اجاڑتا!مری مٹی کو بے نمو کرتا
وہ خواب بوتا جو آنکھیں لہو لہو کرتا
اسی امید میں کب سے پڑے ہیں گلشن میں
وہ چھو کے ہم کو بھی اک روز رنگ وبو کرتا
چڑھا رکھےتھے سبھی نے زباں پہ دستانے
امیرِ شہر سے کیا کوئی گفتگو کرتا
ادھڑتے رہتے تھے ٹانکے ہر ایک موسم میں
ہمارے زخموں کو کب تک کوئی رفو کرتا
وہ عشق جس کی بنا ہی ہوس پہ رکھی گئی
وہ عشق کیسے بھلا ہم کو سر خرو کرتا
سرشک سے ہی ادا کی نمازِ عشق ندیم
نہ ہوسکا کہ لہو سے کبھی وضو کرتا
عبداللہ ندیم

