اکیسویں صدی کے ابتدائی عشرے سے اب تک جو خواتین اردو ادب میں اپنی تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتوں کی بنیاد پرمنفرد شناخت قائم کرنے میں کوشاں ہیں ان میں سر فہرست ایک اہم نام شہناز رحمن کا ہے جن کا تعلق یوپی کے ضلع سدھارتھ نگر سے ہے۔انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم و تربیت ایک اہم اسلامی ادارہ جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ سے حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ سطح پر تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کے لیے ایشیا کی سب سے مشہور اور اپنی تہذیبی و ثقافتی شناخت رکھنے والی یونیورسٹی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا انتخاب کیا اور پی ایچ ڈی تک کی تعلیم اسی ادارے میں حاصل کرکے کامیابی کی سیڑھیاں طے کیں۔اِسی ادارے کے شعبہ اردو سے ’’آزادی کے بعد اردو افسانوں کی عملی تنقید‘‘ کے عنوان سے اپنا تحقیقی کام مکمل کر چکی ہیں۔اپنے تعلیمی اور تحقیقی سفر کے دوران یہ ہمیشہ لکھنے پڑھنے میں اپنا وقت صرف کیاکرتیں ہیں جس کی وجہ سے قلیل مدت میں ہی اپنے شعبہ کی فعال اور متحرک اسکالر کے طور پر اپنی شناخت قائم کر چکی ہیں۔ادبی نشست ہو یا تنقیدی اجلاس سب میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہیں اور کبھی اپنے کام سے غافل نہیں رہتیں۔ سمینارہو یا ورکشاپ سب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔یہ تمام اوصاف اور امور وہ ہیں جو ان کے شخصی نشوونما کے ساتھ ان کی تخلیقی صلاحیت کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوئیں۔اپنے لکھنے پڑھنے اور تخلیقی عمل کا مسلسل ثبوت صرف زبانی طور پر ہی نہیں دیا بلکہ اخبارات کے علاوہ علمی و ادبی رسائل و جرائد میں کبھی تنقیدی اور کبھی تخلیقی عمل کا تحریری نمونہ فراہم کرکے دیا۔جس کا بین ثبوت حالیہ دنوں میں ان کے افسانوی مجموعے’’نیرنگ جنوں‘‘پر ہندوستان کے اہم ادبی ادارہ ساہتیہ اکادمی کی طرف سے ’’یوا پرسکار‘‘ کا دیا جانا ہے۔یہ ایک ایسا اعزاز ہے جسے ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔اس کا حقدار صرف وہی ہوتا ہے جو اپنے ادبی سفر میں محکم یقیں کے ساتھ سعی پیہم کرتا رہتا ہے۔نیز اپنے تخلیقی اور تنقیدی نگارشات کے ذریعہ ادبی منظر نامے پر بنا رہتا ہے۔شہناز رحمن نے یہ تمام کام بحسن و خوبی انجام دیا اور 2016میں اپنے تنقیدی مضامین کے مجموعے ’’اردو فکشن:تفہیم ،تعبیر اور تنقید‘‘کے ذریعہ لائم لائٹ میں بنی رہیں اور اپنے تخلیقی عمل سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ان کے اسی تخلیقی اور تنقیدی عمل کو دیکھتے ہوئے 2017میں ’پروفیسر شمیم نکہت ایوارڈ‘ سے نوازا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ماہرین ادب نے ان کے اندر ایک بڑے تخلیق کار کا روپ ضرور دیکھا ہوگا۔بہر حال افسانوی ادب میں ان کی اپنی شناخت قائم ہونے لگی ہے اور مستقبل میں ان سے بہتر تخلیق کی امید کی جا سکتی ہے۔
اس تمہیدی گفتگو کا مقصد صرف اور صرف اچھے اسکالر کی خوبیوں کی شناخت کرانا ہے۔کیونکہ کسی اسکالر کے بارے میں ہمارے ادیب اور ناقد بڑی کنجوسی سے کام لیتے ہیں جس میں حوصلہ افزائی کم حوصلہ شکنی زیادہ ہوتی ہے۔خیر شہناز رحمن کے بارے میں یہ میرے اپنے خیالات ہیں ضروری نہیں ہے کہ اس سے اتفاق کیا جائے۔یہاں مجھے ان کے شخصی اوصاف کے بجائے ان کے تخلیقی عمل کے بارے میں بات کرنی تھی جو اب کرنے کی کوشش کر رہاہوں۔میرے پیش نظر ان کا صرف ایک افسانہ ’چارہ سازیٔ وحشت‘ ہے۔صرف اس ایک افسانے کی بنیاد پر ان کی خلاقانہ ذہنیت کے فکری ڈائمنشنس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے متنوع موضوعات پر افسانے تخلیق کئے ہیں لیکن جو افسانہ میرے پیش نظر ہے اس کا مرکزی موضوع بے روزگاری کے مسائل ہے۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر زمانے میں رہا ہے کبھی کم تو کبھی زیادہ۔لیکن موجودہ منظرنامے میں یہ اپنے چرم سیما پر پہنچ گیا ہے ہر طرف ہاہا کار مچا ہوا ہے۔اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی یااپنے غم وغصے کے اظہار کے لیے کچھ لوگ سڑک پر اترکر حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہیں اور اپنے حقوق کی لڑائی لڑتے ہیں تو کچھ لوگ سسٹم کی خامیوں اور اس کمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں ۔کچھ ٹی وی اینکر اپنے ٹی وی شوز میںشواہد کی بنیاد پر بے روزگاری کے مسائل میں حکومت کی نااہلی ثابت کرتے ہیں ۔کچھ لوگ فیس بک ،ٹوئیٹر اور واٹس اپ پر اپنا احتجاج درج کراتے ہیں ۔یعنی ہر شخص اس مسئلے سے جوجھ رہا ہے اور اس سے نکلنے کی سبیلیں تلاش کر رہا ہے لیکن ہر راستے پر کھائی در کھائی ہی نظر آرہی ہے اس کا کوئی مثبت حل دکھائی نہیں دیتا ۔مصنف اور تخلیق کاراپنی تحریر کے ذریعہ اپنا احتجا ج درج کراتا ہے جس کا اثر تا دیر قائم رہتا ہے۔اس افسانے میں شہناز رحمان نے بھی اسی بے روزگاری اور کرپشن کے خلاف ایک طرح سے اپنا احتجاج درج کرایاہے۔لیکن اس احتجاج میں وہ شدت نہیں ہے جو قاری کے اندر اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے یا تدبر و تفکر کی دعوت دیتا ہو ۔بس اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کو افسانے کا رنگ دے کر اس صنف میں اضافہ کا کام کیا ہے۔موضوعاتی سطح پر اس افسانے کا جب جائزہ لیتے ہیں تو یہ بے جان سا محسوس ہوتا ہے کیونکہ اس سے قبل اس موضوع پر بہت سارے افسانے اور ناول لکھے جا چکے ہیں ۔حسین الحق کا ناول ’بولو مت چپ رہو‘اور عبد الصمد کا ’مہاتما‘اس موضوع کی بھر پور نمائندگی کرتے ہیں۔تعلیمی اداروں میں پھیلی ہوئی بد عنوانیوں ،اعلیٰ اور ادنیٰ سطح پر ہونے والی تقرریوں میں بد دیانتی،معیاری امیدوار پر غیر معیاری امیدوار کو ترجیح دینا،وائس چانسلر،سیاسی لیڈر،اراکین اسمبلی وغیر کی بے جا مداخلت سے ہم سب بخوبی واقف ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جاننے کے باوجود ہم خاموش کیوں رہتے ہیں؟کیا خاموشی ہمارا مقدر بن چکی ہے؟اس سکوت،جمود اور تعطل کے ذمہ دار کون ہیں؟کیا ہم خود ہیں؟یا ہمارے اساتذہ اور والدین کے ساتھ سیاست داں حضرات یا کوئی اور؟یہی بنیادی سوال ہے جو اس افسانے کے بین السطور میں پوشیدہ ہے۔جس طرح عبد الصمد کے ناول میں اس کا کوئی حل پیش نہیں کیا گیا ہے اسی طرح شہناز کا یہ افسانہ بھی ہے جس میں بغیر کسی کردار کے صرف صورتحال کی روشنی میں متکلم کے بیانیہ ’میں‘کے ذریعہ نہ صرف اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کو بیان کیا ہے بلکہ ہندوستان کی موجودہ صورتحال میں ایک خاص قوم کے ساتھ جس طرح کا سلوک ہر میدان میں روا رکھا جاتا ہے ،اس سے ایک حساس فنکار کس سطح پر متاثر ہوتا ہے اور اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کے لیے کیا سبیلیں تلاش کرتا ہے ملاحظہ کیجیے:
’’کیا ہماری قوم کے نصیب میں صرف ماتحتی لکھی ہے ؟ اس قوم کا کوئی حق نہیں ؟
جب کہ یہ وہ خوش نصیب ملک ہے جہاں اظہار رائے کی آزادی کے علاوہ اور مختلف طرح کی آزادیاں میسر ہیں ۔ لیکن ہزاروں لاکھوں لوگوں کو اس مذہب ، ذات پات کی تفریق نے قید کردیا اور انسانیت انھیں بے معنی چیزوں میں بٹ کررہ گئی ہے۔ انسان انسان نہیں رہ گیا ۔ میں اپنی کہانی بیان نہیں کرتا کیوں کہ عاجزی کے عیاں ہونے کا خدشہ ہوتاہے لیکن گردش مدام سے فرار کی یہی ایک سبیل نظر آئی ۔ میری زندگی کی مانند اس کہانی کے دونوں طرف کوئی سرانہیںجسے ابتدا اور اختتام کا نام دیا جا سکے۔‘‘
’’ساری تدبیریںکرنے کے بعد میں نے سوچا کیوں نہ ممبئی جاکر قسمت آزمائی کر وں۔دل میں طرح طرح کے خیالات لئے ہوئے میں وہاں پہنچا ۔مجھے اس قدر اطمینان ضرور تھا کہ یہ وہی ممبئی ہے جہاں تمام بے روزگار قسمت آزمانے چلے آتے ہیں ۔‘‘
جیسا کہ ماقبل میں یہ عرض کیا جا چکا ہے کہ اس کا بنیادی موضوع بے روزگاری کے مسائل ہے۔اس کا اندازہ افسانے کے پہلے جملے اور پیراگراف سے ہی ہوجاتا ہے جو دوسرے اقتباس میں درج ہے۔اس کے بعد افسانے میں بتانے کے لیے صرف وہ مسائل رہ جاتے ہیں جن کے تدارک کے لیے تخلیق کار ہر طرح کی تدبیریں آزماتا ہے اور آخر میں کہانی کا انجام اپنی زندگی کے مشابہ قرار دے کر مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے یہ کہتا ہے کہ گردش مدام سے فرار کی یہی ایک سبیل نظر آئی ۔ میری زندگی کی مانند اس کہانی کے دونوں طرف کوئی سرانہیں جسے ابتدا اور اختتام کا نام دیا جا سکے۔بہر کیف بچپن کی یاد اور والدین کی کمی کا احساس جہاں نظر آتا ہے وہیں ان کی شفقتوں ،عنایتوں اور ممتا کی جھلک اور ان کی عدم موجودگی کا شدت سے احساس بھی ہوتا ہے۔ایک اور بات جو اس افسانے کے حوالے سے کہنی ہے وہ یہ کہ عام طور سے روزگار کی تلاش کے لئے ممبئی میں قسمت آزمانے دیہی سماج کا وہ لیبر طبقہ جسے تعلیم و تعلم سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ،جاتا ہے جسے اس کے اپنے گاؤں یا علاقے میں وہ سہولیات میسر نہیں ہوتیں یا اس کے سر پر گھر کے تمام افراد کی ہر طرح کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ایسے افراد ممبئی میں جاکراپنی قسمت آمائی کرتے ہیں لیکن بیشتر کچھ عرصے تک کمائی کرکے اپنی منزل پر واپس آجاتے ہیں۔بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جنھیں کامیابیاں میسر آتی ہیں۔ٹھیک اسی طرح ادب میں بھی ہر طرح کی کھیپ سامنے آتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ وہ سب کامیاب ہو کر اعلیٰ افسر یا پائے کے ادیب بن جاتے ہیں،کچھ روایتی تعلیم حاصل کرکے کنارہ کش ہوکر دوسرے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور کچھ منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے آخری سانس تک تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ابتدا میں انھیں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے کہ افسانے کے متکلم کو کرنا پڑا ہے۔مختلف شہروں، یونیورسٹیوں اور کالجوں کی خاک چھاننے کے بعد نتیجہ کچھ اطمینان بخش نظر نہیں آتا کیونکہ افسانے کا متکلم ’میں ‘ ’ہر انٹرویو سے پہلے یہی سوچتا شاید اس دفعہ قسمت ساتھ دے ہی دے‘ لیکن قسمت اتنی اچھی کہا ں جو ساتھ دے دے۔کیونکہ قسمت اگر ساتھ دے ہی دیتی تو میں اس افسانے کا تجزیہ کرنے کے علاوہ کسی اور موضوع پر کچھ کر رہا ہوتا اور تخلیق کار کی تخلیقی نشو نما ماند پڑ جاتی ،کیونکہ وہ ان مسائل سے نہ تو دو چار ہوتے اور نہ ہی یہ افسانہ وجود میں آتا۔اس افسانے کا اصل محرک ایک انٹرویو ہے جسے تخلیق کار نے مبہم اور مطلق رکھا ہے جس سے ہر طرح کا انٹر ویو مراد لیا جا سکتا ہے۔اس کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوسکتا ہے جو تعلیم یافتہ ہے اور معاش اور رووزگار کی تلاش میں اپنی ڈگریاں لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے لیکن افسانے کی طرح اس کابھی نتیجہ لا حاصل ہی نظر آتا ہے کیونکہ ہر انٹر ویو سے پہلے اس کے اندر ایک آس جاگتی ،دل میں امیدوں کا ایک سمندر موجزن رہتا،تمام شکوک وشبہات اور خوف و ہراس کو بالائے طاق رکھ کر انٹر ویو کے لئے جاتا تو اس کے اندر امیدوں کے چراغ کی لو تیز تر ہو جاتی لیکن بقول تخلیق کار:
’’مگر۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے اس لو کاٹنا پڑا کیوں کہ سامنے بیٹھے ایکسپرٹ نے جو جواب دیا وہ نفی میں تھا۔یعنی نتیجہ میری توقع کے خلاف تھا ۔
کیوں کہ میری Qualification انھیں مشکوک لگ رہی تھی۔
وہاں سے جب واپس ہوا تو راستہ دھند میں ڈوبا ہوا تھا مگر پھر بھی میں نے ہمت کی ۔
اگر راستہ دھند میں ڈوباہوا ہے تو کیا ہوا ؟ َ؟ دل ودماغ کام کرے تو خود ہی دھند مٹ جاتی ہے‘‘ مگرپھر بھی مجھے دھند کے سوا کچھ نظر نہ آیا ۔‘‘
گرنا اور گر کربار بار سنبھلنااور ایک نئی امید کے ساتھ زندگی کا سفر شروع کرنا ہم ہندوستانیوں کی عادت سی بن گئی ہے۔روزگار تلاش کرنے والے ہر رات ایک نیا خواب بنتے ہیں جو صبح ہوتے ہی چکنا چور ہو جاتی ہے یا کردی جاتی ہے۔بہر حال بے روزگاری کے مسائل ہر زمانے میں ہر سطح پر رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے کیونکہ ہندوستان میں اب تک اس کا کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی نعم البدل ہے۔البتہ ایک بات ضرور ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں یہ صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے۔لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہو رہے ہیں لیکن حکومتی سطح پر ان کے لئے صرف جملے چھوڑے جارہے ہیں اور زمینی سطح پر کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔ایسے حالات میں ادیبوں اور تخلیق کاروں کا فرض یہی ہے کہ وہ ان سلگتے ہوئے مسائل کو روا روی میں بیان کرنے کے بجائے پوری شدت کے ساتھ پیش کریںتاکہ ان کا قاری ان کی تخلیق کو پڑھ کر اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے موثر اقدام کرسکے۔بے روزگاری کے مسائل سے لوگوں کی صورتحال کیا ہو گئی ہے اور وہ کن شکوک و شبہات ،مشکلات اور ذہنی اذیتوں کا سامنا کرتے ہیں افسانہ نگارکے لفظوں میں ملاحظہ کیجیے:
’’اس طرح جب میں نے جلوت کی زندگی میں قدم رکھا تو اندازہ ہوا کہ یہاں تو ہر شخص اپنی بے چینی وبے قراری کی کہانی لیے گھوم رہا ہے ۔
جہاں تک نظر دوڑاؤ فرسٹریشن کا چیختاہوا پرندہ اپنی منحوس آواز سے ہمیں خاموش کردیتا ہے ہر روز اپلیکیشن فارم بھرنا انٹرویو کے لئے جانا اور پھرخالی ہاتھ لوٹنا۔۔۔۔۔۔۔۔!یہی معمول ہے۔
میں اس فرسٹریشن کو ختم کرنا چاہتا ہوں لیکن اپنے مذہبی لیبل کی وجہ سے سیاست کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں۔ جب بھی میں انٹرویو کے لئے جاتا ہوں تو نہ جانے کیا کیا چیزیں آڑے آجاتی ہیں اور کوئی نہ کوئی نقص نکال کر مجھے محروم کردیا جاتا ہے ۔کیا میں اپنی سچائی ختم کردوںاوراپنی پہچان گم کردوں؟
مجھے نفرت ہے سخت نفرت ! اس ملک سے ۔ میں اس بے مروت ملک کا پیداوار ہوں جہاں مجھے کچھ نہیں ملا ۔اس ملک میں رہنے والوں کے مقدر میں یہی ہے کہ ان فرقہ پرستوں کے نسلی اور مذہبی کٹرپن کو قبول کر کے ہمیشہ محکوم بنے رہیں۔‘‘
شہناز رحمان نے بے روزگاری کے پس پشت جس طرح کی ذہنیت کام کر رہی اس کو موثر انداز میں پیش کرنے کی حتی الامکان سعی کی ہے۔البتہ کہیں کہیں لہجہ باغیانہ تیور لیے ہوئے ہے جو غیر مناسب ہے ۔ملک سے نفرت کرنے کے بجائے ان ظالموں سے نفرت کیجیے جو فرقہ پرستی کی بیج نئی نسل میں ڈال رہے ہیں۔
نوٹ: مضمون نگار این سی ای آر ٹی سے وابستہ ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

