’اسلامک اسٹڈیز‘کے مشمولات جدید نہیں ہے،لیکن اس کا نام نیا ضرور ہے۔مغرب میں اس پر تقریباً دو ڈھائی صدیوں سے علمی اور تحقیقی کام جاری ہے۔ البتہ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ مغربی ممالک میں اسے مختلف نام دیے گئے ہیں۔جرمنی میں اس کے لیے "Islamwissenschaft” اور "Islamstudien”جب کہ انگلستان میں "Islamic Studies”کی اصطلاح مستعمل ہے۔
مغرب میں اسلامک اسٹڈیز کا باقاعدہ آغاز سترہویں صدی میں ہوااوروہاں کی یونی ورسٹیوں میں اس کے باضابطہ شعبے قائم ہوئے۔تاریخ بتاتی ہے کہ ان کا مقصد مسلم ممالک کے تاریخی، ادبی، سیاسی، سماجی، تہذیبی،معاشی اور معاشرتی احوال سے واقفیت حاصل کرنا تھا تاکہ بہ وقت ضرورت حاصل شدہ معلومات سے فائدہ اٹھایا جاسکے،البتہ ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ نے اسلامک اسٹڈیزکا باقاعدہ آغاز انیسویں صدی سے مانا ہے چناں چہ وہ اس حوالے سے لکھتے ہیں:
’’بلاد مغرب میں جب مشرقی ملکوں کا تحقیقی مطالعہ شروع ہوا تو ابتدا میں مستشرقین کی توجہ بیشتر مشرقی زبانوں اور ان کے متعلقہ آداب پر مبذول رہی،اس کے بعد تاریخ وتمدن کی باری آئی،باقی رہے مذاہب وادیان تو ان کی بحث اگرچہ ان کے دائرۂ تحقیق سے کلیۃً خارج نہ تھی،تاہم ایک مدت دراز تک ان پر خصوصی توجہ نہ دی جاسکی،آخر کار جب ان کی طبیعتیں لسانی اور ادبی مباحث سے قدرے سیر ہو چکیں تو ان کی توجہ رفتہ رفتہ اسلامی دینی علوم کی طرف منعطف ہوئی اور اس توجہ کا بالآخر یہ نتیجہ ہوا کہ انیسویں صدی کے نصف ثانی میں ’اسلامک اسٹڈیز‘ نے ایک مستقل شعبہ کی حیثیت اختیار کی۔‘‘(۱)
اسلامک اسٹڈیزکا اصل اور بنیادی موضوع اسلام اور اس کی تعلیمات ہے نیز اس میں اسلامی تاریخ کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔بقول پروفیسر سید مقبول احمد:
’’اسلامک اسٹڈیز اتنا ہی قدیم مضمون ہے جتنا کہ اورینٹلزم۔اس سے مراد اسلامی تہذیب و تمدن کی تاریخ ہے،اس کے علاوہ اسلامک اسٹڈیز پر ریسرچ یا اس کی تعلیم میں اس بات کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ اسلام کے ہر پہلو پر تاریخی نقطۂ نظر سے کام ہو اور اس پر روشنی ڈالی جائے۔‘‘(۲)
جہاں تک برصغیر میں اسلامک اسٹڈیز کی تاریخ کی بات ہے تو اس کا ذکر سب سے پہلے کلکتہ یونی ورسٹی کمیشن میں ملتاہے،نیز علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی پہلی ایسی یونیورسٹی ہے جہاں باقاعدہ اس کے لیے ۱۹۵۱ء میں شعبہ قائم ہوا۔(۳)البتہ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ برصغیر میں ’اسلامک اسٹڈیز ‘کی اصطلاح سے پہلے ’دینیات‘ کی اصطلاح رائج تھی ،لیکن اس کا دائرہ بہت محدود تھا جس میں دینِ اسلام کے بنیادی عقائد وغیرہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔آج بھی بعض ناواقف حضرات اسلامک اسٹڈیز سے مراد دینیات ہی سمجھتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں مشرق و مغرب کا فرق ہے۔اسلامک اسٹڈیز میں تاریخی پہلو سے بحث کی جاتی ہے ،جب کہ دینیات میں عقائد کی تعلیم دی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض جامعات میں دینیات کا الگ سے شعبہ قائم ہے۔اس وقت ملک کی اہم جامعات جیسے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی،علی گڑھ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی،یونی ورسٹی آف کشمیر،سری نگر ،جامعہ ہمدرد ،نئی دہلی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی،حیدرآباد وغیرہ میں اسلامک اسٹڈیز کے باقاعدہ اس کے شعبے قائم ہیں۔ذیل میں فرداً فرداًدرج بالا پانچ جامعات کے شعبہ اسلامک اسٹڈیزکا مختصراً ذکراور ان میں رائج ایم ۔اے اسلامک اسٹڈیز کے نصاب کاتعارف اور تجزیاتی مطالعہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے نیز نتائج اورتجاویزبھی پیش کی گئیں ہیں۔آخر میں اس بات کی وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ مقالہ نگار نے تمام ہی جامعات کے موجودہ نصاب کا تجزیہ کیا ہے۔
(۱)علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی،علی گڑھ
علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کا باقاعدہ آغاز ۱۹۵۱ء سے ہوتا ہے۔شروع میں(۱۹۵۰ء) اسے شعبہ عربی کے تحت رکھا گیا۔مارچ ۱۹۵۴ء سے ۱۹۶۷ء تک یہ ’دی انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز‘(The Institute of Islamic Studies) کے نام سے معروف رہا۔اس کا مقصد اسلامی تاریخ ،تہذیب و ثقافت ،مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے ممالک میں سماجی،سیاسی،معاشی،اور تہذیبی روایات کا تحقیقی مطالعہ کرنا تھا ،نیز جدید عربی ،فارسی اور ترکی زبان و ادب سے بھی واقفیت حاصل کرنا تھا۔ ۶۹-۱۹۶۸ء میں اس کے لیے الگ شعبہ ’شعبہ اسلامک اسٹڈیز ‘ کے نام سے قائم کیا گیا،جس میں طلبہ و طالبات کو بی اے،ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی جاتی ہے۔ اس کے بھی اغراض و مقاصد کم و بیش وہی ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ان مقاصد کے پیش نظر ایم اے کے نصاب کے تعارف اور جائزے کو حسب ذیل نکات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:
٭نصاب کے مطالعہ کے دوران اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ اس میں قدیم وجدید مسلم تاریخ کے سنگم کو ملانے کی کام یاب کوشش کی گئی ہے،نیز اسلام اور اس کے بنیادی مآخذ کو جاننے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن،حدیث،تفسیراورفقہ،وغیرہ کو باقاعدہ ایک موضوع کی حیثیت دے کر نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔
٭نصاب کے مطالعہ میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس میں طلبہ وطالبات کو اسلامک اسٹڈیز کے آغاز وارتقا، ہندوستان میں اس کی شروعات نیز اس کے بعض اہم انسٹی ٹیوٹ وغیرہ سے بھی واقف کرانے کی کوشش کی گئی ہے جو لائق تحسین ہے۔عموماً طلبہ اس سے واقف نہیں ہوتے ہیں۔
٭دورانِ مطالعہ یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ نصاب میں قدیم وجدید دونوںموضوعات کو شامل کیا گیا ہے،جن میں بعض اہم تحریکات اور شخصیات (ابن خلدون،الغزالی،ابن تیمیہ،حضرت شاہ ولی اللہ،اشرف علی تھانوی،محمد اقبال،شبلی نعمانی اورسیدابوالاعلیٰ مودودی وغیرہ)نیز ان کے افکار ونظریات،علم کلام، تصوف، مسلم فلسفہ،مسلم تاریخ نویسی،مسلم جغرافیہ نویسی ،اسلامی فنون اور فن تعمیر،بعض اہم مسلم فرقے اور مسلم اسپین کا علمی وفکری ورثہ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔البتہ شخصیات کوالگ الگ پیپر کی حیثیت دے کر نسبتاً طویل کردیا گیا ہے جو غیر ضروری معلوم ہوتا ہے۔
٭نصاب کے مطالعہ سے اس حقیقت کا بھی انکشاف ہواکہ اس میں ’اسلامی تہذیب وثقافت‘ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اوراختیاری مضامین کے تحت بعض مسلم ممالک( ایران،ترکی،وسط ایشیا، افریقہ، ہندوستان)کے حکم رانوں،اہل علم وفن اور اہم شخصیات کی جانب سے اسلامی تہذیب وثقافت کے مختلف گوشوںپران کی خدمات کا نصاب میں جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔
٭ نصاب کے مطالعہ میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس میں بعض نئے موضوعات کو بھی شامل کیا گیا ہے جو جدید دنیا سے بھی مطابقت رکھتے ہیں اور وقت اور حالات کے متقاضی ہیں،بالخصوص ’اسلامی سیاسی افکار ونظریات ‘اور ’اسلامی معاشی افکار ونظریات‘کے تحت پڑھائے جانے والے موضوعات جن میں سیاست ،معیشت ،انشورنس ،بینکنگ اور شیئر مارکیٹ وغیرہ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ان موضوعات کا قرآن وسنت اور فقہ وغیرہ کے ذریعہ جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے نیز طلبہ و طالبات کو متقدمین اور مؤخرین میں سے بعض اہم مفکرین کے افکارونظریات سے متعارف کرایا گیا ہے ۔دیگرچند اہم مضامین درج ذیل ہیں:
1:ISLAMIC INSTITUTIONS.
2:INTRODUCTION TO ISLAMIC STUDIES.
3:ISLAM IN CHINA. 4: ISLAM IN EUROPE AND AMERICAS.
٭نصاب کے تجزیے کے دوران یہ بات بھی اہم ہے کہ اس میں مذاہبِ عالم کو بہت کم جگہ دی گئی ہے،جب کہ اسلامک اسٹڈیز کے طلبہ وطالبات کو دنیا کے بڑے مذاہب اوراس کی بنیادی تعلیمات سے ضرورواقف ہونا چاہیے۔
٭نصاب کے مطالعہ میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس میںاختیاری مضامین کے تحت ایک مضمون ’اسلامی تہذیب کا تعارف- دسویں صدی تک ‘ کے نام سے شامل کیا گیا ہے ۔یہ ان طلبہ وطالبات کے لیے ہے جن کے پاس بی اے میں اسلامک اسٹڈیز نہ ہواور جن کے پاس رہی ہو ان کے لیے ’سرسید احمد خاں کا خصوصی مطالعہ‘کے نام سے ایک پیپر رکھا گیا ہے۔
٭دورانِ مطالعہ اس بات کا بھی ادراک ہوا کہ نصاب میں ابتدائی عربی؍فارسی؍ترکی زبان وادب کے حصول پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے،چناں چہ ہر سمسٹر میں اختیاری مضمون کے تحت ان میں سے ایک زبان کونصاب میںشامل کیا گیا ہے ۔یہ اس لحاظ سے بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلامک اسڈیز کے بنیادی مآخذومصادر عربی میں ہی ہیں توطلبہ وطالبات کو اولین مآخذ تک پہنچنے میں آسانی ہوگی۔نیز اسلامک اسٹڈیزکے مطالعہ میں فارسی زبان سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔البتہ اس میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ جس نے درج بالا زبانوں میں سے کسی کو پہلے سے پڑھ رکھا ہے تو اسے وہ پھر اپنے لیے منتخب نہیں کر سکے گا۔
٭نصاب کے مطالعہ سے اس بات کا بھی احساس ہوا کہ یہ یوجی سی(UGC)کی طرف سے منعقد ہونے والے امتحان جے آر ایف(JRF)اور نیٹ(NET)کے نصاب سے بہت حد تک مطابقت رکھتا ہے،البتہ اس میں بعض پہلو جیسے "Dynasties of East and West” کے تحت مختلف مسلم حکومتیں ،ہندوستان میں برطانوی عہد،تجارت اورصنعت وحرفت وغیرہ کو شامل نہیں کیا گیا ہے جس سے تشنگی محسوس ہوتی ہے۔
(۲)جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسلامک اسٹڈیز شروع سے ہی نصاب کا حصہ رہا ہے۔۱۹۷۵ء میں قیام کے وقت یہ’شعبہ اسلامک ہند عرب ایرانین اسٹڈیز‘ (Department of Islamic and Arab-Iranian Studies)کا حصہ تھا پھر ۱۹۸۸ء میں مستقل طور پر شعبہ اسلامک اسٹڈیز کا قیام عمل میں آیا۔اس شعبہ میں طلبہ و طالبات کو بی اے،ایم اے اور پی ایچ ڈی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایم اے کے مقاصد میں طلبہ و طالبات کو مسلم تاریخ،تہذیب وثقافت،قرآن،حدیث،فقہ،تصوف،مسلم فرقوں،علم کلام، مسلم فلاسفی،اسلام ہندوستان میں،دنیا کے بڑے مذاہب،مسلم اصلاحی تحریکیں،بعض اہم مسلم مفکرین،مستشرقین،غیرمسلموں کی اسلامک اسٹڈیز کے میدان میں خدمات، سائنس ، ٹکنالوجی، فنون لطیفہ اور فن تعمیر میں عہد وسطیٰ کے مسلمانوں کی خدمات کے تعلق سے گہری معلومات دینا ہے نیزانہیں عربی زبان سے بھی واقف کرانا ہے۔ اس لحاظ سے ایم اے کے نصاب کے تعارف اور تجزیہ کو حسبِ ذیل نکات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:
٭نصاب کے مطالعہ سے اس حقیقت کا ادراک ہواکہ یہ اپنے مقاصد کے عین مطابق ہے اور یہ یوجی سی(UGC)کی طرف سے منعقد ہونے والے امتحان جے آر ایف(JRF)اور نیٹ(NET)کے لحاظ سے بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کیوں کہ اس میں یوجی سی کے نصاب کے تقریباًتمام گوشے شامل ہیں جس سے طلبہ وطالبات کو اس کی تیاری میں مدد ملے گی۔
٭دورانِ مطالعۂ نصاب یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس میں مسلم تاریخ اور مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے چناں چہ عہد نبوی،خلفائے راشدین،عہد اموی،عہد عباسی،عہد فاطمی،عہد ایوبی،عہد مملوک ،عہد سلجوق،عہد غزنوی،عہد سامانی اورعہد صفوی وغیرہ کے مختلف اہم گوشوں کونصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔
٭نصاب کے مطالعہ سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس میںاسلامی علوم یعنی قرآن،حدیث،فقہ اور تصوف کو شامل کیا گیا ہے لیکن قرآن اور حدیث کو ایک پیپر کے تحت جب کہ فقہ اور تصوف کو ایک پیپر کے تحت جگہ دی گئی ہے،جس سے ان کا دائرہ محدود ہو گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور اس کی شریعت کو جاننے اور سمجھنے میں اول الذکر تین کا بہت ہی اہم کردار ہے ۔اس لحاظ سے اس کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔
٭نصاب کے مطالعہ کے دوران اس حقیقت کا بھی ادارک ہوا کہ اس میں ’اسلام دور جدید میں‘ کے تحت مغربی ایشیا،وسط ایشیا اورجنوب مشرقی ایشیاوغیرہ کے ممالک میں اسلام اور مسلمانوں کے مختلف گوشوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔نیزبرصغیر میں اسلام، مسلم حکومتیں،مسلم تعلیمی اور مذہبی تحریکیں،مسلم مفکرین و مصلحین،ان کے افکار ونظریات اور خدمات وغیرہ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ،نیزان حوالوں سے نصا ب میں کئی پیپر شامل کیے گئے ہیں۔
٭نصاب کے تجزیہ میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس میں مذاہب کے مطالعے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور دنیا کے تمام بڑے مذاہب کے آغاز وارتقا،ان کے بانی،تعلیمات اور خدمات وغیرہ کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔یہ اسلامک اسٹڈیز کے طلبہ وطالبات کے لیے ضروری بھی ہے۔
٭نصاب کے مطالعہ سے اس بات کا بھی احساس ہوا کہ اس میں بعض اہم اورجدید موضوعات کوبھی شامل کیا گیا ہے جس کی اسلامک اسٹڈیز میں غیر معمولی اہمیت ہے ،البتہ اسے اختیاری مضامین کے تحت رکھا گیا ہے۔اس میں
1: Orientalism.
2:Non-Muslim’s Contribution to Islamic Studies. 3:Special Study of Medieval Muslim Contribution to Science and Technology. 4:Special Study of Medieval Muslim Contribution to Fine Arts and Architecture. وغیرہ شامل ہیں۔اس میں "Orientalism” کا پیپر خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ اس کے غیر معمولی اثرات اسلام ،اسلامی مآخذ ومصادراور مسلمانوں پرمرتب ہوئے ہیں۔اس لحاظ سے طلبہ وطالبات کو حقیقی صورت حال سے واقف ہونا انتہائی ضروری ہوجاتا ہے۔’اسلامک اسٹڈیز میں غیر مسلموں کی خدمات ‘ بھی اہم اور دلچسپ موضوع ہے۔غیر مسلموں نے بالخصوص ہندوؤں نے اس میں حصہ کیوں لیا؟ اور ان کی اس سلسلے میں کیا اورکن میدانوں میں خدمات رہی ہیں؟ان سوالوں کے جواب اس کے ذریعے ملتے ہیں۔واضح رہے کہ یہ صرف مدارس سے فارغین کے لیے ہے۔اختیاری مضامین میںدوسرامضمون عربی ہے جس میں دروس اللغۃ العربیۃ اور قصص النبیین کے بعض منتخب اسباق کے علاوہ عربی زبان کے قواعد وغیرہ ہیں۔اس کا مقصد یہ ہے کہ اسکول اورکالج سے آنے والے طلبہ وطالبات عربی زبان سے نہ صرف واقف ہو سکیں بلکہ اس میں بقدرِ ضرورت ماہر بھی ہوں۔
٭نصاب کے مطالعہ میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس میں سی بی سی ایس(CBCS)کے تحت دو پیپر رکھے گئے ہیں۔پہلا ’مسلم تہذیب کی تاریخ -اسلام کے آغاز سے خلافت راشدہ تک‘اور دوسرا’مسلم اصلاحی تحریکیں؍مسلم دانش ور ومفکرین ؍مراکزبرصغیر کے تناظر میں‘کے عنوان سے ہے۔یہ وہ پیپر ہیں جن کو دوسرے شعبہ کے طلبہ وطالبات بھی منتخب کر سکتے ہیں۔
(۳)یونی ورسٹی آف کشمیر،سری نگر
اس یونی ورسٹی کا قیام ۱۹۴۸ء میں ہوا۔ اسلامک اسٹڈیز کی تدریس و تحقیق کے لیے’شاہ ہمدان انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز‘ کا قیام ۱۹۸۸ء میں عمل میں آیا۔اس میں اسلامک اسٹڈیز سے ایم اے،ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جاتی ہے۔اس شعبہ کے بعض اہم مقاصدیہ ہیں کہ طلبہ وطالبات کو بنیادی اسلامی علوم،مسلم تاریخ اورتہذیب ثقافت سے روشناس کرایا جائے ، ان میںجدید دور کے ثقافتی، سیاسی سماجی اور معاشی مسائل کو اسلام کی روشنی میں حل کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے،دنیاکے بڑے مذاہب اور ان کی تعلیمات سے واقف کرایا جائے اوران کو عربی ،فارسی اورکشمیری زبان و ادب کا ماہر بنایا جاسکے ۔اس لحاظ سے ایم اے کے نصاب کے تعارف اور تجزیاتی مطالعہ کو درج ذیل نکات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:
٭نصاب کے مطالعہ سے اس حقیقت کاادراک ہوا کہ اس میں قدیم وجدید دونوں طرح کے موضوعات شامل کیے گئے ہیں۔جہاں نصاب میں ایک طرف اسلامی علوم کا ایک بڑا حصہ شامل کیا گیا ہے وہیں دوسری طرف بعض جدید علوم کو بھی جگہ دی گئی ہے۔البتہ غالباً قدیم وجدید کاسنگم بنانے کی وجہ سے اس نصاب میں ایک پہلو کی کمی رہ گئی ہے ،وہ یہ کہ اس میںیوجی سی (UGC)کی جانب سے ہونے والے امتحان جے آر ایف(JRF)اور نیٹ(NET)کے نصاب کا بعض حصہ رہ جاتا ہے جیسے”Islam in India, Modern Trends, Movements in Islam” etc.
٭نصاب کے مطالعہ سے اس بات کا بھی احساس ہوا کہ اس کی تیاری میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جامعہ ہمدرد کے ایم اے کے نصاب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے کیوں کہ اس میںان تینوں ہی کا عکس نظر آتا ہے۔چناں چہ جہاں اس میں مسلم تاریخ ،اسلامی تہذیب و ثقافت،اسلامی سائنس،علم کلام،مسلم فلسفہ،استشراق اور مستشرقین،اسلام اور مغرب،دنیا کے بڑے مذاہب،اسلامک اسٹڈیز کی تاریخ،اسپین میں اسلامی تہذیب،جدید دنیا میں اسلام،مسلم مفکرین و مصلحین، قرآن، حدیث، فقہ، تصوف، عربی اور فارسی زبان وادب پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں نصاب میں شامل کیا گیا ہے وہیں دوسری طرف بعض نئے موضوعات جو جدید دور کے متقاضی ہیں اور ان کے سلسلے میں دنیا اسلام کی طرف امید بھری نگاہ سے دیکھ رہی ہے ،ان کو بھی نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ان میں سے بعض اہم موضوعات درج ذیل ہیں:
1:Human Rights and International Relations. 2:Da‘wah and its Practices. 3:Islamic Social Sciences: Concepts and Development. 4:Ethics in Islam: Basic Concepts and Development. 5:Islamic Studies: Approaches and Methodology. 6:Islamic Finance and Banking. 7:Islam and Women. 8:Islam and Pluralism .
٭نصاب کے مطالعہ میں یہ بات بھی قابلِ ذکر نظر آتی ہے کہ اس میں ’کشمیر میں اسلامی سماج اور اس کی تہذیب-آغاز وارتقا‘کے موضوع پر بھی ایک پیپر شامل کیا گیا ہے تاکہ طلبہ وطالبات اپنی تہذیب وثقافت کی تاریخ سے واقف ہو سکیں۔
(۴)جامعہ ہمدرد،نئی دہلی
جامعہ ہمدرد میں اسلامک اسٹڈیز کا شعبہ ۱۹۸۹ء میں قائم ہوا۔یہ "School of Humanities and Social Sciences” کے تحت آتا ہے۔پہلے یہ "Indian Institute of Islamic Studies”(IIIS) کے نام سے تھا،اس کا آغاز ۱۹۶۳ء میں ہوا تھا۔یہاں طلبہ وطالبات کو بی اے،ایم اے اور پی ایچ ڈی کے تحت تعلیم اور ڈگری دی جاتی ہے۔ایم اے، اسلامک اسٹڈیز کا مقصد طلبہ وطالبات کو اسلام،مسلم تہذیب و ثقافت کی تاریخ ،کثیر ثقافتی ملک میں اسلام کی حیثیت،کثیر مذہبی معاشرے میں مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان بات چیت کی اہمیت نیزگلوبل دنیا اور ہندوستان میں مسلم معاشرے کو درپیش بعض اہم مسائل پر اسلام کے موقف ،اس کی اہمیت اور صحیح معلومات سے واقف کراناہے۔اس لحاظ سے اگر ایم اے کے نصاب کاتعارف اور تجزیہ کیا جائے تو ماحصل کو درج ذیل نکات میں پیش کیا جاسکتا ہے:
٭ایم اے ،اسلامک اسٹڈیز کے مقاصد میں اگرچہ یہ بات شامل کی گئی ہے کہ طلبہ وطالبات کو مسلم تاریخ اوران کی تہذیب و ثقافت کے تعلق سے وسیع اور گہری معلومات دی جائے گی لیکن درحقیقت نصاب میں یہ پہلو خالی نظر آتا ہے ۔ مسلم تاریخ جیسے عہد نبوی ،خلفائے راشدین،عہد اموی،عہد عباسی،عہد فاطمی اور عثمانی ترک وغیرہ جیسی عظیم سلطنتوں کے تعلق سے باقاعدہ کوئی پیپر نصاب میں شامل نہیں کیا گیاہے۔یہ پہلو اس لحاظ سے بھی طلبہ وطالبات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے کہ مسلم تاریخ کا ایک بڑا حصہ یوجی سی(UGC)کی طرف سے منعقد ہونے والے امتحان جے آر ایف(JRF)اور نیٹ(NET)کے نصاب میں شامل ہے۔
٭نصاب کے مطالعہ میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس میںمستشرقین کے حوالے سے باضابطہ کوئی مضمون شامل نہیں کیا گیا ہے، جیسا کہ دیگر جامعات کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں توجہ دی گئی ہے ۔البتہ اس کمی کو "Islam and the West” سے پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے،لیکن پھراسے اختیاری پیپر کے تحت رکھا گیا ہے۔مستشرقین کی اکثریت نے اسلام اور مسلمانوں کے علمی خزانے کے تعلق سے کیا گل کھلائے ہیں ،اس سے ہم سب بخوبی واقف ہیںنیز ان کی کتابوں نے مسلمانوں پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں اسے نظر انداز کرنا مناسب نہیں معلوم ہوتا ہے۔لہذا اس کمی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
٭نصاب کے مطالعہ کے دوران اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ نصاب اس میں جدید تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا گیاہے چناں چہ اس میں بعض ایسے موضوعات شامل کیے گئے ہیں جو دیگر جامعات میں نہیں ہیں۔ ان میں بعض تو باضابطہ پیپر کی شکل میں ہیں اور بعض ایک یا دو یونٹ کے تحت ہیں جیسے:
1:Islam and the Promotion of Knowledge.2:Islamic Banking and Finance.3:Human Rights in Islam.4:Islam and Pluralism in India.5:Ijtihad: Theory and Practice.6:Islamic Ethics.7:Islamic Response to Modernity.8:Islamic Dawah.
درج بالا موضوعات یقینا جدید تقاضوں سے مطابقت رکھتے ہیںاور ان کی اہمیت و افادیت سے انکار کرنا مشکل ہے۔وقت اور حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ طلبہ و طالبات ان میدانوں میں مہارت حاصل کریں۔البتہ قدیم وجدید میں اعتدال قائم رکھنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
٭دورانِ مطالعہ یہ بات بھی قابلِ ذکر نظر آئی کہ نصاب میں عربی اور انگریزی زبان کے حصول پر خصوصی توجہ دی گئی ہے،چناں چہ ہر سمسٹر میں عربی اور انگریزی زبان کا ایک پیپر شامل کیا گیا ہے جس میں گرامر وغیرہ پر زیادہ زور دیا گیا ہے تاکہ طلبہ وطالبات کی عربی اور انگریزی زبان بہتر سے بہتر ہوسکے۔اس میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے کہ فارغینِ مدارس انگریزی اور اسکول سے فارغ طلبہ و طالبات عربی زبان کا انتخاب کریں۔یہ اس لحاظ سے بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلامک اسٹڈیز کے بنیادی مآخذومصادر عربی میں ہی ہیں توطلبہ وطالبات کی اولین مآخذ تک رسائی ممکن ہو سکے۔ جہاں تک بات انگریز ی زبان کی ہے تو اس کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مغربی افکار و نظریات کا مطالعہ کرنا ہے یا ان پر نقد کرنا ہے تو بھی اس سے واقف ہونا ضروری ہے، نیز ان تک اپنی بات پہنچانی ہے تو بھی اس میں مہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔
٭نصاب کے تجزیے کے دوران یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بعض ایسے موضوعات جو اسلامک اسٹڈیز میں اہم ستون کا درجہ رکھتے ہیں ،انہیں نظر اندا زکرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے،البتہ ان میں سے بعض کو اختیاری مضامین کے تحت رکھا گیا ہے۔ان موضوعات کو بالعموم تمام ہی جامعات میں پڑھایا جاتا ہے۔ایک پہلو جس پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس ہوئی وہ یہ کہ نصاب میں قرآن ،حدیث اور تفسیر پر کم توجہ دی گئی ہے اور ان تینوں کو ایک ہی پیپر کے تحت رکھا گیا ہے ،جب کہ واقعہ یہ ہے کہ اسلام اور اس کی تعلیمات کو جاننے نیز جدید مسائل کے اجتہادمیں ان تینوں کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔
(۵)مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی ،حیدر آباد
اس یونی ورسٹی میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کا قیام ۲۰۱۲ء میں ہوا۔اس شعبہ کے ذریعہ ڈپلومہ ،بی اے ،ایم اے،ایم فل اور پی ایچ ڈی کا کورس متعارف کرایا گیا ہے۔اسلام کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک مکمل نظامِ حیات رکھتا ہے اور انسانیت کی خوش حالی اسی میں مضمر ہے۔اس لیے دنیا جدید مسائل بالخصوص سیاسی اور سماجی مسائل کا حل اسی میں تلاش کر نے کی کوشش کر رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس شعبے کے قیام کا سب سے اہم مقصد اسلامک اسٹڈیز میں ایسے کورسز کو متعارف کرانا ہے جو جدید نقطۂ نظر سے مطابقت رکھتے ہوں۔اس لحاظ سے ایم اے کے نصاب کے تعارف اور تجزیہ کو درج ذیل نکات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:
٭نصاب کے مطالعہ سے اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ یہ اپنے مقاصد کے عین مطابق ہے کیوں کہ اس میں قدیم و جدید دونوں موضوعات شامل کیے گئے ہیں۔اس میں جہاں ایک طرف قرآن ،تفسیر،حدیث،فقہ،تصوف،مسلم تہذیب وثقافت،مسلم تاریخ،عقائد،علم کلام اورہندوستان میں اسلام وغیرہ کے اہم پہلوؤں کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے وہیں دوسری طرف بعض جدید عناوین جیسے اسلامی افکارونظریات، اسلام اور جدید مسائل،اسلام اورجدید رجحانات اوراسلامی مطالعات میں غیر مسلموں کی خدمات وغیرہ کے تحت مختلف موضوعات کو بھی نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔
٭نصاب کے مطالعہ میں ایک کمی کا بھی احساس ہوا کہ اس میں بطور زبان صرف عربی کو نصاب میں جگہ دی گئی ہے۔اس میں بعض دیگر زبانوں (فارسی،انگریزی)کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے کیوں کہ اسلامک اسٹڈیز کابڑا اور اہم ذخیرہ ان دونوں زبانوں میں موجود ہے۔
٭نصاب کے مطالعہ میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس نصاب سے طلبہ و طالبات کو یوجی سی(UGC)کی طرف سے منعقد ہونے والے امتحان جے آر ایف(JRF)اور نیٹ(NET)میں کافی حد تک مدد ملے گی۔
نتائج
درحقیقت اس میں درج ذیل سوالوں کے جوابات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے:
(الف)وہ کون سے مضامین ہیں جو پانچوں جامعات میں مشترک ہیں؟اس میں کن موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے اور ان کا دائرہ کتنا ہے؟
(ب)پانچوں جامعات میں قدیم ؍روایتی اور جدید مضامین کون کون سے ہیں؟ اور ان کا تناسب کیا ہے؟
٭کن جامعات میں جدیدمسائل اور تقاضوں کے تحت عصری موضوعات کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے؟
(ج) پانچوں جامعات میں زبان و ادب پر کتنی توجہ دی گئی ہے اور ان میں کن زبانوں کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے؟
(د)کس جامعہ کا نصاب یو جی سی(UGC)کی طرف سے منعقد ہونے والے JRF,NETکے نصاب میں زیادہ معاون و مدد گار ہے؟نیز پچھلے پانچ سال کے دوران ان جامعات میں کتنے طلبہ وطالبات نے JRF,NET کوالیفائی کیا ہے؟
مشترکہ موضوعات
٭مشترکہ قدیم اور روایتی مضامین کے تحت بہ حیثیت مجموعی اگرپانچوں جامعات کا جائزہ لیا جائے توبعض مضامین ایسے ہیںجوسب کے نصاب کا حصہ ہیں،البتہ بعض میں وہ مختصراً شامل کیے گئے اور بعض میں مفصل،جیسے قرآن،حدیث اور فقہ کے موضوع پر علی گڑھ، جامعہ ملیہ اسلامیہ،یونی ورسٹی آف کشمیر اورمولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کا نصاب تقریباً ملتا جلتا ہے جو تفصیلی ہے اور اس حوالے سے ان میں یوجی سی نیٹ کے نصاب کے پورے حصے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس جامعہ ہمدرد میں ان تینوں موضوع کو صرف ایک پیپر کے تحت رکھا گیا ہے جس سے تشنگی محسوس ہوتی ہے اور یوجی سی نیٹ کے نصاب کے معیار پر بھی پورانہیں اترتا ہے۔جہاں تک تصوف کے موضوع کی بات ہے تو یہ پانچوں جامعات میں تقریباً یکساں ہے۔
٭مسلم تاریخ اورمسلم حکومتوں کے حوالے سے اگر پانچوں جامعات کے نصاب کا جائزہ لیا جائے تو جامعہ ملیہ اسلامیہ،یونی ورسٹی آف کشمیر اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کا نصاب تقریباً یکساں ہے اوران میں اس حوالے سے تمام موضوعات کا احاطہ کیا گیاہے۔اس کے برعکس جامعہ ہمدرد اور بہت حد تک علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کا نصاب اس سے خالی نظر آتا ہے جیسے”Dynasties of East and West”, "The Ottoman and Safavid Empire etc.”وغیرہ جواسلامی تاریخ کا بڑا اور اہم حصہ ہیںنیز یوجی سی نیٹ کے نصاب میں شامل ہیں، مؤخر الذکر دو جامعات میں زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔
٭’علم کلام اور مسلم فلسفہ‘ میں ،علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی،جامعہ ملیہ اسلامیہ ،یونی ورسٹی آف کشمیراورمولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کا نصاب یکساں اور مفصل ہے، البتہ ثانی الذکر میں مسلم شخصیات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور انہیں اختیاری مضامین کے تحت باقاعدہ الگ سے شامل کیا گیا ہے۔جامعہ ہمدرد میں ان موضوعات کو نصاب کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے جس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
٭ ’علوم و فنون میں مسلمانوں کی خدمات‘ کے حوالے سے اگر تجزیہ کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ اس حوالے سے پانچوں ہی جامعات نے اپنے نصاب کا حصہ بنایا ہے ،البتہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی نے اسے الگ الگ اختیاری مضامین کے تحت کر کے اس کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کی کوشش کی ہے۔جامعہ ہمدرد نے اسے مختصر رکھا ہے جس سے بعض اہم اور مشہور مسلم سائنس دانوں کی حیات و خدمات کا پہلو دب گیا ہے۔
٭ ’اسلام ہندوستان میں‘ اسلامک اسٹڈیز کا اہم موضوع ہے۔اسے سوائے جامعہ ہمدرد کے چاروں جامعات نے نصاب کا حصہ بنایا ہے،البتہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی نے آزادی سے پہلے ہندوستان میں اسلام پر خاص توجہ نہیں دی ہے۔جامعہ ہمدرد میں اسے اختیاری مضمون کی حیثیت سے رکھا گیاہے اور وہ بہت مختصر ہے،نیز نیٹ کے نصاب کا اکثر حصہ اس سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔
٭’دنیا کے بڑے مذاہب‘کا موضوع جامعہ ملیہ اسلامیہ،جامعہ ہمدرد اور یونی ورسٹی آف کشمیر کے نصاب میں شامل ہے لیکن آخر الذکر میں بعض مذاہب جیسے عیسائیت وغیرہ کو جگہ نہیں دی گئی ہے۔علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کا نصاب اس موضوع سے خالی نظر آتا ہے جس سے تشنگی محسوس ہوتی ہے۔
٭’اسلامک اسٹڈیز میں غیر مسلموں کی خدمات‘کا موضوع اسلامک اسٹڈیز میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے،یہی وجہ ہے کہ پانچوں جامعات نے اسے اور اس کے مختلف پہلوؤں کو اپنے نصاب میں شامل کیا ہے۔بالعموم اس کے دو حصے کیے جاتے ہیں۔ایک استشراق اور دوسراہندوستانی پس منظر میں غیر مسلموں کی اسلامک اسٹڈیز میں خدمات۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی نے ان کو نصاب میں شامل تو کیا ہے لیکن بہت مختصر رکھا ہے ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ نے دونوں پہلوؤں سے الگ الگ پیپر تیار کیا ہے جس سے ا س کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے۔یونی ورسٹی آف کشمیر میں اول الذکر پہلو پر دو پیپر ہیں جب کہ ثانی الذکر کو نصاب میں جگہ نہیں دی گئی ہے۔جامعہ ہمدرد کا نصاب اس موضوع سے خالی نظر آتا ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مولانا آزاد نیشنل یونی ورسٹی میں دونوں پہلوؤں کو ایک ہی پیپر میں سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے ان کا دائرہ محدود ہوگیا ہے۔
٭’اسلام عصر جدید میں‘کو پانچوں ہی جامعات نے اپنے نصاب کا حصہ بنایاہے۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی نے اسے اختیاری مضامین کے تحت رکھا ہے جس کی وجہ سے اس کا دائرہ کافی وسیع ہوگیا ہے اور اس نے ’عصر جدید‘ میں جنوب مشرقی ایشیا،وسط ایشیا،جنوبی ایشیا، ہندوستان، ایران، ترکی، چین، امریکہ اور یورپ وغیرہ کو شامل کیا گیاہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اسے مغربی ایشیا،وسط ایشیا اور جنوب مشرق ایشیا تک محدود رکھا ہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اسے اختیاری مضامین کی حیثیت نہیں دی گئی ہے۔جامعہ ہمدرد میں جنوب ایشیا،جنوب مشرقی ایشیا اور مغربی ایشیاکو نصاب میں جگہ دی گئی ہے۔یونی ورسٹی آف کشمیر نے اس کو بہت مختصراً یعنی صرف جنوب ایشیا کے حوالے سے ہی موضوع بحث بنایا ہے ۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی نے اسے مغربی ایشیا اور شمالی ممالک، ترکی،ایران،جنوب مشرقی ایشیائی ممالک اوروسط ایشیا کے حوالے سے نصاب میں شامل کیا ہے۔
٭مختلف زبان وادب سے واقف ہونا اسلامک اسٹڈیز کے طلبہ وطالبات کے لیے انتہائی ضروری ہے کیوں کہ اس کے اولین اوربنیادی مآخذ ومصادرعربی اورفارسی میں ہی موجود ہیں۔نیز موجودہ دور میں انگریزی زبان جاننا بھی اہم ہے کیوں کہ یورپ میں اس حوالے سے نادر اور نایاب علمی ذخائر موجود ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پانچوں جامعات نے اس پہلو پر خصوصی توجہ دی ہے۔علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں عربی،فارسی اور ترکی، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں عربی،جامعہ ہمدرد میں عربی اور انگریزی ،یونی ورسٹی آف کشمیر میں عربی اور فارسی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی میں عربی زبان و ادب کو نصاب میں شامل کیا گیاہے۔واضح رہے کہ بعض جامعات میں اسے اختیاری مضامین کے تحت رکھا گیا ہے اور طلبہ وطالبات کو وہی زبان لینی ہوتی ہے جسے وہ پہلے سے نہ جانتے ہوں۔
جدید موضوعات
دوران ِ تجزیہ اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ بعض جامعات میں جدید اور عصر حاضرکے بعض اہم موضوعات کوبھی نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔اس کی دووجہیں ہو سکتی ہیں۔اول یہ کہ وقت اور حالات کا یہی تقاضا ہے ۔دوم یہ کہ اسلامک اسٹڈیزکے ماہرین میں اس کے دائرہ کے تعین میں اختلاف پایاجاتاہے۔ ایک طبقہ اسے تاریخ اور تہذیب و ثقافت تک محدود کرتا ہے جب کہ دوسرا طبقہ اس میں دینیات اور عقائد کو بھی شامل کرتا ہے، ظاہر ہے کہ جب دینیات اور عقائد کو نصاب کا حصہ بنایا جائے گا تو جدید موضوعات بھی اس میں آئیں گے۔ یہ فرق پانچوں جامعات کے نصاب میں نظر آتا ہے جو حسب ذیل ہے:
(الف)دینیات ،عقائداوراخلاقیات
٭علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میںدینیات اور بنیادی عقائد کو بھی مختصراً نصاب کا حصہ بنایاگیا ہے اور اسے "ISLAMIC INSTITUTIONS”کے تحت رکھا گیا ہے،البتہ اخلاقیات کے موضوع پراس میںکوئی پیپر نہیں ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کا نصاب ان پہلوؤں سے خالی نظر آتا ہے۔ یونی ورسٹی آف کشمیر نے انہیں اپنے نصاب میں تفصیلی جگہ دی ہے اور ان کو "Da‘wah and its Practices”, "Ethics in Islam: Basic Concepts and Development”کے عناوین سے شامل کیا ہے۔جامعہ ہمدرد نے انہیں نصاب میں مختصر طور پر جگہ دیتے ہوئے "Islamic Dawah”, "Islamic Ethics”کے تحت رکھا ہے۔مولانا آزادنیشنل اردو یونی ورسٹی نے ان کے لیے ایک پیپر ’اسلام کے مبادی‘مخصوص کیا ہے ۔
(ب)جدید اور عصری موضوعات
جدید اور عصری موضوعات کا جائزہ لیا جائے تو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں اسلامک اسٹڈیزکا تعارف،اسلامی سیاسی افکار اور اسلامی معاشی افکاروغیرہ جیسے اہم مضامین نصاب میں شامل ہیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کا نصاب اس حساب سے تقریباً خالی نظر آتا ہے کیوں کہ یہاں مسلم تاریخ ،تہذیب اور ثقافت پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔یونی ورسٹی آف کشمیر نے "Human Rights and International Relations, Islamic Studies: Approaches and Methodology, Islamic Finance and Banking, Islamic Social Sciences: Concepts and Development, Islam and Women, Islam and Pluralism” etc .جیسے جدید موضوعات کو نصاب کا حصہ بنایا ہے۔جامعہ ہمدرد نے جدید اور عصری موضوعات کے تحت نصاب میں "Islam and the Promotion of Knowledge, Islamic Banking and Finance, Human Rights in Islam, Islam and Pluralism in India” کو جگہ دی ہے۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی نے ’اسلام اور جدید مسائل‘اور’اسلامی افکار ونظریات‘کے تحت اسلام اور تعلیم،اسلام اور حقوق انسانی،اسلام اور ماحولیات، اسلام میں خواتین کے حقوق ،سماجی،سیاسی،معاشی اور اخلاقی نظریات وغیرہ جیسے اہم موضوعات کو نصاب میں شامل کیا ہے۔
تجاویز
نصاب کے تجزیے کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس حوالے سے بعض تجاویز اور مشورے بھی دیے جائیں جودرج ذیل ہیں:
٭نصاب میں’ علاقائی مطالعہ‘(Area Study)کو بھی شامل کیا جائے تاکہ طلبہ وطالبات کو ہندوستان میں مختلف تہذیب وثقافت کا علم ہو سکے۔ اسے تقابلی مطالعہ کے تحت بھی کیا جاسکتا ہے جیسے جنوب اور شمال کی تہذیب وثقافت کا تقابلی مطالعہ ۔
٭بعض جامعات کے نصاب میں "Contemporary Study”کا حصہ کم ہے ،اسے وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔
٭”Global Issues”کو اسلامک اسٹڈیز کے نصاب میں شامل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
٭طلبہ و طالبات کو نصاب میں شامل تاریخی مقامات کا عملاً مشاہدہ کرایاجائے تاکہ وہ صرف کتابوں تک ہی محدود نہ رہ جائیں۔
٭جدید موضوعات پر ان کے ماہرین کی جانب سے لیکچر سریز کا اہتمام کیا جائے۔یہ اس لحاظ سے بھی اہم ہو جاتا ہے کہ بعض جامعات کے نصاب میں جدید موضوعات شامل تو کر لیے گئے ہیں لیکن ان کے ماہرین شعبہ میں موجود نہیں ہیں۔اس کمی کو لیکچر سریز سے پورا کیا جاسکتا ہے۔
٭اسلامک اسٹڈیز کے بعض اہم اور بنیادی مآخذ کو بھی نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ طلبہ وطالبات کم از کم ان کو دیکھ اور پڑھ سکیں ۔
٭مسلم اقلیتوں کو مطالعہ کا موضوع بنایا جائے اوراس میں ہندوستان کے مسلمانوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔یوں بھی فقہی کتابیں اس حوالے سے خاموش ہیںکیوں کہ زمانۂ عروج میں اس کا تصور بھی نہیں کیا گیا تھا کہ مسلمان کبھی اقلیت میں ہوں گے۔
٭نصاب میں یو جی سی نیٹ کے نصاب کا احاطہ کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ طلبہ وطالبات کو کوالیفائی کرنے میں آسانی ہو۔جن جامعات میں اس پہلو سے توجہ دی گئی ہے ان کے یہاںکام یابی کا تناسب زیادہ نظر آتا ہے۔
٭نصاب پردو سال یا تین سال میں نظر ثانی کی جائے تاکہ اس میں وقت ،حالات اور جدید تقاضوں کے مطابق تبدیلی کی جا سکے، نیز اس میں بی اے کے نصاب کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ اسلامک اسٹڈیز کے وسیع دائرے کا احاطہ ہوسکے اور اعادہ بھی نہ ہو۔
٭٭٭
حواشی و حوالہ جات
(۱)عنایت اللہ،اسلامک اسٹڈیز کا مقصد اور اس کی تاریخ،ماہنامہ،معارف،دارالمصنفین،شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ،جون ۱۹۷۰ء،جلد ۱۰۵،شمارہ۶،صفحات ۴۱۰-۴۱۱
(۲)مقبول احمد،سید،اسلامک اسٹڈیز کی تاریخ اور اس کے تحقیقی مسائل،سہ ماہی مجلہ ،اسلام اور عصر جدید،ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز،جامعہ ملیہ اسلامیہ،جنوری ۱۹۹۰ء،جلد ۲۲،شمارہ۱،ص۱۶
(۳)مقبول احمد،اسلامک اسٹڈیز کی تاریخ اور اس کے تحقیقی مسائل
Dr. Mohd Usama
(Guest Lecturer)
Department of Islamic Studies
Jamia Millia Islamia- New Delhi-25
Mob.No: +91-9911319959
Email :usama9911@gmail.com
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

