سید کامی شاہ کی یہ پہلی کتاب مجھ تک پہنچی اور اس پر مضمون لکھنے میں مجھے دیر ہوگئی۔ اس کی وجوہات سے انہیں آگاہ کرتا رہا ہوں اس لیے دیر ہونے پر امید ہے در گزر فرمائیں گے۔
کتاب کی پڑھت ایک خوشگوار حیرت کے ساتھ جاری رہی۔ پہلے افسانے نے ہی سررئیلزم کے عکس بکھیرنے شروع کر دیے۔ اس جہت کی خوبی یہ ہے کہ یہ حقیقت سے خواب تک اور بیداری سے نیند تک آپ کا پیچھا کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ قارئین کے لیے ان کے افسانوں میں موجود علامتی نظام کچھ الجھن کا سبب بنے، لیکن اس کی گتھی سلجھانا بھی انہی افسانوں کا کام ہے۔ یہ علامتیں اور ان کی گتھیاں افسانوں اور ان کے کرداروں کے لاشعور میں موجود ہیں۔
بنیادی طور پر یہ افسانے فن برائے فن کے نظریہ میں موجود ہیں۔ بنیادی طور پر سے میری مراد حقیقی بنیاد سے ہے جس میں ادب زندگی کے مسائل سے الگ فقط حظ کی وہ صورت نہیں کہ اسے لفظوں اور لطف کا ذریعہ بنا دیا جائے، یہ زندگی کے مسائل اور اس کے حقائق کو ایک الگ اور نئے انداز میں پیش کرنے کا نام ہے۔ اگر ادب پڑھتے ہوئے خاص طور پر مرد وزن کی گفتگو، ان کے مکالمے یا ان کے درمیان لمحات کے ذکر پر قاری حظ کی کیفیت میں چلا جائے تو یہ کسی بھی ادب کی (معیاری) ناکامی کہا جاسکتا ہے۔ ادب کا کام تو وجوہات تلاش کرنا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ایک سرجن بے ہوش پڑے جسم سے لذت کشید نہیں کرتا بلکہ اس میں موجود بیماری یا وجہِ علالت کو علیحدہ کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ اس کے لیے دو مہینے کے بچے کا جسم اور ایک سو پانچ سال کی بڑھیا کا جسم ایک جیسی اہمیت رکھتے ہیں۔
سو! مجھے یہی اعتراف یہاں کرنا ہے کہ اس کتاب کے افسانے مکالمہ اور واقعات کے بیان نہیں ان کی وجوہات پر خود کو استوار کیے ہوئے ہیں جو کہ فن کے معیار کی صحت کی دلیل ہے۔ پہلا افسانہ ہی مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے گوکہ شاعر کے ذہن میں ملاقات کی وہی تعریف ہے اور اس کے خیالات اس کی تصدیق بھی کرتے ہیں، عورت بھی ایک شکاری ہے لیکن ” دونوں ایک نفسیاتی رزم گاہ میں موجود ہیں“۔
پہلے افسانے کی عورت اس سے اگلے افسانوں میں بلی کا روپ دھار لیتی ہے،” پُر اسرار، جادوئی، شکاری، محافظ، طاقت کا استعارہ“۔ بلی کے بہت سے روپ ہیں جیسے آج بھی نتالی نہیں آئی“ میں ” فرنچ لڑکی کا کھیل“۔
کیا تم مجھ سے کھیلنا چاہو گے؟ میں جو اپنے ہاتھوں کی تلاش میں پڑا تھا، اس کے سوال سے گھبرا جاتا ہوں۔۔،،
میں ایک پہیلی ہوں۔۔۔ میں عورت ہوں۔ کیا تم مجھے بوجھنا چاہو گے۔۔؟“
بلیّ کچھ رازوں کی امین ہے جو وہ مرد کو کبھی نہیں بتائے گی ویسے ہی جیسے اس نے کبھی شیر کو نہیں بتائے تھے، یہی اس کا تحفظ ہے کہ وہ اس کی پہنچ سے جب چاہے دور ہو سکتی ہے، وہ ہر جنگل کی باسی ہے۔
ایسے ہی غریب آباد کی چھپکلیاں ہیں یہ افسانہ جو رئیلزم کے بہت قریب ہے چھپکلیوں کی سررئیل موجودگی سے اسے ایک نئے رخ پر ڈال رہا ہے، کچھ کھوجنا ان افسانوں کی تحریر کے اندر ایک مقصد کی صورت اخفا کی حالت میں ہے۔ معذور کی پہنچ سے دور چھپکلیاں بے وفائی اور پیاروں کی طرف سے دی گئی صعوبتوں کی دین تو ہوں گی ہی لیکن دوبارہ پیدائش کا موجب نہیں ہو سکتیں۔ یہاں عمران کی کہانی رئیلزم میں موجود ہے تو دادی کی کہانی سررئیلزم میں اپنے آپ کو ظاہر کرتی ہے۔
کاف کہانی کے افسانے پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ وہ کیا گفتگو ہوگی جو پہلی بار”بریٹن اور لاکان“ کے درمیان شعور، لاشعور اور اس کی ادب میں گنجائش کے متعلق ہوگی۔ بریٹن نے جمیز جوائس کے متعلق کیا کہا ہو گا۔ کافکا اور اس کے مینٹور”کرکیگارڈ سے احتراز کی گنجائش ان دونوں نے کیسے نکالی ہوگی“۔ اسٹریم آف کانشئیسنیس شاید کافی نہیں ہوگی۔ کشش اور گریز میں ”وجود“ کی وہ بحث شامل نہیں کی جاسکتی۔ مجھے ان افسانوں میں آندرے بریٹن کی آواز مسلسل سنائی دیتی ہے جیسا کہ وہ مینیفیسٹوز میں تحریر کرتا ہے کہ ”انسان کے بس میں جو بہت کچھ ہے در حقیقت وہ اس سے بہت دور ہے۔ وہ اپنے تجربات سے مسلسل سیکھتا ہے اور کسی روز اسے احساس ہوتا ہے کہ دولت یا غربت میرا مسئلہ نہیں۔ ایسے ہی اگر بچپن میں لوٹ جایا جائے اور وہیں سے شروع کیا جائے۔۔
میرے چھوٹے بیٹے کو میرے خوابوں سے ہمیشہ دلچسپی رہی ہے“۔۔
”جو بادلوں پر جانوروں کی تصاویر بنایا کرتا ہے“۔
اگر انہی افسانوں کے خواب میں جایا جائے تو لاکان اور بریٹن کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔
لاکان مجھے تمہاری ضرورت ہے۔ تمہیں فرائڈ کے ساتھ مارکس کو منسلک کرنے کی جتنی جلدی ہے میری خاطر کیا تم فرائڈ کو ایک الگ کام کے لیے کچھ دیر علیحدہ کرنے کا کشٹ کرو گے؟
کس لیے بریٹن؟
لاکان! تمہیں اگر خوابوں کی وہ حالتیں شاعری اور افسانوں میں نظر آئیں جو تحلیل ہوکر حقیقت میں بالکل الگ روپ میں نظر آئیں اور انسان کی وہ خواہشیں کس طرح فقط خیال میں اپنا وجود محفوظ رکھتی ہیں جنہیں یقین ہو جاتا ہے کہ وہ مادی قالب میں ڈھل کر پوری نہیں ہو سکیں گی۔ کیسے وہ فرد کو سلادیتی ہیں مکمل جا گتے ہوئے بھی۔
ہمممم مممم مزید کہو بریٹن“ لگتا ہے تم ڈاڈا سے کچھ علیحدہ ہو رہے ہو۔ یہ اینٹی لٹریچر کی حالتیں تو نہیں؟
نہیں لاکان! مجھے اتنا انتشار نہیں دکھانا۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ کوئی انقلابی فکر نہیں۔ مجھے یہ دکھانا ہے کہ ترتیب کے ساتھ ایک بے ترتیبی مسلسل منسلک رہتی ہے“۔ دیکھو فلسفی اور دانشور ترتیب ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن ایک عام آدمی دوہری تہری زندگی گزارتا ہے اس کی ترتیب کی زندگی ایک واہمہ بن کر رہ جاتی ہے۔ بے ترتیبی اس کے ذہن میں ہی موجود رہتی ہے اور کیوں نہ ہو اس کے تسلسل سے چلنے والی زندگی اور کاموں کو خارجی عوامل ایک کے بعد چھ اس کے بعد سترہ پھر پینتیس کی ترتیب سے چلا دیتے ہیں۔
دلچسپ ہے بریٹن، لیکن کیا تمہیں اس کے اسباب سے دلچسپی نہیں؟
نہیں لاکان مجھے اس کے اسباب نہیں دکھانے مجھے ان کا ہونا دکھانا ہے۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ سب موجود ہے اور اس کے انداز کو جدیدیت، وجودیت اور ڈاڈا نے واضح نہیں کیا۔
مکمل کتاب اپنے انتساب کو یوں سامنے رکھے ہوئے ہے جیسا کہ نفس مضمون۔ اس کتاب کے افسانوں میں سب سے غالب بات مرد اور عورت کا رشتہ ہے۔ اس تعلق میں بیانیوں کی جنگ نظر آتی ہے۔ یہ سب بیانیے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو معاشرے کے عورت مرد کے تضادات اور خواہشات کہیں عملی صورت میں نظر آتے ہیں تو کہیں خیال وخواب کی صورت۔
ایک مرکز کے گرد بنے ہوئے بہت سے دائروں کی طرح ان افسانوں میں عورت اور مرد کی دوئی کو یک مرکزی بنانے کی خواہش ہر مقام پر نظر آتی ہے لیکن یہ بیانیہ بھی ایک واہمہ ہے۔ کہیں عورت اس سے گریز کرتی ہے تو کہیں مرد۔ یوں ایک غالب بیانیہ ٹوٹتا محسوس ہوتا ہے جس کی بنیاد بھی میرے نزدیک ایک مغالطہ پر ہے اور وہ ہمارے برصغیر کا عمومی مغالطہ ہے جس میں برابری کی یہ شکل تصور کی جاتی ہے کہ یا مرد عورت جیسا ہو یا عورت مرد والے فرائض انجام دے لیے۔ جسمانی تفاوت سے ہٹ کر بھی عورت کو عورت ہی رہنا ہے اور مرد کو مرد۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت اور مرد کی برابری دو الگ پلڑوں میں مختلف خیالات اور نظریات رکھنے سے ہو سکتی ہے۔ یہ توازن عورت اور مرد میں نہیں بلکہ معاشرہ میں پیدا ہو گا۔
اگر کوئی کسی ایک نظریہ کی عینک لگا کر انہیں پرکھے تو یہی ان افسانوں میں ایک عیب کے طور پر بھی شناخت کیا جا سکتا ہے جن میں معاشرتی مسائل اور ان کا بیان بھی زیادہ تر عورت اور مرد کی دوئی کی خوردبین سے سے نظر آتے ہیں، لیکن کوئی پسند کرے یا ناپسند، یہ کتاب فکشن کی ایک نظریاتی کتاب کہی جا سکتی ہے۔ جس میں عورت مرد جوکہ معاشرہ کے بنیادی انسٹیٹوشن یعنی خاندان کی اساس رکھتے ہیں، کے رشتہ کی الجھنوں اور نفسیاتی گرہوں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کو مہارت ہی کہا جا سکتا ہے کہ کسی افسانہ میں حل پیش کرنے کی کوشش نہیں کی گئی جس کو میں قلم زد کرسکوں یا کوئی اور۔ یہ فکشن ہے اور اس کا مطلب سامنے لانا ہے دکھانا ہے۔ ان افسانوں کی لکھت میں مہارت کا ثبوت یوں ہے کہ ہمارے کچھ نامور ادبا بھی بتانے بیٹھ جاتے ہیں جس کے شواہد اس کتاب میں کہیں نظر نہیں آتے۔
اب بیانیوں کی جنگ کے بارے کچھ عرض کیا جائے تو یہاں ادیب کہیں کہیں معاشرتی بیانیوں کی رو کو شامل کرتے ہیں جیسے ”اصل بات، کشش اور گریز، غریب آباد وغیرہ میں نظر آتا ہے، لیکن کہیں اس سے گریز کر کے بچت کی راہ بھی نکالی گئی ہے جیسا کہ افسانہ ”ایثار“ میں نوجوانوں کی زندگی کو ”رئیلزم“ کی اپروچ کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ ”گٹے“ ایک اہم بیانیے کو توڑتا ہوا افسانہ کہا جا سکتا ہے جس میں حاجی صاحب کا کردار واضح کیا گیا ہے۔ کہیں کہیں محسوس ہوتا ہے کہ معاشرتی بیانیے کرداروں اور افسانے کے ساتھ کھیل گئے ہیں۔ اس کا فیصلہ کوئی سنجیدہ ناقد ہی کر سکے گا ۔
کچھ کرداروں میں ڈوئلٹی کی وہ کیفیت نظر آتی ہے جو ”باختن“ کے نزدیک بہت اہم ہے، لیکن اس کا نہ ہونا کوئی کمزوری یا نزاکتِ قلم نہیں۔ باختن نے ایک محدود عالمی ادبا میں یہ خوبی دریافت کی تھی۔ ان میں ”کشش اور گریز“ اور ”گٹے“ میں کرداروں کے واضح اور پوشیدہ ڈوئلٹی کی طرف مائل ہونے نے انہیں اہمیت عطا کی ہے جو افسانوں کی تفہیم کو مزید وسعت عطا کر سکتی ہے۔
افسانوں میں جیسے جیسے آگے بڑھتے ہیں سررئیلزم کم ہوتے ہوتے رئیلزم میں واپس آجاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہانی نگار حقائق اور ارد گرد کی دنیا کے شور سے اچانک نیند سے خواب کی حالت میں واپس آجاتا ہے جیسا کہ ” اصل بات سے آگے فلیٹ نمبر دوسو بارہ تک“۔ اس کے بعد افسانے اور ان کے کردار، کبھی سوتے اور کبھی جاگتے ہیں یعنی کہیں سررئیل اور کہیں رئیل ہوتے ہیں جیسا کہ ”ختم ہونے سے پہلے ایک کہانی سررئیلزم میں واپس آتی ہے“۔ فالتو شیر میں بندر، گائے کو تنگ کرتے ہیں یعنی بچے کی زبان سے ایک کہانی اپنے علامتی ہونے کا اظہار بھی کرتی ہے جہاں چیتا جو شکار کے فن میں ماہر اور ہاتھی فقط طاقت ہے، کو سادہ انداز میں برتا گیا ہے۔
عصری حسیت تما م افسانوں میں موجود ہے۔ موجودہ جدید نظریاتی سیلِ رواں میں ہمارے دانشوران کی حالت اور علم کی حقیقت کے ساتھ فن کی حالتِ زار بھی نمایاں ہو جاتی ہے جیسا کہ ”فیس بکی دانشواران“ میں غافل غنچاک صاحب کی محفل اور ان کے ادبی احباب۔ گویا ان افسانوں میں عصری حسیت کا اپنی تمام تر حساسیت اور بنیادی موضوع یعنی مرد وزن کے درمیان تعلق اور رشتوں کی حقیقت سے انصاف کرنا اس کتاب میں اہم بات نظر آتی ہے۔
ان افسانوں میں اساطیری انداز بیان کی جھلک بھی ملتی ہے جو پُراسرار افکار اور ان کی کشش کی طرف کھلنے والا در ہے۔ اس میں ”عشاء کون ہے اور کردار کا رہبر کردار کون ہے؟۔ یہ سوال افسانہ کا ہے اور اس کا جواب قاری کو ڈھونڈنا ہے۔
میں ہیگل کی اس بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ کتاب کو قاری کتاب کے مواد کے ساتھ پڑھے۔ افسانوں پر بہت زیادہ گفتگو شاید ان کی پڑھت کا تجسس ختم کر دیتی ہے۔ یہ میرے تاثرات ہیں جن میں ہر ممکن کوشش ہے کہ وہ افسانوں کی پڑھت کی غیر جانبداری کو متاثر نہ کریں، لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ یہ کامی شاہ کی ایک کامیاب کتاب کہی جا سکتی ہے اگر اس کے ساتھ انصاف ہوا تو کاف کہانی، کامی شاہ کی اہم کتابوں میں شامل کی جا سکتی ہے۔
میں اس کتاب اور سید کامی شاہ کی مزید کامیابیوں کے لیے دعا گو ہوں۔
باسط آزر۔ پاکستان
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

