Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

’چارہ سازیٔ وحشت‘ کا بے روزگاری تناظر – امتیاز احمد علیمی

by adbimiras اکتوبر 1, 2020
by adbimiras اکتوبر 1, 2020 0 comment

اکیسویں صدی کے ابتدائی عشرے سے اب تک جو خواتین اردو ادب میں اپنی تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتوں کی بنیاد پرمنفرد شناخت قائم کرنے میں کوشاں ہیں ان میں سر فہرست ایک اہم نام شہناز رحمن کا ہے جن کا تعلق یوپی کے ضلع سدھارتھ نگر سے ہے۔انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم و تربیت ایک اہم اسلامی ادارہ جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ سے حاصل کرنے کے بعد  اعلیٰ سطح پر تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کے لیے ایشیا کی سب سے مشہور اور اپنی تہذیبی و ثقافتی شناخت رکھنے والی یونیورسٹی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا انتخاب کیا اور پی ایچ ڈی تک کی تعلیم اسی ادارے میں حاصل کرکے کامیابی کی سیڑھیاں طے کیں۔اِسی ادارے کے شعبہ اردو سے ’’آزادی کے بعد اردو افسانوں کی عملی تنقید‘‘ کے عنوان سے اپنا تحقیقی کام مکمل کر چکی ہیں۔اپنے تعلیمی اور تحقیقی سفر کے دوران یہ ہمیشہ لکھنے پڑھنے میں اپنا وقت صرف کیاکرتیں ہیں جس کی وجہ سے قلیل مدت میں ہی اپنے شعبہ کی فعال اور متحرک اسکالر کے طور پر اپنی شناخت قائم کر چکی ہیں۔ادبی نشست ہو یا تنقیدی اجلاس سب میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہیں اور کبھی اپنے کام سے غافل نہیں رہتیں۔ سمینارہو یا ورکشاپ سب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔یہ تمام اوصاف اور امور وہ ہیں جو ان کے شخصی نشوونما کے ساتھ ان کی تخلیقی صلاحیت کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوئیں۔اپنے لکھنے پڑھنے اور تخلیقی عمل کا مسلسل ثبوت صرف زبانی طور پر ہی نہیں دیا بلکہ اخبارات کے علاوہ علمی و ادبی رسائل و جرائد میں کبھی تنقیدی اور کبھی تخلیقی عمل کا تحریری نمونہ فراہم کرکے دیا۔جس کا بین ثبوت حالیہ دنوں میں ان کے افسانوی مجموعے’’نیرنگ جنوں‘‘پر ہندوستان کے اہم ادبی ادارہ ساہتیہ اکادمی کی طرف سے ’’یوا پرسکار‘‘ کا دیا جانا ہے۔یہ ایک ایسا اعزاز ہے جسے ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔اس کا حقدار صرف وہی ہوتا ہے جو اپنے ادبی سفر میں محکم یقیں کے ساتھ سعی پیہم کرتا رہتا ہے۔نیز اپنے تخلیقی اور تنقیدی نگارشات کے ذریعہ ادبی منظر نامے پر بنا رہتا ہے۔شہناز رحمن نے یہ تمام کام بحسن و خوبی انجام دیا اور 2016میں اپنے تنقیدی مضامین کے مجموعے ’’اردو فکشن:تفہیم ،تعبیر اور تنقید‘‘کے ذریعہ لائم لائٹ میں بنی رہیں اور اپنے تخلیقی عمل سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ان کے اسی تخلیقی اور تنقیدی عمل کو دیکھتے ہوئے 2017میں ’پروفیسر شمیم نکہت ایوارڈ‘ سے نوازا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ماہرین ادب نے ان کے اندر ایک بڑے تخلیق کار کا روپ ضرور دیکھا ہوگا۔بہر حال افسانوی ادب میں ان کی اپنی شناخت قائم ہونے لگی ہے اور مستقبل میں ان سے بہتر تخلیق کی امید کی جا سکتی ہے۔

اس تمہیدی گفتگو کا مقصد صرف اور صرف اچھے اسکالر کی خوبیوں کی شناخت کرانا ہے۔کیونکہ کسی اسکالر کے بارے میں ہمارے ادیب اور ناقد بڑی کنجوسی سے کام لیتے ہیں جس میں حوصلہ افزائی کم حوصلہ شکنی زیادہ ہوتی ہے۔خیر شہناز رحمن کے بارے میں یہ میرے اپنے خیالات ہیں ضروری نہیں ہے کہ اس سے اتفاق کیا جائے۔یہاں مجھے ان کے شخصی اوصاف کے بجائے ان کے تخلیقی عمل کے بارے میں بات کرنی تھی جو اب کرنے کی کوشش کر رہاہوں۔میرے پیش نظر ان کا صرف ایک افسانہ ’چارہ سازیٔ وحشت‘ ہے۔صرف اس ایک افسانے کی بنیاد پر ان کی خلاقانہ ذہنیت کے فکری ڈائمنشنس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے متنوع موضوعات پر افسانے تخلیق کئے ہیں لیکن جو افسانہ میرے پیش نظر ہے اس کا مرکزی موضوع بے روزگاری کے مسائل ہے۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر زمانے میں رہا ہے کبھی کم تو کبھی زیادہ۔لیکن موجودہ منظرنامے میں یہ اپنے چرم سیما پر پہنچ گیا ہے ہر طرف ہاہا کار مچا ہوا ہے۔اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی یااپنے غم وغصے کے اظہار کے لیے کچھ لوگ  سڑک پر اترکر حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہیں اور اپنے حقوق کی لڑائی لڑتے ہیں تو کچھ لوگ سسٹم کی خامیوں اور اس کمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں ۔کچھ ٹی وی اینکر اپنے ٹی وی شوز میںشواہد کی بنیاد پر بے روزگاری کے مسائل میں حکومت کی نااہلی ثابت کرتے ہیں ۔کچھ لوگ فیس بک ،ٹوئیٹر اور واٹس اپ پر اپنا احتجاج درج کراتے ہیں ۔یعنی ہر شخص اس مسئلے سے جوجھ رہا ہے اور اس سے نکلنے کی سبیلیں تلاش کر رہا ہے لیکن ہر راستے پر کھائی در کھائی ہی نظر آرہی ہے اس کا کوئی مثبت حل دکھائی نہیں دیتا ۔مصنف اور تخلیق کاراپنی تحریر کے ذریعہ اپنا احتجا ج درج کراتا ہے جس کا اثر تا دیر قائم رہتا ہے۔اس افسانے میں شہناز رحمان نے بھی اسی بے روزگاری اور کرپشن کے خلاف ایک طرح سے اپنا احتجاج درج کرایاہے۔لیکن اس احتجاج میں وہ شدت نہیں ہے جو قاری کے اندر اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے یا تدبر و تفکر کی دعوت دیتا ہو ۔بس اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کو افسانے کا رنگ دے کر اس صنف میں اضافہ کا کام کیا ہے۔موضوعاتی سطح پر اس افسانے کا جب جائزہ لیتے ہیں تو یہ بے جان سا محسوس ہوتا ہے کیونکہ اس سے قبل اس موضوع پر بہت سارے افسانے اور ناول لکھے جا چکے ہیں ۔حسین الحق کا ناول ’بولو مت چپ رہو‘اور عبد الصمد کا ’مہاتما‘اس موضوع کی بھر پور نمائندگی کرتے ہیں۔تعلیمی اداروں میں پھیلی ہوئی بد عنوانیوں ،اعلیٰ اور ادنیٰ سطح پر ہونے والی تقرریوں میں بد دیانتی،معیاری امیدوار پر غیر معیاری امیدوار کو ترجیح دینا،وائس چانسلر،سیاسی لیڈر،اراکین اسمبلی وغیر کی بے جا مداخلت سے ہم سب بخوبی واقف ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جاننے کے باوجود ہم خاموش کیوں رہتے ہیں؟کیا خاموشی ہمارا مقدر بن چکی ہے؟اس سکوت،جمود اور تعطل کے ذمہ دار کون ہیں؟کیا ہم خود ہیں؟یا ہمارے اساتذہ اور والدین کے ساتھ سیاست داں حضرات یا کوئی اور؟یہی بنیادی سوال ہے جو اس افسانے کے بین السطور میں پوشیدہ ہے۔جس طرح عبد الصمد کے ناول میں اس کا کوئی حل پیش نہیں کیا گیا ہے اسی طرح شہناز کا یہ افسانہ بھی ہے جس میں بغیر کسی کردار کے صرف صورتحال کی روشنی میں متکلم کے بیانیہ ’میں‘کے ذریعہ نہ صرف اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کو بیان کیا ہے بلکہ ہندوستان کی موجودہ صورتحال میں ایک خاص قوم کے ساتھ جس طرح کا سلوک ہر میدان میں روا رکھا جاتا ہے ،اس سے ایک حساس فنکار کس سطح پر متاثر ہوتا ہے اور اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کے لیے کیا سبیلیں تلاش کرتا ہے ملاحظہ کیجیے:

