آزادی کے بعد ادبی اُفق پر پروین شاکر کے مقدر کا ستارہ نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی دودھیا روشنی بکھیر کر ایک عہد کو متّحر کر دیا۔اس دودھیا روشنی کی میٹھی میٹھی چھاؤں میں صنفِ نازک کے جذبات کی رنگا رنگی قوس قزح کی مانند بکھری ہے۔جسکے ست رنگی جلو میں دل سوز تجربات ،تلخ اور شیریں محسوسات نیز دل آشفتگی کے لطیف محسوسات نمایاں ںہیں ۔انکی شاعری میں مٹّی کی مہک سانس کی خوشبو میں اُتر کر بھیگے ہوئے سبزے کی ترائی میں بلاتی ہے جہاں وصل کی خوشیاں کم اور فراق کی آہیں زیادہ سنائی دیتی ہیں۔یہ آہ جب شدّت کے اوجِ ثرّیا پر پہنچتی ہے اس وقت یہ ناگن کی پھنکار نہیں بلکہ جوگن کی چاہت بن جاتی ہے جو اپنے ہاتھوں سے جسکی ہتھیلیوں پر رنگِ حنا کی رمق ابھی باقی ہے،اپنے بے وفا محبوب کیلئے دُلہن سجانے کی آرزو کرتی ہے خصوصاًخوشبو کے اوراق پر نوخیزلڑکیوں کی اُمنگیں اور عشقیہ جذبات کی فراوانی قاری کے دامن ِدل کو اپنی پوری توانائی کے ساتھ گرفت میں لیتی ہے۔یہی دل گرفتگی پروین شاکر کی شاعری کے سرپر قبولیت اور مقبولیت کا تاج رکھتی ہے۔لہذاپروین کی شاعری میں بیتی باتوں کی یاد زلیخا کی طرح پیچھے سے دامن گیر ہوتی ہے۔بیشک ایسی یادوں کی پروائی میں ایک چبھن اور کڑواہٹ ہوتی ہے لیکن پروین شاکر کے یہاں یہ کڑواہٹ ا ن کی شخصیت کے عناصر سے رُل مل کر آتم منتھن کے بعد امرت بن جاتی ہے،جس میں ایک منفرد لذّت کا احساس ہوتا ہے ۔
ادا جعفری نے جس پیکر کو نوکِ قلم سے تراشا ہے اسکے کنجِ مژگاں میں کچھ ان کہے الفاظ باقی رہ گئے ہیں۔ساجدہ زیدیؔ کے درِدل پر دل کی دھڑکن تیز سنائی دیتی ہے۔زاہدہ زیدی ؔکے دل میں ادھورے سفر کی یاد تازہ رہتی ہے جو کب چھلک جائے کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔حسینہ سرور کے بند کیواڑوں پر بھی پیہم دستک ہوتی ہے جبکہ پروین کے یہاں یہ دروازے مقّفل ہوگئے ہیں ۔اس لئے پروین شاکر کا جمالیاتی شعوردل کے آتش دان میں آنچ کی تپش کو کچھ زیادہ محسوس کرتا ہے۔ فیضؔ احمد فیض،احمد فرازؔ ،احمد ندیم قاسمیؔ،ناصر کاظمیؔ ،اور پروین شاکرؔ ایک ہی صدی کے شاعر ہیں ۔احمد فرازؔ اس دن کے منتظر رہے جب صلیب گر صلیب پر ہو۔ناصر کاظمیؔ نے شہر کی بے رعنائی پر کفِ افسوس ملا۔احمد ندیم قاسمی ؔاُجالے کی تلاش میں رات کے بھیگنے کا منتظر رہے اور فیض ؔمظلوموں کیلئے انصاف طلب کرتے رہے۔ اس ماحول میں پروین شاکرؔ ؔنے دل اور صرف دل کی باتیں زیادہ کیں ایسا اس لئے کہ دل ہی وہ مرکز ہے جس کے اندر دُنیا کے تمام مسائل کو حل کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ پروین شاکر کی شاعری کے فانوس میں انسانی مسائل کے چراغ بھی جلتے ہیں جسکے اُجالے میں موصوفہ کی شاعری میں مزاحمتی پہلو نیز جذبات سے عاری خیال کے جلو بھی دِکھائی دیتے ہیں جو قاری کے ذِہن و خیال پر مانند بجلی کوندتے ہیں ۔لیکن زیر نظرمضمون اپنی نوعیت سے انفرادیت کا حامل اس لئے ہے کہ اب تک پروین شاکر کے حوالے سے جو بھی مضامین رقم کئے گئے ان میں اس پہلو پر روشنی نہیں ڈالی گئی کہ انہوں نے اپنی شاعری میں سائنسی اصطلاح کا بھی استعمال کیا ہے۔میں نے اس مضمون میں قاری کی آنکھوں سے اوجھل اس گوشے کی تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جہانِ ادب میں پروین شاکرکے چارشعری مجموعے ’’خوشبو‘‘،’’صد برگ‘‘،’’انکار‘‘اور’’خودکلامی ‘‘منظر عام پر آئے۔انگریزی ادب میں موصوفہ نے پوسٹ گریجویٹ تک تعلیم حاصل کی تھیںاور ایک کالج میں انگریزی کاپروفیسر بھی رہیں۔لیکن انہوں نے اپنے شعری مجموعے ’’خودکلامی ‘‘میں سائنسی اصطلاحات کا استعمال بڑی خوبی سے کیا ہے۔
اس مجموعے میں شامل نظم’’ چین ری ایکشن‘‘کے عنوان پر جب نظر مرکوز ہوتی ہے تو سب سے پہلے ذِہن کے پردے پر فیزکس کا ایٹومک ماڈل گردش کرنے لگتا ہے جہاں ایک ایٹم الیکٹرون،پروٹون اورنیوٹرون تین زروں سے ملکر بنا ہوتا ہے۔ایٹم کے مرکز میں ایک نیوکلیس ہوتا ہے۔جس کے اندر پروٹون اور نیوٹرون جبکہ مدار پر الیکڑون نیوکلیس کے چاروں طرف گردش کرتے ہیں۔الیکٹرون پر منفی ،پروٹون پر مثبت اور نیوٹرون پر کوئی چارج نہیں ہوتا ہے۔ایٹم بم بنانے کی تھیوری یہیں سے حاصل کی گئی تھی۔جس کے مطابق بیرون سے تابکاری لہریں پروٹون اور نیوٹرون پر مشتمل نیوکلیس پر پھینکی جاتی ہیں۔نتیجتاتابکاری لہروں اور نیوکلیس کے تصادم سے نیوکلیس ٹوٹتا ہے ۔اس عمل کو نیوکلیرفیشن کہتے ہیں جس کے دوران کثیرمقدارمیں توانائی خارج ہوتی ہے ۔اس عمل کے دوران جو تابکاری لہریں خارج ہوتی ہیں وہ انتہائی خطرناک ہوتی ہیں جو نسل آدم اور کائنات کے ہر شئے پر گہرے اثر ڈالتی ہیں۔تابکاری لہروں اور نیوکلیس کے تصادم کے دوران کم و بیش چھ ہزار کیلو واٹ حرارت خارج ہوتی ہے جس کی حدت اس قدر ہوتی ہے کہ اردگرد کی تمام چیزیں جل کر راکھ ہوجاتی ہیں۔اردو شاعری کے کینوس پر اپنے خیال کو ادب کے پیمانے میں ڈھالنے کے دوران اس میں شدت پیدا کرنے کے لئے پروین شاکر’’ پروٹون ‘‘اور ’’تابکاری لہروں‘‘ کا استعمال بڑی خوبصورتی کے ساتھ کرتی ہیں۔
(۱)سو عافیت اسی میں ہے
کہ ہم اندھیرے میں رہیں
اور اپنے اپنے نیوٹرونز سے
تعلقات ٹھیک رکھیں
تابکار نفرتوں کی زد میں ایک بار آگئے
تو پھر محبتوں کا اختیار ختم سمجھو۔!! (چین ریایکشن)’’خودکلامی‘‘
بایئولوجی سائنس کا وہ شعبہ ہے جس میںجانداروں کے بارے میں مطالعہ کیا جاتا ہے۔سائنس کے اسی شعبے میں خون اور اس کے اقسام کی تعلیم دی جاتی ہے۔خون انسانی جسم کا ایک قیمتی شئے ہے۔جس کے بغیر زندگی کا تصورناممکن ہے۔اس کے چار گروپ ہوتے ہیں۔گروپ A،گروپ B،گروپ AB اورگروپ O۔خون کے O گروپ رکھنے والے انسان میں کسی بھی گروپ کے خون کوو اخل نہیں کیا جاسکتا ہے۔لیکن اس گروپ کے خون کو ہرگروپ کے خون رکھنے والے انسان کو دیا جاسکتا ہے۔اس لئے اس گروپ کو یونیورسل ڈونر بھی کہتے ہیں۔گروپ O دو طرح کے ہوتے ہیں۔Oمنفی اور Oمثبت۔ان دونوں میں Oمنفی بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔آیئے دیکھئے پروین شاکر اپنی شاعر ی کے قرطاس پربائیولوجیکل سائنس کے اس اصطلاح کا استعمال کس طرح کرتی ہیں۔
جان!
تمہیں شاید نہ خبر ہو
بعض محبتیں
اپنے بلڈ گروپ میں
’’او۔منفی‘‘ ہوتی ہیں!
’’مجبوری کی ایک بات ‘‘(خود کلامی)
ایکو سسٹم بائیولوجیکل سائنس کا ایک اہم باب ہے ۔اس باب کے مطابق ایکوسسٹم جاندار اور غیر جاندار دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ان میں جاندار اجزاء تین حصوں پرمشتمل ہوتاہے۔پہلا پروڈیوسر،دوسراکنزیومراورتیسرا ڈی کمپوزر۔ایکوسسٹم میں پروڈیوسر(سبزپیڑپودے) سورج کی توانائی ماحول کے کاربن ڈائی آکسائیڈاور پانی کی مدد سے نوری ترکیب کا عمل انجام دیتے ہیں جس کے دوران کاربوہائیڈریٹ تیار ہوتا ہے جس میں شمسی توانائی کیمیائی توانائی کی شکل میں محفوظ ہوجاتی ہے۔کنزیومر اس کاربوہائیڈریٹ کو بطور غذااستعمال کرتے ہیں۔ اس طرح شمشی توانائی ان کے جسم میں منتقل ہوتی ہے۔کنزیومر تین طرح کے ہوتے ہیں۔پرائمری کنزیومر (کبوتر،خرگوش)،سیکنڈری کنزیومر(کتا)،اور ٹرسیری کنزیومر(شیر،بھیڑیا)۔ایکوسسٹم میںسب سے پہلے پرائمری کنزیومرپرڈیوسر کو کھاتے ہیں۔اسکے بعدسیکنڈری کنزیومرپرائمری کنزیومر کو پھرسیکنڈری کنزیومرٹرسیری کنزیوم کوبطور غذااستعمال کرتے ہیں۔اس طرح ایکوسسٹم میں ایک غذائی زنجیر کی تشکیل ہوتی ہے اوریک کے بعد دیگرے توانائی منتقل ہوتی رہتی ہے۔جس سے ایکو سسٹم متوازن رہتا ہے۔سائنس کے اس خشک موضوع کو پروین شاکراپنی فنکاری سے اردو شاعری کا ایک حصہ بنادیتی ہیں۔
تو قرب و دور سے
چمگادڑ یں آتی ہیں
اور گرتی چھتوں کو تھام لیتی ہیں
کبوتر منہ میں دابے کوئی بلّی
اور اسکو سونگھتا کتا
کوئی سہما ہوا خرگوش
اور خرگوش کے پیچھے لپکتا ہوا بھیڑیا
اور بھیڑیے کی پشت پر ایک شیر
اور پھر شیر کے پیچھے کوئی پیاسا شکا ر (نظم دائرہ)خود کلامی
