احمد یوسف کے افسانوی مجموعے "آگ کے ہم سائے” میں شامل افسانہ "قصہ حجام کے ساتویں بھائی کا” ایک بہت ہی عمدہ اور ان کا نمائندہ افسانہ کہا جاسکتا ہے۔ اس افسانے کی قرأت کرتے وقت سریندر پرکاش کے مشہور افسانہ "بازگوئی” کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ اس میں بیک وقت داستانوی ماحول اور افسانویت کی بازگشت صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔
افسانہ کا راوی حجام ہے، اس کے ساتویں بھائی کا نام ‘بیزارہ’ اس وجہ سے ہے، کیونکہ یہ آندھی طوفان اور گرجتے بادلوں سے سخت خائف رہتا ہے۔ اس افسانے کا کردار ‘بیزارہ’ سریندر پرکاش کے بازگوئی ‘تلقارمس’ سے ملتا جلتا ہے۔
افسانہ "قصہ حجام کے ساتویں بھائی کا” میں حجام کے ساتویں بھائی ‘بیزارہ’ کی معشوقہ شہزادی کا کردار بہت ہی زیادہ سفاک اور بے رحم ہے۔ جو اپنے ناپسندیدہ شہریوں/ عاشقوں کو آگ سے جلانے جیسا غیر شرعی اور اذیّت ناک سزا دیتی ہے، پھر اس پہ مزید اپنی عشوہ طرازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈھٹائی سے لوگوں کے سامنے آکر مسکراتی بھی ہے:
"وہ تیز دھوپ میں کھڑے کھڑے بے دم سے ہوگئے کہ ان میں سے بہتیرے ایسے تھے کئی کئی وقت کے فاقے سے تھے۔ اتنے ہی میں شہزادی نے چشم و ابرو کے اشارے سے انہیں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھے کا اشارہ کردیا۔ وہ سامنے کے منظر میں ایسے گم تھے کہ انہوں نے پیچھے مڑ کر بھی دیکھنا گوارا نہیں کیا اور یوں ہی کھڑے کھڑے بیٹھ گئے اور تب ان مکّار دراز ریشوں نے جو ان کی پشت پر کھڑے تھے بڑی پھرتی سے ان کی کرسیاں کھینچ لیں اور وہ دھم سے زمین پر آرہے۔ ان نافرمانوں نے کرسیوں کے نیچے کی انگیٹھیلیاں روشن کر دی تھیں۔
خدا وند انہوں نے بڑی دلدوز چیخیں بلند کیں اور اِس سِرے سے اُس سِرے تک ایک قیامت کا سا سماں بندھ گیا۔
وہ آہ وزاری میں کھوئے تھے کہ سامنے سے شاہ زادی اٹھلاتی سو ناز ونخرے دکھاتی ان کے پاس آئی اور اپنے لبوں پر تبسم لاکر کمالِ محبت سے بولی کہ یوں بیٹھا جاتا ہے، تم پر لازم تھا کہ پیچھے مڑ کر دیکھ لیتے۔”
افسانے کے مذکورہ بالا اقتباس کی روشنی میں یہ بات مترشح ہے کہ یہ شہزادی اپنے عاشوق پر ہر طرح کے مظالم روا رکھنے کو نہ صرف جائز سمجھتی ہے، بلکہ اسے اپنا حق تصور کرتی ہے۔ شریعت اسلامیہ کی روشنی میں آگ کی سزا صرف اللّٰه کا حق ہے، لیکن یہ شہزادی اس کو بھی اپنے لیے روا اور جائز سمجھتی ہے۔ اس افسانوی مجموعہ "آگ کے ہم سائے” میں موجود متعدد افسانوں میں آگ کا استعارہ موجود ہے، جو اس افسانے میں بھی ہے۔
بسااوقات انسان اپنی ارذلِ عمر اور کہولت سے آگے بڑھ کر اپنی طبعی عمر کو پہنچ جاتا ہے، جسے ہم پیرِ فرتوت کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ عمر کچھ لوگوں کے لیے ذلت و رسوائی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس افسانے میں موجود حجام اپنے بھائی بیزارہ کی موت کا دعا مانگتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حجام بھی اپنے بھائی کی ذلت وخواری کی زندگی سے مایوس ہوچکا ہے۔ پوری اسلامی تاریخ میں صرف موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی نبوت کے لیے اللّٰه تعالیٰ سے دعا مانگی تھی، کیوں کہ عمومی طور پر دنیا میں پائے جانے والے اکثر بھائی یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے زمرہ میں آتے ہیں جن کے لیے علامہ اقبال نے بھی کہا تھا
بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی
بیچ ہی ڈالیں جو یوسف سا برادر پائیں
الغرض احمد یوسف کا یہ افسانہ بہت ہی عمدہ ہے، جو ان کے منتخب کردہ افسانوں میں سرِ فہرست جگہ پانے کا مستحق ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

