Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

صغریٰ مہدی کا افسانہ ’’ دوسرا  ہنی مون‘‘ (ایک تجزیہ)- پروفیسر خالد محمود

by adbimiras اکتوبر 2, 2020
by adbimiras اکتوبر 2, 2020 0 comment

پروفیسر صغریٰ مہدی اردو کی ایک سینئر تخلیق کا ر ہیں انھوں نے تنقیدی مضامین ، سفر نامے اور طنز و مزاح سبھی کچھ لکھا ہے۔اکبر الہ آبادی ان کے پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے کا موضوع تھا۔ جس کی اشاعت کے بعد خاطر خواہ پزیر ائی ہوئی، تاہم ان کے قلم کی اصل جولان گاہ ناول اور افسانہ ہے ۔ ان کے ابھی تک چار ناول پا بجولاں ، دھند ، پروائی اور راگ بھوپالی ، ایک ناولٹ ’’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘‘ اور افسانوں کے چار مجموعے ’’پتھر کا شہزادہ‘‘ ، ’’جو میرے وہ راجہ کے نہیں‘‘ ،’’ پہچان‘‘ اور ’’پیش گوئی‘‘ شائع ہو کر مقبول ہو چکے ہیں ۔ ان کی کتابوں کی مجموعی تعداد دو درجن تک پہنچتی ہے۔وہ ایک ایسی قلمکار ہیں جس نے اپنا تعلق صرف قول و قلم تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ یونیورسٹی کی سطح پر درس و تدریس کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بھی دامے درمے قدمے سخنے سر گرمِ عمل رہی ہیں ۔ درس و تدریس کا کام انھوں نے عبادت سمجھ کر انجام دیا۔اب وظیفہ یاب ہونے کے بعد سے خرابی ٔ صحت کے باوجود اپنے آپ کو پوری تندہی اور انہماک کے ساتھ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی فلاحی تنظیموں سے وابستہ کر رکھا ہے۔ یہ سب نہ ہوتا تو ان کے افسانوں کی تعداد شاید موجود ہ تعداد سے کئی گناہ زیادہ ہوتی لیکن ان کے نزدیک یہ سارے کام بھی بہت ضروری ہیں۔

صغریٰ مہد ی کی تعلیم و تربیت ڈاکٹر عابد حسین جیسے وسیع النظر دانشور اور صالحہ عابد حسین جیسی مشرقی اقدار کی پاسبان فکشن نگار خاتون کے سایۂ عاطفت میں ہوئی ۔ اسی کے ساتھ انھوں نے جامعہ کی مشترکہ تہذیبی وراثت کے چمن کی آبیاری میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جو قومی یکجہتی ، رواداری ، خدمت و ایثار اور شائستگی کا انمول نمونہ تھااور جس کی ضرورت آج پہلے سے بھی زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ ان کی ہر تحریر میں انسان انسانیت اور مشرق و مشرقیت کی روح جلوہ گر نظر آتی ہے۔ ان کی کہانیاں بھی اسی کے وسیلے سے افراد اور اقدار کے باہمی روابطہ ، مردوزن کے نازک اور لطیف رشتوں پر داخلی اور خارجی عوامل کے اثرات ان کی نفسیاتی تو جیہات اورمعاشرتی ترجیہات اور ترجیہات کے مثبت یا منفی نتائج کے فطری یا غیر فطری اثرات کا فنکار انہ محاسبہ ، محاکمہ یا تجزیہ پیش کرتی ہیں ۔ زیرِ بحث افسانہ ’’ دوسرا ہنی مون ‘‘ اسی سلسلۂ دراز کی ایک کڑی ہے۔

’’دوسرا ہنی مون ‘‘ بادی النظر میں ایک مختصر سی کہانی ہے۔ فل اسکیپ سائز کے صرف دو صفحات پر مشتمل ۔ مگر اس کے پلاٹ میں ایک ضخیم ناول بننے کی پوری گنجائش موجود ہے۔ایک ایسا ناول جو تین نسلوں کا احاطہ کر سکتا ہے۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ صغریٰ مہدی نے افسانے کے کوزے میں ناول کا دریا بھر دیا ہے۔یہ مشکل کام انھوں نے اشاروں ، کنایوں ، سوالوں ، تجزیوں ، تبصروں اور یادوں کی با زیافت کے وسیلے سے انجام دیا ہے۔اس افسانے کا ایک اور دلچسپ پہلو اس کا عنوان ہے ۔ عنوان سن کر معاً یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اس افسانے کے ہیرو نے دوسری شادی کی ہوگی اور اب وہ اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ ہنی مون منانے جا رہا ہے لیکن افسانے کے آغاز ہی میں اس خیالِ خام سے نجات حاصل ہو جاتی ہے اور قاری کو عنوان کی نئی اور انوکھی تعبیر اور تشریح سے سابقہ پڑتا ہے۔یہ نئی تعبیر جس قدر نئی ہے اتنی ہی دلکش اور لطیف بھی ہے۔ صغریٰ مہدی نے پچیس سال پرانے شادی شدہ جوڑے کی سلور جُبلی کو دوسرا ہنی مون کہہ کر اس میں تخلیقی توانائی پیدا کی ہے۔اس کا اثر اس وقت اور زیادہ گہرا ہو جاتا ہے جب قاری کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصداق ہے۔اس افسانے میں یوں تو کئی حاضر و غائب کردار ہیں جن میں سے بیشتر نے یادوں کے جھروکے سے ایک لمحے کے لیے اپنا چہرہ دکھایا۔ اسمِ نکرہ بن کر صفحۂ قرطاس پر اترے اور ماضی کے زخموں سے چور ایک طویل داستان کا سرا پکڑ کر پھر ماضی میںتحلیل ہو گئے۔جیسے نانانانی ، باوا ، ماں اور شوہر وغیرہ ۔ مگر دو ایسے کردار بھی ہیں جو اپنے اصلی ناموں کے ساتھ موجود ہیں اور انھیں کے توسط سے یہ کہانی آگے بڑھتی ہے ان میں ایک فرحان ہے۔ قصہ گوہیروئن کا شوہر اور دوسرا سمیر ہیروئن کا بیٹا ۔سمیر کا ذکر نہایت مختصر ہے مگر وہ ایک خاص مقصد کی تکمیل کے لیے کافی معلوم ہوتا ہے اور یہ ہیروئن کون ہے؟ ہیروئن کا کوئی نام نہیں ۔ بس ایک عورت ہے ۔ ایک ایسی عورت جو ایک شوہر کی بیوی اورایک بیٹے کی ماں ہے اور ایسے ماں باپ کی بیٹی جن کے درمیان کبھی نہیں بنی۔چنانچہ وہ لاوارث نہ ہوتے ہوئے بھی اپنا بچپن اور جوانی لاوارثوں کی طرح گذارنے پر مجبور کر دی گئی ہے۔ مگر اب وہ ایک کامیاب وکیل ہے،گویا زندگی ، زمانے اور قانون کی نباض بن چکی ہے اور خود کفیل بھی ہے۔افسانہ نگار نے اس عورت کا نام نہیں بتایا ۔ بتایا بھی نہیں جا سکتا تھاکیوں کہ یہ محض ایک عورت کی کہانی نہیں کہ اس کا نام بتا کر قصہ پاک کر دیا جائے۔یہ بے شمار تعلیم یافتہ برسرِروز گار عورتوں کی کہانی ہے ۔ بے شمار عورتیں اپنے ناموں سے نہیں پہچانی جاتیں۔ استحصال کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں ۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ اس طرح کی کہانیاں تو سینکڑوں لکھی جا سکتی ہیں اور صرف کہانیاں ہی کیوں ؟عورتوں کی استحصال کی ساری اقسام پر آئے دن مباحثے ، مکالمے اور سمینار ہوتے رہتے ہیں جن میں عورتوں کی آوازمیں آوازملا کر مرد حضرا ت اور وہ مرد حضرات بھی جو خود اس استحصال کے بالواسطہ یا بلا واسطہ ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ پوری قوت سے قرار دادِ مذمت پاس کرتے اور نعرۂ احتجاج بلند کرتے نظر آتے ہیں ۔ پھر آخر ایسی  اور کہانی کا سوائے اس کے اور کیا جو از ہو سکتا ہے کہ نعروں کی بھیڑ میں ایک اور آواز کا اضافہ ہو گیا ۔ میری اس قیاس آرائی کی کا مطلب بھی یہی تھا کہ اگر کسی کے ذہن میں کسی اور قسم کا خیال پر ورش پا رہا ہے تو اس افسانے کو سن کر اب یہ بات ذہن میں آجانی چاہیئے کہ یہ افسانہ وہ آواز نہیں ہے جو بھیڑ میں لگا ئی جارہی ہو۔یہ کوئی چیخ یانعرۂ احتجاج بھی نہیں ہے۔بلکہ یہ ان آوازوں یا اس قسم کی بیشتر آوازوں سے یکسر مختلف ہے۔ان آوازوں میں جذباتیت زیادہ ہوتی ہے جن کے ذریعہ عورت کی سوچنے سمجھنے کی قوت سلب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس کے غصّے کو بھڑکایا جاتا ہے ۔ زندگی کے بہت سے تاریک پہلوؤں کو روشن کر کے دکھایا جاتا ہے ۔اس کے گھروں اور دلوں کو جوڑنے کی بجائے توڑنے کی سعی کی جاتی ہے اورجب وہ جوش میں آکر یہ سب کر بیٹھتی ہے تو اس کے استحصال کی راہیں آسان تر ہو جاتی ہے۔پھر اسے پہلے سے زیادہ سمجھوتے کرنے یا غیر محفوظ زندگی گذارنے پر مجبور ہونا پرتا ہے۔ زیرِ بحث افسانے کی آواز میں جذبات تو ضرور ہیں ۔ مگر وہ کوتاہ اندیش جذباتیت نہیں جو اعتدال و  توازن کی جگہ غصہ اور انتقام کے جذبات کو فروغ دینے کا اہتمام کرتی رہتی ہے۔ اس میں ایک سنجیدہ فکر ہے،دور بینی اورزمانہ شناسی ہے۔ اس افسانے کی ہیروئن ایک تعلیم یافتہ بردبار وکیل ہے۔وہ محبت اور نفرت ، وفا اور بے وفائی اور فطرتِ انسانی کامفہو م سمجھتی ہے۔وہ اپنے مرد کی نفسیات سے بھی پوری طرح واقف ہے اس لیے وہ اپنی سوجھ بوجھ کو دوسروں کے سپردکرنے کے بجائے اپنا آگا پیچھا خود سوچتی ہے اور پھر اپنے ادراک و احساس کی روشنی میں اپنے حال و مستقبل کا فیصلہ بھی خود کرتی ہے۔ کہانی آپ نے سن لی ہے اس لیے میںیہاں اسے دہرانا نہیں چاہتامگر اپنی بات کی وضاحت اور ترسیل و ابلاغ کی ضمانت کے طور پر چند جملوں یا کسی مختصر اقتباس کا حوالہ بہر حال ضروری ہو گا۔

کہانی شروع ہوتی ہے:

’’فرحان کے آفٹر شیو لوشن کی خوشبو پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھی۔شادی سے پہلے بھی فرحان کی سالگرہ پر اس کو یہی دیتی تھی اور شادی کے بعد بھی۔(فرحان کی بیوی کی خود کلامی کا آغاز ہوتا ہے۔خود کلامی میںکشا کش اور کشا کش میں جذبۂ مہرو وفا بھی شامل ہو جاتا ہے۔)کیسی عجیب بات ہے کہ ان کی شادی کو پچیس سال ہو رہے ہیں مگر فرحان نے ان کی پسند کا آفٹر شیو لوشن نہیں چھوڑا۔۔۔۔مگر اسے چھوڑ دیا۔ چھوڑ دیا؟چھوڑا کہاں وہ جہاں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا ۔ اب کبھی نہ جانے کے لیے شاید۔۔۔وہ ہماری شادی کی سالگرہ پر سیکنڈ ہنی مون منانا چاہتا ہے‘‘

اس اقتباس کو سن کر واقعہ کا یہ پہلو تو ذہن میں آ ہی جاتا ہے کہ بات ہنی مون کی ہو رہی ہے۔ اب اگر اسی پہلو کو ذہن میں رکھ کر الفاظ کے درو بست پر بھی غور کرتے چلیں تو محسوس ہوگا کہ لفظ فرحان کی فرحت ، آفٹر شیو کی خوشبو ، شادی سے قبل اور بعد کے تحفوں کی معطریادیں ، فرحان (یعنی شوہر )کے حوالے سے پروین شاکر کے مشہور شعر کا پہلا مصرع ’’وہ کہیںبھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا ‘‘کی پُر اعتماد لذت اور احمد فراز کے مصرعے ’’آ پھر تو مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ‘‘کی نفی اور اس نفی کی مسرت خیزی۔ یہ ساری باتیں مل ملا کر جو لفظی اور معنوی ہم آہنگی پیدا کر رہی ہیں وہ قاری کو سامانِ لطف وانسباط کی فراہمی لفظی پر کیف حسی پیکر کے ساتھ کہانی کے خوشگوار آغاز کا پتہ دیتی ہیں۔کہانی آگے بڑھ جاتی ہے۔

’  ہنی مون کے ایر ٹکٹ خرید لیے گئے ہیں جو گھر کی میز پر پڑے ہیں۔ٹکٹ خرید کر شوہر نے بیوی سے کیا بات کہی اور کس اندازسے کہی یہ بھی بیوی ہی تو بتاتی ہے۔مگر اس طرح جیسے وہ دوسروں کو نہیں خود اپنے آپ کو بتا رہی ہو اور ساتھ ہی ایک خاص قسم کی خوش آئند تبدیلی کی آہٹ محسوس کر رہی ہو۔سنا ہے پھکیٹ کا بیچ بے حد خوبصورت ہے‘‘یہ جملہ شوہر کے قول و عمل کا حصہ ہے۔ شوہر پر جوش ہے بیوی نے ایسا ہی محسوس کیا ہے۔ ہنی مون کے لیے خوبصورت بیچ کا انتخاب انٹر نیٹ کے ذریعہ اس نے ہفتوں کی کوشش کے بعد تلاش کیا ہے۔ یہ اس کے تلاشِ بسیار کے مطابق بالی کے بیج سے زیادہ خووبصورت ہے۔ اس کے بعد وہ جس تحکمانہ لب و لہجے میں بیوی سے بات کرتا ہے۔ اس میں شوہر انہ عکس صاف جھلک رہا ہے۔و ہ کہتا ہے’’ایک مہینے کا تم کونوٹس دے رہا ہوں اپنے سارے مقدمے نپٹا کر اپنے تمام کلائنٹ سے معذرت کر لو۔‘‘گفتگو کے سیاق میں یہ حق شوہری اس مردانہ بر تری کے احساس سے قطعی مختلف ہے جو ظلم و جبر کی کوکھ سے پیدا ہوتا ہے۔اس حق کے لہجے میں اپنائیت ہے،پیار ہے،اعتماد ہے اور وہ جاں گذاری اور جاںسپاسی ہے جو ہر بیوی اپنے شوہر کے لہجے میں دیکھنا چاہتی ہے اورجب اسے اپنا یہ حق مل جاتا ہے تو وہ اسے کھونا بھی نہیں چاہتی اور ساری عمر اس کے نشے میں سرشار رہتی ہے۔ فرحان کے لہجے نے اسے اپنی اسی ملکیت کی واپسی کا احساس دلایا تھا جو ایک خوش کردار و وفا شعار عورت کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے ۔ پھر جب فرحان نے گرم جوشی اور والہانہ انداز سے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا تو اسے محسوس ہوا کہ پانچ سال بعدفرحان پھر اپنی گرمی اور نرمی کے ساتھ اس کی آغوش میں واپس آگیا ہے۔ وہ جو اس کے ہر انداز کو پہچانتی تھی اس انداز کو پہچان گئی۔

افسانہ نگار نے موقع غنیمت جان کر قاری کے کان میں چپکے سے ایک پتے کی بات کہہ دی۔(اقتباس) ’’انسان کا لب و لہجہ چال ڈھال، رکھ رکھاؤ،اس کے جذبات اور احساسات کو ظاہر کر دیتے ہیں اور وہ اس بھرم میں رہتا ہے کہ اس نے اس تبدیلی کو لوگوں کی نظروں سے چھپا لیا ہے۔‘‘شوہر کے پیار بھرے لہجے سے شہہ پا کر بیوی نے حقِ زوجگی کا استعمال کرتے ہوئے وہی بے تکلفانہ لب و لہجہ اختیار کر لیا جو پچیس سالہ کامیاب شادی کے بعد عموماً بیویاں اختیار کر لیتی ہیں ۔اس نے نیم آمادہ سپردگی کے لہجے میں کہا:

’’ پچیس سال بعد ہنی مون کا کیا تک ہے؟‘‘

مگر جب شوہر نے پیار بھرے لہجے میں سمجھایا تو وہ راضی ہو جاتی ہے اس کے بعد افسانے کا یہ کلیدی اورفکر انگیز جملہ آتا ہے۔’’زندگی کی فیصلوں پر راضی ہونا اس نے بچپن سے سیکھ لیا تھا ۔‘‘یہ جملہ کہانی کا پہلا موڑ ہے۔اسے آپ گریز بھی کہہ سکتے ہیں جو قصیدے میں تشیب و مدح کے درمیان پُل تعمیر کرتی ہے۔ کہانی کے اس حصے میں عورت کی شادی شدہ زندگی کے سفر کی وہ صبر آزما داستان پوشیدہ ہے جس میں اس کا شوہر اس کے پاس موجو د بھی ہے،اور غیر موجود بھی۔کشاکش کا یہ سفر پانچ سال پر محیط ہے مگر احساس کی سطح پر اس کی نوعیت کا اندازہ لگائیں تو پانچ ہزار سال بھی کم معلوم ہونگے۔یہیں اس عورت کی غیر معمولی برداشت اور فہم و فراست کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ یہ وہ حالالت ہیں کہ اگر مرد کو ایک بار بھی ان سے سابقہ پڑجائے تو وہ جنون کی حدیں پار کر سکتا ہے۔ اس کہانی کی ہیروئن نے پورے پانچ سال گذاردیئے اور شوہر کی اس بے راہ روی اور بے وفائی جسے وہ چھپا کر رکھنا چاہتا تھا۔اور اس خوش فہمی میں مبتلاتھا کہ چھپانے میں کامیاب بھی ہے۔سکوت کا پردہ ڈالے رکھا اور جان بوجھ کر انجان بنی رہی راتیں رو ر و کر کاٹیں مگر شوہر کے اس بھرم کو نہیں توڑا کہ تم جو چھپانا چاہتے تھے اسے چھپانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔یہیں تھوڑی دیر کے لیے سمیر کا ذکر بھی آگیا ہے جو اس کا بیٹابھی ہے اورجسے اس نے اس خیال سے بورڈنگ میں داخل کر دیا ہے کہ وہ گھر کے تناؤبھرے ماحول اور والدین کی داخلی آنکھ مچولی سے دور رہے جو اس کے کچے ذہن کو متاثر کر سکتی ہے۔ شوہر کی بے مہری کے ان پانچ سال میں وہ جن حالات سے نبر د آزمارہی تھی ان کا حوالہ افسانہ نگار نے عورت کی ذہنی عدالت میں جرح کرنے والے خیال کی روشنی میں بیان کیا ہے۔اس جرح میں اگر ایک خیال اسے اپنے دلائل کے زور پر فرحان کا گھر چھوڑ دینے اور اس کا آفر ٹھکرا دینے پر اکساتا ہے تو دوسرا ایامِ گذشتہ کی کتاب ہاتھ میں لیے ان واقعات کو یاد دلاتا ہے جو اس کے شوہر کے حق میں گواہی دے رہے ہیں اورپھر اس سے پوچھتا ہے کہ یہ گھر چھوڑ کر وہ کہاں جائے گی؟ اس کا تو اپنا کوئی گھر بھی نہیں ، کیا ورکنگ ہوسٹل ؟جہاں وہ شادی سے پہلے رہتی تھی، اس کا اپنا گھر کہا جا سکتا ہے ۔ اچانک اس کے ذہن میں نانی کا یہ جملہ گونج اٹھتاہے۔’’تیرا نانا ، تیرا باوا اور اب تیرا شوہر بھی ایسا ہی نکلا۔‘‘یہ جملہ اس پورے ناول کا پلاٹ ہے جس کی جا نب میں نے ابتداء میں اشارہ کیا تھا اور یہی وہ جملہ ہے جو اس افسانے کے ہزاروں نام والی بے نام ہیروئن کا سوانحی تعار ف کراتاہے ۔ اب وہ پھر غور کرتی ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیئے۔بے گھری کی زندگی اختیار کرنی چاہیئے، دوسرا گھر بسا لینا چاہیئے یا اپنے اس بے وفا شوہر کی،جو اپنی بے وفائی چھپانا چاہتا ہے ، مکمل واپسی کا انتظار کرنا چاہیئے۔ یہاں ایک بار پھر اس کی نانی کا جملہ یاد کر لینا چاہیئے اور یہ بات بھی یاد کر لینا چاہیئے کہ اس کی ماں نے اس کے باپ کے پاس چھوڑ کر دوسرا گھر بسا لیا تھا۔ اس کے بعد باپ نے بھی اس سے منہ موڑ کر زندگی کی سنگلاخ راہوں پر اسے بچپن ہی میں تنہا چھوڑ دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں اس کی زندگی کا آغاز ماں باپ ہوتے ہوئے بھی پہلے ہوسٹل اور پھر ور کنگ ہوسٹل میں ایک ایسے انسان کی شکل میں ہوا جس کا اس بھری دنیا میں ایسا کوئی نہ تھاجسے وہ اپنا کہہ سکتی ۔ پہلے نانی پھر ماں اور اب وہ خود گویا یہ حالات وراثت کے حصے کے طور پر اس تک پہنچ رہے تھے۔ اب فیصلہ اسے کرنا تھا کہ وہ ماں کے نقشِ قدم پر چلے یا فرحان کو قبول کر لے ۔ ان فیصلہ کن لمحات میں پھر اس کا ذہن مختلف الخیال جذبات و احساسات کی زد میں آجاتا ہے ۔ ایک خیال نے پیش دستی کی کہ تم نے فرحان کو اس وقت ہی کیوں نہیں چھوڑ دیا جب وہ بے وفائی پر مائل تھا۔  دوسرا خیال بولامیرے موکّل میں اکیلے جینے کی ہمت نہیں تھی ۔ پہلے نے بڑا چھبتاہوا سوال کیا تو کیا اب تم نے شو ہر کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔جواب اگر ہاں میں ہے تو اس فیصلے کو کیا نام دیا جائے گا؟ مفا ہمت ؟ مصلحت؟ بے حیائی ؟ بے حسی؟ یا بزدلی؟ اسی دوران عورت کے اندر کے ’’ـــمیں ‘‘نےاسےپھرششوپنج میں مبتلاکردیا اوراسکا’’میں ‘‘اس کی بزدلی کہہ کر اس بحث میں شریک ہوگیا۔ مگراسکے’’میں‘‘نےبزدلی کو شاید کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔ اسی داخلی شش و پنج اور کشمکش کے دوران فون کی گھنٹی بجتی ہے اور خیالات کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اور وہ عورت فون کا ر سیور ا ٹھا کر ’’ہلو ،ہاں فرحان کہو؟‘‘کہتی ہے جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ دوسری جانب فرحان ہے جو شاید پوچھ رہا ہے کہ تم کیا کر رہی ہو ۔ فرحان کا یہ سوال کہ تم کیا کر رہی ہو افسانے کے متن کا حصہ نہیں ہے ۔اس کی جگہ کو ڈاٹ ڈاٹ ڈاٹ سے پُر کیا گیا ہے ۔ مگراس کا عکس عورت کے اس والہانہ ردعمل سے ظاہر ہو اجو چاند کے چھتے سے شہد کی طرح سپردگی کے انداز میں جواب بن کر ٹپک پڑتا ہے۔’’میں کیا کر رہی ہوں ؟ ارے بھائی سیکند ہنی مون کی تیاری ‘‘اس کے منہ سے بے اختیار نکلا اوراس نے رسیو ررکھ دیا۔ میرے خیال میں عورت کے منہ سے بے اختیار نکلا ہوا یہ جملہ ایک طویل ذہنی جنگ کے بعد کسی نتیجے کے رو برو ہونے کی عجلت کا اضطراری عمل تھا ۔یہ جملہ کچے آم کی طرح تیز ہوا کے جھونکے یا آندھی سے نہیں گرا۔ آندھی یوں بھی صرف ایک کچا آم نہیں گراتی، ساری کیر یاں گرا دیتی ہے۔ یہ جملہ تو موسم کی تیز دھوپ میں تپ کر پکّے آم کی طرح ٹپکا ہے۔ پکے آم میں ویسی ہی مٹھاس ہوتی ہے جیسی اس جملے میں ہے۔ بہر حال اسی جملے کے ساتھ یہ افسانہ ختم ہوجاتا ہے مگر ختم کہاں ہوتا ہے؟یہاں سے تو افسانہ شروع ہوا ہے۔ افسانہ نگار نے کما ل فنکاری سے کئی افسانوں کے در کھول دئیے ہیں۔ اب سوچئیے کہ اس افسانے کی ہیروئن کا فیصلہ مفاہمت ہے؟سمجھداری ہے؟ مصلحت ہے ؟بے حیائی ہے؟ بے حسی  ہے؟یا بزدلی ہے؟

صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے

اس کہانی کو سن کر آپ نے یہ بھی محسوس کیا ہو گا ک صغریٰ مہدی کی زبان میں نرمی اور لوچ ہے۔ان کا اندازِ تحریر سادہ ، سلیس اور عام فہم ہے۔کوئی پیچیدگی نہیں ۔کوئی ابہام نہیں ۔مگر یہ حد سے بڑھی ہوئی سادگی اور سلاست تحریرکی اوپری سطح ہے۔اس لیے محض اسی کو صغریٰ مہدی کی پہچان قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ صغریٰ مہدی کی اصل پہچان ان کے لہجے سے ہوتی ہے۔ان کے اسلوب کی ساری سرگرمیاں اور جملہ سروکار لہجے کی دھیمی کی آنچ سے جلاپاتے ہیں ۔ وہ جس لہجے میں گفتگو کرتی ہیں اسی لہجے میں لکھتی بھی ہیں ۔دونوں میں کوئی تفاوت نہیں ۔ جب آپ ان کی تحریر پڑھ رہے ہیں تو گویا آپ ان سے باتیں کر رہے ہیں۔ اسی افسانے کے آخری جملے میں ’’ ہلو ۔ہاں کہو‘‘سے لیکر ’’ ارے بھئی‘‘تک یہ سب ان کی گفتگو کے انداز ہیں۔آپ ان سے فون پر بات کریں یا دو بدو ۔ آپ کو یہی اندازکا ر فرما نظر آئے گا۔ اس میں مسرت ، خفگی ، دل جوئی ، شکایت ، ظرافت اور شرارت کے ہزار پہلو ہوں گے مگر سب کے سب پر خلوص کی عبارت ہے۔خلوص جو ا ن کے لہجے کی شریانوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ان کے لہجے کو سمجھنا ضروری ہے اور لہجے کو سمجھنے کا ایک آزمو دہ نسخہ یہ ہے کہ تحریر کو بار بار پڑھا جائے ۔باربار پڑھنے سے تحریر اپنے سارے راز منکشف کر یتی ہے۔یہ بات میں اپنے تجربے کی بنیاد پر پورے و ثوق سے کہہ سکتا ہوں اور یہ بھی پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ صرف یہ میرا ہی نہیں آپ کا بھی تجربہ ہوگا۔

 

نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر ہیں۔

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

ادبی میراثصغریٰ مہدی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
غزل- سراج اورنگ آبادی

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں