رسالہ ’غالب نامہ‘ کا ترقی پسند نمبر- نوشاد منظر
غالب انسٹی ٹیوٹ ایک ایسا ادارہ ہے جو روز اول سے ہی اپنی ادبی اور علمی سرگرمیوں کی وجہ سے پورے اردو حلقے میں ایک خاص مقام و مرتبہ رکھتا ہے۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ادبی کارناموں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر سال سینکڑوں کتابیں شائع ہوتی ہیں جن میں کچھ کا تعلق کلاسیکی ادب سے تو بعض کتابیں جدید موضوعات پر مبنی ہوتی ہیں،اس ادارے سے ایک وقیع مجلہ ’’ غالب نامہ‘‘ بھی شائع ہوتا ہے۔اس ادارے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ہر برس ا س ادارے کے زیر اہتمام متعدد اور اہم موضوعات پر سمینار کا انعقاد کیا جاتا ہے،ان سمینار وں میں ہندستان اور دوسرے ملکوں کے ادیب اور دانشور شرکت کرتے ہیں، اس طرح کے سمینار عالمی منظر نامے پر اردو زبان و ادب کی صورت حال سے ہماری واقفیت کرانے کے ساتھ ساتھ ہمارے علم میں اضافہ کا باعث بھی ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ریسرچ اسکالرز کے لیے خاص طور پر کئی اہم پروگرام کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کا مقصد نئے قلم کاروں کو علمی فضا فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتوں میں اضافہ کرسکیں۔اس کے علاوہ غالب انسٹی ٹیوٹ میں ادیب و دانشوروں کو ان کے علمی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں مختلف انعامات بھی دینے کی روایت بہت پرانی ہے۔اسی علمی و ادبی سرگرمیوں کی ایک کڑی دسمبر ۲۰۱۲ میںمنعقد بین الاقوامی سمینار ہے جس کا عنوان ’’ ہمارا کلاسیکی ادب اور ترقی پسند تنقید ‘‘ تھا۔اس سمینار میں ہندستان اور بیرون ہندستان کے ادیبوں اور دانشوروں نے اپنے پر مغز مقالات پیش کیے،ان تما م مضامین کو غالب نامہ جنوری ۲۰۱۴ کے شمارے میں شائع کیا گیا۔میرے پیش نظر غالب نامہ کا یہی خصوصی شمارہ ہے،جو کئی لحاظ سے اہم ہے۔چونکہ سمینار کا موضوع ترقی پسند تحریک سے متعلق تھا لہذا اس شمارے میں جتنے مضامین ہیں ان میں ترقی پسند فکر و رجحانات کی جھلک ملتی ہے۔رسالے کا سب سے پہلا مضمون پروفیسر شمیم حنفی صاحب کا ہے،جس کا عنوان ’’نئے ادبی رجحانات اور نو آبادیاتی فکر ‘‘ ہے۔شمیم حنفی صاحب نے مضمون کی ابتدا میں ڈاکٹر سید اعجاز حسین کی اس کتاب کاحوالہ دیا ہے جس کا عنوان ’’نئے ادبی رجحانات ‘‘ ہے،جس کی اشاعت آج سے کوئی ساٹھ ستر برس قبل ہوئی تھی۔اعجاز حسین ہر لحاظ سے ترقی پسند ناقد تھے،یہی وجہ ہے کہ ترقی پسندوں کے ترجمان کے نام سے مشہور رسالہ ’’ شاہراہ‘‘ میں ان کے کئی اہم مضامین شائع ہوئے تھے۔
شمیم حنفی نے مضمون میں ترقی پسند تحریک سے وابستہ صف اول کے ناقدممتاز حسین اور اعجاز حسین کے رشتے پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے،اعجاز حسین کی آپ بیتی ’’ میری دنیا‘‘ سے چند اقتباسات پیش کرتے ہوئے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اعجاز حسین کی نظر میں ممتاز حسین کی کیا قدر و منزلت تھی۔شمیم حنفی کا یہ مضمون اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ انھوں نے اعجاز حسین کی کتاب ’’ نئے ادبی رجحانات‘‘ کی روشنی میں ترقی پسند تحریک اور اعجاز حسین کے نظریات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔اعجاز حسین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے :
ــ’’ابھیاردومیںتنقید عالیہ کی بہت کمی ہے،غالباََ اس کی وہی بلند پایہ ادب کا فقدان ہے،موجودہ دور نے اردو ادب کا پایہ ضرور بلند کیا ہے،لیکن ابھی منزل مقصود کوسوں دور ہے۔‘‘
(بحوالہ:نئے ادبی رجحانات اور نو آبادیاتی فکر، ص:۱۱)
مذکورہ اقتباس کا تجزیہ کرتے ہوئے شمیم حنفی لکھتے ہیں:
’’ظاہر ہے کہ یہاں جس دور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ اقبال اور پریم چند کے بعد کا دور ہے، ان دونوں کی قائم کردہ روایت سے الگ نئی نثر اور نئی شاعری کی ایک جدیدتر روایت کا تشکیلی دور۔اس اقتباس میں تنقید عالیہ کی جس کمی کا ذکر کیا گیا ہے،ا س سے بھی فکری اور نظریاتی سطح پر ایک پریشان ساماں،غیر متوازن اور شدت پسند دور کی نشاندہی ہوتی ہے۔ترقی پسند تحریک کی نمائندہ نسل کو ایک نئے ادبی موقف اور ادبی معیار کے مطابق رونما ہونے کا موقعہ ضرور ملا مگر اس کی صورت ابھی متعین نہیں ہوئی تھی اور عام ادبی فضا ابھی جذباتی اور غیر مرتب بھی تھی۔‘‘
(نئے ادبی رجحانات اور نو آبادیاتی فکر۔ ص: ۱۲)
شمیم حنفی نے ترقی پسند ناقدین کے جذباتی اور فکری اور نظریاتی سطح پر غیر متوازن ہونے اور شدت پسندی کی جو بات کہی ہے وہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ ترقی پسند ناقدین کے ایک طبقے کی تحریروں کے ذریعے جس قسم کی شدت پسندی کا مظاہرہ کیا گیا اس سے مجموعی طور پر نہ ادب کا فائدہ ہوا اور نہ ہی ترقی پسند تحریک کا، بلکہ ادب ایک پروپیگنڈا بن کر رہ گیا۔ادب برائے زندگی کے نظریے کو کچھ اس طرح پیش کیا گیا کہ بعض تخلیقات خون خرابے کے ذکر سے بھر گئیں۔ بہت سے تخلیق کار اس تحریک سے بد ظن ہوگئے اور تحریک سے دور ی اختیار کرلی۔ترقی پسندوں نے جس طرح کی شدت اختیار کی اسی طرح ان کے مخالفین نے بھی اپنائی اور پوری تحریک اور ترقی پسند نظریے کو رد کردیا۔یہ بھی شدت پسندی کی انتہا ہے،سچ بات یہ ہے کہ ترقی پسند وہ پہلی باضابطہ تحریک ہے جس نے ادب میں ان مسائل کو پیش کیا جن کا براہ راست تعلق ہماری روز مرہ کی زندگی سے تھا۔ غریب ،مزدور اور کسان کو ہیرو بنا کر پیش کیا،جنگ آزادی میں بھی اس تحریک نے نمایاں رول ادا کیا اور بقول اختر حسین رائے پوری’’اس تحریک کا اثر اتنا گہرا اور دور رس تھا کہ اس نے بلاشبہ اس دور کے شعر و ادب کے مزاج کو بدل کر رکھ دیا۔‘‘ اختر حسین رائے پوری کے اس قول سے بڑی حد تک اتفاق کیا جاسکتا ہے۔بلاشبہ اس تحریک نے ادب کے مزاج کو ضرور بدل دیا مگر اس تحریک کا اثر دیر پا ثابت نہیں ہوسکا، اور محض ۱۵۔۲۰ برسوں میں ہی اس تحریک نے دم توڑ دیا اور تحریک سے جڑے ناقدین نے ترقی پسند تحریک کو بند کرکے نئے تحریک کی وکالت کی۔شمیم حنفی نے اس پورے عہد کو بحران کی صورت سے تعبیر کیا ہے ۔وہ لکھتے ہیں:
’’ ترقی پسند تحریک کے ابتدائی دور میں ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کے مقالے سے لے کر سردار جعفری کی معروف کتاب(ترقی پسند ادب) تک ادب کے سماجی مطالعے اور تفہیم میں بحران کی جو صورتیں سامنے آئیں ان کا سب یہی تھا کہ بیشتر پرجوش لکھنے والے اپنی ماضی کو لارڈ میکالے کی طرح دیکھ رہے تھے اور اسے غلط طریقے سے پڑھ رہے تھے۔ایک طرح کی اجتماعی نسیان زدگی ان کے شعور کو بیدار اور فطری نہیں رہنے دیتی اور ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے ماضی (روایت) کے سلسلے میں ایک مستقل شرمندگی اور احساس جرم سے دوچار ہیں‘۔
(نئے ادبی رجحانات اور نو آبادیاتی فکر۔ ص ۱۵)
ترقی پسند تحریک کو جس چیز نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا وہ ان کی مقصدیت کا واضح ہونا ہے۔اپنے مقصد کی حصولیابی کے لیے چند ادیبوں نے بڑی عجلت سے کام لیا اور اپنی تاریخی اور تہذیبی روایت کو نظر انداز کرنے لگے اور اپنے روایتی اور ثقافتی ذوق اور قدر شناسی کو بالائے طاق رکھ دیا ۔اور حمایتی ادب کے نام پر ادب کو پروپیگنڈا بنا دیا۔بقول شمیم حنفی ’’ ایسا علم جس کی اخلاقی اسا س ہمارے شعور پر اچھی طرح واضح نہ ہو، اسے اختیار کرنا اپنے آپ کو ایک نئی مشکل میں ڈالنا ہے‘‘(ص: ۱۳)شمیم حنفی اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ ترقی پسندی اور جدیدیت تصورات کی سطح پر بڑی حد تک بے چہرہ رہے لہذا وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں اپنی تاریخ کا مطالعہ از سر نو کرنا چاہیے ساتھ ہی اپنی ثقافتی یادداشت اور تہذیبی نسیان کے مضمرات پر کسی قسم کی قدامت پرستی کا شکار ہوئے بغیر غور کرنا چاہیے۔
(اسے بھی دیکھیں چند مشہور مفسرین اور ان کی تفسیریں/مصنف. ڈاکٹر محمد تحسین زماں-مبصر. نوشاد منظر )
پروفیسرعتیق اللہ کا مضمون ’’ترقی پسند تنقید کا ماڈل اور احتشام حسین‘‘ اس شمارے میں شامل ہے۔عتیق اللہ نے ترقی پسند فلسفے اور نظریات کی روشنی میں ترقی پسند تنقید کے کچھ اصول وضع کیے ہیں۔
۱۔ترقی پسند تنقید کا طریق عمل،جو مشروط ہے معروضیت کے ساتھ: عتیق اللہ نے ترقی پسند تنقید کے لے دو لفظ استعمال کیا وہ ہے مشروط اور معروضیت۔اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ ترقی پسندوں نے ادب سے متعلق کچھ اصول اور کچھ شرطیں وضع کیں تھیں اور جس ادب میں ان اصولوں کی پاسداری نہیں کی جاتی اسے وہ پسند نہیں کرتے تھے۔اس لیے مشروط ادب تو ترقی پسندوں کے یہاں نظر آتا ہے۔جہاں تک مسئلہ معروضیت کا ہے تو ایک سوال قائم ہوتا ہے کہ معروضیت سے عتیق اللہ کی مراد کیا ہے؟ہر تحریک اور رجحان کی طرح ترقی پسند تحریک کا بھی ایک واضح نقطہ نظر تھا اور وہ آخر تک اس پر قائم رہے مگر اسی نقطہ نظر کو کچھ لوگ ادب کے لیے مضر بتاتے ہیں۔اگر عتیق اللہ نے اس کی وضاحت کردی ہوتی تو بہتر ہوتا۔
۲۔ترقی پسند تنقید کی بنیادیں: ترقی پسندوں نے بلا تردد کارل مارکس کے فلسفہ کو اختیار کیا ۔ کارل مارکس نے اپنی مشہور کتاب The Das Capital میں بنیادی طور پر معاشی درجہ بندی کو پیش کیا۔عتیق اللہ کے مطابق کارل مارکس نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ انسانیت کے سفر تاریخ میں شعور نے کیسے کسی ایک خاص دور میں ایک خاص شکل پائی اور انسانی تاریخ و تہذیب کی تشکیل میں ذرائع پیداوار کی کیا اہمیت ہے اور طبقاتی سطح پر انسانی قدریں کس طرح بدلتی ہیں۔
۳۔اردو تنقید کی تاریخ میں ترقی پسند تنقید کا رول: عتیق اللہ نے ترقی پسند تحریک کی ابتدا سے لے کر زوال تک کی اس صورت حال کو اہم بتایا ہے کہ ترقی پسند تحریک نے مجموعی طور پرتنقید کے میدان میں کیا اہم رول ادا کیا ہے،کیا ترقی پسند تنقید محض تاثراتی نوعیت کی ہے یا پھر اس نے تنقید کے میدان میںکچھ نئی بصیرتیں بھی پیدا کیں یا نہیں اور وہ ماضی کی تنقید سے کس قدر مختلف اور بامعنی تھی نیز عہد حاضر میں ترقی پسند تنقید کی ضرورت اور معنویت کیا ہے۔عتیق اللہ کا خیال ہے کہ ترقی پسند تنقید ی ضرورت اب بھی باقی ہے مگر وہ روایتی قسم کی ترقی پسندی کو بالکل پسند نہیں کرتے۔وہ لکھتے ہیں:
’’ترقی پسند نقادوں کی ان تنقیدی تحریروں پر خصوصی توجہ دینے اور ان کی قدر شناسی کی ضرورت ہے،جن میں نہ تو روایتی ترقی پسند فکر و فلسفے کو بنیاد بنایا گیا ہے اور نہ معاصر شعر و ادب کی تفہیم اور ان سے متعلق مسائل ہی تک جو محدود ہیں۔ترقی پسند نقادوں کے جوہر وہاں زیادہ کھلے ہیں جہاں انھوں نے کلاسیکی ادب کو موضوع بحث بنایا ہے،حبس و قبض کی کیفیت سے یہ تحریریں دوچار نہیں کراتیں۔جو نظریے کے ایک ایک ہی جیسے اطلاق کے عمل سے پیدا ہوتی ہیں اور کسی نئے اور غیر متوقع معنی کا باب اپنے قاری پر وا نہیں کرتیں ہیں۔ ‘‘
(ترقی پسند تنقید کا ماڈل اور احتشام حسین۔ص: ۲۴)
جدیدیت اور پھر مابعد جدیدیت کے اس دور میں ترقی پسند تنقید پر از سر نو توجہ دینے اور ان کی قدر شناسی کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ اُس دور میں لکھی گئی تحریروں نے مجموعی طور پر ادب میں نئے نئے موضوعات کا اضافہ کیا ۔ جہاں تک تنقید کا تعلق ہے تو اس نے ادب اور زندگی کے باہمی رشتے پر جس قدر زور دیا ا سے قارئین کے ایک بڑے حلقے نے سراہا ،ساتھ ہی تمام اصناف سخن میں نئے موضوعات بھی آئے۔مگر اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بعض ترقی پسند ناقدین کی نظریاتی شدت پسندی کے مظاہرے نے ادب کو بہت نقصان پہنچایا۔ عتیق اللہ نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ ترقی پسندوں نے جہاں جہاں کلاسیکی ادب کو موضوع بنایا وہاں ان کی تنقید کی نوعیت بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔
غالب نامہ کے اس شمارے میں پروفیسر ابوالکلام قاسمی کا مضمون ’’ترقی پسند نظریاتی تنقید کا تشکیلی دور‘‘ بھی شامل ہے۔ابوالکلام قاسمی نے اپنے مضمون میں ترقی پسند فکر و فلسفے کے ادب پر کیا اثرات مرتب ہوئے اس پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ترقی پسند تنقید پر گفتگو کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
’’یہ ترقی پسند تحریک کی نظریہ سازی اور تنقیدی موقف کا ہی نتیجہ تھا کہ الطاف حسین حالی اور شبلی کی غیر مبہم،واضح اور منطقی طرز تنقید کو نہ صرف آگے بڑھانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا گیا بلکہ بحیثیت مجموعی اردو تنقید کو پہلے سوانحی اور تاثراتی فضا سے پوری طرح باہر نکالنے میں کامیابی حاصل کی گئی۔‘‘
(ترقی پسند نظریاتی تنقید کا تشکیلی دور۔ ص:۳۳)
ابوالکلام قاسمی کے مطابق ترقی پسند تنقید غیر مبہم ہونے کے ساتھ ساتھ منطقی بھی تھی،اور ان کا یہ کہنا کہ ترقی پسندوں نے تنقید کو سوانحی اور تاثراتی تنقید کی فضا سے باہر نکالا کئی معنوں میں اہم ہے۔ابو الکلام قاسمی کے نزدیک ترقی پسند تحریک عہد سے قبل جو تنقید لکھی گئی ان میں بیشتر کی نوعیت سوانحی یا تاثراتی تھی۔حالی نے تنقید کی ابتدا ضرور کی اور شبلی نے موازنہ کی بنیاد ڈالی مگرترقی پسند تحریک نے ادب اور تنقید کو ایک نئی سمت عطا کی،بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ ادبی تنقید کی جو شکل ہمارے سامنے موجود ہے وہ ترقی پسند تحریک کی دین ہے۔ترقی پسند تحریک سے مخالفت کرنے والے بھی شاید اس بات سے اتفاق کریں کہ یہ واحد ایسی تحریک ہے جس نے ادب اور زندگی کے باہمی رشتے پر زور دیا اور ساتھ ہی ساتھ ادب کے تمام گوشوں اور ممکنہ موضوعات میں ایک تنوع پیدا ہوا۔ابوالکلام قاسمی نے اپنے مضمون میں ترقی پسند نظریات و فلسفہ کی حمایت کرتے ہوئے ترقی پسند ناقدین اور دانش وروں کی نظریہ سازی کا جائزہ بھی لیا ہے۔اس ضمن میں انھوں نے اختر حسین رائے پوری،سجاد ظہیر،احتشام حسین اور ممتاز حسین جیسے بڑے اور صف اول کے ترقی پسند ناقدین کا حوالہ پیش کرتے ہوئے ترقی پسند تحریک سے متعلق ان کے نظریات کا تجزیہ کیا ہے۔
غالب نامہ کے اس شمارے میں کئی ایسے مضامین ہیں جن پر تفصیلی گفتگو کی جاسکتی ہے۔ اس شمارے میں جن ناقدین کے مضامین حوالے کی حیثیت رکھتے ہیں ان میں سید تقی عابدی،عابد سہیل، ضیاء الدین احمد شکیب، لطف الرحمن، انیس اشفاق، قاضی عبید الرحمان ہاشمی،علی احمد فاطمی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔مجموعی طور پر غالب نامہ کا یہ شمارہ ترقی پسند ادبی تحریک کے فکری اور نظریاتی مسائل کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے ۔ساتھ ہی وہ مضامین جن کی نوعیت شخصی ہے وہ ترقی پسند ناقدین کی تنقید کو سمجھنے میں معاون ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ممتاز حسن کی ایک کتاب کا تجزیہ