Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
صحافتنصابی مواد

ادب اور صحافت کا رشتہ- ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی

by adbimiras ستمبر 29, 2020
by adbimiras ستمبر 29, 2020 0 comment

ادب اور صحافت کے متعلق مختلف قسم کے نظریات منظر عام پر آتے رہے ہیں مثلاً صحافت کو ادب کے زمرے میں شامل نہیں کیا جاسکتا یا صحافیانہ تخلیقات (اداریہ، رپوٹس، کالم، نظمیں، مضامین وغیرہ) دیرپا اثرات کی حامل نہیں ہوتیں یا پھر یہ کہ Journalism is a literature in hurry۔اس طرح کے خیالات و نظریات پر جب ہم تنقیدی نگاہ ڈالتے ہیں تو یہ بعید از حقیقت معلوم ہوتی ہیں، یعنی نہ صحافت کو ادب کے زمرے سے الگ کیا جاسکتا ہے نہ اخبارات میں شائع ہونے والی تمام تحریریں اخباری (جلد اپنی اہمیت کھو دینے والی) ہوتی ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ صحافت جلد بازی میں لکھا جانے والا ادب ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ جلد بازی میں لکھی جانے والی تحریریں ادبی اہمیت کی حامل نہیں ہوتیں، دماغی خلل کے سوا کچھ نہیں۔ دنیائے ادب بلکہ خود اردو ادب میں کئی ایسے زود نوگو اور زود نویس شعرا و ادبا گزرے ہیں جنھوں نے ایک نشست میں پوری نظم یا پورے افسانے لکھ ڈالے اور آج بھی ان کی اہمیت مسلم ہے، بلکہ بعض افسانہ نگار افسانہ لکھنے کی پیشگی رقم بھی لے لیا کرتے تھے۔ جلد بازی میں لکھے جانے والے ادب کی بات کریں تو اس کی زندہ مثال رتن ناتھ سرشار کا شاہکار ’فسانۂ آزاد‘ ہے جو نہایت جلد بازی میں لکھا گیا، حتیٰ کہ ’اودھ اخبار‘ کا شمارہ شائع ہونے کو ہے اور سرشار نے اب تک ’فسانہئ آزاد‘ کی قسط نہیں لکھی، اخباری عملہ سرشار کو ڈھونڈنے میں مشغول ہے کہ کسی طرح ان سے قسط لکھوائی جائے۔ بہرحال ’کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے‘ سرشار نے قسط لکھ کر ان کے حوالے کی اور جوں کا توں اخبار میں شائع کردیا گیا۔ یقینا یہ جلد بازی میں لکھا جانے والا ادب تھا، لیکن اس کی اہمیت سے آج بھی انکار ممکن نہیں۔

اخبار چوں کہ ادبی نگارشات کے ساتھ خبروں کا بھی مجموعہ ہوتا ہے، لہٰذا ادب اور صحافت پر گفتگو کرنے سے پہلے ہمیں یہ بات ذہن نشیں کرلینی چاہیے، کہ ایسی خبریں ادب اور صحافت کے ضمن میں شامل نہیں، جو اخبارات کے لیے بقول رشید حسن خاں ”مسالا مہیا کرتی ہیں۔“ بلکہ ہمیں یہاں ان خبروں کی بنیادر پر لکھی جانے والی تحریروں مثلاً اداریہ، مضمون، نظم، ڈراما یا کوئی افسانہ وغیرہ سے سروکار ہے۔فرض کیجیے کہ کوئی ایسا واقعہ یا حادثہ کسی شہر، قصبہ یا گاؤں میں رونما ہوا جس نے پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس حادثے کے متعلق اخبارات میں متعدد خبریں شائع ہوئیں، اداریے لکھے گئے، کئی مضامین منظر عام پر آئے، افسانے اور نظمیں لکھیں گئیں۔ غرض کہ حادثے کو مختلف شکلوں میں عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ اب ان شائع شدہ مواد کی طرف جب ہم نگاہ کرتے ہیں تو ادب اور صحافت کی بحث شروع ہوتی ہے۔ بقول رشید حسن خاں:

