میں چلابھی گیا تواثر چھوڑجاؤںگا
وہ وائرس ہمارے ملک میں بھی در آیا تھا۔ وجہ کچھ بھی رہی ہو، بہرحال اس کی آمد کا اعلان کرایاگیا۔ساتھ ہی اِس بات کا اعتراف بھی کیا گیا کہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے ہمارے پاس جدید مشینی سہولیات ،آلات اور لیباریٹریزو انفراسٹرکچروغیرہ بہت کم ہیں۔ لیکن مایوس ہونے اور ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ سب سے اہم چیزجوہم کرسکتے ہیںوہ ہے احتیاط۔احتیاط علاج سے بہتر ہے۔لہٰذا پورے ملک میں۲۱ ؍دنوںکے لاک ڈائون کا اعلان کردیاگیا۔وزارت عظمیٰ سے سخت ہدایت دی گئی کہ اس وائرس کی زنجیر کو توڑنا ہے ،اس لیے ہرشہری کو گھرمیںرہناہے۔تمام کاروبار سوائے چند اشد ضروریات کے بندکردیے گئے۔ ۲۱؍دن کا لاک ڈاؤن ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی مدت میںمزید اضافہ کیا گیا۔پھرمزید اضافہ۔۔۔
وہ بہت ہی حساس طبیعت کا جذباتی نوجوان تھا۔ا س دوران وہ اپنے ذہن میں،اپنے ہی تصورمیںمختلف پہلوؤں سے حالات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا۔جب باربار لاک ڈاؤن بڑھایاگیا تو اس کے صبر کا پیمانہ لبریزہوگیا۔اب وہ بذات خود حالات کا مشاہدہ کرنے کے لیے تیارہوگیا۔اُس نے احتیاطاًاپنا آئی کارڈ گلے میںڈال لیا تاکہ اگر پولیس کا سامناہوتواسے آگے بڑھنے میںرکاوٹ نہ ہو۔گاڑی یا بائک کے بجائے اس نے پیدل چلنے کو ترجیح دی تاکہ زیادہ قریب سے حالات کا مشاہدہ کرسکے۔
پورے ملک میںلاک ڈاؤن نافذتھا۔ہر ریاست، ہرشہرمیںچپے چپے پر پولیس تعینات تھی۔کسی کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیںتھی اس لیے دوردورتک کوئی نظرنہیںآتا تھا۔ آج کل وہ سڑکیںبھی خالی و سنسان پڑی تھی جن پر کچھ دنوں پہلے کھوے سے کھوا چھِلتاتھا۔اکا دکا راشن کی دکانیں کھلی دکھائی دیتی تھی۔ پورا شہر گویا تھم ساگیاتھا۔اسے موسم بڑاخوشگوارلگا۔ خوشگوار اس معنی میںکہ ماحول، فضائی و صوتی آلودگی سے تقریباًپاک ہوچکاتھا۔
وہ گھر سے نکلا اور بناکسی سمت کا تعین کیے ایک طرف چل پڑا۔لیکن اپنے ہی محلے کے ایک پکے مکان کے سامنے سے گذرتے ہوئے اس کے قدم رک گئے۔ کمپائونڈوال سے ایک مرداورعورت کی باتیں ماحول کے سناٹے کو چیر کراس کے کانوںمیںپہنچ رہی تھی۔
’’پتہ نہیں،کب تک چلے گایہ لاک ڈاؤن؟‘‘
’’گھر کا سارا اناج ختم ہوچکاہے۔‘‘
’’نمک تک نہیںہے گھرمیں۔وہ بھی ہم روٹی کے ساتھ کھاچکے ہیں۔‘‘
’’کسی نہ کسی طرح اناج کا انتظام کرنا ہی ہوگا۔‘‘
’’میںکسی کے آگے کیسے ہاتھ پھیلاسکتاہوں؟لوگ کیا سوچیںگے؟ ‘‘
’’آخرکب تک پانی پی پی کر پیٹ بھریںگے؟‘‘
’’بچوںکا یہ حال مجھ سے بھی دیکھانہیںجاتا۔‘‘
وہ نوجوان اس سے زیادہ نہیں سن سکااوربوجھل قدموںسے آگے بڑھ گیا۔ معاشرے کے ان خوددار افراد کی طرف کون دھیان دے گا؟ ان کی مدد کیسے کی جا سکتی ہے؟کیاکوئی اس طرح کے لوگوںکو ڈھونڈڈھونڈکر راشن فراہم کرنے کی ذمہ داری لے سکتاہے؟ایسے کئی سوالات اس کے حساس ذہن میںگونجنے لگے۔
چلتے چلتے وہ ایک چوراہے پر پہنچا۔ یہاںپر کچھ پولیس والے ایک نوجوان کو لاٹھیوںسے پیٹ رہے تھے۔پاس ہی دوافرادکھڑے ہوئے تھے جن کے گلے میںآئی کارڈموجود تھا ۔وہ آگے بڑھ کر ان میںشامل ہوگیا۔اب یہ تینوںپولیس کے ہاتھوںمارکھاتے نوجوان کو دیکھ رہے تھے۔ اچانک ایک آدمی بولا۔۔۔’’پچھلے دو دن سے دیکھ رہاہوں۔روز گھر سے باہر نکل جاتا ہے اور پولیس والوںکے ہاتھوںمارکھاکر گھر لوٹ جاتاہے۔‘‘
’’عجیب آدمی ہے۔سدھرنے کا نام نہیںلیتا۔بھلا یہ کوئی تُک ہے کہ روز گھر سے نکل کر پولیس کے ہاتھوںمارکھائی جائے۔‘‘
یہ باتیںسن کروہ حیران رہ گیا۔ اسے یقین ہوگیا کہ اس نوجوان کے روزانہ گھرسے باہر نکلنے اور پولیس والوںکے ہاتھوںمارکھانے کے پیچھے کوئی رازہوسکتا ہے۔پولیس نے کچھ دیر بعدمزید مارنے کے بعد اس نوجوان کو چھوڑدیا۔وہ بھی اس نوجوان کے پیچھے ہولیا۔ کچھ دور چل کرنوجوان ایک گلی میںمڑگیا۔وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اسے روک لیا۔
’’کیوںبھائی !آخریہ کیاماجراہے کہ تم روزباہر نکل کرپولیس کے ہاتھوںمارکھاتے ہو؟‘‘
’’پولیس کے ہاتھوںمارکھانے کا شوق کون رکھتاہے بھائی ؟‘‘وہ ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔’’میں روز گھر سے اس امید کے ساتھ نکلتاہوںکہ راشن کٹ بانٹنے والے حضرات سے ملاقات ہوجائے اور مجھے بھی کچھ مل جائے۔لیکن پولیس والوںکو مجھ پر یقین ہی نہیں آتا۔کہتے ہیں، تم زبردستی باہر نکلتے ہو۔اب بھلا انھیں کون بتائے کہ گھر کا راشن ختم ہوچکا ہے۔بچے بھوکوںمررہے ہیں۔‘‘اس کی آنکھوںمیں آنسو آگئے ۔اس نے آنکھوںپر ہاتھ پھیرا اورجانے کے لیے مڑگیا۔ وہ اسے جاتا ہوادیکھتا ہی رہ گیا۔
کچھ دور تک چلنے کے بعد اسے ایک دکان دکھائی دی۔ تین چارگاہک ایک ایک میٹر کے فاصلے سے قطار بنائے کھڑے تھے۔ وہ بھی تیز تیز قدم بڑھاتا وہاں پہنچ گیا۔ دکاندار اور گاہک میں شناسائی معلوم ہوتی تھی۔ گاہک کرانہ کی ایک لمبی فہرست لایا تھا اور دکاندار اس کی مطلوبہ اشیا دیتے دیتے اس سے بات چیت بھی کیے جا رہا تھا۔وہ ایک مخصوص جماعت کے بارے میںگفتگوکررہے تھے۔وہ غور سے ان کی باتیں سننے لگا۔
’’یہ لوگ کسی کی نہیںسن رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے وبا کے ملک کے کونے کونے میں پہنچ جانے کا خدشہ ہے۔‘‘
’’ٹی وی چینلس چوبیس گھنٹے ان ہی کے تعلق سے خبریں نشرکررہے ہیں۔‘‘
’’نیوز کے مطابق پہلے ملک میںوبا کا اتنا اثر نہیں تھا،لیکن ان مخصوص لوگوں کی حماقت کی وجہ سے اب کئی بڑے شہر اِس وباکی لپیٹ میں آگئے ہیں۔ ‘‘
’’جب تک ملک میں یہ لوگ موجود ہے ،ملک کی ترقی ممکن نہیں۔‘‘
گاہک کی مطلوبہ اشیا اسے مل گئیں اور وہ چل دیا لیکن اس نے دکاندارسے جو گفتگو کی ،اسے سننے کے بعد اس حساس نوجوان کے دل میں کئی انجانے سوال گھر کر گئے۔کیا یہی وہ لوگ ہیں جو چین میں اس وباکے پھیلنے اور ہزاروں لوگوں کی موت کا باعث بنے؟کیایہی لوگ اس وبا کو چین سے اٹلی ،برطانیہ اور امریکہ تک پہنچا آئے؟ کیا اس جماعت نے ہی کسی سازش کے تحت لاکھوں لوگوں کی موت کا سودا کیا؟یہ سارے سوال اس کے ذہن میں کچوکے لگانے لگے۔
اب وہ اس دکان سے نکل کر شہر کے اہم راستے پر چلنے لگا۔ ساتھ ہی اسکی تیز نظریں اطراف کا مشاہدہ کررہی تھی۔ وہ اس لاک ڈاؤن کی ہر بات کو نوٹس کرنا چاہتا تھا۔راہ میںاس نے کئی مذہبی مقامات پر تالا لگادیکھا۔ مسجد ،مندر،گرودوارے،چرچ سبھی اپنے عقیدتمندوںسے خالی پڑے تھے۔لگتاتھا سب کا خدا ناراض تھااور ڈھیلی چھوڑی ہوئی لگام اس نے اب کھینچ لی تھی۔ پوری دنیا کے حالات ومناظر اس بات کی گواہی دے رہے تھے۔
چلتے چلتے وہ ایک جگہ پہنچا جہاںچارپانچ لوگ اکٹھاتھے جنہوںنے ٹوپیاں پہنی ہوئی تھی اوروہ وباسے فوت شدہ ایک شخص کاانتم سنسکارکررہے تھے۔یہ منظر دیکھ کر اسے اپنے ملک کی گنگا جمنی تہذیب پرفخرمحسوس ہوا۔لیکن میڈیا کے نمائندوں کو یہاںموجود نہ پاکر اسے افسوس ہوا۔میڈیا پر ایسی خبریں کیوں نہیں دکھائی جاتیں؟ میڈیاکیوںغیرضروری باتوں اورفضول موضوعات پر بحث کو بڑھاوادے کر اہم موضوعات کو دبا تا ہے؟یہ سب کب تک چلے گا؟
اب اس نے شہر کی ایک غریب بستی کارخ کیا۔کچھ دیر بعد وہ ایک کچی سڑک پر کھڑا تھا ۔اس کے سامنے لاتعداد جھگیاں تھیں۔صفائی کا فقدان واضح نظرآتا تھا۔ کچرے کے ڈھیر،ابلتی نالیاںاس کا منہ چڑارہے تھے۔یہاںتو ’سوشل ڈسٹینسنگ ‘کا کھلا مضحکہ اڑایا جارہاتھا۔لوگ گھروںسے باہر بیٹھے ہوئے تھے۔ گلیوں میں آمدورفت شروع تھی۔کچھ بچے کھیل رہے تھے۔وہ یونہی جائزانہ نظروں سے ادھرادھردیکھتارہا۔
کچھ دیر بعد ملکی سطح پر غریبوں کے لیے کام کرنے والی ایک معروف تنظیم کا امدادی ٹیمپو اس کے قریب آرکا۔ اس ٹیمپو میں غریبوں کے لیے کئی راشن کٹ لدے ہوئے تھے جنہیں شہر کے مختلف علاقوں میں رہنے والے غریبوں میں تقسیم کرنا تھا۔ اس کے انجن کی آوازنے ان لوگوںکی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ ٹیمپو کو دیکھتے ہی لوگ اس کے اطراف جمع ہونے لگے ۔ دھکامکی ہونے لگی۔ ٹیمپو سے تنظیم کے کچھ رضاکار اترے ۔
’’ارے ،ارے !خاموش ہوجاؤ۔ سب کو ملے گا۔ ادھرلائن بنا کر کھڑے ہوجاؤ۔‘‘
دیکھتے ہی دیکھتے ایک لمبی قطار لگ گئی۔بچے بوڑھے جوان سبھی قطار میں کھڑے ہوگئے۔سب کو ایک ایک راشن کٹ بانٹی گئی اور ٹیمپو وہاں سے چل دیا۔
وہ ایک گلی میں داخل ہوگیا۔ایک جھونپڑی کے باہر پڑی کھاٹ پر ایک عورت اپنی بیٹی کے بال بنارہی تھی۔تبھی ایک لڑکا خوشی کے مارے چلاتا ہوا آیااور اس کے قریب بیٹھ گیا۔
’’دیکھ ماں۔ میں کیا لایا ہوں۔‘‘اس نے راشن کٹ اپنی ماںکودکھائی۔
’’لا ادھردے۔ ‘‘اس کی ماں اسے گھورتی ہوئی بولی۔’’کس نے دیا؟‘‘
’’ماں!ٹیمپو میں کچھ لوگ آئے تھے ۔ سب کو ایک ایک بانٹ کرگئے ہیں۔بابوجی اور بڑے بھیّاکو بھی ملا ۔ وہ بھی آتے ہوگے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔جائو۔‘‘
کچھ دیر بعد ایک مرد وہاںپہنچا۔ اس کے ہاتھوںمیں بھی راشن کٹ تھی۔ اس کے چہرے پر اطمینان بخش مسکراہٹ رقص کررہی تھی۔
جب وہ اگلی گلی میں پلٹاتو ایک بچے کے رونے کی آواز نے اسے متوجہ کرلیا۔اس بچے کی ماں اسے چپ کرانے کی ناکام کوششیں کیے جارہی تھی۔وہ اس جھونپڑی کے دروازے کے قریب جاکر کھڑاہوگیا۔انداز کچھ اس طرح تھا جیسے اندرداخل ہونے کیلئے جازت کاانتظارکررہاہو۔اب گھر کے اندرہورہی ماںبیٹے کی گفتگو بآسانی اس کے کانوںتک پہنچ رہی تھی۔
’’چپ ہوجاؤبیٹا،کیوںضد کرتے ہو۔‘‘
’’بہت بھوک لگی ہے ماں۔‘‘آواز نحیف تھی۔
ماں تو بہرحال ماںہوتی ہے ۔ اسے پتہ تھا کہ اس کا بچہ کیوں اتنارورہاہے۔ لیکن وہ یونہی اس کا دل بہلائے رکھنے کے لیے اس سے باتیں کیے جارہی تھی۔
’’ہاں بیٹا۔تیرے باباراشن کٹ لے کر آتے ہی ہوگے۔‘‘عورت کی دردمیں ڈوبی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
گھرکا ساراراشن ختم ہوچکاتھا۔تھوڑے پیسے تھے وہ بھی ختم ہوچکے تھے۔ کب تک یونہی گزارا ہوتا ۔اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
’’ماں۔آخر ہواکیاہے؟بابابھی کام پرنہیں جاتے۔‘‘
’’ایک وبا پھیل رہی ہے بیٹا۔امیر غریب سب اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔۔۔‘‘وہ دردبھرے لہجے میں بڑبڑاتی رہی۔
’’وبا۔۔۔‘‘بچے نے غنودگی بھرے لہجے میں کہا اور دوتین تھپکیوں نے اسے نیند کی وادیوںمیں پہنچادیا۔
وہ دروازے سے ہٹ کر اپنے راستے ہولیا۔یہ کیسا انصاف ہے! کچھ گھروں میں کئی کئی راشن کٹس ذخیرہ ہے جبکہ کچھ گھروںمیں اب بھی فاقہ کشی پر لوگ مجبور ہے۔حالانکہ بستی ایک ہے،محلہ ایک ہے۔آخر اس بچے کی بھوک کا ذمہ دار کون ہے؟آنکھیں بندکرکے راشن بانٹنے والے کارکنان یا اپنے گھروںمیں ضرورت سے زیادہ راشن کٹس ذخیرہ کرنے والے خودغرض لوگ؟
اب اس بستی سے نکل کر کچھ دور چلنے کے بعد وہ ایک فلاحی تنظیم کے دفترپہنچا۔اس نے سوچا ، یہاںبھی کچھ وقت گزارناچاہئے اوران کے کام کاج کا جائزہ لیناچاہئے۔وہ دفترمیںداخل ہوگیا۔یہاںصدرصاحب جو اپنی کرسی پر بیٹھے کسی کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھے،اس پر نظرپڑتے ہی اسے کرسی پیش کی۔اس نے اپناتعارف پیش کیا اور تنظیم کے کام کاج کے متعلق دریافت کیا۔صدر صاحب نے اسے مختصراًاعدادوشماربتائے۔
تھوڑی دیر بعد کچھ کارکنان دفترآپہنچے۔پھر آج پورے دن بانٹے گئے راشن کٹس کا حساب لگایا گیا۔ فلاں بستی میںپانچ سو، فلاں میںہزار۔تنظیم کے کارکن ، اپنے صدر کو اپنی کارگزاری سنارہے تھے۔ صدر صاحب کے چہرے پر بکھری مسکراہٹ ظاہرکررہی تھی کہ وہ اپنے کارکنان کے کام سے بہت خوش ہیں۔
’’بہت اچھے،بہت خوب۔‘‘صدرصاحب نے تعریفی کلمات اداکیے۔کارکنان پھولے نہ سمائے۔وہ خاموشی سے ان کے چہروںکو تکتا رہا اورتھوڑی بہت تعریف بھی کرتارہا۔
صدرصاحب نے دفترکے کلرک کو بلایا۔
’’ آج کی ساری رودادٹائپ کرو۔ ایک ایک تفصیل لکھنا کہ کس علاقے میں کتنی راشن کٹس بانٹی گئی۔شہر کے تمام اخبارو ں کو یہ خبر بھیج دو۔اخباروںکو یہ تاکید کر دینا کہ خبرکا پورامتن مع تصاویرشائع ہواور تنظیم واراکین کانام جلی حرفوںمیں ہوناچاہئے۔ساتھ ہی تمام واٹس ایپ گروپس میں اس نیوز کوفوٹوسمیت وائرل کردو۔ ہر کسی کو ہمارا یہ کارنامہ پتہ ہوناچاہئے کہ آج ہم نے اس پورے شہر میں دس ہزار سے زائد راشن کٹس تقسیم کردیے۔ ‘ ‘صدر صاحب نے حکم دیا اور کلرک الٹے پائو ں مڑ گیا۔ یہ باتیں سن کر اس نوجوان کا دم گھٹنے لگا۔اس نے اجازت طلب کی اور جلدی جلدی دفترسے نکل گیا۔
باہر آکر اس نے فضامیں کچھ لمبی سانسیں لیں اورریاکاری کو کوستاہوا ایک طرف چل دیا۔
قومی شاہراہ پر اس نے بدحالی کے مارے کچھ لوگوںکو پیدل جاتے ہوئے دیکھا۔ان میں بچے بوڑھے جوان عورتیں سبھی شامل تھے۔ ان کے قریب گیا تو احساس ہواکہ یہ مزدور طبقہ ہے۔حالات کی مارسہنے والا یہ مزدورطبقہ لاک ڈاؤن میں کوئی کام نہ ہونے کے باعث اپنے آبائی گاؤں جانا چاہتاتھا۔اپنے چہروں پر کرب کے آثار،سروںپہ رخت سفرکا بوجھ ،ہاتھوںمیں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی انگلیاںپکڑے چلے جارہے تھے۔ان کے چپل جوتوں سے آزاد ننگے پیر اب تک نہ جانے کتنا طویل سفرکرچکے تھے۔یہ دلخراش منظردیکھ اس کا دل بیٹھنے لگا۔
کچھ دیر بعد اس نے ایک ٹیمپو کو ان مزدوروںکے پاس رکتے دیکھا۔ٹیمپو پر ایک بورڈ لگاہوا تھا۔’’براہ مہربانی رکیے،کھاناکھائیے،پانی پیجئے ‘‘۔اس نے دیکھا۔ کچھ لوگ ٹیمپو سے اترے۔ ٹیمپو سے دیگیں اتریں۔ان تمام مفلوک الحال مزدوروںکو کھانا بانٹاگیا۔پانی کی بوٹلیں تقسیم کی گئی۔اور وہ لوگ خاموشی سے بنا کوئی فوٹو کھنچوا ئے وہاں سے چلے گئے۔ اس کی آنکھوںمیں آنسوآگئے۔
وہ سوچنے لگا۔ میڈیا قومی یکجہتی کے اس منظر کوکیوں نہیں دکھاتا؟شاید میڈیا کو یہ سب دکھانے کی اجازت نہیں ہے ۔جب تک میڈیا ایسے مناظر تمام ناظرین کے سامنے نہیں رکھے گا،تب تک اس ملک سے فرقہ واریت کا خاتمہ ناممکن ہے۔
سورج سرپر تھا۔ اس کی شعاعیں خط مستقیم کی طرح سیدھی زمین پر پڑرہی تھی۔ وہ نوجوان اب اپنے گھر کی طرف قدم بڑھانے لگا۔یہ لاک ڈاؤن اسے کوئی جادو کی چھڑی سا محسوس ہونے لگا،جس نے کچھ دنوںمیں سب کی زندگی کا نقشہ بدل دیا۔آج کا دن اسے خواب معلوم ہونے لگا۔اس کا ذہن ایک عجیب کشمکش کا شکار تھا۔ کبھی اسے خوددار لوگوں کے خاموش دردکا شور محسوس ہوتا اورکبھی مزدوروں کی بے بسی پریشان کرتی۔کسی کا دکھاوا اس کے اندر کی آگ کو بڑھاوادیتاتوکسی کی بلا مذہبی تفریق لوگوںکی خدمت کامنظراس آگ کوٹھنڈاکردیتا۔بہرحال،وہ کشمکش میں مبتلاتھا۔وہ سوچ رہاتھا کہ لاک ڈاؤن کے بعد اس ملک کا سماجی منظرنامہ کیا ہوگا؟ معیشت تو خیر سدھربھی جائے گی۔سیاست تو اپنے ہی ڈھنگ سے چلتی رہے گی۔لیکن ہمارے ملک کی گنگاجمنی تہذیب جواس ملک کو پوری دنیا میں امتیاز بخشتی ہے ،اس کا کیا ہوگا؟لاک ڈاؤن میں اس کو مجروح کرنے کی بھی کوششیں ہوئیں اور اس کومضبوط کرنے کی بھی۔لاک ڈاؤن کے بعد کس کا پلہ بھاری ہوگا؟مجروح کرنے والوں کا یا مضبوط کرنے والوں کا؟کون کروڑوں دلوں اورذہنوں پر زیادہ اثرانداز ہوگا؟مجروح کرنے والوں کی سازشیں یا مضبوط کرنے والوں کی کاوشیں؟
(افسانہ نگار اقراشاہین جونیئرکالج،مہرون،جلگاؤں میں بارہویں جماعت میں زیرتعلیم ہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