قدرت میں غیر جاندار عناصر جب تشکیلی عمل سے گذرتے ہیںتب جاکر کے ایک جاندار کی پیدائش ہوتی ہے۔اس کائنات میں مختلف قسم کے قدرتی اور مصنوعی واقعیات وحادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔جس کی زد میں آکر روئے زمیں کے ان جانداروں کے جسم فنا ہوجاتے ہیں اور کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس عمل کے دوران جانداروں کے ایک پورے طبقے کا ہی صفایا ہوجاتا ہے اوراس کائنات سے ان کے وجود کانہ صرف خاتمہ ہوجاتا ہے بلکہ ان کے جسم کے تشکیلی عناصر منتشرہوکرآزاد غیرجاندار عناصر میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔لہذاوہ جاندارجنکاوجود اب اس دنیا میں نہیں ہے بلکہ صرف انکے باقیات رہ گئے ہیں۔ ایسے جانداروں کوبائیو سائنس کی اصطلاح میں’’مِسنگ لنک ‘‘کہا جاتا ہے۔جیسے آرکیوپٹیرس ۔پروین شاکرنے سائنس کے اس تھیم کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنا یا ہے اور اپنی ایک نظم کا عنوان اس سائنسی اصطلاح کو بنایا ہے۔
سارے عناصر
اپنی پہلے سے تعین کردہ ہیت میں
کہیں سے جمع ہوتے ہیں
پھر اس کے بعد بے حد خامشی سے
واپسی کے طے شدہ رستوں پہ اک دن چل نکلتے ہیں
ازل سے زندگی کا دائرہ
یونہی سفر میں ہے۔۔۔!’’دی مِسِنگ لِنک‘‘(خود کلامی)
پھول کے زردانے کو ایک پھول سے نکل کر دوسرے پھول کے اسٹگما پر پہنچنے کے عمل کو زیرگی کا عمل کہتے ہیں۔اس عمل میں ہوا،پانی اور دوسرے قدرتی ذرائع کے علاوہ کیڑے مکوڑے بھنورے ،تتلی،مکھی،شہد کی مکھی وغیرہ بہت اہم رول ادا کرتی ہیں۔بھنورے،تتلیاں،شہد کی مکھیاںجب ایک پھول پر بیٹھتی ہیں اس وقت زر دانے ان کے پیروں میں چپک جاتے ہیں۔جب یہ اڑ کر کسی دوسرے مادہ پھول پر بیٹھتی ہیں اس وقت ان کے پیر وں سے چپکے زردانے اس مادہ پھول کے اسٹگما پر پہنچتے ہیں اور زیرگی کا عمل انجام پاتا ہے۔اس عمل کے بعد زرخیزی کا عمل شروع ہوتا ہے اور پھل کی تشکیل ہوتی ہے۔بایئولوجیکل سائنس کے اس Phenomenonکوپروین شاکرنے اپنی شاعری کے پیمانے میں اس طرح ڈھالا ہے ملاحظہ فرمائیں۔
اگر گُل قند خود ہی شہد کی سب مکھیوں کے گھر پہنچ جائے
تو ان کو گُل بہ گُل آوارہ گردی کی ہے حاجت کیا
ہوا کی چال بھی کچھ نامناسب ہوتی جاتی تھی
سو تتلی اور مکھّی اور ہوا
نامحرموں سے دور رکھی جارہی ہیں
مگر یہ بھی کوئی سوچے
کہ پھر پھولوں کا کیا ہوگا
چمن میں ایسے کتنے پھول ہوں گے
کہ جو خود وصل اور خود بار آور ہوں ’’پھولوں کا کیا ہوگا ‘‘(خود کلامی)
بائیولوجیکل سائنس کے مطابق پیڑ پودے کی نشوونما کے لئے پانی،مٹی اور معتدل موسم بہت ضروری ہیں۔ان کے بغیر ان کی نشوونما ناممکن ہے۔سائنس کے اس حقیت کو پروین شاکر نے اپنی شاعری کا حصہ اس طرح بنایا ہے۔
پانی دیکھا،نہ زمیں دیکھی،نہ موسم دیکھا
بے ثمر ہونے کا الزام شجر پر رکھا (خودکلامی)
جیومیٹری کے کچھ اصطلاحات کو بھی انہوں نے اپنی شاعری کے پیمانے میں ڈھالا ہے۔قوس ایک دائرہ کے قطع کو کہتے ہیں۔ایک نقطہ کے چاروں طرف یکساں دوری پر کھینچے گئے لکیر کو دائرہ کہتے ہیں۔اور پرکار اس اوزار کو کہتے ہیں جس سے دائرہ کھینچا جاتا ہے۔علم الحساب کے ان اصطلاحوں کو انہوں نے کس طرح خوبصورتی کے ساتھ شعر میںموزوں کیا ہے۔
یاقوس رکھے یا وہ ہمیں دائرہ کردے
نقطے کی طرح ہیں کسی پرکار کے آگے ( خود کلامی)
ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے روشنی کے زریعہ طے کی گئی دوری کو نوری سال کہتے ہیں۔ ایک خط مستقیم پر آواز کی لہریںانگریزی کے حرف S کی طرح سفر کرتی ہیں۔ایک مکمل آواز کی لہر کی درمیانی دوری کو ویولینتھ کہتے ہیں۔سائنس کے یہ دونوں اصطلاح فزکس کے ہیں۔سائنس کے ان خشک اصطلاحوں کو پروین شاکرادب کی چاشنی میں ڈبوتی ہیں اور قاری کے جمالیاتی حس کو تسکین پہنچتی ہے۔
میں اپنے سورج سے
ہزاروں نوری سال کے فاصلے پر ہوں
کائنات کی بے اندازہ وسعت میں
اِک اور ہی بولی بولتے ہیں
وہ ویولینتھ
جس پر میرا اور ان کا رابطہ قائم تھا (خودکلامی)
فزکس میں فریکونسی کی اصطلاح آوازکے باب میں کی جاتی ہے۔اس کی تعریف یہ ہوتی ہے کہ کسی لرزش کرنے والی شئے کے زریعہ ایک سیکنڈ میں طے کی گئی دوری کو فریکونسی کہتے ہیں۔اسکے علاوہ زلزلہ،روشنی،کیمسٹری جیسے سائنسی اصطلاحات کا بھی انہوں نے اپنی شاعری میں بڑی خوبی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔
(۱)جب خود میں سکڑتے سکڑ تے
میں اپنے آپ سے باتیں کرنے والی
رابطہ رکھنے والی
فریکونسی بھی بھلا دوں
اور اِس دن
مے ڈے،مے ڈے کرتی رہ جائوں!’ (خودکلامی)
(۲)میں فقط چلتی رہی منزل کو سر اس نے کیا
ساتھ میرے روشنی بن کر سفر اس نے کیا (خود کلامی)
(۳)فشار جاں کے بہت ہیں اگر نظر آئیں
ہر ایک زلزلہ زیرِزمیں نہیں آتا (خودکلامی)
(۴)لیکن میری کیمسٹری میں
ایسا کوئی طلسم نہیں ہے
جو میری تقدیر کو جھلمل کردے
میری مانگ میں اسکے نام کی افشا ں بھر دے! ایک تنہا سیارہ‘‘(خود کلامی)
ا لمختصرسائنس کے اصطلاحات کی مد دسے قرطاس ادب پر نسائی جذبات کی ترجمانی طفل ِتماشہ نہیں بلکہ اورنگ ِ سلیمانی ہے جن کو پروین شاکر نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنی شاعری کا حصہ بنا یا ہے ۔!!
mob:9339327323
HNO:1/A,BL.NO:2
3,KELA BAGAN,JAGATDAL,
NORTH 24 PARGANAS,W.B,PIN:743125
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

