Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

مظہرالاسلام کی غیرافسانوی تحریریں – ڈاکٹر محمد غالب نشتر

by adbimiras اکتوبر 11, 2020
by adbimiras اکتوبر 11, 2020 0 comment

مظہرالاسلام کا شمار اردو افسانے کے نمائندہ تخلیق کاروں میں ہوتا ہے۔انھوں نے فکشن کی دنیامیں الگ شناخت بنائی ہے ۔ ان کا اسلوب ،دوسرے افسانہ نگاروں سے ممیزکرتاہے ساتھ ہی موضوعات کے حوالے سے بھی ان کاکوئی ثانی نہیں ۔ ایک فکشن رائٹر کا غیر افسانوی ادب میں اپنامقام واعتبارحاصل کرنا کسی عجوبے سے کم نہیں اوریہ کارنامہ مظہرالاسلام نے کردکھایاہے ۔ یہ بات ہرکس وناکس کومعلوم ہے کہ مظہرالاسلام کے چارافسانوی مجموعے اور ایک ناول شائع ہوکردادتحسین وصول کرچکے ہیں البتہ یہ بات کم لوگوں کوہی معلوم ہے کہ انھوں نے غیرافسانوی ادب میں اپنی انفرادیت کا لوہامنوایاہے ۔ تحقیقی سفرنامہ ہویاترجمہ نگاری، شاعری ہویااسکرپٹ رائٹنگ تمام میدان میں انھوں نے تخیل کے گھوڑے دوڑاکراور تحقیقی اپچ کے حوالے سے اپناکام کیاہے ۔ درج ذیل فہرست سے اس بات کی صداقت ہوتی ہے :

۱۔لوک پنجاب        (تحقیقی سفرنامہ)

۲۔فوک لورکی پہلی کتاب      (تحقیق)

۳۔میں آپ اوروہ             (ادبی کالمز)

۴۔اے خدا          (دعائیہ نظمیں)

مندرجہ بالا چاروں کتابوں کے موضوعات الگ ہیں ۔’’لوک پنجاب‘‘ایک تحقیقی سفرنامہ ہے جسے انھوں نے پنجاب کے دیہی علاقوں کی خاک چھان کر یہ تحقیقی کتاب لکھی ہے تو’’فوک لورکی پہلی کتاب‘‘بھی ایک مختلف نوعیت کی تحقیقی تصنیف ہے ۔’’میں آپ اوروہ ‘‘ میں ادبی کالمزہیں جسے انھوں نے مختلف اوقات میں تحریرکیے ہیں ۔اسی طرح ’’اے خدا‘‘ان کی دعائیہ نظموں کامجموعہ ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کتابوں پرتفصیلی گفتگوکی جائے ۔

۱۔ لوک پنجاب

مظہرالاسلام نے ادبی زندگی کاآغازاسی کتاب سے کیا۔جس کاسنِ اشاعت ۱۹۶۷ء ہے ۔جیساکہ نام سے ظاہرہے اس کتاب کاموادپنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتاہے ۔ ’’لوک پنجاب ‘‘دراصل فیلڈریسرچ کی کتاب ہے جس کامواد مظہرالاسلام نے گاؤں گاؤں اورقصبہ قصبہ گھوم کریک جاکیاہے۔ اس کتاب میں پنجاب کے لوگوں کے رہن سہن ،لوک گیت ، کھان پان ، بولیاں،کہاوتیں اورلوک کہانیوں کے علاوہ بزرگوں کے واقعات ، ان سے منسوب اقوال کوجمع کیاگیاہے تاکہ لوک پنجاب کی رِیت کوصفحۂ قرطاس میں رقم کرکے محفوظ کردیاجائے اورآنے والی نسلیں اپنے آباواجدادکے کارناموں کویادکرکے فخرمحسوس کرسکیں ۔ مظہرالاسلام نے انہی نکات کی جانب یوں توجہ دلائی ہے:

’’ویسے توبہت سی کتابوں کے حوالے جمع کرکے کسی وقت بھی ایک نئی کتاب لکھی جاسکتی ہے لیکن میرامقصدیہ نہیں ۔میرے نزدیک عوام ایک ان لکھی کتاب ہیں اورہرآدمی اس کتاب کاایک ورق ہے اسی لیے گاؤں  گاؤں گھوم کرمیں نے لوگوں کی باتیں ، اعتقادات اور روایات جمع کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہی ہماراقوی سرمایہ اورپہچان ہے جس میں ہماری عظمت اورکردارسانس لیتاہے ۔‘‘(۱)

اس کتاب میں صوفیاسے منسوب اقوال اوران علاقوں کا تفصیلی طورپراوردلچسپ انداز میں بیان ہے جو پنجاب کے مشہورصوفیوں کامسکن رہاہے اوران روایات کابھی جوایک نسل سے دوسری نسل تک سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی چلی آرہی ہیں ۔ اس کے علاوہ کتاب میں ان توہّمات کوبھی شامل کیاگیاہے جوقوموں کے فوک لورمیں اصل اورنقل کی پہچان کرانے کے لیے مشہوراوررائج رہی ہیں ۔ ساتھ ہی توہمات کاتجزیہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے تاکہ ان کے ذریعے پنجاب کے لوگوں کی نفسیات کے بعض گوشے منکشف ہوسکیں ۔ مظہرالاسلام نے اس کتاب کولکھنے سے قبل ایک منصوبہ بنایاتھااورایک گروپ کولے کررختِ سفرباندھاتھا۔ ان کی پوری ٹیم ایک جیپ میں سوارتھی اورانھوںنے ضروریات زندگی کے ساتھ ریکارڈنگ سے متعلق تمام اشیاکواپنے ساتھ رکھ لیاتاکہ پورے سفرمیں کسی طرح کی پریشانی نہ ہو۔ ان لوگوں کی خواہش تھی کہ سفرکی ابتداپاک پتن میں ہونے والے بابافریدشکرگنج  ؒکے عرس سے کریں ۔ اس ریسرچ ورک میں مظہرالاسلام نے پنجاب کے مشہورعلاقوں مثلاًگجرات ،وزیرآباد، گوجرانوالہ ، حافظ آباد،خوشاب، جھنگ ، ڈیرہ غازی خان ،چولستان ،بہاول پور،ملتان،لائل پورکاذکر خصوصی طورپرکیاہے ۔ ہرعلاقے سے منسوب واقعات ،ملبوسات ،روزمرہ کے استعمال کی اشیااورلوک گیت کاذکر انھوں نے خوب صورت اندازمیں کیاہے ۔

کتاب کاآغاز شہر’’گجرات‘‘سے کیاگیاہے ۔ اس کاذکرکرتے ہوئے مظہرالاسلام نے بجاطورپرکہاہے کہ گجرات سوہنی کا شہر ہے ۔اس شہرمیں داخل ہوتے ہی آنکھوں کے سامنے سوہنی مہینوال کی کہانی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے ۔ سوہنی مہینوال کی روایت کافی قدیم ہے اوراس کے قصے زبان خاص وعام ہیں۔ دوروایات اس طرح سے ہیں:

روایت ہے کہ سوہنی اب بھی ہرسال پیداہوتی ہے لیکن وہ اتنی خوب صورت ہوتی ہے کہ مرجاتی ہے کیوںکہ اتنازیادہ حسن زندہ نہیں رہ سکتا۔اس سے توازن بگڑنے کاخطرہ ہوتاہے ۔

دوسری روایت یہ ہے کہ سوہنی پیداہوکرخودبخود نہیں مرتی بلکہ اسے ماردیاجاتاہے کیوں کہ اس کے خاندان کے لوگ یہ نہیں چاہتے کہ سوہنی کے حوالے سے اس کاتذکرہ یاسوہنی کی کہانی پھرسے دہرائی جائے ۔

وزیرآبادکاذکرمظہرالاسلام نے ضمنی طورپرکیاہے جب کہ یہ بہت پراناشہرہے ۔ اس شہرکونہ صرف تاریخی اعتبارسے اہمیت حاصل ہے بلکہ دریائے چناب کے قریب ہونے کی وجہ سے ثقافتی لحاظ سے بھی یہ ایک اہم جگہ ہے ۔ وزیرآبادہی مظہرالاسلام کا آبائی وطن ہے جہاں سے انھوں نے میٹرک تک کی تعلیم حاصل کی تھی اوراسی شہرکاذکرممتازمفتی نے مظہر الاسلام کا خاکہ لکھتے ہوئے خوب صورت اورفخریہ اندازمیں کیا ہے ۔

اس کے بعد گوجرانوالہ اورشیخوپورہ کاذکربھی کیاگیاہے ۔ شیخوپورہ ایک تاریخی قصبہ ہے جسے جہانگیرنے آبادکیا تھا۔ اکبر بادشاہ جہانگیرکوپیارسے شیخوبابا کہاکرتے تھے اوراس بارے میں یہ روایت بھی مشہورہے کہ جہانگیرایک بزرگ شیخوباباکی دعاسے پیدا ہوئے ۔ اسی لیے اس گائوں یاقصبہ کانام شیخوپورہ کہلایا۔

پاک پتن کاذکرکرتے ہوئے مظہرالاسلام جذباتی ہوجاتے ہیں کیوںکہ یہیں بابافریدگنج شکر ؒ کامزارہے اورمظہرالاسلام کوان سے بڑی عقیدت ہے اوردوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے افسانوں میں بابافریدکاذکربارہاآتارہاہے ۔ پاک پتن سے متعلق تفصیلات یہاں نقل کی جارہی ہیں :

پاک پتن ایک ٹیلے پرواقع ہے اورساہیوال سے مشرق کی طرف تیس میل کے فاصلے پرہے ۔ دریائے ستلج چارپانچ میل کے فاصلے پربہتاہے ۔ پہلے یہ پاک پتن کے ساتھ ساتھ بہتاتھامگراب چارپانچ میل پرے ہٹ گیاہے ۔ اس پتن سے امیرتیمور، سلطان محمود غزنوی اور ابن بطوطہ نے دریائے ستلج کوعبورکیاتھا۔ کہاجاتاہے کہ پاک پتن کئی مرتبہ اجڑااورآبادہوا۔ پاک پتن کاپرانانام ’’اجودھن‘‘ تھالیکن بابا فریدکی آخری آرام گاہ ہونے کی وجہ سے شہنشاہ اکبرنے ۱۲۹۷ء میں اس کانام پاک پتن رکھ دیا۔

پاک پتن کی آبادی ۴۵ہزار کے قریب ہے اوراس کی اہمیت کی بڑی وجہ بابافریدگنج شکر ؒکی آخری آرام گاہ ہے ۔ بابافرید ؒ جب پاکستان میں تشریف لائے توکفر،زوروں پرتھااورجادوکی رسم عروج پرتھی ۔ بابافریدؒنے یہاں کے جادوگروں کواسلام کی طرف راغب کیا۔ دراصل بابا صاحب ؒ کی شخصیت ایک ایسی متبرک تلوارکی مانندتھی جس نے کفرکی تاریکی کوکاٹ کراسلام کی چمک اورروشنی سے پورے علاقے کومنورکردیا۔ ابتدائی دورمیں یہاں ہندویعنی کھتری ،برہمن ،اروڑہ اوردانسی دان آبادتھے ۔ مسلمان قوموں میں سید،چشتی اور قریشی زیادہ تعدادمیں تھے ۔ اس کے علاوہ ٹو، جویابھی کچھ تعدادمیں تھے ۔ یہاں کی کھرل قوم کے بارے میں محققین نے لکھاہے کہ انھوںنے انگریزوں سے مسلح مزاحمت کی ۔

بابافریدؒ کے بارے میں کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں ۔ اسی لیے لوگوں میں بھی وہی باتیں مشہورہیں جوکتابوں میں درج ہوچکی ہیں ۔ باباصاحبؒ کے مریدپورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ محققین نے بابا صاحبؒ کاشجرئہ نسب یوں بیان کیاہے:

۱۔امیرالمومنین حضرت عمربن الخطاب ؓ

۲۔حضرت عبداللہؓ

۳۔شیخ ناصرؒ

۴۔شیخ منصورؒ

۵۔شیخ سلیمان ؒ اول

۶۔خواجہ ادھم ؒ بلخی

۷۔خواجہ ابراہیم شاہؒ بلخ

۸۔شیخ اسحاقؒ

۹۔شیخ ابوالفتح واعظ اکبرؒ

۱۰۔شیخ عبداللہ واعظ اصغرؒ

۱۱۔شیخ مسعودؒ

۱۲۔شیخ سلیمانؒ

۱۳۔شیخ نصیرالدین محمودؒ

۱۴۔شیخ شہاب الدین احمدفرخ شاہؒ کابلی

۱۵۔شیخ محمدیوسف ؒ

۱۶۔شیخ محمداحمدؒ

۱۷۔قاضی محمدشعیبؒ

۱۸۔شیخ جمال الدین سلیمان ؒ(معزالدین)

۱۹۔حضرت بابا فریدالدین مسعودگنج شکرؒ

حضرت باباصاحبؒ کاعرس ہرسال ۲۵ذوالحجہ سے شروع ہوکردس محرم تک جاری رہتاہے اورعرس کی جورسومات خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی نے اپنی موجودگی میں اداکرائی تھیں ، آج تک ان پرعمل کیاجاتاہے ۔

ختم خوانی کی رسوم ۲۵ذوالحجہ سے شروع ہوتی ہیں۔ صبح دن چڑھے سجادہ نشین اپنے مکان سے درگاہوں سے سجادگان ، مریدوںاورمعززین کے ہمراہ جلوس کی شکل میں دربارپرآتے ہیں ۔ جلوس کے آگے آگے کچھ لوگ نعرے لگاتے ہیں ۔ایک نقیب اللہ ۔ محمدؒ ۔ چاریار، خواجہ قطب ،فرید۔ ایک شخص گجربجاتاہے تاکہ لوگوں کواطلاع ہوکہ سجادہ نشین مزارپرتشریف لارہے ہیں ۔ جب سجادہ نشین وہاں پہنچتے ہیں تومحفل سماع شروع ہوچکی ہوتی ہے لیکن آج کل یہ رسم ختم ہوچکی ہے۔ ختم ودعاکے بعدسجادہ نشین اپنے ہاتھوں سے چینی کا تبرک تقسیم کرتے ہیں ۔

مظہرالاسلام نے لوک پنجاب میں پاک پتن کے بعد چولستان کاذکرکیاہے ۔یہ نام ’’چلستان‘‘کاغلط العام ہے جس کا مطلب ریت ہے ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق چولستان تیرہ ہزارمربّع میل پرپھیلاہواہے ۔ چولستان کو’’روہی‘‘بھی کہاجاتاہے  اوراسی حوالے سے یہاں رہنے والوں کو روہیلے پکاراجاتاہے ۔یہاں کے رہنے والوں کی اپنی مخصوص روایات اوررسم ورواج ہیں ۔ یہ لوگ مشکل اورسخت زندگی بسرکرنے کے عادی ہیں ۔ مویشی پالتے ہیں اورانہی سے زندگی گزربسرکرتے ہیں۔بہت سے مورخّین نے لکھاہے کہ کبھی چولستان میں چھوٹے بڑے کئی شہرآبادتھے اوردریائے ہاکڑااس کے درمیان سے گزرتا تھاجسے چولستان میں رہنے والے کچھ بزرگ گھرگرہ بھی کہتے ہیں ۔

چولستان کے بعدملتان کاذکرآتاہے ۔ملتان کوکئی لحاظ سے مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ تویہاں کے روحانی بزرگ ہیں جن کے مزاروں پرپورے پاکستان کے لوگ حاضری دینے آتے ہیں ۔ لوگوں کی آمدورفت ہی کی وجہ سے ملتان خریدوفروخت کے لیے بھی مرکزی حیثیت رکھتاہے ۔اردگردکے پچاس میل کے علاقوں سے لوگ ہاتھ سے بنے ہوئے کھیس ،لنگیاں، لکڑی کی بنی ہوئی خوب صورت اورمنقش اشیااوردوسرے لوک فنون یہاں آکربیچتے اورخریدتے ہیں ۔ حسین آگاہی یہاں کاپرانااورمشہوربازارہے جس کے کچھ حصے بالکل پنجاب کے روایتی بازاروں کانقشا پیش کرتے ہیں ۔ یہاں چاندی کے زیورات بھی بکتے ہیں جوبالکل روایتی انداز کے ہوتے ہیں ۔

اس کے بعدمظہرالاسلام نے لائل پور(فیصل آباد)،فتح جنگ ،کلرکہار، خوشاب ،چنیوٹ ،جھنگ، ڈیرہ غازی خان جیسے علاقوں اوروہاں کے لوک گیتوں کاذکرتفصیلی طورپرکیاہے ۔پنجاب کے لوک گیتوں میں ماہیا،جگنی ،چھلا، ڈھولا، جھوک ، باراں ماہ ، ستوار ،دوہڑے ،سُراں ،بینت اورکافی وغیرہ کے اقسام بھی گنائے ہیں ۔

اس کے علاوہ پنجاب کے لوگ صرف گیتوں میں ہی نہیں بلکہ رقص میں بھی اپنے جذبات کااظہارکرتے ہیں اورپنجاب کے مقبول لوک ناچ کچھ اس طرح سے ہیں ۔سمّی ،بھنگڑا، لڈی،جھمر،گِدھ،باگھی ،جھلی وغیرہ ۔اس کے علاوہ کچھ کھانے پینے کی چیزیں کچھ اس طرح سے ہیں:

۱۔روٹی،مٹھی روٹی،مسی روٹی، ٹاپ،گوگی، ٹکی ،منی،من،دوڑ،پراٹھا، پیٹھی ،مولی والی روٹی،مکئی کی روٹی ، باجرے کی روٹی ، سوانک کی روٹی،چاولوں کی روٹی ،پوڑے ،پوڑیاں۔

۲۔چوری،چورماں،بوڑواں۔

۳۔پنجیری ،پھلجیرا، دال،نخاستا(نشاستہ)

۴۔پنیاں ،بھگا

۵۔مرونڈا،گجک، چیڑھ

۶۔سویاں،پوٹاسیویاں،پھینیاں،رومالی سیویاں۔

۷۔چاول ،زردہ ،متنجن ،پلائو،کھیر، کھچڑی،پریا، اَن،بھپا

۸۔بھنڈارا۔مزاروں پردیگ میں پکی ہوئی دال کوروٹی پررکھ کرتقسیم کیاجاتاہے۔ اس کھانے کوبھنڈاراکہتے ہیں ۔

۹۔گوجی/تریوڑ:لسی کے گلاس میں گائے بھینس وغیرہ دوہتے ہوئے دودھ کی پہلی دھاریں مارکربنایاہوامشروب ۔

۱۰۔کانجی۔کالی گاجروں میں مصالحے اورپانی ڈال کربنایاہوانمکین اورتیزمشروب ۔

۱۱۔بوہلی /ہوبلو۔تازہ سوئی ہوئی گائے بھینس وغیرہ کے پہلے دوتین دنوں کادودھ جس میں گڑڈال کرکاڑھ لیاجاتا ہے۔

۱۲۔شربت۔

۱۳۔سردائی

۱۴۔لسی،کچی لسی ،مٹھی لسی۔

مندرجہ بالارسوم وروایات اورشہروں ،قصبوں اوردیہاتوں سے جڑے صوفیاوبزرگانِ دین کے منقولات کومدّنظررکھ کریہ بات بلاتامّل کہی جاسکتی ہے کہ ’’لوک پنجاب‘‘پنجاب کے مختلف قصبوں کی تاریخ بھی ہے اورجغرافیہ بھی ۔ساتھ ہی اس حوالے سے تحقیق کے نئے دریچے کھولتی ہے تاکہ نئے حقائق سامنے آسکیں ۔

۲۔فوک لورکی پہلی کتاب

مظہرالاسلام کی یہ دوسری کتاب ہے جو۱۹۷۴ء میں چھپی ۔اس کتاب میں پاکستان کے فوک لورکے حوالے سے مفصّل گفتگو کی گئی ہے ۔فوک لورمیں ریسرچ کوموضوع بنایاگیاہے ۔ جس میں لوک ریت کی تعریف واہمیت ،فوک لوربحیثیت علم، پاکستانی فوک لور، ریسرچ کے طریق کار، ریسرچ کے ماہرین کے لیے ہدایات ومشورے اورموسیقی پرمخصوص ریسرچ سبھی کچھ شامل ہے ۔ اس کتاب کی افادیت پربحث کرتے ہوئے مظہرالاسلام رقم طرازہیں:

’’میری کوشش ہے کہ پاکستان میں فوک لورکوسائنسی اورنصابی حیثیت دی جائے۔ یہ اسی طرح سکولوں ،کالجوں اوریونی ورسیٹیوں کے نصاب میں پڑھایاجائے جس طرح سوشل سائنس کے دوسرے مضامین پڑھائے جاتے ہیں ۔گواس چھوٹی سی کتاب کا بنیادی مقصدفوک لورپرریسرچ کے قواعدکی تفصیل بیان کرنااورانھیں دوسرروں تک پہنچانا ہے تا کہ ریسرچراُن ضابطوں کے تحت ریسرچ کرسکیں لیکن اس کتاب کے ابتدائی حصہ میں فوک لورکے بارے میں ابتدائی معلومات فراہم کی گئی ہیں تاکہ قواعدوضوابط کے ساتھ یہ کتاب طالب علموں کوراہ دکھاسکے اورفوک لور کوبحیثیت علم پڑھنے اوراس کی اہمیت کااندازہ کرنے میں مددگارثابت ہو۔‘‘(۲)

لوک ریت جسے دنیابھرکے عالموں اورماہرین نے فوک لورکانام دیاہے ،سے مرادہمارے رسم ورواج ،اعتقادات ،لوک رومان اوربڑھے بوڑھوں کے اقوال سبھی کچھ شامل ہے ۔ اس کے معنی کووسیع تناظرمیں دیکھیں تومٹی کے برتن ،زیورات بنانے کے طریقے ،ٹوکریاں بننا،دوپٹہ رنگنا، مزاروں پرجانا، گلے میں تعویذڈالنا، فصلوں کی کٹائی اورخوشی کے مواقع پراپنے اپنے اندازسے حظ اٹھانا سبھی کچھ شامل ہے ۔ ظاہرہے کہ فریدہ خانم ،غلام علی اورراحت فتح علی خاں کی گائیکی ،صادقین اورایم ایف حسین کی تصویریں اور فیض واحمدفرازکی غزلیں خواہ کتنی ہی مقبول کیوں نہ ہوں انھیں فوک لورمیں شامل نہیں کیاجاسکتاالبتہ چرواہوں ،ساربانوں اور چرخا کاتتی ہوئی لڑکیوں کے گیت،ٹرکوں پربنے ہوئے شیراورنقش ونگارفوک لورہیں ۔فوک لورکابڑاحصہ زبانی روایات پرمشتمل ہے اوریہ سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہی ہیں ۔فوک لور میں وارث شاہ کی ہیربھی شامل ہے کیوں کہ ان کے اشعارزبانی لوگوں کویاد ہیں اوریہ بھی سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی چلی آرہی ہیں ۔مظہرالاسلام نے زبانی روایات کے دوپہلوؤں کواجاگرکیاہے :

۱۔نظریاتی

۲۔مادّی

غیرمادّی یانظریاتی پہلوکے تحت سینہ بہ سینہ آتی ہوئی روایات ،لوک کہانیاں،لوک رومان ،بچوں کے کھیل اورگیت ، جانوروںاورپرندوں کی کہانیاں،میلے اورعرس ،توہّمات اورشگون ،اعتقادات ،شادی بیاہ ،پیدائش اورموت کی رسمیں اورضرب المثل ، کہاوتیں ،بولیاں اوراکھان سبھی کچھ شامل ہیں ۔اسی طرح لوک ورثہ کے مادی پہلومیں لکڑی کاکام ،دھات کاکام، زیورات ،پتھراور چمڑے کاکام ،ہڈی کاکام،چھاپے کاکام ،ظروف سازی، موتیوں کاکام ،لباس اوربنائی کڑھائی کاکام شامل ہیں جس کی ہندوپاک میں ایک خاص روایت رہی ہے ۔آج کے ترقی یافتہ دورمیں فوک لورکی کیااہمیت رہی ہے یاان تمام چیزوں کااحیاکیوں ضروری ہے ، اس پربحث کرتے ہوئے مظہرالاسلام لکھتے ہیں:

’’دنیاکے تمام علوم کسی نہ کسی منزل کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ۔مثال کے طور پر میڈیکل انسان کی صحت اورآرکی ٹیکچرایک اچھے مکان کی بنیادبنتاہے ۔اسی طرح فوک لور انسان اورسوسائٹی کی تکمیل کاعلم ہے ۔اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فوک لور، دنیاکے تمام علوم کی بنیادہے ۔فلسفہ،سائنس،تاریخ اوردیگرعلوم فوک لور سے پھوٹتے ہیں ۔ جب لکھے ہوئے لفظ کاوجودنہیں تھااس وقت فوک لورہی علم کاذریعہ تھااورعلم بھی وقت گذر نے کے ساتھ ساتھ اس کے اندرسے علوم پیداہوئے اورلکھے گئے ۔اگر تجزیہ کیاجائے تو پتا چلتاہے کہ سب سے اہم اوربنیادی چیزFolkloric Experienceہے جوکسی گروہ یا اجتماع کی زندگی سے پیدا ہوتا ہے ‘‘۔(۳)

آج کے برقیاتی دورمیں بھی فوک لورکی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے بلکہ بعض جگہوں پراس حوالے سے تحقیق بھی ہورہی ہیں مثلاً ایک روایت ہے کہ جب کنویں کے سب مینڈک ایک ساتھ پانی کی سطح پرآجائیں یادرختوں پربیٹھے ہوئے پرندے یکلخت شور مچاتے ہوئے بے چینی سے اڑنے لگیں توسمجھاجاتاہے کہ زلزلہ آنے والاہے ۔ چین میں اسی حوالے کوبنیاد بناکرزلزلہ پرسائنسی تحقیق ہوئی ہے۔

مظہرالاسلام نے پاکستانی فوک لورکے حوالے سے ایک الگ باب قائم کیاہے تاکہ وہاں کے رسوم وروایات سے مکمل آگہی ہوسکے ۔ انھوں نے اس حوالے سے اس راز کابھی انکشاف کیاہے کہ پاکستان چوں کہ ایک ترقی پذیرملک ہے اورصنعتی ترقی کی دوڑمیں ابھی بہت پیچھے ہے اس لیے یہاں کے لوگ فوک لورسے زیادہ قریب ہیں بہ نسبت ان ممالک کے جہاں ترقی کی راہیں روشن ہیں اورانھیں اپنی روایات کومحفوظ کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی ۔ پاکستان کے فوک لورکی بنیادی خصوصیت تصوّف ہے ۔وہاں کے چپّے چپّے میں پیروں اور فقیروں کے مزارہیں ۔یہاں کے فوک لورمیں روحانی تلذّذ ہے ۔یہاں صوفیاکی زندگی کے سائے بہت گہرے اوردورتک پھیلے ہوئے ہیں اورتجزیہ کرنے سے پتاچلتاہے کہ پاکستان کافوک لور Spiritual Intuitionکادرجہ رکھتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں بے پناہ وسعت ہے جس کی مثال کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی ۔

پاکستان میں فوک لور کااندازہرعلاقے میں بدل جاتاہے ۔جب بھی کسی روحانی بزرگ کے مزارپرمیلہ لگتاہے توچاہے کسی علاقے میں ہوسارے پاکستان کے لوگ وہاں جمع ہوجاتے ہیں اورایک دوسرے کے رسم ورواج اوراعتقادکوShareکرتے ہیں ۔

مظہرالاسلام کاتعلق یوں بھی اسلام آباد میں ’’لوک ورثہ کاقوی ادارہ‘‘سے رہاہے ۔ انھوں نے ایک عرصہ ادارے کی خدمت کرکے لوک ورثے کوجمع کیاہے اوراسی محنت کا نتیجہ ہے کہ یہ کتاب منظرعام پرآسکی ہے ۔ لوک ورثہ کاقومی ادارہ ۱۹۷۴ء میں قائم ہواتھا۔ اس ادارے کا سب سے اہم مقصدپاکستان کے لوک ورثہ کوجمع کرکے محفوظ کرنااوراس کی ترقی کے لیے کام کرناہے ۔ اس مقصدکے لیے لوک ورثہ کے قومی ادارہ کے ریسرچرگاؤں گاؤں اورجگہ جگہ گھوم کرفوک لوراکٹھاکرتے ہیں جس کاپہلے باضابطہ اندراج کیاجاتاہے اوربعدمیں اشاعت کااہتمام کیاجاتاہے ۔مجموعی طورپردیکھاجائے تولوک ورثے کے حوالے سے مظہرالاسلام نے نمایاں کام کیاہے ۔ ایک طرف زمانہ اتنی تیزرفتاری سے مستقبل کی طرف گامزن ہے اورلوگ برقیاتی سطح پرتیز ی سے ترقی کررہے ہیں ایسے حالات میں مظہرالاسلام شہرکے چپّے چپّے ،گاؤں گاؤں گھوم کرلوک ورثے کے تحفّظ کے لیے کوشاں ہیں ۔اپنے اعتقادات ،لوک ورثہ اورملک کے ماضی کویک جا کرنے کی مثال خال خال ہی کسی شخصیت میں نظرآتی ہے ۔مظہرالاسلام نے اس نمایاں کام کو انجام دے کر حب الوطنی کاثبوت بھی پیش کیاہے ۔

۳۔میں آپ اوروہ

مظہرالاسلام کی یہ کتاب ۱۹۹۲ء میں شائع ہوئی ۔ یہ ادبی کالمزکامجموعہ ہے جوانھوں نے مختلف اوقات میں لکھے اوراکثر کالمز کسی نہ کسی ادبی رسائل اوراخبارات میں شائع ہوئے ۔ ان کالموں کوانشائیے کانام بھی دیاجاسکتاہے کیوںکہ انھیں پڑھ کرانشائیے کاگمان گزرتاہے ۔ ۳۴کالمزپرمشتمل یہ کتاب مختلف موضوعات پررقم کیے گئے ہیں ۔البتہ کچھ کالمزمیں افسانوی اندازبھی آگیاہے مثلاً اپنی قبر کی تلاش ، اپنے جنازے میں شرکت کرنے والاشخص ،اپناگھرڈھونڈنے کاسفرنامہ، کہانی سے باہرگراہواکرداراورانگورپرپکنے کاموسم وغیرہ ۔ ان موضوعات کودیکھ کرافسانے کاگمان گزرتاہے لیکن تمام موضوعات کے ساتھ ایسامعاملہ نہیں البتہ ’’اپنے جنازے میں شرکت کرنے والاشخص ‘‘مکمل افسانوی اندازلیے ہوئے ہے ۔ اس کالم کے تحت مظہرالاسلام نے اپنے ہی افسانہ ’’پیاسے ہاتھ کی دسترس‘‘ کے حوالے سے گفتگوکی ہے ۔ اپنی بات کاآغازکرتے ہوئے کالم نگارنے یہ وضاحت کی ہے کہ دنیابھرکے ادیبوں کے مشہورتخلیقات کا موضوع آزادی کی جنگ لڑنے سے رہاہے یاپھروہ آزادی کی تحریکوں سے متأثرہوکراپنے موضوعات کوبرتاہے۔ساتھ ہی یہ کہ کوئی بھی فن کاراپنے موضوعات کے حوالے سے ہی اپنی بات کہتاہے اوربالآخرکام یاب بھی ہوتاہے ۔اس کے بعدمظہرالاسلام نے اپنے افسانے ’’پیاسے ہاتھ کی دسترس‘‘کے مرکزی کردارکی طرف اشارہ کرتے ہیں جوعلامت کے طور پر ابھرتاہے ۔ اس کاکرداریوں کہتا ہے کہ ’’میں مرانہیں ہوں نہ ہی مجھے موت واقع ہونے والی ہے بلکہ میں زندہ ہوں اورزندہ رہوں گاجب کہ میرے مخالفین کادعویٰ ہے کہ میری موت واقع ہوگئی ہے ۔‘‘اس افسانے کے کردارکودیکھیں تویہ بات واضح ہوتی ہے کہ راوی کاکرداراپنے حق کی لڑائی کے لیے کوشاں ہے اورمخالفین اسے کام یاب ہونے نہیں دیتے ۔

کلی طورپردیکھاجائے تویوں لگتاہے کہ مظہرالاسلام نے اس کالم میں اپنے ہی افسانے کی تشریح کی ہے جہاں تک دوسروں کی نگاہ مشکل سے ہی جاتی ہے ۔کچھ کالمز معروف ادبی شخصیات کے حوالے سے لکھے گئے ہیں جن میں قدرت اللہ شہاب کے نام ایک خط، منٹو، فیض انتظاراوربہار،منظورعارف ،جاپانی ڈرامانگارکے ساتھ ایک سفر، اس بے وفاکاشہراورمنیرنیازی وغیرہ کافی اہم ہیں ۔ کچھ ایسے بھی کالمزہیں جن کے موضوعات دیکھ کرانشائیے کاگمان ہوتاہے جیسے ادب میں چوریاں اورڈاکے ،شہدکی مکھی اورنئے عہدکے ادیب ،فرضی نام اورسانپ اورسکرپٹ اہم ہیں ۔

مظہرالاسلام ’’ادب میں چوریاں اورڈاکے‘‘میں اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ ادب میں ڈاکے اورچوریوں کی روایت کافی قدیم رہی ہے لیکن تعجب اس بات پرہے کہ لوگ انھیں پکڑنے کے بجائے ڈرتے ہیں کہ کہیں نہ انہی کے مضامین ،غزلیں اورافسانے کو اپنے نام سے چھپوانہ لے ۔اس کالم کے تحت انھوں نے ادب کی بہت سی چوریوں کاذکرکیاہے ۔ان کاخیال ہے کہ ایسے چوردوسرے ہم عصر شعراکے کلام کو مشاعرے میں پڑھ کرواہ واہی لوٹتے ہیں ۔اس کے علاوہ کچھ ایسے بھی ہیں جوغیرملکی ادیبوں کی تخلیقات کوترجمہ کرکے اپنے نام سے چھپوالیتے ہیں اوربعض ایسے جوادیبوں کے خیالات کوچراکراپنے حوالے سے چھپوالیتے ہیں اوراس کی طرح کی وارداتیں کم نہیں ہوئی ہیں بلکہ اس کاحلقہ بڑھتاہی جارہاہے ۔

اسی طرح سے ’’ادب کا درمیانہ آدمی‘‘پر اظہار خیال کرتے ہوئے ادیبوں کے ایسے گروپ کا تذکرہ کیا ہے جو ادب میں میانہ روی اختیار کیے ہوئے ہیں۔اس مضمون کی ابتدا کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے ادیبوں کو ہمیشہ سے ایک داد دینے والے کی اشد ضرو رت رہی ہے۔ایسے داد دینے والوں کی ادیب سب سے زیادہ قدر کرتے ہیں۔بل کہ حد تو یہ ہے کہ جہاں جہاں ادیب حضرات کو کلام سنانے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے ،وہ اپنے چاہنے والوں کو ضرور مدعو کرتے ہیں تاکہ کوئی تو ہو جو اُس کی تعریف کے پُل باندھے۔اور یہ بات انہی کو معلوم ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اس کی تعریف میں کرنے والا۔اسی لیے وہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات کے علاوہ طعام و قیام کا بھی معقول انتظام کرتے ہیں تاکہ ان کی شہرت کے چار چاند لگ جائیں۔مظہر الاسلام نے داددینے والے حضرات کے اقسام کچھ ا س طرح سے گنائے ہیں۔

’’ایک قسم تو ان حضرات کی ہے جو مشاعروں میں داد دینے میں ماہر ہوتے ہیں اور صرف شاعر ہی نہیں بل کہ مشاعرے کے منتظمین ان کا بے حد خیال رکھتے ہیں اور مشاعرے کے دوران میں کسی نو جوان کی ڈیوٹی لگا دیتے ہیںجو با ر بار داد دینے والے حضرات سے پوچھتا رہتا ہے’’ٹھنڈا پئیں گے یا گرم‘‘ اور داد دینے والے پہلے ٹھنڈا پھر گرم ،پھر ٹھنڈا اور پھر گرم پیتے رہتے ہیںاور داد دیتے رہتے ہیں۔پھر جب مشاعرہ ختم ہو جاتا ہے تو داد دینے والوں کو بھی شعرا ئے کرام کے ساتھ کھانا کھانے کی دعوت دی جاتی ہے جہاں وہ بچی کھچی داد بھی دے ڈالتے ہیں پھر جب جب گاڑی شعرائے کرام کو چھوڑنے جاتی ہے تو شعرا سب سے پہلے داد دینے والے احباب کو گاڑی میں بیٹھنے کی دعوت دیتے ہیں اور اس طرح یہ قافلہ اپنے گھروں کو روانہ ہوتا ہے‘‘۔(۴)

مجموعی طورپردیکھاجائے تومعلوم ہوگاکہ مظہرالاسلام نے سماج میں ہونے والے ادبی وغیرادبی جرائم کوان کالمزمیں پیش کر کے شہرکی زبوں حالی کاتذکرہ کیاہے جوغالباً افسانے میں ممکن نہیں ۔اسی وجہ سے انھوں نے انشائیے کے طرز پر کالمز لکھ کرتوجہ دلائی ہے ۔

۴۔اے خدا

مظہرالاسلام کی دعائیہ نظموں کامجموعہ ۱۹۹۲ء میں شائع ہوا ۔ اس مجموعے میں پندرہ دعائیہ نظمیں شامل ہیں ۔مظہرالاسلام کی ان دعائوں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دعائیں خاص اوقات میں مانگی گئی ہیں ۔ ان کااصول ہے کہ ہرسال دو دعائیں مانگتے ہیں ۔ ایک سال کی آمد کے موقع پردوسری سال کے رخصت کے موقع پر۔یہی خاص اہتمام انھوں نے دعائوں کے سلسلے میں کیاہے ۔دعائوں کی فہرست اس طرح سے ہے:

۱۔بھیگی آنکھوں میں اڑتی کاغذکی ابابیل                       ۱۹۹۵ء کی پہلی دعا

۲۔میرے قتل کاموسم آیا                                 ۱۹۹۴ء کی پہلی دعا

۳۔خیال کی آخری راہداری میں ایک کھڑکی دم توڑگئی ۔        ۱۹۹۳ء کی پہلی دعا

۴۔وہ موت سے چندقدموں کے فاصلے پرآنکھوں کی کالونی میں رہتی ہے ۔       ۱۹۹۲ء کی پہلی دعا

۵۔بے وفائی کے اس ماحول میں بات کیسے آگے بڑھے ۔               ۱۹۹۰ء کی آخری دعا

۶۔قدموں کی چاپ میں مسافرایک بھی نہیں ۔                      ۱۹۹۰ء کی پہلی دعا

۷۔دروازوں پرجمی دستک زخم بن گئی ہے ۔                         ۱۹۸۹ء کی پہلی دعا

۸۔تتلیاں بونے سے پھول نہیں اگتے ۔                     ۱۹۸۸ء کی پہلی دعا

۹۔بچوں کے لباس پرکڑھے پرندے لہوبوس ہوئے ۔                  ۱۹۸۷ء کی پہلی دعا

۱۰۔وہ کالی تیتری کی طرح نیندکے کالے کوسوں بھاگتی ہے ۔           ۱۹۸۵ء کی آخری دعا

۱۱۔دل کچہری میں ہارے ہوئے مقدمے میں آنکھیں گواہ نہیں تھیں ۔         ۱۹۸۵ء کی پہلی دعا

۱۲۔گائوں کی پن چکی اس کے من کی طرح ہونکتی ہے ۔              ۱۹۸۳ء کی پہلی دعا

۱۳۔لالٹین کی مدھم روشنی پراداس شام کی سلوٹیں ۔                 ۱۹۸۲ء کی پہلی دعا

۱۴۔گلاب کاشت کرنے کے موسم کی آخری سرگوشی ۔               ۱۹۸۱ء کی پہلی دعا

۱۵۔نئی اورپرانی قبروں کے کتبوں پرکندہ عبارتیں ۔                  ۱۹۸۰ء کی پہلی دعا

مظہرالاسلام کے نزدیک دعائوں کے کئی رنگ ہیں اوروہ دھاگوں سے مشابہت رکھتے ہیں جس طرح سے دھاگے دوکپڑوں کے ٹکڑوں کوملانے کاکام کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح دعابھی ایک دھاگاہے جواللہ اوربندے کے مابین تعلق بنائے رکھتاہے ۔جو دھاگے صرف اپنی خواہشوں کی مانگ کے رنگ میں رنگے ہوتے ہیں ان دھاگوں سے کاڑھی ہوئی دعاکے رنگ مختلف ہوتے ہیں لیکن جن دھاگوں پراللہ کی محبت کارنگ چڑھاہوتاہے ان سے کاڑھی ہوئی دعاکی خوشبوہی اورہوتی ہے اوریہی مظہرالاسلام کی دعائوں کا حاصل ہے جوبناکسی غرض سے جڑے ہیں کیوںکہ دعائوں کامطلب صرف مانگناہی نہیں ہوتابلکہ رب کے بھیدکو پالیناہوتاہے ۔ دل سے دعاکرنااوربغیرغرض کے دعاکرنے کامطلب ہے روح کوطالب ، حقیقت اورمعرفت کی آگ میں پکانا۔ ان دعائوں میں ایک خاص طرح کادھیان رکھناپڑتاہے ،ریاضت کے کھیت کے کنارے بجوکاکھڑاکرناپڑتاہے، نفس کومارناپڑتاہے، اپنی روح کاراستہ روک کرکھڑاہوناپڑتاہے ،اپنے آپ کوپہچاننا پڑتاہے تب کہیں جاکرحقیقت تک رسائی ہوپاتی ہے ۔

مظہرالاسلام شہرکانوحہ بھی اپنی دعاؤں میں بیان کرتے نظرآتے ہیں ۔ ایک طرف شہرمیں پھیل رہے خوشامدوں ،جھوٹوں اورمکاروں کے عذاب سے بچنے کی دعاکرتے ہیں تودوسری جانب شہرکی بدامنی کوبھی اس کاحصہ بناتے ہیں۔ ایک حوالے سے ان کی نظم کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’اے خدا

اب توہمارے روٹی پانی سے

ہمارے دنوں اورراتوں سے

سہمی سہمی باتوںسے

پھولوں ،پھلوں

رشتوں ،ناطوں سے

ہمارے سروں اورگھروں سے

دودھ پیتے بچوں کے منہ سے

مارشل لاکی ناگورمہک آتی ہے

یاخدا

مارشل لاکوہمیشہ کے لیے رخصت کردے

کیوں کہ سناہے کہ اب وہ

بھیس بدل کرشہرمیں پھرے گا

بچوں کی سالگرہ پرجلتی موم بتّیاں

اس کے لباس کی ہواسے

ڈریںگی۔‘‘(۵)

مجموعی طورپردیکھاجائے تویہ بات واضح ہوتی ہے کہ مظہرالاسلام نے نظموں کے حوالے سے خود غرضی کوبالائے طاق رکھ کر اپنے رب سے قربت حاصل کرنے کے لیے ہرسال میں دودعائیں مانگی ہیں جن سے مظہرالاسلام کی تخلیقی اپج کاپتاچلتاہے ۔چاروں غیر افسانوی تصانیف پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات صاف طور پر واضح ہوتی ہے کہ کہ مظہر الاسلام نے افسانوی دنیا کے علاوہ غیر افسانوی نثر حتیٰ کہ شاعری میں بھی اپنی شناخت قائم کی ہے اور ایک فن کار کے لیے اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔

حوالہ جات :

1۔مظہرالاسلام ۔لوک پنجاب ۔نیشنل بک فائونڈیشن ،اسلام آباد۔۲۰۱۲ء ۔صفحہ نمبر ۱۷

2۔مظہرالاسلام ۔ فوک لور کی پہلی کتاب ۔نیشنل بک فاؤنڈیشن ،اسلام آباد۔۲۰۱۲ء ۔صفحہ نمبر ۹

3۔ مظہرالاسلام ۔فوک لورکی پہلی کتاب ۔نیشنل بک فاؤنڈیشن ،اسلام آباد۔۲۰۱۲ء ۔صفحہ نمبر ۲۷

4۔مظہرالاسلام۔میں آپ اور وہ۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔۲۰۰۰ء۔صفحہ نمبر ۸۷

5۔مظہرالاسلام ۔اے خدا۔سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور۔۱۹۹۹ء۔صفحہ نمبر ۱۵۴

٭٭٭

 

 

نوٹ: مضمون نگار آر کے ہائ اسکول، چندوا، لاتیہار(جھارکھنڈ) میں اردو کے استاد ہیں۔

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

ادبی میراثمظہر الزماں
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
طارق چھتاری کا ’’بَاغ کا دَروازہ‘‘: ایک تنقیدی تجزیہ – ڈاکٹر صفدر امام قادری
اگلی پوسٹ
قطار میں ایک چہرہ  – مشرف عالم ذوقی

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں