Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

سلمیٰ صنم کی افسانہ نگاری – ڈاکٹر عائشہ فرحین

by adbimiras مارچ 23, 2022
by adbimiras مارچ 23, 2022 0 comment

اردو فکشن میں سلمیٰ صنم صاحبہ کا نام محتاج تعارف نہیں۔ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور سے تعلق رکھنے والی سلمیٰ صنم صاحبہ پیشہ سے لکچرر ہیں ۔ جواردو ادب میں بحیثیت افسانہ نگار اپنے قلم کے جوہر دکھاتے ہوئے اہم شناخت بناچکی ہیں۔موصوفہ فخر کرناٹک ہی نہیں فخر اردو فکشن ہیں۔ان کے فن و شخصیت پر نہ صرف ملک کے مختلف جامعات میں تحقیقی کام ہوچکے ہیںبلکہ پاکستان کی جامعات میں بھی ان کے افسانوی فن پر تحقیقی مقالات لکھے جاچکے ہیں۔

ان کے افسانوں کامنفرد اسلوب اور موضوعات کا تنوع انھیں معاصرین میں منفرد مقام عطا کرتا ہے۔انھوں نے زندگی کے تقریباً ہر شعبہ سے متعلق متنوع موضوعات کو اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے۔ان کے افسانے بے شک تانیثی نظریات سے مملو نہیں،لیکن بیشتر افسانوں کا موضوع عورت ہی ہے۔لیکن ان کے یہاں عورت اپنے مختلف روپ اور رویوں کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔یہ وہ عورت نہیں جو صدیوں پرانی روایتوں میں جکڑی ،سمٹی ہوئی،بے بس و مجبور ہے،بلکہ یہ دور جدید کی باہمت،بااعتماد عورت ہے۔یہ وہ عورت نہیں جو رسم و رواجوں،اندھے عقائد،مذہب، غیرت اور عزت کے نام پر اپنی ہستی کو مٹادے بلکہ یہ جدید دور کی جدید حقائق سے آگاہی رکھنے والی،اپنی ہستی میں ڈوب کر سراغ پانے والی، مرداساس معاشرے میں اپنے وجود کو منوانے والی،ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والی، احتجاج کرنے والی بے باک،نڈر اور حوصلہ مند عورت ہے۔جسے یہ احساس ہے کہ وہ بھی انسان ہے اور اسے بھی جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا ایک مرد کو ہے۔

سلمیٰ صنم کے افسانوں کی ایک خوبی ان کے سادہ سلیس خوبصورت تشبیہات سے آراستہ زبان ہے جس میں ان کے منفرد بیانیہ نے چار چاند لگا دیے ہیں۔ان کے افسانوں کا آغاز قارئین کو متوجہ کرنے والا تو انجام قاری کے ذہن میں سوچ کے نئے در وا کرتا ہے۔

سلمیٰ صنم صاحبہ کے تین افسانوی مجموعے ’’طور پر گیا ہوا شخص ‘‘، ’’پت جھڑ کے لوگ‘‘ اور ’’پانچویں سمت ‘‘  منظر عام پر آکر قارئین سے داد و تحسین وصول کر چکے ہیں۔پیش نظر ان کا افسانوی مجموعہ ’’قطار میں کھڑے چہرے اور دیگر کہانیاں ‘‘ میں شامل افسانوں کا فنی و موضوعاتی تجزیہ ہے۔ بیس افسانوں پر مشتمل اس مجموعہ کو موصوفہ نے اپنے والدین سے منسوب کیا ہے جس پر اردو فکشن کی مایہ ناز ہستی محترم نورالحسنین صاحب نے پسندیدگی کی سند اپنے مضمون ’’نئی فکر نئی اڑان‘‘ میں عطا کردی ہے۔اس کے علاوہ پروفیسر شوکت محمود شوکت اور شہاب ظفر اعظمی صاحبان نے زیر مطالعہ کتاب میں شامل افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہوئے،سلمی صنم صاحبہ کے فن پر مختلف حوالوں سے سیر حاصل گفتگو کی ہے۔کتاب کے بیک کور پر ماہرین فکشن کے توصیفی کلمات نے سلمیٰ صنم صاحبہ کے فن کی اہمیت و افادیت کو مزید روشن کیا ہے۔ان ماہرین میں قمر رئیس ۔دہلی، شموئل احمد۔ بہار،نسیم انجم ۔کراچی اور ناصر ناکاگوا۔ جاپان شامل ہیں۔