”خبریں کیسی ہی ہوں وہ خبریں ہوتی ہیں اور خبریں رہتی ہیں۔ جب ان خبروں کی بنیاد پر کچھ اور لکھا جاتا ہے، وہ ایڈیٹوریل نوٹ ہو، کوئی مضمون ہو، کوئی افسانہ ہو، نظم ہو یا ڈراما، تب ادب اور صحافت کی بحث شروع ہوتی ہے۔“  [1]

رشید حسن خاں کی اس بات سے صد فی صدی اتفاق کیا جاسکتا ہے، کہ خبروں کی بنیاد پر جب کچھ لکھا جائے گا تو ادب اور صحافت کی بحث شروع ہوگی۔اس کے برعکس اگر کوئی شخص اخبار کے ہر صفحے میں ادبیت کی تلاش شروع کر دے، تو یقینا اسے مایوسی ہوگی، کیوں کہ اخبار کا بیشتر حصہ خبروں کے لیے مختص ہوتا ہے، جو روا روی اور جلدبازی میں لکھا جاتا ہے، تاکہ روزانہ کے حالات سے عوام الناس کوآگاہ کیا جاسکے۔

بہرحال اخبار میں جب کسی حادثہ، سانحہ یا واقعہ کو بنیاد بنا کر اداریے، مضامین،نظمیں، افسانے یا ڈرامے وغیرہ لکھے جاتے ہیں، تو ان میں سے فقط چند تخلیقات ایسی ہوتی ہیں جو بقائے دوام کی حامل ہوتی ہیں یا ادبی اعتبار سے ان کی اہمیت تسلیم کی جاتی ہے، ورنہ زیادہ تر تخلیقات وقت گزرنے کے ساتھ اپنی اہمیت و وقعت کھو کر اخباری چیزیں بن جاتی ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فقط چند فن پارے کو ہی بقائے دوام کیوں حاصل ہوتا ہے؟ اس کے علل و نتائج پرغور کرنے سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ سارا معاملہ لکھنے والے کی فکر اور طرز تحریر پر منحصر ہے۔فکر میں جس قدر گہرائی و گیرائی اور طرز تحریر جتنا دلکش ہوگا اس کے اثرات دور رس اور دیر پا ہوں گے۔ برعکس اس کے اگر تخلیق کار نے فکر و فلسفہ یا طرز نگارش کو دلکش بنانے کے بجائے صرف مافی الضمیر کی ادائیگی کو اپنا نصب العین سمجھا تو صحافت کی زبان میں وہ اخباری چیزیں بن کر رہ جائیں گی۔ اس کی مزید وضاحت رشید حسن خاں کے ان جملوں سے بھی ہوتی ہے:

”… جب کوئی ادیب بے تکان لکھتا ہے اور ہر موضوع کے ساتھ اس کا سلوک اسی طرح کا ہوتا ہے جیسا اخباروں میں فی الفور خبریں بنانے اور ان پر اسی وقت تبصرے مرتب کرنے والوں کا ہوتا ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ صحافت کا انداز غالب آگیا ہے اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ ادب کی تہہ داری، سنجیدگی اور بلندی ان صاحب کی تحریروں میں نہیں پائی جاتی۔“ [2]

ہمارے دور میں ایسے کئی ناول اور افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے جن پر رشید حسن خاں کے ان جملوں کا اطلاق بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ کہنے کو تو یہ تخلیقات ادبی سرمائے میں اضافے کا سبب بنی، لیکن درحقیقت اس کی اہمیت و وقعت لائق اعتنا نہیں سمجھی گئیں۔ کیوں کہ ان تخلیقات میں فکر ی گہرائی ہے نہ گیرائی۔فقط اپنے خیالات و تجربات کا عامیانہ انداز میں بیان ہے، جو کسی بھی فن پارے کے لیے بقائے دوام کاضامن نہیں ہوسکتا۔

ادب اور صحافت کے رشتے پر گفتگو کرتے ہوئے بعض ناقدین نے سوال قائم کیا کہ آیا ہر صحافی ادیب ہوسکتا ہے؟ یا ہر ادیب صحافی ہوسکتا ہے؟ تو براہ راست اس کا جواب ”نہ“ میں ہوگا۔ کیوں کہ ہر صحافی یا ادیب کے یہاں دونوں خوبیوں کا بیک وقت پایا جانا ممکن نہیں۔ لیکن اس امر سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں خوبیاں بیک وقت کسی ایک میں جمع نہیں ہوسکتیں۔

ناقدین کے ذریعہ قائم کردہ ان سوالات پر جب ہم غور کریں تو کسی کے حق میں حتمی فیصلہ کرنا انگارے کو ہاتھ میں اٹھانے کے مترادف ہوگا۔ کیوں کہ اصل چیز لکھنے والے کا فکری نظریہ ہے اور اسی پر صحافی کے ادیب یا ادیب کے صحافی ہونے کی حقیقت پوشیدہ ہے۔ یعنی ادبی یا صحافیانہ نقطۂ نظر کی بنیاد پر جب ہم کسی ادیب یا صحافی کی تحریر کا جائزہ لیتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ایک اچھے ادیب کی تحریر صحافیانہ اور ایک اچھے صحافی کی تحریر ادبی ہوسکتی ہے۔ خود اردو ادب میں ایسے مصنفوں اور صحافیوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے جو بیک وقت اعلیٰ درجے کے مصنف بھی تھے اور صحافی بھی۔ مثال کے طور پر ابوالکلام آزاد، محمد علی جوہر، عبدالماجد دریاآبادی، ابوالاعلیٰ مودودی، عبدالرزاق ملیح آبادی، امین احسن اصلاحی، عثمان فارقلیط، حامد الانصاری غازی، ابواللیث اصلاحی، حیات اللہ انصاری، قاضی عدیل عباسی، خواجہ حسن نظامی وغیرہ کا ادیب ہونا اظہر من الشمس ہے لیکن ان کے اعلیٰ درجے کے صحافی ہونے سے بھی انکار ممکن نہیں۔ درج ذیل میں چند اقتباسات ایسے پیش کیے جارہے ہیں جو بنیادی طور پر صحافت کا حصہ ہیں لیکن ان میں فکر کی گہرائی اور ادبی چاشنی اس درجہ سرایت کی ہوئی ہے کہ اسے صحافیانہ ادب کے زمرے میں شامل نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اسے پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صحافت، ادب میں ضم ہوا چاہتا ہے۔

مثال نمبر۔ 1: ”بہت سی تاریخیں یاد رکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔ فرانس 18/جولائی 1789کو نہیں بھولتا کہ آزادی کی رحمت کا اسی دن نزول ہوا۔ انگلستان 2/جون سنہ 1629کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے کہ شاہی اقتدار پر آخری ضرب اسی دن لگی۔ لیکن یہ یادگاریں دنیا کی زندہ قوموں کا حصہ ہے۔ ہم بدبختوں اور زبوں طالعوں کے پاس بھی بہت سی تاریخیں ایسی تھیں جن کی عظمت کے آگے صرف ہم ہی نہیں، بلکہ تمام عالم سرجھکاتا تھا؛ لیکن یہ زندگی کے کاروبار تھے، اب کہ موت کی مردنی سے جسم کا ہر عضو افسردہ ہو رہا ہے، ایسے نصیب کہاں کہ کامرانی و فتح یابی کی تاریخیں یاد رکھنے کے لیے میسر آسکیں۔ قومی اقبال کا آفتاب جب چمکتا ہے تو شاید ایک ہی مرتبہ چمکتا ہے۔“ [3]

مثال نمبر۔2: ”دنیا میں رنج و خوشی اور شادی و غم کی حقیقت یہ ہے کہ پہلے میں ”حاصل“ کی خوشی ہوتی ہے اور دوسرے میں ”رفتہ“ کا افسوس۔… مفلس اداس رہتا ہے اس لیے کہ دولت چلی گئی، بیمار غمگین ہوتا ہے اس لیے کہ صحت جاتی رہی، مایوسی میں سب سے زیادہ غم ہوتا ہے کیوں کہ ایک چیز ”امید“ تھی جو اس سے چھن گئی۔ اسی طرح… آپ ایک پرتکلف عمل یا کسی قیمتی موٹر پر بیٹھ کر خوش ہیں اس لیے کہ دولت ہاتھ آگئی۔ بیمار کے لیے غسل صحت کا دن کم از عید نہیں، کیوں کہ اسے صحت مل گئی۔ پس شادی و غم کی تعبیر اگر زیادہ واضح لفظوں میں کی جائے تو یہی ہوگی کہ حاصل ہونے کا نام خوشی ہے اور کھو دینے کے نام غم۔“ [4]

مثال نمبر۔3: ”اس وقت صحافت ہند اور خصوصاً صحافت اسلامی ایک ایسی طوفان زدہ کشتی ہے جس سے طوفان خیز سمندر کی قہار موجیں کھیل رہی ہیں۔….. ایسی حالت میں جب کہ موت آنکھوں کے سامنے ٹہل رہی ہو کشتی کو کھینا کوئی معمولی کام نہیں۔…..افسوس ہے کہ ہمارے بعض معاصرین اسی سال گذشتہ میں پیدا ہوئے اور شباب سے پہلے رخصت ہوگئے۔….. ایک شہر دہلی سے ’برطانیہ‘ نکلا مگر چند روز کے بعد محشرستان صحافت میں دفن کردیا گیا۔ ’الہند‘ کی حیات کا چراغ بھی اچھی طرح روشن نہ ہوا تھا کہ باد مخالف کے تھپیڑے نے گل کردیا۔ ’صبح امید‘ کی روشنی ابھی صاف نہ ہوئی تھی کہ شام ہوگئی۔….. یہ تو صرف اس شہر کا حال تھا جو برطانوی حکومت ہند کا پایۂ تخت ہے۔اب صوبۂ پنجاب کو لیجیے جس نے سب سے اول صحافت اردو کی ملکہ کوتخت پر بٹھایا….. مگر اب یہی پنجاب صحافت اردو کا سب سے بڑا مقتل ہے۔ ’زمیندار‘ مرحوم کے بار بار قتل و احیاء کا افسانہ سب کو معلوم ہے۔ اس کے بعد جو صوبۂ پنجاب میں ہوا بدلی ہے وہ اس قدر زہریلی ہے کہ اسلامی جرائد پنپ نہیں سکتے۔ گذشتہ سال روزنامہ ’کسان‘ زیر زمین ہوگیا۔….. ’الصباح‘ چند ماہ نکل کر عدم آباد کے افق میں غروب ہوگیا۔ روزنامہ ’العصر‘…..طباعت کی روز افزوں گرانی اور ناظرین کی ناقدردانی کا مقابلہ نہ کرسکا آخر کار وہ تو زمین کا پیوند ہوگیا۔ لیکن ہفتہ وار ’العصر‘ کی شکل میں اس کی قبر کا نشان باقی ہے….. تمام پنجاب میں مسلمانوں کا ایک روزنامہ ’ستارۂ صبح‘ جھلمل جھلمل کررہا ہے۔ کیوں کہ سیاست کی روشنی اس سے چھین لی گئی ہے۔ اور وہ علم و مذہب کے نور سے اس کی تلافی کررہا ہے۔….. معاصر ’نئی روشنی‘ کی حیات کا چراغ گل ہوہی گیا تھا۔ اور حد صبر پر ہم صبرایوبی کا امتحان دینے کے لیے تیار تھے مگر دو ہزار چہرہ شاہی دے کر پھر اس کی حیات خریدی گئی اور کلکتہ کی سرزمین میں تو ہمارا ’الہلال‘ غروب ہوا ہے۔ اس کے بعد ’البلاغ‘ نے ہمیں داغ جدائی دیا اور خاک میں دفن ہے۔“ [5]

اس طرح کی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں لیکن مضمون کی طوالت کے باعث درج بالا اقتباسات پر ہی اکتفا کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال پیش کی گئیں مثالیں کسی ادبی فن پارے کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ انداز بیان، زبان کی چاشنی، تشبیہات و استعارات کا برمحل استعمال، کیا ہے جو ان اقتباسات میں موجود نہیں۔ ان تحریروں پر صحافیانہ ادب کی مہر کسی صورت ثبت نہیں کی جاسکتی۔ حالاں کہ تمام مثالوں کا تعلق کلی طور پر صحافت سے ہے۔ جیسا کہ مضمون کے ابتدا میں عرض کیا گیا تھا کہ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ صحافیانہ تخلیقات دیر پا اثرات کی حامل نہیں ہوتیں، یا چوں کہ صحافت جلد بازی میں لکھا جانے والا ادب ہے اس لیے زمان و مکاں کی تبدیلی کے ساتھ یہ اپنی اہمیت و وقعت بھی کھوتی چلی جاتی ہے۔ ان مثالوں پر غور کرنے یا اس قبیل کی متعدد مثالیں جو اخبارات میں موجود ہیں کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اس قسم کے نظریاتی قلعے خود بخود ڈھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اب آئیے ہم آپ کے سامنے ایسی مثالیں بھی پیش کرتے ہیں جن پر بلا تردود صحافیانہ ادب (جلد اپنی اہمیت کھو دینے والی)کی مہر ثبت کی جاسکتی ہے۔ اخبار ’مدینہ‘ بجنور میں ”سالانہ جلسۂ مسلم لیگ صحبت گذشتہ کی چند باتیں“ کے عنوان سے ایک اداریہ شائع کیا گیا تھا، جس میں مولانا محمد علی جوہر کی آزادی کے لیے مطالبے کیے گئے۔ یہ تھا تو ”اداریہ“ لیکن اس کا انداز کلی طور پر صحافیانہ تھا۔ ملاحظہ فرمائیں:

”…دیگر مسلمان مقرروں نے جوش انگیز تقریریں کیں۔ لیکن مسٹر گاندھی اور مسز نیڈو کی تقریر ایک خاص وقعت و امتیاز رکھتی ہے۔ چنانچہ مسٹر گاندھی نے عملی کارروائی پر زور دیا اور اسی ذیل میں کہا کہ میرا لڑکا کل کے اجلاس کے متعلق کہتا تھا کہ جب مسٹر محمد علی کی والدہ کا پیام پڑھا جارہا تھا تو تمام جلسہ روتا تھا۔ اس پر مسٹر گاندھی ہی نے فرمایا کہ: ”رونے سے کیا ہوتا ہے آپ کام کیجیے اور سرکار کو کہہ دیجیے کہ اگر آپ ان کو نہیں چھوڑیں گی اوروہ سچے ایمان ادر ہیں تو ہم کو بھی پھانسی دے دیجیے اور ہم کو بھی چند واڑہ بھیج دیجیے۔“ پھر اس کے بعد فرمایا کہ اگر آج مسٹر محمد علی آزاد ہوتے تو وہ اور میں آرہ جا کر رفاہ عام کا کام کرتے۔“ [6]

اس کے علاوہ دیگر اخبارات سے متعدد لوکل خبریں، تبصرے، کالم یا شذرات وغیرہ پیش کیے جاسکتے ہیں جس میں ادب کے بجائے صحافیانہ انداز غالب ہے۔ لیکن بات اس مثال سے پوری ہوتی معلوم ہوتی ہے اس لیے طوالت کے مد نظر مثالوں سے اجتناب برتا جا رہا ہے۔   (یہ بھی پڑھیں لسان الصدق: آزادؔ صحافت کا ہراول دستہ-ڈاکٹرسلمیٰ رفیق)

صحافت اور ادب کے رشتے کے حوالے سے نثری نمونے تو پیش کیے جاچکے۔ اب شعری سرمائے کی جانب بھی ایک نگاہ ڈال لی جائے تاکہ دونوں طرح کی مثالوں سے ادب اور صحافیانہ ادب کے مابین فرق کو واضح کیا جاسکے۔ اٹھارویں صدی عیسوی سے لے کر اب تک اردو میں متعدد تحریکوں کا وجود عمل میں آیا۔ ان تحریکات کے زیر اثر بے شمار تخلیقات بھی پیش کی گئیں، لیکن کیا ان کی اہمیت آج بھی اسی طرح مسلم ہے جیسا کہ اس زمانے میں تھیں؟ یقینا نہیں!اردو ادب میں رونما ہونے والی بڑی ادبی تحریکوں میں اگر ہم ترقی پسند ادبی تحریک کی طرف نگاہ کرتے ہیں تو وہاں ہمیں شعرا کی ایک طویل فہرست دکھائی دیتی ہے، جنھوں نے ترقی پسند نظریات کو فروغ دینے کے لیے اپنے قلم کا بے محابا استعمال کیا۔یوں تو اس زمانے میں ان کی شاعری مزدوروں کے حق میں کارگر ثابت ہوئیں، لیکن دھیرے دھیرے جب اسی قسم کے خیالات کی عکاسی کو ادب کا بنیادی مقصد سمجھا جانے لگا، یعنی ادب میں مزدوروں کے حقوق کے تئیں بلند کیے جانے والے نعروں نے شدت اختیارکرلی، تو اس قسم کی شاعری ادب کے بجائے پروپگینڈا بن کر رہ گئیں۔ چوں کہ ان شعری تخلیقات کا مقصد سرمایہ داروں کے خلاف نعرہ بازی اور مزدوروں کے حق میں آواز بلند کرنا تھا، لہٰذا یہاں خیالات کی ترسیل کو اولیت دی گئی۔ اس طرح یہ خالص ادبی تخلیقات ہوتے ہوئے بھی صحافیانہ ادب کے زمرے میں شامل ہوگئیں۔چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

مثال نمبر۔1:

الامان و الحذر، میری کڑک، میرا جلال

خون، سفاکی، گرج، طوفان، بربادی، قتال

برچھیاں، بھالے، کمانیں، تیر، تلواریں، کٹار

بیرقیں، پرچم، علم، گھوڑے، پیادے، شہسوار

آندھیوں سے میری اڑ جاتا ہے دنیا کا نظام

رحم کا احساس ہے، میری شریعت میں حرام

مثال نمبر۔2:

اپنا رہبر جنگ کے میداں میں کام آیا ہے آج

وہ وطن کی آبرو، اہل وطن کا افتخار

اشتراکیت کی جمہوری روایت کا نقیب

محفل انسان میں انسانیت کا تاجدار

کیا زمانے سے کہیں گے جا کے بس اتنی سی بات

مرگیا ہے وہ تو اس کے غم میں ہیں ہم سوگوار

اس کا پرچم لے کے میداں میں نکلنا ہے ہمیں

فرش گل سے دور انگاروں پہ چلنا ہے ہمیں [7]

مثال نمبر۔3:

ہجرت اک گہرا طمانچہ سرخ رخساروں پہ ہے

ہجرت اک مضبوط گھونسہ آہنی تاروں پہ ہے

ہجرت اک خاموش جنگ حق و استبداد ہے

ہجرت اک دل دوز، بے الفاظ کی فریاد ہے

ہجرت اک مظلومیت کا ہے مقدس احتجاج

ہجرت اک درد غلامی کا ہے الہامی علاج

ہجرت اک حملہ ہے مجبوری کا قصر جبر پر

ہجرت اک ٹھوکر ہے پندار و حسد کی قبر پر[8]

پیش کردہ مثالوں کو آزادی سے پہلے کے تناظر میں دیکھیں تو اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن موجودہ دور میں اسے صحافیانہ ادب کے خانے میں رکھنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ تخلیق کاروں نے اپنے خیالات نظم کرنے میں شاعرانہ حسن کو ملحوظ خاطر رکھنے کے بجائے مقصدیت کو پیش نظر رکھا۔ ظاہری ہیئت کے اعتبار سے درج بالا مثالیں ادب کی کسوٹی پر پوری اترتی ہیں مثلاً وزن، بحر، لفظوں کا برمحل استعمال، نغمگی، تشبیہات و استعارات کی عکاسی وغیرہ، لیکن اس طرح کی بیشتر نظمیں منشور کے تحت کہی گئیں نہ کہ احساسات و جذبات سے مغلوب ہو کر۔شاید ایسی ہی تخلیقات کے متعلق رشید حسن خاں نے کہا تھا:

”… جیسے اخبار میں خبرو ں کو مرتب کرنے والا اور ٹی وی پر خبریں پڑھنے والا محض دوسروں کے احکام کی تعمیل کرتا ہے، اس عمل میں اس کی ذات کی اور اس کے جذبہ و احساس کی شمولیت نہیں ہوتی، اسی طرح بہت سے لکھنے والوں نے ایک منشوراور ایک طے کردہ نقطۂ نظر کے تحت بہت کچھ لکھا تھا۔ بہ ظاہر فرق جو بھی ہو، مگر عملی طور پر یہ وہی طریق کار تھا جو صحافت سے نسبت رکھتا ہے۔ یہ لوگ صحافی نہیں تھے مگر ان کی تحریروں کا شمار صحافیانہ ادب ہی میں کیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ ایسی مفروضہ اور مبینہ ادبی تحریروں کا انجام وہی ہونا چاہیے تھا جو باضابطہ صحافیانہ تحریروں کا ہوتا ہے۔ یہی ہوا۔“ [9]

بہرحال ادب اور صحافت کے مابین رشتے کے متعلق مجموعی طورپر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان دونوں میں رشتوں کا منضبط یا منقطع ہونا لکھنے والے کی فکر اور طرز تحریر پر منحصر ہوتی ہے۔

حواشی:

[1] اردو صحافت، مرتب: انور علی دہلوی، مضمون: ادب اور صحافت از رشید حسن خاں، اردو اکادمی دہلی، ص:261، سنہ:2009

[2]  اردو صحافت، مرتب: انور علی دہلوی، مضمون: ادب اور صحافت از رشید حسن خاں، اردو اکادمی دہلی، ص:261، سنہ:2009

[3]  الہلال، نشہئ شام کی نصف شب، 20/اگست 1912، ص۔3، جلد۔1، نمبر۔7

[4] الہلال، حدیث الغاشیہ، 5/فروری 1913، ص۔5، جلد۔2، نمبر۔5

[5] اخبار ’مدینہ‘ بجنور، اداریہ: فاتحہ سال نو مدینہ، 5/جنوری 1918ء، ص۔2، جلد۔2، نمبر۔7

[6] اخبار مدینہ بجنور، اداریہ: سالانہ جلسہئ مسلم لیگ صحبت گذشتہ کی چند باتیں، 9/دسمبر 1918، ص2

[7]  ایک خواب اور، علی سردار جعفری، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی، ص۔196-197، سنہ: 2001

[8] اخبار مدینہ بجنور، ’صور بیداری‘ از اعجاز صدیقی اکبرآبادی، 9/اکتوبر 1932، ص۔1، جلد21، نمبر۔72

[9]  اردو صحافت، مرتب: انور علی دہلوی، مضمون: ادب اور صحافت از رشید حسن خاں، اردو اکادمی دہلی، ص:264، سنہ:2009

 

Dr. Md. Sajid Zaki Fahmi

Abul Fazal, Enclave-1, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi-110025

sajidzakifahmi@gmail.com +91 8527007231 / +91 9990121625

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادب اور صحافتادبی میراث
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
’’اداس نسلیں‘‘ ۔۔۔ کہانی اور منظر نگاری کی جنگ- محمد ارشاد
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

اردو رسائل و جرائد میں خطوط کی اہمیت...

اگست 1, 2024

اُردو رسائل و جرائد:اہمیت وروایت – وجیہ بتول

جولائی 28, 2024

1857کی جنگ آزادی اور دہلی اردو اخبار –...

جولائی 28, 2024

اردو صحافت کے پٹھان : احمد سعید ملیح...

جون 30, 2023

ظریفانہ صحافت اور پنچ اخبارات – ڈاکٹر محمد ذاکر...

فروری 23, 2023

ادبی صحافت کے دو سو سال – حقانی...

جنوری 7, 2023

ادب اور صحافت کا معاملہ (مولانا ابوالکلام آزاد...

اکتوبر 11, 2022

احمد سعید ملیح آبادی: اردو صحافت کا نیر...

اکتوبر 3, 2022

تحریک آزادی اور اردو صحافت – علیزے نجف

اگست 16, 2022

اخبار ’سحرسامری‘ لکھنؤ – ڈاکٹر مخمور صدری

جولائی 14, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,047)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں