اب کاچاہی دروغہ صاحب۔ ارے تم کو دیکھنے کا من کرتا ہے تو آجائے ہے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے تو آئی رہو۔ ویسے ماچس بھول گئے تھے۔ بیڑی کیسے چلائے ہاں اب صحیح بات کہے ہو۔ ہم یئی اتنی پسند ہوئے تو کیا بات رہئی۔ ویسے تم کوئی بری بھی نہیں ہو اس موٹے کالے ہاتھی سے تو اچھی ہی ہو۔ ایسے کیوں کہتے ہو دروغہ صاحب وہ ہے تو میرا میاں۔ ہاں بھائی تم ہندوستانی عورتیں۔
ویسے رجو تمہارے دکان پر بھیڑ خوب رہتی ہے۔ بس آپ لوگن کی دعا ہے صاحب رجو مسکرا کر آپ جو کہت ہو ہم سمجھت ہے صاحب پر کیا کرے پیٹ کے لیے کرے پڑت ہے۔ ہم غریب کے لیے پردا اور آرام نہیں ہے صاحب۔ یہی کھڑے کھڑے ساری بیڑی پی جاوہ گے کہا صاحب۔ آج کل کچھ زیادہ فرصت میں رہتے ہو۔ ہاں ابھی تو سب ٹھیک ہی ہے۔ کبھی کبھی کچھ زیادہ مصروفیت ہوجاتی ہے۔
سبہا بھابئی کہا بھاگی جارہی ہو۔ ناروکو رجو آج بہت جلدی میں ہیں پتا نہیں کیا بات ہے آج بھابھی بہت جلدی میں ویسے تو اپنے سے آتی تھی چاہے جتنی بھیڑ رہے دکان پر ہوسکتا ہے کوئی ضروری کام ہو۔ آج حافج جی ہمار توڑی جلدی کردیا۔ ابھی تھوڑا ٹائم لگی سبہا۔ ارے حافج جی سمجھا کرا گھر پر مہمان آئی ہیں اسی وجہ سے کہت ہئی۔ مہمان کے تو کامہے ہے اوبئے کے۔ کچھ خاص ہیں بڑکی بٹیوا کے دیکھیں والے آئی ہین اچھا لے آوہ تمہارا جلدی کردے۔ اچھا حافج جی کچھ بڑائی کے دئیے دیا آگے مہینے میں کاٹ لیا۔ یہی بٹیا کے رشتا ڈھونڈرہی تھی ہاں حافج جی بہت دنوں سے دیکھت ہے اب یئی لوگ دیکھا کہ دے تھئے۔ اللہ چاہے گا تو اچھا ہوگا پریشان مت ہوبہیا۔ تمہاری کتنی بٹیاں ہیں۔ تین چھوٹی ہے فرینا سب سے بڑی ہے۔ کھالی ٹوکری لیے سبہادوڑی چلی جارہی تھی۔فرینائی کچھ پیسہا ہے لو سنبھال کر رکھ دو اچھا امی۔ آج حساب کے دن رہا ا س لیے سبہا ببہا پوچھتے ہوئے بولی۔ ہاں ہاں ہم لوگ سمجھت ہے ہمارے یہاں بھی یہی کروبار ہے۔ ہمارا بڑا لڑکا ہی کارخانے کا منیجر ہے پہلے ہم دیکھتے تھے اب جب سے بچے بڑے ہوئے ہے وہی سارا کاروبار سمجھاتے ہے۔ ٹھیک ہے اب ہم چلتے ہے پہنچ کر اگوا کے خبر کہلادیں گے۔ اچھا بھائی۔
سنوجی ہماری فرینا کتنی قسمت والی ہے لڑکاکا بیڑی کا کارخانہ ہے بہت پیسے والے لوگ ہے بس اللہ پاک جلدی سے ہاں میں جواب آجائے۔ آجائے گا ہماری لڑکی میں کمی کیا ہے ہنرمند ہے بیڑی بنانا بھی جانتی ہے اور کام کاج سبھی کچھ سیکھے ہے۔
کریم چاچا آئے ہیں اماں۔ اچھا بٹھادو پانی وانی دو۔ السلام علیکم کریم بھائی۔ کیسے ہیں ٹھیک ہیں سبہا ہاں میں جواب آیا ہے۔ منیجر صاحب شادی کے لیے راضی ہیں ارے یہ بہت بڑی خوش خبری ہے۔ دن رات خالی یہ ہی سوچت ہے۔ پتہ نہیں کیا جواب آوے گا اور اتنی دیر ہورہی ہے پھر تو بہت پریشان ہوگئے تھے۔ ہاں لیکن اب شادی کی تیاریاں شروع کرو۔ جی بھائی۔ فرینا کے ابا سے کریم بھائی ہاں میں جواب لاہے ہیں۔ ہم کہہ رہے تھے نہ ہماری فرینا ان کو ضرور پسند آئے گی ہاں جی۔ ہماری فرینا اس گھر میں رانی بن کر رہے گی کتنی دولت ہے نوکر چاکر ہے اور دوہی تو بیٹے ہے سب ہوگا تو ان دونوں کا ہی۔
فرینا کے شادی کے پورے ایک سال ہوچکے تھے۔ فرینا سبھی کا خیال بڑے اچھے سے رکھتی سارا گھر کا کام کاج کرتی۔ شوہر کی فرمانبرداری کرتی۔ کیا بات ہے فرینا آج کچھ پریشان لگ رہی ہو۔ ہاں کچھ طبیعت ٹھیک نہیں۔ معلوم ہورہی ہے۔ اماں او اماں دیکھو نہ فرینا کو کیا ہوا۔ اچھا اس سے کہہ دو سوجائے صبح ڈاکٹر کو دکھادیاجائے گا۔ فرینا رات بھر کروٹیں بدلتی رہی نہ جانے کس پہر سوئی تھی۔
اب کیسی طبیعت ہے فرینا ابھی تو ٹھیک لگ رہا ہے لیکن لاپرواہی مت کرو۔ ارشد اگر تمہارے پاس وقت نہیں ہے تو بتا دو میں چلی جائوں دیکھانا ضروری ہے ہاں یہ ٹھیک رہے گا تم ہی دکھا آوہ۔ ٹھیک اس سے کہہ دو تیار ہوجائے۔
کیا بات ہے سب بہت خوش نظر آرہے ہیں ارے بات ہی کچھ ایسی ہے بیٹا تم سنوگے تو خوشی سے جھوم اتھوگے اچھا میں دادی بننے والی ہوں۔ اچھا اماں یہ تو سچ میں خوشی کی بات ہے۔ فرینا سے کہہ دو اب زیادہ کام نہ کیا کرے اور بھاری سامان نہ اٹھائے، ویسے تم فکر نہ کرو میں دن بھر تو گھر ہی میں رہتی ہوں۔ دائی کو آج ہی بول دیتی ہوں شام صبح آکر دیکھ جایاکرے۔
کیسی طبیعت ہے بیٹا۔ ٹھیک ہوں اماں۔ آئیے ہاں بیٹا آج سے آٹھواں مہینہ شروع ہوجائے گا اس وقت اپنا بہت خیال رکھنا ہوتا ہے۔ ہم رات دن بس یہی دعا کرتے ہیں اللہ پاک سے بس سب کچھ اچھے اچھے ہوجائے۔
پتہ ہے اجمل کے بعد اب کوئی کلکاری گونجے گی ہمارے آنگن میں برسوں سے سونی آنگن میں خوشیاں ناچیں گی ارشد کی بہت ڈھونڈنے پر کہیں جاکر رشتہ نصیب ہوا اور اللہ کے کرم سے جلد ہی اللہ گود بھی بھر دے گا۔
ارشد کی عمر ۳۵؍سال ہوچکی اور اجمل ۳۰؍سال کے لیکن اماں کے مطابق ابھی ارشد ۳۵؍کے اور اجمل ۲۰؍کے ہی تھے۔ا رشد کی شکل بند رسے کچھ ملتی ہوگی ۔ کالے بھجنگے ارشد گوری بیبی کی خواہش دیکھتے تھے جسے اللہ نے دیر لیکن درست عطا کیا۔ اجمل تو شکل کے کچھ ٹھیک تھے لیکن ان کی عادتیں ٹھیک نہیں تھی۔ آج کل ان کے نئے نئے دوست بن گئے تھے جو اجمل کے ساتھ ہی گھوما کرتے تھے بڑے باپ کی بگڑی ہوئی اولادوں میں ان کو گنتی کی جائے تو غلط نہ ہوگا۔ بڑی سگریٹ ان کا شوق تھا۔ سگریٹ کچھ ہی امیرزادوں کے پاس ہوتا تھا۔
ارشد آج کارخانہ بند کردو فرینا کی کچھ طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے۔ اماں آج تو حساب کا دن ہے سنیچر ہے آپ تو ہیں ہی میں جلدی سے کام ختم کرکے آتا ہوں۔ ٹھیک ہے جاتے ہی ابا کو بھیج دینا۔ کارخانہ سڑک کے کنارے تھا گھر سے کچھ تین میل دور ہوگا۔ ارشد نے ابا کو گھر جاتے ہی بھیج دئیے۔
کیا بات ہے ارشد کی اماں کاہے اتنی جلدی بلوالیا جانتی آج کتنا کام رہتا ہے۔ کارخانہ میں اور تمہارے نالائق لڑکے سے تو مطلب ہے نہیں ہم اور ارشد۔ ارشد کہو سنبھال لیا نہیں تو کارخانہ کا کیا ہوتا میں تو سوچ سوچ کر پریشان ہوتا ہوں۔ یہ نواب زادے تو سوتے رہتے ہیں۔ ۱۰؍بج گیا ابھی بھی نیند ان کی آنکھوں میں ہے جاکر نہاوہ، دھووہ۔ ارے اب بس بھی کروگے فرینا کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے۔ دائی کو بلوایا ہے دیکھ رہی ہے اندر۔ اچھ اپہلے کیوں نہیں بتایا آپ نے بتانے کا موقع ہی کب دیا۔
کیا ہوا اتنا پریشان ہو ۔ اماہمارے بس کی بات نہ ہے ان کو ہاسپیٹل لے جانا ہوگا۔ اجمل نے جلدی سے ٹیمپو منگوایا اور کچھ دوستوں کو بھی ساتھ لے کر ہاسپیٹل پہنچ گیا۔
کیا بات ہے سب لوگ اتنے خاموش کیوں ہیں۔ تم تو کچھ بولو بھائی۔ بھابھی کیا ہوا۔ فرینا کو فرینا بھائی تو ٹھیک ہے پر اس کا بچہ اجمل آگے کچھ نہ کہہ سکا۔ پر اشد نے حالات کو بخوبی سمجھ لیا۔
کیا بات ہے دروغہ صاحب آج کل کچھ زیادہ کم کرے لگے ہو۔ نا ہی رے رجو کا بتائی آج کل سسورا کہیں چوری تو کہیں ڈکیتی زمانہ اتنا خراب ہوئے گوا ہے کہ پوچھو نا۔ دروغہ صاحب پان چبا چبا کر بول رہے تھے۔ لگتھیہ بیڑی ویڑی چھوڑ دئیے ارے ناہی رجو آج اجمل آیا تھا تو اپنے ساتھ پان لایا تھا اجمل وہی ببہا بھابھی کے بیٹوا کے دہور ہاں وہی کلکتہ سنگ میں ہے چور ڈاکو سب دوست ہے سروا کے۔
سنتے ہیں بیڑی کا کارخانہ ہے ان لوگوں کے ہاں پیسے والے ہے تبھی تو چور ڈاکو سے دوستی کہئے ہے نہیں توعام لوگ ان کے نام سے کاپت ہے۔ دروغہ صاحب تم کہت تو صحیح ہو۔
فرینا پھر اپنی زندگی میں مشغول ہوگئی تھی۔ اس واقعہ کو گزرے پورے تین سال ہوگئے تھے فرینا پہلے سے اداس رہنے لگی تھی۔ بہت علاج کے بعد بھی فرینا ماں نہیں بن پارہی تھی۔ فرینا کو جس بات کا خدشہ تھا آج وہی ہوا۔
ارشد آخر کب تک تم ایسے ہی رہوگے کیا کہہ رہی ہو اماں میں جو کہہ رہی ہوں تم بخوبی سمجھ رہے ہو۔ لیکن اماں فرینا اس کو بھی رکھو اور کہیں دور کوئی غیر لانے کو تھوری کہہ رہی ہوَ ارے اپنی فرینا کی چھوٹی بہن ہے نہ تم پریشان مت ہو میں سب دیکھ لوں گی کل میں جاتی ہوں مودھوپور۔
دیکھئے آپ اچھے سے جانتی ہے ہم لوگ کتنا پریشان ہے اور ہر ممکن کوشش کرکے دیکھ لئے پر اللہ کو لگ رہا کچھ اور ہی منظور ہے۔ آخر ہمارے گھر میں بھی وارث کی ضرورت ہے آج ہم زندہ ہیں ہمارے سامنے ہی جو ہونا ہے ہوجائے نہیں تو ہمارے نہ رہنے پر اللہ جانے بچوں کے ساتھ کیا ہوکون جانے۔ آپ کہت کیا ہو ہم کچھ نہیں سمجھ پارہے ہیں۔
اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کو فرینا اس گھر میں عزت آبرو سے رہے تو اپنی چھوٹی بیٹی کا بیاہ ارشد سے کرادو یہی ہم کہنا چاہتے ہیں۔ ابھی وقت ہے سوچ سمجھ لو۔
ویسے کہت تو صحیح ہے فرینا کے ابا ہمارے دونوں بیٹیاں ایک ساتھ ایک گھر میں اور تو اور ساری دولت بھی یہیں دونوں کی ہوئی۔ چھوٹا تو نکما ہے۔ سب تو ارشد کا ہی ہے۔ بیڑی کے کارخانہ کے مالک بھی ارشد ہی ہماری فرینا بھی سمجھ دار ہے دونوں سمجھ کررہے گی چھوٹی کو چاہتی بھی بہت ہے فرینا۔ فرینا بھی عزت سے اس گھر میں رہے گی نہیں تو اگر طلاق ہوا تو ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔ نہیں، نہیں ہم تو کہہ رہے ہیں آج ہی کریم حاجی کو بلوا کر ہاں کہلادو۔ ارے پاٹل ہوگئی ہو ابھی زرینا کی عمر ہی کتنی ہے۔ ۱۶؍سال کی بھی نہ ہوئی ہے۔ ہماری چھوٹی سی بچی پاگل ہوگئی ہو کارخانہ کے پیچھے۔ ہاں ہاں میں پاگل ہوگئی ہوں۔ جب ایک وقت کی روتی کے لیے سارے دن بیڑی بنانا پڑے ہے تو ہر ماں پاگل ہوجاتی ہے۔ کیسے کیسے کرکے فرینا کی شادی کئے کیا بھول گئے آپ ابھی کرنے سے خالی بھی نہ ہوئے۔ اب یہ سب کہاں سے کروگے بیاہ ان دونوں کا اور اگرفرینا کا طلاق ہوگیا تو سماج اور برادری پوچھے گی بھی نہیں تو بٹھائے رہنا اپنے دونوں بیٹیوں کو۔ سنو جی اب تو ہم سے بیڑی بھی نہ بنائی جاتی پہلے تو رات میں بھی بنالیتے تھے فرینا کے جانے کے بعد تو بیڑی بھی آدھی ہوگئی۔ لیکن تم سوچو ہماری فرینا کو کتنا آرام ہے بیڑی بھی نہیں بنانا پڑتا کسی غریب گھر میں ہوتی ہے ہماری طرح ہی اس کو بھی پوری زندگی بیڑی بنانے میں ہی گزرجاتی۔ دمہ کی مریض الگ سے ہوجاتی۔
میں تو ایک ماں ہوں اپنی بچیوں کی خوشی چاہتی ہوں کون ماں ہوگی جو اس آگ میں اپنے بچوں کو ڈالنا چاہے گی۔ جس میں وہ خود جلی ہو سبیہا اتنا کہہ کر سسک سسک کر رونے لگی۔ پریشان مت ہو بیہا جیسے چاہتی ہو ویسا ہی ہوگا۔
فرینا یہاں وہ ہاں اماں کیا بات ہے لے میرے سر میں تھوڑا تیل ڈال دے اچھا اماں۔ سر میں رات ہی سے درد ہے میں دبا دیتی ہوں فرینا میں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہوں پر سوچتی ہوں تم یہ سب سن کر مجھے کیسے معاف کروگی کیسی باتیں کرتی ہیں اماں۔ ہاں فرینا بات ہی کچھ ایسی ہے۔ میں تم سے پوچھتی ہوں اس گھر کی خوشیوں کے لیے تم کیا کرسکتی ہو تو تم کیا کہوگی۔ اماں میں نے تو ہمیشہ اس گھر کی خوشیاں چاہی ہے اور جتنا مجھ سے ہوسکتا ہے میں کرتی ہوں اور آگے بھی کرتی رہوں گی۔لیکن اماں یہ سب آپ کیوں پوچھ رہی ہیں۔ فرینا ارشد کی خوشیاں کیا تمہارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی تم دیکھتی ہو ارشد دن بہ دن کیسے ہوتا جارہا ہے اس کو ہنستے ہوئے دیکھے تو مدتوں ہوگیا ہو جیسے اماں صاف صاف کہئے یوں پہیلی نہ بجھائیے۔ ارشد کی خوشیوں کے لیے کیا ارشد کو قربان کرسکتی ہو۔ ہاں اس رشتے کو جو تمہارے اور ارشد کے بیچ ہے۔
اماں فرینا کے ہاتھ رک گئے تھے انگلیاں جو ادھر ادھر گھومے جارہی تھی ٹھہر سی گئی تھی۔ پھر آنسوئوں کا مٹکا پھوٹ پڑا تھا۔ اماں نے جھٹ سے فرینا کے ہاتھ پکڑ لیے ان آنسوئوں کو بہ جانے دو فرینا محبت قربانی مانگتی ہے۔ تمہارے ماں باپ نے تمہارے لئے نہ جانے کئی قربانی دی ہوں گی۔ اور ہم ارشد اور اجمل کے لیے ہر انسان قربانی دیتا ہے فرینا اور آج ایک ماں اپنی بچی سے اپنے بچے کے لیے قربانی مانگ رہی ہے۔ اماں کاش کی آپ ہماری جان مانگ لیتی میں خوشی خوشی زہر پی لیتی پر یہ زہر نہیں پیاجائے گا۔ فرینا روتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
وقت بیتنے کے ساتھ ساتھ فرینا کو یہ اطلاع بھی دے دی گئی کہ وہ کوئی اور تھی جو تمہارے گھر میں چراغ روشن کرنے والی ہے۔ تمہاری چھوٹی بہن ہے۔ اماں نے نہ جانے کیا سوچ کر یہ فیصلہ کیا میں نہیں جانتی مگر میری اماں ایسا نہیں کرسکتی۔ تمہیں کیا لگتا ہے فرینا میں تمہارے اماں سے پوچھے بنا یہ سب کہہ رہی ہوں تو کیا اماں نے ہاں۔ تمہاری اماں بھی راضی ہے اور ابا بھی میں خود گئی تھی تمہارے اماں سے ملنے مادھو پور۔ اور راضی کیوں نہ ہوتیں میرے بڑے میں کمی کیا ہے۔ اتنے بڑے کارخانہ کا مالک ہے رانی بن کر رہے گی تمہاری بہن۔ اپنی ماں کا سوچو بیڑی بنابنا پیٹ بھرا ہے تن پر کپڑے دئیے ہے۔اپنا گذراہوا وقت مت بھولو فرینا ایک ماں ہے سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ لیا ہوگا کیسے کرے گی بیاہ ان دونوں کا کہاں سے لائے گی جہیز دینے کے لیے روپیہ کچھ تو سوچ فرینا۔
فرینا تم بھی جلدی سے تیار ہوجائو مہمان آنا شروع ہوگئے ایسے کوئی دیکھے گا تو کیا وچے گا۔ جی اماں۔ فرینا آج بہت پیاری لگ رہی ہو۔ ہاں بھئی بہن کی شادی جو ہے بہن کی یا شوہر کی آپ ایسے کہہ رہی ہیں خالہ جان جیسے ہم نے کچھ پتا ہی نہ ہو۔ اور کیوں نہ کرے ایک بہن عیش کررہی ہے تو دوسری بھی نہیں کرو صالح ارے کہاں یہ بیڑی بنانے والیاں اور کہاں ہماری خالہ جان۔
رات کے اندھیرے میں فرینا صاف ستھرے آسمان کو تک رہی تھی جس میں ہزاروں، لاکھو ستارے ٹمٹما رہے تھے اور نیم کا درخت جھوم جھوم کر چاند کو چھپا رہا تھا۔
فرینا کے قدم اچانک ہی سڑک کی طرف بڑھ رہے تھے۔ سڑک کے دونوں اور کھیتوں سے بڑبڑ کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ فرینا کی دونوں کلائیاں لال چوڑیوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ اور وہ سرخ جوڑے میں چلی جارہی تھی۔ اچانک سے اس کے قدم رک گئے تھے سڑک کے کنارے بنے ایک گھر میں داخل ہوئی۔
کیا ہوا دروغہ صاحب مجرم کا کچھ پتا چلا ارے میں بار بار کہہ رہاہوں کوئی گھر کا ہی اور وہ کوئی اور نہیں اجمل ہی ہے اس سنگت کس کے ساتھ ہے یہ آپ لوگوں کو نہیں پتہ۔ بڑے بڑے چور اچکے ان کے دوست ہیں۔ میں کہتا تھا ارشد کی ماں سے کچھ نہ کچھ یہ ضرور کرے گا اور نہ روکوکوئی ذمہ داری نہیں کچھ نہیں ہیں۔ سارے دن آوارہ گردی بس دیکھ لیا نہ اس کا نتیجہ اب روہ بیٹھ کر ساری زندگی بھوکے مروگے بھوکے۔ ہمارے ابا نے یہ کاروبار کھڑا کیا تھا او رپھر ہم نے اپنی جوانی لگادی اس کارخانہ کو بنانے میں اور ارشد وہ تو رات دن محنت کرتا تھا مگر اس نالائق کو نہیں راس آئی ہماری خوشیاں۔ ارے یہ کون ہے۔ دروازے پر ایک عورت جس کے جسم پر راکھ ہی راکھ تھی اس کے لباس سے جانا جاسکت اتھا کہ وہ ایک خاتون تھی اس کا چہرہ راکھ سے ڈھکا تھا۔ سارا جسم راکھ سے نہایا ہوا تھا کپڑے کا رنگ بھی معلوم نہیں پڑ رہا تھا۔ بال کالے اور بھی سیاہ ہوگئے تھے۔ بس چھن چھن کی آواز تھی جو اس سناٹے کو چیر رہی تھی۔ کون ہو تم مجرم۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