’’کیا ہماری قوم کے نصیب میں صرف ماتحتی لکھی ہے ؟ اس قوم کا کوئی حق نہیں ؟

جب کہ یہ وہ خوش نصیب ملک ہے جہاں اظہار رائے کی آزادی کے علاوہ اور مختلف طرح کی آزادیاں میسر ہیں ۔ لیکن ہزاروں لاکھوں لوگوں کو اس مذہب ، ذات پات کی تفریق نے قید کردیا اور انسانیت انھیں بے معنی چیزوں میں بٹ کررہ گئی ہے۔ انسان انسان نہیں رہ گیا ۔ میں اپنی کہانی بیان نہیں کرتا کیوں کہ عاجزی کے عیاں ہونے کا خدشہ ہوتاہے لیکن گردش مدام سے فرار کی یہی ایک سبیل نظر آئی ۔ میری زندگی کی مانند اس کہانی کے دونوں طرف کوئی سرانہیںجسے ابتدا اور اختتام کا نام دیا جا سکے۔‘‘

’’ساری تدبیریںکرنے کے بعد میں نے سوچا کیوں نہ ممبئی جاکر قسمت آزمائی کر وں۔دل میں طرح طرح کے خیالات لئے ہوئے میں وہاں پہنچا ۔مجھے اس قدر اطمینان ضرور تھا کہ یہ وہی ممبئی ہے جہاں تمام بے روزگار قسمت آزمانے چلے آتے ہیں ۔‘‘

جیسا کہ ماقبل میں یہ عرض کیا جا چکا ہے کہ اس کا بنیادی موضوع بے روزگاری کے مسائل ہے۔اس کا اندازہ افسانے کے پہلے جملے اور پیراگراف سے ہی ہوجاتا ہے جو دوسرے اقتباس میں درج ہے۔اس کے بعد افسانے میں بتانے کے لیے صرف وہ مسائل رہ جاتے ہیں جن کے تدارک کے لیے تخلیق کار ہر طرح کی تدبیریں آزماتا ہے اور آخر میں کہانی کا انجام اپنی زندگی کے مشابہ قرار دے کر مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے  یہ کہتا ہے کہ گردش مدام سے فرار کی یہی ایک سبیل نظر آئی ۔ میری زندگی کی مانند اس کہانی کے دونوں طرف کوئی سرانہیں جسے ابتدا اور اختتام کا نام دیا جا سکے۔بہر کیف بچپن کی یاد اور والدین کی کمی کا احساس جہاں نظر آتا ہے وہیں ان کی شفقتوں ،عنایتوں اور ممتا کی جھلک اور ان کی عدم موجودگی کا شدت سے احساس بھی ہوتا ہے۔ایک اور بات جو اس افسانے کے حوالے سے کہنی ہے وہ یہ کہ عام طور سے روزگار کی تلاش کے لئے ممبئی میں قسمت آزمانے دیہی سماج کا وہ لیبر طبقہ جسے تعلیم و تعلم سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ،جاتا ہے  جسے اس کے اپنے گاؤں یا علاقے میں وہ سہولیات میسر نہیں ہوتیں یا اس کے سر پر گھر کے تمام افراد کی ہر طرح کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ایسے افراد ممبئی میں جاکراپنی قسمت آمائی کرتے ہیں لیکن بیشتر کچھ عرصے تک کمائی کرکے اپنی منزل پر واپس آجاتے ہیں۔بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جنھیں کامیابیاں میسر آتی ہیں۔ٹھیک اسی طرح ادب میں بھی ہر طرح کی کھیپ سامنے آتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ وہ سب کامیاب ہو کر اعلیٰ افسر یا پائے کے ادیب بن جاتے ہیں،کچھ روایتی تعلیم حاصل کرکے کنارہ کش ہوکر دوسرے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور کچھ منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے آخری سانس تک تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ابتدا میں انھیں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے کہ افسانے کے متکلم کو کرنا پڑا ہے۔مختلف شہروں، یونیورسٹیوں اور کالجوں کی خاک چھاننے کے بعد نتیجہ کچھ اطمینان بخش نظر نہیں آتا کیونکہ افسانے کا متکلم ’میں ‘ ’ہر انٹرویو سے پہلے یہی سوچتا شاید اس دفعہ قسمت ساتھ دے ہی دے‘ لیکن قسمت اتنی اچھی کہا ں جو ساتھ دے دے۔کیونکہ قسمت اگر ساتھ دے ہی دیتی تو میں اس افسانے کا تجزیہ کرنے کے علاوہ کسی اور موضوع پر کچھ کر رہا ہوتا اور تخلیق کار کی تخلیقی نشو نما ماند پڑ جاتی ،کیونکہ وہ ان مسائل سے نہ تو دو چار ہوتے اور نہ ہی یہ افسانہ وجود میں آتا۔اس افسانے کا اصل محرک ایک انٹرویو ہے جسے تخلیق کار نے مبہم اور مطلق رکھا ہے جس سے ہر طرح کا انٹر ویو مراد لیا جا سکتا ہے۔اس کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوسکتا ہے جو تعلیم یافتہ ہے اور معاش اور رووزگار کی تلاش میں اپنی ڈگریاں لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے لیکن افسانے کی طرح اس کابھی نتیجہ لا حاصل ہی نظر آتا ہے کیونکہ ہر انٹر ویو سے پہلے اس کے اندر ایک آس جاگتی ،دل میں امیدوں کا ایک سمندر موجزن رہتا،تمام شکوک وشبہات اور خوف و ہراس کو بالائے طاق رکھ کر انٹر ویو کے لئے جاتا تو اس کے اندر امیدوں کے چراغ کی لو تیز تر ہو جاتی لیکن بقول تخلیق کار:

’’مگر۔۔۔۔

اگلے ہی لمحے اس لو کاٹنا پڑا کیوں کہ سامنے بیٹھے ایکسپرٹ نے جو جواب دیا وہ نفی میں تھا۔یعنی نتیجہ میری توقع کے خلاف تھا ۔

کیوں کہ میری Qualification انھیں مشکوک لگ رہی تھی۔

وہاں سے جب واپس ہوا تو راستہ دھند میں ڈوبا ہوا تھا مگر پھر بھی میں نے ہمت کی ۔

اگر راستہ دھند میں ڈوباہوا ہے تو کیا ہوا ؟ َ؟ دل ودماغ کام کرے تو خود ہی دھند مٹ جاتی ہے‘‘ مگرپھر بھی مجھے دھند کے سوا کچھ نظر نہ آیا ۔‘‘

گرنا اور گر کربار بار سنبھلنااور ایک نئی امید کے ساتھ زندگی کا سفر شروع کرنا ہم ہندوستانیوں کی عادت سی بن گئی ہے۔روزگار تلاش کرنے والے ہر رات ایک نیا خواب بنتے ہیں جو صبح ہوتے ہی چکنا چور ہو جاتی ہے یا کردی جاتی ہے۔بہر حال بے روزگاری کے مسائل ہر زمانے میں ہر سطح پر رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے کیونکہ ہندوستان میں اب تک اس کا کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی نعم البدل ہے۔البتہ ایک بات ضرور ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں یہ صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے۔لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہو رہے ہیں لیکن حکومتی سطح پر ان کے لئے صرف جملے چھوڑے جارہے ہیں اور زمینی سطح پر کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔ایسے حالات میں ادیبوں اور تخلیق کاروں کا فرض یہی ہے کہ وہ ان سلگتے ہوئے مسائل کو روا روی میں بیان کرنے کے بجائے پوری شدت کے ساتھ پیش کریںتاکہ ان کا قاری ان کی تخلیق کو پڑھ کر اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے موثر اقدام کرسکے۔بے روزگاری کے مسائل سے لوگوں کی صورتحال کیا ہو گئی ہے اور وہ کن شکوک و شبہات ،مشکلات اور ذہنی اذیتوں کا سامنا کرتے ہیں افسانہ نگارکے لفظوں میں ملاحظہ کیجیے:

’’اس طرح جب میں نے جلوت کی زندگی میں قدم رکھا تو اندازہ ہوا کہ یہاں تو ہر شخص اپنی بے چینی وبے قراری کی کہانی لیے گھوم رہا ہے ۔

جہاں تک نظر دوڑاؤ فرسٹریشن کا چیختاہوا پرندہ اپنی منحوس آواز سے ہمیں خاموش کردیتا ہے ہر روز اپلیکیشن فارم بھرنا انٹرویو کے لئے جانا اور پھرخالی ہاتھ لوٹنا۔۔۔۔۔۔۔۔!یہی معمول ہے۔

میں اس فرسٹریشن کو ختم کرنا چاہتا ہوں لیکن اپنے مذہبی لیبل کی وجہ سے سیاست کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں۔ جب بھی میں انٹرویو کے لئے جاتا ہوں تو نہ جانے کیا کیا چیزیں آڑے آجاتی ہیں اور کوئی نہ کوئی نقص نکال کر مجھے محروم کردیا جاتا ہے ۔کیا میں اپنی سچائی ختم کردوںاوراپنی پہچان گم کردوں؟

مجھے نفرت ہے سخت نفرت ! اس ملک سے ۔ میں اس بے مروت ملک کا پیداوار ہوں جہاں مجھے کچھ نہیں ملا ۔اس ملک میں رہنے والوں کے مقدر میں یہی ہے کہ ان فرقہ پرستوں کے نسلی اور مذہبی کٹرپن کو قبول کر کے ہمیشہ محکوم بنے رہیں۔‘‘

شہناز رحمان نے بے روزگاری کے پس پشت جس طرح کی ذہنیت کام کر رہی اس کو موثر انداز میں پیش کرنے کی حتی الامکان سعی کی ہے۔البتہ کہیں کہیں لہجہ باغیانہ تیور لیے ہوئے ہے جو غیر مناسب ہے ۔ملک سے نفرت کرنے کے بجائے ان ظالموں سے نفرت کیجیے جو فرقہ پرستی کی بیج نئی نسل میں ڈال رہے ہیں۔

 

نوٹ: مضمون نگار  این سی ای آر ٹی سے وابستہ ہیں۔

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراث
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
بانو قدسیہ کا افسانوی اسلوب – ڈاکٹر ارشاد شفق
اگلی پوسٹ
فسانۂ آزاد کی ادبی اہمیت – عبدالباری قاسمیؔ

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں