اسلوب لفظوں کے انتخاب و تزئین ، جملوں کی ساخت اور ابلاغ کامل کے امتزاج سے وجود میں آتا ہے۔ تشکیلِ اسلوب کا یہ عمل شعری اور نثری فن پاروں کے لئے حد درجہ مددگار ثابت ہوا ہے۔ مطالعۂ اسلوب کے تناظر میں شعری اور نثری فن پاروں کے مابین بنیادی فرق ہے۔ شاعری تخیل جذبات کی ترجمانی کا منظم اور موزوں وسیلہ ہے۔ جنہیں مخصوص لوازم کے سہارے ترتیب دیا جاتا ہے۔ نثر نگاری میں سوچے سمجھے خیالات ، نپے تلے بیانات اور علم و آگہی کا پرکیف انداز شامل تحریر ہوا کرتا ہے۔ نثری اسلوب میں ایک بات قدر مشترک تسلیم کی گئی ہے کہ ادائے خیال مخصوص ہو۔ یہاں ادائے خیال کا مخصوص طریقہ دو باتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ مصنف عنوان سے استوار ہوکر پورے علم و آگہی کے ساتھ اپنی بات کہے اور دوسری بات یہ کہ آسان سے آسان لفظوں کے سہارے عام فہم انداز میں پڑھنے والے کے ذہن تک بات منتقل ہوجائے۔ اس طرح معلوم پڑتا ہے کہ اسلوب ادیب کی شخصیت کا مظہر ہے، ابلاغ خیال کا وسیلہ ہے، اور ادب کا ایک اہم تقاضا بھی ہے۔ اسلوب کا یہ تین پہلو بادی النظر میں ایک دوسرے سے بہت دور دکھائی پڑتا ہے۔ لیکن حقیقت میں اس طرح ہم آمیز ہے کہ ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ شخصیت کا حقیقی مظہر وہی اسلوب ہوسکتا ہے جس کے ذریعہ مصنف کے خیالات اور احساسات پورے سلیقہ کے ساتھ پڑھنے والوں کے ذہن تک منتقل ہوجائے۔ اس طرح نثری اسلوب کی تعریف ہم ان الفاظ میں بیان کر سکتے ہیں کہ اسلوب سے مراد کسی بھی انشا پرداز کا وہ مخصوص فنکارانہ طریقۂ کار ہے جس کی مدد سے وہ اپنے خیالات و احساسات قاری تک پہونچانے کی مزید کوشش کرتا ہے۔
اردو زبان و ادب میں بے شمار ایسے اہل قلم پیدا ہوئے ہیں، جنہوں نے مختلف زاویوں سے اردو کے خزانے کو مالا مال کیا ہے۔ صرف کسی خاص فن یا موضوع پر ہی انہوں نے اپنی خدمات انجام نہیں دیں بلکہ متعدد اصناف میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ میرا ماننا ہے کہ فن پارہ کی افہام و تفہیم کے لئے ہر دور میں درجہ بندی کے اعتبار سے تین طرح کے انشائ پرداز ہوئے ہیں:
(الف) علم و آگہی اور زبان و بیان کی خدمت کے لئے لکھنے والے انشاپرداز
(ب) رجحانات و تحریکات سے منسلک ہوکر لکھنے والے انشا پرداز
(ج) تواتر اور تسلسل کے ساتھ مختلف مضامین پر لکھنے والے انشا پرداز
الغرض اس سے متعلق یکے بعد دیگرے ہر خانہ سے منسوب انشا پردازوں کی ایک طویل فہرست ہے یہاں اس کی وضاحت فضول ہے۔ اس تناظر میں ڈاکٹر احسان عالم کی انشاپردازی تواتر اور تسلسل کے ساتھ مختلف مضامین پر لکھتے ہوئے واقع ہوئی ہے او ریہ طئے شدہ حقیقت ہے۔ مجھے ذاتی طور پر موصوف کے مضامین کا احتساب کرتے ہوئے یک گونہ خوشگواری کا احساس ہوا ہے۔ اس لئے کہ عنوان کے پیش نظر کتاب ’’آئینۂ تحریر‘‘ ڈاکٹر احسان عالم کی زندہ دلی ، دل سوزی اور ذہنی کاوش کا ثمرہ ہے۔ سنجیدگی ، علم و آگہی اور عام فہم انداز لئے ان کی تحریریں اول تا آخر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ تواتر سے لکھتے رہنے کا عمل اک حسین عمل ہے۔ اس تناظر میں واقعی احسان عالم ذی فہم اور ذی شعور تسلیم کئے گئے ہیں۔ اس لئے کہ عنوان سے استوار ہوکر بات کہنے کا ہنر، جملے کی تراش و خراش، اور سلیس لفظیات کا عمدہ طریقہ اپناتے ہیں۔ یہ وصف برسوں محنت کے بعد ان کے حصے میں آیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر یہی انداز رہا تو اک نہ اک دن نمایاں انشاپرداز کی فہرست میں دیکھے اور پرکھے جائیں گے۔ ادب کا ہر سنجیدہ قاری احتساب کے ہر پہلو سے گذرے گا جس میں احسان صاحب کھڑے اور مسکراتے نظر آئیں گے ۔ جیساکہ اردوا دب کا معتبر ناقد اور ماہر اسلوب انشاپرداز ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی کی باتوں سے محسوس ہوتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
’’نقاد کو بنیادی طور پر فنکار کا ہمدرد ہونا چاہئے تاکہ وہ بے جا تنقید سے دامن بچاسکے۔ لیکن جو معائب نظر آئیں ان کی طرف اشارہ بھی ضرور کرے۔ تحسین اتنی بلند نہ ہو کہ ثنا خوانی بن جائے اور تنقیص ایسی پست نہ ہو کہ وہ دشنام طرازی بن جائے۔ تنقید میں توازن اور اعتدال بے حد ضروری ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ شروع ہی میں ڈاکٹر احسان عالم نے یہ بات سمجھ لی ہے۔ اس لئے ان کے خیالات افراط و تفریط یا انتہا پسندی سے پاک ہیں۔‘‘
’’آئینۂ تحریر‘‘ سے قبل موصوف کی چار کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں مثلاً ’’متفرقات طرزی‘‘ (ترتیب۔۲۰۱۴) ، ’’مکتوبات‘‘ (ترتیب ۲۰۱۴)، ’’طبیب ، طب او رصحت‘‘(ترتیب ۲۰۱۶) اور ’’مولانا ابوالکلام آزاد :افکار و نظریات ‘‘ (تصنیف۔ ۲۰۱۶)۔ سال اشاعت پر اگر غور کیا جائے تو احسان صاحب کی حیثیت ادبی حلقوں میں یک گونہ خوشگواری کا احساس دلائے گی۔ ’’آئینہ تحریر‘‘ میں شامل کل انیس مضامین ہیں جس سے مصنف کا ذہن ، سماجی رشتہ، ادبی دلچسپی پڑھنے لکھنے کا ذوق اور اردو زبان سے والہانہ لگائو جس حد تک تعریف و تحسین کے لائق ہے، دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر علامہ اقبال، سرسید احمد خاں، مہاتما گاندھی ، جواہر لال نہرو اور پریم چند جیسے نابغۂ روزگار پر قلم اٹھانا اور انہیں اپنی تحریر کا حصہ بنانا موصوف کے تعمیری ذہن ہونے کا ثبوت ہے کہ ان جیالوں نے ہندوستان کے تمام مکتب فکر کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر دیکھنے کی کوشش کیا تھا اور سماجی زندگی میں صالحیت کو اپنانے کی وکالت کیاتھا۔ احسان عالم نے ان لوگوں کے اوپر مضامین یکجا کرکے نئی نسل کو اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ادب میں صالحیت ہمیشہ درکار ہے اور سماجی زندگی میں صالحیت کا رول ہرحال میں وقار و اعتبار حاصل کرتا ہے۔ اردو ادب میں ادب برائے زندگی کا تصور اسی صالحیت کی بنیاد پر ہے۔ نئی نسل کے قلمکاروں میں احسان عالم کی انشا پردازی صالحیت کی تبلیغ کرتی ہے۔ اس تعلق سے زبان و بیان کا ستھرا ہنر اور جملے کی تراش و خراش میں سلیس لفظیات کا اہتمام کرنا ان کا خاص وصف ہے۔ مثلاً یہاں مختلف جگہوں سے جملے ،تراشے اور اقتباسات درج کئے جاتے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے:
(۱)’’اپنے اشعار سے مردہ دلوں میں اسلام کی روح پھونکنے والے شاعر ’’
(۲)’’وطنیت اورملت دونوں دو چیزیں ہیں اور ہم نے وطنیت کا جو تصور قائم کیا ہے وہ بجائے خود غلط ہے اور غلط تصور کو صرف روحانی طاقت سے توڑا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اقبال کی زندگی کا یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جہاں سے انہوں نے مذہب اسلام کو سمجھا ، پیغمبر اسلام کو سمجھا اورپھر پورے جوش و ولولہ کے ساتھ مذہب اسلام کے باہوش اورمخلص مبلغ بن گئے۔‘‘
’’علامہ اقبال کی اسلامی فکر‘‘
(۳)’’سرسید احمد خاں نے ۴۵ برسوں تک ملازمت کی۔ اس دوران وہ سرکاری فرائض کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کے لئے بھی وقت نکالتے رہے۔ ایک ایسا وقت آیا جب انہوں نے محسوس کیا کہ سرکار ی ملازمت ان کی مشن کی راہ میں حائل ہے تو انہوں نے ملازمت سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور مذہب اور قومی مصلح کی حیثیت سے سرگرم عمل ہوگئے۔ ‘‘
’’سرسید احمد خاں :ایک یادگار تحریک‘‘
(۴)’’بیرسٹر بننے کے بعد گاندھی جی ہندوستان لوٹ آئے۔ کچھ عرصہ یہاں گذارنے کے بعد ان کو ایک مقدمہ کے سلسلے میں جنوبی افریقہ جانا پڑا۔ وہاں انہوں نے بہت سی ناانصافیاں دیکھیں۔ انہوں نے ان کے خلاف آواز اٹھانے اور جدوجہد کا فیصلہ کیا۔ ‘‘ ’’مہاتما گاندھی:سچائی اور اہنساکے علمبردار‘‘
متذکرہ عبارات ، اقتباسات ،لفظیاتی سلاست اور اس کی بندش سے اس بات کا احتساب کرنا آسان ہوجاتا ہے کہ مستقبل میں احسان عالم کی انشاپردازی نمایاں انشاپردازوں کی صف میں ضرور جگہ بناپائے گی۔ ابتدائی صورت میں جھمیلے آتے ہیں ، مصائب آتے ہیں اور پریشانیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ سامنے ہوتا ہے لیکن احسان عالم کی خاکساری ہے کہ ’’جھک جاؤ تو طوفاں گذر جائے گا‘‘کے مصداق اپنے آپ کو ابتدائی صورتوں سے آگے نکال چکے ہیں۔ لغزشیں ہر ایک کے حصے میں آتی ہیں ۔ ادب کے شہسوار بھلی بھانتی اس بات سے واقف ہیں ۔ اگر موصوف کی عبارت، لفظیاتی تراش، جملے کی نوعیت ،ابلاغ کامل اور عنوان سے استواریت کا پورا پورا حق ادا کرتے ہوئے لغزشیں ہوئی ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ان کے کامیاب ہونے کی دلیل ہے۔ لغزشیں انہیں کے حصہ میں آتی ہیں جو شعور رکھتا ہے ، سرگرم اور فعال ہوتا ہے۔ موصوف کی لغزشیں اسی تناظر میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ کتاب میں شامل موصوف کے بعض مضامین سنجیدگی کے متقاضی ہیں۔ اس لئے کہ تنقیدی وصف سے متصف ہوکر جب مصنف قلم اٹھاتا ہے تو ان کے شعور کی بالیدگی اور مطالعے کی گہرائی لفظ بہ لفظ جھلکتی ہے۔ مثال کے طور پر___’’ قرۃ العین حیدر کے افسانوں میں سماجی مسائل کی عکاسی، صالحہ عابد حسین کے ناولوں میں سماجی تصور، پروفیسر منصور عمر: چند یادیں، پروفیسر عبدالمنان طرزی، کثیر الجہات شخص اور شاعر ، مشتاق احمدنوری :ایک فعال اور متحرک افسانہ نگار، منفرد لب و لہجہ کا شاعر عطا عابدی ، علائ الدین حیدر وارثی کا شعری سفر، سنجیدہ لہجے کا شاعر :اظہر نیر، ماجرا دی اسٹوری :منصور خوشتراور نجم الثاقب آرزو کا مجموعۂ کلام ’’جہان آرزو‘‘____ ایسے مضامین ہیں جن تک رسائی عام قاری کے لئے ناممکن ہے۔۔۔۔۔۔؟ اس تناظر میں احسان عالم نے تمام فنکاروں کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی رائے قائم کیا ہے مثلاً قرۃ العین حیدر اپنے افسانوں میں سماجی درجہ بندی اور اس کے مسائل کو جس نوعیت سے پیش کی ہے اس کا پتہ کرنا عام قاری کے بس کی بات نہیں ہے؟ اسی طرح صالحہ عابد حسین نے اپنے ناولوں کے ذریعے سماج کا جو تصور پیش کیا ہے اس تک رسائی حاصل کرنا ایک سنجیدہ قاری کے لئے ممکن ہے۔۔۔۔۔؟ یکے بعد دیگرے اس فہرست میں منصور عمر ، عبدالمنان طرزی ، عطا عابدی، حیدر وارثی، اظہر نیر ،منصور خوشتر اور نجم الثاقب آرزو ہیں۔ ان میں منصور عمر کو چھوڑ کر تمامی فنکار حیات سے ہیں اور جو جہاں ہیں اپنی زندگی کے مصائب کو بالائے طاق رکھ کر ادب کی خدمت کررہے ہیں ۔ احسان عالم نے تمام فنکاروں کے فن پارے تک پہنچنے اور ان کی شناخت قائم کرنے کا ایک تصور پیش کیا ہے۔ موصوف کا یہ تصور حد درجہ معلوماتی ، اکتسابی اور تجزیاتی ہے۔ اس طرح کا اندازوہی اپنا سکتا ہے جو سنجیدگی اور تجرباتی وصف سے متصف ہو، مجھے خوشی اس بات سے ہے کہ صوبائی سطح پر متھلانچل میں شہر دربھنگہ اپنے لکھنے پڑھنے والوں کے لئے ہمیشہ ایک راستہ ہموار کیا ہے اور بھائی احسان عالم اسی راستے کا ایک باخبر مسافر ہے۔ جہاں لکھنے والوں کی ایک فہرست ہے مثال کے طور پرپروفیسر طیب صدیقی، پروفیسر شاکر خلیق،پروفیسر رئیس انور،پروفیسر ارشد جمیل، پروفیسر فاراں شکوہ یزدانی،پروفیسر جمیلہ خاتون، پروفیسر آفتاب اشرف، ڈاکٹر مشتاق احمد، ڈاکٹر امام اعظم ، ڈاکٹر جمال اویسی ، ڈاکٹر مجیر احمد آزاد، ڈاکٹر منصور خوشتر، ڈاکٹر مستفیض احد عارفی، عبدالمتین قاسمی،آفتاب عالم اور احتشام الحق وغیرہم کے بیچ ڈاکٹر احسان عالم اردو ادبی حلقوں میں تسلیم کئے جارہے ہیں۔
(قومی تنظیم ، پٹنہ ۵؍ دسمبر ۲۰۱۶)
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

