہ جذبات دنیا کی بے ثباتی، صوفیانہ اور حکیمانہ مضامین، شکایت زمانہ، تاریخی واقعات وغیرہ موضوعات ان کے قصیدوں کی تشبیب کا حصہ ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سودا کو فطری طور پر علوی تخیل، جودت طبع اورفکر رساکا ملکہ حاصل ہے۔اس لیے انہوں نے پرزور اور پرشکوہ نیز قوت منتخیلہ پرمبنی تشبیب کے اشعار پیش کیے ہیں ۔ مثلا:
ہوا جب کفر ثابت ہے وہ تمغائہ مسلمانی
نہ ٹوٹی شیخ سےزنار تسبیح سلیمانی
منکر خداسے کیوں نہ حکیموں کی ہو زبان
جب شہرہ سے مرے ملا ہو قدرجہاں
آٹھ گیا بہمن ودے کا چمنستان سےعمل
تیغ اردی نے کیا ملک خراسان مستاصل
قصیدہ میں سودا کےفنی کمالات اور فنکارانہ ہنرمندی کےجوہر مدح میں ہی لکھتے ہیں۔سودا کاکمال یہ ہےکہ وہ ممدوح کے جاہ وجلال،شوکت وحشمت، عظمت وبزرگی، بہادری وشجاعت، عدل وانصاف جہانگیری وجہابانی اور مخلوق پروری کی تعریف وتوصیف کرتاہے۔اگر ممدوح کوئی مذہبی شخصیت ہےتو اس کا علم و حلم،زہد تقوی، پرہیزگاری، عفو درگزر، عبادت وریاضت وغیرہ کی بھی تعریف وتوصیف کرتا ہے۔اس ضمن میں وہ عمدہ الفاظ ومحاورات، بھاری بھرکم القاب وآداب، تشبیہات واستعارات نیز تراکیب کابھی تانا بانا تیار کرتا ہے۔اس حوالے سے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
دید تیرا، بدوئی حق سے،نگہ کاہے خلل
ایک سے دو نظر آتے ہیں بچشم احوال
تیری قدرت بہ جہاں، قدتت حق کی خاطر
خلق کے وہم غلط کار میں ٹھہرے ہے مثل
علم تیرا نہیں ہے،علم خداسے باہر
ہےعمل بھی وہی تیرا جوخدا کا ہےعمل
ترک وطن دلّی
زمانے نے کروٹ لی وہ قدرداں نہیں رہے۔ سودا کو آخر کار دلّی کو خیرآباد کہنا پڑا۔مولانا حسیں آزاد لکھتے ہیں کہ:
"تقریبا ساٹھ یا چھیاسٹھ سال کی عمر میں سودا دلی چھوڑ کر فرخ آباد میں نواب بنگشن کےپاس کچھ دن قیام کیا۔پھر وہاں سے 1185ھ میں لکھنؤ کے لیے رخت سفرباندھا اور نواب شجاع الدولہ کی ملازمت اختیار کرلی۔شجاع الدولہ نے سودا کا بہت اعزاز واکرام کیا۔ایک دفعہ نواب نے بےتکلفی یاطنز میں سودا سے اتنا کہاکہ مرزا وہ تمہاری رباعی اب تک میرے دل پر نقش ہے۔اور اسی کو مکرر پڑھا۔انہیں اپنے حال پربڑا رنج ہوا۔پھر دوبارہ نہیں گئے۔یہاں تک کہ شجاع الدولہ انتقال کرگیا اور آس کی جگہ آصف الدولہ مسند پر بیٹھا-"(آب حیات، ص 134)
آصف الدولہ سودا کی بہت عزت کیاکرتا تھا۔اس نے سودا کے لیے چھ ہزار روپیہ سالانہ وظیفہ مقرر کررکھاتھا۔جب تک سودا زندہ رہے ان کے ساتھ حسن سلوک کا یہ معاملہ چلتا رہا۔
مسلسل عروس سخن کے گیسو سنوارنے کےبعد تقریبا 76 برس کی عمر میں 1195ھ مطابق 1781ء میں قصیدے کا نقّاش اول عالم ادب کا یہ مہر درخشاں ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔اردو کے معرکتہ الآرا قصیدہ نگار آغاباقر کےامام باڑے لکھنؤ میں سپرد خاک ہوئے۔
اسلم رحمانی
متعلم: بی اے،اردو سال اول،
نتیشور کالج،مظفرپور
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