سلمیٰ صنم صاحبہ کے افسانے عصر حاضر کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔جس میں انسانی رشتوں کی بے حرمتی، تقدس کی پامالی، باشعور شہری کی تڑپ، عورتوں کی وفا شعاری اور بے بسی سے باہمتی کے سفر کی داستان منفرد پیرائے میں رقم کی گئی ہے۔

عورت کی باہمتی کا سفر افسانے ’’آرگن بازار ‘‘،’’کٹھ پتلی ‘‘، ’’پانچویں سمت‘‘میں واضح نظر آتا ہے۔ایک عرصے تک صبر و شکر کرنے کے بعد بھی مرد کی بے وفائی، مفاد پرستی اور زور زبردستی سے تنگ آکر ’’آرگن بازار ‘‘کی ثمین ’’پانچویں سمت ‘‘کی رجنی اور ’’کٹھ پتلی ‘‘کی آسیہ ایک نئے جوش و جذبے سے اپنے وجود کومنواتی ہیں۔

ثمین، امیر کو اپنا گردہ دینے کے باوجود اس سے شادی سے انکار کردیتی ہے۔یہ انکار امیر کی مطلب پرستی، جہیز کے نام پر ثمین کے جسم کا حصہ خریدے جانے کے خلاف پرزور احتجاج کی صورت سامنے آیا ہے۔وہ امیر کو دھتکار کر اپنے وجود کی اہمیت جتاتی ہے کہ وہ اتنی بے ضرر نہیں کہ شادی کے لیے اپنے جسم کا ایک عضو بیچ کر، عمر بھر اسی خود غرض مرد کی غلامی کرے،امیر جسے اپنے پیسوں پر زعم تھا،جس کے نزدیک ثمن کی حیثیت مخمل میں لگے ٹاٹ کے پیوند جیسی تھی۔لیکن بدلے حالات نے امیر کو اسی ٹاٹ کے پیوند کو مستقل اپنے جسم کا حصہ بنانے پر مجبور کردیا تھا۔خدا نے اسی مفلس منگیتر کو اس کی جان بچانے والی بنادیا۔ثمن اپنے ہتک اور بے عزتی کا بدلہ امیر کو ریجیکٹ کر کے لیتی ہے۔’’آرگن بازار‘‘ افسانہ جہیز جیسی لعنت پر کڑا طنز تو ہے ہی لیکن ساتھ ہی انسانی رشتوں کا المیہ، غریبوں کی لاچاری و بے بسی،امیروں کی سفاکی کا بھی عکاس ہے۔

افسانہ دور جدید کے مادیت پرست انسانوں کے چہروں پر چڑھے رشتوں کی قلعی کھول دیتا ہے۔افسانہ نگار نے ایک روایتی موضوع میں سائنسی ترقی، عضو کی پیوند کاری کے عمل کو شامل کرتے ہوئے جدت پیدا کردی ہے۔ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا، جس میں باضابطہ  ’’آرگن بازار ‘‘قائم ہوجائیں گے۔لوگ اپنی دولت کے بل بوتے پر اپنا من پسند عضو بہ آسانی خرید لیں گے پھر چاہے اس بازار میں کتنے ہی دلہنوں کے ارمان جل کر خاک کیوں نہ ہوجائیںلیکن کاروبار چلتا رہے گا۔افسانے کے یہ جملے ثمن کی ذہنی کیفیت کے عکاس ہیں۔

’’وہاں تو بس آگ ہی آگ تھی۔شعلے دہکتے ہوئے، چنگاریاں سلگتی ہوئیں۔وہ بے معنی انداز میں شعلوں کو گھورنے لگی۔دفعتاًـــ اسے لگابھڑکتے شعلے کسی پیکر میں ڈھل رہے ہیں۔وہ ایک دلہن تھی سرخ جوڑے میں لپٹی جس کا ہیولیٰ انگاروں پر کانپ رہا تھا،مگر یہ کیا؟ ثمین کا ذہن بھک سے اڑگیا۔دلہن تو انسانی اعضا سے سجی ہوئی تھی۔‘‘

افسانہ امیروں کا انسانی اعضا کی پیوند کاری کے عمل کے ساتھ جہیز کے نام پر ایک لڑکی  کے ارمانوں کے قتل کی داستان بھی بیان کر رہا ہے۔ افسانے کی خوبی اس کا غیر متوقع انجام ہے۔جو جہیز جیسی لعنت اور امیر جیسے مطلب پرست کے منھ پر زوردار طمانچہ ہے۔

سلمیٰ صنم کے افسانوں کی عورت وفا شعار، عجز و انکسار کا پیکر ہے۔لیکن جب مرد کی چالاکی،ظلم، مفاد پرستی بڑھ جائے، پانی سر سے اونچا ہوجائے،برداشت کے آخری حد پار کر جائے تو پھر وہ سیتا سے کالی کا روپ بھی دھارن کرنے میں دیر نہیں کرتی۔

افسانہ ’’پانچویں سمت ‘‘کی رجنی صدیوں سے چلی آرہی پرتھا ’’نیوگ‘‘ کے خلاف احتجاج کرتی ہے۔وہ اپنی ماں بننے کی خواہش کو قربان کر اکیسویں صدی کی باہمت عورت بن کر مہاراج کے سامنے ڈٹ جاتی ہے۔ دور سے آتی بھجن کی آواز اسے اپنی اندر پوشیدہ  پانچویں سمت کا پتہ دے جاتی ہے۔

افسانہ ’’کٹھ پتلی‘‘ سیدھی سادی زبان میں عورت کی کٹھ پتلی بننے کی داستان ہے۔جس میں آسیہ ایک ماں اور بیوی کے روپ میں وفا شعار، صبر و شکر کا پیکر بنی اپنی تمام ذمہ داریوں کو ’’کٹھ پتلی‘‘ کی طرح انجام دے رہی ہے۔ آسیہ ایسی عورت ہے جو شوہر کے ہر حکم کے آگے سر تسلیم خم کرتی ہے۔یہاں تک کہ شوہر کے سیاسی کھیل کا ایک اہم مہرہ بنی تمام غلط کاموں کی معاون بھی بن جاتی ہے حالانکہ اس کے اندر کی عورت اسے ہمیشہ یہ احساس دلاتی ہے کہ:

’’پندار کو ٹھیس لگتی ہے۔انا کا ناگ پھن پھیلائے کھڑا ہوجاتا تو کون ومکان میں ایک ہلچل سی مچ جاتی۔۔نہیں۔۔آسیہ نہیں۔‘‘

لیکن ہر بار بزرگوں کی ہدایت،نصیحت کہ ’’شوہر تو مجازی خدا ہے۔اس کے آگے عورت کی انا۔۔۔۔بے معنی ہے۔‘‘

بس پھر آسیہ کی انا بھی اپنے آپ مر جاتی۔لیکن شوہر کی زیادتی اور بے وفائی پر آسیہ کا پر اعتماد مزاحمتی عمل سامنے آتا ہے۔

’’نہیں آسیہ نہیں۔۔تم اس puppet Showکی کٹھ پتلی نہیں ۔ ‘‘

یہ آج کی عورت کا وہ روپ ہے جسے اپنے وجود کی اہمیت کااحساس ہے۔یہ احساس اس کے اندر ایک نئی آواز،نئی امید اور نیا اعتماد پیدا کرتا ہے۔

اکیسویں صدی کی عورت کا یہ اعتماد ہمیں ’’یخ لمحوں کا فیصلہ ‘‘کی ثانیہ کے پاس بھی نظر آتا ہے جو اپنی کوکھ میں سانس لیتی چوتھی ننھی کلی کے لیے ڈھال بن جاتی ہے۔جسے اس کا باپ جدید ترین ٹکنالوجی کا سہارا لے کر قتل کرنا چاہتا تھا۔لیکن ثانیہ ایک ماں بن کر لمحوں میں فیصلہ کرلیتی ہے کہ :

’’تم گھبرائو مت۔شاید تمھارے ابو کو تمھاری وجہ سے جنت بدر کیے جانے کا خوف ہو لیکن میں تم سے خوفزدہ نہیں ہوں۔تم تو میری جان ہو۔میں تمام مخالفت کے باوجود تمھیں جنم دوں گی اور اس زمیں پر پروان چڑھنے کا حق بھی۔۔۔اس کو لگا بچی نے خوشی سے ایک کلکاری ماری ہو۔ثانیہ کے چہرے پر ممتا کا نور پھیل گیا۔‘‘

افسانہ ’’طور پر گیا ہوا شخص ‘‘دورحاضر کے تقریباً ہر گھر کی کہانی ہے جہاں لڑکیاں سالوں اپنے طور پر گئے شوہر کے منتظر سسرالی عزیزوں کی خدمت کرتی بوڑھی ہوجاتی ہیں۔یہ ہمارے معاشرے کا بہت اہم مسئلہ ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کے روشن مستقبل کے لیے دیار غیر میں ملازمت پیشہ لڑکوں سے شادی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جو محض چند دن کی آسائش اور عمر بھر کی مسافت ثابت ہوتی ہے۔افسانے کا اقتباس دیکھئے:

’’متوسط طبقے میں جانے یہ کیسی وبا پھیلی ہوئی تھی۔آسائشوں کی آگ لینے بے وطنی کے کوہ طور پر جانے والے لڑکوں سے اپنی لڑکیوں کو بیاہ کر انھیں دیا رغیر دھکیلنے کی یا اپنی سر زمین پر انتظار کی تپتی ریت پر آبلہ پا بھٹکنے کی۔۔۔۔۔جودیار غیر سے لدے پھدے آتے کتنی سحر آفریں ہوتی تھی ان کی شخصیت، جن میں ان کا وجود کم اوران کی چیزیں زیادہ نمایاں نظر آتی تھیں۔‘‘

سلمیٰ صنم صاحبہ نے اس افسانے میں معاشرے میں پھیلی اس وبا کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی ہے جو تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس کو روکنا اور اس کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا،بہت ضروری ہوگیا ہے۔ والدین کی یہ سوچ کہ دیار غیر میں ملازمت کرتے لڑکے ہی ان کے بیٹیوں کا مستقبل سنوار سکتے ہیںلڑکیوں کو لامتناہی غم میں مبتلا کر نے کی وجہ بن رہی ہے۔والدین تو بیٹی کو بیاہ کر اپنے فرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں،شوہر بھی اپنے اور اپنوں کے خواب پورے کرنے دیار غیر کی خاک چھاننے چلا جاتا ہے۔پیچھے رہ جاتی ہے تو لڑکی، جو کسی کی بیوی، بہو،بھابی ہے۔اس کی دل جوئی، وقت گزاری کے لیے سسرال کے نہ ختم ہونے والے کام اور طعنے جو اس کی روح و جسم کو ہر لمحہ زخمی کرتے ہیں لیکن ان رشتوں کی ڈور میں باندھنے والا اس کا ہمسفر، اس کے زخموں پر پیار و وفا کا مرہم رکھنے والا شوہر، میلوں دور ہوتا ہے۔

اس افسانے میں معاشرے کے اس رویے پر بھی طنز کیا گیا ہے جو عورت کو مادی آسائشیں دے کر، فطری خواہشوں اور ضرورتوں کو مارنے پر مجبور کرتے ہیں۔اس عمدہ افسانے میں افسانہ نگار نے شوہر سے دور تنہائی کا درد سہتی عورت کے احساسات کی ترجمانی کمال ہنر مندی سے کی ہے۔جس میں عورتوں کا فطری تقاضوں سے مجبور ہوکر کسی سامری کے جال میں پھنسنے کی طرف بھی اشارہ ہے۔پیش نظر اقتباس معنی خیز اور اہم ہے:

’’وہ جو بے وطنی کے کوہ طور پر آگ لینے گیا تھا۔وہ پیغمبری لے کر ضرور لوٹتا مگر اس کے بیچ اگر کوئی سامری آجائے تو پھر کیا ہو؟؟ زینت گھبرا کر سوچتی اور ہاتھ مل کر رہ جاتی۔‘‘

گر واقعی کوئی عورت اپنی فطری جبلتوں سے مجبور ہوجائے اور کسی سامری کے جال میں پھنس جائے تو؟

یہ سوال بہت اہم ہے اگر ایسا ہوجائے تو پھر ہم اس کا قصوروار کس کو ٹھہرائیں گے۔دیار غیر کے امیر لوگوں کو جو انسانوں کو امپورٹ کرتے ہیں،یا والدین کو جو اپنی بیٹی کے شاندار مستقبل کی خام خیالی میں مگن ہیں، یا وہ جو اپنے بیٹوں کو صرف پیسہ چھاپنے کی مشین سمجھتے ہیں۔

افسانہ نگار نے کوہ طور،آگ،سامری،جیسی خوبصورت معنی خیز علامتوں کے سہارے معاشرے میں پنپ رہی ایک اہم برائی کو افسانوی پیرائے میں ڈھالا ہے۔افسانہ مختصر ہوتے ہوئے بھی وسیع مفاہیم کا احاطہ کرتا کامیاب ہے۔

انسان کو اپنی خودی کی پہچان کراتا افسانہ ’’تڑپتا پتھر‘‘بھی مختصر لیکن موضوعی اور معنوی اعتبار سے بے حد اہمیت کا حامل ہے جس میں انسان کو خود شناسی کا درس دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک انسان اپنی ’’میں‘‘کو نہ مار دے تب تک اسے دنیا اور دنیا کی حقیقت کا پتہ نہیں چلتا۔خود شناسی کے لیے ’’میں‘‘ کا خاتمہ ضروری ہے۔خود شناسی ہی خدا شناسی تک پہنچنے کے پہلی سیڑھی ہے۔

افسانے’’قطار میں کھڑے چہرے ‘‘ اور ’’بھیگے کاغذ میں لپٹے ہوئے لمحات‘‘میں موذی بیماریوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔اس مرض کا شکار ہوئے افراد کے اہل خانہ کی تکلیف، اپنوں سے بچھڑنے کا درد افسانے کی ہر سطر سے عیاں ہے۔اول الذکر میں ’’ایبولاــ‘‘مرض کے بڑھتے اثرات، نسل در نسل منتقل ہوتی بیماری کے خوف کو فطری انداز میں موثر پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔اس افسانے کے مطالعے سے موجودہ کرونائی حالات کی درد ناک تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔جہاں ہر طرف لامتناہی اموات کا سلسلہ، ایک ایک کرکے اپنوں سے دور ہونے کا غم، رشتوں میں آتے فاصلے،عزیزوں کے تڑپنے کا کرب سب کچھ قاری خودپر گزرتا محسوس کرتا ہے۔

آخر الذکر افسانے میں ’’الزائمر‘‘کے مرض میں مبتلا مریض اور اس سے جڑے رشتوں کی تکلیف نمایاں ہے۔ یہ افسانہ سائنس و ادب کا حسین امتزاج ہے۔جس میں الزائمر کے جینٹک بیماری ہونے کی تفصیل دلچسپ افسانوی انداز میں اس طرح پیش کی گئی ہے کہ قاری نہ صرف بیماری کی وجوہات، مضر اثرات سے واقف ہوتا ہے بلکہ اس بیماری میں مبتلا مریض اور اہل خانہ کی ذہنی و دلی کیفیات، کرب کو بھی دل سے محسوس کرتا ہے۔

مجموعے میں شامل دیگر افسانوں میں ــ’’پت جھڑکے لوگ‘‘عورت کی بے لوث محبت کی داستان ہے جس میں نئی نسل کی خود سری پر بھی چوٹ کی گئی ہے۔’’پگلا‘‘اپنے موضوع اور پیش کش کے اعتبار سے کامیاب افسانہ ہے۔جس میں مفلسی،بے بسی،جواریوں کی غیر مستقل مزاجی، معصوم بچے کی اپنے بھائی کی روح کو سکون پہنچانے کی کوششوں کو افسانوی پیرائے میں پیش کیا گیا ہے افسانے کا موضوع اور  ’بوڑھا ‘‘کردار اپنے خود غرضانہ فعل کے باعث پریم چند کے افسانہ ’’کفن‘‘ اور اس کے مرکزی کردار ’’گھیسو اور مادھو‘‘کی یاد دلاتے ہیں۔ان کرداروں کی سوچ،بے بسی،خود غرضی، وقتی خوشی،ندامت، ڈھیٹ پن،وہ مشترکہ خصوصیات ہیں۔جو قارئین کے دل میں ان کرداروں سے نفرت کے باوجود ہمدردی کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔

افسانہ ’’مٹھی میں بند چڑیا ‘‘عورت کی بے بسی اور مرد کی مردانگی کی تصویر پیش کر تا ہے۔افسانے میں’’ چائلڈ ابیوز‘‘ کو موضوع بنایا گیا ہے۔شعاع ایک ایسی بے بس چڑیا ہے،جو کم عمری میں پہلی بار سراج کی بند مٹھی میں مسلی گئی۔پھر یہ سلسلہ کئی بار چلتا رہا،لیکن ہر بار مٹھی میں بند چڑیا، پھڑپھڑاکر،تڑپ کر،سسک کر رہ گئی۔شعاع کو سراج کا،معاشرہ کا ڈر خاموش رہنے پر مجبور کرتارہالیکن سراج کے مہلک بیماری ایڈز میں مبتلا ہونے کی خبر شعاع کو دلی سکون عطا کرتی ہے۔

افسانے میں جہاں لڑکیوں کی جنسی استحصال کی درد بھری داستان بیان ہوئی ہے وہیں لڑکوں کے جنسی بے راہ روی کے خطرناک نتائج ایڈز جیسی مہلک بیماری کی صورت سامنے لاکر،اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔

افسانہ ’’سورج کی موت ‘‘ چڑھتے سورج کی پوجا محاورہ پر مکمل صادق آتا ہے ۔ افسانے کا کردار لیاقت خاں کاساہوکاری ختم ہوجانے کے بعد بھی اپنی نام نہاد ’’میں پن‘‘کے زعم میں رہنا،ایسے کئی جاگیرداروں، نوابوں کی یاد دلارہاہے جو چاہ کر بھی اپنے سنہرے ماضی کو بھولنا نہیں چاہتے۔زمینداری، جاگیرداری ختم ہوجانے کے باوجود، اپنی بڑائی کا بھرم رکھنا چاہتے ہیں۔انھیں یہ حقیقت قبول کرنے میں مشکل پیش آتی ہے کہ اب ان کے نوابی ٹھاٹ نہیں رہے،گاؤں میں اب کم تر طبقے کے افراد اپنی تعلیم سے ان سے بڑا عہدہ حاصل کر،ان سے زیادہ مال دار بن گئے ہیں۔افسانہ لیاقت خان کی دلی کیفیت اور بدلے حالات اور رویوں کا عکاس ہے۔

افسانہ ’’میری‘‘سائنس کی ترقی،ڈونر ،پرائی کوکھ کا وضاحتی اشارہ ہے جس میں ایک ماں کے احساسات کی حقیقی ترجمانی ملتی ہے۔افسانے کا مرکزی کردار میری اپنے کوکھ میں کسی اور کے بچے کو سینچتی تو ہے لیکن جسم سے جدا ہوتے ہی اپنی گود خالی کر کسی اور کی گود بھرنے پر مجبورہو جاتی ہے۔ایک  ماں کا اپنے بچے کو خود سے جدا کرنا،تکلیف دہ عمل ہے۔افسانہ ان ہی تکلیف دہ جذبات و احساسات کا عمدہ اظہاریہ ہے۔

مجموعہ کا آخری افسانہ ’’میرے محافظ ‘‘اسلوب اور کردار نگاری کے اعتبار سے فیبل کے زمرے میں آتا ہے۔جس میں دو بوڑھی گائیں اہم کردار ہیں۔افسانہ عصر حاضر کے ایک اہم موضوع  اور مسئلے ’’گئو رکھشک اور ان کے فرقہ وارانہ نظریات ‘‘ کی حقیقت بیان کررہا ہے۔ افسانے میں بے زبان جانور اپنے گائوں سے محافظوں کی تلاش میں در در بھٹکتی پھرتی ہیں۔لیکن ہر جگہ سے ٹھکرائی جاتی ہیں۔ان کے نام نہاد محافظ کا کہیں کوئی نشان نہیں ملتا، تھک ہار کر،قسمت سے وہ اسی در پر پہنچتی ہیں، جس درکے مکیں کو محافظوں نے (گئو ماتا ) قاتل قرار دیا ہے۔رحیم خان جو پیشہ سے قصائی ہے۔لیکن ان دنوں ملک میں آئے نئے قانون اور گئو رکھشکوں کے ڈروخوف کی وجہ سے بے روزگاری کی مار جھیلنے پر مجبور ہوگیا ہے۔اسی کو بوڑھی گایوں کی کمزوری،بد حالی پر رحم آتا ہے۔وہ ان کے لیے چارہ اور پانی کا انتظام کرتا ہے۔لیکن اس کی بیوی ساجدہ گئو محافظ کی قہر سے اس قدر سہمی ہوئی ہے کہ وہ ان گایوں کو گھر سے نکال دیتی ہے۔

سلمیٰ صنم کے اسلوب کی  انفرادیت یہ بھی ہے کہ ان کے افسانوں کا راوی اکثر خود کلامی کے چند جملے بار بار دوہراتا ہے۔یہ جملے معنی خیز اور افسانے کی جان ہوتے ہیںجو قاری کے لیے موضوع کی گہرائی اور گیرائی تک رسائی حاصل کرنے میں معاون بھی ہیں۔اس کے علاوہ افسانوں کے پرتجسس آغاز اور غیر متوقع انجام،قاری کو چونکنے اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔

سلمیٰ صنم صاحبہ نے اپنے  افسانوں کو نئی تشبیہات، استعارات اور علامتوں سے سجایا ہے جس کو ان کے رواں عام فہم اسلوب نے  مزید دلکش اور پر اثر بنادیا ہے۔

مجموعی طور پر’’قطار میں کھڑے چہرے اور دیگر کہانیاں‘‘میں شامل سلمیٰ صنم صاحبہ کے افسانے عصر حاضر کے متنوع موضوعات کا احاطہ کرنے میں کامیاب ہیں جس میں معاشرے اور معاشرتی رویوں اور مسائل کی تئیں ان کی فکر متشرح ہے۔

 

بشکریہ ماہنامہ خواتین دنیا، نومبر 2021

 

Dr. Aisha Farheen

Bi Bi Raza PU College

Khaja Colony

Gulbarga-585104 (Karnataka)

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مشہور شاعروں کا گمنام استاد:باباجمالؔ بہرائچی – جنید احمد نور
اگلی پوسٹ
پریس فار پیس فاؤنڈیشن برطانیہ کے زیر اہتمام منعقدہ ابن آس محمد عالمی تحریری مقابلے کے نتائج کا اعلان

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں