مولانا ظفر علی خاں باکمال شاعر، بلند پایہ ادیب، شعلہ بیاں مقرر اور بے باک صحافی تھے۔ان کی حیات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ ملک و ملّت کی خدمت کے لیے ہی پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی صحافتی زندگی کا باقاعدہ آغاز1903 میں رسالہ ‘‘افسانہ’’ سے کیا۔ اس سے پہلے ان کے کئی مضامین مختلف رسائل و جرائد کی زینت بن چکے تھے۔ جن میں لائف آف سرسید احمد خاں، خیابان فارس، اور جنگ روس و جاپان کافی اہم ہیں۔رسالہ ‘‘افسانہ’’ میں اپنے خیالات و جذبات کی مکمل عکاسی نہ کرپانے کی وجہ سے 1904 میں مولانا نے ‘‘دکن ریویو’’ کے نام سے ایک اورعلمی و ادبی ماہنامے کا آغاز کیا۔جس نے بہت جلد برعظیم کے نامور شعرا و ادبا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی۔ اس کے لکھنے والوں میں نصیر حسین خیال،علامہ شبلی نعمانی، اکبرالہ آبادی، مولوی عبدالحق، رضا علی وحشت وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔لیکن اس رسالے کی اشاعت کے بعد بھی ظفر علی خاں کے اندر تشنگی کا احساس باقی رہا۔یہی وجہ تھی کہ علمی و ادبی دنیا میں وہ ہمیشہ خوب سے خوب تر کی طرف گامزن رہے۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد دسمبر 1909 میں انھوں نے ‘‘زمیندار’’ کی ادارتی ذمہ داری سنبھالی اور اس کے ذریعہ قومی و ملّی خدمات کے ساتھ تحریک آزادی کے حصول میں وہ نمایاں کردار ادا کیا جو صحافت کے باب میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔مولانا ظفر علی خاں کی بے باک طبیعت ہی کی وجہ سے ان کے ساتھ ان کے رسائل و جرائد پرانگریزی حکومت کی نظرکرم ہمیشہ جمی رہی۔مولانا کی گرفتاری اور ان کے رسائل کی ضبطی کی تفصیل ‘‘تاریخ صحافت’’ میں افتخار کھوکھر نے یوں بیان کی ہے:
‘‘مولانا ظفرعلی خاں نے حق گوئی و بے باکی کے صلہ میں بارہ سال سے زیادہ عرصہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ‘‘زمیندار’’ کی ضبطیوں اور اپنی گرفتاریوں کے نتیجہ میں ڈیڑھ لاکھ روپے سے زائد جرمانہ ادا کیا۔ حکومت نے پندرہ دفعہ اخبار ضبط کیا۔ دو سو کے قریب نظمیں ضبط ہوئیں۔ کئی پریس بحق سرکار ضبط ہوئے لیکن دنیاکی کوئی طاقت انھیں حق گوئی سے باز نہ رکھ سکی۔ جلیانوالہ باغ میں گولی چلوا کر سیکڑوں انسانوں کو موت کی نیند سلانے والا گورنر پنجاب مائیکل ایڈوائر، ضبطیوں، قرقیوں اور نظر بندیوں کے باوجود مولانا ظفرعلی خاں کی آواز حق کو نہ دبا سکا۔ اس نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ ‘‘ظفرعلی خاں اور محمد علی جوہر ماں کے پیٹ سے بغاوت کا علم لے کر نکلے ہیں۔ انگریز دشمنی ان کی فطرت میں شامل ہے،کوئی عام منصوبہ شروع کرنے سے پہلے ان کو گرفتار کرنا ضروری ہے۔’’ [1]
