سید احمد قادری دور جدید کے معروف افسانہ نگار ہیں۔ ان کے افسانے بدلتے وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ان کے یہاں موضوعات میں تنوع و کثرت پائی جاتی ہے وہ نہ صرف افسانہ نگار ہیں بلکہ وہ صحافی اور ناقد و محقق بھی ہیں صحافت کے میدان میں پچھلی کئی دہائیوں سے مسلسل سرگرم ہیں انھوں نے تقریبا ہر موضوع پہ اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور سیاست کی بساط پہ بھی اپنے افکار و نظریات کے مہرے کو کامیابی کے ساتھ رکھا ہے اور ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کی تنقید و تحقیق کی صلاحیت نے ان کی شناخت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے انھوں نے سچ کو بیان کرنے کے حتی المقدور بےباکی کے ساتھ کام لیا ہے۔ ان کی لکھی ہوئی کتاب تعلیمی نصاب کا حصہ بھی ہے۔ ان کی متعدد کتابیں جو کہ افسانوی مجموعے کے علاوہ تنقید و تحقیق سفرنامے اور صحافتی ادب پہ مبنی ہیں منظر عام پہ آ چکی ہیں اس کے علاوہ انھوں نے اب تک تقریباً چھ کتابیں مرتب بھی کی ہیں۔ اس وقت میں سوالات و جوابات کی نشست میں سید احمد قادری کے روبرو ہوں آئیے ان کے بارے میں مزید ہم انھیں سے جانتے ہیں
علیزے نجف: اس انٹرویو کا آغاز اصول کے مطابق آپ کے تعارف سے کرنا چاہتی ہوں گی ۔ بہتر یہ ہے کہ آپ اپنی شخصیت کو خود اپنے الفاظ میں قارئین سے متعارف کرائیں اور یہ بھی بتائیں کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے اور اس علاقے کی تاریخی حیثیت کیا ہے ؟
احمد قادری : میری پیدائش ریاست بہارکے ایک چھوٹے سے شہر اورنگ آباد کے ایک متوسط گھرانے میں ہوئی ۔ اس وقت ہمارے ملک ہندوستان کوآزاد ہوئے چھ سات سال گزرچکے تھے ۔ پورے ملک میں انگریزوں کے تسلط سے آزادی کی خوشیوں کا سلسلہ چل رہا تھا لیکن دوسری جانب ملک کے تقسیم کا درد و کرب بھی شامل تھا۔ یہ تقسیم صرف دو ملکوں کا نہیں ہوئی تھی بلکہ ہزاروں لاکھوں گھروں اور خاندانوں کی تھی۔ بیٹی، ماں باپ سے جداہوگئی تھی، ماں باپ سے بیٹا الگ ہوگیا تھا ۔ بھائی بہن ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے۔ مستقبل کے سنہرے خواب اورسیاست دانوں کی انانیت مفاد پرستی اور ناعاقبت اندیشی نے نہ جانے کتنے خاندانوں کواپنے ملک سے اپنی جڑوں کوچھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا ۔ان لاکھوں خاندان میں میرا بھی خاندان شامل تھا اوریہ باتیں میری سمجھ میں بہت دیر سے اس وقت آئیں ، جب میں نے اپنی دادی ماں کو اپنی اکلوتی بیٹی کی جدائی میں آنسو بہاتے دیکھا، اپنی ماں کواپنے پورے خاندان سے بچھڑنے پر ہمیشہ غمزدہ اور روتے دیکھا – کسی نے کہا ہے نہ کہ
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطاکی تھی صدیوں نے سزا پائی
میرے ہوش سنبھالنے تک زمینداری ختم ہوچکی تھی لیکن اثرات باقی تھے ۔ میرے والد جناب سید بدرالدین قادری (قلمی نام بدر اورنگ آبادی ) کلکتہ کی ملازمت اور صحافت چھوڑ کر مرکزی حکومت کے اے جی آفس رانچی میں آڈیٹر کی حیثیت سے بحال ہوچکے تھے ۔آڈٹ کی ذمہ داری نے انھیں ہمیشہ سفر پر رکھا۔اس لئے ہم سبھی یعنی میری والدہ میری چار بہنیں اورہم تین بھائی دادا ابا حافظ سید غلام غوث صاحب مرحوم کے زیرنگرانی اورنگ آباد ہی میں رہے اورابتدائی تعلیم بھی میں نے یہاں کے ٹاؤن ہائی اسکول سے حاصل کی۔
مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میری جنم بھومی اورنگ آباد ہے ۔اسی اورنگ آباد میں، میں نے پہلا افسانہ لکھا تھا اور اب تک میرے چار افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ،جنھیں بہار ، اتر پردیش اور مغربی بنگال اردو اکادمیوں کے ایوارڈ بھی مل چکے ہیں ۔ اسی اورنگ آباد کی سرزمین پر جئے پرکاش نرائن تحریک کی میری ابتدائی رپورٹنگ پر سی آئی ڈی والوں نے بازپرس کی تھی اور آج میری شناخت ایک صحافی کی حیثیت سے ہے ،اسی صحافت کی خدمات کے اعتراف میں کے کے برلا فاؤنڈیشن ، نئی دہلی جیسے باوقار ادارہ نے اب تک کا پہلا اور آخری فیلو شپ ایوارڈ مجھے دیا تھا ۔ اس فیلو شپ کے تحت تصنیف ہونے والی میری کتاب” اردو صحافت بہار میں “ بہار اور جھارکھنڈ کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہے۔اورنگ آباد میں صبح صبح دادا ابّا حافظ سید غلام غوث ( مرحوم ) کے فجر کی نماز کی قرأت اور پھر تلاوت قران پاک کی قرأت اب تک میرے دل ودماغ میں محفوظ ہے ۔کہانیاں سننے کا شوق ہر بچے کی طرح مجھے بھی تھا اور میرا یہ شوق کبھی امّی جان اور کبھی دادا ابّا سر ،پیر دبواتے وقت پورا کیا کرتے تھے ۔ سن شعور کو پہنچا تو میرا داخلہ اورنگ آباد کے ٹاؤن ہائی اسکول میں کرا دیا گیا ،جہاں مجھے اردو کے سیدھے سادے استاد وسیم الحق ، سخت گیر فارسی کے استاد مولانا لطافت حسین شمسی کے ساتھ ساتھ ماسٹر قدوس اور بندیشوری بابو وغیرہ جیسے استاد سے تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ۔ اورنگ آباد میں اسکول کے زمانے کے میرے قریبی دوست نوشی، حلیم ، کشور وغیرہ تھے ۔ اس ابتدائی زمانے میں، میں نے اورنگ آباد کی اردو لائبریری میں موجود بچوں کے لئے موجود تقریباََ ساری کتابیں پڑھ ڈالیں ۔ راجہ رانی کی ،دیو پریوں،جادوگروں کی اور کئی مشاہیر کی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابیں ۔ میرے والد جناب بدر اورنگ آبادی اپنے دور کے مشہور افسانہ نگار تھے اور اے جی آفس کی ملازمت سے قبل کلکتہ میں صحافت سے بھی جڑے تھے ۔مرکزی حکومت کے اے جی آفس ، رانچی میں آڈیٹر کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد ایس اے ایس کا امتحان پاس کیا اور اے جی آفس رانچی میں پہلے مسلم اکاؤنٹس آفیسر ہوئے ۔ لمبی چھٹیوں میں وہ اورنگ آباد آیا کرتے تھے ۔رانچی میں جب انھیں اپنے بچوں کی دوری ستانے لگی ،تب سبھوں کو رانچی لے گئے ۔ ہم لوگ رانچی ،ڈورنڈہ کے لکچھمی پاڑہ محلہ میں کرایہ کا ایک مکان میں آباد ہو گئے ۔جہاں تک اورنگ آباد کی تاریخی حیثیت کا سوال ہے تو یہاں اورنگ زیب کے قافلہ گزرنے کی بات سامنے آتی ہے ، جس کے نام پر یہ شہر آباد ہوا ۔اس کی تاریخ میں جاؤنگا تو باتیں بہت ہی تفصیل طلب ہو جا ئینگی ، ہاں فی الوقت میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ ہمارا اورنگ آباد مردم خیز علاقہ ہے ، یہاں کئی ایسی شخصیات پیدا ہوئی ہیں ، جن کی کئی لحاظ سے شناخت ہے ۔یہاں نہ جانے کتنے لعل وگہر پیدا ہوئے اور شہرت و مقبولیت کے افق پر چھا گئے ۔ اس ضمن میں سب سے پہلا نام بے اختیار ذہن کے پردے پر روشن ہوتا ہے ،وہ نام ہے پروفیسر عبدالمغنی اور ان کے والد مولانا عبد الرؤف کا ہے ۔ جنھوں نے اپنی علمی ، ادبی ، لسانی اور تنظیمی صلاحیتوں سے پورے برصغیر میں نام روشن کیا ہے ۔ ان کے علاوہ اورنگ آباد ضلع کے رفیع گنج سے تعلق رکھنے والی بین الاقومی شہرت رکھنے والی شخصیت کمال احمد رضوی کی ہے ، جو اپنے وطن رفیع گنج سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور پاکستان میں انھیں ایک ڈرامہ نگار اور اداکار کی حیثیت سے جو شہرت اور مقبولیت ملی وہ کم لوگوں کے حصہ میں آئی ہے ۔ آج بھی ان کے مقبول ٹی وی ڈرامہ سیرئیل ” الف نون “ کو لوگ نہیں بھولے ہیں اور الّن کی اداکاری سے کمال احمد رضوی نے اپنے فن کا کمال دکھا کر لوگوں کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں۔ تیسرا نام اسی رفیع گنج سے تعلق رکھنے والی مشہور شخصیت رضی رضوی کا ہے ۔ جنھوں نے وائس آف امریکہ کے اردو پروگرام کو عالمی مقبولیت عطا کی اور اس شعبہ میں ایک اعلیٰ افسراور براڈکاسٹر کی حیثیت سے بھی اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے ۔ رفیع گنج کے قریب کے ہی ایک گاؤں عماد پور کے رہنے والے شفق عمادپوری کی شاعرانہ قد و قامت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس گاؤں میں جب اورنگ آباد کے ایس ڈی او کی حیثیت سے مشہور ادیب قدر ت اللہ شہاب جاتے ہیں ،تو بطور خاص ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں ۔ اس خصوصی ملاقات کا ذکر انھوں نے اپنی مشہور کتاب ”شہاب نامہ“ میں بڑے دلچسپپ انداز میں کیا ہے ۔
علیزے نجف : ہر انسان کسی نہ کسی ماحول کا پروردہ ہوتا ہے ۔ آپ نے کس طرح کے ماحول میں آنکھ کھولی ،اس وقت آپ کے گھر کے ماحول اور معاشرتی ماحول میں کس تہذیب کا غلبہ تھا اور ا سکے اثرات کیا اب تک آپ کی شخصیت کا حصہ ہیں ۔ بدلتے وقت کے ماحول سے گزرتے ہوئے آج کے دن تک آپ نے تبدیلی کو کس طرح قبول کیا ہے ؟
احمد قادری : میں نے ابتدا ہی میں آپ کو بتایا کہ جس وقت میں نے آنکھیں کھولیں ، اس وقت زمینداری ختم ہو چکی تھی ، لیکن اثرات باقی تھے۔ لیکن ہم لوگ اس وقت اپنے دادا ابّا کے زیر نگرانی تھے اور دادا ابّا حافظ تھے ، ا سلئے گھر میں دینی ماحول تھا ، خوف خدا تھا ۔اس لئے میرے گھر کا ماحول ہر لحاظ سے تہذیبی تھا ۔اب جہاں تک بدلتے وقت کے ماحول سے گزرتے ہوئے تبدیلی کو قبول کرنے کی بات ہے تو ہر زمانے اور عہد میں گزرے زمانے کو بہتر اور تاریخی بتایا گیا ہے اور کسی فلسفی نے یہ بھی کہا ہے کہ زمانے کو برا مت کہو کہ زمانہ ہم سے ہے زمانے سے ہم نہیں ۔ بس ان ہی گتھیوں میں وقت کا پہیہ آگے بڑھتا گیا اور میں اورنگ آباد سے رانچی آ گیا ۔رانچی کے ڈورنڈہ محلّہ میں گھر کے قریب ہی واقع ایس ایس وی وی ہائی اسکول میں میرا داخلہ بہت سخت ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد نویں جماعت میں ہوا ۔ اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر گھوش بابو بہت سخت گیر تھے ۔ وہ انگریزی پڑھایا کرتے تھے ۔ اکثر مجھے ان کے عتاب کا شکار ہونا پڑتا تھا ، پوئم یاد نہیں کئے جانے کی پاداش میں ان کے دفتر میں اکثر مرغا بھی بننا پڑا ۔ اسکول میں کلاس شروع ہونے سے قبل صبح صبح پریئر میں ،میں دو تین بچوں کے ساتھ مل کر اونچے برآمدہ میں کھڑے ہوکر علّامہ اقبال کامشہور ترانہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ایک خاص انداز سے پیش کیا کرتا تھا اور نیچے کھڑے سینکڑوں بچے اس ترانہ کو دہراتے تھے جو بلا شبہ بڑا اچھا لگتا تھا، اچھا یہ بھی لگتا تھا کہ میں ترانہ پیش کرتے ہوئے سینکڑوں بچوں کی نگاہوں کا مرکز ہوں اور ترانہ میں موجود اپنے ملک ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب ، یکجہتی اور پیار ومحبت کے جو پیغام تھے ، وہ سرشار کرتے تھے ۔ اس شاندار پیشکش کے باعث میں اسکول کے اساتذہ اور طلباء کے درمیان اپنی شناخت بنا چکا تھا ۔ اسی شناخت کے باعث مجھے زبردستی اسکاؤٹ اینڈ گائڈ میں شامل کیا گیا تھا ۔ لیکن شمولیت کے بعد اس میں میری دلچسپی بڑھتی گئی اور مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ۔ رانچی کا ماحول اورنگ آباد سے میرے لئے مختلف تھا ۔ بچوں کی کتابیں یہاں آسانی سے نہیں ملیں ۔ لے دے کر کبھی ’کھلونا‘ یا ’ٹافی‘ جیسے رسائل پر ہی اکتفا کرنا پڑتا تھا۔ یہ رسائل جب گھر پر آتے ۔تو ان پر پہلا حق میری باجی کا ہوا کرتا تھا۔ ایک دن رسالہ ’کھلونا‘ کے لئے ہم دونوں میں پہلے پڑھنے کو لے کر لڑائی ہو گئی اور باجی نے اپنی عادت کے مطابق میری پٹائی کر دی ۔میں رونے لگا تو میرے والد نے مجھے چپ کرانے اور بہلانے کی غرض سے اپنے بک شیلف سے ابن صفی کے چند ناول دئے اور کہا لو ،تم انھیں پڑھو۔ظاہر ہے یہ ناول اس وقت میری سمجھ سے پرے تھا ،پھر بھی میں نے اپنی باجی کو مرعوب کرنے کے لئے کہ دیکھو میں وہ کتاب پڑھ رہا ہوں ،جو ابّا پڑھتے ہیں، ان کی ورق گردانی کرتا رہا۔ابن صفی کے یہ ناول میرے سر سے گزر جاتے ، لیکن کبھی کبھی قاسم کی غوں غاں، اس کی بیوقوفیاں، عمران کا کھلنڈرا پن ، حمید کی شرارتیں مجھے اچھی لگتیں۔ میں ان سے لطف اندوز ہوتا۔ یہی مزاحیہ لطف مجھ سے کبھی کبھی ناول پڑھوا لیتا اور دھیرے دھیرے ابن صفی کے ناولوں کا میں دیوانہ ہو گیا اور خود کو ابن صفی کے آہنی کردار کرنل فریدی میں ڈھالنے کی کوشش کرنے لگا ۔ اس سلسلے میں ، میں نے اپنے ایک مضمون ”ابن صفی کے ناول، میرا شوق ، میرا جنون “ میں بہت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ ابن صفی کے ناولوں نے مجھ پر بھی بہت سارے لوگوں کی طرح نشہ ساکر دیا تھا اور مجھے یہ اعتراف ہے کہ ابن صفی کے ناولوں سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے اعتراف بہت سارے ادیبوں ، شاعروں ، سائنسدانوں اور دانشوروں نے کیا ہے ۔
رانچی ، ڈورنڈہ کے ایس ایس وی وی ہائی اسکو ل سے میٹرک کا امتحان 1979ء میں پاس کیا اور ایک بار پھرمیں اپنے دادا ، دادی کی خدمت اور ان کی سرپرستی میں تعلیم حاصل کرنے اورنگ آباد پہنچ گیا ۔ اس سنہا کالج کے پری یونیورسٹی کے سال اوّل میں داخلہ لیا۔ جہاں مجھے پروفیسر ظہیر احسن جیسے اردو کے استاد ملے۔ شعبہء حیوانات کے پروفیسر وصی کریم کا اپنا ایک وقار تھا ، جس کے لئے وہ جانے جاتے تھے ۔ بوٹنی میں اوجھا جی اور گپتا جی میرے خاص استاد تھے اور کیمیسٹری میں اودئے سنگھ جی کے ساتھ ساتھ فزکس کے استاد جگدیش جی کو میں اب تک نہیں بھولا ہوں ۔اورنگ آباد کے سنہا کالج میں داخلہ لینے کے بعد ایک واقعہ جو نئی نسل کے لئے درس کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اسے سنانا چاہتا ہوں ۔مجھے کالج جانے کے لئے ایک سائکل مل گئی تھی ۔ سائکل پر سوار ہو کر کالج کے لئے نکلتا تو راستے میں اکثر اپنے ٹاو ؤن اسکول کے سخت گیر استاد مولانا لطافت حسین شمسی ،جو بہت ہی باوقار طریقے سے رہا کرتے تھے ، کالج کے راستے میں آگے آگے جاتے ہوئے مل جاتے ۔ میری ہمّت نہیں ہوتی کہ میں سائکل پر سوار ہو کر ان سے آگے نکل جاؤں ۔ دور سے ان پر نظر پڑتے ہی میں سائکل پر سے اتر جاتا اور بڑی خاموشی سے ان کے پیچھے پیچھے چلتا جاتا ۔ کئی دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا ، لیکن ایک دن اچانک انھوں نے محسوس کیا کہ ان کے پیچھے پیچھے کوئی چل رہا ہے ۔ وہ مڑے ، میں نے انھیں سلام کیا۔ انھوں نے بڑی محبت سے سلام کا جواب دیا اور کہا جاؤ جاؤ ، کالج میں تم کو دیر ہو جائے گی ۔ اس کے بعد ان کی اجازت سے سائکل پر بیٹھ کر آگے بڑھنے کی میں ہمّت کر سکا ۔ اسے کہتے ہیں اپنے استاد کی عزّت و احترام ، جو آج کم کم دیکھنے کو ملتا ہے ۔ افسوس کہ بدلتے وقت نے ایسی ساری قدریں بدل دی ہیں ۔ بہرحال میں ایک بار پھر اورنگ آباد کی اردو لائبریری کی پناہ میں آ گیا ۔ جہاں مجھے طرح طرح کے رسائل و جرائداور کتابیں پڑھنے کو ملیں ۔ کرشن چندر، منٹو ،بیدی، عصمت ، سہیل عظیم آبادی، ذکی انور وغیرہ کے افسانے ذہن پر چھانے لگے ۔اورنگ آباد کی اس واحد اور قدیم اردو لائبریری سے میرے والہانہ لگاؤ کو دیکھتے ہوئے اورنگ آباد کے بعض سرکردہ لوگوں نے مجھے اس لائبریری کا سکریٹری بنانا چاہا ، لیکن سیاست حاوی ہو گئی اور میں صرف ایک ووٹ سے ہار گیا تھا ۔ اس شکست کی تلافی میں لوگوں نے 3 مارچ 1974 ءکوایک ادبی انجمن ”ادبی مجلس “ کے نام سے قائم کی ۔اس ادبی مجلس کا صدر جمال الدین ساحل(سابق ڈائریکٹر دور درشن ) کو اور جنرل سکریٹری مجھے بنایاگیا ۔ میں اپنے گھر کی چھت پر ہی ہر ماہ بڑے تزک و احتشام کے ساتھ ادبی نشستیں منعقدکیا کرتا تھا۔ میرے ساتھ ابو انعام اختر ( مدیر، ہندی ماہنامہ ’آرسی‘ رانچی، دہلی) کے علاوہ چند ہی لوگ افسانے سنایا کرتے تھے ۔ اس کے بعد مشاعرہ کی محفل سجتی ۔ کئی بار باہر سے اورنگ آباد تشریف لائی ہوئی اہم شخصیات ان نشستوں میں شامل ہوا کرتی تھیں ۔ ان تما م نشستوں کی رپورٹنگ میں خود کیا کرتا تھا، جو اس زمانے کے روزنامے ”سنگم “ اور” صدائے عام “ کے ساتھ ساتھ ہفت روزہ ” عظیم آباد اکسپریس “ اور ” آدرش“ میں تواتر سے شائع ہوتی تھیں ۔ اسی ادبی مجلس میں ، میں نے اپنا پہلا افسانہ ’بوجھ ‘ اور دوسرا افسانہ’ ضرب احساس ‘ پیش کیا تھا ۔ جو چند ماہ بعد پٹنہ سے شائع ہونے والے رسالہ ’زیور ‘ میں شائع ہوا تھا ۔
علیزے نجف: آپ کی تعلیمی لیاقت کیا ہے آپ نے اپنے تعلیمی مرحلے کو کس اصول کے تحت طئے کیا۔ کیا آپ کے ابتدائی مرحلے میں ہی آپ پر علم کی عظمت واضح ہو چکی تھی یا ایک وقت گزرنے کے بعد تعلیم کی اہمیت کا ادراک ہوا ؟ تعلیم سے رغبت پید اکرنے میں کن لوگوںنے اہم کردار ادا کیا تھا ؟
احمد قادری : میرے گھر میں شروع سے ہی علم و ادب کا ماحول تھا ۔ دادا ابّا کا براہ راست ادب سے تو تعلق نہیں تھا لیکن ادبی کتابیں اور رسائل وہ خوب پڑھتے تھے ، میرے والد اس زمانے کے مشہور افسانہ نگار ہی تھے ۔ نگار ، چمنستان ، مخزن، شاعر ، سہیل وغیرہ جیسے رسائل گھر پر آتے تھے ۔میرے والد بی۔ اے(اردوآنرس ) کے ٹاپر تھے اس کامیابی پر انہیں پٹنہ یونیورسٹی کی جانب سے ان کو گولڈ میڈل بھی ملا تھا ۔اس بات کاذکر اکثر گھر میں ہوا کرتا تھا ۔ ظاہر ہے بیٹا اپنے والد کو اپنا آئیڈیل مانتا ہے ،میرے والد میرے لئے آئیڈیل تھے ۔ان کی حوصلہ افزائی نے میرے تعلیمی سفر کو آسان بنایا ۔
علیزے نجف : آپ کی پی ایچ ڈی تک کی پوری تعلیم سائنس کے شعبے سے رہی ہے جب کہ آپ اس کے ساتھ ساتھ ادب میں بھی اپنا ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ وہ کون سے عناصر تھے جس نے آپ کو ادب کی طرف مائل کیا اور ابتداء میں اپنے ادبی ذوق کی تسکین کے لئے آپ کن کن ذرائع کا استعمال کرتے تھے ان میں سے کون سا سلسلہ ہے جو ابھی بھی جاری ہے ؟
احمد قادری : والد صاحب کی راہ پرچلنا میری سعادت مندی تھی ،لہٰذا میں نے بھی ایم ۔ایس سی (بوٹنی ) میں ٹاپ تو نہیں کرسکا لیکن فرسٹ کلاس سے ضرور کامیاب ہوا،ڈاکٹریٹ کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔ابا اماں کی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں لیکن میں انسانی صحت کاڈاکٹر تو نہیں بن سکا ،ہاں بوٹنی کا ڈاکٹر ضرور بن گیا ۔ اس کے بعد میں ایم جی کالج کے شعبہ نباتات میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے لگا۔ کالج کی ملازمت میں بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ لکھنے پڑھنے کے لئے کافی وقت مل جاتا ہے اور میں نے ان سے خوب فائدہ اٹھایا ۔ جیساکہ میں نے پہلے عرض کیا کہ ادب اورصحافت کاذوق وشوق مجھے اپنے والد صاحب سے ورثہ میں ملا ہے اور مجھے اس قیمتی وراثت پر فخرہے ۔اس وراثت کو میں نے فروغ دیاہے ۔ ایک واقعہ سے جہاں متاثر ہوکرپہلا افسانہ ”بوجھ“ (ماہنامہ زیور ،پٹنہ دسمبر ۲۷۹۱ )لکھا وہیں میری ایک بہن کو لوگ شادی کے لئے دیکھنے آئے لیکن اچھی لڑکی سے زیادہ ان کا جہیز کامطالبہ رہا۔ اس واقعہ نے مجھے کچوکے لگائے اور میں نے دوسراافسانہ ”ضرب احساس “ (ماہنامہ زیور ،پٹنہ ) لکھاتھا ۔ان افسانوں کی اشاعت اورلوگوں کی پذیرائی نے میرا حوصلہ بڑھایا اور میں افسانوی سفر پرچل پڑا ۔ کلام حیدری ،غیاث احمد گدی جیسے بڑے افسانہ نگار میرے گھرپر اکثرآیا کرتے تھے ۔ خاموش بیٹھا ان لوگوں کی گفتگو سن کر میں نے بہت کچھ سیکھا ۔ بعد میں ان دونوں کی قربت براہ راست مجھ سے بھی ہوگئی ۔ وہ شاید میری سعادت مندی اور انکساری سے متاثر ہوئے تھے ۔ کلام حیدری صاحب جیسے معروف افسانہ نگار اورصحافی سے میںنے بہت کچھ سیکھا اور انہوں نے ہی مجھے صحافت اورتنقید نگارکی حیثیت سے اپنے ہفتہ وار اخبار ”مورچہ “ اور ادبی ماہنامہ ”آہنگ “ میں بحیثیت صحافی اورناقد متعارف ہی نہیں کرایا بلکہ مجھے بریک دیا ۔ ساتھ ہی ساتھ کلام حیدری (انکل ) نے جب میری افسانہ نگاری پر ایک مختصر سا مضمون لکھا تو اس کاعنوان ”شہر افسانہ نگاری کامعزز شہری سید احمد قادری “ ہی چونکانے والا تھا۔ اس طرح دیکھا جائے توکلام حیدری صاحب نے مجھے صحافت ،تنقید اور افسانہ نگاری کے میدان میںمیری صلاحیتوں کاپہلے امتحان لیااورپھر مجھے کامیاب قراردیا۔ غیاث احمد گدی صاحب نے مجھے ایسے درجنوں خطوط لکھے ، جن میںان کی نصیحتیں شامل ہیں، ان کی یہ نصیحتیں میرے لئے بہت معنی رکھتی تھیں اورآج بھی ہیں ۔ ان ہی کے توسط سے ان کے چھوٹے بھائی الیاس احمدگدی (ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ/ فائر ایریا)کی بھی مجھے قربت حاصل ہوئی اور ان سے متعدد ملاقاتوں اور ان کے نصیحت بھرے سینکڑوں خطوط آج بھی مجھے روشنی بخشتے ہیں ۔ ان دونوں کے افسانوی مجموعے ”سارادن دھوپ “ (غیاث احمدگدی ) اور ”تھکا ہوا دن “ (الیاس احمدگدی ) کو میں نے ہی الہ آباد جاکر چھپوایا تھا۔ اپنے ناول ”فائرایریا “ کا مسودہ بھی الیاس صاحب نے شائع کرانے کے لئے مجھے دیا تھا اورکئی ماہ تک یہ مسودہ میرے پاس رکھا رہا ،لیکن بعض مجبوریوں کی وجہ کر میں اسے نہیں چھپواسکا۔ ان بزرگ افسانہ نگاروں کے بعداپنے دورکے مشہورصحافی رضوان احمداورنامور ادیب مناظر عاشق ہرگانوی میرے دوستوں کی مختصر فہرست میں شامل ہوئے اورمجھے ہمیشہ ادب اورصحافت کے تعلق سے ان کی رہنمائی ملتی رہی اور میں آگے بڑھتاگیا۔
علیزے نجف: تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جو کہ کسی بھی معاشرے میں اہمیت کا حامل ہے ۔ اس لئے کہ تعلیم شخصیت سازی اور ذہن سازی کا بہترین وسیلہ ہے ۔ موجودہ وقت کے تعلیمی نظام کو آپ نے بہت قریب سے دیکھا اور اس کے تمام پہلوو ¿ں پر غور بھی کیا ہوگا ، کیونکہ آپ تدریسی شعبے سے وابستہ ہیں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ تعلیم کے اس قدر عام اور ضروری ہونے کے باوجود نئی نسل تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود تہذیب و اقدار کو فراموش کرتی جا رہی ہے اور کیا وجہ ہے کہ معاشرہ اخلاقی بحران کا شکار ہوتا جا رہا ہے ؟
احمد قادری : بہت اچھاسوال ہے ۔ تعلیم کے شعبہ سے میں منسلک رہا۔ اس لئے معیار تعلیم اورنظام تعلیم کوقریب سے دیکھنے کا مجھے موقع ملاہے ۔ ہمارے ملک کوآزادہوئے 75 سال سے زائد ہوگئے اورابھی تک تعلیم میں تجربات کاسلسلہ چل رہا ہے ۔ ہمارے بچپن میں سرکاری اسکولوں میں آج کے مقابلے وسائل کم ہونے کے باوجود تعلیم کامعیاراورنظام دونوں قدرے بہترتھا ۔ طلبہ اوراستاد کے درمیان مقدس رشتہ ہوا کرتا تھا۔ اسکولوں سے لے کرکالج اور یونیور سٹیو ں تک کے طلبہ و طالبات اپنے استادکی عزت واحترام کیاکرتے تھے اور ایسی تعظیم کے لئے یہ کوئی بتاتا یا سکھاتا نہیں تھا بلکہ طلبہ اپنے گھر کے ماحول اوراپنے سینئرز کو دیکھ اورسمجھ کر کیا کر تے تھے ۔لیکن بتدریج جیسے جیسے تعلیم کے میدان میں سیاست اورصارفت داخل ہوئی اس کا معیار گرتا گیا اوراب توحال یہ ہے کہ استاد تعلیم کو پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ ہی بنا چکے ہیں ۔ پیروی اوررشوت کے بل پر ہی کمزور اور صلاحیتوں سے خالی طلبہ امتحانات میں کامیاب ہورہے ہیں اورایسے ہی کامیاب ہونے والے طلبہ اسکولوں ،کالجوں اوریونیورسٹیوں میں توجہ کو توجا اور معنون کو مانون وغیرہ بتایا جا رہا ہے ۔ استاد یااستانیاں بچوں کوآم کی انگریزی MENGO بتاتی ہیں ،کالجوں میں انٹرویوکے درمیان معمولی سے معمولی سوال کابھی جواب نہیں دینے کے باوجود ان کاسلیکشن ہوتاہے ، کچھ مستثنیٰ ضرورہے ۔ لیکن عموماً ملک کے بیشتر علاقوں میں یہی صورت حال ہے ۔ پی ایچ ۔ڈی کے مقالہ لکھنے کی باضابطہ ٹھیکہ داری کا سلسلہ چل رہا ہے اوروجہ گھوم پھرکروہی گندی اور بے سمت سیاست تک پہنچی ہے ۔ جس ملک میں وزیر تعلیم ساتویں آٹھویں پاس ہوتا ہو،ایسے وزیر اور وزارت سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے ۔ تعلیم کے شعبوں میں سرکاری بجٹ بڑھنے کے بجائے گھٹتے جارہے ہیں ۔ نئی تعلیمی پالیسی نے صارفیت کے دروازے پوری طرح کھول دئے ہیں تعلیم بیچو اور پیسے کماؤ۔ ان حالات میں تعلیمی معیار اوربہتر نظام تعلیم کی توقع ہی عبث ہے ۔
اب جہاں تک سوال ان نوجوان نسل کی، جوتعلیم یافتہ ہونے کے باوجود تہذیب واقدارکو فراموش کرنے اورمعاشرے میں اخلاقی بحران پیدا ہونے کی ہے تو اس ضمن میں میرا خیال ہے کہ مادری زبان اوراپنی مذہبی کتابوں سے دوری ، والدین کے پیسے کمانے کی بڑھتی ضرورت سے زیادہ رجحان اور موبائل فون کی آسان فراہمی ہی اخلاقی بحران کی اہم وجوہات ہیں ۔ والدین ملازمت میں مصروف اوربچے موبائل پر ۔ بچے بچیاں موبائل میں کیادیکھ رہے ہیں کیا سیکھ رہے ہیں ۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ، نتیجہ میں اخلاقی بحران بڑھتا جارہا ہے ، قدریں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ ملک کے اندر بڑھتی منافرت سے بھی تعلیمی اداروں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ہمارے سماج اور معاشرے کو پراگندہ کررہے ہیں۔ لیکن ایسے پراگندہ ماحول میں جووالدین اپنے بچوں کی نگہداشت میں کوتاہی نہیں برتتے ہیں ان کے بچے نہ صرف گھر اورمعاشرتی تہذیب و اقدار کے نمونہ ہیں اورتعلیم کے میدان میں بھی بہتر مظاہرہ کررہے ہیں ۔ ایسے بچے بلاشبہ اندھیرے میں جگنو کی روشنی بن کر ہمارے سماج اور معاشرہ کے لئے مثال ہیں ۔
علیزے نجف: آپ ایک بہترین افسانہ نگار ہیں ۔آپ کے اب تک چار افسانوی مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں ۔ اس تعلق سے میرا سوال یہ ہے کہ آپ اپنے افسانوں میں کن موضوعات کا احاطہ کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اور وہ کون کون سے موضوعات ہیں جن پر آپ اب تک لکھ چکے ہیں ؟ کیا ایسا بھی کوئی موضوع ہے جس پر لکھنا باقی ہے ؟
احمد قادری : جی ہاں ، اب تک میرے چار افسانوی مجموعے ریزہ ریزہ خواب ،دھوپ کی چادر ،پانی پر نشان ،ملبہ شائع ہو چکے ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ یہ چاروں افسانوی مجموعے پسند کئے گئے۔ ان میں سے کئی افسانے موضوع بحث بھی بنے ۔ جہاں تک سوال ہے موضوعات کی پسند کا تو اس کا تعین وقت اور حالات کرتے ہیں ۔ویسے میں نے اپنے افسانوں میں ہمیشہ جبر و ظلم ،استحصال ،حق تلفی ،ناانصافی ،انسانی رشتوں کی پامالی ،عدم رواداری ، منافرت،تشدد کے خلاف آواز بلند کی ہے ،عام طور پر یہی میرے افسانوں کے موضوعات ہیں اوربقول سارتر لکھنے کا عمل ہی وابستگی کااعلان ہے ۔ مختلف اوقات میں بہت سارے موضوعات ایسے ہوتے ہیں جو حساس ذہن کو جھنجھوڑ تے ہیں ۔ میں نے ایسے موضوعات پر بھی افسانے لکھے ہیں ۔مثال کے طور پر امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ ٹاور کا انہدام بلا شبہ عالمی موضوع بنا ۔ ہزاروں افراد اس میں ہلاک ہوئے ۔ میں نے اس سانحہ کو ٹیلی ویژن پر دیکھا اور بہت شدّت سے مرنے والوں کے لوگوں کے درد و کرب کو محسوس کیا تھا ۔لیکن اس موضوع پر افسانہ لکھنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ لیکن جب میں امریکہ کے سفر پر ٹھیک اس جگہ پہنچا تو ٹی وی پر دیکھے گئے آگ اور خون میں لت پت مناظر ، انسانی چیخ و پکار، ہرطرف بکھرے ملبے تھے اور ان ملبوں میں نہ جانے کتنی کہانیاں دم توڑ چکی تھیں ۔نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے لوٹ کر گھر واپس آیا تو رات بھر بے چین رہا اور پھر میرا وہ افسانہ ’ملبہ‘ ہوا ۔جس کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ عالمی تناظر کے اس سانحہ پر اردو میں ایسا افسانہ نہیں لکھا گیا ہے۔
میری افسانہ نگاری کا سفر دیکھا جائے تو پانچ دہائیوں پر محیط ہے ۔ان پانچ دہایوں میں، میں نے زندگی کے بہت سارے نشیب و فراز‘ تہذیبوں اور قدروں کا زوال، ٹوٹتے بکھرتے سماجی رشتے او ر سےاست کی بساط پر انسانوں کی شہہ ومات کی چال کو کبھی قریب سے کبھی دور سے دیکھا اور شدّت سے محسوس کےا ہے ۔ ان مشاہدات اور موضوعات کو افسانوی قالب میں ،میں نے اس فنکارانہ حسن و معیار کے ساتھ اس انداز سے ڈھالنے کی کوشش کی ہے کہ میرے افسانے زندگی کے متنوع مسائل کا آئینہ بن جائیں۔جن میں ہمارے سماج اور معاشرے کی کریہہ تصویریں بہت ہی واضح طور پر نظر آئیں۔ظلم ، تشدد، بربریت ، سماجی نا انصافی استحصال کے خلاف اکثر میرے افسانے ملینگے۔ سماجی رشتوں کا بکھراؤ، روایات اور قدروں کی پامالی بھی میرے افسانوں کے خاص موضوعات ہیں ۔مثال کے طور پر میرے افسانہ ’پت جھڑ “ کو دیکھئے ۔کس طرح سماجی رشتے آج کے صارفیت کے دور میں متاثر ہو رہے ہیں۔میرامشہور افسانہ ”اپنی عدالت“ اگر ایک طرف انصاف اور انتقام کی دلدوز کہانی سُناتا ہے تو دوسری طرف ایک ایسی پراسرار طاقت کی نشان دہی بھی کرتا ہے جس نے دبے کُچلے لوگوں کو انصاف دلانے کے لئے اپنی اےک متوازی عدالت اور پولس کا شعبہ قائم کر رکھا ہے۔ جہاں سے کوئی ظالم بچ کر نہےں نکل سکتا۔
علیزے نجف: ادب کی معنویت کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ یہ انسان کی زندگی سے قریب تر ہوتا ہے اور کہیں نہ کہیں انسان کی سوچ کو متاثر بھی کرتا ہے ۔ افسانہ نگاری بھی اسی کی ایک صنف ہے جس کی پلاٹنگ پوری طرح قوت متخیلہ کے تحت ہی کی جاتی ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ افسانے حقیقی زندگی میں تبدیلی لانے کا موجب ہوتے ہیں یا محض تفریح طبع کا ذریعہ ہی بن کے رہ جاتے ہیں ۔ افسانہ نگاری میں ان دونوں پہلوؤں میں کسے غلبہ حاصل ہے اور کس طرح اس کے اثرات محسوس کئے جا سکتے ہیں ؟
احمد قادری : دونوں ہی طرح کی صورتحال سامنے آتی ہے اوریہ افسانے کے وحدت تاثر پرمنحصر ہوتاہے ۔منٹو کا افسانہ ”کھول دو “ یاکرشن چندر کا افسانہ ”ان داتا “ بیدی کاافسانہ ”اپنے دکھ مجھے دے دو “ وغیرہ جیسے افسانے کتنی دہائیوں قبل لکھے گئے تھے لیکن کیاان کے سحر سے کوئی اب تک نکل سکا ہے۔ایسے افسانے حقیقی زندگی میں تبدیلی لانے کا موجب ممکن ہے کبھی کبھی بنتے ہوں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ افسانہ زندگی کے کسی ایک رخ کوپیش کرتا ہے ۔ افسانہ نگارکوئی مبلغ یا مصلح کا رول نہیں ادا کرتا ہے ۔ زندگی کے کسی لمحے میں ایسا کوئی واقعہ یاسانحہ فنکار کو متاثر کر جاتا ہے تووہ اپنے محسوسات کو اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے صفحہ قرطاس پربکھیر دیتاہے ۔ ہاں افسانہ نگاراپنی فنّی و فکری صلاحیتوں کی آمیزش کوکس طورپر برتتا ہے کہ وہ افسانہ اعلیٰ افسانہ قرار پاتا ہے یا بس تفریح طبع کے زمرے میں آ جاتا ہے ۔ جہاں تک ان دونوں میں غلبہ کاسوال ہے تومجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیںکہ ان دنوں جیسے افسانے لکھے جا رہے ہیں ،ان میں فکرہے اورنہ ہی فن کا حسن ہے ۔
علیزے نجف: ہر فن کے کچھ بنیادی اصول ہوتے ہیں اسی طرح بے شک افسانہ نگاری کے بھی ہیں ۔میرا سوال یہ ہے کہ ایک بہترین افسانہ نگار بننے کے لئے کن کن بنیادی باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے ۔ موجودہ وقت کے نئے افسانہ نگار کیا ان سارے اصولوں کی پاسداری کرتے نظر آرہے ہیں یا محض شہرت کے حصول کے لئے سطحی سوچ کے ساتھ لکھنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟
احمد قادری : اچھا اور معیاری افسانہ خلق کرنے کے لئے افسانویت ، موضوع، کردار نگاری اور ماجرا سازی لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور اسلوب کی انفرادیت قاری کو افسانہ کے سحر میں کھو جانے اور آخر تک پڑھنے پر مجبور کرتی ہے ۔ اس ضمن میں سلام بن رزاق کے اس خیال کا میں معترف ہوں کہ افسانے میں تکنیکی طور پر ایک ہزار تجربے کئے جائیں مگر افسانہ ، افسانویت کے بغیر اس خوشنما پھول کی مانند ہے جس کی خوشبو چھین لی گئی ہو ۔
علیزے نجف : آپ تنقید نگار اور محقق بھی ہیں ۔ ان دونوں صنف ادب کے حوالے سے آپ کی قابل قدر کتاب ” اردو صحافت بہار میں “ ہے جو آپ کی اعلیٰ صلاحیت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔اسے دو ریاستی اردو اکیڈمیوں نے اوّل مقام سے نوازبھی ہے اور وہ ایم اے کے نصاب کا بھی حصہ ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس کتاب کے خاص نکات کیا ہیں اس تنقیدی اور تحقیقی کتاب کو لکھتے وقت آپ نے کن اصولوں کا خاص خیال رکھا ہے اور اس کتاب کو ملنے والی پزیرائی کیا آپ کے لئے حسب توقع تھی ؟
احمد قادری : سچ کہوں تو میرا میدان افسانہ نگاری اور صحافت ہے ۔ کلام حیدری صاحب نے اپنے ادبی ماہنامہ ”آہنگ “ کے ہنگامہ خیز فکشن نمبر “کے لئے مجھ سے تین بڑے اوراہم افسانہ نگاروں کے افسانے نام خفیہ رکھ کرتجزیہ کرائے جواتفاق سے انہیں پسند آئے اور انہوں نے اس خاص نمبر میں میرے اس تنقیدی مضمون کوشامل کرتے ہوئے باضابطہ ”نقاد “ لکھ کر نقادکی پدوی دے ڈالی ۔ اس کے بعد سے میں اپنے عم محترم کی عطا کردہ اس پدوی کی لاج رکھنے کی ہرممکن کوشش کررہا ہوں ۔ اسی طرح تحقیق کے میدان میں بھی اترنے کاخیال میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔ لیکن کے ۔ کے ۔برلافانڈیشن جیسے باوقار ادارہ کی جانب سے خلاف توقع ”اردو صحافت بہار میں “ جیسے موضوع پرتحقیقی کام کے لئے مجھے فیلوشپ ایوارڈ کااعزاز بخشا گیا ۔ جومیرے لئے ایک بڑا امتحان اور چیلنج تھا۔ اس امتحان میں کامیابی پر خطیر رقم بھی ملنے والی تھی ۔ نتیجہ میں تحقیق کے میدان میں کود پڑا اور اللہ کاشکر ہے کہ میں اس امتحان میں بھی کامیاب رہا۔ اس طرح دیکھا جائے تو تنقید اورتحقیق کے میدان میں میرا داخلہ حادثاتی طورپر ہوا ۔ ”اردو صحافت بہار میں“جب کتابی شکل میں سامنے آئی اورجس طرح اس کتاب کی پذیرائی ہوئی یقین جانئے یہ میرے لئے بالکل غیرمتوقع تھا۔اس موضوع پرمیری یہ تحقیقی و تنقیدی کتاب، پہلی اوراب تک کی آخری کتاب ہے ۔ صحافت کے موضوع پریہ کتاب مستقل مختلف حوالوں میں رہتی ہے ۔ اب تک اس کے دو ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں ۔ جہاں تک اس کتاب میں تحقیقی و تنقیدی اصولوں کاخاص خیال رکھنے کا سوال ہے تو میں نے کوئی نیا اصول وضع نہیں کیا۔بلکہ ان دونوں اصناف کے تعلق سے جو کچھ پڑھا تھا وہی سب ذہن میں رہا۔ اخبارات و رسائل کا براہ راست مطالعہ سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ حوالوں میں دی گئیں بہت سارے اساتذہ اور قاضی عبد الودود جیسے جید نقاد کی غلطیوں کی نشاندہی کرکے، میں اصول تحقیق کو پورا کرنے میں بھی کامیاب رہا نیز تحقیق و تنقید جیسے خشک موضوع کے بوجھل پن کو دور کرنے کے لئے عام فہم بیان کو ترجیح دیتے ہوئے اسے Readable بنانے کی کوشش کی ہے ۔ کتاب کی ایسی پذیرائی ہوگی ایسی توقع مجھے قطعی نہیں تھی ۔ دراصل اس موضوع پرکوئی تحقیقی و تنقیدی کام ہی نہیں ہواتھا ۔اس لئے بھی اس کتاب کی اہمیت اور افادیت کو تسلیم کیا گیا ۔ جہاں تک اعزازات کے ملنے کاسوال ہے تو میرے لئے یہی سب سے بڑا اعزاز تھا کہ کے ۔کے ۔برلا فانڈیشن نے اس کام کے لئے مجھے منتخب کیا اور کتاب کی اشاعت کے بعد خطیر رقم کے ساتھ ساتھ کامیاب تحقیقی مقالہ پیش کئے جانے پر مبارکباد بھی دی ۔ کئی حلقوں سے اس کتاب کو ہندی اور انگریزی میں شائع کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ دیکھئے ہوپاتا ہے یا نہیں ۔ اس لئے کہ اس کتاب کی پزیرائی کے بعداس طرح کے کئی دوسرے پروجیکٹس پرکام کررہا ہوں۔
علیزے نجف : آپ نے ادب اور صحافت کے میدان میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ قابل ستائش ہیں ۔ اگلی نسلوں کے لئے ایک بہترین ورثہ ہے ۔ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ آپ کی ان خدمات کو اب تک کس کس طرح کے اعزازات سے نوازا جا چکا ہے ؟
احمد قادری : جو کچھ ملا اس کا شکریہ ، جو نہیں ملا ا س کا افسوس نہیں کہ میں انعام و اعزاز کے لئے نہیں لکھتا ۔ بس ایک جنون ہے شوق و ذوق ہے اور ان کے لئے صلہ کی پرواہ نہ ستائش کی تمنّا ہے ۔ میرے لئے یہی اعزاز کیا کم ہے کہ مجھے لوگ بہتر کلمات کے ساتھ یاد کرتے ہیں ۔ امریکہ جب میں پہنچا تو وہاں بھی مجھے جاننے اور چاہنے والے موجود تھے اور وائس آف امریکہ کے خصوصی اردو پروگرام میں مجھ سے نصف گھنٹے کا انٹرویو لیا گیا ، میرے اعزاز میں کئی نشستیں ہوئیں ،ٹی وی چینلوں پر مجھ سے گفتگو کی گئی ۔ اب اس سے زیادہ کیا چاہیے ¾۔ جوڑ توڑ اور مدح سرائی کے فن سے میں واقف ہی نہیں ہوں ۔
علیزے نجف : کہتے ہیں کہ تنقید در حقیقت تخلیق کا دوسرا جنم ہوتا ہے جس میں وہ پہلے سے زیادہ آب وتاب کے ساتھ سامنے آتی ہے ۔ میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کسی تحریرکو تخلیق کرنے اور اس پہ تنقید کرنے میں واضح فرق کیا ہوتا ہے کیا تنقید پہ بھی تنقید لکھی جا سکتی ہے اور کیا ہر تنقید ادب کے لئے نفع بخش ہے یا اس میں سے کچھ مضر بھی ہے ؟
احمد قادری : ادب میں تخلیق سے ہی تنقید کا وجود ہے ۔ تخلیقی عمل دراصل Creation ہے۔ نیا خیال پیدا کرنا تخلیقی کاوش ہے اور تخلیقیت میں تخیّل ہوتا ہے ۔ احساسات وجذبات کا فنکارانہ اظہار ہی تخلیق ہے ۔ جبکہ تنقیدی عمل ،عمل جراہی ہے ۔ تنقید پر تنقید کئے جانے کی مثبت روایت رہی ہے ۔ لیکن نقادوں کی بے لگام اور اردو ادب کے تخلیقی اظہار میں مغربی اصولوں پر پرکھنے کے عمل میں پر بہت سارے تخلیق کار خفا نظر آتے ہیں ۔ قرةالعین حیدر بھی نقادوں کی بے لگام تنقید سے اکثر شاکی رہا کرتی تھیں ۔ ایک بار انھوں نے یہاں تک کہا تھا کہ ہمارے یہاں Anti intellectual attitude چل رہا ہے ۔ عصمت چغتائی کی تنقید سے بے زاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بار ترقی پسند مصنفین سیمینار میں رام لعل صاحب نے مجھے عصمت چغتائی سے یہ کہہ کر ملوایا کہ یہ سید احمد قادری ہیں جو بہت اچھے ناقد ہیں ۔ اتنا سننا تھا کہ ان کی بھویں تن گئیں اور بڑے ترش لہجہ میں ” نقاد یہ کیا ہوتا ہے ؟ “ رام لعل صاحب کو ان کی خفگی کا احساس ہو گیا اور وہ جلدی سے بولے ” یہ بہت اچھے افسانہ نگار بھی ہیں ۔ “یہ سنتے وہ نرم پڑ گئیں اور بے ساختہ کہا ” یہ ہوئی نا بات “ ۔ پھر وہ بہت دیر تک اردو نقادوں کے سلسلے میں اپنی خفگی کا اظہار کرتی رہیں ۔ ویسے میرے خیال میں معاصر اردو تنقید مایوس کن ہے ۔اس امر کااظہار یوں تو بہت سارے لوگوں نے کیا ہے ۔ میں جید ناقد شمس الرحمن فاروقی کا ایک جملہ دہرانا چاہتاہوں انہوں نے کہیں لکھا تھا کہ ’ہند وپاک دونوں طرف کے تنقید نگار اپنے پسندیدہ ادیبوں کے گروہ رکھتے ہیں اوران سے باہر نکلنا وہ پسند نہیں کرتے ۔‘ایسے حالات میں معاصر تنقیدنگاروں سے کسی منصفانہ تنقید کی توقع کرنا کہاں تک درست ہوگا۔ اب ایسے گروہی تنقید سے اردو ادب کو نفع یا اردو تنقید کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب تخلیق کار ہی اپنے فکر و فن کے ناقد بھی بن کر سامنے آ رہے ہیں ۔
علیزے نجف: آپ گزشتہ پچاس برسوں سے صحافت کے میدان میں بھی اپنی صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔اب تک آپ نے بے شمار کالمز لکھے ہیں اور کئی اخبارات کی ادارت بھی کی ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ پچھلے پچاس سالہ صحافتی سفر میں آپ کا قلم کس طرح کے پیچ وخم سے گذرا اور کس کی رہنمائی میں آپ نے اس سفر کا آغاز کیا اور ان کے سیکھے ہوئے وہ کون سے ایسے اصول ہیں جو آج بھی آپ کے قلم کو متحرک اور مؤثر بنائے ہوئے ہیں ؟
احمد قادری : اپنے دور کے قومی اردو ہفتہ وار”بلٹز“ نے میری صحافتی سرگرمیوں کومتحرک اور فعال کرنے کے ساتھ ساتھ مجھے شہرت اور مقبولیت بھی عطا کی ہے -اس سے قبل کلام حیدری صاحب نے ایک دن میرا امتحان لینے کے لئے کہاکہ ”تم مورچہ کے لئے اداریہ لکھ سکتے ہو؟“ میں تذبذب میں پڑ گیا اس لئے کہ اس زمانہ میں ”مورچہ “ شہرت کی بلندیوں پر تھا ۔ پھر بھی میں نے ہمّت کی اور ایک مختصر سا اداریہ لکھ کر ان کے پاس لے گیا۔انھوں نے اسے بغور پڑھا ۔ اور کہا ”ٹھیک ہے جاؤ“اس کے آگے کوئی سوال کرنے کی ہمت کہاں تھی میری ،لیکن اگلے ہفتہ یعنی 27 دسمبر 1980ء کے ”مورچہ “ میں میرا اداریہ بہ عنوان ”پاکستان میں ہندی “ شائع ہوکرسامنے آیا تو میری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا ۔اس اداریہ میں گرچہ میرا نام شامل نہیں تھا ۔ پھر بھی میں بہت خوش ہوا ۔اس کے بعد، ان کے مطالبہ پرایک اور اداریہ لکھ کر دیا ،جو”مورچہ “کے 10 جنوری 1981ءکے شمارہ میں”اندرا نے ایک سال پورے کئے “کے زیر عنوان شائع ہوااور اس اداریہ کے نیچے نہ صرف میرانام شائع ہوا ، بلکہ ”مدیر معاون “بھی لکھا گیا تھا ۔ یہ دیکھ کر میری باچھیں کھل گئیں۔مجھے ایسا لگا جیسے میں ایک لمبی چھلانگ لگانے میں کامیاب ہوا ۔یہ سلسلہ کئی برسوں تک قائم رہا ،1983ءسے ”بلٹز “ میں بہارکا نمائندہ رہا۔ ”بلٹز “میں میری کئی ہنگامہ خیز رپورٹیں شائع ہوئیں۔لیکن 19 نومبر1983ءکو”بلٹز “ کے درمیان کے دوصفحہ پر دس کالمی سرخی کے ساتھ بہ عنوان ”قاتل اورخونی فرقہ پر ستوں کی یہ ہمت تو دیکھئے ۔بہار کو آسام بنانے کی سازش “ کی اشاعت نے تو تہلکہ مچادیا تھا ۔ ایسی کئی رپورٹنگ کی اشاعت کے بعد ملک گیر سطح پر میری صحافتی خدمات کااعتراف کیاگیا ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتادوں کہ اتنی بڑی اوراہم رپورٹ کااس وقت معاوضہ پچاس روپئے کی بجائے مجھے دوسوروپئے ملے تھے ۔ایسی رپورٹوں کی اشاعت کے بعد میرے اندر خود اعتمادی کے ساتھ ساتھ حوصلہ بڑھتاگیا اورمیں نے ”بلٹز“ کو چھوڑکر 15 اگست 1984ء سے اپناایک ہفتہ وار ”بودھ دھرتی “ کااجراءکیا-اس زمانے میں جب کہ کمپیوٹر اور پریس کی اس قدر سہولیات میسر نہیں تھیں، پھر بھی دس سال تک مسلسل بڑی جانفشانی کے ساتھ اخبار کوجاری رکھا ۔میری صحافت نگاری میں بلا شبہ کلام حیدری ، حسن کمال ، محمود ایوبی اور رضوان احمد وغیرہ کی رہنمائی حاصل رہی ہے اور جو لوگ ان لوگوں کی صحافت سے واقف ہیں وہ بخوبی یہ بات جانتے ہیں کہ ان لوگوں نے کبھی بھی اپنی صحافت میں مصلحت اور مصالحت کو قبول نہیں کیا ۔ بے باکی ، بے خوفی ،ہمت و جرأت مندی ہی ان کی پہچان رہی ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ ایسے صحافیوں سے جو میں نے سیکھا ہے ، ان ہی کے اصولوں پر میں چل رہا ہوں اور مجھے فخر ہے کہ میں نے کبھی بھی اپنی قلم کی حرمت کو پامال نہیں کیا اور نہ ہی کبھی مشکل وقت اور حالات میں اس کا سودا کیا ۔ خریدنے کی ضرورکئی بار کوششیں کی گئیں لیکن قیمت نہیں لگا سکے ۔
علیزے نجف : ملک کی موجودہ سیاست پچھلے دس سال کی سیاست سے کافی مختلف ہو چکی ہے ۔ ملک کے کم وبیش سبھی محکموں میں اس کے اثرات محسوس کئے جا سکتے ہیں ۔ آپ اس سیاسی منظر نامے کی تبدیلی کو کس طرح دیکھتے ہیں ؟ کیا اس سے مثبت نتائج کشید کئے جا سکتے ہیں؟ اس کے منفی مضمرات کو آپ کتنا گہرا اور دور رس خیال کرتے ہیں ؟
احمد قادری: سیاست توگزشتہ دس سال قبل ہی سے ہی شرفا کے لئے ناپسندیدہ ہو چکی ہے ۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں ملک کی سیاست قعر مذلّت میں پہنچ چکی ہے ۔ سیاست پہلے ملک و قوم کی خدمات کے لئے کی جاتی تھی ۔ پنڈت جواہر لعل نہرو ،مولانا آزاد ،لال بہادر شاستری ، رفیع احمد قدوائی ،گلزاری لال نندہ وغیرہ سے لے کر پروفیسر عبدالباری ،ڈاکٹر لوہیا ،کرپوری ٹھاکر،عبدالغفور وغیرہ تک ملک کی سیاست میں مثبت کردار وعمل والے سیاست داں تھے۔ جو ملک و قوم کے لئے غیرمعمولی ایثار وقربانی کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تجوریوں کو بھرنے کے بجائے قید و بند کی صعوبتوں کو جھیلا کرتے تھے ۔لیکن افسوس کہ جیسے جیسے سیاست میں مفاد پرستی ، مصلحت پسندی ، اقرباءپروری ، رشوت خوری جیسے منفی عنصر شامل ہوتے گئے اور سیاست کرسی اورکرنسی تک محدود ہوکررہ گئی۔اب انتخابات میں بدعنوانی ، بے ضابطگی، غنڈہ گردی عام ہے ۔ ایک زمانے میں سیاست دانوں کو جب عوامی فلاح کے بجائے اپنے کالے کارناموں کی وجہ بنا کر عوام کے غصّہ اور بے زاری کے باعث انتخاب میں شکست یقینی نظر آنے لگتی تھی ،تب ایسے کریہہ اور عوامی مفادات کے بر خلاف کرداروں والے نام نہاد سیاست داں غنڈوں ،قاتلوں اور لفنگوں کی مدد لے کر نوٹ کے بدلے ووٹ کا رواج رہا، پھرجب ان غنڈوں اور موالیوں ، اسمگلروں نے دیکھا کہ ہم جب ایسے سفید پوش (سیاستدانوں) کو ملک کے ایوان میں پہنچا سکتے ہیں تو پھر ہم خود کیوں نہیں ۔ نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے۔ ملک کے ایوان میں چور، قاتل ، زانی ،بدعنوان سزا یافتہ لوگوں کی بہتات ہے اوراب تو حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ سزایافتہ قاتل اور زانی سمّانِت ( عزّت ماب) کہے جار ہے ہیں ۔ ہر طرف Negativity کا دور دورہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دورکی سیاست تعفن سے بھری ہے ، اس کی سڑاندھ ہر جانب پھیل رہی ہے ۔ اس کے منفی اثرات ہمارے سماجی ،تعلیمی ،تہذیبی ،معاشرتی سطح پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ سیاسی زبوں حالی بہت شدّت سے ملک و معاشرے کو آلودہ کررہی ہے ۔اس سلسلے میں ،میں نے کئی مضامین لکھے ہیں ۔ سیاست کا ایسا بھیانک منظر نامہ ان دنوں دیکھنے کو مل رہا ہے جو ہمارے تمام تر ماحول کو پراگندہ کررہا ہے ۔ لوگ جب تک اپنے ووٹ کی قدروقیمت نہیں سمجھیں گے حالات بد سے بدتر ہوتے جائیں گے۔ غیر انسانی غیر آئینی ،غیرجمہوری حالات بہت ہی مایوس کن ہیں ۔ایسا اخلاقی زوال آیا ہے جن کاسدباب ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرورہے ۔
علیزے نجف : انٹرویو ایک ایسی صنف ہے جس میں خیالات و تجربات کو مختصر اور بہت جامع طریقے سے پیش کیا جا سکتا ہے اور اس کو مؤثر بنانے کا انحصار مخاطب شخصیت کے جواب کے ساتھ انٹرویو نگار کے سوالات پر بھی ہوتا ہے ۔ آپ ایک انٹرویو نگار بھی ہیں جب آپ انٹرویو لیتے تھے تو اپنے سوالات کو ترتیب دیتے ہوئے کن نکات کو ملحوظ رکھتے تھے اور کن باتوں سے اکثر و بیشتر گریز کرتے تھے ؟
احمد قادری: جی ہاں ،میں نے مختلف میدان کے کئی نامور شخصیات کے انٹرویوز لئے ہیں ۔ ان انٹرویوز کا ایک مجموعہ بھی ”مکالمہ“ کے نام سے شائع ہوچکا ہے جسے کافی پسند کیاگیا۔ انٹرویولینے سے قبل متعلقہ شخصیت کے تعلق سے حاصل تمام معلومات اور اس شخصیت کے مختلف پہلوؤں پرنظر رکھتے ہوئے سوالات مرتب کیا کرتا تھا ۔ بعض اوقات اس شخصیت سے ایسے سوالات بھی ضروری سمجھا تھا جواس کی دکھتی رگ ہواور وہ جواب میں تلملا کر ایسے حقائق بیان کردے جوعام طورپر وہ ظاہر نہیں کیا کرتا ۔ یہی وجہ رہی کہ میرے بیشتر انٹر ویو ز میں کئی چونکانے والی باتیں سامنے آئی ہیں جو قارئین کی حیرت کے ساتھ ساتھ دلچسپی کا بھی سامان ہوتا تھا۔ مثلاً نامورافسانہ نگار ذکیہ مشہدی سے جب میں نے واجدہ تبسم کے حوالے سے سوال کیا توانہوں نے ان کی ادبی حیثیت سے ہی انکار کیا اور کے افسانوں میں فحاشی سے بھرے ہوئے بتائے تھے اور اب تو واجدہ تبسم اور منٹو کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح پریم چند کے فرزند امرت رائے سے لئے گئے انٹرویو میں میرے کئی سوالات پر ان کی جھنجلاہٹ اور خفگی دیکھنے لائق ہے ۔ ویسے میں بہت زیادہ متنازعہ سوالات سے گریز کیا کرتا تھا لیکن میرے ہر انٹرویو میں ان شخصیات کے حوالے سے کوئی نہ کوئی نئی بات ضرورسامنے لانے میں ،میں کامیاب ہوتا تھا ۔ روایتی انداز کے سوالات سے بھی میں گریز کیا کرتا تھا ۔
علیزے نجف : زندگی ہر کسی کے لئے ایک الگ منظر کی طرح ہے جسے ہر شخص اپنے زاویئے سے دیکھتا ہے آپ کے نزدیک زندگی کیا ہے اور اپنی اب تک کی گزری زندگی کے تجربات کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے اور یہ زندگی آپ نے کن اصولوں کے تحت گزاری ہے ؟
احمد قادری : بہت مشکل سوال کیا ہے آپ نے ۔ایک شعر یاد آ رہا ہے ´ ´ ´ ´ ´
مشکلات کاسامنا کرنازندگی ہے ۔ یہ مشہور شاعر کرشن بہاری نور کا ہے کہ
زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں اور کیا جرم ہے پتا ہی نہیں
مشکلات کا سامنا کرنا ہی زندگی ہے ۔ ویسے مُنھ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والوں کے لئے زندگی قدرت کی نعمت ہے اور جھگی جھونپڑیوں میں کیڑے مکوڑے کی طرح پیدا ہونے والوں کے لئے عذاب ہے ۔ جنھیں پیدا ہونے کے بعد بھوک کی ماری ماں کے ممتا کے خشک سوتے سے ایک قطرہ دودھ بھی میسر نہیں ہوتا ہے ۔ ویسے سیدھے طورپر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مشکلات کاسامنا کرنا ہی زندگی ہے ۔ انسان عالم وجود میں آنے کے بعد ہرپل نت نئے امتحانات سے گزرتا ہے ۔کسی کو کامیابی ملتی ہے اورکوئی کامیابی کی امیدوآس لئے دنیاسے رخصت ہوجاتا ہے ۔
میری زندگی بھی بہت سارے امتحان سے گزری ہے ۔شیریں کم اورتلخ تجربات زیادہ ہیں ۔انسان اپنی زندگی میں انسان بن کر رہنا چاہے تواسے بہت سخت اورصبر آزما حالات سے گزرنا پڑتاہے ۔ دورحاضر میں شرافت ،اصول ،ایمانداری ، رواداری ،حق گوئی کے ساتھ جینایازندگی گزارنا بہت مشکل ہے ۔ آج کے دور میں جھوٹ فریب ،ریاکاری ،بغض عناد ،دھوکہ ، وغیرہ کے ساتھ جینا آسان ضرور ہے بشرطیکہ خوف خدا نہ ہو اور آخرت پر یقین نہ ہو ۔غالب بھی اس بات کے معترف ہیں کہ
بس کہ دشوار ہے ہرکام کا آساں ہونا آدمی کوبھی میسر نہیں انساں ہونا
میں نے اپنی زندگی میں خود کو انسان بننے اوربنانے کی عملی کوشش حتی الامکان کی ہے ۔ گرچہ اس عمل میں مجھے بڑا نقصان ہوا ہے، سچ بولنے اور لکھنے کی پاداش میں معتوب بھی ہوا اور ہوں ، لیکن مجھے بڑا اطمینان محسوس ہوتا ہے ، رات میں بڑے سکون سے سوتا ہوں ۔
علیزے نجف: کھونا اور پانا قدرت کے نظام میں ایک عام واقعہ ہے کیوں کہ یہ ہر کسی کے ساتھ ہوتا ہے میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے اب تک کی زندگی میں ایسا کیا کھویا جس کا دکھ آج بھی آپ کے دل میں کروٹیں بدلتا رہتا ہے اور ایسی کون سی کامیابی ہے جس کی خوشی سے آج بھی آپ کا دل سرشار ہو جاتا ہے اور کیا ایسا ہے جسے پانے کی خواہش رکھتے ہیں ؟
احمد قادری : جہاں تک کھونے کاسوال ہے تومیں نے زندگی میں بہت کچھ کھویا ہے۔مشکل حالات کے آگے سپر ڈالنے کا عمل میرے لئے کھونے کے مترادف ہے اپنی ماں کے کئی خوابوں کو میں پورا نہ کرسکا ، جو اکثر مجھے کچوکے لگاتا ہے اورخوشی وسرشاری کا وہ وقت رہا جب میں نے اپنی امی کو ان کے ہجرت کرجانے والے اپنے بھائیوں ،بہنوں اوروالد کے بچھڑ جانے کے غم میں ، انھیں میں اپنے بچپن میں سسک سسک کر روتے دیکھتا تھا اور میں نے ان سے وعدہ کیاتھا کہ میں بڑا ہو کر جب مجھے ملازمت ملے گی ،میں پہلی تنخواہ سے آپ کواپنے بھائی بہنوں سے دیارغیر میں ضرورملواؤنگا اور میں نے ایسا کیا۔اپنی امّی کی آنکھوں میں وہ خوشی کے آنسوکو میں اب تک بھول نہیں پایا ہوں۔ ایک بڑی خوشی اورسر شاری مجھے اس وقت ملی جب چند سال قبل میری بیٹی کاNASA میں سائنسداں کے طورپرمنتخب ہوئی تھی اور اس خبر کے پھیلتے ہی مجھے دنیاکے کئی ممالک سے لوگوں کی مبارکباد اور محبت بھرے پیغامات ملے تھے ۔ جہاں تک پانے کی خواہش کاسوال ہے تو بہت دنیا دیکھی ، زندگی کو کئی روپ میں دیکھا ۔ یہ دنیا اب بہت ہی بے رنگ نظر آتی ہے ۔ خواہش بس اب اتنی ہے کہ دنیامیں امن وامان قائم رہے ۔جنگ وجدال کاسلسلہ بند ہو ۔بھوکے ننگے بچوں کو دووقت کی روٹی میسرہو ،ان کے خشک ہونٹوں پرمسکراہٹ ہو ۔ مجبور اور بے کس لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ ہو ،لوگوں کو سچ بولنے کی سزا نہ ملے ، ناکردہ گناہوں کے لئے معصوم لوگوں کو قید و بند کی صعوبتیں نہ جھیلنا پڑیں ۔ویسے خواہشات کے بارے مرزا غالب نے ارشاد فرمایا ہے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
علیزے نجف : زندگی ہر لمحہ گزرتی رہتی ہے اس کی یادیں کسی اثاثے کی طرح ہمارے ذہن میں ہمیشہ موجود رہتی ہیں ۔ جس سے وہ لمحہ بھی زندہ رہتا ہے ۔آپ کی زندگی میں بے شمار ایسے لمحات آئے ہونگے جس میں آپ کامیابی کی خوشیوں سے لطف اندوز ہوئے ہونگے ۔ان میں سے کون ایسا لمحہ ہے جس کے نقوش آپ کے ذہن میں آج بھی نقش ہیں جو آپ کے خاندان کے لئے باعث اعزاز رہا ہے۔؟
احمد قادری : یوں تو زندگی میں ایسے کئی لمحے آئے ہیں ، لیکن میری بیٹی ثمر ین کی ناسا میں ملنے والی کامیابی نہ صرف میرے اور میرے خاندان کے لئے بلکہ پوری قوم کے لئے باعث فخر ہے ۔
علیزے نجف: یہ انٹرویو دیتے ہوئے آپ کے احساسات کیا ہیں اور سوالات سے کس حد تک مطمئن ہیں ۔کیا اس انٹرویو کے ذریعے آپ اردو ادب کی بقا و ارتقا کے حوالے سے کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
احمد قادری : انٹرویو دیتے وقت بس ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں امتحان گاہ میں بیٹھا ہوں اور خوف زدہ ہوں کہ نہ جانے اگلا سوال کتنا مشکل ہوگا ۔آپ کے کئی سوالات میرے لئے اہمیت کے حامل ہیں ۔ مجھے اپنے احساسات و جذبات اور خیالات کے اظہار کا موقع آپ نے دیا نیز اپنے سلسلے میں کچھ وضاحت کا موقع دیا۔اس کے لئے میں آپ کا ممنون ہوں ۔جہاں تک اردو ادب کی بقا اور ارتقا کا سوال ہے تو اس ضمن میں ، مجھے بڑی مایوسی ہے دن بہ دن اردو زبان و ادب بے توجہی اور لاتعلقی کی دھند میں معدوم ہوتی جارہی ہے ۔ جب تک اس زبان کو حکومت کی سرپرستی حاصل نہیں ہوگی اس زبان کا ادب اور صحافت کی بقا ممکن نہیں ہے ۔ اردو زبان کو ہم اپنے گھروں میں جگہ دینے کو تیار نہیں ہیں ، اسکولوں سے اردو زبان ختم ہوتی جا رہی ہے ۔ پھر کیوں کر ہم اس کے سلسلے میں خوش فہمیوں میں مبتلا رہیں ۔
انٹرویو نگار علیزے نجف
٭٭٭ ٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

