Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکشن کے رنگنصابی مواد

فسانۂ آزاد کی ادبی اہمیت – عبدالباری قاسمیؔ

by adbimiras اکتوبر 1, 2020
by adbimiras اکتوبر 1, 2020 0 comment

فسانۂ آزاد پنڈت رتن ناتھ سرشارکی ایسی معرکۃ الآرا تصنیف ہے،جس نے نہ صرف یہ کہ سرشار کو تاریخِ اردو ادب کے صفحات میں ہمیشہ ہمیش کے لیے محفوظ کر دیا ؛بلکہ اردو ادب کو ایک نئی زبان،نیا اسلوب وانداز اور نئے طرزِ فکر سے آشنا کیا،سرشار نے اسیے ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں جہاں داستان گوئی اور مافوق الفطرت عناصر پر یقین کرنے کا عام رواج تھا،عام طور پر داستان گو حضرات طلسم و سحر اور مافوق الفطرت عناصر کے ذریعہ اپنی کہانیو ں کو رنگین اور دلچسپ بنانے کی کوشش کرتے تھے ،مگر سرشار نے ایک نئی راہ نکالی اور اپنی شاہ کار تصنیف جسے کوئی داستانی ناول،کوئی صحافتی ناول،تو کوئی داستان اور ناول کے درمیان کی کڑی کہ کر پکارتا ہے ،اس میں ماحول و معاشرہ کی ترجمانی اور عکاسی اس انداز سے کی کہ پوری دنیائے اردو ادب حیران رہ گئی ،اپنے اس لاجواب تصنیف میں سرشار نے نہ صرف یہ کہ عمدہ زبان ،نئے الفاظ ،دلفریب محاورے ،فصیح وبلیغ جملے اور چست بندشیں شامل کرکے اپنی زبان دانی اور فنکاری کا ثبوت دیا ہے،وہیں اپنے قارئین کو بولنے کا سلیقہ اور معاشرہ کو سمجھنے کا طریقہ بھی بتلایا ،ان کا پلاٹ اگرچہ کمزور ہے ؛مگر کرداروں اور ان کے مابین ایک اچھوتے انداز سے مکالمہ کراکے اس کمی کو دور کرنے کی پوری کوشش کی ہے اور کامیاب بھی ہوئے ہیں ،ا س کی ادبی اہمیت کا اندازہ لگانے کیلیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ یہ پہلا ایسا شہ پارہ ہے جو کتابی شکل میں شائع ہونے سے پہلے قبولیت عام حاصل کرچکا تھا اور سرشار کو مبارکبادیوں کے سینکڑوں خطوط موصول ہونے شروع ہوگئے تھے،رتن ناتھ سرشار کا یہ داستانی ناول چوں کہ قسط وار اودھ پنچ اخبار میں شائع ہوا تھا ،اس لیے پلاٹ میں نحافت اور ضعف ہے ،مگر اس کی کمی مزاحیہ اور لازوال کردار خوجی نے کر دی ہے اور سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ جیسا کردار استعمال کیا ہے ویسی ہی زبان بھی،نواب کی گفتگو نوابی انداز میں ہے اور بھٹیارن کی اسی کی طرح ،اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لکھنؤکے تہذیب و معاشرت کو سرشار کس قریب سے دیکھتے ،سمجھتے اور جانتے تھے ،انہوں نے سرور کی تقلید میں مسجع اور مقفی جملے ضرور استعمال کیے ہیں،مگر ایسا ماحول تیار کردیا ہے کہ قاری پرذرہ برابر اکتاہٹ کا احساس نہیں ہوتا اور وہ کچھ اور کچھ کے طلب میں غرق ہو جاتا ہے ہم اس مضمون میں مختصرا سرشار اور فسانہ آزاد اور اس کی ادبی اہمیت کا جائزہ لیں گے ۔

رتن ناتھ سرشار کا مختصر تعارف: پنڈت رتن سرشا ر کے والد کا نام بیج ناتھ در تھا ،سرشار کی پیدائش کے متعلق محققین نے مختلف آرا کا اظہار کیا ہے،پریم پال اشک نے ان کی تاریخ پیدائش ،۵؍ جون ۱۸۴۶  لکھاہے جبکہ جمیل جالبی اور چکبست نے ۱۸۴۷  قرار دیا ہے اور تاریخ وفات جمیل جالبی اور پریم پال اشک نے ۲۷؍ جنوری ۱۹۰۲  اور چکبست نے ۲۱ ؍ جنوری ۱۹۰۳ لکھا ہے ،ان کا تعلق کشمیری پنڈت گھرانے سے تھا ،ان کے والد بغرض تجارت کشمیر سے ہجرت کرکے لکھنؤآگئے تھے اور پورے طور پر لکھنؤ کے تہذیب و معاشرت میں رنگ گئے تھے ،فارسی اور عربی کی تعلیم مدرسہ میں اور انگریزی تعلیم کنگ کالج لکھنؤمیں حاصل کی ،ادبی سفر کا آغاز ”مراسلۂ کشمیر” سے کیا ،البتہ نئے طرز تحریر کی ابتدا اودھ اخبار سے کیا ،اس کے بعد مختلف اداروں میں ملازمت کرنے کے بعدحیدرآباد تشریف لے گئے اور وہاں بھی دبدبۂ آصفی کے نام سے ایک رسالہ نکالنا شروع کیا جو کچھ ہی عرصہ بعد بند ہو گیا اور وہیں انتقال بھی کیا ،سرشار کی بہت سی تصانیف اور بہت سے ترجمے ہیں ،جیسے شمس الضحی ٰ،فسانۂ آزاد،اعمال نامہ روس،جا م سرشار،سیر کہسار،کامنی،خمکدۂ سرشار،پی کہاں،بچھڑی دلہن ،شاخ بنات اور الف لیلہ کا ترجمہ کافی اہمیت کے حامل ہیں،مگر ان کی اصل مقبولیت فسانۂ آزاد کی وجہ سے ہوئی حالاں کہ مشہور ہے کہ سرشار لا ابالی پن میں رہتے تھے اور کاتب ان کا کالم لکھنے کے لیے ڈھونڈتا رہتا تھا ،اسی سے ان کی فنکاری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،اگر انہوں نے سنجیدگی اور حضوری دل سے اس شاہ کار تصنیف کو لکھا ہوتا تو اس کی اہمیت کیا ہوتی ؟ جمیل جالبی نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ ”یہی وجہ ہے کہ ان کی تصانیف میں خصوصاً فسانۂ آزاد میں بلا ضرورت تکرار بہت زیادہ ہے ،لیکن طباعی کی اسی فراوانی معلوم ہوتا ہے کہ ایک دریا ہے کہ بہتا چلا جا رہا ہے”(۱)

فسانۂ آزاد۔ وجہِ تصنیف اور سن تصنیف: فسانۂ آزاد پنڈت رتن ناتھ سرشار نے اودہ پنچ اخبار میں ۱۸۷۸  سے ۱۸۷۹کے درمیان قسط وار شائع کی تھی اور کتابی شکل میں پہلی مرتبہ ۱۸۸۰  میں منظر عام پر آئی ،اس کی چارضخیم جلدیں ہیں جو سواتین ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے ،اس کی وجہِ تصنیف کے تعلق سے بھی لوگوں نے مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے،بعض حضرات نے اسے اصلاح معاشرہ سے تعبیر کیاہے تو بعض نے انہیں نثر کی دنیا کا حالیؔ قرار دے کر مصلح قوم قرار دینے کی کوشش کی ہے،مگر بہت ہی اہم وجہ پریم پال اشکؔ نے اپنی کتاب میں بیان کی ہے”جب سرشار کھیری سے لکھنؤ آئے تو یہاں شب و روز یاران دقیقہ رس و صحیح نفس کی صحبت میں گزرتے تھے ،اس صحبت میں جہاں ایک سے ایک طرار اور حاضر جواب موجود ہوتا تھا وہیں منشی سجاد حسین ایڈیٹر اودھ پنچ اور پنڈت تربھون ناتھ ہجرؔ بھی شریک ہوا کرتے تھے ،اسی صحبت میں ایک روز پنڈت تربھون ناتھ ہجرؔ نے کہا کہ اگر کوئی ناول ایسا ہے کہ جس کا ایک صفحہ پڑھیے اور ممکن نہیں کہ بیس مرتبہ نہ ہنسیے تو وہ ڈان کوٹکسائٹ ہے ،اگر اردو میں اس طرز کا افسانہ لکھا جائے تو خوب ہے ،حضرت سرشار کے دل پر اس وقت کی بات ایسی کارگر ہوئی کہ اردو میں ڈان کوٹکسائٹ کے انداز پر مضامین لکھنے کا شوق پیدا ہوا چنانچہ اودھ اخبارمیں مختلف مضامین شائع ہونے لگے ”(۲)اس کے علاوہ جمیل جالبی نے بھی اسی انگریزی ناول کو اس کا محرک قرار دیا ہے مگر دوسرے انداز میں مذکورہ اقتباس دیکھیے جالبی نے اس تناظر میں کیا بات کہی ”یہ وہ تصنیف تھی جس نے سرشار کو حد درجہ متاثر کیا تھا اور انہوں نے اسی کے انداز و ہیئت میں فسانۂ آزاد لکھا”(۳)۔

پلاٹ و کردار: اس شاہ کار تصنیف کے پلاٹ میں ویسے توکئی جان نہیں ہے؛ اس لیے کہ کمزور اور غیر مربوط ہے ،اس کے علاوہ بعض حضرات کے کرداروں پر بھی غیر سنجیدگی او ر غیر متانتی کا الزام عائد کرتے ہیں ،مگر یہ حقیقت ہے کہ فسانۂ آزاد کی اصل شناخت قصہ و کہانی کی وجہ سے نہیں بلکہ کرداروں کی وجہ سے ہے،اس کے کرداروں میں اصل ہیرو آزاد ہے اور دوسرا مقام خوجی کا ہے جو افسانوی دنیا کا ایک لازوال کردار ہے،اگر صحیح نقطۂ نظر سے غور کیا جائے تو اس داستانی ناو ل میں جان اور کشش اسی خوجی کی وجہ سے ہے ،ان کے علاوہ حسن آرا،سپہر آرا ،نواب،مصاحب،راوی،چپراسی،مرزا،اللہ رکھی،بوا زعفران وغیرہ ہیں،ڈاکٹر جمیل جالبی فسانۂ آزاد کوطویل ناول کی طرح قرار دیا ہے اور چھ پلاٹ کی نشاندہی کی ہے،”۱۔آزاد اور حسن آرا کا قصہ ،۲۔دوسرا قصہ ہمایوں فر اور حسن آرا کی بہن سہ پہر کے عشق سے تعلق رکھتا ہے ،۳۔تیسرے قصہ میں نواب ذوالفقار علی خاں کی بٹیر بازی کا قصہ بیان کیا گیا ہے،۴۔اللہ رکھی بازاری عورت ہے جو زندگی میں مختلف طبقوں سے گذرتی ہوئی دکھائی جاتی ہے،۵۔خوجی کے آزاد کے ساتھ اور الگ رہ کر مختلف واقعات میں پھنسنے کا قصہ ہے،۶۔متعدد چھوٹے قصے جو محلات میں پیدا ہوتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں ”(۴)

اگر ان کرداروں پر تبصرہ کیا جائے تو بلا جھجک کہا جا سکتا ہے کہ خوجی کی شکل میں سرشار خو دہیں اور وہی اصل ان کے عین مزاج کے مطابق ہے جس تحریک کے تحت اس معرکۃ الآرا کتاب کی تصنیف کی ،پلاٹ کی کمزوری کی طرف جمیل جالبی اور پریم پال اشک دونوں نے اشارہ کیا ہے دیکھیے جالبی نے کیا تبصرہ کی ہے”یہ سب پلاٹ نہایت درجہ نحیف ہیں اور ان کو ہزاروں صفحات پر پھیلاتے ہوئے سرشار لکھنوی معاشرے کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں”(۵)پریم پال اشک نے اسی بات کو اس انداز سے تحریر کیا ہے”پلاٹ کے نقطۂ نظر سے نہایت کمزور اور ناقص ہے ،البتہ جتنے بھی کردار پیش کیے ہیں اس نے زندگی کی صحیح ترجمانی کی ہے”(۶)۔

زبان : فسانۂ آزاد کی اصل خوبی اس کی زبان ہے،چو کہ سرشار نے لکھنؤ کے ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں،ا س لیے ایک بھنگی سے لے کر نوابوں تک اور مردوں سے لے کر عورتوں تک ہر طبقہ اور صنف کی زبان کو کوبہت اچھی طرح جانتے تھے اور اس کا انہوں نے پورا حق بھی اداکیا ہے،جہاں جیسا کردار ہوتا ہے ویسی زبان بہ آسانی اختراع کر لیتے ہیں اور چوں کے انہوں نے مسلمان عورتوں کو بھی قریب سے دیکھا تھا اس لیے مسلمان اور ہندو دونوں گھرانوں کی عورتوں کے زبان کو بھی سلیقے سے ادا کرتے ہیں ،سرورؔ کی تقلید میں ابتدائی زبان مسجع ،مقفی اور رنگین ہے ،اس کے متعلق جالبی ؔ نے لکھا ہے کہ ”سرشار ؔ کے بیان میں زبان کے لچھے ویسے ہی ہیں جیسے سرور کے ہاں ملتے ہیں ،مگر ان لچھوں میں واقعیاتی و حقیقی اور مزاحیہ عناصر نے بیان میں ایک نیا رنگ پیدا کر دیا ہے”(۷)،پریم پال اشک نے فسانۂ آزاد کی زبان کا نقشہ اس انداز سے کھینچا ہے کہ ”سرشار نے اپنے فن کے روپ میں اردو ادب کو زبان دی ،بولنے کاسلیقہ سکھایا ،نئے نئے محاورے ،نئے نئے الفاظ اور نئی نئی بندشیں ہی نہیں ؛بلکہ انہیں ادا کرنے کا ایک نیا ،لاجواب اور اچھوتا انداز بخشا ،سرشار اپنے فن میں طاق ہیں ،اس میں شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ”(۸)۔
اسلوب: سرشار کا زمانہ چوں کہ سرور کے بعد کا ہے ،اس لیے سرشار پر ان کا رنگ گہرا ہے ،ثقیل اور بھاری بھڑکم الفاظ کا استعمال خوب کرتے ہیں ،مگر ایسا انداز بیان اختیار کرتے ہیں کہ جس سے ان کے کلام میں ندرت او ررنگینی پیدا ہوجاتی ہے،بطور نمونہ ایک اقتباس” آزاد : بندہ پرور مجھے جو کچھ صلواتیں سنانا ہوسنالیجیے ،الو بنا لیجیے مگر برائے خدا ایسے طبیب النفس ،فخر بنی نوع انساں ،بلیغ نکتہ داں بزرگوار کے حق میں توکلمات خرافات زبان سے نہ نکالیے ”(۹)
مزاح : سرشار نے چوں کہ ایک نئے انداز سے لکھنؤ کے معاشرت کی عکاسی اور اس پر چوٹ کی ہے،اس لیے جا بجا مزاحیہ باتوں کا سہارا لیتے ہیں اور ان کا کوئی کردارایسا نہیں ہے ،جس پر مکمل طور پر سنجیدگی ہو سب کے ذمہ کچھ نہ کچھ مزاح ضرور ہے اور سرشار کا سب سے اہم کرادر خوجی ت ومزاح کا امام ہے ،اس کا تعارف ہی اس انداز سے ہوتا ہے کہ قاری ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا ”ٹھگنا سا قد،منحنی سی گردن،لمبوترا چہرہ ،اس پر بکرے جیسی لمبی ڈاڑھی ،اور ساٹھ سال کی عمر ”اس کے علاوہ خوجی اور آزاد کے درمیان جو گفتگو ہے وہ بھی مزاح کی عمدہ مثال ہے” خوجی : (آزاد سے ) اب طبیعت کیسی ہے؟ آزاد: مر رہا ہوں ،خوجی : الحمد للہ ،آزاد : خدا کی مار تجھ پر دل لگی کا بھی کیا بھونڈا وقت ہاتھ آیا ہے،جی چاہتا ہے اس وقت زہر کھالوں ،خوجی: نوش جاں اور اس میں تھوڑی سی سنکھیا بھی ملا لیجیے گا”(۱۰)۔
مکالمہ نگاری : سرشار نے مکالمہ نگاری بڑی فنکاری سے کی ہے ،وہ مکالمہ میں گفتگو اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ کردار کا معاشرتی اور تہذیبی نقشہ بھی واضح ہو جاتا ہے،یہی ان کا کمال ہے کہ اگر کردار اشراف سے تعلق رکھتا ہے تو اس کی زبان بھی علمی ہوتی ہے او ر اگر بازاری ہے تو وہی بازاری اور ابتذال آمیز زبان اسے عطاکرتے ہیں ،اسی وجہ سے ان کی اس گرامایہ تصنیف میں جان پڑ گئی ہے ،ابتدا میں تو بیانات زیادہ ہیں مگر جوں جوں تصنیف آگے بڑھتی گئی مکالمات بڑھتے گئے ہیں ،اسی لیے جمیل جالبی نے تبصرہ کیا کہ ”یہ تصنیف مکالموں کی وجہ سے زندہ ہے” ”اس نے مکالموں سے اپنے کرداروں اور خصوصاً خوجی کے کردار کو زندۂ جاوید کرکے ہمیشہ کے لیے ہمارے ساتھ کر دیا ہے ،مکالمے اور کردار ہی اس تصنیف کو زندہ رکھیں گے ”(۱۱)۔
لکھنوی معاشرت کی عکاسی: سرشار چوں کہ لکھنؤ کے طرز معاشرت اور وہاں کی تہذیب کو بہت اچھی طرح جانتے تھے ،اس لیے انہوں نے اپنے اس تصنیف میں لکھنؤ کی روبہ زوال تہذیب کی سچی نمائندگی کی ہے ،انہوں نے لکھنوی تہذیب کو اس انداز سے بیان کیا ہے کہ آج بھی ان کی اس کتاب کو پڑھ کر اس وقت کی تہذیب کا نقشہ دیکھ سکتے ہیں،انہوں نے ہر اعتبار سے اس تہذیب کی منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے،خواہ تعیش پسندی ہو،مذہبی عقائد یا پھر علمی اور ادبی ذوق کا معاملہ سب کو اسی انداز سے بیا ن کیا ہے ،جمیل جالبی اس تعلق سے اظہار خیال کیا ہے کہ ”فسانۂ آزاد نے لکھنوی معاشرت کی ایسی بھرپور ترجمانی کی ہے کہ آج بھی ہم فسانۂ آزاد کے مطالعہ سے اس تہذیب کے خدو خال نمایاں کر سکتے ہیں”(۱۲)،ڈاکٹر لطیف حسین نے لکھاہے کہ ”سرشارکا فسانۂ آزاد غدر کے بعد کے انحطاط پذیر لکھنوی تمدن کی سچی تصویر ہے ”(۱۳)۔
حقیقت نگاری : سرشارنے لکھنؤ کے معاشرہ و تہذیب کی سچی اور حقیقی منظر کشی کی ہے،مصنوعی اور مبالغہ آمیزی کا احساس خوب ہوتا ہے ،ان کے کرداروں میں بھی عیش پسندی اور لذت اندوزی کا رنگ جھلکتا ہے،مگر حقیقت ہے کہ اس وقت لکھنؤ کا ماحول ہی کچھ ایسا تھا او ظاہر سی بات ہے کہ جب کوئی ادیب روبہ زوال تہذیب کی منظر کشی کرے گا تو وہی چیزیں نگاہ میں آئیں گی ہی ،یہ الگ بات ہے کہ ان کی مزاح نگاری میں میں بے ڈھنگا پن کا احساس ہوتا ہے ،اس کے باوجود اس زوال پذیر معاشرہ پر مزاح کے سانچے میں ڈھال کر ایسا طنز کرتے ہیں کہ اس کی نظیر نہیں ملتی ،ان کی یہ معرکۃ الآراء کتاب طویل اور ضخیم ضرور ہے ،مگر انہوں نے صرف معاشرہ کی سچی تہذیبی جھلکیوں سے ہی صفحات پر کیے ہیں ،مافوق الفطرت عناصر کا بالکل سہارا نہیں لیا ہے یہ ان کا کمال ہے ۔سہیل بخاری نے سرور اور سرشارکا اس تناظر میں موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”سرور کا لکھنؤ قبرستان ،وحشتناک ،ویران اور سنسان ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے غنیم کے حملے سے بیشتر مکیں اپنے اپنے مکان چھوڑ کر شہر سے نکل گئے ہیں ،سبھی کچھ موجود ہے ،مگر آدمی مطلق نہیں واں نام کو ،سرشار کے یہاں آدمیوں کا جنگل ہے اور واقعات کا سیلاب ،مختصر یہ کہ سرور سے زندگی اور سرشار سے موت پناہ مانگتی ہے ”(۱۴)،ڈاکٹر لطیف حسین ادیب نے لکھا ہے کہ ”سرشار حقیقت نگار تھے ،انہوں نے معیاری چیزوں کو چھوڑدیا اور جو کچھ وہ روزانہ اپنے گردو پیش دیکھ رہے تھے ،اس کی مرقع کشی کی ،سرشار کی تصنیفات اس نظر سے دیکھی جانے کی مستحق ہے ،ان کو معیارِ اخلاق یا معیار شرافت سمجھنا حددرجہ غلطی ہے ،وہ ایک زوال پذیر سو سائٹی کا نقشہ کھینچ رہے تھے اور یہ یاد رکھیے کہ زوال پذیر سوسائٹیوں کا کسی طرح معیار بلند نہیں ہوتا ”(۱۵)۔
خلاصہ: فسانۂ آزاد جسے پنڈت رتن ناتھ سرشار نے اودھ اخبار میں قسط وار شائع کیا،اردو ادب میں بہت ہی بلند مقام رکھتی ہے،یہ الگ بات ہے کہ اس کے پلاٹ میں کمزوری ہے،مگر دوسرے فنی اور ادبی محاسن اس قدر موجود ہیں جو اس ضعف کو سامنے آنے نہیں دیتے ،زبان وبیان کی چاشنی ،نئے نئے الفاظ و محاورات اور عمدہ مکالمات و اسلوب کے ذریعہ سرشار نے لکھنؤ کی زوال آمادہ تہذیب کی ایسی منظر کشی کی ہے کہاس کی نظیر نہیں ملتی اور اس کے ادب میں بلند مقام ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ نہ صرف یہ ا س کی ادبی اہمیت کا تمام نقادان فن نے اعتراف کیا ہے ،بلکہ آج تک ادبی دانش گاہوں کے نصاب کا حصہ ہے ،اس سے بڑھ کر مقبولیت کی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے۔

حوالہ جات:

(۱)۔تاریخ ادب اردو جمیل جالبی جلدچہارم حصہ دوم ص: ۱۳۴۸،

(۲) رتن ناتھ سرشار ایک مطالعہ ص:۲۸،
(۳) تاریخ ادب اردو جمیل جالبی جلدچہارم حصہ دوم ص:۴۴۔۱۳۴۳،

(۴)ایضاً ص: ۱۳۵۲،

(۵) ایضاً ص :۱۳۵۳،

(۶) رتن ناتھ سرشار ایک مطالعہ ص: ۵۴،

(۷) تاریخ ادب اردو جمیل جالبی جلدچہارم حصہ دوم ص:۱۳۵۳،

(۸)رتن ناتھ سرشار ایک مطالعہ ص:۵۸،

(۹)فسانۂ آزاد تلخیص ص: ۱۲

(۱۰) ایضاً ص :۱۱

(۱۱)تاریخ ادب اردو جمیل جالبی۱۳۵۶،

(۱۲)ایضاً ص:۵۵۔۱۳۵۶

(۱۳)رتن ناتھ سرشار کی ناول نگاری ص:۳۹۵،

(۱۴)اردو ناول نگاری مصنفہ سہیل بخاری

(۱۵)رتن ناتھ سرشار کی ناول نگاری ۔

 

 

ABDULBARI

,D-29,SHAHEEN BAGH,

ABUL FAZAL ENCLAVE PART 2,

JAMIA NAGAR,OKHLA,

NEW DELHI -25

 

 

بشکریہ: قندیل آن لائن(https://m.dailyhunt.in/news/india/urdu/qindeel-epaper-qindel/-newsid-85496139)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

ادبی میراثفسانۂ آزاد
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
’چارہ سازیٔ وحشت‘ کا بے روزگاری تناظر – امتیاز احمد علیمی
اگلی پوسٹ
ہندوستانی جامعات میں اسلامک اسٹڈیز کا نصابِ تعلیم – ایک تجزیاتی مطالعہ (ایم۔ اے کے خصوصی حوالے سے)- محمد اسامہ

یہ بھی پڑھیں

پریم چند کی فکری اور تخلیقی روایت –...

اپریل 12, 2025

داستان کی روایت : ایک مجمل جائزہ –...

اکتوبر 15, 2022

داستان کی اسطوری فضا اورتخلیقی عمل – ڈاکٹر...

اکتوبر 11, 2022

اردو داستانوں کی عصری معنویت – پروفیسر عبدُ...

جون 7, 2022

اردو میں افسانچہ نگاری کا تحقیقی و تنقیدی...

مارچ 25, 2022

عبدالحلیم شررکے ناول: "فردوسِ بریں” کا تجزیاتی مطالعہ...

مارچ 11, 2022

ناول کا فن – پروفیسر عتیق اللہ

فروری 16, 2022

قرۃ العین حیدر اور عبد اللہ حسین: ایک...

فروری 16, 2022

اردو اور عربی قصیدہ نگاری: ایک مطالعہ –...

فروری 6, 2022

آشوب دہلی اور دستنبو – پروفیسر صالحہ رشید 

جنوری 26, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں