دوحہ قطر کی اولین وقدیم ترین اردو ادبی تنظیم بزم اردو قطر (قائم شدہ ۱۹۵۹) کے زیر اہتمام سابق چیئرمین امجد علی سرور کی غزلوں کا مجموعہ ’یادوں کی روشنی‘ کی تقریب رونمائی اور محفل و شعر و سخن کا انعقاد۔
بزم اردو قطر کے ذریعے ۲ ستمبر، بروزجمعہ ۲۰۲۲ اسکل ڈیولپمنٹ سنٹر ، سلطہ جدید ،دوحہ ، قطر کے خوبصورت ہال میں امجد علی سرور کی غزلوں کے مجموعہ کی تقریب رونمائی اور محفل شعرو سخن کا انعقاد کیا گیا ، جس میں قطر کے مقامی شعرا نے شرکت کی۔مشاعرے کی صدارت معروف سینئرشاعرجناب عتیق انظرنے کی جبکہ مہمان خصوصی ادب نواز شخصیت جناب خالد داد خان صاحب اور مہمانان اعزازی کی حیثیت سے معروف شاعر ڈاکٹر ندیم جیلانی نے اسٹیج کو منور کیا ۔مشاعرے کی ابتدائی نظامت کی ذمہ داری بزم کے جنرل سکریٹری مقبول شاعر جناب احمد اشفاق نے نبھائی۔ پروگرام کا آغازمقامی وقت کے مطابق ۳۰:۷ بعد نماز عشا قاری سیف الرحمٰن کی تلاوت کلام اللہ سے کیا گیا۔
پروگرام کو شروع کرنے سے پہلے امجد علی سرور کے شعری مجموعہ ’یادوں کی روشنی‘ کا اجرا صدر مشاعرہ و مہمانوں کے ہاتھوں ہوا جس میں بزم کے ذمہ داروں نے اورشعرا نے بھی اسٹیج کو رونق بخشی ۔
پروگرام دو حصوں پر مشتمل تھا پہلا حصہ دو مضامین پر جبکہ دوسرا حصہ شعری نشست پر مشتمل تھا ۔پہلے حصے کی نظامت کی ذمہ داری نبھا رہے جناب احمد اشفاق نے پہلا مضمون پیش کیا ، جس کا عنوان تھا ’نئے شعری روایات کا شاعر امجد علی سرور‘۔ جس میں انھوں نے امجد علی سرور کی شاعری پر جامع مضمون پیش کیا جو شعری مجموعہ ’یادوں کی روشنی‘ میں بھی شال ہے اور دوسرا مضمون جناب اشفاق دیشمکھ نے پیش کیا ۔ جس میں انھوں نے اپنے خیالات کے اظہار کے ساتھ ساتھ امجد علی سرور کی ایک تازہ ویڈیو بھی نشر کی۔ اپنے خیالات کے اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امجد علی سرور کو کسی طرح بھلایا نہیں جا سکتا وہ قطر کے بہت سے ایسے لوگوں کو شاعر بنا کر گئے ہیں جو آج کی محفلوں کے لیے بہت انمول مانے جاتے ہیں ۔انھوں نے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امجد صاحب سب کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ، اصلاح کا بڑا ہی انوکھا انداز تھا کبھی کسی کے خیال کو تبدیل نہیں کرتے ، ہاں ایک الگ انداز سے مشورے ضرور دے دیتے تھے۔ دیشمکھ نے ممبئی ان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کا ذکر کیا جس میں امجد علی سرور نے دوحہ کے تمام ساتھیوں کے احوال پوچھے اور انھیں قطر کے شعرا کے لئے اپنی کتابیں بطور ہدیہ پیش کیں۔
اپنے خیالات کے بعد انکی ویڈیو نشر کی گئی جس میں صاف ظاہر ہورہا تھا کہ انھیں اب بولنے ،لکھنے میں بہت مشکل پیش آرہی ہے مگر دوحہ کے ساتھیوں کی محبت میں کچھ باتیں اپنے بارے میں شیئر کیں اور دوحہ والوں کی یادوں کو اپنے دل میں بسا کر رکھنے کا بھی ذکر کیا ۔
دوسری نشست محفل شعر و سخن پر مشتمل تھی جسکی نظامت جناب اطہر اعظمی ( بزم کے نائب صدر) نے فرمائی۔انھوں نے اسٹیج پر جلوہ افروز شخصیات کا اس شعر سے استقبال کیا کہ :
آپ آئے فضا مسکرانے لگی
زندگی زیر لب گنگنانے لگی
ابتدا میں انھوں نے اردو ادب اور مشاعروں کے تعلق سے گفتگو کی جسکا ما حصل یہ تھاکہ مشاعروں کی وجہ سے ہی اس دور میں اردو کچھ حد تک باقی ہے ورنہ لوگ اردو بولنا اب شرم کی بات سمجھتے ہیں ۔
اس کے بعد پروگرام کی شعری نشست کا باقاعدہ آغاز ہوا جس میں درج ذیل شعرا نے اپنا کلام پیش کیا ۔
اظہر: کیسے انسان ہیں جلا دیتے ہیں بستی ساری
ہم سے بچوں کے مکاں ریت کے ڈھائے نہ گئے
مچھ کو بدنام وہ کرنے پہ تلے ہیں اظہر
جن سے دامن میں لگے داغ چھڑائے نہ گئے
مراد ساحل: الجھا ہوں آندھیوں سے مگر سوچنا بھی مت
ڈھلنا ہے شام ہوتے ہی سایہ نہیں ہوں میں
کچھ بھی بگاڑ سکتا نہیں تو میرا ، جہاں
رحمت خدا کی ساتھ ہے تنہا نہیں ہوں میں
اجمل بسہمی : سوال پوچھوگے جب بھی نبی کے بارے میں
سوال بن نہ سکے گا جواب کاٹے گا
اتفاق انمول: گر تیرے زمانے میں طرفدار بہت ہیں
اے دشمن جاں میرے بھی غمخوار بہت ہیں
مانا کہ ہے جذبات کا تاجر یہ زمانہ
اس دور میں بھی غم کے خریدار بہت ہیں
راقم اعظمی بھلے ہی زیست میں کتنی بلندی پر پہنچ جائو
درختوں کی طرح خود کو زمیں سے تم جڑا رکھنا
ہماری زندگی اک کوئلے کی کان جیسی ہے
بڑا دشوار ہےخود کو برائی سے بچا رکھنا
اشفاق دیشمکھ: مان جاؤ خود ہی تم کو شاعری آتی نہیں
بحر ہے جانِ غزل تم کو وہی آتی نہیں
جب سے سالوں نے پٹائی کی ہے اس کی ایک بار
تب سے اسکے خواب میں بھی دوسری آتی نہیں
راشد عالم راشد: مسائل پر ہم نے بہت بات کر لی
ہمیں رہبرو کوئی رستہ دکھا دو
اطہر اعظمی: محبتوں کا امیں حق کا پاسدار گیا
گیا ضرور مگر کر کے بے قرار گیا
نہ جانے کون سی نگری میں ہو گیا روپوش
ہماری آنکھوں کو بس دے کے انتظار گیا
ڈاکٹر وصی بستوی: کفر پھر اپنا زمانے سے چھپانے کے لیے
ایک تمثال خیالوں میں بنایا میں نے
دل کی تنویر میں ہے خون جگر بھی شامل
بزم افلاک سے توڑا نہیں تارا میں نے
زوار حسین زائر: ایسا لگتا ہے خدا روٹھ گیا ہے مجھ سے
گھر سے نکلا ہوں تو اب ماں نے دعا ہی نہیں دی
ڈاکٹرندیم جیلانی: اپنوں سے دور جانے کا دشوار مرحلہ
آپس کی بد گمانی نے آسان کر دیا
یہ تو نہیں کہ لطف نہ تھاانتظار میں
بس دل کی دھڑکنوںنے پریشان کر دیا
مقصود انور مقصود: مصلحت کہتی ہے حاتم طائی مت بن بیوقوف
فرض کہتا ہے کشادہ اپنا دستر خوان کر
اعجاز حیدر: آپ نے بات ان سنی کردی
اب کسی اور کو بتانی ہے
جب میں دنیا بنا چکا اپنی
تب کسی نے کہا یہ فانی ہے
احمد اشفاق: یہ معجزہ ہے کہ انگشت بے ہنر سے ہم
خلا میں روز نئی کہکشاں بناتے ہیں
انھیں سے کہتے ہیں لاؤ سند محبت کی
ہتھیلیوں پہ جو ہندوستاں بناتے ہیں
عزیز نبیل: راستوں کی بند سانسیں ایک دم کھل جائیں گی
آدمی جس روز دیواروں سے باہر آئے گا
جس کو جانا تھا گیا، کیا سوچنا ، جانے بھی دے
جلد ہی کوئی یقیناً اس سے بہتر آئے گا
عتیق انظر : جس میں پھولوں کا کل بسیرا تھا
دل وہ کانٹوں سے آج بھر گیا ہے
گیت گاؤں وہاں بہاروںکے
پتہ پتہ جہاں بکھر گیا ہے
شعری نشست کے بعد پہلے مہمان اعزازی اور پھر مہمان خصوصی جناب خالد داد خان صاحب نے اظہار خیال پیش کرتے ہوئے سب سے پہلے بزم اور اسکے اراکین کو امجد علی سرور کے شعری مجموعے کی رونمائی پر مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ بزم کے شرکا کی امجد علی سرور سے محبت کا ثبوت یہ ہے کہ ان کی غیر موجودگی پر بھی ان کی کتاب کا اجرا اور تقریب کا انعقاد کرنا ہے۔ یہ بھی کہا کہ امجد علی سرور شاعری کے فن اس کے رموز و اوقاف پر گہری نظر رکھتے تھے۔
محفل کی صدارت فرما رہے عتیق انظر صاحب نے بہترین نظامت پر مبارکباد دی ۔ اسکے بعد امجد علی سرور کو انکے تیسرے مجموعے کی اشاعت پر بھی مبارکباد پیش کیا ۔انھوں نے کہا کہ وہ ایک شاعر ہونے کے ساتھ بہت اچھے مر بی ّ بھی تھے ۔ لوگوں سے تعلقات بہت اچھا رکھتے ، تنظیمی سطح پر بہت فعال تھے۔ ان کی کوششوں سے بہت سے شعرا فیض یاب ہوئے۔
مشاعرے میں بزم کے دیگر ذمہ داران کے علاوہ جن قابل ذکر شخصیات نے شرکت کی ان کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں۔
عبید طاہر،احتشام اقبال ، واصف گیلانی،ممنون بنگش، فراز احمد، عرفان اللہ،سیف الرحمن،اریب اشفاق،عدیل احمد ، مس الدین رحیمی، آخر میں صدر بزم اعجاز حیدر صاحب نے تمام مہمانان کا شکریہ ادا کیا نیز محفل کو رونق بخشنے والے آخر تک موجود سامعین کا بھی دل سے شکریہ ادا کرنے کے ساتھ پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔
رپورٹ: ابو حمزہ اعظمی))
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

