(۸؍دسمبر یوم وفات کے موقع پر خصوصی پیشکش)
ممتاز صحافی ،ادیب اور دانش ور حفیظ نعمانی(۱۹۳۰-۲۰۱۹) کی آج تیسری برسی ہے۔ ۸؍دسمبر ۲۰۱۹ء کو رات دس بجے کے قریب سہارا ہاسپٹل ، لکھنؤ میں انھوں نے آخری سانس لی۔ حفیظ نعمانی نے تقریباً ۹۰؍برس کی عمر پائی۔ وفات سے چند دن قبل جب اسپتال میں داخل کیے گئے تو کئی سنگین اور خطرناک بیماریوں میںوہ مبتلا تھے مگر اپنے مخصوص مزاج اور غیر معمولی قوت برداشت کے باعث پامردی سے ان کا مقابلہ کرتے رہے ۔آخر دم تک ان کا دماغ حاضر تھا ۔ انھیں اپنی صحت سے زیادہ قلم اور کاغذ سے اپنے رشتہ کی فکر تھی ۔
حفیظ نعمانی کی وفات دراصل ایک بلند پایہ صحافی اور دانشور سے اردو دنیا کی محرومی ہے ۔وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی عظمت موضوعات کا تنوع یا ان کا انداز و اسلوب نہیں تھا بلکہ وہ اعتماد اور یقین تھا جو ان کے کالموں کے بین السطور سے قاری کے ذہن تک منتقل ہوتا تھا ۔اس لیے یہ کہنا درست قرار پائے گا کہ ان جیسا کوئی اب دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ معصوم مرادآبادی نے اسی لیے لکھا ہے کہ ’’ کلدیپ نیر کے بعد حفیظ نعمانی ہندوستان کے سب سے بڑے صحافی تھے‘‘۔
حفیظ نعمانی ایک ایسے گھر میں پیدا ہوئے تھے جو کھیت کھلیان سے جڑا ہوا تھا اور اس کے ساتھ علم کے دھارے ان کے والد ماجد مولانامحمد منظور نعمانی اور بعض قریبی بزرگوں کو سیراب کررہے تھے، وہ سیرابی حفیظ نعمانی کی ذات میں بھی منتقل ہوئی۔کچھ باتوں کو اگر چھوڑ دیا جائے تو عام طور پر جو لوگ کسی بھی میدان میں عظمت یا بلندمقام حاصل کرتے ہیں اس کے پیچھے ان کا جذبہ ، محنت، قربانیاں ، اخلاق ایثار نیز زبردست علمی قوت کا دخل ہوتا ہے۔بے شمار شخصیات کی زندگی میں یہ اوصاف دیکھے جاسکتے ہیں ۔ حفیظ نعمانی بھی ان ہی لوگوں میں سے ایک ہیںجنھوں نے عظیم باپ کی نسبت کے ساتھ ساتھ اپنی انفرادیت کے نقوش قائم کیے۔انھوں نے اپنے لیے دوسری راہ منتخب کی ۔ یہ بالکل نئی راہ تھی ۔ اس میں پیچیدگی اور دشواریاں بھی تھیں مگر خداداد ذہانت اور فکری توانائی نے ان کا ہاتھ تھامے رکھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دشوار گزار راہوں کو سر کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔
حفیظ نعمانی نے عمر بھر قلم سے اپنا رشتہ استوار رکھا، انھیں بلا شبہ اردو ادب کے میدانِ صحافت کا جری سپاہی قرار دیا جاسکتا ہے۔صحافیوں کے بارے میں کسی بڑے آدمی نے کہا تھا کہ اس کے نزدیک بے ضمیر طوائف تو گوارا ہے لیکن بے ضمیر صحافی ناقابل برداشت ہے کیونکہ ایک طوائف تو صرف اپنا جسم بیچتی ہے لیکن صحافی کا قلم پوری قوم کا سودا کرلیتا ہے ۔ حفیظ نعمانی کی صحافتی زندگی کم و بیش نصف صدی کو محیط ہے ۔ حالات بدلے زمانہ بدلا ۔صحافت کے طرز واسلوب بدلے لیکن حفیظ نعمانی نے قلم کی حرمت اور اس کے وقار کو جس طرح پہلے دن باقی رکھا تھا، آخری سانس تک اس پر قائم رہے ۔بقول پروفیسر شارب ردلوی :
’’وہ (حفیظ نعمانی ) جن باتوں کو سچّا اور صحیح سمجھتے رہے ، اس کے بارے میں وہ لکھتے رہے اور کام کرتے رہے۔انھیں کوئی چیز پیچھے نہ کرسکی۔ایک زمانہ تھا کہ سیاسی حلقوں میں ان کا اثر و رسوخ بہت زیادہ تھا۔ وزیر اعلی سے لے کر دیگر وزراء تک ان کی عزت کرتے تھے۔ ذرا سا اشارہ ہوتا توکیا پتا خود وزیر بن جاتے لیکن انھوں نے اس بات کو کبھی پسند نہیں کیا۔اس قربت اور رسوخ کے باوجود انھوں نے اپنے قلم کو کسی ایک سیاسی پارٹی سے وابستہ نہیںکیا۔مسلمانوں کی باہمی کشمکش اور مذہبی رہنماؤں پر ان کا قلم تیزی سے چلا لیکن کبھی ڈگمگایا نہیں۔‘‘
حفیظ نعمانی مسلمانوں کے باہمی اتحاد کی راہیں تلاش کرتے رہے اور اس جانب اشارہ کرتے رہے ۔ان کی صحافتی زندگی کا یہ بڑا اور اہم کارنامہ ہے ۔اخبارات کے صفحات پر ان کے بکھرے خیالات کو اگر جمع کیا جائے، تب کہیں جاکر اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کالم ان کا کام نہیں بلکہ اتحاد و اتفاق کی راہیں ہموار کرنے کا کارنامہ ہے ۔
موت سے انکار نہیں ۔حفیظ نعمانی نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا اور اپنی قبر میں سوگئے۔ لیکن وہ زندہ تھے ، زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔یہ الگ بات کہ ان کے ہونٹوں کی جنبش ہم کو نظر نہ آئے لیکن ان کے الفاظ، ان کے جملے ہماری سماعتوں میں گونجتے رہیں گے۔ان کی انگلیوں میں جکڑے ہوئے قلم کو ہم نہیں دیکھ پائیں گے لیکن ان کی تحریریں قارئین اور ناظرین کے ذہنوں میں اپنا سفر جاری رکھیں گی۔بقول عبداللہ جاوید’’ جن لفظوں میں جذبوں کے لہواور فکر کا متوازن رچائو ہوتا ہے وہ زندہ رہتے ہیں۔ایسے لفظوں کا خالق اپنے لفظوں میں زندہ رہتا ہے۔۔۔۔مرتا نہیں۔‘‘ ٹھیک اسی طرح میرے ماموں جان حفیظ نعمانی ہر صورت میں بھرپور توانائیوں کے ساتھ زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔
اللہ میاں کا کارخانہ آنے جانے پر ہی منحصر ہے، کوئی آتا ہے تو کوئی جاتا ہے۔ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو بہت زیادہ اہمیت نہیں رکھتے جبکہ بعض شخصیات اپنے افعال و کردار کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ جس سے آنے والی نسل بھی متعارف ہوجاتی ہے اور اس پر رشک کرتی ہے۔ ایسی ہی شخصیت حفیظ نعمانی صاحب کی تھی ۔
حفیظ نعمانی کو لوگ بحیثیت صحافی جانتے اور پہچانتے ہیں۔حفیظ نعمانی نے صحافتی زندگی کا آغاز روزنامہ ’’تحریک‘‘ لکھنؤ سے کیا ۔اس روزنامہ کی عمر زیادہ نہیں رہی۔بقول پروفیسر شارب ردولوی ’’اخبار کی اشاعت کے چوتھے دن ہی حیات اللہ انصاری کو یہ کہنا پڑا کہ’’ چاردن کے لڑکوں نے جو اخبار نکالا ہے اس کے مقابلہ میں ہمارا اخبار پیچھے ہوگیا جب کہ ہم برسوں سے اخبار نکال رہے ہیں‘‘۔
حفیظ نعمانی کی صحافتی زندگی کے کئی دور ہیں لیکن ان سب میں سب سے اہم دور ’’ندائے ملت‘‘ کا ہے، یعنی ۱۹۶۲ء سے ۱۹۶۸ء تک۔
’’ندائے ملت‘‘ اور حفیظ نعمانی:
اس کے بانی ایڈیٹر مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی اور پرنٹر پبلشر و معاون مدیر حفیظ نعمانی تھے۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی اورمولانا محمد منظورنعمانی اخبار کے سرپرست تھے۔ان بزرگان دین کی سرپرستی اور مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی ، ڈاکٹر آصف قدوائی، ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی،حسن واصف عثمانی، ظہیر صاحب (پٹنہ) ، جمیل مہدی، تخلص بھوپالی اور حفیظ نعمانی کے قلم نے ندائے ملت کو ایک اخبار نہیںبلکہ ایک تحریک بنا دیااور کچھ ہی عرصہ میں ندائے ملت کی وہ مقبولیت ہوئی کہ لوگ اس کا مقابلہ مولانا ابوالکلام آزاد کے ’’الہلال‘‘ سے کرنے لگے۔
۱۹۶۸ء میں حفیظ نعمانی ،مولانا عتیق الرحمٰن سنبھل، ڈاکٹر آصف قدوائی ، جمیل مہدی، ندائے ملت سے ہمیشہ کے لیے الگ ہوگئے۔ندائے ملت سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد جمیل مہدی، حسن واصف عثمانی اور حفیظ نعمانی نے ہفت روزہ ’عزائم‘ نکلا۔
ہفت روزہ عزائم:
۱۵؍اگست ۱۹۶۹ء کو لکھنؤ سے جمیل مہدی نے ’’عزائم‘‘ کو ہفت روزہ کے طور پر شائع کیا تو حفیظ نعمانی اور حسن واصف عثمانی اس کے ادارتی بورڈ میں شامل رہے۔عزائم مارکیٹ میں بھلے ہی کم تعداد میں جاتا تھا لیکن’عزائم ‘ میں جمیل مہدی ،حکیم عبدالقوی دریابادی، حسن واصف عثمانی ، حفیظ نعمانی اور عرفان صدیقی کی سنجیدہ تحریروں کی بازگشت اردو کے صحافتی حلقوں میں صاف سنائی دینے لگی۔ان لوگوں نے دس برسوں تک اپنی خداداد صحافتی اور علمی استعداد سے اس اخبار کو شہرت کے عروج پر پہنچادیا۔ عزائم کا دفتر امین آباد کی ’حیدر حسین ‘ میںبنایا گیا تھاگیا۔اپنی اشاعت کے تقریباً ۱۰؍ برس بعد ۲۶؍جنوری ۱۹۷۹ء سے ’عزائم‘ روزنامہ ہوگیا۔
’عزائم‘ میں خبروں کے علاوہ علمی، ادبی، مذہبی امور پر مضامین شائع ہوتے تھے، لیکن اس کا اصل موضوع ملکی وملی سیاست تھی۔ جمیل مہدی عزائم کا اداریہ خود تحریر کرتے تھے۔حفیظ نعمانی کے کالم اکثر اخبار میں شائع ہوتے تھے اور جمیل مہدی کی غیر موجودگی میں وہی اس کا اداریہ لکھتے تھے۔یہ اخبار اگرچہ بڑا تو نہیں تھا لیکن اردو صحافت کے معیاری اخباروں میں اس کا شمار کرنا لازمی ہے۔ اس اخبار نے اپنی تحریروں اور مضامین سے عوام اور قارئین پر زبردست اثر چھوڑا ۔
یہ اخبار پہلے دن سے حکومت پر نکتہ چینی کرتا تھا اور اس کی پالیسی واضح طور پر اردو اور مسلم پرستی کی تھی لیکن حفیظ نعمانی کے اکثر مضامین حالات حاضرہ کا آئینہ ہوا کرتے تھے ۔۱۹۷۴ء میں حفیظ نعمانی دل کے عارضہ میں مبتلا ہوگئے اور تقریباً ۱۷؍برس تک وہ اسی بیماری کے ساتھ زندگی کے شب و روز گزارتے رہے۔ یہ عرصہ ان کی زندگی کا وہ زمانہ ہے جس میں انھوں نے سب سے کم لکھا ہے۔۱۳؍فروری ۱۹۸۸ ء کو جمیل مہدی صاحب کا انتقال ہوگیا ۔ ۱۹۹۱ء میں حفیظ نعمانی کے دل نے بالکل ہی جواب دے دیا تو ڈاکٹر نرائن کے مشورہ سے پیس میکر لگوانے پر راضی ہوگئے۔ اسی کے بعد ان کا روزنامہ’ ان دنوں ‘سے تعلق قائم ہوا تھا۔
روزنامہ ان دنوں:
روزنامہ’ قومی آواز‘ کے ستارے جب گردش میں آگئے، اور آہستہ آہستہ بند ہونے پر اردو قارئین کے لیے کوئی ایسا اخبار نہیں تھا جو ان کو آسودہ کرسکے تو اسی دوران نئی دہلی سے شائع ہونے والا روزنامہ ’ان دنوں‘ کے مالک محمد آصف نے لکھنؤ سے بھی اس کا ایڈیشن نکالنے کا فیصلہ کیا۔ انہوںنے ۱۹۹۳ء میںلکھنؤ سے ایڈیشن شروع کیا تو اس کی ذمہ داری ظہیرمصطفی کے سپرد کی گئی۔ محمد آصف اور ظہیر مصطفی میں تجارتی معاہدہ ہوا، جس کے تحت لکھنؤ سے اخبار نکلناشروع۔ اس اخبار سے حفیظ نعمانی، احمد ابراہیم علوی، شاہنواز قریشی منسلک رہے۔روزنامہ ’ ان دنوں‘کی خصوصیت یہ رہی کہ یہ کسی سیاسی جماعت کا نقیب نہیں بنا۔’ان دنوں‘ نے تمام سیاسی جماعتوں خاص طور سے علاقائی پارٹیوں کو اہمیت دیتے ہوئے ان سے متعلق خبروںکو بھی نمایاں جگہ دی۔
اردو قارئین ’’ان دنوں‘‘ اخبار کے لیے بے چین رہتے تھے، اس کی خاص بات حفیظ نعمانی کااداریہ تھا۔ جب تک حفیظ نعمانی’ان دنوں‘ سے وابستہ رہے تب تک قارئین دلچسپی سے اخبار خریدتے اور پڑھتے تھے، لیکن ان کی علیحدگی کے بعد ’ان دنوں‘ کا حال فائل اخباروں جیسا ہوگیا ۔
روزنامہ جدید عمل:
اٹاوہ کے ایک بزنس مین سچیدانندگپتا نے لکھنؤ سے۲۰۰۱ء میں روزنامہ ’جدیدعمل‘ نکالا، جس کی ایڈیٹر سچیدانند گپتا کی بیوی ڈولی گپتا ہیں، جنہیں اردو زبان سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ یہ اخبار سب سے پہلے برلنگٹن ،حضرت گنج سے شروع ہوا۔’جدید عمل‘ کومقبول عام بنانے اور قارئین تک اپنی شناخت قائم کرنے کے لیے پرنٹر وپبلشر سچیدانندگپتا نے سب سے پہلے معروف صحافی اور روداد قفس کے مصنف حفیظ نعمانی کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی، جس میں انہیں کامیابی ملی۔ حفیظ نعمانی’ جدید عمل‘ دفتر آتے اور اخبار کے لیے اداریہ تحریر کرتے تھے۔ قارئین حفیظ نعمانی کی تحریر سے اچھی طرح واقف تھے، چنانچہ لوگوں نے’ جدید عمل‘ کو خریدنا شروع کیا، جو رفتہ رفتہ قارئین کا محبوب اخبار بن گیا۔ اخبار کی پوری ذمہ داری عبیداللہ ناصر، محمد طارق اورمحمد وصی اللہ حسینی کے سر تھی۔ کمپیوٹر کا دور شروع ہوچکا تھا۔لکھنؤ میں صحافت، روزنامہ راشٹریہ سہارا کمپیوٹر کے ذریعہ ہی تیار ہورہا تھا۔چنانچہ’ جدید عمل‘ کو بھی کمپیوٹرائزڈ کیا گیا، جس کی ذمہ داری معروف خطاط اور کمپیوٹر کی زبردست معلومات رکھنے والے محمد افضل حسین ندوی کے سپرد کی گئی ۔ وہ کمپیوٹر آپریٹر کے ذریعہ اخبار کی ڈیزائننگ کرواتے تھے جو آج تک برقرار ہے۔ کچھ دنوں بعد حفیظ نعمانی صاحب نے اپنی خرابیٔ صحت کی وجہ سے معذرت کرلی۔اس کے بعد اخبار کی پوری ذمہ وصی اللہ حسینی کے سپرد کردی گئی۔ وہی اخبار کا داریہ بھی لکھتے تھے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک حفیظ نعمانی کا اداریہ اخبار کی زینت بنتا رہا،اخبار عروج پر تھا۔ اس زمانے میں حفیظ نعمانی کے اداریوں کی دھوم ہوا کرتی تھی۔ قارئین بے صبری سے اخبار کا انتظار کرتے تھے۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا، صحافت کے بعد جدید عمل کا ہی نام لوگوں کی زبانوںپر ہوتاتھا۔ جدید عمل سے حفیظ نعمانی کا تعلق صرف ۴؍سال تک رہا۔اس کے بعد انھوں نے خواجہ محمد یونس کے اخبار ’اپنا اخبار‘ کے لیے لکھنا شروع کیا۔۔۔یہ اخبار بہت ہی محدود تعداد میںدیوناگری زبان میں شائع ہوتا تھا لیکن حفیظ نعمانی کا اداریہ اردواور دیوناگری دونوں زبانوں میں شائع کیا جاتا تھا۔دراصل خواجہ یونس نے اپنے شوق کی تکمیل کے لیے یہ اخبار نکالا تھا۔حفیظ نعمانی کے خواجہ یونس سے دیرینہ تعلقات تھے اور اسی تعلق کی بنا پر وہ اخبار میں لکھتے رہے۔
انٹرنیٹ کے عام ہونے کے ساتھ ساتھ حفیظ نعمانی کے مضامین ملک کے مختلف اخبارات میں شائع ہونے لگے۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم کردار محترم معصوم مرادآبادی نے ادا کیا۔ انھوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے اخبار روزنامہ ’جدید خبر‘ میں حفیظ نعمانی کے مضامین اہتمام سے شائع کرنا شروع کیے بلکہ کبھی کبھی تو انھیں کے مضامین کو اداریہ کے کالم میں ’مہمان اداریہ‘ کے عنوان سے شائع کیا۔ وہ حفیظ نعمانی کے بے باک قلم اور بے لاگ تبصروں کے اس قدر قائل تھے کہ اپنے اخبار کے صفحہ اول پر ان کا کالم شائع کرتے تھے۔’جدید خبر‘ ہی وہ اخبار ہے جس میں لکھنؤ کے باہر حفیظ نعمانی کے مضامین سب سے پہلے شائع ہوئے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے حفیظ نعمانی صاحب نے لکھا ہے:
’’۔۔۔۔یہاں ایک بات کا ذکر کرتا چلوں کہ اودھ نامہ سے قبل میں روزنامہ ’’اپنا اخبار‘‘ کے لیے لکھا کرتا تھا، اُسی زمانے میں مجھ سے بے پناہ محبت کرنے والے معروف صحافی معصوم مرادآبادی صاحب نے عزیزم اویس سنبھلی سے رابطہ کرکے میرے مضامین کو نہ صرف یہ کہ پابندی کے ساتھ اپنے روزنامہ ’جدید خبر‘ دہلی میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا بلکہ اخبار کا وہ کالم جو صرف اڈیٹر کے لیے مخصوص ہوتا ہے، اس میں بھی اس کم علم کے مضامین کو ’’مہمان اداریہ‘‘ کے عنوان سے شائع کیا۔ ‘‘(قلم کا سپاہی ،ص ۴۱)
روزنامہ اودھ نامہ:
روزنامہ اودھ نامہ کے اردو ایڈیشن کی اشاعت ۲۰۰۱ء سے شروع ہوئی۔ اس اخبار کی تشکیل محترم وقار رضوی کی خواہش پر محترم چودھری سبط محمد نقوی نے کی تھی ۔ چودھری صاحب نے ہی اخبار کے لیے عثمان غنی اور حفیظ نعمانی جیسے بیباک اور کھرے صحافیوں سے لکھنے کی درخواست کی تھی۔ قبل اس کے کہ روزنامہ’ اودھ نامہ‘ اخبار اشاعت پذیر ہوپاتا چودھری صاحب کا ایکسیڈنٹ ہوگیا اور وہ اخبار وقار رضوی کے سپرد کر کے سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ اخبار اس وقت تک منظر عام پرنہیں آیا تھا۔حفیظ نعمانی ایک غیر جانبداراور آزاد صحافی تھے لہٰذا اخبار پر ایک مخصوص فرقے کا غلبہ اورخاص مسلک کی ترویج واشاعت کے خدشہ کے پیش نظرابتدائی دس برسوں تک انھوں نے خود کو اخبار سے الگ ہی رکھا۔لیکن ۲۰۱۳ء میں محترم عالم نقوی کے اصرار پر حفیظ نعمانی اخبار کے ایڈیٹوریل بورڈ میں شامل ہو گئے اور اس طرح ان کی گرانقدر تحریریں اخبار کی زینت بننے لگیں۔حفیظ نعمانی نے محترم عالم نقوی سے متعلق اپنے مضمون میں اس سلسلہ کی کچھ روداد لکھی ہے:
’’۔۔۔۔چودھری سبط محمد نقوی مرحوم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ وقار رضوی صاحب اودھ نامہ نکال رہے ہیں، میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ اداریہ حفیظ لکھیں گے۔ پھر ۱۳؍ برس ہوگئے اخبار نکلتا رہا اور میں حکم کی تعمیل نہ کرسکا۔ دو سال ہونے والے ہیں جب عالم نقوی صاحب اخبار کے گروپ ایڈیٹر بن کر آئے اور انہوں نے وہ کرادیا چودھری صاحب کی خواہش تھی کہ میرا ہاتھ وقار رضوی کے ہاتھ میں دے دیا اور وقار صاحب سے کہا کہ اب اخبار کو ہم دونوں بنائیں گے۔ اودھ نامہ کے کھونٹے سے باندھ کر وہ تو کسی مجبوری کی بنا پر علی گڑھ چلے گئے اور میرے ہاتھ میں وقار رضوی کا ہاتھ اور اودھ نامہ کی باگ دے گئے۔۹؍برس پہلے ۲۰۰۴ء میں جو ٹانگ ٹوٹی تھی اس کی وجہ سے میں تو خانہ قید ہوگیا لیکن سید وقار رضوی اپنے کاندھوں پر بٹھاکر نہ جانے کتنی اوپر لے جانا چاہ رہے ہیں؟ میں جو ندائے ملت کے بعد صرف لکھنؤ اور سنبھل تک محدود ہوکر رہ گیا تھا پھر ٹانگ کے بعد سنبھل بھی چھوٹ گیا تھا۔ اودھ نامہ کی بدولت پورے ملک نہیں پوری دنیا میں پڑھا اور پہچانا جارہا ہوں ،یہ کارنامہ عالم نقوی صاحب کا کیا چھوٹا کارنامہ ہے؟
روزنامہ ’اودھ نامہ‘ کے ادارتی بورڈ میں حفیظ نعمانی، پروفیسر شارب ردولوی، فیاض رفعت،عالم نقوی، عبیداللہ ناصر جیسے افراد شامل رہے جن کی تحریروں نے اخبار کو منزل بہ منزل ترقی عطا کی اور عوام میںاخبار کی خوب پذیرائی ہوئی۔اودھ نامہ میں حفیظ نعمانی کے جو مضامین شائع ہوتے تھے، وہ ملک کے دوسرے اخبارات کو بھی بھیجے جاتے تھے۔ محترم ندیم صدیقی صاحب جب تک روزنامہ’’اردو ٹائمز‘‘ ممبئی سے وابستہ رہے ، پابندی کے ساتھ ہفتہ میں حفیظ نعمانی کے دو کالم شائع کرتے تھے۔ اردو ٹائمز سے ہٹنے کے بعد وہ روزنامہ ’’ممبئی اردو نیوز‘‘ کے ڈیٹوریل بورڈ کا حصہ بنے۔ یہاں بھی بڑے اہتمام کے ساتھ وہ حفیظ نعمانی کو جگہ دیتے رہے۔ اس کے علاوہ دہلی،حیدرآباد، بہار، کشمیر ، بنگلور سے شائع ہونے والے اردو اخبارات میں ان کے کالم پابندی و اہتمام کے ساتھ شائع ہوتے تھے۔
حفیظ نعمانی کی صحافتی خدمات کا ایک حصہ ان کی خودنوشت کتاب ’روداد قفس‘ ہے۔رودادِ قفس ‘ حفیظ نعمانی کی جیل ڈائری ہے۔یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ ۲۰۰۰ء میں پہلی اشاعت کے بعد کتاب اتنی مقبول ہوئی کہ ۲۰۰۹ء میںاس کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا گیا اورپھر تیسری اشاعت ۲۰۱۷ء میں ہوئی ۔کتاب کی ابتدا میں حفیظ نعمانی کے بڑے بھائی مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی نے’ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا ‘ کے عنوان سے مقدمہ رقم کیا ہے۔جس میں ہفت روزہ’ ندائے ملت ‘کے وجود میں آنے کی وجوہات بتائی گئی ہیں۔ یہ مقدمہ ان لوگوں کی جواں مردی اور ہمت و حوصلے کو بیان کرتا ہے کہ آزادی کے چودہویں سال بعد مسلم کش فسادات کی لہر دوڑی تو اس پر بند باندھنے کے لیے مسلم سماج میں ہمت وجرأت کی روح پھونکنے کا کام کیا جس میں دانشمندی بھی شامل تھی۔حفیظ صاحب کا مضمون ’’ کچھ باعث تخلیق‘‘ کتاب میں شامل مضامین کی تخلیق پر قلمبند کیا گیا ہے کہ کس طرح ’ندائے ملت‘ میں ان کے مضامین قسط وار شائع ہوئے اور پھر اس کی مانگ بڑھنے لگی۔مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کا مضمون ’ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں‘ کتاب میں چارچاند لگانے کے مترادف ہے۔اس کے بعد روداد قفس میں ۲۴؍ مضامین شامل کیے گئے ہیں جو’ ندائے ملت‘ کے لیے قسط وار تحریر کیے گئے تھے ۔
حفیظ نعمانی سے میرا تعلق عقیدت کا ہے۔مجھے کسی کام کے کرنے میں کبھی اتنی خوشی محسوس نہیں ہوتی جتنی کہ حفیظ صاحب سے متعلق کام کرنے میں ہوتی ہے۔ اس سلسلہ کی ایک کڑی’بجھے دیوں کی قطار‘ تھی اور دوسری اہم کڑی ’قلم کا سپاہی: حفیظ نعمانی‘ ہے ۔
بجھے دیوں کی قطار حفیظ نعمانی کے ۱۱؍خاکوں کا ایک خوبصورت انتخاب ہے جس کے مطالعہ سے آپ کو ہندوستان کی آزادی کے بعد کے لکھنؤ کی ادبی تاریخ کی ایک جھلک دیکھنے کو مل جائے گی۔اس کتاب میں پروفیسر شارب ردولوی کا ایک اہم مضمون شامل ہے۔ دراصل یہ مضمون ’’بجھے دیوں کی قطار ‘‘ کا مقدمہ ہے۔ حفیظ نعمانی کو سمجھنے کے لیے اس مضمون کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔دوسرا مضمون معروف ادیب و کالم نگار جناب صفدر امام قادری کا ہے۔انتہائی توجہ اور محنت سے لکھا گیا یہ مضمون صرف خراج عقیدت ہی نہیں بلکہ فن پارے کا عمدہ تجزیہ ہے جس میں لکھنے والے کی آرا بھی خاکوں کے چمکدار اور روشن جملوں کی طرح نمایاں ہے۔ڈاکٹر صبیحہ انور کا مضمون ’حفیظ نعمانی کی خاکہ نگاری ’بجھے دیوں کی قطار‘ کے آئینہ میں‘مختصراً اپنی جامعیت کے ساتھ انتہائی دلچسپ ہے۔ کتاب میں ’اعتراف گناہ‘ کے عنوان سے حفیظ نعمانی کا انتہائی دلچسپ مضمون شامل ہے ۔
’قلم کا سپاہی :حفیظ نعمانی ‘ کتاب صرف اردو کے اس عظیم سپاہی کی شخصیت کو سامنے نہیں لاتی بلکہ ان کے کارناموں کاعنوان بن کراپنے جلوے بکھیرتی ہے۔’قلم کا سپاہی : حفیظ نعمانی‘ چار ابواب پر مشتمل ہے ۔ ابتدائیہ میں پروفیسر خان محمد عاطف، ڈاکٹر مقصود الٰہی شیخ، عارف صدیقی، معصوم مرادآبادی، سہیل انجم جیسی نامور شخصیات کے مضامین کے شامل ہیں۔ نیز ’مجھے کہنا ہے کچھ۔۔۔‘‘ کے عنوان سے راقم الحروف کا ابتدائیہ شامل ہے۔اس کتاب کی اہمیت اور ثقل کا اندازہ خود حفیظ نعمانی کے مضمون ’’ دخل در معقولات ‘‘ سے ہوجاتا ہے جو ان کی عاجزی و انکساری کا پیش خیمہ ہے۔
باب اول میں حفیظ نعمانی کے ۱۴ مضامین شامل ہیں۔ باب دوم خراج تحسین سے متصف نامور شخصیات پر موقوف ہے ۔ باب سوم میں حفیظ نعمانی کی جیل ڈائری روداد قفس پر مختلف مشاہیر کی آرا سے آراستہ ہے اور باب چہارم میں’ بجھے دیوں کی قطار‘پر تبصرہ اور مضامین کی شکل میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ تحریریں شامل ہیں۔
حفیظ نعمانی ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے مطالعہ و مشاہدہ ان کی فطرت اور خمیر کا حصہ تھے ۔ چونکہ سماج سے ان کا گہرا تعلق تھا ، اس لیے وہ نہ صرف ان کے مسائل سے نہ صرف واقف تھے بلکہ انھیںاس کاادراک بھی تھا۔ان کے کالموںمیں اس کو با آسانی محسوس کیا جا سکتا ہے ۔اسی سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ ان کی تحریریں سنی سنائی باتوں کے بجائے گہرے مشاہدے اور تجربے کی عکاس تھیں۔
ادب، سیاست، سماج سب پر ان کی نگاہ تھی ۔اردو زبان کی ترقی اور اس کی ترویج کا عملی خاکہ ان کے نزدیک بس یہی تھا کہ ہم سب اپنے گھر میں اردو کو باقی رکھیں اور جیسے بھی ممکن ہو اپنے بچوں کے لیے اردو کی تعلیم کا نظم کریں ۔اردو کے نام سے قائم اداروں کو بھی وہ زبان کی اسی بنیادی ضرورت کے لیے سرگرم دیکھنا چاہتے تھے ۔
اتر پردیش کی سیاسی زندگی سے ان کا عملی تعلق رہاہے۔ حفیظ صاحب کی سیاسی عظمت کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ ایک صاف ستھری سیاست کو فروغ دینے کے لیے انہوں نے لوگوں کو آگے بڑھانے کی جی جان سے کوشش کی۔لکھنؤوسنبھل کے متعدد پارلیمانی اوراسمبلی الیکشن اس کے گواہ ہیں۔ان کی سرگرمیوں کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے نہ صرف ایک فعال زندگی گذاری بلکہ اپنے زمانے اور عہد سے بہت گہرا تعلق رکھا۔ان کی تحریریں بھی اس پر گواہ ہیں ۔
گزشہ دو دہائیوں کے دوران حفیظ نعمانی کی صحافتی حیثیت اس طرح نمایاں ہوتی چلی گئی کہ ان کے کالموں کے نہ صرف متعدد مجموعے منظر عام پر آئے بلکہ ان کی تحریروں کا لوگوں کو انتظار رہنے لگا ۔گذشتہ دنوںان کے کالموں کا ایک مجموعہ ’آشنا چہرے‘ کے نام سے منظر عام پر آیا ۔جسے نوجوان اسکالر اطہر حسین نے بحسن و خوبی ترتیب دیا۔ یہ کالم بالعموم خاکے کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی اہمیت بھی اسی لیے زیادہ ہے۔جناب اطہر حسین نے محنت اور کوشش کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کالموں کو جمع کیا اور اس پر ایک مفصل اور معلوماتی مقدمہ بھی تحریر کیا۔
آشنا چہرے ،بجھے دیوں کی قطار اور روداد قفس والے حفیظ نعمانی اپنی حق گوئی، بے باکی اور صداقت کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر چھائے رہے۔یہ ایک ایسی شخصیت تھی جس نے اپنے بے باک قلم سے عوام کے دل جیتنے کے ساتھ لوگوں کے اندر بیداری کی روح بھی پھونکی۔
مختصر یہ کہ حفیظ نعمانی نے تقریباً ۶۳؍برس تک کاغذ و قلم سے اپنا رشتہ قائم رکھا اور ایک بھرپور زندگی گزار کر جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے اس بندے کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں کو درگزر فرما کر مغفرت کا فیصلہ فرمادے۔ آمین۔
قارئین کرام سے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔
ۃۃۃ
رابطہ:9794593055
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

