Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ

لمبا  لیٹ- شموئل احمد                        

by adbimiras ستمبر 20, 2020
by adbimiras ستمبر 20, 2020 1 comment

فرمان علی بیٹے قربان علی کی پیٹھ پر لمبا لیٹ گیا تھا۔اور بیٹا بھی  قریب المرگ باپ کو  اینیس Aeneas کی طرح   پیٹھ پر لادے شہر شہر گھماتا  تھا ۔  بیٹے کی پیٹھ دکھتی نہیں تھی ۔  باپ کی قربت میں اس  کے چہرے پر سورج کی روپہلی کرنوں کی تمازت  ہوتی اور آنکھیں دوپہر کی طرح روشن ۔۔۔۔۔

اور بیوی۔۔۔۔۔۔

بیوی کی آنکھوں  میں  دھواں سا تیرتا ۔ وہ بڑبڑاتی ۔ ’’ ایک یہی رہ گئے ہیں ۔۔۔۔جیسے اور بیٹے  ہیں ہی نہیں ۔۔۔۔۔

اور بیٹے بھی تھے۔ ایک دبئی میں رہتا تھا  مرجان علی  اور  دوسرا  اسی شہر میں عثمان علی ۔ کہا نہیں جا سکتا کہ دبئی والا بیٹا کرتا کیا تھا۔ہو سکتا ہے  جھاڑو لگاتا ہولیکن جب گھر آتا تو  رنگ ڈھنگ کمپنی کے مینیجر جیسے ہوتے۔ وہ  پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈالے کھڑا رہتا اور  بیمار  باپ کو اس طرح دیکھتا جیسے  بستر پر پڑے کسی قریب ا لمرگ کو اس کے دور کا  رشتہ دار دیکھتا ہے۔وہ اپنی گفتگو میں انگریزی کے دو الفاظ بار بار دہراتا ’’ یس ‘‘ اور ’’ نو ‘‘ ۔ گھر کے آنگن میں چہل قدمی کرتا اور سگار  کے کش لگاتا۔

عثمان علی کے لیے آبائی مکان چھوٹا پڑتا تھا اور اس کی  بیوی پھیل کر رہنا چاہتی تھی۔وہ کسی آئی ٹی کمپنی میں ملازم تھا اور ا لگ مکان میں رہتا تھا ۔ عثمان علی کی کمپنی  باپ کو بھی  طبّی امداد بہم پہنچاتی تھی  جس کے لئے  اسپتال میں بھرتی ہونا  لازمی تھا۔ طبیعت کی زرا سی گرانی پر عثمان علی بزرگ باپ کو اسپتال میں بھرتی کرا دیتا  اور  اضافہ کے ساتھ دوایئوں کا بل بنواتا ۔   لیکن  قربان علی نہیں چاہتا تھا   بار بار  اسپتال کامنھ دیکھنا پڑے ۔   بوڑھے کو دل کا  عارضہ نہیں تھا  بلکہ پھیپھڑہ کمزور  تھا جس سے  سانس لینے میں  اکثر تکلیف ہوتی تھی۔قربان علی نے  آکسیجن  ماسک خرید کر دیا  تھا لیکن ڈاکٹر نے  پھیپھڑے کی ورزش بھی  بتائی تھی۔  اس طرح کی  ورزش ایک دستی مشین  سے عمل  میں آ تی تھی جو قربان علی نے فوراََ خرید لی۔بوڑھا مشین  میں لگی  نلکی منھ میں  لے کر متواتر الٹی سانسیں  لیتا  اور پھیپھڑے میں ہوا بھرتا اور خارج کرتا۔  پھیپھڑے کی ورزش سے  بوڑھے کو راحت ملی اور قربان علی خوش ہوا لیکن  بیوی کی آنکھوں میں دھواں  سا تیر گیا۔  اس نے مشین کی قیمت کا دل ہی دل میں اندازہ لگایا اور  سوچنے پر مجبور ہوئی کہ اس  کی کلائی گھڑی سے سونی ہے ۔ اس دن کھانا  دیر سے بنا تو قربان علی نے  وجہ پوچھی ۔ وہ جیسے اس سوال کا انتظار کر رہی تھی۔ٹھنک کر بولی کہ اس کی کلائی پر گھڑی نہیں بندھی  ہے کہ وقت  دیکھ کر کام کرے ۔قربان علی اسے بازار لے گیا۔بیوی نے گولڈن چین والی گھڑی خریدی ۔

قربان علی نے اور چیزیں بھی خریدیں۔مثلاََ شوگر چیک کرنے کے لیے گلوکومیٹر،  بلڈ پریشر  دیکھنے کا  آلہ،  ۔ بلغم نکالنے کا آلہ، اسٹیم لینے کی مشین، اور بیوی ہر بار ٹھنکی ۔اسے ہر بار کمی کا احساس ہوا۔کبھی کان کی بالیاں بد رنگ لگیں ، کبھی لگا ڈھنگ کے کپڑے نہیں ہیں۔۔۔لیکن جب قربان علی نے آکسیجن کی مشین  اور گیس سلینڈرخریدا  تو  بیوی  بستر پر پٹ ہو گئی۔ ’’کوئی  پچاس ہزار  کا ہوگا ‘‘   اور اس کو احساس ہوا کہ اس کے پاس  زیور کی کمی ہے۔اسے دبئی والی بھابی یاد آگئی۔وہ جب دبئی سے آتی  تو سونے کے  بسکٹ ایک بیگ سے نکال کر  دوسرے  بیگ میں رکھتی اور مرجان علی سگار کے کش لگاتا۔

بیوی دو دن تک پٹ پڑی رہی کہ سر میں  درد ہے ۔قربان علی نے سمجھا مایئگرین  ہو گیا ہے ۔   اس بیچ کام والی بھی نہیں آئی۔ قربان علی نے برتن دھوئے۔ کھانا ہوٹل سے آیا۔ لیکن  بیوی نے بوڑھے کے لیے پرہیزی گھر میں بنائی۔ قربان علی خوش ہوا کہ خیال رکھتی ہے  اور  بیوی ٹھنکی  ’’ چوڑیاں گھس گئی ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘

قربان علی اسے بازار لے گیا۔ اس نے جڑاو کنگن خریدے۔

قربان علی نے گھر کو ہی جیسے  پنچ ستار ہ کلینک بنا دیا تھا۔ مریض کی سہولت کی وہ تمام چیزیں گھر میں تھیں جو اسپتال میں دستیاب ہوتی ہیں ۔وہ صبح  صبح  شوگر چیک کرتا اور   بلڈپریشر ناپتا۔ناک اگر نزلے سے بند رہتی تو  سر کو ڈھک کر مشین سے بھانپ دیتا۔  پھیپھڑے کی  دستی مشین سے  سانس کی ورزش کراتا۔بوڑھے کو اکثر کھانسی کا دورہ اٹھتا تھا۔ کھانستے کھانستے  اس کی آنکھیں کٹورے سے ابلنے لگتیں۔وہ بہت سا بلغم اگلتا جسے فرمان علی اپنی ہتھیلی پر روکتا  ۔ ہاتھ  دھو کر آتا تو  دیر تک پیٹھ سہلاتا اور پاوں دباتا۔لیکن اب اس نے بلغم نکالنے کی مشین خرید لی تھی ۔مشین کی کٹوری منھ  میں لگا دیتا  اور ر بر کی نلکی سے جڑے  بلاڈر کو آہستہ آہستہ پمپ کرتا۔بلغم منھ سے نکل کر کٹوری میں جمع ہونے لگتا۔

ایک بار بوڑھے نے  پیٹ میں درد بتایا۔ درد شدّت کا نہیں تھا  ۔ اور بلّی کی نظر چھیچھڑے پر ہوتی ہے۔  عثمان علی  باپ کو  اسپتال میں بھرتی کرنے کے درپے ہوا۔قربان علی کو لگا معمولی سا  درد ہے ۔دوا سے ٹھیک ہو سکتا ہے ۔  ڈاکٹر سے فون پر  بات کی۔ڈاکٹر نے فون پر ہی دوا تجویز کی اور کھانے میں پرہیز بتایا۔بوڑھے کو دوا سے افاقہ ہوا اور اسپتال میں بھرتی ہونے کی نوبت نہیں آئی۔ عثمان علی ناراض ہوا اور  قربان علی کی بیوی مسکرائی ۔

اور وہ مسکراتی تھی اور  اسپتال کے منظر نامے کو دوربین  سے دیکھتی تھی کہ دھان کوٹے قربان علی اور کوٹھی بھرے عثمان علی۔

لیکن قربان علی کو  اس بات کی فکر نہیں تھی کہ کتنا دھان کوٹھی میں گیا اور کتنا اس کے کھاتے میں آیا۔وہ  اپنے فعل سے مطلب رکھتا تھا   اور  باپ  کے علاج پر بے دریغ خرچ کرتا تھا۔بوڑھے باپ کو زیادہ  سے زیادہ آرام پہنچانا  اس کی زندگی کا نصب ا لعین  تھا ۔  اور  باپ کبھی  سرہانے اڑ کر بیٹھنا چاہتا تو  پیچھے تکیہ لگا دیتا۔تکیہ لگا کر  چلا نہیں جاتا تھا  ۔ دور کھڑا دیکھتا  اور خوش ہوتا کہ باپ کو آرام مل رہا ہے۔  بوڑھے کو کلین شیو رہنے کی عادت تھی۔قربان علی روز اس کی داڑھی بناتا  ناخن کترتا، غسل دیتا۔بھیگے جسم کو تولیئے سے  خشک کرتے  ہوئے  باپ کی آنکھوں میں مسکراتے ہوئے جھانکتا۔۔۔۔   اور وہ لمحات مقدّس ترین لمحات ہوتے ۔اس وقت کوئی باپ نہیں ہوتا۔ کوئی بیٹا نہیں  ہوتا۔دو انسان  ہوتے۔  ۔۔۔  ۔ان کے درمیان  محبّت  ہوتی۔۔۔ ۔۔ الوہی بندھن ہوتا۔۔۔۔   فرمان علی کے چہرے پر ایک سکون سا  ہوتا  قربان علی  کا چہرہ خوشی سے   دمک  رہا ہوتا  ۔۔دونوں کی۔۔آنکھیں ان دیکھی  چمک سے خیرہ  ہوتیں ۔۔۔۔اور  دونوںہونٹوں پر دھوپ  جیسی  مسکراہٹ  لیئے ایک دوسرے کو نہار رہے  ہوتے  ۔۔۔۔ انبسات  کی  بے کراں  لہروں میں ڈوب رہے ہوتے۔۔۔۔۔ ابھر رہے ہوتے۔۔۔۔۔

دوبئی والی بھابی  سال میں ایک بار آتی تھی۔  اس بار آئی تو اس سے پہلے کہ سونے کے بسکٹ اس بیگ سے نکال کر اس بیگ میں رکھتی  نند نے جڑاو کنگن پہن لیے اور گلے میں سچّے موتیوں کی مالا بھی ڈالی جو ان دنوں  لی تھی جب قربان علی نے باپ کے لیے اسٹیم لینے والی مشین خریدی تھی۔

مرجان علی باپ کے سرہانے  پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈال کر کھڑا ہو گیا۔ ایک نظر  ڈالی۔

’’ نو۔۔۔۔نو۔۔۔۔بہت کمزور ہو گئے ہیں۔‘‘

قربان علی کو یہ بات اچھی نہیں لگی۔ کمزور ہو گئے ہیں تو اور احساس دلاو۔۔۔ـ؟ بیوی کو بھی برالگا۔مرجان علی باپ کےلیے کوٹ بھی لایاتھا۔قربان علی خوش ہوا لیکن بیوی  نے محدّب شیشے سے دیکھا۔کوٹ کا ایک بٹن  دوسرے رنگ کا تھا۔اس نے کوٹ الماری میں سینت دیا۔’’ ہمارے اتنے برے دن بھی نہیں آ گئے ہیں کہ بزرگ باپ کو  اُ ترن  پہنائیں‘‘ ۔  قربان علی کو بھی  برا لگا۔ مرجان  علی چلا گیا تو اس  نے  نیا کوٹ خریدا ۔

کسی  بوڑھے کے پاس بیٹھ جاو تو وہ ماضی میں چلا جاتا ہے ۔قربان علی سے فرمان علی کی  والہانہ باتیں ہوتی تھیں لیکن  بزرگ  نے کبھی اپنی  عمر گذشتہ کی کتاب نہیں کھولی۔  وہ  مصری صنمیات کے قصّے سناتا اور کبھی بزرگان دین کے۔ طوفان نوح کے ذکر میں  یہ  بات ہمیشہ دہراتا  کہ ایک عظیم سیلاب  کا تذکرہ ہر قوم میں ملتا ہے۔قربان علی بہت انہماک سے سنتا ۔کبھی کبھی سوال بھی کرتا۔وہ ایسے  سوال بھی کرتا  جس کا  جواب اس کو معلوم ہوتا۔اصل میں اس نے  محسوس کیا تھا کہ سوال پوچھنے پر باپ کو خوشی ہوتی ہے۔لیکن ادھر کچھ دنوں سے گفتگو کا موضوع بدل گیا تھا۔بوڑھا  موت کے قصّے بیان کرنے لگا تھا۔امام غزالی کے بارے میں بتایا  کہ ان کو موت کی آگاہی ہو گئی تھی۔پانی منگا کر وضو کیا ، نماز پڑھی اور چادر تان کر سو گئے تو پھر نہیں اٹھے ، اس نے ایک جسم سے دوسرے جسم میں جان منتقل کرنے  کے بارے بھی بتایا  کہ کس طرح جوگی اور صوفیائے کرام لمس کے زریعہ کسی بیمار کی رگوں میں جان منتقل کرتے ہیں۔لاہری مہاشئے کی مثال دی کہ وہ جسم لطیف میں چلتے تھے اور پران ٹرانسفر کرتے تھے۔ رانی کھیت  میں  اپنے حاکم کی بیمار بیوی کو  اسی طرح  صحت یاب کیا تھا۔پھر اس موضوع  کی مزید وضاحت  کی تھی کہ تم جب کسی کو چھوتے ہو تو لمس ایک رابطہ قائم کرتا ہے۔اس رابطے میں  ان دیکھی قوت بھی شامل ہوتی ہے۔جس طرح دو تاروں کو جوڑنے سے ان میں  بجلی رواں ہو سکتی ہے اسی طرح لمس کے ذریعہ ایک سے دوسرے جسم میں توانائی بحال کی جا سکتی ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ تمہارے جذبات میں شدّت اور روح میں طاقت کتنی ہے۔پھر بوڑھے نے بابر بادشاہ کی مثال پیش کی تھی۔وہ یہ کہ ہمایوں جب بیمار پڑا  اور دوا  بے کار گئی  تو بابر نے بیمار ہمایوں کی چارپائی کا طواف کیا  اور دعا مانگی کہ  اس کی زندگی ہمایوں کو مل جائے۔ ہمایوں اچھا ہونے لگا اور بابر بیمار  رہنے لگا۔ ادھر  ہمایوںمکمّل طور پر صحت یاب ہو ا  ادھر بابر نے داعی اجل کو لبیک کہا۔لیکن بوڑھے نے یہ بھی بتایا کہ اس واقعہ  کا ذکرکسی تاریخ  میں نہیں ملتا۔پھر بھی اس کا مثبت پہلو ہے۔اس کا ذکر ہوتے رہنا چاہیے۔ وہ  واقعہ جو  مثبت اقدار  کا حامل ہے  وقت کے ساتھ تاریخ میں اپنی جگہ بنا  لیتا  ہے۔

قربان علی کو بھی موت کے سپنے آنے لگے۔وہ  عجیب و غریب خواب دیکھنے لگا۔ایک بار دیکھا کہ بہت  بوڑھا ہو گیا ہے اور ایک  قبرستان سے گذر رہا ہے۔اچانک ایک نوجوان  سامنے آ گیا۔وہ نوجوان اس کا باپ تھا۔اس نے خواب فرمان علی کو سنایا تووہ ہنسنے لگا۔اس نے فرائڈ اور یونگ کی بابت بتایا کہ فرائڈ نے خواب کو لاشعور تک پہنچنے کی شاہراہ بتایا ہے اور یونگ نے خواب  کے تحیّر آمیز تجزیے کیے ہیں۔اور تب اس نے بیٹے کے خواب کا تجزیہ کیا کہ  اس کے لاشعور میں یہ بات پنپ رہی ہے کہ  باپ کو مرنا نہیں چاہیے،  اس لیے اس کو   جوان دیکھا اور خود کو بوڑھا۔یعنی اس کے بڑھاپے تک بھی باپ تنومند رہے۔پھر اس نے سرگوشی کی کہ موت سے کس کی رستگاری ہے۔۔۔؟

اگلے مہینے  شہر میں پستک میلہ لگا تو  بوڑھا مچل گیا کہ میلہ گھومے گا۔ بیٹے نے گھبراہٹ سی محسوس کی۔ اصل میں بوڑھے کی ٹانگیں جواب دے  رہی تھیں۔ وہ  واکر کی مدد سے کسی طرح  بستر سے کھانے کی میز تک کی دوری طے کر تا تھا۔ پھر بھی قربان علی وقتاََ  فوقتاََ باپ کو تفریح گاہوں اور جلسوں میں لے جایا کرتا کہ معذوری کا کوئی  احساس نہ ہو ۔میلے  میں گرد  بہت اڑتی تھی۔  پھیپھڑے میں  انفکشن کا خطرہ تھا۔۔یہی وہ بات تھی کہ قربان  علی کو میلہ جانے میں قدرے تامّل تھا۔ لیکن باپ بہ ضد تھا۔ آخر اس نے  وہیل چئیر نکالی۔ بیوی بھی ساتھ ہو لی۔دونوں نے مل کر بوڑھے کو  وہیل  چئیر پر بٹھایا۔ بیوی  چیئر چلاتی ہوئی بوڑھے کو کار تک لائی ۔ کار میں واکر  رکھا۔ بیگ میں پانی اور جوس پیک رکھا۔ قربان علی نے باپ کو گود میں اٹھا کر کار کی اگلی سیٹ  پر بٹھایا۔

میلہ پہنچ کر بزرگ  خوش ہوا۔وہ اسٹال  پر  طائرانہ سی نظر ڈالتا  تو قربان علی کتاب کا نام پوچھتا لیکن باپ اگلے اسٹال کی طرف اشارہ کرتا ۔۔۔۔  پھر اگلے اسٹال کی طرف ۔۔۔۔۔ کئی اسٹال جھانکنے کے بعد بھی بوڑھے نے کوئی کتاب پسند نہیں کی۔قربان علی کو حیرانی تھی کہ آ خر  تلاش کس چیز کی ہے ؟  تب بوڑھے کی آنکھیں چمکیں  ۔ اس نے  سرگوشیوں کے  انداز میں کہا کہ تم کسی کتاب کو ڈھونڈتے ہو تو کتاب بھی تمہیں اسی شدّت سے ڈھونڈتی ہے اور تمہیں کھینچ کر اپنے پاس لے آتی ہے۔ پھر  ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ گیلری کے آ خیر میں کچھ فاصلے پر ایک چھوٹے سے اسٹال کی طرف اشارہ  کیاکہ کتاب  وہاں بلا رہی ہے  ۔ بہو نے وھیل چیئر کا رخ   ادھر موڑ دیا۔اسٹال پر آتے ہی  اس نے  ادھر ادھر نظرڈالی  اور اچانک  بچّے کی طرح خوش ہو کر بولا ۔’’ وہ دیکھو۔۔۔ ابن خلدون کا مقدمہ  ‘‘  قربان علی کا چہرہ  حیرت و مسرّت سے کھل گیا۔ بیوی حیران ہوئی لیکن متاثر نہیں ہوئی۔اس  نے سوچا اسٹال پر پبلشر کا نام پڑھ کر اندازہ لگایا ہوگا۔

کتاب خرید کر وہ فوڈاسٹال پر آئے۔  بیٹے  نے  برگر  لیا ، بیوی نے گول گپّے کھائے  اور  باپ نے جوس پیا جو بہو گھر سے لے کر آئی تھی  ۔ واپسی میں قربان علی نے اپنے  لیے ڈائری خریدی، بیوی نے اسلامیہ بک ڈپو سے کچھ تغرے خریدے  اور ایک نعتیہ سی ڈی لی۔

میلے سے آکر بوڑھے کو کھانسی رہنے لگی۔ ایک دن سینے میں درد ہوا۔قربان علی نے اسے اسپتال میں بھرتی کر دیا۔ڈاکٹر نے پھیپھڑے میں ورم بتا یا۔چار دنوں تک وہ آئی سی یو میں رہا ۔قربان علی نے بھی اسپتال میں ڈیرہ جمایا۔ اس کو  الگ سے  اٹینڈنٹ روم مل گیا تھا۔بیوی گھر سے  ٹفن لے کر آتی تھی۔ عثمان  مزاج پرسی کے لیے آتا تھا۔کبھی صبح آتا کبھی شام۔ڈاکٹروں سے بات کرتا ۔ چارٹ پر دوایئوں کی انٹری چیک کرتا اور چلا جاتا۔لیکن قربان علی دن بھر سرہانے بیٹھا رہتا ۔ آنکھوں میں تفکّر کے بادل گھر آئے تھے،۔۔۔۔ چہرہ سیاہ پڑ گیا تھا۔  بیوی نے قربان علی کو اس سے پہلے اتنا پریشان نہیں دیکھا تھا۔ وہ   دلاسہ دیتی  کہ اﷲ کارساز ہے، سب ٹھیک  ہو جائے گا ۔

فرمان علی چار دنوں بعد صبح قریب گیارہ بجے اسپتال سے ڈسچارج ہوا ۔اس بار بل ایک لاکھ چوالیس ہزار کا بنا تھا۔ عثمان علی بہت خوش تھا  ۔دھان کوٹے قربان علی اور کوٹھی۔۔۔۔اور  بیوی کی آنکھوں میں  جلن ہو رہی تھی ۔ اس نے ڈسچارج سمری سے  فرمان علی کی آئی ڈی چپکے سے نکال لی۔عثمان علی کو پتہ نہیں چلا کہ بل کے ساتھ آئی ڈی نہیں ہے۔

فرمان علی اسپتال سے گھر آیا تو کمزور ہو گیا تھا۔اس کی ٹانگوں کا درد بڑھ گیا تھا۔واکر سے چلنا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ اب کھانا بستر پر ہی کھانے لگا۔ باتھ روم تک کسی طرح چلا جاتا  لیکن غسل کرنا پسند نہیں کرتا تھا، غسل  کے عمل میں جانفشانی تھی۔  اس کا داڑھی بنانہ  بند نہیں ہوا تھا۔  قربان علی  بھیگے کپڑے سے جسم پونچھ دیتا اور سر پر مالش کردیتا۔واڑھی بناتا کریم لگاتا بالوں  میں کنگھی کرتا  اور باپ ہنستی ہوئی آنکھوں سے بیٹے کو دیکھتا۔اس کا جسم کمزور ہو گیا تھا لیکن چہرے پر نور تھا۔وہ کمزور سے کمزور تر ہوتا  گیا  لیکن قربان علی کو باپ نہ بوڑھا نظر آیا  نہ کمزور۔وہ بس خدمت میں لگا تھا اور زیادہ سے زیادہ وقت دے رہا تھا  اور بیوی بڑبڑاتی۔۔۔۔ جیسے ایک یہی رہ گئے ہیں۔۔۔اور بیوی کو لگتا بوڑھا  باپ مکڑی کا جالہ ہے جس میں  بیٹا مکھی کی طرح پھنسا ہوا ہے۔

پھیپھڑے کی ورزش اب رک گئی تھی۔وہ الٹی سانس نہیں لے پاتا تھا۔آکسیجن سلینڈر کا ماسک  لگا کر  زور زور سے سانس لیتا۔بوڑھا  بستر سے لگ گیا۔ کپڑے گیلے رہنے لگے۔ بیوی بستر بدل دیتی ۔ کپڑے قربان علی دھوتا ۔ باپ کو جب ہلکا ہلکا بخار بھی رہنے لگا تو بیٹے کو تشویش ہوئی۔خون جانچ  کے بعد ڈاکٹر نے کچھ دوائیوں کے نام لکھے۔لیکن دوائیاں کام نہیں کر رہی تھیں اور بخار تھا کہ اتر نہیں رہا تھا۔فرمان علی کی قؤت مدافعت جیسے ختم ہو گئی تھی۔ٹیسٹ کی ایک دوا رہ گئی تھی جو کہیں مل نہیں رہی تھی۔یہ دوا  امید کی کرن تھی۔ قربان علی کو یقین تھا کہ اس کے استعمال سے بخار اتر جائے گا۔اس نے انٹرنیٹ پر بھی کھوج کی۔آخر گوگل  سرچ سے معلوم ہوا کہ دوا کرشنا  فارمیسی ممبئی  میں دستیاب  ہے قربان علی نے صبح صبح ممبئی کی فلائٹ پکڑی اور رات تک دوا لے کر آ گیا۔

دوا کا کچھ اثر ہوا۔بخار کم ہو گیا لیکن  ایک  دم نہیں اترا۔قربان علی کو کچھ راحت ملی۔اس دن عثمان علی بھی پہنچے۔ آتے ہی مژدہ سنایا کہ  ایک لاکھ چوالیس ہزار کا  بل منسوخ ہو گیا۔بل کے ساتھ آئی ڈی نہیں تھی۔قربان علی سے الجھ گیا کہ ڈسچارج سمری کے ساتھ آئی ڈی کیوں نہ چیک کی ۔قربان علی کو ہوش کہاں تھا۔وہ تو باپ کے وائرل بخار میں الجھا پڑا تھا۔اچانک باپ کو کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔قربان علی دوڑکر پہنچا۔بلغم حلق میں پھنس گیا تھا۔باپ  اتنا کمزور ہو گیا تھا کہ بلغم اگل نہیں پا رہا تھا۔اس کی آنکھیں ابلنے لگیں اور سانسیں اکھڑنے لگیں ۔ قربان علی گھبرا گیا۔اس کو لگا باپ کا دم سینے میں گھُٹ جائے گا۔اس  کے حلق میں اپنا  ہاتھ ڈالا  اور پھنسے  ہوئے بلغم  کو صاف کیا۔ایسا متواتر دو تین بار کیا تو باپ کی سانسیں ہموار ہوئیں۔عثمان علی کھڑا دیکھتا رہا۔ قربان علی نے  ہاتھ دھوئے۔

باپ کابخار تو اتر گیا لیکن بیٹے پر چڑھ گیا۔شام تک بخار بہت تیز ہو گیا۔بیوی گھبرا گئی۔اس نے فیملی ڈاکٹر کو فون کیا۔ اس نے آکر دیکھا اور دوائیاں لکھ دیں۔کوئی افاقہ نہیں ہوا۔فرمان علی کا بدن جیسے آگ میں جل رہا تھا۔بیوی رات بھر سرہانے بیٹھی رہی۔ صبح ڈاکٹر پھر آیا۔خون کی بھی جانچ ہوئی لیکن سمجھ میں نہیں آیا کہ مرض کیا ہے۔ ڈاکٹر کو تشویش ہوئی۔ قربان علی کوما میں چلا گیا ۔

ادھر باپ بھی بستر مرگ پر پڑا تھا۔اس کا پرسان حال کوئی نہیں تھا۔ بیوی کا روتے روتے برا حال تھا۔بوڑھے  کے کانوں میں سب کی آواز جا رہی تھی لیکن کوئی اسے کچھ بتا نہیں رہا تھا۔وہ چپ چاپ بستر پر پڑا چھت کو گھور رہا تھا۔رات تک بھی  قربان علی کو ہوش نہیں آیا۔بیوی  سجدے میں چلی گئی۔

آدھی رات کے قریب کمرے میں کھٹ کھٹ کی آواز گونجی۔بوڑھا واکر گھسیٹتا ہوا  قربان علی کے کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا۔بیوی ایک طرف کرسی پر گٹھری بنی اونگھتے اونگھتے سوگئی تھی۔باپ کسی طرح بیٹے  کے بستر تک پہنچا اور سرہانے بیٹھ گیا۔   اس کا چہرہ پرسکون تھا۔اس نے ایک بار دونوں ہاتھ اوپر کی طرف اٹھائے ۔  دعا مانگی۔بیٹے  کے چہرے کا دونوں ہاتھوں سے کٹورا سا بنایا  ۔ پیشانی چومی ۔ پھر اس کا  ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر  سہلانے لگا۔ وہ  اس کے سارے جسم  پر آہستہ آ ہستہ ہاتھ پھیر رہا تھا۔اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر بیٹے کے جسم پر ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔

صبح بیوی کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا  فرمان علی  بیٹے  پر  لمبا  بے جان  پڑا تھا اور بیٹا بھیگی آنکھوں سے چھت کو گھور رہا تھا۔

 

 

                          shamoil ahmad

mob; 9835299303

                                                       pillar no. 177 , upper pully.

                                                              lily blossom apartment

                                                              nearhundaiye service center

                                                              hydrabad

                                                              500048

ادبی میراثشموئل احمدلمبا  لیٹ
1 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
منٹو ایک مطالعہ‘‘ اور پروفیسر وارث علوی- نوشاد منظر
اگلی پوسٹ
مسجد- اختر الایمان

یہ بھی پڑھیں

زندگی کے درمیاں – وصی الحق وصیؔ

اکتوبر 11, 2025

بُت اگر بولتے – قیُوّم خالد

جنوری 20, 2025

بھیگے ہوئے لوگ – اسلم سلازار 

جنوری 6, 2025

شیشے کے اُس پار – ڈاکٹر عافیہ حمید

ستمبر 18, 2024

دو دوست /موپاساں – مترجم: محمد ریحان

ستمبر 9, 2024

غریبِ شہر- ڈاکٹر فیصل نذیر

ستمبر 8, 2024

راج دھرم – ڈاکٹر ابرار احمد

اگست 7, 2024

پہلی نظر – تسنیم مزمل شیخ

جون 18, 2024

کائی – قیُوّم خالد

جون 2, 2024

یہاں کوئی کسی کا نہیں – ڈاکٹر ابرار...

مئی 28, 2024

1 comment

sayed kami shah اگست 31, 2021 - 12:58 شام

کیا کہنے، زبردست افسانہ
شموئل صاحب کمال کے رائٹر ہیں
مالک آپ کو شاد رکھے صاحب

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں