کامی شاہ کا ایک چہرہ ہے جس پر وحشتیں اور رتجگے رکھے ہیں، اسے تخلیق کا عذاب بخشا گیا ہے تو وحشتیں اور رتجگے اس کے دوست بن گئے ہیں، لگتا ہے دوستی بہت پرانی ہے اور اس پرانی دوستی کا جو بھرم ہے کامی شاہ اسے بھرپور طریقے سے نبھارہا ہے کیونکہ وہ ایک بھرپور آدمی ہے، وہی آنکھیں، وہی ہاتھ، وہی چہرے پر آہستہ آہستہ سوچ و بچار سے آجانے والی جھریاں، اسے دن بدن خوبصورت بنائے دے رہی ہیں کہ جو مٹی استعمال کی گئی ہے اس میں اداسی کے بے پناہ رنگوں کی آمیزش ہے، اور یہی آمیزش اس کے تخلیقی پنوں پر زندگی بن کر چمکتی ہے۔
وہ زندگی اور موت کے درمیان کا آدمی ہے۔ ایک کھنڈی ہوئی زردی اس کے پوروں پر یوں رکھی ہے کہ اسے چین نہیں لینے دیتی کہ چین اس کے لیے دور ہوتی جاتی اُس منزل کا نام ہے جس کی تلاش میں وہ بے چینی اور اضطراب کی تیز رفتار لہروں میں بہے جاتا ہے۔ بہے جانے کی یہ خاصیت اسے کامی شاہ بناتی ہے۔
کامی کو میں بہت عرصے سے جانتا ہوں۔ وہ تخلیق کا آدمی ہے، اس کا تخلیقی وفور اس کی تخلیقات سے عیاں ہے۔ وہ شاعر بھی ہے اور کہانی کار بھی اور اس نے کبھی ان دونوں تخلیقی اذیتوں کو ایک دوسرے میں چھپنے نہیں دیا، اس نے کمال کی شاعری کی ہے، محبتوں اور دکھوں کے درمیان سجی، بنی اس کی شاعری کچھ ایسی ہے جیسے بہتے دریا کی روانی میں بھنور رکھے ہوں اور خزاں جاتی بہار سے منہ نکالے جھانکتی ہو۔ یہ خزاں آلود زندگی ہے جس میں وہ بہرحال سانس لیتا رہا ہے، وہ سانس نہ لے تو یہ زندگی نہ رہے، زندگی جو اس پر مسلط کی گئی ہے اور اسی مسلط کی گئی زندگی کے جبر نے اسے لکھنے پر اُکسایا ہے ، کوئی ایسا حکم جو چوٹ کھائے آسمان سے اس پر اُترا ہو اور وہ زندگی کی یکسانیت سے بے زار‘ اس فریب میں آگیا ہو، یہ فریب کہ وہ زندگی تلاش کرسکتا ہے جو اس کی پوروں میں چھپی ہے، وہ اپنی پوریں دیکھتا ہے، وہ زردی میں کھنڈی کچھ لکھنے کو بے قرار ہیں، وہ لکھتا ہے کہ شاید جب سارے خزاں آلود لفظ لکھ دیے جائیں تو کہیں بہار کا شائبہ عورت کے پنڈے کی طرح چمک مار جائے، لیکن ایسا ہو نہیں پارہا، لفظوں کا انبار جس میں زرد پھولوں کی مہک ہے، اس عورت کے پنڈے کی چمک کو چھپائے ہوئے ہے جس کی تلاش اس کی آنکھوں میں رت جگے اور چہرے پر جھریوں کا جال بُن گئی ہے۔
ایک بار جب شام، رات بن رہی تھی اور ہم ہجوم سے ٹوٹ کر کسی تنہا اُداس جگہ پر بیٹھے تھے وہیں اس کی آنکھیں بھی موجود تھیں جنہیں وہ کہیں بھول نہیں آیا تھا، ان آنکھوں میں مَیں نے اس عورت کو دیکھا تھا، وہ بہار زدہ عورت تھی جس کو پانے کی تلاش میں وہ خزاں آلود لفظوں کی دیواریں اور در بناتا رہا ہے۔ پھر سیڑھیاں بھی ہیں جو اُوپر لے جاتی ہیں، جہاں زرد چاند اپنی صورتیں بدلتا بار بار سامنے آجاتا ہے، لیکن وہ عورت کہیں نہیں جو اس کی رت جگے سے بھری آنکھوں میں بسی ہے اور اس کی پوروں کی زردی کی ساخت نظر آتی تہہ میں چھپی ہے۔ اسے ایسی ہی عورت دی گئی ہے جو بے شرم اور بے لباس، مگر خود کو چھپائے کہ جان بوجھ کر سامنے نہیں آتی کہ اس کے سامنے آنے سے سارا طلسم ٹوٹ جائے گا اور میرا کہانی کار زرد پوروں سے کہانیاں نہیں لکھ پائے گا۔
لیکن کہانیاں لکھنا تو خود اذیتی ہے جو اس کی ذات کا حصہ ہے جب وہ اپنے اِرد گرد پھیلی کائنات میں اذیت در اذیت کردار دیکھتا ہے اور جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں تو خود اذیتی اسے اپنے آپ میں قید کردیتی ہے۔ جہاں اندھیرا ہے محض اس کی پوریں چمکتی ہیں، وہی زردی مائل پوریں جواسے ودیعت ہوئی ہیں اور جن کی بدولت وہ پوری کائنات کے دکھوں پر آنکھیں جمائے بیٹھا ہے اور کائنات ہے کہ روز نئے دکھ کے ساتھ اس کے سامنے آن بیٹھتی ہے، کبھی کبھی لگتا ہے یہ کائنات ہی وہ عورت ہے جس کے پنڈے نے اسے مار ڈالا ہے اور بے لباسی نے ایسے ایسے رنگ دکھائے ہیں کہ دل نہیں بھرتا۔ میرا کہانی کار آنکھوں میں بس جانے والی نیند کو بھی اس پر قربان کردیتا ہے اور رتجگوں کی کرچیاں بے چین نظروں میں لہو بھرتی جاتی ہیں۔ یہ لہو صفحوں پر جابجا بکھرا ہے ، ایک دن یہ گلیوں، محلوں سے ہوتا پورے شہر کو اپنے حصار میں لے لے گا اور خود اذیتی کا شکار میرا کہانی کار یوںہی نظریں جمائے بیٹھا رہے گا کہ اسے یہی کام ودیعت کیا گیا ہے جسے وہ بخوبی نبھارہا ہے، کاش وہ اپنی رتجگوں سے بھری آنکھوں اور زردی میں کھنڈی پوروں کو کچھ لمحوں کے لیے آرام دینے کا سوچ سکے لیکن عورت کے پنڈے کی طرح روز بروز بدلتی کائنات اسے ایسا نہیں کرنے دیتی۔ وہ خود بھی مجبور ہے جو عادت اسے لگی ہے وہ کب جان چھوڑتی ہے۔ آہستہ آہستہ لہو چوستی ہے، کسی ندیدی مادہ کی طرح جو اپنے شکار پر نظر باندھے بیٹھی ہو۔
میں نے ہر ممکن طور پر اسے جاننے کی کوشش کی ہے لیکن وہ پارے کی طرح ادھر ادھر پھسلتا میرے مشاہدے سے نکل جاتا ہے۔ وہ باہر ہے ہی نہیں کہیں بہت اندر کسی کونے کھدرے میں چھپا بیٹھا ہے، اپنی پسندیدہ اشیاء پر نظر جمائے جو اسے ان ننگے کاغذوں تک لے جائیں جن پر اس نے لفظوں کا لباس پہنانا ہو، یہ ست رنگی لباس ہے لیکن لہو رنگ اور زرد رنگ زیادہ چمکتے نظر آتے ہیں کہ اس کی شخصیت پر جگہ جگہ چپکی اداسی نے اسے یوںہی لکھنا سکھایا ہے۔ یہ دلفریب اداسی ہے اور میں اس کی اداسی کا دلدادہ ہوںاور اسے اپنے بہت قریب محسوس کرتا ہوں۔
ڈاکٹر ارشد رضوی، کراچی۔
۶؍مئی۔ ۲۰۲۲ء
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

