ہم عصر اردو ناولوں کا اجمالی جائزہ / ڈاکٹر محمد شارب – محمد انعام برنی
صاحب کتاب کا شمار عہد حاضر کے ان نو جوان قلم کاروں میں ہوتا ہے جن کے مضامین مسلسل ملک اور بیرون ملک کے ادبی رسائل اور جرائد کی زینت بنتے رہے ہیں۔ اور ان پر ناقدین ادب کی مثبت آرائیں بھی متواتر دیکھنے کو ملتی رہی ہیں۔۔ آپ عصری ادب کے منظر نامے پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ جس کا بین ثبوت حال ہی میں منظر عام پر آئی آپ کی کتاب بعنوان *ہم عصر اردو ناولوں کا اجمالی جائزہ* میں جا بجا دکھائی دیتا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب اپنی ضخامت کے لحاظ سے 345 صفحات اور دو ابواب پر مشتمل ہے۔ جس میں موصوف کتاب نے پہلے باب میں ان 20 ناولوں کو شاملِ کتاب کیا ہے جو سن 1980ء سے لے کر سن 2000 تک منظر عام پر آ کر ادبی حلقوں میں داد و تحسین حاصل کر چکے تھے۔ بعد ازاں دوسرے باب میں ان 19 ناولوں کو شاملِ کتاب کیا ہے جو سن 2001 ء سے حال تک زیور طباعت کے مراحل سے گزر کر علمی و ادبی حلقوں میں اپنے معیاری ہونے کا لوہا منوا چکے ہیں۔
یہ کتاب نہ صرف اس میں شامل ناولوں کے موضوعات اور مقصد وجود سے اپنے قاری کو روبرو کراتی ہے بلکہ ان تمام ناولوں کے تخلیق کاروں کے حوالے سے بھی سیر حاصل گفتگو کا مرکز نگاہ بنتی ہے جن کے شب و روز کی محنت شاقہ سے یہ بیش بہا ادبی سرمایہ ہم تک پہنچنے کا ذریعہ بنے۔ علاوہ ازیں متعلقہ کتاب کی اہمیت اس لحاظ سے بھی مسلم ہو جاتی ہے کہ اس میں اکثر ان تمام ناولوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ جن کو ہندوستان بھر کی بیشتر ریاستوں میں منعقد کراۓ جا رہے مقابلہ جاتی امتحانات کے نصاب میں پیش پیش رکھا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کتاب ان تمام امیدواروں کے لیے مفید اور کار آمد ہے جو مختلف کتابیات کے مطالعے سے بچ کر ایک ہی کتاب میں تمام مواد کے جمع ہونے کے متمنی ہوتے ہیں، اس طرح سے بھی ان تمام امیدواروں کی تشنگی کو بجھانے کے لیے یہ کتاب کافی ہے۔
کتاب کی ابتدا میں ڈاکٹر کہکشاں پروین کا بہت ہی جامع اور معلوماتی مقدمہ ہے جہاں موصوفہ نے ادب کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالی ہے وہیں دوسری اور خالق کتاب کے حوالے سے بھی اپنے اعلیٰ و ارفع تاثرات کو سپرد قلم کیا ہے۔ جو نہ مذکورہ کتاب کے مشمولات کو کوزے میں بند کرنے کا کام کرتا ہے۔
ملاحظہ ہوں دو الگ الگ اقتباس:-
(1) "ادب کو زندگی کا آئینہ کہا جاتا ہے کیونکہ فن کار کی معراج یہی ہے اس کی تخلیقات معاشرہ کی عکاس ہوں معاشرہ وقت اور حالات کے ساتھ اثر قبول کرتا رہتا ہے لہذا تغیرات کا زندگی کے ساتھ تعلق لازمی ہے۔ "( ص نمبر 8 )
(2) ” محمد شارب نے اس بات کی کامیاب کوشش کی ہے کہ تجزیاتی نکات پوری سنجیدگی اور وضاحت سے سامنے آ جائیں۔ ناول کے فن کی قدر و قیمت کا تعین اور ہم عصر ناول نگاروں سے تقابلی مطالعہ بلا شبہ دشوار گزار تحقیقی مرحلہ تھا جس سے یہ بخوبی گزر گئے۔ "( ص نمبر 11 )
کتاب کی ضخامت اور مضمون کی طوالت سے صرف نظر کرتے ہوئے آگے کے صفحات میں چیدہ چیدہ ناولوں کے بارے ہی میں بات کرنا قابلِ مقصود ہے۔
اس کتاب میں خالقِ کتاب نے اول الذکر جس ناول اور ناول نگار کو اپنی تنقیدی نظر کا محور و مرکز بنایا ہے وہ ہے قکشن کی دنیا کی نابغہ روزگار شخصیت انتظار حسین اور ان کا مشہور زمانہ ناول ” بستی ” انتظار حسین افسانوی ادب کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے علامت نگاری میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی تھی۔ ان کے ناول اور افسانوں میں ہجرت کا کرب، عصری تقاضوں کا برتاؤ اور اساطیری رجحانات ہر سو نظر آتے ہیں۔ ناول "بستی” میں انتظار حسین نے تقسیم ہند کے بعد اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنوں سے جدا ہونے کا جو ناقابل مذکور کرب ہے اس کو لفظوں کا جامہ پہنا کر ہم سب کو شاملِ درد کر لیا ہے۔ اس ناول کے حوالے سے ڈاکٹر انور سجاد اپنے ایک مضمون میں یوں حق بجانب ہیں:-
” بستی میں ماسٹر فکشن رائیٹر اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے۔ یہ اس کی فکشن کی سمیٹ ہے۔ اب اگر استاد فن کو اپنا سفر جاری رکھنا ہے تو اسے یہ دائرہ توڑنا ہوگا۔ ” ( روزنامہ ڈان کراچی 10 مارچ 2010ء )
حیات اللہ انصاری کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے آپ کی اصل شناخت جہاں ایک منجھے ہوئے صحافی کی تھی وہیں دوسری اور علمی و ادبی حلقوں میں ایک کہنہ مشق ادیب کی بھی تھی۔ جہاں آپ نے اردو زبان و ادب کو سب سے ضخیم ناول” لہو کے پھول” دیا وہیں "مدار” اور” گھروندا” جیسے لافانی ناول بھی دیے۔” گھروندا” آپ کا ایک ایسا ناول ہے جس میں خانہ بدوش بنجاروں کی طرز زندگی کو مطمح نظر بنایا گیا ہے۔
خدیجہ مستور ان چند ناول نگاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے تقسیم ہند جیسے حساس موضوع کو اپنے ناولوں کا جزو لاینفک بنایا۔ جن میں آپ کے دونوں ناول "آنگن” اور "زمین” شاہکار کا درجہ رکھتے ہیں۔ "زمین” میں آپ نے قیام پاکستان اور اس کے بعد پیدا شدہ سنگین حالات کا بڑی ہی چابک دستی سے اظہار خیال کیا ہے۔ یہ ناول بھی "آنگن” ہی کی طرح تقسیم ہند کے بعد پھوٹ پڑنے والے فسادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرطاس قلم کیا گیا ہے۔ جہاں پامال ہوتی ہوئی انسانی اقدار کا المیہ بڑے ہی خوبصورت پیرائے میں برتنے کی حتی الامکان کوشش کی گئی ہے۔
پیغام آفاقی کی آفاقیت افسانوی ادب میں محتاج تعارف نہیں آپ نے ایک طویل عرصہ محکمہ پولیس میں گزارا جہاں آپ کا ہر طرح کے طبقے اور جماعت کے لوگوں سے سابقہ پڑا اور انہیں تجربات اور مشاہدات کا عکس آپ کے ناولوں میں ہر سو نظر آتا ہے۔ یہاں پر صرف آپ کے "مکان” نامی ناول پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ اس ناول میں عصر حاضر کی تمام سچائیاں روز روشن کی طرح عیاں ہو کر ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ جہاں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ جس پولیس انتظامیہ اور عدلیہ کو مظلوموں اور معصوموں کو انصاف دلانے کے لیے قائم کیا گیا تھا، گر وہی اپنے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے انصاف کا قتلِ کرنے لگ جا ئیں تو پھر اندازا لگائیں کہ ایک غریب اور لاچار انسان کی زندگی کن حالات میں اپنی انتہا کو پہنچے گی۔
غضنفر صاحب کا نام بھی فکشن کی دنیا میں اعتبار کی سند رکھتا ہے۔ جنہوں نے ہمارے ادب کو "پانی” جیسا لاثانی ناول دیا۔۔ اس ناول میں ناول نگار نے پانی جیسی نعمت کو موضوع بحث بنایا ہے ۔۔۔۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گر دنیا میں تیسری بار جنگ ہوئی تو وہ پانی کو لے کر ہوگی، اور یہ بات ایک حد تک صحیح بھی معلوم پڑتی ہے۔۔۔ جس کی تصدیق ہندوستان کی کرناٹک اور تمل ناڈو، ہریانہ اور پنجاب جیسی ریاستیں کرتی ہیں جو آۓ دن پانی کے بحران کو لے کر ایک دوسرے سے جنگ پر آمادہ رہتی ہیں۔
علی امام نقوی کا شمار 1970 کے بعد اردو ادب میں شناخت پانے والے فن کاروں میں ہوتا ہے۔ موصوف کی پیدائش ضلع میرٹھ اترپردیش میں ہوئی یہیں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ لیکن جلد ہی تلاش معاش کے سلسلے میں وہ ممبئی چلے گئے جہاں انہوں نے مکمل طور پر سکونت اختیار کر لی۔ آپ نے اردو زبان کو "تین بتی کے راما” جیسا شاہکار ناول دیا جس میں ممبئی میں بسنے والے رئیس زادوں اور امیر زادوں کے گھرانوں میں کام کرنے والے نوکروں کی زندگی کو موضوع بحث بنایا گیا ہے کہ کس طرح سے وہ امرا اور شرفاء ان نوکروں کو جن کو ممبئی کی زبان میں "راما” کہا جاتا ہے کا ذہنی اور جسمانی استحصال کرتے ہیں ۔ جس کی بانگی متعلقہ ناول کے مندرجہ ذیل اقتباس میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔
"سیٹھ ساڑی اتارنے کا سو روپے دیتا ہے۔ نئی نئی ساڑی دلاتا ہے اور تو خالی چمبن لے کر یہ سب کرنا چاہتا ہے۔ تیرے میں اور سیٹھ میں کتنا انتر ہے-” ( تین بتی کے راما ص نمبر 100 )
الیاس احمد گدی جھارکھنڈ ہی کہ نہیں بلکہ ملک گیر سطح پر ادب کی ایک برگزیدہ شخصیت تھے۔ جن کا تعلق دھنباد ضلعے کے گدی خاندان سے تھا۔ آپ نے اردو زبان کو ایک منفرد اور سب سے الگ موضوع پر "فائر ایریا” جیسا عظیم ناول دیا میرے علم کے مطابق یہ ناول علمی و ادبی حلقوں میں اس قدر مقبول ہوا کہ گر موصوف اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناول یا افسانوی مجموعہ بھی اردو زبان کو نہ دے پاتے تو آپ کا نام تب بھی مذکورہ بالا ناول کی وجہ سے اردو زبان و ادب میں ہمیشہ زندہ و جاوید رہتا۔۔۔ اس میں آپ نے کول مائنس میں کام کرنے والے مظلوم مزدوروں اور کچھ اجارادار ٹھیکے داروں کے کالے کرتوتوں کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ اور ان پر اپنے لفظوں سے کاری ضرب لگانے کی حتی المقدور کوشش کی ہے جس میں آپ صد فیصد کامیاب و کامران بھی نظر آتے ہیں۔
صادقہ نواب سحر تانیثیت کے حوالے سے اردو زبان و ادب کا ایک ایسا نمایاں نام ہے گر تانیثی ادب کی تاریخ رقم کی جاۓ اور اس میں موصوفہ کی ادبی کاوشوں کا سچے دل سے اعتراف نہ کیا جائے تو وہ تاریخ کم سے کم مجھ جیسے کم فہم کے مطابق تو نامکمل ہوگی۔ یوں تو آپ کی نوک قلم سے نثر اور نظم دونوں اصناف ادب میں کئی ساری تخلیقات وجود میں آئیں مگر آپ کو علمی و ادبی حلقوں میں جس کتاب نے پہچان دلائی وہ تھا آپ کا پہلا ناول "کہانی کوئی سناؤ متشا” اس ناول کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں عورت کے استحصال اور مظلومیت کی سچی تصویر کشی کی گئی ہےجو بیشتر گھرانوں کی حقیقت کو آئینے کی طرح ہم سب کے روبرو لا کھڑا کرتی ہے۔ ملاحظہ ہو مندرجہ ذیل اقتباس:-
"عورت اپنی مرضی سے کہاں جا سکتی ہے! مذہب کے کام بھی نہیں کر سکتی۔ عورت ہی نہیں مرد کے پیروں میں بھی بیڑیاں ہیں انہیں بیڑیوں کے ساتھ چلتے جا رہے ہیں میں کہاں جاؤں؟ دھرم کیا ہے؟ خدا کیا ہے؟ خدا تیرے اتنے نام کیوں ہیں؟ تونے ہر موڑ پر مجھے بچایا میرا دھیان رکھا۔ کس کس روپ میں تو، میرے سامنے آیا۔۔۔۔ میں سب کچھ چھوڑ جاؤں گی۔۔۔۔۔۔ ” ( کہانی کوئی سناؤ متاشا ص 223 )
حاصل کلام یہ ہے کہ زیر نظر کتاب "ہم عصر اردو ناولوں کا اجمالی جائزہ” کئی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے جہاں 1980 ء تا حال تک مختلف موضوعات پر لکھے گۓ ناولوں کے حوالے سے واقفیت ہوتی ہے تو وہیں دوسری اور ناول نگاروں کی تعلیمی زندگی سے لے کر پیشہ وارانہ زندگی تک سے بھی کما حقہ شناسائی ہوتی ہے۔ ۔۔۔ ایک مرتبہ پھر برادر اکبر جناب۔۔۔ ڈاکٹر محمد شارب کوثر صاحب کو ان کی اس پہلی کاوش کی کامیابی و کامرانی کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔۔۔۔اور رب العامین سے دعا گو ہوں کہ وہ مزید آپ کے قلم میں پختگی عطا فرمائیں۔۔۔امید ہے کہ یہ کتاب ادب میں ایک طرح سے اضافے کا سبب بنے گی۔
کتاب منگوا نے کے لیے متعلقہ نمبر پر رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔۔۔
9835938234
*محمد انعام برنی*
ریسرچ اسکالر
*دہلی یونیورسٹی دہلی*
بتاریخ 19/09/2022
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

