انسانی زندگی کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ ادوار و حالات سے متاثر ہوتے ہوئے بھی اپنے اندر ایسے نمایاں اقدار کو سموئے رکھتی ہے جو کہ زندگی کے حسن کو بنائے رکھتی ہے۔ ہر دور میں کسی خاص عناصر کو غلبہ حاصل رہا ہے جس طرح موجودہ وقت میں ٹکنالوجی کا عروج ہے شب و روز کی گردش میں ناقابل یقین ایجادات و دریافت ایک عام سا واقعہ بن کے رہ گیا ہے۔ اسی طرح پچھلی کچھ دہائیوں پہلے ادب کا غلبہ رہا ہے کتب بینی کی روایت کم و بیش ہر گھر میں پائی جاتی رہی تھی ترقی پسند تحریک جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی بحث ادب کی بساط پہ ہی کی گئی تھی۔
ادب کی راہ سے بےشمار شہسوار گذرے ہیں انھوں نے اس پہ اپنے اپنے نقوش ثبت کئے ہیں ان سبھی نے اپنی انفرادی صلاحیتوں سے ادب کو جدا گانہ پہچان دی ہے اور کچھ ایسے بھی لوگ گذرے جنھوں نے اپنے ادبی سفر کو ارد گرد کے لوگوں کو دیکھ کر منتخب نہیں کیا بلکہ اپنے اندر کے رجحانات اور میلانات کے تحت اکیلے ہی اس سفر پر نکل پڑے انھوں نے اپنی راہ خود بنائی اپنے اندر کے جذبات اور آوازوں کو معدوم نہیں ہونے دیا بلکہ باقاعدہ انھوں نے اس کو ایک پہچان دی ایسے لوگوں کی صف میں شامل ایک نام تبسم اعظمی صاحبہ کا ہے جنھیں اعظم گڈھ کی پہلی صاحب کتاب شاعرہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے انھوں نے ایسے وقت میں قلم کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کیا جب کہ ان کے ارد گرد کی خواتین کی زندگی گھرداری اور روایتی دائروں میں مقید تھی انھوں نے نہ صرف غزلوں اور نظموں میں مہارت حاصل کی بلکہ ادبی حلقوں میں انھوں نے خود کو بحیثیت شاعرہ کے اپنی پہچان کو مستند بنایا۔ دریا کی روانی میں بہہ جا نا آسان ہوتا ہے لیکن بہاؤ سے ہٹ کر اپنا الگ راستہ بنانا ہمیشہ سے مشکل رہا ہے انھوں نے کس طرح سے اس سفر کو طئے کیا ان کے نظریات و خیالات کیا ہیں اور زندگی میں ان کو کس طرح کے تجربات کا سامنا کرنا پڑا یہ سب کچھ جاننے کے لئے آئیے ہم ان سے خود بات کرتے ہیں اور اپنے پے در پے سوالات کے ذریعے ان سے بہت کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
علیزے نجف؛ 1آپ کا تعارف آپ کے اپنے لفظوں میں کیسا ہو گا اور آپ تبسم اعظمی کو کس طرح دیکھتی ہیں اور آپ کس طرح کی پہچان کے ساتھ جینا چاہتی ہیں؟
تبسم اعظمی؛ میرا تعارف یہی ہے کہ عام انسان ہوں.
میں تبسؔم اعظمی کو تبسؔم اعظمی کی طرح دیکھتی ہوں اور تبسؔم اعظمی کی پہچان کے ساتھ جینا چاہتی ہوں
علیزےنجف؛ آپ کا تعلیمی سفر کہاں تک رہا اور آپ کے خیال میں تعلیم نے آپ کے اندر کس طرح کی نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے اور دوران طالب علمی میں آپ کو کس مضمون سے سب سے زیادہ لگاؤ تھا؟
تبسم اعظمی ؛ میں نے جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب کامل کیا ہے مجھے اردو اور انگریزی سے زیادہ لگاؤ رہا، یقیناً تعلیم نے میرے اندر مثبت تبدیلی پیدا کی لیکن اس سے کہیں زیادہ میرے ابا کی وسیع النظری اور اعلیٰ سوچ نے جو میری تربیت کی اور مجھے دنیا کو دیکھنے کا جو نظریہ دیا ہے اس نے مجھے مضبوطی بھی بخشی اور سر اٹھا کے جینا بھی سکھایا، میرے بچپن میں گاؤں کا ماحول ایسا نہیں تھا جیسا آپ کے دور میں ہے، انتہائی دقیانوسی تھا خاص کر لڑکیوں کے لئے، ابھی بھی کافی اصلاح کی ضرورت ہے لیکن پھر بھی آپ لوگوں کے راستے اتنے خاردار نہیں رہے جتنے ہمارے دور میں تھے اور یہ خوش آئند بات ہے.
علیزےنجف؛ انسانی زندگی عمل اور تجربے سے مربوط ہے اور اس سے انسان کے شعور کی تربیت ہوتی ہے میرا سوال یہ ہے کہ آپ کی اب تک کی گذری ہوئی زندگی کا تجربہ کیسا رہا اور آپ نے اس سے کیا سیکھا اس حوالے سے ہمیں کچھ بتائیں ؟
تبسم اعظمی؛ – زندگی خوشگوار اور ناخوشگوار تجربات کا سنگم ہے اور ہر آدمی زندگی کے دونوں پہلوؤں سے گزرتا ہے، میں بھی گزری ہوں اور میں نے زندگی سے منفی باتوں کو رد کرنا اور مثبت کے ساتھ آگے بڑھنا سیکھا ہے میرا ایک دوہا ہے
پانی ہے منزل اگر بیٹھ نہ یوں چپ چاپ
پانی کے جیسے بنا اپنا رستہ آپ
علیزےنجف؛ خواب کہیں نہ کہیں ہر آنکھ میں اترتے ہیں لیکن وہی خواب اہم ہوتے ہیں جو جاگتی آنکھوں میں گھر بناتے ہیں اور حقیقت پسندی کے دائرے میں ہوتے ہیں میرا سوال یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں خواب کو کیا مقام حاصل ہے اور آپ کس طرح کے خواب دیکھتی رہی ہیں کتنے شرمندہ تعبیر ہو چکے ہیں اور کتنے اب بھی تشنہ تعبیر ہیں؟
تبسم اعظمی ؛ ہر آدمی خواب دیکھتا ہے لیکن کسی کے بھی سارے خواب شرمندہ ء تعبیر نہیں ہوتے، میرے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے، میرا ایک شعر ہے
کب ہر اک خواب کی تعبیر ملا کرتی ہے
جیسا سوچا ہے ضروری نہیں ویسا ہوگا
پھر بھی کسی منزل کو پانے کے لئے خواب دیکھنا ضروری ہے. میری زندگی میں خواب کا کیا مقام ہے؟ اسکا جواب میری اس مختصر نظم میں آپ کو مل جائے گا
حقیقتیں اٹل سہی
مگر یہ بات بھی سچ ہے
جو ہستی میں
نئے کچھ رنگ بھرنے ہوں
نئی تعبیر لکھنی ہو
تو کوئی خواب بھی دیکھو ( خواب)
—
علیزےنجف؛ آپ ایک شاعرہ ہیں اور آپ کی شاعری آپ کے مزاج کی عکاس ہے آپ کے اندر شاعری کا رجحان کیسے پیدا ہوا اور کس عمر سے شاعری کرنی شروع کی اور آپ کے قریبی لوگوں میں سے کس نے آپ کی اس صلاحیت کو سب سے زیادہ سراہا اور موجودہ مقام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ؟
تبسم اعظمی ؛ – مجھے یہ تو پتا نہیں مجھ میں شاعری کے جراثیم کہاں سے آئے، کیونکہ مجھ سے پہلے میرے گھر یا خاندان بلکہ پورے گاؤں میں کوئی شاعرہ نہیں تھی. جب مجھ میں شعر سمجھنے کی صلاحیت نہیں تھی تب بھی ہر اچھا شعر مجھے متاثر ضرور کرتا تھا پھر پتا ہی نہیں چلا کب اور کیسے میں خود شعر کہنے لگی البتہ اتنا یاد ہے کہ پہلی غزل 13 سال کی عمر میں کہی تھی جو اخبار میں شائع ہوئی ساتھ ہی افسانے بھی لکھے جو ملک کے معتبر رسائل میں شائع ہوئے .
میری قلمی حوصلہ افزائی میں سب سے بڑا ہاتھ میرے ابا کا تھا وہ خود تو شاعر نہیں تھے لیکن بلا کے سخن فہم و سخن شناس تھے میری امی بھی شاعری سے خاصا شغف رکھتی تھیں،
یہ میری خوش قسمتی تھی کہ ہمارے گھر کا ماحول کبھی کنزرویٹیو نہیں رہا.
علیزےنجف؛ شاعری کرنے کے ساتھ ساتھ آپ نظریات کی تعمیر کو کس قدر اہم خیال کرتی ہیں آپ کے شعروں میں آپ کے اپنے جذبات کی ترجمانی کس حد تک شامل ہے اور کہاں تک آپ نے دوسروں کے احساسات کو پرونے کی کوشش کی ہے؟
تبسم اعظمی؛ – شاعری ہو، یا نثر، یا کوئی بھی شعبہ، نظریات کی تعمیر کے بغیر تو کہیں بات نہیں بنتی.
میری شاعری تجربات و مشاہدات کا نچوڑ ہے.
علیزےنجف؛ آپ کو اعظم گڈھ کی پہلی صاحب کتاب شاعرہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور آپ کا دو مجموعہ منظر عام پر آ چکا ہے میرا سوال یہ ہے کہ جب آپ کی کتاب منظر عام پر آئی تو آپ کے احساسات کیا تھے اور آپ اپنے موضع کی شاعرات کو کیا مشورہ دینا چاہیں گی کہ وہ کس طرح شاعری اور ادب کی بساط پہ اپنی صلاحیتوں کو بخوبی نبھا سکتیں ہیں ؟
تبسم اعظمی؛ – میری پہلی کتاب( دھنک) مجھ سے زیادہ میرے ابا کا خواب تھی جب وہ منظر عام پر آئی تو میرے ابا نہیں رہے، میں اس وقت کے احساس کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی بس بارگاہ رب میں سجدہ شکر ادا کیا کہ اس کی مہربانی سے میں ان کے خواب کو تعبیر دے سکی.
میں تو یہی کہونگی کہ شاعری ہو یا نثر کا میدان، دونوں میں مقصدیت کا ہونا ضروری ہے، لگن سچی ہو تو ہر بساط پر انسان اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو بخوبی نبھا سکتا ہے.
جو ہو عزمِ مصمم تو خدا بھی ساتھ دیتا ہے
مقدر کو بھی تابندہ بنا دیتی ہیں تدبیریں ( تبسؔم اعظمی)
—
علیزےنجف؛ ایک وقت تھا جب غزل کا دائرہ عاشق و معشوق کے گرد ہی محدود تھا پھر بدلتا وقت اس میں وسعت پیدا کرتا گیا یہاں تک کہ اب ہر طرح کے موضوعات اس میں شامل ہوگئے ہیں میرا سوال یہ ہے کہ صنف شاعری میں حقیقت اور تخیل کے درمیان ربط کا ہونا کس قدر ضروری ہے محبت کے حوالے سے بعید از حقیقت تخیل کو آپ کس طرح دیکھتی ہیں؟
—
تبسم اعظمی؛ حقیقت اور تخیل میں ربط ہونا ضروری ہے تخیل حقیقت کو دلکش انداز میں پیش کرنے کا ذریعہ ہے ورنہ قلم ڈاکٹر کا نشتر بننے کے بجائے ڈاکو کا خنجر بن کے رہ جائے گا.
رہی بات محبت کے حوالے سے بعید از حقیقت تخیل کی، میں اسے محبت کی توہین سمجھتی ہوں، رومانوی شاعری کے لیے فکر کا مصفا اور قلم کا باوضو ہونا ضروری ہے ورنہ وہ شاعری نہیں بھونڈا پن کہلاتی ہے.
علیزےنجف؛ کہتے ہیں کسی فن کو تراشنے میں ایک استاد کا بھی اہم کردار ہوتا ہے وہ اپنے علم اور تجربے سے اسے شہکار بنا سکتا ہے میرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ کی اپنی ادبی صلاحیتوں کی نشونما میں بھی کسی استاد نے کوئی کردار ادا کیا ہے یا یہ آپ کے ذوق اور از خود محنت کا ثمر ہے؟
—
تبسم اعظمی؛ – میرا معاملہ شروع سے خود ہی شاگرد خود ہی استاد کا رہا البتہ جب میں نے 2013 میں فیس بک جوائن کیا تب میری ملاقات غالب کے شاگرد رشید منشی ہر گوپال تفتہ کے سگڑ پوتے محترم ڈاکٹر پرمود لعل یکتا( مرحوم) سے ہوئی وہ میرے کلام سے بہت متاثر ہوئے سو فون پر گفتگو ہوتی رہی دوران گفتگو ان سے مشورہ سخن بھی ہوتا تھا یہ سلسلہ بہت مختصر رہا "موت سے کس کو رستگاری ہے” ، وہ جتنے اعلیٰ پائے کے شاعر تھے اس سے کہیں بلند انسان تھے.
علیزےنجف؛ شاعری میں محبت اور محبوب کو جو مقام حاصل ہے وہ شاید ہی کسی اور موضوع کو حاصل ہے آپ کے خیال میں محبت کی تعریف کیا ہے اور موجودہ وقت کی محبت جو ہر دوسرے انسان سے ہو جاتی ہے اور ختم ہونے کے لئے بھی لمحے کافی ہوتے ہیں اس بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟
تبسم اعظمی؛ – میری نظر میں محبت انسانیت کی ماں ہے جس دل میں محبت نہیں ہوگی وہاں انسانیت کا گزر نہیں ہو سکتا.
آپ کے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اسے محبت نہیں غرض کہتے ہیں.
علیزےنجف؛ صنف شاعری کے لئے آپ علم عروض کے سیکھنے کو کس قدر ضروری خیال کرتی ہیں کیا اس کے بغیر محض موزوں طبیعت سے اچھے شعر کہے جا سکتے ہیں ؟
تبسم اعظمی ؛ پہلے جنس آتی ہے پھر ترازو، اسی طرح پہلے شاعری کا نزول ہوا بعد میں علم عروض ایجاد ہوا، شاعری خداداد صلاحیت ہے طبیعت موزوں ہو تو بغیر عروض جانے بھی لوگوں نے اچھے اور مکمل شعر کہے ہیں لیکن عروض کا جاننا نہ جاننے سے بہتر ہے اس سے غلطی کا امکان کم ہو جاتا ہے.
علیزےنجف؛ موجودہ وقت میں اردو زبان کی ترویج جس طرح متاثر ہو رہی ہے اس کے گواہ ہم سب ہیں میرا سوال یہ ہے کہ آپ مقامی سطح پر اردو کے فروغ کے لئے کیا کوششیں کر رہی ہیں آپ کے اہل خانہ میں اردو کے حوالے سے کس طرح کے نظریے پائے جاتے ہیں؟
تبسم اعظمی؛ – الحمدللہ ہمارے گھر میں سب ہی اردو بولنے والے ہیں، اردو کے فروغ کے لئے میری کوشش میرے قلم تک محدود ہے، یہاں کے ماحول سے آپ بھی واقف ہیں کہ خواتین کے لیے آج بھی کتنی بندشیں ہیں.
علیزےنجف؛ لکھنے اور پڑھنے کے علاوہ آپ کے اور کیا مشاغل ہیں اور ان مشاغل کی تسکین کے لئے آپ کیا کرتی ہیں ؟
تبسم اعظمی؛ – لکھنے پڑھنے کے علاوہ خانہ داری مشغلہ بھی ہے اور ذمے داری بھی
علیزےنجف؛ کسی بھی زبان کا رسم الخط اس کی پہچان ہوتا اور لب و لہجہ اور قواعد اس کو زندہ رکھتے ہیں آج کل جس طرح رومن رسم الخط کی وجہ سے اردو کی قواعد اور تلفظ کو مجروح کیا جا رہا ہے وہ جگ ظاہر ہے میرا سوال یہ ہے کہ اردو رسم الخط کو کیسے دوسری زبانوں کے غلبے سے بچایا جا سکتا ہے کیا ایسا بھی ممکن رومن رسم الخط میں لکھی جانے والی اردو سے غیر اردو دان طبقے کو متعارف کروایا جا سکتا ہے اور اس کی نشوونما کو وسیع کیا جا سکتا ہے؟
تبسم اعظمی؛ – اردو رسم الخط کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے کیونکہ یہی اسکا چہرہ ہے اور چہرے کے بغیر کوئی بھی تصویر مکمل نہیں ہوتی ، غیر اردو داں طبقے تک اردو پہنچانے کے لیے پہلے انھیں اردو کی مٹھاس سے متعارف کروانا ہوگا جس کے لئے میں سمجھتی ہوں ہمیں اپنی تحریر اردو رسم الخط کے ساتھ ناگری لپی اور رومن اردو میں بھی لکھنی چاہیے اہل وطن کے لئے ناگری لپی زیادہ کارگر ہوگی، ( میں تو ایسا ہی کرتی ہوں) جب لوگ اردو کی خوبی سے واقف ہونگے تو خود اردو رسم الخط سیکھنے کی جانب راغب ہونگے.
علیزےنجف؛ اپ کو کتب بینی سے کس حد تک لگاؤ ہے اور آپ نے اب تک کم وبیش کتنی کتابوں کا مطالعہ کیا ہوگا اور کن موضوع پر کتابیں پڑھنا آپ کی ہمیشہ پہلی ترجیح میں شامل رہا ہے اور نوجوان نسل کو مطالعہ کی طرف کیسے راغب کیا جا سکتا ہے؟
تبسم اعظمی؛ – کتب بینی سے بہت لگاؤ ہے اور ہر موضوع پر کتاب پڑھنے کی خواہش رہتی ہے جو دسترس میں آ گئی اس سے ضرور فیض اٹھایا ہے، میرا مطالعہ بہت وسیع نہیں ہے، ہمارے علاقے میں ویسے بھی دینی کتابوں کو چھوڑ کر ادبی اور دیگر موضوعات پر کتابوں کا ہمیشہ سے فقدان رہا ہے ( یا میری رسائی وہاں تک نہیں ہوسکی) وہ تو بھلا ہو انٹرنیٹ کا کہ ذوق کی تسکین ہو جاتی ہے. نئی نسل کے لیے بہت سی راہیں کھلی ہیں گھر اور اسکول میں کتابوں سے رغبت دلائی جائے سیلبس کو دلچسپ بنا کر پیش کیا جائے بوجھ بنا کر نہیں، آجکل تعلیم کا شعبہ بھی پروفیشنل ہو کر رہ گیا ہے جسکی وجہ سے زیادہ تر اساتذہ میں وہ خلوص نہیں رہا جو بچوں میں مطالعہ سے رغبت پیدا کر سکے اکثر اساتذہ کو اسپون فیڈنگ سے کام چلاتے دیکھا ہے، ، نئی نسل اپنے موبائل کا مثبت استعمال کر کے بھی مطالعہ کی طرف راغب ہوسکتی ہے اور اپنی معلومات میں اضافہ کر سکتی ہے.
علیزےنجف؛ آپ اپنے علاقے کی کتنی اردو تنظیموں سے وابستہ ہیں اور ان کی اردو ادب کی تئیں کیا خدمات رہی ہیں اس حوالے سے ہمیں اپنی مشغولیات کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
تبسم اعظمی ؛ ہمارے علاقے میں کتنی اردو تنظیمیں ہیں؟ اگر آپ کے علم میں ہو تو رہنمائی کیجیے مجھے تو علم نہیں.
علیزےنجف؛ ہر انسان خواہ اس کا تعلق کسی بھی فن سے ہو وہ اپنے پسندیدہ شعبے میں لیجنڈ لوگوں کو اپنے لئے ایک مثالی کردار بنا لیتا ہے کہیں نہ کہیں ان کے نظریات سے بھی متاثر ہو رہا ہوتا ہے میرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے کسی کو آئیڈیلائز کیا ہے اگر ہاں تو وہ کون سی شخصیت ہے اور ان کی کن خوبیوں نے آپ کو متاثر کیا ہے؟
تبسم اعظمی؛ – میرے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے، مجھے ہر اچھا کلام متاثر کرتا ہے خواہ وہ لیجنڈ کا ہو میرے ہمعصر کا ہو یا مجھ سے جونیئر کا ہو.
علیزےنجف ؛ ہمیں اپنی ذات کے بارے میں کچھ ایسی بات بتائیں جس سے آپ کے قریبی کے علاوہ کوئی بھی واقف نہیں مثلا کوئی عادت کوئی شوق کوئی واقعہ جو آج بھی آپ کے ذہن میں نقش ہو؟
تبسم اعظمی؛ – صاف گو ہوں بے ادب نہیں، یہ میرے سارے قریبی جانتے ہیں نہ کسی کی خوشامد کرتی ہوں نہ چاپلوسی پسند کرتی ہوں. آٹھ سال سے اسی سال تک کے بچوں سے دوستی ہو جاتی ہے اور انکی محفل میں ایڈجسٹ ہو جاتی ہوں.
لکھنے پڑھنے کے ساتھ گیمز سے دلچسپی رہی ہے بیڈمنٹن کھیلنے کا شوق زیادہ رہا ہے.
علیزےنجف؛ آپ اپنے پسندیدہ شاعر کے کچھ اشعار ہم سے شیئر کریں اور اپنی کتاب سے کچھ قطعے اور نظمیں بھی ہمیں بہت خوشی ہوگی؟
بڑے تاباں بہت روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا
ہمارے شہر کے لوگوں کا بس احوال اتنا ہے
کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا
( ادا جعفری)
فکر کرنی ہے تو اے ناداں اسی کی فکر کر
جو بہی کھاتہ کھلے گا سب بہی کھاتوں کے بعد ( ڈاکٹر پرمود لعل یکتا)
میرا کلام –
—
ہار مانیں گے نہ حالات سے ان شا اللہ
ہم کو جینا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
—
ہتھیلی پہ چھالے یونہی تو نہیں
پڑی پاؤں میں تھیں کئی بیڑیاں
—
جہاں برداشت کی حد ختم ہوگی
بغاوت کا وہیں اعلان ہوگا
—
میری باتوں کی صداقت، میرے لہجے کا ثبات
تم کو لگتا ہے بغاوت ہے، چلو یونہی سہی
—
لہروں کے موافق تو چل کر ہے بہت دیکھا
لہروں کے مخالف اب کشتی کو چلانا ہے
—
جس سے چہرے کو عطا ہوتا ہے پاکیزہ جمال
اہلِ تہزیب اسے رنگِ حیا کہتے ہیں
—
یہ دیکھیے کہ قول میں وہ کتنا کھرا ہے
تسبیح میں دیکھیں نہ ہی زنار میں دیکھیں
—
ذرا سی ٹھیس پر مانا بکھر جاتے ہیں ہم لیکن
ہمیں ریزوں کو چن چن کر سنور جانا بھی آتا ہے
—
سرِ تسلیم خم رکھتے ہیں یہ تہذیب ہے اپنی
اگر فرمان بیجا ہو تو ٹھکرانا بھی آتا ہے
—
مشکلیں مسکرا رہی ہیں بہت
جال حالات نے بُنا شاید
—
سوئی کی نوک سے نہیں نکلے گا یہ مواد
نشتر بھی تیز چاہیے ناسور کے لیے
—
میں وہ پتھر ہوں جو منزل کا پتا دیتا ہے
میں کوئی دھول نہیں ہوں جو اڑا دو مجھکو
—
کر لیا جبر کے ہاتھوں نے قلم کو اغوا
ایک اک کر کے نشانے پہ ہیں اقدار سبھی
—
پئے عبرت مصور نے بنائی ہیں یہ تصویریں
سروں پر تاج رکھے ہیں تو پیروں میں ہیں زنجیریں
آرزو امید
خوابوں کے طلسمی جال سے
کب نکل پایا کوئی
زندگی سے بڑھ کے ہیں
زندگی کے یہ فریب
تبسؔم اعظمی
رباعی
کیا خیر ہے کیا شر ہے سب ہیں آگاہ
کردیتا ہے انسان کو لالچ گمراہ
اس راہ پہ چل کر ہوا انسان تباہ
لاحول ولا قوۃ الا باللہ
ہر بار یہ امید کہ ہوگا جل تھل
ہر بار رہی پیاس سے دھرتی بیکل
ہر بار ہی صحرا نے دعائیں مانگیں
ہر بار گلستان پہ برسا بادل
—
تری وینی
جذبات
کتنے احساس کے تاروں کو ملی ہے سرگم
کتنے مبہم سے اشاروں نے زباں پائی ہے
جب بھی جذبات نے جذبات سے باتیں کی ہیں
—
علیزےنجف؛ یہ انٹرویو دیتے ہوئے آپ کےاحساسات کیا تھے اور کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسی بات ہے جو آپ ہم سے شیئر کرنا چاہتی ہوں لیکن میں اس ضمن میں سوال نہیں کر سکی ہوں آپ اس سوال کے تحت اپنی وہ بات کہہ سکتی ہیں؟
—
تبسم اعظمی؛ – یہ انٹرویو دیتے ہوئے مجھے انتہائی خوشی ہے کہ میں اپنی ہم وطن کو انٹرویو دے رہی ہوں، میری دعا ہے کہ اللہ آپ کے ادبی سفر کو قبول عام بخشے اور آپ کو دونوں جہاں کی کامیابی عطا کرے.
انٹرویو نگار
علیزے نجف سرائے میر اعظم گڈھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

