سرسید کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کوزیور تعلیم سے آراستہ کرکے ان کی پسماندگی دور کرنا تھی۔سرسید کے پیش نظرمسلمانوں کو تعلیم سے کچھ اس طرح لیس کرنا تھا جوکارزار حیات میں انہیں اپنے برادران وطن کے بالمقابل کھڑا کرسکے۔ اس کے لیے انہوں نے اپنی پوری قوت جھونک دی اور بالآخر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔
حضرات !قرآن کی پہلی وحی اقرأ بسم ربک الذی خلق ہے اورحدیث میں گود سے گور تک علم حاصل کرنے کی بطور خاص تاکید کی گئی ہے۔یعنی ایک مسلمان کی پوری زندگی تعلیم وتعلم سے عبارت ہے۔ اب جب کہ سرسید نے خود کو تعلیم وتعلم سے جوڑ رکھا ہے تو تعلیم جوروز اول سے تا قیامت فرض ہے اس طرح جب تعلیم کی معنویت گور سے گود تک یعنی ہر زمانے میں تعلیم حاصل کرنا فرض ہے۔سرسید جو مسلمانوں کو تعلیم کے پرچارپرسار کے علمبردار تھے ان کی معنویت بھی تاقیامت بنی رہے گی۔
یوں تو ہر سال ہی 17اکتوبر کو علیگ برادران سرسیدڈے مناتے آئے ہیں۔ لیکن امسال 17اکتوبر کو چونکہ سرسید کے دو سوسال پورے ہورہے ہیں لہٰذا امسال کچھ زیادہ ہی جوش وخروش دکھائی دے رہا ہے۔ ہرسال اس موقع پرعلیگ برادران جشن مناتے رہے ہیں۔ کچھ اس طرح گویا آج عید ہے۔ علیگ برادری کچھ ایسا کرگزرنا چاہتی ہیںجو یادگار بن جائے۔ادھر اردو کے بیشتر رسالے اور جرائد اس کوشش میں ہیں کہ وہ بھی کچھ ایسا کرجائیں جو خاص بن کررہ جائے۔تہذیب الاخلاق توخیر ان کا اپنا رسالہ ہے جسے بانی ٔ ادارہ سرسید نے اپنے اغراض ومقاصد کی ترسیل کے لیے خود نکالنا شروع کیا تھا۔اس رسالے کواگرخاص نہ بھی کیا جائے تو بھی وہ خاص ہی ہوگا۔
اردو رسائل وجرائد کے انبارمیں چند ایک رسالے ایسے ہیں جن کے پاس اگرچہ کچھ بھی نہ ہو تو بھی اپنی عقیدت کا اظہار کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے۔ اس وقت ہمارے پیش نظر دو رسائل ایسے ہیں جوہماری توجہ کھینچتے ہیں۔عقیدت یہاں بھی ہے لیکن جدت کے ساتھ۔
جدت اگر نہ ہوتو کوئی بھی چیز چبائے ہوئے نوالے کی مانند کراہیت پیدا کرتی ہے۔ روایت بیشک ہمیں اپنے جڑ سے جوڑ ے رکھتی ہے ،لیکن جدت موسم بہار کی فرحت بخش ہوا کی مانند ہمارے ذہن و دماغ کو ترو تازہ رکھتی ہیں۔سرسید پرمتعدد کتابوں میں’جارج گراہم دی لائف اینڈ ورک آف سرسید‘ اوراردو میں الطاف حسین حالی کی ’حیات جاوید ‘ اولیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔کتابوں کے علاوہ مختلف رسالوں نے گوشے یا نمبر نکالنے کا اہتمام کیا ہے اور کچھ رسائل تو چھپ کرمنظر عام پرآبھی چکے ہیں۔ہم یہاں ان میں سے صرف دو رسائل پر ایک نظر ڈالیں گے:
جہان کتب (سرسید نمبر)17اکتوبر 2017کو سرسید کے دوسو سال پورے ہوں گے۔ اس مبارک موقع پر سرسید کے چاہنے والے ان کے شایان شان اپنی محبت و عقیدت کا مختلف انداز میں اظہار کریں گے۔ قابل مبارکباد ہیں ماہنامہ ’جہان کتب‘ کے ایڈیٹر محمد ناصرخاں اورمرتب فاروق ارگلی جنہوں نے 2016سے ہی سرسید کے تئیں اپنی ممنونیت کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے۔ ماہنامہ ’جہان کتب‘ کا زیرنظر سرسید نمبر اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔
ترتیب کا کام شاید تصنیف سے زیادہ محنت طلب ہوتا ہے، جس کے لیے تلاش و جستجو، محنت اور لگن شرط ہے۔ ترتیب میں اس بات کا خا ص خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کہیںکوئی اہم چیز نہ چھوٹ جائے، جب کہ تصنیف میں آپ کوآزادی حاصل ہوتی ہے کہ آپ اپنی بساط بھر خودموضوع طے کرتے ہیں اورپھر اپنی علمیت کے باوصف موضوع کے تئیں انصاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
’جہان کتب‘ کا زیر نظر سرسید نمبر یقیناً تحقیق و ترتیب کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ اس خصوصی نمبر کاآغاز (محمد ناصر خاں) اورعرض مرتب (فاروق ارگلی) کے علاوہ بارہ عنوانات کے تحت مضامین کو شریک اشاعت کیا گیاہے۔ یہ ابواب اس طرح ہیں:(1)عہد آفرین شخصیت (2) سرسید اور تعلیم (3) مذہب (4) علم وادب (5) سرسید تحریک (6) مفکر اعظم (7) یادوں میں شہر دانش(8 ) انتخاب مقالات سرسید(9) تہذیب الاخلاق (10) رفقائے سرسید (11) سرسید کے چند شاہکار (12) منظوم نذرانے۔ ان عنوانات یا ابواب کے تحت 150مضامین کا انتخاب کیا گیا ہے، جن میں سرسید کی شخصیت، افکار اور کارنامے اجاگر کیے گئے ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ سرسید کی زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا پہلو ہو جو چھوٹ گیا ہو۔ بلکہ کہیں کہیں توتکرار نظر آتی ہے۔ اگر سخت انتخاب سے کام لیا جاتا تو یہ کتاب یقیناً سبک ، مفید اور زیادہ کارآمد ہوتی۔
اسی طرح ہرمضمون/ مقالے کے ساتھ اس کے آخر میںحوالہ ضرور دینا چاہئے تھا کہ کون سے مضامین کہاں سے لیے گئے ہیں۔اس سے نہ صرف اس مضمون کی ادبی اورتحقیقی حیثیت کا پتہ چلتا بلکہ اس کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوتا۔
’ادب سلسلہ‘(گوشہ سرسید)2017میں گل سرسبد سرسید احمدخاں کے دو سو سال پورے ہورہے ہیں۔ وہی سرسید جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد مدخولۂ گورنمنٹ ہونے کے باوجود اپنی قوم کو گمرہی اور پسماندگی کی غار سے نکالنے اور انہیں سر اٹھا کر جینے کے لائق بنانا تھا۔یہ ان کی نیت کا خلوص ، محنت اور لگن کا ہی نتیجہ تھا کہ انہوں نے اپنے مقررکردہ ہدف کو پالیا۔ چنانچہ ’ادب سلسلہ ‘ نے اپنے دوسرے شمارے میں سرسید پرایک خصوصی گوشہ بعنوان ’’اگر سرسید نہ ہوتے‘‘ کو شامل کیا ہے۔اس جریدہ میں تقریباً150صفحات سرسید کے لیے وقف کیا گیا ہے، جس میں تقریباً25صفحات میں ’’اگرسرسید نہ ہوتے‘‘ کے عنوان سے ایک تحریری مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔اپنے اداریہ میں اعزازی مدیر تبسم فاطمہ نے اسی عنوان سے اپنی باتیں ان الفاظ میںرکھی ہیں:
’’سرسید نے مسلمانوں کی پسماندگی اورزوال کے لیے پوری توجہ تعلیم پر صرف کی۔ ان پر فتوے آئے۔ ان کے خلاف علما کی فوج کھڑی ہوگئی۔ مگر سرسید تو سرسید تھے، خاموشی سے وہ کردکھایا کہ آج ان کے چاہنے والے کروڑوں کی تعداد میں تعلیم کی مشعل اٹھائے کھڑے ہیں۔ آج کے حالات میںجب عدم رواداری ، عدم تحمل سے ہوتی ہوئی بات ہلاکت تک پہنچ چکی ہے، اس موقع پرسرسید کو یاد کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ جرأت اظہار کے لیے عمل کا راستہ بھی سرسید نے دکھایا تھا۔‘‘
اس مذاکرے کے شرکامیں صغیرافراہیم، سید احمد قادری، امام اعظم، جاویداختر، محمد سلیم (علیگ) آفتاب احمد آفاقی، مشتاق احمد، انصاری حنان حسین ،ساجدذکی فہمی، راشد جمال فاروقی، مشتاق احمد وانی اور طارق سید وغیرہ نے اس موضوع پر معاصر پس منظر میں گفتگو کی ہے۔
اس مذاکرہ کے علاوہ 13نئے پرانے مضامین بھی شامل اشاعت ہیں جو ایک قاری کے لیے سرسیدکے حوالے سے ایک بہترین تحفہ ہے۔
ادھر کچھ دنوں سے ہمارے ملک میں مقامات ، ادارے اور کچھ اسٹیشن وغیرہ کے نام بدلنے کا فیشن سا چل پڑا ہے۔ پتہ نہیں ہم اپنے اس عمل سے ترقی کررہے ہیں ، آگے جارہے ہیں یا بقول شاعر:
لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
یونیورسٹیوں کے نام بدلنے کا یہ شوشہ کسی اور نے نہیں بلکہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے چھوڑا ہے۔کہیں یہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دو سو سالہ جشن میں رنگ میں بھنگ ڈالنے کی سازش تو نہیں۔یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے پینل نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اوربنارس ہندو یونیورسٹی کے نام سے ’ہندو‘ اور’ مسلم‘ لفظ ہٹانے کی سفارش کی ہے۔
کسی دکان کا سائن بورڈ بدلنے سے اس میں بکنے والا سامان نہیںبدل جاتا ہے۔ یو جی سی یونیورسٹی کے نام بدلنے کے بجائے کچھ اچھے کام کرے۔مثال کے طور پر کچھ نئے اور کار آمدکورس کو متعارف کرائیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس قد م کے پیچھے کوئی سیاسی منشا ’ہندو‘ اور’ مسلم‘ لفظ صدیوں پرانا ہے۔ ان یونیورسٹیوں کی نہ صرف قابل فخر تاریخ رہی ہے بلکہ یہ اپنے نام اور کام کے سبب پوری دنیا میںبھی مشہورہیں۔ مذہبی شناخت کرانے والے یہ دو الفاظ یونیورسٹیوں میں تحقیقی صلاحیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے معاملات کے ذمہ دار نہیں۔
یونیورسٹیوں کے نام سے ’ہندو‘ اور’مسلم‘ لفظ ہٹانے کی سفارش کو مسترد کردیا جانا چاہئے۔ فی الوقت فرقہ واریت کایہ ’جن‘ ہماری بوتل میں بندہے۔واضح رہے کہ یو جی سی نے اپنی سفارش میں کہا تھا کہ ان دو نوں یونیورسٹیوں سے لفظ ’مسلم‘ اور ’ہندو‘ ہٹادینا چاہئے جودو فرقوں کودرشاتے ہیں۔سچی بات تویہ ہے کہ ہندو مسلم لفظ ملک کی ثقافت کا حصہ ہیں۔اسے فرقہ واریت سے جوڑنا غلط ہے ۔یو جی سی نے کہا ہے کہ ان یونیورسٹیوں کو علی گڑھ یونیورسٹی اور بنارس یونیورسٹی کہا جاسکتا ہے یا ان یونیورسٹیوں کے نام ان کے بانیوں کے نام پررکھ دیا جائے۔مجھے ذاتی طورپریو جی سی کے اس فرمان سے اتفاق نہیں۔یوں بھی ایسے فسادات کا ذمہ دارنہ ہندو ہیں اورنہ مسلمان یہ صرف اور صرف چندشرپسند ذہنوں کی کارستانی ہوتی ہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

