تم نے کھول رکھے ہیں بے رخی کے دروازے
بن کے سانپ ڈستے ہیں اب گلی کے دروازے
خودکشی پہ آمادہ ہو گئے ہیں سب جگنو
کھل گئے چراغوں سے روشنی کے دروازے
اب زمین لگتی ہے مانگ ایک بیوہ کی
بند ہو گئے شاید چاندنی کے دروازے
جب اندھیری راتوں میں حوصلوں کے پر نکلے
ہر طرف نظر آئے روشنی کے دروازے
اس سے پہلے آنگن کے پانچ پانچ ٹکڑے ہوں
بند کر مرے مولی زندگی کے دروازے
ڈگریاں سند لیکر لوگ ہوگئے بوڑھے
کیوں نظر نہیں آتے نوکری کے دروازے
دشمنی کے ہر تالے کٹ گئے مروت میں
جب سے ہم نے کھولے ہیں دوستی کے دروازے
چاہے اس کے قدموں میں دل کو رکھ دو یا سر کو
عشق نے ہی کھولے ہیں بندگی کے دروازے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