مندرجہ بالا اقتباس کو پڑھ کر اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا ظفر علی خاں کی شخصیت انگریزی حکومت کے نزدیک کس قدر معترض اور مشکوک تھی کہ جنرل ڈائر ہر منصوبے سے پہلے انھیں گرفتار کرنے کا حامی تھا۔ان تفصیلات سے قطع نظر اب ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اخبار ‘‘ستارۂ صبح’’ کی طرف رجوع کیا جائے۔
مولانا ظفر علی خاں نے کرم آباد سے 12/نومبر 1916 بمطابق 14محرم الحرام 1335ھ کو ایک ہفتہ وار غیر سیاسی ادبی اخبار ‘‘ستارۂ صبح’’ ‘‘دکن ریویو’’جاری کیا۔ اس کی سالانہ قیمت 6 روپے اور فی شمارہ 2 آنہ تھی۔لیکن پہلے پرچے کی قیمت آٹھ آنے رکھی گئی۔اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ اس شمارے میں کل 52 صفحات تھے۔ جب کہ بعد کے شمارے 32 صفحات پر مشتمل ہوا کرتے تھے۔ اس کی مزید وضاحت ‘‘ستارۂ صبح’’ کے پہلے شمارے سے بھی ہوتی ہے:
‘‘ہماراارادہ نہ تھا کہ اس اخبار کی سالانہ قیمت زیادہ ہو۔لیکن ہم کو مجبوراً چھ روپے (6روپے)اس کی سالانہ قیمت رکھنی پڑی۔ جس کے متعدد بواعث ہیں:
(1) پیش قرار مصارف برداشت کر کے ہم کو ایک نہایت وسیع و بر گزیدہ علمی اسٹاف انتخاب کرنا پڑا ہے۔
(2) کاغذ و سامان طبع کی گرانی مانع ارزانی ہے۔
(3) کرم آباد جیسے مقام سے ایک موّقت اخبار کو ایڈٹ کرنا اور لاہور میں اس کوچھپوانا دوہرے مخارج کا موجب ہے باایں ہمہ امید ہے کہ خاطر خواہ اشاعت وسیع ہوتے ہی عنقریب قیمت اخبار میں کمی اور اس کے محاسن میں زیادتی ہوجائے گی۔
(4) یہ اخبار بالفعل ہفتہ وار شائع ہوا کرے گا۔
(5) اس کی ضخامت 32 صفحات کی ہوا کرے گی۔
(6) یہ پرچہ بطور نمونہ کے شائع کیا جاتا ہے جس کے بعد چند دنوں تک وقفہ رہے گا۔اورپھر مسلسل اشاعت ہونے لگے گی۔
(7) اس نمونے کی قیمت 8 آنے(8/) ہے۔’’ [2]
جیسا کہ درج بالا سطور میں اس بات کی وضاحت کی گئی کہ اس اخبار کا پہلا شمارہ کرم آباد سے شائع ہواتھا۔ لیکن اشاعتی پریشانیوں کے باعث اس کی دوسری اشاعت چند دنوں کے بعد لاہور سے ہوئی اوربندہونے تک یہ مسلسل لاہور سے نکلتا رہا۔
ظفر علی خاں جانتے تھے کہ اس اخبار کی قیمت ہمعصر اخبارات سے زیادہ ہے۔دوسرے یہ کہ انگریزی حکومت کی جانب سے یہ فرمان جاری کیا گیا تھا کہ اخبار ‘‘ستارۂ صبح’’ میں اشتعال انگیز خبریں یا سیاسی مضامین کسی بھی صورت میں شائع نہیں کی جائیں گی۔قیمت اخبار میں اضافہ اور سیاسی مضامین کی عدم شمولیت کی وجہ سے مولانا کو اس کا گمان تھا کہ اس کی اشاعت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو پائے گا۔لہٰذا جہاں انھوں نے ‘‘ستارۂ صبح’’ کی قیمت، ضخامت اور اشاعت وغیرہ کے متعلق خبریں شائع کیں وہیں عوام کو اس کی ضرورت اور اہمیت سے بھی آگاہ کیا۔یہی نہیں بلکہ مولانا نے ایک قدم آگے بڑھایا اور سکّے کے دونوں رخ پیش کرتے ہو ئے کہا کہ :
‘‘اگرآپ اس (یعنی ستارۂ صبح) کو مفید نہیں سمجھتے اور اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تو پھر اس کو چاک کر ڈالیے اور ہم کو اطلاع دیجیے کہ ناحق یہ سلسلہ کیوں جاری رہے۔’’ [3]
ایک بات جو غور طلب ہے وہ یہ کہ ڈاکٹر عبدالسلام خورشید نے اپنی کتاب ”کاروان صحافت“ کے دوسرے ایڈیشن میں ظفر علی خاں کی نظر بندی اور ‘‘ستارۂ صبح’’ کے اجرا کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ:
‘‘مولانا ظفرعلی خاں انگلستان میں پریس ایکٹ کے خلاف آواز بلند کرنے کے بعد وطن کو لوٹے تو انھیں کرم آباد میں نظر بند کردیا گیا۔ سچ پوچھیے تو نظربندی کا یہ دور علم و ادب کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا کیوں کہ مولانا نے لیلائے سیاست سے کنارہ کش ہو کر لیلائے علم و ادب سے پیار کی پتنگیں بڑھائیں۔ اسی پیار نے ‘‘ستارۂ صبح’’ کو جنم دیا جو 1917 کے آغاز میں ایک غیر سیاسی ہفت روزہ کی حیثیت سے کرم آباد سے جاری ہوا۔’’ [4]
یہ بات تو درست ہے کہ انگلستان میں پریس ایکٹ کے خلاف آواز اٹھانے کے بعد وطن میں مولانا کو نظر بندی کے دن گزارنے پڑے۔ لیکن جہاں تک ‘‘ستارۂ صبح’’ کے اِجرا کا تعلق ہے تو اس معاملے میں ڈاکٹر عبدالسلام خورشید سے سہو ہوا، کیوں کہ ‘‘ستارۂ صبح’’ کا پہلا پرچہ 1917 میں نہیں بلکہ 12نومبر 1916 کو کرم آباد سے شائع ہوا تھا۔ اس کی پہلی فائل جو 12نومبر 1916 کو منظر عام پر آئی تھی،جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ‘ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری’ میں موجود ہے۔علاوہ ازیں عنایت اللہ نسیم سوہدروی نے اپنی کتاب ‘‘ظفر علی خاں اور ان کا عہد’’ میں ‘‘ستارۂ صبح’’ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ اخبار ابتدا میں سہ روزہ تھا لیکن جلد ہی روزنامے میں تبدیل ہوگیا۔لیکن راقم الحروف کی تحقیق کے مطابق یہ اخبار ابتدا سے سہ روزہ کے بجائے ہفتہ وار رہا۔ بلکہ اس کا پہلا شمارہ جو 12نومبر1916 کو منظر عام پر آیا وہ ایک لحاظ سے ماہوار تھا کیوں کہ اس مہینے اس کی کوئی دوسری اشاعت نہیں ہوئی تھی۔یکم دسمبر1916سے یہ اخبار ہر ہفتے پابندی سے شائع ہونے لگا۔جہاں تک اس اخبار کے روزنامہ ہونے کا تعلق ہے تو اس نے یہ صورت ستمبر1917 میں اختیار کی اور آخر تک روزنامے کی شکل میں شائع ہوتا رہا۔
‘‘ستارۂ صبح’’ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل منفرداخبار تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بہت جلد علمی و ادبی حلقوں میں ‘‘زمیندار’’ کی طرح تو نہیں لیکن پھر بھی اس نے اپنی ایک الگ شناخت بنالی۔ اس کے سرِ ورق میں سب سے اوپر یہ دعا ‘‘ربِّ زِدْنیِ عِلْماً’’ اوراس کے نیچے فارسی کا یہ شعر درج ہوا کرتا تھا۔
من آں ستارۂ صبحم کہ در محلِّ طلوع
ہمیشہ پیش رَوِ آفتاب مے باشم [5]
اس کے علاوہ اس کے سرِ ورق پر کبھی کبھی نظمیں بھی شائع ہوا کرتی تھیں۔ ان نظموں کے ذریعہ انسان کی عظمت وبڑائی، مسلمانوں کے ماضی و حال کا ذکر اور ہندوستان کی حالت زاروغیرہ کو بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا تھا۔ مولانا نے یکم جنوری 1917کے شمارے میں ‘‘ستارہ ہی نہیں جو صبح کا ستارہ نہ ہو’’ کے عنوان سے ایک نظم قلم بند کی تھی۔ جس میں صبح کے ستاروں کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس کے جلال و جمال کی کیفیات کو بھی بڑے شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ ‘‘ستارۂ صبح’’ میں شائع ہونے والی اس نظم کے ذریعہ ظفر علی خاں اس بات کی وضاحت کرنا چاہتے تھے کہ یہ اخبار‘‘ستارۂ صبح’’ بھی صبح کے ستارے کے مانند پورے آب و تاب کے ساتھ اپنے فرائض کو انجام تک پہنچانے اور اپنے مقصد کی حصولیابی کے لیے عمل پیرا ہے۔درج ذیل میں ‘‘ستارہ ہی نہیں جو صبح کا ستارہ نہ ہو’’ کے عنوان سے جو نظم شائع ہوئی تھی پیش کی جارہی ہے ملاحظہ فرمائیں:
بنا ہی دائرہ ہم نے لیا معارف کا
محال ہے کہ ہمارا کوئی ادارہ نہ ہو
کہاں سے لاؤں مضامین غیب کی سرخی
علی الصباح اگر چائے کا غرارہ نہ ہو
نہ کھل سکے گی زبان عندلیب شیدا کی
بہار کا اسے جس وقت تک اشارہ نہ ہو
بلند ہے تری ہمت تو باز بن کے دکھا
مگر کبھی بھی کلاغ طفیل خوارہ نہ ہو
مگاؤ پرچہ چندہ ہضم کرجاؤ
یہ کار خیر ہے اس میں تو اشخارہ نہ ہو
جمال ماہ بھی ہے اور جلال مہر بھی
ستارہ ہی نہیں جو صبح کا ستارہ نہ ہو
خدا ہو تو ساتھ تو طوفاں زدوں کو کیا ڈر ہے
نظر کے سامنے دریا کا گر کنارہ نہ ہو
‘‘ستارۂ صبح’’ میں ان نظموں کے علاوہ جن موضوعات پر مضامین شائع ہوتے تھے وہ بھی اپنی مثال آپ تھے۔ان مضامین میں کچھ عنوانات توایسے تھے جو تقریباً ہر شمارے میں شائع ہوتے تھے۔ مثلاًترجمان القرآن، حدیث المائد، جواہر ریزے وغیرہ۔ اس کے علاوہ جو مضامین اس کی زینت بنے ان میں ہندوؤں کا دان پن،خدا کا ہندو تصور،ہندو فلسفہ،ہندوؤں کا نظام عدالت، اسلام یورپ کی نظر میں،تاریخ اسلام،اسلام اور اسراف، سنہرا گھونگا، علمائے عرب کی تحقیقات کا نمونہ، پرانے زمانے کی نئی شاعری،موتیوں کی لڑی، ذوق معرفت،امیر المؤمنین واثق بااللہ عباسی،مقناطیس حیوانیہ،چالیس خزانے، مشرق اور مغرب کے کھٹمل وغیرہ۔علاوہ ازیں اس میں تبصرہ، مطبوعات، مخطوطات اور اشتہارات وغیرہ بھی شائع ہوتے تھے۔
ظفرعلی خاں نے اس اخبار میں ہندو مذہب کے قوانین، ان کے رہن سہن، اردو سے ان کی دلچسپی وغیرہ کو بڑے مؤثر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔تاکہ ہندوستان میں بسنے والا ہر شخص اور خاص کر مسلمان اس سے ناآشنا، نہ رہیں۔ جیسا کہ ‘‘ستارۂ صبح’’ میں خود بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ:
‘‘ہندو قوم، ہندومذہب، ہندو تاریخ، ہندو روایات، ہندو فلسفہ غرض کہ ہندوؤں کے متعلق جتنی باتیں ہیں ان کی تنقیح و تنقید ہمارا خاص مطمح نظر ہے۔ کہ دنیا کی اس قدیم ترین تاریخی قوم کے کسی پہلو سے بھی عوام اہل ہند کسی طرح نہ آشنا نہ رہ جائیں۔’’ [6]
ایسا نہیں تھا کہ اس اخبار میں صرف ہندوؤں کے مذاہب یا ان سے تعلق رکھنے والے ہی مضامین شائع ہوتے تھے۔ بلکہ دوسرے مذاہب کے ساتھ اور بھی کئی طرح کے مضامین جس کا ذکراوپر گزر چکا ہے، شائع ہوتے تھے۔دراصل مولانا نے اس اخبار کا اجرا ہی اس غرض سے کیا تھا کہ ہندوستان میں بسنے والے تمام افراد اور ا قوام ایک دوسرے کے متعلق اپنے ذہن کو صاف کرکے متحد ہوجائیں۔اس اخبار کے مقاصد کا اظہار کرتے ہوئے مولانا ظفر علی خاں اس طر ح گویا ہیں:
‘‘اس اخبار کے ذریعہ ہندوستان کی ہر قوم و ہر جماعت کی خدمت ہماری پیش نہاد خاطر ہے۔ یہ ہندومسلمانوں کا مشترک اخبار ہے۔ یہ عام فرزندان ہند کی علمی وراثت ہے۔ یہ ایک جانب کرشن کے فلسفہ بھیشم پتامہ کے خلاق ذہن کے قانون،بودھ کے تقویٰ،برہما قدمین کی برہم ودیا کی میراث ہے اور دوسری جانب اسلام اور اس کے انوار و معرفت کا آئینہ دار ہے،’’ [7]
‘‘ستارۂ صبح’’ میں ایک اور بات جو ابھر کر سامنے آتی ہے وہ اس کی حقیقت پسندی اورغیر جانب داری ہے۔ چوں کہ اس رسالے میں تاریخ کا بھی وافر حصّہ موجود ہوتا تھا اوران تاریخی واقعات کو دلائل وشواہد کی روشنی میں پیش کرنے کی کوشش بھی کی جاتی تھی۔چنانچہ ان ہی واقعات میں سے ایک واقعہ محمود غزنوی کا ہے جس پر ان کے ہم عصر اخبارات نے بڑی ہنگامہ آرائی کی۔ چوں کہ مولانا کی بات سماج میں پھیلے غلط روایت کے خلاف حقیقت پر مبنی تھی لہٰذا اس کو قبول کرنے کے لیے کوئی تیار نہ تھا۔یہی وجہ تھی کہ ان کے ہم عصر اخبارات نے ان کو یہ دھمکی دی کہ ‘‘مولوی صاحب محمود غزنوی کی ایسی وکالت سے دست بردار ہوجائیں’’حالاں کہ ظفرعلی خاں نے صرف اتنا کہاتھا کہ:
‘‘محمود غزنوی کی نسبت جو یہ مشہور ہوگیا ہے کہ سومنات میں پہنچ کر اس نے باوجود برہمنوں کی منت و سماجت اور گریہ و زاری کے بت پر گز مار کر اسے توڑا اور اس کے پیٹ میں سے لاکھوں روپے کے زر وجواہر نکال کر لے گیا، سراسر غلط ہے۔ کیوں کہ وہ بت مہادیوی کے لنگ کی ٹھوس مورتی تھا۔ جو بیچ سے کھوکھلا نہ تھا۔’’ [8]
مولانا جانتے تھے کہ یہ بات حقیقت پر مبنی ہے اور حقیقت کا بیان کرنا کسی کی وکالت یا حمایت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ اس طرح کے حقائق بیان کرنے کے ساتھ ساتھ وہ مورخوں کو ان کے فرائض یاد دلاتے ہوئے کہتے ہیں:
‘‘تاریخ نگار کا فرض ہونا چاہیے کہ کسی واقعہ کو سپرد قلم کرتے وقت قومی پاسداری یا عصبیت کے جذبات سے اپنے قلم کو آلودہ نہ ہونے دے۔ اور ہم خدا سے اسی کی توفیق چاہتے ہیں۔یہ ہم سے کبھی نہ ہوگا کہ تھوڑی دیر کی واہ واہ کے لیے یا کسی ایک فریق کی رضا جوئی کی غرض سے تاریخی سچائی کا اخفا کریں اور ‘‘نام نیک رفتگاں’’ کو جب کہ اغیار بھی اس نیک نامی پر صاد کرتے ہوں۔ بدنام کریں۔’’ [9]
‘‘ستارۂ صبح’’ کی ورق گردانی کرنے کے بعد اس حقیقت کا انکشاف کلّی طور پر ہوجاتا ہے کہ اس اخبار میں تاریخ کا بھی وافر خزانہ موجود ہوتا تھا۔یہی نہیں بلکہ اس میں جو واقعات پیش کیے جاتے تھے یا دلائل کے ساتھ جن چیزوں کی تفصیل بیان کی جاتی تھی، عام تاریخ کی کتابیں اس سے یکسر پاک تھیں۔
‘‘ستارۂ صبح’’ کے مضامین سے قطع نظر اس کے اندازِ تحریر نے بہت ہی قلیل مدت میں علمی و ادبی حلقوں کے ایک بڑے گروہ کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ظفرعلی خاں کو زبان پر پوری طرح دسترس حاصل تھی جس کا استعمال انھوں نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اس اخبار میں کیا۔ ‘‘ستارۂ صبح’’کی اشاعت سے پہلے ہی عالمی جنگ شروع ہوچکی تھی اور اس کی وجہ سے پوری دنیا پر خوف و ہراس کا ماحول طاری تھا۔دوسری جانب ‘‘ستارۂ صبح’’ میں سیاسی مضامین کا شائع ہونا ممنوع قرار دیا جاچکا تھا۔چنانچہ حکومت کی اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے جن عنوانات کا انتخاب کیاگیا اس کا ذکر درج بالا سطور میں پیش کیا جاچکا ہے۔ لیکن انگریزی حکومت، مولانا ظفر علی خاں اور ان کے اخبار پر اپنے الطاف و عنایات کی بارش کہاں کم کرنے والی تھی۔لہٰذااپنی نکتہ چینی کے ساتھ وہ ان پر پوری طرح مسلّط رہی۔
بہر حال مولانا ظفر علی خاں نے اپنے اخبار ‘‘ستارۂ صبح’’ کے ذریعہ ملک و قوم کی جو خدمت انجام دی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کے عہد میں ہندوستان فرقہ وارانہ تشدّد کا شکار تھا اور ان کے زمانے میں ہی کیا ابتدا سے ہی اس ملک میں اس قسم کے تنازعات پیدا ہوتے رہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ انگریزوں کے زمانے میں اسے کچھ زیادہ تقویت ملی۔ ان ہی فرقہ وارانہ تصادمات کی وجہ سے ملک میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلط افواہیں، ان کو بدنام کرنے کی سازش، مسلمانوں کی موجودہ صورت حال سے اسلام کو تشبیہ دینے کی کوشش کی جانے لگی۔جس کے خلاف ظفرعلی خاں نے ‘‘ستارۂ صبح’’ میں کئی مضامین تحریر کیے اور اسلام کی حقیقی شکل کو واضح انداز میں پیش کرنے کی سعی کی۔ اس ضمن میں ایک جگہ رقم طراز ہیں:
‘‘ہر درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ دودھ تھوہر میں بھی ہوتا ہے اور عصارۂ بادام میں بھی لیکن ایک جاں ربا ہے دوسرا جاں پرور۔ اسلام کا اندازہ اگر کرنا ہو تو اس کی تعلیم سے کرو اور دیکھ لو کہ بنی نوع بشر کے حق میں یہ تعلیم باعث رحمت ہے یا موجب زحمت۔’’ [10]
درج بالا اقتباس کے مطالعہ سے جہاں ان کی علمیت کا اندازہ ہوتا ہے وہیں ان کے انداز بیان کا بھی قائل ہونا پڑتا ہے۔ کہ اتنے آسان اور مختصر جملے میں جس خوبصورتی کے ساتھ اسلام اور اس کی حقیقت کو واضح کیا ہے وہ ان ہی کا خاصّہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ‘‘زمیندار’’ کی طرح تو نہیں لیکن علمی و ادبی حلقوں میں اس رسالے کی کافی پذیرائی ہوئی۔ عنایت اللہ نسیم سوہدروی نے اپنی کتاب ‘‘ظفرعلی خاں اور اس کا عہد’’ میں اس کی مقبولیت کا ایک واقعہ بیان کیا ہے:
‘‘سیّد عطااللہ شاہ بخاری نے1952میں بیرون دہلی دروازہ لاہورمولانا ظفرعلی خاں کے رخساروں کو بوسہ دیتے ہوئے ان الفاظ میں کہاکہ ‘‘ظفرعلی خاں تیرے ستارۂ صبح نے میرے جگر میں آگ لگادی تھی۔’’ [11]
غرض کہ ‘‘ستارۂ صبح’’ علمی اور ادبی کاوشوں کا ایک عجیب مرقع تھا۔باوجود اس کے اس پر حکومت کی اس قدر پابندیاں عائد تھیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی مولانا ظفرعلی خاں نے فروری1918 میں ‘‘ستارۂ صبح’’ سے علیحدگی اختیار کرلی۔
ایک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
٭٭٭
حواشی:
[1] تاریخ صحافت اردو۔افتخار کھوکھر، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2009، ص98
[2] ستارہئ صبح۔ ظفرعلی خاں۔ جلد۔1، نمبر۔1،12نومبر 1916،ص2-3
[3] ستارہئ صبح۔ ظفرعلی خاں۔ جلد۔1، نمبر۔1،12نومبر 1916،ص 2
[4] کاروانِ صحافت۔ ڈاکٹر عبداسلام خورشید، انجمن ترقی اردو، پاکستان، دوسرا ایڈیشن 1989،ص118
[5] ستارہئ صبح۔ نمبر1، جلد1، 12نومبر 1916، ص1
[6] صرف مسلمانوں کے ہی نہیں ہندوؤں کے بھی خیر خواہ،ستارہئ صبح، جلد۔1، نمبر۔2، یکم دسمبر 1916، ص2
[7] ستارہئ صبح۔جلد۔1۔نمبر۔1، 12 نومبر 1916، کرم آباد، ص3
[8] ستارہئ صبح۔ جلد۔1، نمبر۔3۔\8دسمبر1916،ص3
[9] ایضاً
[10] ستارہئ صبح۔ 16 جنوری 1917، جلد۔1، نمبر۔1، ص2
[11] ظفر علی خاں اور ان کا عہد۔ عنایت اللہ نسیم سوہدروی۔ اسلامک پبلشنگ، لاہور، نومبر 1982،ص276

