Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

قرۃالعین حیدرکا’ستمبر کا چاند ‘  اور ژوکیمی- ڈاکٹر انوار الحق

by adbimiras اکتوبر 22, 2020
by adbimiras اکتوبر 22, 2020 1 comment

کسی بھی ملک کی ثقافت ‘تہذیب ‘کلچر اور قدروں میں اس ملک کے ادب ‘آرٹ ‘اور موسیقی کی جڑیں پیوستہ ہوتی ہیں ۔تہذیب وثقافت  صرف ا ٹھنے بیٹھنے  ،ملنے جلنے اور کھانے پینے غمگین ہونے اورخوشیاں منانے تک ہی محد ود نہیں ،بلکہ ایک ایسی لامحدود شیئے ہے جو کئ طرح سے داخلی ‘ظاہری ‘باطنی ‘انفرادی اور اجتماعی طور پرسماج کی تشکیل میں معاون اور اثر انداز ہوتی ہے ۔انفرادی طور طریقوں سے تہذیب کی اجتماعی صورت سماج کی شکل میں تیار ہوتی ہے ،اور پھر سماج کی یہی اجتماعیت انفرادیت کو اپنے رنگ میں رنگ لیتی ہے ۔تہذیب اجتماعی ہوتی ہے یا انفرادی یاپھر اکثریت کی تہذیب اجتماعی تہذیب تخلیق کرتی ہے ۔ معاشرہ کی تخلیق کامعاملہ یہ ہے کہ یہاں جمہوریت کی طرح اکثریت کو کل سمجھا جاتا ہے اور اکثریت کی تہذیب معاشرے کی تہذیب کہلاتی ہے ۔  Edward Taylor  تہذیب کی تعریف یوں کرتا ہے:

Culture is that complex whole which includesBelief, art, morals, law custom any other Compatibilities and habits acquired by man As a member of society

(Edward Taylor: Primitive culture 1871-Vol -1)

یعنی کلچرایک ایسی پیچیدہ شئے ہے جواپنے اندر علم‘عقیدہ ‘فن‘اخلاقیات ‘قانون ‘رسم و رواج اور معاشرے میں رہنے والے افرادکی اپنائی ہوئی عادتیں بھی سمیٹے ہوئے ہے۔ اگر ایڈورڈ کی اس تعریف کو کلچر کی تعریف مان لیا جائے تویہ کہاجاسکتا ہے کہ قرۃ العین حیدر کا رپورتاژ’ستمبر کاچاند ‘  جاپان کے کلچر پر تحریر کیا گیا اب تک کا بہترین رپورتاژ ہے ،دلیل اس د عوے کی یہ ہے کہ اس رپورتاژ میں جاپان کے طورطریقے علم ‘عقیدہ ‘ فن اخلاقیات ‘قانون ‘ رسم ورواج کے علاوہ جاپان کی تاریخ پراس قدر پر مغز اور فن کارانہ طریقہ سے بات کی گئ ہے کہ قاری خود کو اس تہذیب کا حصہ اور ملک جاپان کے باشندہ کی حیثیت سے اس کتاب میں شامل پاتاہے ۔اس رپورتاژ کا نام ستمبر کاچاندکیوں رکھا گیا، اس سلسلے میں اس رپورتاژ کی مصنفہ نے اس کتاب میں کوئی اشارہ نہیں دیا البتہ ژوکیمی کا تیوہار جوجاپان کی تہذیب  میں بڑی اہمیت رکھتاہے اور وہ ستمبر کے ماہ میں آتاہے اس سے اس رپورتاژ کے عنوان کی کڑی ملتی معلو م ہو تی ہے ۔ ( یہ بھی پڑھیں دنیا کا پہلا پکارسک ناول- ایم۔ خالد فیاض)

ژوکیمی جاپان میں بڑی دھوم دھام سے منایا جاتاہے ۔۔ ستمبر کے ماہ میں جب چاند اپنے پورے آب و تاب سے آسمان دنیا پر جلوہ افروز ہوتاہے تواس دن جاپانیوں کی خوشی کی انتہا نہیں ہوتی ۔ویکسنگ مون (Waxing moon)کے نام سے مشہوریہ جاپانی تیوہار چینی روایت سے جاپان میں منتقل ہوا ،کب اور کس طرح اس کی شروعات ہوئی ابھی تک یہ ایک تحقیق طلب امر ہے۔ عموما یہ ماناجا تاہے کہ ہیان عہد (Heian period)سے یہ روایت رائج ہے ۔اس دن بہت سے لو گ ا یک جگہ جمع  ہوتے ہیں اور چاند کی شان میں قصیدے اور نغمے گاتے ہیں ، ستمبر کی چود ھویں کوجب چاندپوراہوتا ہے اور نہایت ہی چمکدار اور صاف دکھائی پڑتاہے توجاپانی لوگ باجماعت چاند دیکھنے کااہتمام کرتے ہیں اور یہ رؤیت ہلال کا عمل ان کیلئے عید کی خوشی سے کم نہیں ہوتا ،  اس دن وہاں خاص قسم کاروایتی کھانا بنایا جاتاہے جسکو مقامی زبان میںژوکیمی دانگو (Tsukimi Dango)کہتے ہیں ۔یہ ایک خاص سفید چاول سے تیار کیا جاتاہے ، اس کے علاوہ  ’تارو‘(Taro) ادامام (edamame )وغیرہ دوسری ژوکیمی کے خاص پکوان ہیں ۔ان تمام قسم کے کھانے جوژوکیمی کیلئے مختص ہیں مقامی زبان میں وہاں کے لو گ اس کو ’ژوکیمی ریوری ‘(  Tsukimi ryouri)کہتے ہیں ،  جاپان کے الگ الگ حصوں میں اس تہوار کیلئے الگ الگ تاریخیں بھی مقرر ہیں۔ کہیں تیرہ ستمبر کو کہیں پندرہ ستمبر کو تو کہیں سترہ ، تئیس اور چھبیس ستمبر کو منایا جاتا ہے۔سن ۸۶۲ سے ۱۶۸۴  تک پو رے جاپان میں یہ تیوہا ر تیرہ ستمبر کو منایا جاتا تھا  ۱۶۸۴ میں پہلی ستمبر کی تاریخ اس خوشی کے موقع کیلئے مختص کی گئ َ، کچھ لوگوں نے اس تبدیلی کو بدعت مانا اور ’ایڈو‘ (جو آج کا ٹوکیو ہے )میں پندرہویں ستمبر کو منا یا جانے لگا ۔حاصل کلام یہ کہ ۱۶۸۴ سے پہلے پورے جاپان میں یہ تیوہار تیرہ ستمبر کو منایا جاتا تھا ۔ژوکیمی کی یہ روایت محض جاپان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک چین ، منگولیا ، جنوبی کوریا ، شمالی کوریا ، اور ویت نام کے علاوہ اس کے آ س پاس کے ملکوں میں بھی جوش وخروش سے منایا جاتا ہے ۔ایک خاص قسم کا مشرو ب بھی پرانے زمانے میں زو کیمی کے دن پیا جاتاتھا۔ جسے وہاں کے لوگ  سیک (sake)کہتے تھے۔ خرگوش نما کھلونے اور ایک خاص جاپانی گھاس (susuki)سے گھروں کو سجایاجاتا ہے اور جم کر خوشیاں منائی جاتی ہیں ۔

جاپان کی اس پرانی روایت نے جاپانی ادب کو بھی بہت کچھ دیا ،  چاند کی تعریف میں کہی جا نے والی شاعری’تانکا ‘ (Tanka)کہلاتی ہے ۔ یہ کو ئی صنف خاص نہیں بلکہ کسی بھی صنف میں کہی جانے جانے والی شاعری ہو تی ہے ۔ہائیکو ۔چونکہ ایک خاص صنف تھی اس لئے ساری دنیا میں مشہو رہوئی ،مگر’تانکا ‘اسی طرح جاپان کی روایتوں سے جڑی ہے جس طرح ہمارے یہاں مرثیہ اور مثنوی کے اصناف ہماری تہذیب سے جڑے ہیں۔محض ’تا نکا ‘ ہی نہیں بلکہ ’نوہ ‘اور’کابکی‘ تھیٹر بھی جاپانی ادب پر گہری چھاپ رکھتے ہیں۔

’تانکا‘ (Tanka ) دراصل جاپانی صنف شاعری واکا (Waka)کی چار قسموں میں سے ایک ہے ۔تانکا کے علاوہ باقی کی تین قسمیںچوکا (Choka)سیڈوکا  (sedoka)اورکٹوکا (Katoka )کی ہیئتیں تقریبا مردہ ہوچکی ہیں ۔کل ملا کر صرف تانکا موجودہے اس لئے اب وا کاکی اصطلاح بھی بے معنی سی ہو گئی ہے ۔جاپانی شاعری کے دواہم ستون ہم تانکا اور ہائیکو کو کہ سکتے ہیں ، حالانکہ تانکا ہائیکوکے مقابلے پرانی صنف ہے ۔مردہ ہوچکی صنف ’چوکا ‘کی مثال ملاحظہ کیجیے؛

         Uri  hameba                                   When I eat melons

Kodomo Omohoyu          My children come to my mind;

Kuri  hameba                           When I eat chestnuts                                                         Mashite Omowayu                  The longing is even worse

                  Izuku Yori                          Where do they come from

Kitarishi monoso                 flickering before my eyes.

       Manakai ni                           Making me helpless

Motona kakarite                  Endlessly night after night

Yasui shi nesanu        Not letting me sleep in peace?

یہ واکا کی وہ صنف ہے جس کا استعمال سب سے پہلے بندہوچکا ۔مندرجہ بالا نظم جاپان کے سب سے پرانے شعری مجموعہ مان یو شو (Manyoshu)سے لی گئی ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ مان یو شو نارا عہد میں ۷۵۹ کے قریب وجود میں آیا ، مندرجہ بالا نظم کا شاعر (Yamanoue no okura )کومانا جاتا ہے او کورا کی نظم تانکا کی صنف میں ملاحظہ کیجئے۔

Shirokane mo            What are they to me.

Kugane mo tama mo       Silver, or gold, or jewels?

Nanisemu ni              How could they ever

Masareru takara       Equal the greater treasure

Koni shikame yamo   That is a child? They can not.

کو ئی ضروری نہیں کہ تانکا صنف محض چاند کی تعریف کیلئے استعمال کی گئ ہے۔ البتہ اس صنف کو ژوکیمی کے موقع کی شاعری کیلئے اس قدر استعمال کیا گیا کہ تانکا کوژوکیمی کی شاعری کی صنف سمجھا جانے لگا ۔

یہ تو ہوئی جاپان کی ژوکیمی اور ژوکیمی سے متعلق شا عری کی باتیں ۔ژوکیمی کا ذکر در اصل یہاں اس لئے کیا گیا کہ قرۃالعین حیدر کا مشہورزمانہ رپورتاژ کامجموعہ ’ستمبر کاچاند‘ کی وجہ تسمیہ معلوم ہوسکے ۔اس مجموعہ میں کل پانچ رپورتاژ شامل ہیں ایک مختصر سا دیباچہ ہے جواس لئے کافی اہمیت رکھتاہے کہ اس میں قرۃالعین حیدر نے رپورتاژ کی تعریف اور ابتداء کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیاہے ، ان کے مطابق :

’’رپورتاژ اور سیدھے سادے سفر نامے میں محض انداز بیان کا فرق ہے ،  رپورتاژ افسانے کی زبان میں لکھا جا تا ہے ، اس میں زیب داستان بھی اس حدتک ہوتی ہے کہ اس سے حقائق کی پر دہ پوشی نہ ہو یا واقعات کو غلط رنگ میں نہ پیش کیا جا ئے ، مثال کے طو ر پر افسانے اور حقیقت کا  امتزاج ہمیں یلدرم کے مضمون ’سفر بغداد‘ میں ملتا ہے جو ۱۹۰۴ میں لکھا گیا ،اور جسے اردو کا پہلا رپورتاژکہا جاتا ہے ،،

(ستمبر کا چاند قرۃالعین حیدر صفحہ ۷)

اس مجموعہ کا پہلا رپورتاژ’لندن لیٹر‘جو قرۃالعین حیدر کا پہلا رپورتاژ بھی ہے جیسا کہ نام سے ظاہر ہے سفر لندن پرمبنی ہے۔ دوسرا رپورتا ژجس کے نام پر اس مجموعہ کا نام رکھا گیا یعنی ’ستمبر کا چاند ‘جسکی وجہ تسمیہ مندرجہ بالا چندسطورمیں بیان کی گئ جاپان کے سفر کے دوران مصنفہ کے مشادہ پر مبنی ہے اس رپور تاز میں تقریبا ہر جملہ جاپانی اور ہندوستانی تہذیب کا تقابل بیان کرتاہے ، جیسا کہ قرۃ العین حیدر کا ادبی شیوہ ہے کہ تہذیب اور کلچراور ا س کی تاریخ کے بغیر ان کا کوئی بھی ادب پارہ مکمل نہیں ہوتا ۔

جس طرح قرۃالعین حیدر نے آگ کا دریا کی شروعات  ٹی  ایس ایلیٹ کی فلسفیانہ نظم کے اردو ترجمہ سے کی ہے، اسی طرح ستمبر کا چاند کی شروعات ایذرا پاؤنڈکی نظم تیرہوا ںکینٹو کے اردو ترجمہ سے کی ہے ۔اس نظم سے اس رپورتاژ کی ابتدایہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ اس رپورتاژژمیں تہذیبوں اور قدروں کاتقابل اہم موضوع ہے۔ ملاحظہ کیجئے اس نظم کا اردو ترجمہ  :

’’اور کونگ نے کہا ۔۔

مجھے ابتک وہ زمانہ یاد ہے جب مؤرخوںنے ان  باتوں کے لیے

تاریخ کے صفحات خالی چھوڑدئے تھے جنہیں وہ نہیں جانتے تھے خوبانی کے شگوفے ہواؤںکے ساتھ

مشرق سے مغرب کی طرف اڑرہے تھے

اور میں ان کو گر نے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں ۔‘‘

ایذراپاؤنڈ(تیرہواں کنئو)

دراصل یہ کنٹو تیرہ کاآ خری حصہ ہے ۔ایذرا پاؤنڈ کے سارے کنٹو کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انہوںنے ان میںچینی کرداروں کو بھی شامل کیا ہے اور امریکی کہاوتوں کو بھی ۔جاپانیوں نے اپنی تہذیب چین سے مستعار لی تھی ،تو کہیں نہ کہیں اس نظم کا تعلق تہذیب کے اعتبار سے اس خاص جاپانی تہذیب سے ملتا ہے، جو مصنفہ کا موضوع ہے ۔قرۃالعین حیدر ادیبوں کی بین الاقوامی کانگریس کے انتیسویں سالانہ اجلاس میں شرکت کی غرض سے جاپان پہنچی تھیں وہاں جاپان اور جاپانیوں کے متعلق جو مشاہدہ انہوں نے کیا وہ ستمبر کا چاند کی صورت میں رقم کرکے اس اجلاس کو تاریخی بنا دیا ۔

رپورتاژ کے اسلوب بیان کے با رے میں تودیباچے ہی میں رائے قائم کر دیا کہ رپورتاژ افسانے کی زبان میں لکھا جاتاہے۔ ایک افسا نہ اور رپورتاژ میں کیا فرق ہے۔ رپو رتاز میں کہانی حقیقت پر مبنی ہوتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیا فرق پڑتاہے اگر کہانی حقیقت ہو یا افسانہ۔  فنی اعتبار سے تو ظاہر ہے کہ افسانہ میں پلاٹ ہو تاہے رپورتاژ میں نہیں ہوتا ۔ مصنفہ کا حال یہ ہے کہ اس رپورتاژ کو انہوں نے اس اندازسے لکھا ہے کہ قاری کو یہ احساس ہو تا ہے کہ وہ رپورتاژنہیں کوئی ناول کا حصہ پڑ ھ رہا ہے، اور پھراچانک اسے یہ علم ہو تا ہے کہ نہیں یہ رپورتاژ ہے ۔ستمبرکا چاند میں منظر کشی کا یہ حصہ ملاحظہ کیجئے :

’’امپیریل ہوٹل کی سرخ قالینوں والی فرلانگوں لمبی گیلریوں میں رپ رپ کرتی خادمائیں سفیدفراقوں میں ملبوس سائے کی طرح گذررہی ہیںکسی ایک گیلری میں مادام صوفیہ وادیا مدراسی ساڑی پہنے بالوں میں پھول لگائے باہر نکلتی ہیں اور کیمرہ میں ان کی طرف دوڑ پڑے ہیں‘‘

(ستمبر کاچاند قرۃالعین حیدر صفحہ ۳۳ا)

مندرجہ بالا اقتباس کے بارے میں اگر قاری کو پہلے سے یہ علم نہ ہو کہ یہ افسانہ کا حصہ ہے ، یا ناول کا یا ایک رپورتاژ کا  تو قاری یہ گمان بھی نہین کر سکتا کہ یہ فکشن کا اقتباس نہین ہے بلکہ ایک رپورتاژ کا ہے ۔اب قرۃ العین حیدر کے مشہور ناول آگ کا دریا میں منظر نگا ری کی یہ ادبھت مثال ملاحظہ کیجئے ۔

’’شام کی نیلگوں روشنی میں وہ درختوں کے قمقموں کے نیچے بیٹھے رہے ، فضا کا غم گہرا ہوتا گیاچمپا چلو ‘‘نو بجے سے ریہر سل شروع ہے ‘‘ پھولوں کے پر ے سے کسی لڑکی نے پکارا ‘‘ اچھا  ْ وہ سا ئیکل سنبھال کر پھاٹک کی طرف چلی گئ گھا س پر بیٹھے ہوئے لوگ اسے روشن پرسے گذر تادیکھتے رہے ،،    (آگ کادریا قرۃالعین حیدر صفحہ ۳۵۲)

اب مندرجہ بالا دونوں اقتاباسات کا تقابل کیجئے دونوں میں منظر پیش کیا گیا ، دونوں میں بہت خوبصورت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں دونوں کا انداز بیان بہت شستہ ہے مگر ایک رپورتاژ کا اقتباس ہے اور دوسرا ناول کا ۔ قرۃالعین حیدر کی بد قسمتی یہ رہی کہ ناقدین نے ان کو بخیثیت ناول نگار اور افسانہ نگار کے ان کی امیج کو اس طرح پورٹرے کیا کہ ان کی دیگر صلاحیتیں اور دوسری اصناف میں ان کے ادبی کمالات اور ان کے فنی محاسن کو وہ توجہ نہیں مل سکی جوملنی چاہیے ۔

ان کے ادبی مضامین اور رپورتاژکے اصناف میں ان کے جواہر اب تک پردئہ خقا میں ہیں ۔یہاں تک کہ فکشن میں بھی’آ گ کا دریا ‘ہی کے حوالے سے ایک زمانے تک ان کی امیج کو قید رکھا گیا ۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ اب نقادوں نے انہیں  ’آگ کا در یا ‘کے علا وہ دوسرے  ناولوں ‘چاندنی بیگم ‘ـ’گردشرنگچمن‘اور’میرےصنمخانے‘کےحوالےسےبھییادکرناشروعکردیاہے۔البتہ ان کی تر جمہ نگا ری مضمون نگاری رپورتاژ نگاری اور بچوں کا ادب اب تک نقادوں اور قارئین دونوں کی توجہ چاہتے ہیں ۔

جاپان کی تہذیب ہم ہندوستانیوں کیلئے کسی دوسری دنیا کی مخلوق کی تہذیب سے کم نہیں لگتی ۔جب ہم جاپانیوں کی ضیافت خوش ا خلا قی ، حسن سلوک ، اور ادب سے محبت اور دلچسپی کے بارے میں معلوم کر تے ہیں تو ان کا تصور ہمارے ذہن میں ایلین کی طرح ابھرتاہے۔ دوسری جنگ عظیم سے بربادی اور تباہی سے گذر نے کے بعد جاپان نے جس طرح خودکو اس بڑے سانحہ سے بہ آسانی  ابھارا اس میں جاپانیوں کی ہمت اور استقلال کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔

جاپانیوں کی تہذیب میں مہمان نوازی کیا اہمیت رکھتی ہے اس کا اندازہ ستمبر کا چاند کے اس اقتباس سے آپ کو بخوبی ہوسکتاہے :

’’عین اسی لمحے ایک جید جاپانی نا ول نگا رآن مو جو دہو ئے ، وہ  سامنے کھڑ ے جھک جھک کر کہ رہے تھے اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو خاتون اندر لا ؤنج میں انتظار ہو رہاہے اسکے بعد میرے نہایت ادنی جھونپڑے میں قدم رنجاں فرماکر۔۔۔

میں نے کتاب گھاس پر سے اٹھا لی ، ارادہ یہ تھا کہ اگر چند منٹ کی مہلت ملے تو کسی کونے میں بیٹھ کر پڑھونگی مگر یہ جاپان ہے جہاں ادیبوں کی بین الا قوامی کانگریس کا انتیسواں سالانہ اجلاس ہو نے والاہے اور ہر جاپانی کا فرض ہے وہ خاطروں کے مارے مہمانوں کی جان نکا ل لے صبح جان اسٹن بک جب شکریے کے کوئی الفاظ نہ بن پڑے تو انہوںنے عاجز آ کر کہا کہ تعذیب کا سب سے خوبصورت طریقہ یہ ہے کہ اتنی تواضع کرو مہمان آدھ موا ہوکر رہ جائے‘‘  (ستمبر کاچاند قرۃالعین حیدر صفحہ ۳۴)

جاپان میں مہمان نوازی کی اس خصوصیت کو اس سے زیادہ خوبصورتی سے پیش نہیں کیا جاسکتا تھا ،جس خوبصو رتی سے قرۃالعین حیدر نے ستمبر کا چاند میں پیش کیا ہے ۔

صرف اتنا ہی نہیں اس رپورتاژ میں پورے جاپان کی تہذیب الفاظ میں رکھ دی گئ ہے ۔جاپان کی پوری تہذیب سیاست ‘ سماج اور ادب سب پر اس رپورتاژ میں اتنی پر مغز گفتگواور منظر کشی ہے کہ قاری اس رپورتاژ کو پڑھتے وقت کبھی کبھی خود کو جاپان میں محسوس کر تا ہے۔ خواہ وہ اس متن کی قرأت دنیا کے کسی بھی حصے میں کیوں نہ کررہاہو۔اس رپورتاژ میں بھی فلسفہ اور فلسفیانہ مکالمے جابجا موجود ملتے ہیں۔ ایک خاص معنیاتی نظام کے تحت اس فلسفے کو نہیں سمجھا جاسکتا ۔کچھ علامتیں بھی ہیں اور کچھ زیریں لہر بھی۔ قدرے مبہم مگر معنیاتی حسن سے لبریزمکالمے کا یہ حصہ دیکھیے:

’’اچھا تو آؤ زین فلسفہ پڑھیں ۔ یہ جاپان ہے اور پائین کے درختوں پر خزاں کے بادل چھائے ہیں وغیرہ ،،زین کا مطلب تمہیں معلو م ہے ؟ میں نے پیشانی بل ڈا ل کر پوچھا ، نہیں ‘‘

’’زین سنسکرت کے  لفظ دھیان کی جاپانی شکل ہے اور چین سے یہاں آیا ، اب آگے پڑھو ‘‘

اس نے دوبارہ کتاب کھولی ،

بیل تو کبھی نہ گما تھا پھر اسے ڈھونڈنے سے کیا فائدہ ، چروایا خوداپنے کو کھوئے بیٹھا ہے ،،

( ستمبر کا چاند قرۃالعین حیدر صفحہ ۳۸)

مندرجہ بالا اقتباس سے متن کا قد متعین کرنا کس قدر ٹیڑھی کھیر ہے ۔یہ بھی پتہ چلتا ہے اور اس بات کا بھی احساس ہوتاہے کہ متن جتنا اپنے اندر وجودپذیر ہے اس سے زیا دہ باہر ہے۔ اس فلسفہ کے بہت سے مطالب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ جو میری سمجھ میں آتا ہے کہ زین لفظ تہذیب کی علامت ہے جس کا سنسکرت سے چین اور پھر جاپان منتقل ہو نا اس بات کی طرف اشارہ کہ جاپانی تہذیب کی  جڑیں بالواسطہ ہندوستان سے ملتی ہیں ، البتہ مندرجہ بالا متن کی اس کے علاوہ اور بھی توضیحات ہو سکتی ہیں اس سے انکارنہیں کیاجاسکتا۔

یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ ستمبر کا چاند میں محض جاپان ہی کی تہذیب نہیں بلکہ اس کانگریس میں حصہ لینے آئے مختلف مہمانوں کاتعارف کرانے کے ساتھ ساتھ مختلف ادب ،زبان ، اور تہذیب پر پر مغز بحثیں بھی موجود ہیں مشرق اور مغرب کی تہذیب کا تقابل بھی بڑی خوش اسلو بی سے پیش کیا گیا ہے ۔ہندوستان اور ہندوستانی ادب کے بارے میں اس رپورتاژ میں قرۃ العین حیدر اپنا خیال یوں پیش کرتی ہیں :

ـ’’ہمآرٹاورخیالاتکیعالمگیرقدروںمیںیقینرکھتےہیں لیکن ہم اپنی انفرادیت کےبھی قائل ہیں ہندوستانیت کوجدیدیت یاعالمگیریت کی لاٹھی سےنہیں ہانکاجاسکتا صدیوں سے ہندوستان کی تشریح کی جارہی ہے پچھلی نسل کیلئے ہندوستان غیر مغربی یا غیر جدید کے مترادف تھا آج ہندوستان میں سب کچھ شامل ہے لیکن اس کی روح منفرد ہے ۔

ہمارے لکھنے والوں کا مستقبل کیا ہے ؟ غالبا جلد موڈرن اور گاندھین راستوں میں سے ایک انتخاب کرنا ہوگا اور یہ فیصلہ بڑاتکلیف دہ ہوگا مغربی لیکھکوں کے سامنے اس قسم کی کوئی اذیت دہ فیصلہ نہیں ہے ‘‘

( ستمبر کا چاند قرۃالعین حیدر صفحہ ۷۲ )

اس طرح ستمبر کا چاند کی مصنفہ نے تہذیب اور قدروں کے ایک بڑے ہی پیچیدہ عقدے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ہندوستانی ادب اور مغربی ادب کے چیلنجوں پربحث کی ہے۔ اس طرح کی متعدد بحثیں مختلف ممالک اور ان کے ادب کے متعلق اس رپورتاژ میں موجود ہیں جو یہ اشارہ دیتی ہے کہ قرۃالعین حیدر نے صرف فکشن ہی نہیں بلکہ مضمون نگاری اور رپورتاژ نگاری میں بھی شاہکار چھوڑے ہیں۔ ضرورت ہے تو صرف ناقدین کی توجہ کی۔

پو رے رپورتاژ میں مصنفہ نے کہیں بھی ژوکیمی کاذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ انہوں نے اس رپورتاژ کا نام ستمبر کاچاند کیوں رکھا ،ملک جاپان اور یہ نام ستمبر کاچاند میں ژوکیمی کے علا وہ کو ئی تو رشتہ نظر نہیں آتا اس لئے ستمبر کا چاند کی وجہ تسمیہ ژوکیمی کی روایت ہی کو مانا جاسکتا ہے۔ میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مصنفہ نے عمدا اس کی وضاحت سے گریز کیا ہے ظاہر ہے کہ ادب میں پوشیدگی بھی فن کاری اور اور ہنر مندی کے زمرے میں آتی ہے ۔

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثرپورتاژستمبر کا چاندقرۃ العین حیدر
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
کشکول- نسیم انصاری
اگلی پوسٹ
ٹیگور کاناول ’گورا‘: تجزیاتی مطالعہ- ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

1 comment

خامہ بگوش کی یاد میں - مہر فاطمہ - Adbi Miras اکتوبر 23, 2020 - 4:57 شام

[…] متفرقات […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں