Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

بانو قدسیہ کا افسانوی اسلوب – ڈاکٹر ارشاد شفق

by adbimiras اکتوبر 1, 2020
by adbimiras اکتوبر 1, 2020 1 comment

۴/فروری 2017 کو ادبی اُفق کا ایک اور روشن ستارہ ٹوٹ کر جہان ِادب کو سنسان کر گیا‘قدرت نے اس دفعہ موت کے ہاتھوں جو نام مختص کیا وہ بانو قدسیہ تھا۔ ایوان ادب میں یہ نام اس لئے بڑا ہے کہ بانو قدسیہ نہ صرف خواتین تخلیق کاروں کی روایت کی توسیع تھیں بلکہ اردو فکشن کو اپنی کثیرالجہات تصانیف سے مالا مال کر کے اسے عالمی شہرت یافتہ بنانے والے چنندہ قلمکاروں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔انہوں نے افسانے کے علاوہ ناول اور ڈرامے لکھے۔”شہر بے مثال“ اور  ”راجہ گدھ‘‘ان کے شہکار ناول ہیں۔لیکن اپنے ادبی ورثے میں انہوں نے ناول سے زیادہ افسانے چھوڑے ہیں۔”کچھ اور نہیں“،”بازگشت“،”دوسرا دروازہ“،”آتش زیرپا“،”امربیل“،”ساما ن وجود“،”ناقابل ذکر“ اور”دست بستہ“بانوقدسیہ کے وہ افسانوی مجموعے ہیں جو اردو افسانے میں اپنے منفرد تکنیک اوراسلوب سے انفرادیت کے نقوش ثبت کرتے ہیں۔

بانو قدسیہ کا تعلق ایک ایسے عہد سے تھا جس میں افسانے کے فنّی پہلو کے مثبت اورمنفی تجربے ہو رہے تھے۔  2006 کے بعد افسانے میں اگرچہ علامتوں،استعاروں اور تمثیلوں کو پیش کرنے کا رجحان بہت شدید تھا، لیکن وہ کسی تحریک یا رجحان کی پروردہ نہیں بنیں۔ان کے افسانوں میں طبقاتی کشمکش،معاشرتی رسم رواج،فرسودہ روایت،سماجی استحصال،جسمانی گھٹن،ازدواجی زندگی کے مسائل جیسے موضوعات تخلیقی فن کاحصہ بنے ہیں لیکن ان کا اسلوب حقیقت پسندی اور جدید یت سے قطع نظر ایک نئے رنگ وروغن میں ڈھل کر سامنے آتا ہے۔ان کاہر افسانہ تکنیکی مہارت کے ساتھ اپنے اندر اسلوب کی تہہ داری لئے ہوئے ہے۔

بانو قدسیہ نے الفاظ کا ذخیرہ سماج اور معاشرے کی کوکھ سے اخذ کیا ہے اسلئے ان کا ہر افسانہ عصری ماحول کو اپنے اندر جذب کئے ہوئے ہے۔انہوں نے انسانی نفسیات‘ جذبات واحساسات کی وضاحت کے لئے بیان کا جوسحر طاری کیا ہے اس میں قاری ڈوبتاچلا جاتا ہے۔بانو نے افسانوی متن کی تخلیق کے لئے تجزیاتی انداز اپنایا۔ان کے بیشتر افسانوں میں توضیح اور تجزیے کا رنگ بہت واضح ہے۔انہوں نے جو مناظر اور کرداروں کے حلیے تراشے ہیں ان میں تجزیاتی رنگ اُبھرتاہے۔ کسی ایک پہلو کو لیکر اس کی متعدد خصوصیات گنوا کرتاثر پیدا کرنا ان کے اسلوب کی خوبی ہے۔اس کی عمدہ مثال ان کا افسانہ ”توجہ کی طالب“ ہے۔نصرت جو اس افسانے کا مرکزی کردار ہے‘اس کے ساتھ گزرنے والے تمام واقعات کے بیان میں بانو نے تجزیاتی انداز اپنایا ہے۔ مثلاًافسانے میں ایک جگہ شادی شدہ عورت کو ایوریڈی سیل سے مشابہ کرکے شادی شدہ عورت کا تجزیہ ان الفاظ میں کیا ہے:

”شادی کے بعد عورت کو ایک ایورریڈی قسم کے سیل کی طرح ہونا چاہئے۔‘جب اسے ٹارچ میں ڈالو بٹن دباؤ روشنی ہوجائے‘ٹرانسسٹر میں لگاؤ کھٹ سے بولنے لگے۔بچوں کے کھیلونوں میں فٹ کردو تو کار چلنے لگے ٹرین بھاگنے لگے‘ریچھ تالی بجا بجا کر ہلکان ہو جائے‘میم ناچ ناچ کر باؤلی ہوجائے سیل نکال کر رکھ دو تو ساری چیزیں بے جان ہوجائے۔“(۱)

بانو قدسیہ نے جو افسانوی کردار تراشے ہیں ان میں حقیقت کا رنگ ان کے اسلوب کی ندرت اور بیان کی حلاوت سے پیداہوتی ہے۔ان کے بیشتر کردار گفتار کے غازی واقع ہوئے ہیں۔ان کے یہاں شعور وادارک کا عمل دخل بہت زیادہ ہے۔یہ معمولی سی معمولی بات بھی عام الفاظ میں ادا نہیں کرتے۔ان کرداروں کی خوبی یہ ہے کہ وہ لسانی سطح پر اپنی پہچان واضح کرتے ہیں۔بانوں نے اپنے اسلوب کی وساطت سے ان کرداروں کی انفرادیت میں رنگ بھرنے کی بھر پورکوشش کی  ہے۔ ان کے بیشتر افسانوں میں تکرارلفظی سے چاشنی پیداکرنے کا تخلیقی تجربہ ملتا ہے۔مثلاً افسانہ”ہوتے ہواتے“کا کردار دنیا کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:

”اس دارالفنا میں ہوتا ہواتا کچھ نہیں۔بس آدمی بھیڑ لگانے آتا ہے اور چلا جاتا ہے اور اس آنے جانے کے درمیان ہنستے ہنساتے،روتے رُلاتے،چلتے چلاتے کچھ ایسے واقعات ہوجاتے ہیں جن کا اصل مطلب کچھ نہیں ہوتا کسی کو سمجھ نہیں آتا بھلا وہ انسان جو صرف آتا ہے اور پھر چلا جاتا ہے کچھ سمجھنے کی کاوش بھی کیوں کرے۔“(۲)

بیانیہ تکنیک میں لکھا گیا افسانہ ”توجہ کی طالب“ میں بانو قدسیہ نے افسانے کے مرکزی کردار ’نصرت‘کی زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے تکرارلفظی سے کام لے کراس افسانے کے اسلوب میں تاثر پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ایک اقتباس ملاحظہ ہوں:

”وہ بھی اس گھر میں کسی اور گھر میں۔ان لوگوں میں کسی اور قسم کے لوگوں میں‘اس شہر میں کسی اور شہر میں ہوگی۔لیکن اس کا تعلق کسی گھر‘کسی انسان‘کسی شہر کسی ملک‘کسی مذہب‘کسی نظریے کے ساتھ اصلی متن کا سا نہ ہوگا۔“(۳)

بانو قد سیہ کے افسانوں میں سائنسی اصول و نظریات افسانوی صفحات پر اُبھرتے نظر آتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے سائنس کا مطالعہ بھی کر رکھا ہے۔ ان کے یہاں سائنسی اصطلاحات، اصول ونظریات،سائنسی اسرار ورموز کے علاوہ مختلف سائنسدانوں کے فکری ملفوظات افسانوی متن میں جذب ہوئے ہیں۔انہوں نے سائنسی الفاظ کے استعمال سے اسلوب میں نئے نئے رنگ پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ مثلا ً افسانہ”ترقی کی ٹرین“میں سائنس کی’تھیوری اور پریکٹیکل‘ کے اصول اپنا کر افسانے کا کردارفقیری کے لوازمات یوں گنواتا ہے:

”سنو!فقیری کے بھی دو پرچے ہوتے ہیں۔ایک اے پیپر‘دوسرا بی پیپر‘پہلا پرچہ تھیوری کا ہے دوسرا پریکٹیکل کا تمہارے پہلے پرچے میں نوے فیصد نمبر ہیں۔تھیوری کا علم بہت ہے تمہارے پاس لیکن پریکٹیکل میں تم فیل ہو میرے بھائی۔“(۴)

اسی طرح افسانہ ”پریم جل“میں میڈیکل سائنس سے تعلق رکھنے والے اصطلاحات کوانہوں نے افسانوی متن میں ضم کر کے تخلیق کا حصہ بنادیا ہے:

”اس طرح میں تمہارے ایکسرے اتروانے نیو ہسپتال ڈے اینڈ نائٹ کلینک آتا جاتا رہا۔ تمہارے بلڈ ٹسٹ کی رپورٹیں‘ایکسرے کی پلیٹیں‘پیشاب کے ٹیسٹ اب بھی میرے پاس موجود ہیں۔…………….حکیموں کے بعد ہومیوپیتھک ڈاکٹروں کا علاج شروع ہوا۔اب سمٹم کی باری آئی:

’کے بار ناکھجلا—-کیا صبح پاؤں میں چیونٹیاں چلتی ہیں کہ شا م کو—-غصّہ زیادہ آتا ہے کہ کم—-آنکھوں میں جلن رہتی ہے کہ کھجلی؟

کلیریا فلاس اور لائیکو پوڈیم گھر آنے لگی۔“(۵)

میڈیکل سائنس کی ایک اور عمدہ مثال ’کال کلیجی‘ میں ملتی ہے۔اس افسانے کے مطالعہ سے قاری موصوفہ کے سائنسی مطالعات کا بخوبی اندازہ لگاسکتا ہے۔عورتوں کے مزا ج کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتی ہیں:

”جس طرح بلڈ ٹیسٹ کرنے والے شیشے پر تھوڑاسا لہو لگا کر دیکھتے ہیں کہ اس شخص میں ہموگلوبین کس قدر ہے اسی طرح اس گھرکی عورتیں آنکھوں کے شیشے پردوسرے کے رنگ کو ایک نظر جمالینے کے بعد فیصلہ کیا کرتی تھیں کہ یہ شخص اشرافوں میں سے ہے کہ رذیلوں میں سے۔“(۶)

بانو کے افسانوں میں علم کیمیا اور علم طبیعیات کی اصطلاحات بھی بڑی شدومد سے افسانوی فن کا حصہ بنتے ہیں۔ انہوں نے تشبیہوں اور استعاروں کے لئے اردو افسانے کے روایتی انداز اور الفاظ سے گریز کر‘سائنسی الفاظ کے استعمال سے افسانوی متن میں وسعت پیدا کی ہے۔ان کے بیشتر افسانوں میں سائنس سے تعلق رکھنے والے الفاظ ونظریات سے افسانوی واقعات اورکرداروں کے مکالمے میں رنگ بھرنے کابھر پور عکس موجود ہے۔ان کے یہاں بیانیہ اور مکالمہ دونوں تکنیک میں سائنسی افکار کی کارفرمائی ملتی ہے۔ مثلاً افسانہ ”ہو نقش اگر باطل“میں ازدواجی زندگی کے بیان میں علم کیمیا کی برقی تھیوری کا عکس نظر آتا ہے:

”شادی شدہ زندگی وہ بجلی ہے جس میں لوڈہمیشہ زیادہ پڑتا ہے۔اور کسی لمحے کسی جگہ کسی بھی حالت میں اس کا فیوز بھک سے اڑ جانے کے امکانات ہیں شادی کے دو ماہ تین کے بعد سات سال تین ہفتے گزرجانے پر ستائیس سال اور نو گھنٹے کی مدت کے بعد غرض کے کسی وقت بھی اچانک مین سوئچ فیوز ہوسکتا ہے اور مشکل یہ ہے کہ نیا فیوز کبھی پرانی تار سے نہیں لگتا……اس کے لئے ہمیشہ نیا تار لگانا پڑتا ہے۔“(۷)

اس طرح کی مثالیں بانوقدسیہ افسانوں میں بھری پڑی ہیں جو اسلوبیاتی سطح پر ان کی انفرادیت واضح کرتی ہیں۔ آکسیجن،کیمیکل ردعمل،الکوہل،کیمیائی اثر،مادہ کا ٹھوس اور ٹھوس سے رقیق میں بدلنا وغیرہ یہ تمام اصطلاحات کو بڑی فنکاری انہوں نے اپنے اسلوب میں ضم کیا ہے:

”میں نے زندگی کے چھوٹے بڑے کل چھ عشق کئے ہیں۔یہ سارے عشق اپنے نوعیت کے اعتبار سے‘اپنے کیمیکل رد عمل کے اعتبار سے ایک سے تھے۔“(۸)

——

”میری ساری عمر ایسے ہی نشانوں کے تعاقب میں گزری ہے—–میں نے مادہ کو اپنے سامنے حالتیں بدلتے دیکھا ہے۔ٹھوس سے مادہ اور مادہ سے گیس۔“(۹)

——

”نصرت دراصل آکسیجن گیس تھی جتنی دیر وہ بھڑکاتی رہتی آگ لپکتی رہتی جو نہی وہ آزمانے یا ستانے خود کو علیحدہ ہوجاتی‘عشق کا شعلہ چھوٹی چھوٹی تحقیقاتی کمیٹیوں کی طر ح اپنی موت آپ مرجاتا۔“(۰۱)

——

”سارا قصور نصرت کا اپنا تھاوہ خود آکسیجن گیس تھی ہر شعلہ اس کی وجہ سے بھڑکتا تھاہر جگہ اس کی وجہ سے آگ لگتی تھی یا یوں سمجھئے شعلے کے روپ میں وہ خود جلتی تھی ادھر آکسیجن علیحدہ ہوتی اودھر شعلہ خود بخود ختم ہوجاتا۔“(۱۱)

——

”شعلے کا بھی ایک اصول ہوتا ہے سوکھی چیز میں جلد محلول کرجاتا ہے۔آکسیجن ملے تو بہت لہک لہک کر جلتا ہے۔“(۲۱)

——

”عطیہ میں الکوہل اسپرٹ کی کمی تھی جو وقتی طو ر پر انسان کو بہادر بنا دیتی ہے۔اس میں زخموں پر لگانے والے اسپرٹ تک کی کمی تھی۔(۳۱)

سائنسی الفاظ سے قطع نظر بانو قدسیہ کے یہاں جغرافیائی اصطلاحات کی مثالیں بھی موجود ہیں۔انہوں نے افسانے میں تشبیہات واستعارا ت کے طور پر بعض جغرافیائی اصطلاحات کوسلیقے سے برتا ہے۔جغرافیائی خطّوں‘زمینوں اور موسموں کے بدلتے مزاج افسانوی اسلوب کا ایک نیا منظر نامہ پیش کرتے ہیں:

”مون سون ہوائیں ہمیشہ ایک خاص سمت کو اٹھتی ہیں۔ دریا ہمیشہ نشیب کی جانب اپنی تلاش جاری رکھتے ہیں —–تمہارا سیلاب جانے کس سمت کو روا تھا۔“(۴۱)

——

”اس کے ساتھ والے پلنگ پر ریحان اوندھا سو رہا تھا۔اس کی پست پر بال اس طرح پھیلے تھے جیسے جغرافیے کے نقشوں میں پہاڑوں کے نشان ہوتے ہیں۔چھدرے چھدرے کنکھجوروں کی طرح‘شمال سے جنوب پھیلے ہوئے۔“(۵۱)

——

”کبھی کبھی اپنی شادی کی رات ذہن میں گھومنے لگتی۔کتنا سرخ وسپید رنگ تھا ریحان کا۔کتنا اونچا قد۔اس کی پیٹھ پر بال اس طرح تھے جیسے نقشے پر کوہِ یورال کے نشان۔“(۶۱)

——

”ان دنوں میں سمجھ رہا تھا کہ ہماری شادی میں تخریب کا کوئی ٹائم بم چھپا ہوا نہیں ہے حالانکہ اندر ہی اندر فیوجی یامہ پہاڑ میں لاوا جمع ہو رہا تھا۔شاید صورتحال مختلف ہوتی اگر اک رات سارا کی طبیعت اچانک خراب نہ ہوجاتی۔“(۷۱)

بانو قدسیہ کاافسانوی ماحول شہری ہے اس لئے اس میں جتنے کردار ملتے ہیں وہ سب شہری اور موڈرن معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔انہوں نے کرداروں کی پیش کش میں موقع اور ماحول کا خاص خیال رکھا ہے۔ان کے یہاں مختلف زبانوں کے الفاظ سے اسلوب میں چاشنی پیداکرنے کا کامیاب تجربہ موجود ہے۔لسانی سطح پر ان کی زبان کسی مخصوص عہد یا معاشرے کی حد بندیوں میں قید نہیں ہوئی جیسا کہ ترقی پسند اور جدید افسانہ نگاروں کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔انگریزی الفاظ کو جس فنکاری سے انہوں نے اپنے افسانوں میں سمویا ہے وہ بہت کم افسانہ نگاروں کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے:

”اس کے سارے عشق ایسی آئیس کریم کے مانندتھے جو پوری طرح جم نہ سکے اورتھالیوں‘پلیٹوں میں اتارتے اتارتے ایک بار پھر کسٹرڈ کی شکل اختیار کرلے۔“(۸۱)

——

”زولہ قبیلہ کے متعلق آپ کے پاس فرسٹ ہینڈ انفارمیشن ہوگی—ان کے پاس تو WITCH DOCTORSہوتے ہیں۔آپ کا کوئی پرسنل تجربہ ان ڈاکٹروں کے متعلق؟“(۹۱)

——

”اس نے لمحہ بھر کو سوچا پھر بولی۔ہائے آئی ایم سوری۔وہ تو ابھی سوئی ہیں۔بھابھی آپ مائنڈ نہ کرنا پلیز۔“(۰۲)

——

”میں نے نورین سے کہا کہ فرانس جانے سے پہلے میں مامی جی سے ملوں گا——خدا قسم نورین——–؁ٰYOU SHOULD MEET HERگریٹ گریٹ گریٹ“(۱۲)

اسلوبیاتی سطح پر ان کے افسانوں کی انفرادیت یہ ہے کہ انکے افسانے کسی مخصوص رنگ میں رنگے نظر نہیں آتے۔ انہوں نے افسانے میں قدیم اور جدید دونوں فنّی اصولوں سے اثرات اخذ کئے ہیں۔ بیانیہ میں دلکشی اورمکالمہ میں چاشنی پیدا کرنے کے لیے بانو نے لسانی سطح پر قدیم اور جدید دونوں اصولوں کو پیش نظر رکھا ہے۔ ان کے افسانوں کا ماحول نیا معاشرہ ہے لیکن کرداروں اور ماحول کے نئے پن کے باوجود بھی اسلوب کی سطح پر موصوفہ کسی مخصوص حصارمیں قید نظرنہیں آتیں۔افسانوی متن میں جدت پیدا کرنے کے لئے انہوں نے جدید معاشرے کے کرداروں کی زبانی قدیم الفاظ تک ادا کرائے ہیں۔افسانہ”مراجعت“کا’زاہداقبال‘ نئے معاشرے کا فرد ہے جو کم عمری میں تعلیم سے بھٹک کر نئے ماحول کا عادی ہوگیا ہے۔اس کے عادات و اطوار اور زبان سب موڈرن ہیں لیکن ماں کے ذریعہ شادی کے لیے اصرار کیے جانے پر کہتا ہے:

”شادی؟—-کس کی شادی؟—-میری—-اری ماں میں مہاتما بدھ ہو مہاتما بدھ۔اس وقت کوئی یشودھراہوتی بھی تومیں اسے تیاگ دیتا۔تو نئی بیوی سہیزنے کو کہہ رہی ہے۔“ (۲۲)

’مہاتما بدھ‘ اور ’یشودھرا‘جیسی اسطوری جہتوں کا استعمال دراصل بانو قدسیہ کا وہ انداز تخاطب ہے جس کا قاری قائل ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ افسانے کے اس مقام پر وہ زاہد اقبال کی زبانی شادی کے لئے راضی نہ ہونے کا ذکر عام الفاظ میں بھی کرسکتی تھیں لیکن ’مہاتما بدھ‘اور ’یشودھرا‘کے اسطور میں جو جہتیں پنہا ہیں وہ زاہد اقبال کے معمولی انکار سے پور ی نہیں ہوتی۔

اس طرح دیکھا جائے تو بانو قدسیہ نے افسانے کی تخلیق میں فنّی اصولوں کو کاربند رکھا ہے۔افسانہ کے آغاز‘وسعت اورانجام کے لئے انہوں نے مختلف فنی حربے اپنائے ہیں۔ان کے بیشترافسانے تمہیدی،تشبیہی،مختصر جملوں اورکسی چونکا دینے والی بات سے شروع ہوتے ہیں۔میرے خیال سے انہوں نے افسانے میں فنی پہلوؤں کے جتنے مثبت تجربے کئے وہ ان کے ہم عصروں کے یہاں نا پید ہیں۔بالخصوص اسلوب کی سطح پربانوقدسیہ نے لسانی جدّت پسندی کے جونقوش ابھارے ہیں وہ افسانوی روایت میں نہیں زندہ رکھنے کے لئے کافی ہیں۔

٭٭٭

 

حواشی

 

(۱)توجہ کی طالب،بانو قدسیہ،مشمولہ ’کچھ اور نہیں‘سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2004

(۲)ہوتے ہواتے،بانو قدسیہ مشمولہ’آتشِ زیر پا‘سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2008

(۳)توجہ کی طالب،بانو قدسیہ،مشمولہ ’کچھ اور نہیں‘،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2004

(۴)ترقی کی ٹرین،مشمولہ’دوسرا دروازہ‘،بانو قدسیہ،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2007

(۵)کال کلیجی،بانو قدسیہ،مشمولہ ’کچھ اور نہیں‘،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2004

(۶)ایضاً

(۷)ہو نقش اگر باطل،بانو قدسیہ،مشمولہ’امر بیل‘،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2009

(۸)توجہ کی طالب،بانو قدسیہ،مشمولہ ’کچھ اور نہیں‘،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2004

(۹)سامان شیون،بانو قدسیہ،مشمولہ’امر بیل‘،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2009

(۰۱)توجہ کی طالب،بانو قدسیہ،مشمولہ ’کچھ اور نہیں‘،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2004

(۱۱)توجہ کی طالب،بانو قدسیہ،ایضاً

(۲۱)کلّو،بانو قدسیہ،مشمولہ ’کچھ اور نہیں‘،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2004

(۳۱)ہو نقش اگر باطل،بانو قدسیہ،مشمولہ’امر بیل‘،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2009

(۴۱)ایضاً

(۵۱)ایضاً

(۶۱)ایضاً

(۷۱)سامان شیون،بانو قدسیہ،مشمولہ’امر بیل‘،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2009

(۸۱)توجہ کی طالب،بانو قدسیہ،مشمولہ ’کچھ اور نہیں‘،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2004

(۹۱)ہو نقش اگر باطل،بانو قدسیہ،مشمولہ’امر بیل‘،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2009

(۰۲)توجہ کی طالب،بانو قدسیہ،مشمولہ ’کچھ اور نہیں‘،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2004

(۱۲)ایضاً

(۲۲)ایضاً

Dr. Irshad Shafaque

H.No: 1/A, BL.No: 23,

Kelabagan, Jagatdal, 24pgs(N)

Pin: 743125, (West Bengal)

Ph: 8100035441

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثبانو قدسیہ
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
روح تلمیذی اور تلقین استاذی: ایک جائزہ – ام مسفرہ مبشرہ کھوت
اگلی پوسٹ
’چارہ سازیٔ وحشت‘ کا بے روزگاری تناظر – امتیاز احمد علیمی

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

1 comment

Imtiyaz ahmad اکتوبر 2, 2020 - 5:57 شام

مضمون تجزیاتی نوعیت کے اعتبار سے بہتر ہے لیکن اسلوب کی سطح پر خلا کا احساس ہوتا ہے.

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں