Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

محصور پرندوں کا آسمان: فیکٹس، فکشن اور فیری ٹیلز کی تثلیث – وسیم احمد فداؔ

by adbimiras مارچ 31, 2022
by adbimiras مارچ 31, 2022 0 comment

گذشتہ دنوں میں نے کہیں لکھا تھا کہ ”بچپن کی اپنی الگ ہی بوطیقا ہے، البتہ اگر بچپن اپنے ابتدائی مراحل میں ہی ادب، زیست اور فلسفوں سے مکالمہ کرنے لگے تو اس کی داخلیت میں جو اسرار پلتے ہیں وہ دمِ آخر تک تخلیقیت کی جوت جگاتے رہتے ہیں“

حمیرا عالیہ کے ادبی سفر میں بھی تخلیقیت کی وہی جوت کار فرما ہے جو کم سِنی میں پڑھی اور سُنی گئیں بہت سی داستانوں، قصوں اور پری کہانیوں کے جلو میں پروان چڑھتی ہے۔ انہوں نے بچپن سے ہی ایک تخلیقی ذہن پایا ہے۔ اپنے ادبی سفر کا آغاز حمیرا نے بچوں کے لیے کہانیاں لکھ کر کیا۔ بعد ازاں شعور کی پختگی کے ساتھ ادب، معاشرت اور زندگی کے تئیں پروان چڑھتی فکری بالیدگی نے ان سے بہت اہم اور عمدہ ادبی، معاشرتی اور تبصراتی مضامین بھی تحریر کرائے جو ہند و پاک کے مؤقر و معتبر اخبارات و رسائل جیسے نیا دور، آجکل، پیش رفت، اردو دنیا، جہانِ ادب، کاروانِ ادب اور تسطیر وغیرہ میں شامل ہوتے رہے ہیں۔ ان کا ایک افسانہ ”وبا کے شہر میں محبت“ (سہ ماہی تمثیل،بھوپال: اپریل تا جون ۲۰۲۱ء) بھی نظروں سے گزرا تھا۔

لیکن اس ناول سے پہلے میری محدود دانست میں حمیرا عالیہ کی ادبی شناخت ان کی نظموں کے حوالے سے تھی۔۔۔ آزاد اور بالخصوص نثری نظموں کے نام پر بھاری بھرکم اور عام قاری کی فہم سے بالاتر لفظیات اور گنجلک فلسفوں سے ذہن کو بوجھل کرنے والے شاعروں کے درمیان حمیرا کی ایک مخصوص، پرکیف ردھم اور خوبصورت آہنگ سے پیراستہ نظموں نے اکثر خیالات کی شگفتگی اور احساسات کی خوش گوار تازگی کا احساس کرایا ہے۔ محبت، زندگی اور انسانی جذبوں کی داخلی اور خارجی کیفیات ان کی نظموں میں بہت واضح اور سامنے کی لفظیات کے توسط سے بیان ہوتی ہیں۔

حمیرا کا پہلا ناول ”محصور پرندوں کا آسمان“ بھی بنیادی طور پر عشق، خواب، خواہش، ہوس، ہجر، وصل، فرض، سیاست اور آزادی جیسی انسانی جبلتوں کی داخلی اور خارجی کیفیتوں سے، کہیں ظاہری متن کے ذریعے اور کہیں بین السطور میں پوشیدہ فکر کی زیریں لہروں کے توسط سے بحث کرتا ہے۔

جب میں نے حمیرا عالیہ کے پہلے ناول کے شائع ہونے کی خبر سنی تو میرے ذہن میں اس کے لیے ایک ہلکے پھلکے کیمپس ناول کا تصور تھا جس میں کالج کے روز مرہ واقعات کی بچکانہ سی جزئیات نگاری اور بہت ساری رومانیت سے بھرپور نسائی جذبات کی گل کاری ہوتی ہے۔ لیکن جب پڑھنے بیٹھا تو چند صفحات کے بعد ہی مصنفہ نے ایک باشعور اور پختہ ذہن قلم کار کے طور پر مجھے خوشگوار حیرت میں ڈال دیا۔

”محصور پرندوں کا آسمان“ کئی حوالوں سے معاصر فکشن میں ایک قابل ذکر ناول کے زمرے میں شامل کیے جانے کے لائق ہے۔ حمیرا نے یہ ناول لکھ کر محض رسمی طور پر فکشن نگاروں کی صف میں شامل ہونے کی کوشش نہیں کی ہے- دوسرے لفظوں میں کہیں تو انہوں نے انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام نہیں لکھوایا ہے۔ بلکہ ایسے حالات میں جب نام نہاد قومی تنظیمیں اور حقوقِ انسانی کے بلند بانگ دعوے کرنے والے ثقہ قلم کار علامتوں اور استعاروں میں بھی فرقہ واریت، جبر، اور سماجی و معاشرتی نا انصافیوں پر چند الفاظ لکھنے یا بولنے سے ہچکچاتے ہیں، حمیرا نے متعصب، متشدد اور فرقہ پرست ذہنیت کے علم بردار عناصر کے خلاف کھلم کھلا بیانیہ لکھ کر جلتے انگاروں پر پاؤں رکھنے کا کام انجام دیا ہے۔

لیکن ذرا ٹھہریے۔۔۔! کہیں آپ میری باتوں سے یہ تو نہیں سمجھ رہے کہ یہ ناول محض ہندوستان کے موجودہ سیاسی،مذہبی اور سماجی صورت حال کا بیان یا پھر کچے شعور و ذہن میں پنپنے والی شہزادوں، پریوں اور محبت کی جذباتی اور سطحی سی کہانی بھر ہے۔۔؟ اگر آپ اس طرح کا کوئی مفروضہ قائم کر رہے ہیں تو پھر آپ کو ایک بار ٹھہر کر اس ناول کو پڑھنا چاہئے۔

اولاً ناول سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

”اس نے آنکھیں بند کیں۔۔۔ پھر کھولیں۔۔۔ سامنے کئی رنگ تھے۔۔۔ داخلی دروازے کا بھورا رنگ، آنگن کے بلب کا زرد رنگ، امرود کے درخت کا سبز رنگ، تار پر سوکھنے والے کپڑوں کے مختلف رنگ۔۔۔ نیلا، سرخ، سفید۔۔۔ کبھی ہم غور ہی نہیں کرتے کہ ایک منظر کو مکمل کرنے میں کتنے رنگوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔“

حمیرا عالیہ کے اس ناول کا کینوس بھی مختلف رنگوں اور متنوع شیڈس کی معاونت سے پینٹ کیا گیا ہے- یہاں محبت ہے، نفرت ہے، رشتوں اور تعلقات کے پردے میں چھپی ہوس کی نفسیات ہے۔۔۔ یہاں زندگی کی حقیقتوں کے سفاک رنگ بھی ہیں اور خواب زاروں کی سیر کرانے والی رومان پرور فینٹیسی بھی۔۔۔ یہاں قوم اور ملک پر جان و دل قربان کرنے کا جذبہ رکھنے والی ایک جاں باز اور ہوش مند انسان کی جوانی بھی ہے اور محبت، عشق اور والہانہ پن کو اپنی روح کے اندرون تک جذب کرنے والی نازک اندام شہزادی کے خوبصورت اور معصوم خواب بھی۔

حمیرا کا ناول گذشتہ چھ سات برسوں کے دوران ملک میں وقوع پذیر ہونے والے بہت سے مشہور اور اہم سانحات و واقعات کا احاطہ کرتا نظر آتا ہے۔ اس میں بیف رکھنے کے الزام میں بھیڑ کے ہاتھوں دادری کے اخلاق احمد کا قتل بھی ہے، پہلو خان کی ماب لنچنگ بھی ہے، دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ایک قیدی کو اس کے اہل خانہ تک اطلاع پہنچائے بغیر پھانسی پر لٹکانے کا واقعہ بھی ہے، اور اس واقعے اور سزا کے اس طریق کار سے ناخوش طلباء کا جے این یو میں منعقد ہونے والا وہ احتجاجی پروگرام بھی ہے جس میں کچھ فرقہ پرست سازشی اذہان کی جانب سے کرائی گئی ملک مخالف نعرے بازی نے اس جلسے کو کچھ اور ہی رنگ دے دیا تھا۔

ناول کی کرافٹنگ، ماجرہ سازی، تکنیک، زبان و بیان اور پلاٹ کی خوبی اپنی جگہ لیکن کردار سازی کے حوالے سے حمیرا نے جو تخلیقی جوہر دکھائے ہیں وہ ان کی مشاہداتی نظر و فکر کے غماز ہیں۔

کہانی کا مرکزی کردار رابی (رابعہ علیم الدین) متوسط طبقے کی ایک عام سی دھان پان لڑکی ہے۔ جس کے عام لڑکیوں کی طرح جذبات، احساسات اور خیالات ہیں۔ جو کہانیاں سن سن کر بڑی ہوئی ہے۔ جس کے لیے زندگی پریوں اور شہزادوں کی ایک خوبصورت اور خواب ناک دنیا کا نام ہے۔ جو عام لڑکیوں کی طرح خواب بنتی ہے، کم سِنی میں والدین سے چھوٹی بہن کو ملنے والی توجہ اور پیار کو دیکھ کر کُڑھتی ہے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، خلوص، محبت اور اپنے پن کے ڈھونگ میں پوشیدہ لوگوں کے ہوسناک رویے، محبوب والدین کی خوشی اور خواہش کے احترام میں ایک ناپسندیدہ رشتے سے جڑنے کے بعد تعلقات میں ذہنی و فکری ہم آہنگی کے فقدان سے پیدا ہونے والی ایک طویل ذہنی و جسمانی اذیت، بعد ازاں عشق، ہجر اور نارسائی کے کرب اس معصوم سی لڑکی کو خوابوں کے آسمان سے اٹھاکر حقیقت کی سنگلاخ زمین پر لا کھڑا کرتے ہیں۔

ناول کا یہ نسائی کردار بہت متنوع اور تہہ دار شخصیت کاحامل ہے۔ تہہ داری اس معنیٰ میں نہیں کہ بیک وقت اس کردار کی کچھ جہتیں پوشیدہ ہیں اور کچھ نمایاں، بلکہ تہہ داری اس معنیٰ میں کہ مختلف مواقع پر اس کردار کا نفسیاتی تنوع ہم سے الگ الگ شخصیت کی صورت میں اس کا تعارف کراتا ہے۔۔۔ کبھی وہ محض سیدھی سادی اسکولی بچی نظر آتی ہے۔ کبھی وہ پری کہانیوں اور داستانوں کی دنیا میں جینے والی، زندگی کے اہم مقاصد کے تئیں غیر سنجیدہ لڑکی معلوم ہوتی ہے۔ کبھی محبت کے لیے گھر خاندان اور سماجی بندشوں کے حصار کو توڑنے کی ہمت اور حوصلہ رکھنے والی باغی لڑکی دکھائی دیتی ہے۔ اور کبھی فرقہ پرستی، تعصب، اور اقلیت مخالف سازشی ذہن کی حامل ظالم حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے اپنے شہزادے کو جیل سے رہا کرانے کے لیے اسٹوڈنٹ یونین کے لڑکوں کے ہمراہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر تحریک اور کیمپین چلانے والی؛ قوت ارادی کی مضبوط اور پختہ کار شخصیت کے طور پر ہماری نظروں کے سامنے آتی ہے۔

ناول کا دوسرا اہم کردار جمال احمد ہے۔ بادی النظر میں ہمیں لگتا ہے کہ رابی کے مقابلے یہ کردار قدرے کمزور ہے۔ لیکن اگر ہم اردو کے Male dominated ناولوں میں پیش کیے گیے کرداروں سے اس کا موازنہ کریں تو اردو ناولوں کے بین المتونی جائزے کی روشنی میں جمال کا کردار ایک مکمل، مضبوط اور روایتی ہیرو کے طور پر بایں انداز نظر آتا ہے کہ کہیں ہمیں جمال کی ذات میں ’خدا کی بستی‘ (شوکت صدیقی) کے سلمان کی جھلک دکھائی دیتی ہے جو اپنی قوم کو تعلیمی، معاشی اور اخلاقی پسماندگی سے نکالنے کے لئے ایک این جی او میں خدمات انجام دیتے ہوئے اپنے خوابوں اور خواہشوں کو قربان کردیتا ہے، تو کہیں ہمیں اُس میں ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ (کوثر مظہری) کا رضوان نظر آتا ہے جو فسادات اور فرقہ پرستی کے ماحول سے پیدا گھٹن اپنے ذہن ودل پر ہر لمحہ محسوس کرتا ہے اور اسی تگ ودو میں اپنی جان دے دیتا ہے، اور کہیں اس کردار میں ہمیں شموئل احمد کے اس تیز طرار اور مضبوط قوت ارادی کے حامل ‘چمراسر’ کا عکس محسوس ہوتا ہے جو سیاست اور نفرت کے حکومتی کھیل سے نبر دآزما ہونے کے لیے اور ملک سے تعصب کی آندھیوں کا زور ختم کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

اس کردار میں اتنی Versatility ہے کہ بیک بوقت کئی شخصیتوں کا پرتو اس میں نظر آتا ہے۔ وہ رابی کے خوابوں کی دنیا کا شہزادہ بھی ہے جو کسی طلسمی بد دعا کی بدولت Wonderland سے زمین پر آگیا ہے۔ وہ ملک کے سیاسی حالات پر گہری نظر رکھنے والا جوشیلا نوجوان بھی ہے جو فرقہ پرستی، تنفر اور مذہبی تعصب کی پروردہ نسل کے خوفناک منصوبوں اور ناپاک ارادوں کے تدارک کے لیے روز و شب ایک اضطراب اور بے چینی قلب و ذہن میں لیے پھرتا ہے۔ یہ ناول نگار کی کردار سازی کا اضافی وصف ہے کہ ناول میں جمال کے کردار کی تخلیق اس مہارت سے کی گئی ہے کہ بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ فکشن کی دنیا سے نکل کر ماضی قریب اور حال کے کچھ زندہ اور حقیقی کرداروں کی صورت میں ہمارے روبرو آکھڑا ہوا ہے۔ چنانچہ کبھی جمال احمد کی پر جوش اور ولولہ انگیز انقلابی تقریریں ہمارا دھیان نوجوان لیفٹسٹ کنہیا کمار کی طرف لے جاتی ہیں، تو کبھی اس کی گرفتاری ہمیں جے این یو کے طالب علم عمر خالد کی یاد دلاتی ہے۔ جمال کا کردار پورے ناول کے ڈسکورس کو اتنا محیط ہے کہ اکثر نسائی مرکزی کردار پر حاوی نظر آتا ہے۔

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ فکشن ایک ایسا جھوٹ ہے جو لکھنے والے سے مکمل صداقت اور ایمانداری کا متقاضی ہوتا ہے۔اس قول سے قطع نظر میرا یہ بھی خیال ہے کہ ناول کا فن حقیقتوں اور مفروضوں کے مابین انسانی نفسیات کے روابط تلاش کرنے کا فن ہے۔حمیرا عالیہ نے اس ناول میں کردار نگاری کے توسط سے جہاں سماج میں پنپنے والے کچھ مفروضوں کو ٹھیس پہنچائی ہے وہیں معاشرے میں عام طور پر نظر انداز کیے جانے والے کچھ حقائق کو بھی طشت ازبام کرنے کی کوشش کی ہے۔

ناول کی سطحی قرأت سے قاری اس کے کئی کرداروں پر سوال کھڑے کر سکتا ہے، معترض ہو سکتا ہے اور ناول نگار کے سر جانبداری یا تعصب کا الزام بھی دھر سکتا ہے۔ لیکن اگر ان کرداروں کی گہرائی میں اتر کرکھلی آنکھ اور کھلے ذہن سے اپنے آس پاس موجود اور چلتے پھرتے نظر آنے والے لوگوں کا ناول میں مذکور کرداروں پر انطباق کریں تو ادب کا کوئی بھی باشعور اور ایماندار قاری اس بات کا اعتراف کرنے میں پش و پیش نہیں کرے گا کہ واقعی ایسے کردار ہماری زندگی میں یا ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جو نہ رشتوں کی حرمت و تقدس اور اہمیت کو سمجھتے ہیں، اور نہ ہی اپنے اور دوسروں کے اعتقادات و نظریات میں اعتدال اور تعلقات میں پرسنل اسپیس کی افادیت کے قائل ہیں۔ مثال کے طور پر ناول کا ایک کردار ظفر الدین ہے جو مرکزی کردار کا شوہر ہے۔ اس کردار کی کرافٹنگ کچھ اس طرح ہوئی ہے کہ بہت سے لوگوں کو اس پر اعتراض ہو سکتا ہے۔ ظفر الدین مولوی ہے اور ایک دینی مدرسے کا مہتمم ہے۔ لیکن ذہنی و فکری خیالات کی سطح پر وہ ہمارے معاشرے میں موجود بہت سے ایسے لوگوں کے مماثل ہے جو کالج میں پڑھنے والی ہر لڑکی کو بدکردار اور معاشقوں میں ملوث رہنے والی گردانتے ہیں۔ جن کی نگاہ میں ناول، افسانے بالخصوص منٹو اور عصمت کو پڑھنے والی لڑکی بے حیا، کردار باختہ اور جنسی بے راہ روی کی شکار ہوتی ہے۔

میں نے بہت دن پہلے فیس بک پر لکھا تھا کہ ‘مدارس کے طلباء کا ادبی مطالعہ لے دے کر نسیم حجازی تک محدود ہے اور اگر بہت زیادہ کسی کو مواقع میسر آئے تو اپنے اساتذہ سے چھپ چھپاکر ابن صفی سے متعارف ہو گئے۔ اردو کے سنجیدہ ادب کو مدارس کے طلباء کے لیے ہمیشہ شجر ممنوعہ باور کرانے کی کوششیں کی گئیں -‘ ادب کے تعلق سے جن لوگوں کی ذہنی تربیت ایسے ماحول میں ہوئی ہو ان کے لیے منٹو اور عصمت کے افسانے اخلاق سے گرے ہوئے اور کردار کش سمجھے جائیں تو اس میں کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔

ظفر اپنی بیوی کومحض اس لیے زدو کوب کرتا، اور اس کے کردار پر شک کرتا ہے کہ وہ کالج میں پڑھتی ہے اور منٹو کے افسانوں کا مطالعہ کرتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بہت سے قارئین کے لیے یہ کردار بالخصوص اس کا مولوی ہونا ناول نگار کو مولوی برادری سے تعصب رکھنے والا ثابت کرے۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ ناول کا فن حقائق اور مفروضوں کے درمیان انسانی نفسیات کے روابط تلاش کرنے کا فن ہے، اور پھر شخصیات کے منفی یا متضاد پہلو اور رویے تو ہر معاشرے اور ماحول سے ملحقہ افراد کی ذات کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اس میں کسی کی تخصیص نہیں۔ حمیرا عالیہ نے بھی کردار سازی کے حوالے سے اس اصول کو نہ صرف مد نظر رکھا ہے بلکہ اس پر ایمانداری سے عمل پیرا بھی نظر آتی ہیں۔ ناول میں صرف ایک مولوی(ظفر) کا منفی کردار ہی نہیں ہے بلکہ ایک ایسے مولوی کا کردار بھی ہے جو مرکزی کردار نہ ہوتے ہوئے بھی پورے ناول کو اخلاقی سطح پر ایک مثبت فضا مہیا کراتا ہے، اور وہ رابی کے باپ مولوی علیم الدین کا کردار ہے۔ جب ہم کھلے ذہن کے ساتھ ان دونوں کرداروں کا تقابلی تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ ناول میں ظفر کا کردار کسی تعصب یا کج ذہنی کی پیدا وار نہیں، بلکہ یہ کردار کسی بھی شخص کو اخلاقی حوالوں سے قطع نظر محض سماجی بالخصوص مذہبی منصب و عہدہ وغیرہ کے اعتبار سے معزز و محترم ہونے کی بنا پر خطا سے پاک اور نفسِ امارہ کے حملے سے محفوظ تصور کرنے والے ہمارے غیر منطقی مفروضے کو چیلنج کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ناول نگار کی منشا کو شک کی نگاہ سے دیکھنا اس وجہ سے بھی مناسب معلوم نہیں ہوتا کیونکہ اس ناول میں بدطینت اور برا کردار صرف ایک مولوی کاہی نہیں ہے، بلکہ یونیورسٹی کے ایک طالب علم ’یش‘ کا کردار بھی ہے جو محبت اور تعلق کے نام پر رابی کو فحش اور غیر اخلاق پیغامات بھیج کر اسے ذہی طور پر ہراساں کرتا ہے۔ ان دونوں منفی کرداروں کو ناول میں پیش کرکے حمیرا عالیہ نے ثابت کیا ہے کہ اخلاقی تنزلی اور سطحی ذہنیت کسی بھی ماحول کے فرد کی ذات کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

ناول میں رابی اور جمال جیسے مرکزی حیثیت کے حامل کرداروں کے علاوہ بہت سے ذیلی کردار بھی ہیں جو ناول کی بنت اور پلاٹ کو مربوط کرنے میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ رعنا، مریم اور زینب وغیرہ کے ذریعہ جہاں مصنفہ نے سماج میں رشتوں، شادیوں نیز تہذیبی اور شخصی آزادی کے حوالے سے بین الثقافتی تفاوت کو زیر بحث لانے کی کوشش کی ہے وہیں اگر ہم کچھ جہات پرغور کریں تو عام سی نظر آنے والی اشیاء اور جانوروں کو بھی انسانی نفسیات اور فرد کے سماجی و اخلاقی رویوں کے اظہار کو سمجھنے کا وسیلہ بنایا ہے۔ مثال کے طور پر ناول میں ’آکانشا کا کتا‘ اس وقت ایک اہم تشبیہی حوالہ بن جاتا ہے جب مرکزی کردار کے پڑوس میں رہنے والے نعیم بھائی اس کے جسم کو جنسی طور پر اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نعیم بھائی کو مرکزی کردار کے والدین اپنے بیٹے جیسا مانتے ہیں اور آنکھ بند کرکے اس پر بھروسہ کرتے ہیں، اس لیے اپنی غیر موجودگی میں کمسن بیٹی کو نعیم کی ماں کے سپرد کر جاتے ہیں۔ لیکن بھروسہ اور وفا داری۔۔۔ اگر ہم غور کریں تو یہ دونوں رویے ازل سے ہی انسانی ذات کا حصہ ہوتے ہوئے بھی جبلی اعتبار سے باہم متصادم نظر آتے ہیں۔ یہاں کتا اس سوال کا استعارہ بن کر ابھرتا ہے کہ وفا دار تو کتا بھی ہوتا ہے، مگر بھروسہ۔۔۔؟

اس کے علاوہ ناول میں مذکور دیگر کردار؛ ودیارتھی پریشد کا نائب صدر، ظفر الدین کا خالہ زاد اشہر، گھر میں کام کرنے والی ماسی، بوڑھا مالی، آٹو ڈرائیور یہاں تک کہ بیگم صاحبہ کا پاندان، امرود کا درخت، اور پرندے غرض کہ کوئی ایسا ذی روح اور غیر ذی روح کردار نہیں جو شعوری طور پر ناول نگار کی فکری حسیت کی گرفت میں آکر بیانیہ کا لازمی اور اہم حصہ نہ بنا ہو۔

تکنیک، بنت یاٹریٹمنٹ کے لحاظ سے بھی ’محصور پرندوں کا آسمان‘ ایک عمدہ ناول کا تأثر ذہن پر چھوڑتا ہے۔ بلکہ پہلا ناول ہونے کی حیثیت سے اگر دیکھا جائے تو زبان و بیان کی پختگی قاری کے ذوق کو خوش آئند احساس کراتی ہے۔ بہت شفاف اور نکھرے ہوئے جملے ہیں۔ خاص طور پر جہاں جہاں بیانیہ فینٹیسی کی طرف گیا ہے وہاں نہایت ہی خوبصورت اور تخلیقی جملے ایک خواب ناک کیفیت کا احساس کراتے ہیں۔ کہانی بہت عمدہ بنی گئی ہے۔ کہیں کوئی جھول نہیں۔ پلاٹ مربوط ہے۔ کئی مقامات پر منظر کشی اور جزئیات نگاری میں مصنفہ نے کمال کیا ہے۔ کچھ واقعات اور مناظر یوں لکھے گیے ہیں گویا فلم کے پردے پر کردار زندہ دیکھے جا رہے ہوں۔ جیسے انڈیا گیٹ پر جمال کی رہائی کے لئے احتجاج اور کیمپین کے منظر کو لکھتے وقت مصنفہ کا قلم بیحد رواں اور فطری انداز میں بیانیہ پر اپنے تخلیقی نقوش ثبت کرتا چلا جاتا ہے۔ اس طرح کے مناظر کو لکھنے میں ایک خوبی یہ نظر آئی کہ حمیرا نے فیکٹس کو فکشن بنانے میں ایسی زبان اور جملوں کا استعمال کیا ہے کہ متن نیوز رپورٹنگ یا صحافتی تحریر بننے سے یکسر محفوظ رہا ہے۔ اور یہ ایک قلم کار کی بڑی کامیابی ہے۔ ورنہ بہت سے بڑے فکشن نگار بھی اس ڈگر پر ڈگمگاتے نظر آتے ہیں۔ اس ضمن میں کئی ناولوں کی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں، لیکن سر دست میں ارندھتی رائے کے ناول ’The Ministry of Utmost Happiness‘ کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ارندھتی رائے ہمارے عہد کی ایک بڑی فکشن رائٹر ہیں، اور بہر حال ان کا یہ ناول بھی معاصر فکشن میں اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن اس ناول میں کئی مقامات پر سیاسی واقعات اور فیکٹس کو لکھتے ہوئے ارندھتی رائے بھی فکشن پر صحافتی رنگ چڑھنے سے متن کو محفوظ نہیں رکھ پائی ہیں۔حمیرا نے اپنے ناول میں فیکٹس اور واقعات کو اس چابک دستی اور ہنرمندی سے فکشن کے قالب میں ڈھالا ہے کہ وہ فکشن کا ایک مضبوط اور مربوط حصہ معلوم ہوتے ہیں اور فکشن کی جمالیات کو کوئی ٹھیس پہنچائے بغیر ناول کے ڈسکورس کا تلازمہ بنتے ہیں۔ اس تناظر میں حمیرا اپنے ناول کو صحافتی تحریر بننے سے تو بچا گئی ہیں، لیکن اس طرح کے واقعات کو پڑھتے ہوئے ایک دو جگہ متن سے سنیمیٹک امیجری (Cinematic Imagery) کا تأثر ابھرتا ہے، اس طور کہ کہیں کہیں پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تیزی کے ساتھ آنکھوں کے سامنے سے گزرنے والے سیاسی مناظر کی عکس بندی کی شکل میں پرکاش جھا کی کوئی فلم دیکھ رہے ہیں۔ اب پتہ نہیں کہ یہ ناول کی خوبی ہے یا خامی۔ (جنھوں نے پرکاش جھا کی فلمیں دیکھی ہیں شاید وہ میری بات کو بہتر طور پر سمجھ کر یہ طے کر سکیں۔)

ایک اہم بات اس ناول کی تکنیک کے حوالے سے یہ ہے کہ مصنفہ نے ناول کی فضا بندی میں بڑی مہارت کے ساتھ داستانوں، جادوئی کہانیوں اور فیری ٹیلز کی مدد سے ایک طلسماتی اور دیو مالائی تأثر بھی قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اسی طلسماتی فضا بندی اور حقیقی واقعات کے بیان پر اطلاق کرتے ہوئے شاید ناشر نے کتاب کے بیک فلیپ پر ناول کو جادوئی حقیقت نگاری اور فینٹیسی کے اشتراک سے پیدا ایک نیا انداز تحریر ہونے کا ذکر کیا ہے۔ میرے خیال سے اس طرح کی رائے دینے سے پہلے ہمیں خیال رکھنا چاہئے کہ کتاب کے حوالے سے جو ہم بات کہہ رہے ہیں وہ فی الحقیقت بجا بھی ہے؟ کہیں تعارف میں ناشر کی جانب سے لکھی گئی کسی بات سے کتاب کے متن سے متعلق قاری گمرہی کا شکار تو نہیں ہو جائے گا؟

بہر حال اس ناول میں ہر چند کہ فینٹیسی کا خوبصورت استعمال کیا گیا ہے لیکن جادوئی حقیقت نگاری کا متن سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ اس ضمن میں ہمیں جادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک کے تعلق سے لکھے گیے مضامین اور گفتگو کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میں یہاں اس تکنیک سے متعلق بہت سے مضامین سے اقتباسات وغیرہ لگا کر گفتگو کو طول دینے کے بجائے اس تکنیک پر لکھے گئے بہت سے ناولوں کا سرسری ذکر کرنا بہتر سمجھتا ہوں، جس کی روشنی میں ناول کی پڑھت پر شعوری نظر رکھنے والے قارئین خود اندازہ کر سکیں کہ مذکورہ ناول میں اس تکنیک کو بروئے کار لایا گیا ہے یا نہیں۔

زیرِ گفتگو ناول پر تبصرہ کرتے ہوئے ناول تکنیک کا عمدہ درک رکھنے والی قابل احترام سفینہ بیگم صاحبہ نے اپنے لفظوں میں جادوئی حقیقت نگاری کی تکنیک کو سمجھنے میں معاون مختصر مگر جامع گفتگو کی ہے۔ میں ان کی ہی گفتگو کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس ضمن میں بس چند ناولوں کا ذکر بطور مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ جادوئی حقیقت نگاری فکشن کی وہ تکنیک ہے، ناول میں جس کے استعمال کا آغاز لاطینی امریکی فکشن نگاروں نے کیا۔ بعد ازاں دنیا بھر کے ادب میں اس تکنیک کو برتنے کی کوششیں کی گئیں۔ اپنے محدود مطالعے کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جادوئی حقیقت نگاری کی سب سے بڑی اور عمدہ مثال مارکیز کا ناول ’One Hundred years of Solitude‘ ہے۔گو کہ مورا کامی اور اورحان پامک کے کچھ ناولوں میں بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر اس تکنیک کو برتنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن مارکیز نے جس طرح سے اپنے متن کو جادوئی حقیقت نگاری سے ہم آمیز کیا ہے وہ ناول نگاری میں اسی کا حصہ معلوم ہوتاہے۔ میری ناقص فہم کے اعتبار سے تو میلان کنڈیرا کے ناول ’IDentity‘ میں بھی کئی مقامات پر اس تکنیک کا استعمال نظر آتا ہے۔ ان ناولوں کے سرسری جائزے کے بعد اگر حمیرا کے اس ناول کو دیکھیں تو میرے خیال سے یہ واضح ہو جانا چاہئے کہ مصنفہ نے معاشرت، حقیقت، فینٹیسی، فکشن، فیکٹس اور فیری ٹیلز کو ناول کے ڈسکورس کا حصہ اس مہارت اور عمدگی کے ساتھ بنایا ہے کہ ’محصور پرندوں کا آسمان‘ کو نہ تو ہم محض ایک سیاسی ناول کہہ سکتے ہیں، نہ ہی یہ صرف ایک معاشرتی ناول کے زمرے میں آتا ہے اور نہ ہی اس کو بس ایک رومانی کہانی کہہ کر اس سے سرسری گزرا جا سکتا ہے۔ بلکہ یہ ناول اپنے واقعاتی تنوع اور اسلوبیاتی و نظریاتی کثیر الجہتی کی روشنی میں ایک بین الموضوعی کولاژ بن گیا ہے جس کو جادوئی حقیقت نگاری کا تو نہیں البتہ فکشن، فیکٹس اور فیری ٹیلز کا عمدہ اور خوبصورت تکنیکی و تخلیقی امتزاج ضرور کہا جا سکتا ہے۔

میرے لیے ناول وہیں ختم ہو گیا تھا جہاں ایک طویل اور صبر آزما انکار کے بعد جمال رابی سے شادی پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ لیکن حمیرا نے رہائی کے بعد جمال کی Post Traumatic Stress Disorder کی کیفیت اور پھر اس کے بعد رابی کی محبت اور توجہ کے عوض جمال کو ملنے والی ذہنی رکوری کو بھی دکھانا تھا۔ اور سب سے اہم بات جو اس ناول کے اختتام کو Post Climax تکنیک سے ہم آہنگ کرتی ہے وہ اسٹوڈینٹ یونین کی طرف سے جمال کے پرجوش استقبال اور فرقہ پرستی کے خلاف جنگ میں اس کی پرعزم واپسی کا منظر ہے۔

عرشیہ پبلیکیشنز، دہلی نے اپنی سابقہ روایت کے مطابق یہ کتاب بھی بہت نفاست اور اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے۔ سرِ ورق، ٹائٹل فونٹ، جلد بندی، کاغذ، طباعت وغیرہ بہت عمدہ اور شاندار ہیں۔

ایک دو جگہ جملوں میں معمولی سہو ہے۔ جیسے ” ہمارے معاشرے میں محبت ایک لعین جذبہ کیوں بنتا جا رہا ہے۔” میرے خیال سے یہاں لعین کی بجائے ملعون ہونا چاہیے تھا۔ اچھی بات یہ ہے کہ کتاب میں ٹائپنگ کی کوئی قابل گرفت غلطی نہیں ہے جو اردو کتابوں کے لیے بہر حال خوش کن حیرانگی کا باعث ہے۔

مجموعی طور پر حمیرا کے اس پہلے ناول کی قرأت ادب کے ہر باذوق اور کشادہ فکر قاری کو فکشن، فیکٹس اور فینٹیسی کے اشتراک سے ایک خوبصورت، دلکش اور عمدہ افسانوی حظ ادا کرتی ہے۔

میں حمیرا عالیہ کو پہلے ناول کی اشاعت اور اس کے دوسرے ایڈیشن کے اعلان پر صمیم قلب سے مبارک باد پیش کرتا ہوں، اور ان کے ادبی مستقبل کی تابناکی کے لیے دعا گو ہوں….!

 

_______ وسیم احمد فداؔ

سکندر گیٹ، ہاپوڑ (یوپی)

موبائل نمبر : 9

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
این سی ای آر ٹی کے نصاب میں شامل افسانے – مہرین قادر حسین علی جان
اگلی پوسٹ
نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک میں او بی سی طبقے کو مضبوط کریں گے: نظیفہ زاہد

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں