Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

خامہ بگوش کی یاد میں – مہر فاطمہ

by adbimiras اکتوبر 23, 2020
by adbimiras اکتوبر 23, 2020 0 comment

خامہ بگوش سے میری غائبانہ ملاقات تقریباً دو سال پرانی ہے، جب میں ایم۔اے کی طالبہ تھی۔ لائبریری میں کسی کتاب کی تلاش میں تھی کہ اچانک ایک کتاب پر نظر پڑی،عنوان تھا ”خامہ بگوش کے قلم سے۔“ نکال کر اس کی فہرست دیکھی۔ کافی دلچسپی کا سامان موجود تھا۔ اس کو لے کر وہیں ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔ یہ تقریباً گیارہ بجے کا وقت تھا اور جب مجھے ہوش آیا تو اس وقت لائبریری بند ہونے کا وقت تھا۔کتابوں کو ڈھڑا دھڑ شیلف میں رکھنے اور کھڑکیوں وغیرہ کو بند کرنے کی آواز سے شاید میں ہوش میں واپس آئی تھی۔اگر ایسا نہ ہوتا تو پتہ نہیں اور کب تک میں اس میں گم رہتی۔اپنے ارد گر سے لاتعلق، کون آیا، کون گیا، کچھ پتا نہیں۔ نہ بھوک،پیاس کا احساس۔یہ کیسا نشہ تھا، یا کہا جائے کہ کیسی کیفیت تھی۔ ایمانداری سے بتاؤں تو ابن صفی کے جاسوسی ناولوں یا کچھ اور ناولوں کے علاوہ اس طرح کا نشہ کبھی مجھ پر سوار نہیں ہوا۔ خیر اس وقت تو بس یہی دل تھا کہ کچھ وقت اور ملتا، مزید پڑھ لیتی۔ یہ تھی میری ان سے پہلی ملاقات۔ پھر میں نے انھیں تفصیل سے پڑھنا شروع کیا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی دشواری نہیں کہ جتنی دلچسپ ان کی تحریریں ہیں، اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ان کی شخصیت ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں قرۃالعین حیدرکا’ستمبر کا چاند ‘  اور ژوکیمی- ڈاکٹر انوار الحق)

ان کا اصل نام ’عبدالحئی‘اور تخلص ’مشفق‘ تھا۔ 19/ دسمبر 1935 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد 1957 میں بی۔ اے آنرز اور پھر ایم۔ اے اردو کراچی یونیورسٹی سے پاس کیا۔ 1957 سے 1973 تک انجمن ترقی اردو میں علمی و ادارتی شعبہ کے نگراں رہے۔ جہاں انھوں نے بحیثیت مدیر ماہنامہ ’قومی زبان‘، سہ ماہی ’اردو‘ اور ’قاموس الکتب‘ میں خدمات انجام دیں۔ مشفق خواجہ کو بیک وقت کئی میدانوں میں دسترس حاصل تھا۔ وہ محقق،شاعر، نقاد، صحافی، کالم نگار اور بہترین مزاح نگار تھے۔ بقول مجتبیٰ حسین ان پر یہ مصرع صادق آتا ہے کہ  ع

کس چیز کی کمی ہے خواجہ تیری گلی میں

تخصیص کے اس عوامی دور میں ایک آدمی اتنی سمتوں اور جہتوں میں پھیلا ہواہو،یہ خود کوئی اچھی اور نارمل بات نہیں ہے۔ وفاداری بشرط استواری بھی تو کوئی چیز ہے۔ ہمارے یہاں ادب میں یہ اچھی بات ہے کہ ایک  آدمی شاعر ہے تو زندگی بھر شاعرہی بنا رہتا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا۔(یوں بھی شاعری کرنے کے بعد وہ کسی کام کا رہ بھی کہاں جاتا ہے)پھر اس میں بھی اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ اس کا شعری سرمایہ دوچار نمائندہ غزلوں اور نظموں سے نہ آگے بڑھنے پائے۔ افسانہ نگار ہے تو زندگی بھر دل بے قرار کا افسانہ ہی لکھتا رہ جاتا ہے۔ یہ اچھی بات بھی ہے اس سے افسانہ نگار کے دل کو قرارتو آہی جاتا ہے۔ اوپر سے ادب کے قارئین کو یک گونہ اطمینان یہ بھی حاصل ہو جاتا ہے کہ اب یہ ادب کی کسی دوسری صنف میں ٹانگ نہیں اڑاے گا۔ اور یوں آدمی کی پہچان بھی متعین ہو جاتی ہے۔ ادب میں اہمیت ادب کی نہیں، ادیب کی شناخت کی ہوتی ہے۔ مشفق خواجہ نے اپنی شناخت کو دانستہ یا نادانستہ طور پر اتنا گڈمڈ کر دیا ہے کہ کبھی ان کی تحقیق پر ہنسی آجاتی ہے اور کبھی ان کی مزاح نگاری پر خواہ مخواہ سنجیدہ ہونے کو جی چاہتا ہے۔

خواجہ صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کتابیں ان کی کمزوری تھیں۔ اگر کسی کتاب کے چار پانچ نسخے شائع ہوئے ہوں تو اس کا ایک نسخہ ان کے پاس ضرور موجود ہوگا۔ ان کی کتاب دوستی کا یہ عالم تھا کہ ان کی ذاتی لائبریری میں سترہ ہزار سے زیادہ کتابیں تھیں۔ ان میں سے کچھ کتابیں ان کے والد اور دادا مرحوم سے ورثے میں ملی تھیں اور باقی کتابیں ان کی خود فراہم کردہ تھیں۔ ادبی رسالوں کے بے شمار فائل تھے۔ ان کے پاس ایسی کتابوں کی تعداد دوہزار سے زائد تھی جن پر مصنّفین کے دستخط تھے اور جو خود مصنّفین نے انھیں پیش کی تھیں۔ ان کی لائبریری ایسی نایاب لائبریری تھی جس میں اتنی بڑی تعداد میں اردو ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں پچھلے پچیس سالوں کے اخباروں کے تراشے محفوظ تھے۔ ان تراشوں کا اس طرح انڈکس بنایا گیا کہ ایک منٹ میں مطلوبہ تراشا مل جاتا تھا۔ ان کے گھر میں گیارہ کمرے تھے،جن میں سے دس کمروں میں کتابیں رہتی تھیں اور ایک کمرے میں وہ اور ان کی اہلیہ۔ اس لائبریری میں کتابیں سلیقے سے رکھنے کے لئے انھوں نے چار پانچ آدمیوں کو رکھا ہوا تھا اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ یہی کتابیں ان کی کل کائنات تھیں۔ خواجہ صاحب انہیں میں مشغول رہتے تھے۔ زیادہ ادھر ادھر جانا انہیں پسند نہیں تھا۔ سیمیناروں اور دوسری ادبی جلسوں میں بھی اس کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی۔ سفر کرنے سے بھی کتراتے تھے۔ ہندوستان میں ان کے دوست،مداح اور معتقدین کی ایک بڑی تعداد تھی اور اب بھی ہے۔ تقریباً سب لوگ اور ادبی ادارے انہیں مختلف بہانوں سے ہندوستان بلاتے رہے۔ کئی بار ان کے آنے کی افواہ بھی اڑی،مگروہ نہیں آئے۔ایک بار مالک رام صاحب کی بیماری کی خبر شائع ہوئی۔ خواجہ صاحب کو ان سے دلی عقیدت تھی۔ خبر سنتے ہی بے چین ہوگئے اور خلیق انجم صاحب کے پاس خط آیا کہ وہ تشریف لارہے ہیں۔ ان کی آمد کی جو کہ دراصل آورد تھی،کی خبر ہر طرف پھیل گئی۔ ادبی تنظیموں میں استقبالیہ تقریب کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ لیکن انھوں نے سب سے معذرت کرلی۔اردو اکادمی،دہلی کے زیر اہتمام سہ روزہ سیمینار منعقد ہو رہا تھا۔ اس کی صدارت ان کو کرنی تھی۔ اشتہاروں میں ان کا نام چھپ چکا تھا۔ سب لوگ جمع ہوئے لیکن خواجہ صاحب غائب رہے۔ خیر جب لوگوں نے دیکھا کہ خواجہ صاحب کسی طرح جال میں نہیں آئے تو ایک اور جال بنانے کی تیاری شروع کی گئی۔ یعنی جب یقین ہوگیا کہ خواجہ صاحب دوستوں کو زبانی اظہار کا موقع نہیں دے رہے ہیں تو انھوں نے تحریری اظہار کا راستہ نکالا۔ طے پایا کہ دہلی میں ان کی آمد پر دو کتابیں شائع ہوں گی۔ ایک جس میں ادبیوں کے مضامین ہوں گے۔ دوسری خواجہ صاحب کی اہم تحقیقی کتاب ”غالب اور صفیر بلگرامی“ چھاپی جائے گی۔ خیر یہ دونوں کتابیں ڈیڑھ ہفتے کی قلیل مدت میں شائع ہوئیں۔ جو خواجہ صاحب سے محبت کا بہت واضح ثبوت ہیں۔

”مشفق خواجہ ایک مطالعہ“ میں مالک رام، خلیق انجم، مجتبیٰ حسین، تنویر احمد علوی، شمیم حنفی،مخمور سعیدی اورشہباز حسین صاحب کا ان کی شخصیت پر بہترین مقالہ ہے۔ طاہر مسعود نے خواجہ صاحب کا انٹرویو لیا تھا جو ان کی کتاب ”یہ صورت گرکچھ خوابوں کے“ میں شائع ہوا تھا۔ اسی طرح امت ا  لصبوراور فاطمہ طالب نے پاکستان میں ان کی بیگم آمنہ مشفق صاحبہ کاانٹرویو لیا تھا۔ یہ دونوں انٹرویو اس میں شامل ہیں۔اس کے علاوہ اس میں خواجہ صاحب کی کتابوں پر تبصرے اور ان کی نظم و نثر کا انتخاب بھی موجود ہے۔ اس نوعیت سے یہ پہلی کتاب ہے کہ کسی ادیب کا استقبال اس کی شخصیت اور ادبی خدمات کے بارے میں لکھ کر کیا گیا ہو۔

مشفق خواجہ ہندوستان میں جتنے دن رہے کسی جلسے میں نہیں گئے۔ بقول مجتبیٰ حسین کہ دوستوں کے یہاں کھانے کی دعورت پر ضرور گئے لیکن وہاں بھی ان کا زیادہ وقت الماریوں میں رکھی ہوئی کتابوں کے جائزہ میں صرف ہوا۔ وہ ہمیشہ نئی کتابوں کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ میں نے انہیں بڑے انہماک کے ساتھ ایسی کتابوں کے ورق گردانی بھی کرتے دیکھا ہے،جنھیں ہم چمٹے سے پکڑ کر اپنی الماری سے باہر نکالتے ہیں۔

خواجہ صاحب کی شناخت ادب کے میدان میں کئی طرح سے قائم ہے۔ اس لئے ان کے قاری اور مداح کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو ان کو محقق کی حیثیت سے جانتے ہیں حالانکہ خواجہ صاحب کی صورت کہیں سے بھی محققوں والی نہیں تھی۔ بقول خلیق انجم:”میں ہندوستان کے جن محققین سے واقف تھا انہیں دیکھ کر میں نے ہمیشہ یہ دعا مانگی تھی کہ اے خدا، اے بزرگ و برتر اور اے ہماری قسمتوں کے بنانے والے،اگر تونے میری قسمت میں محقق ہونا لکھ دیا ہے، بے شک مجھے محقق بنا لیکن محقق صورت نہ بنائیو۔ میری یہ دعا تو قبول ہوگئی لیکن کہیں گڑبڑ ہونے کی وجہ سے یہ دعا مشفق صاحب کے حساب میں پڑگئی۔ مجھے آج تک پہلی ملاقات کے وقت خواجہ صاحب کا حلیہ یاد ہے۔ میری توقع کے خلاف کیسا شگفتہ چہرہ تھا۔ چہرے پر دور دور تک تحقیق کی مردنی کا نشان نہیں بلکہ جدید ترین تخلیقی ادب کے فنکار کی شگفتگی اور تازگی تھی۔دوسرے قسم کے وہ جوان کو صف اول کا کالم نگار مانتے ہیں اور ان کے جملے کے جملے یاد کیے ہوئے ہیں۔ مجتبیٰ حسین اور مشتاق احمد یوسفی جیسے ادیب ان کے کالم کی جابجا تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔ مجتبیٰ حسین لکھتے ہیں کہ میں انہیں ذاتی طور پر ان کی مزاح نگاری کی وجہ سے پسند کرتا ہوں۔یہ اور بات ہے کہ وہ ہ اپنے لیے مزاح نگاری کو ذریعہئ عزت نہیں سمجھتے۔ اسی لیے فرضی نام کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ تیسرے قسم کے وہ لوگ جو ’تحقیقی ادب‘کے حوالے سے ادبی صحافت میں ان کی مہارت،سلیقے اور حسن انتخاب کے قائل اور مداح ہیں، ان کے بارے میں کسی نقاد نے لکھا”وہ کاغذ سیاہ کرتے ہیں اور موضوع سرخرو ہوجاتا ہے۔“

ان کی تصنیفات و تالیفات میں خامہ بگوش کے قلم سے،سخن در سخن،سخن ہائے گسترانہ،سخن ہائے نا گفتنی، تذکرہ خوش معرکہ زیبا،غالب اور صفیر بلگرامی،جائزہ مخطوطات اردواور کلیات یگانہ وغیرہ ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ریڈیو پاکستان کے لئے مختلف موضوعات پر تقریباً پچاس  فیچرز لکھے۔ ان کے علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 1993 میں ان کو صدارتی اعزاز سے نوازا گیا۔ 21/فروری 2005 کو کراچی میں یہ ادب شناس، ادب کا شیدائی اور ادب پرورہمیشہ کے لئے مٹی میں دفن ہوگیا۔ ان کا ایک شعر ہے۔ع

اپنی یادوں کو سمیٹیں گے بچھڑنے والے

کسے معلوم ہے پھر کون کدھر جائے گا

اگر ہم بات کریں ان کے تحقیقی و تنقیدی کام کی یا اس کی افادیت کی تو یہ مضمون کافی طویل ہو جائے گا۔مثال کے طور پر آپ ”جائزہ مخطوطات اردو“ کو ہی دیکھ لیجیے اس کی افادیت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ مثلاً اگر آپ کو ذوق پر کام کرنا ہے تو ان کی یہ کتاب آپ کو بتائے گی کہ دنیا بھر میں ذوق کے دیوان کے کتنے نسخے ہیں اور ان کی کیا کیا خصوصیات ہیں۔ کس دیوان کے کتنے ایڈیشن چھپے ہیں۔ ذوق کے بارے میں قدیم تذکروں سے لے کر آج تک جتنے مضامین لکھے گئے ان سب کی تفصیل آپ کو اس کتاب میں مل جائے گی۔ اس طرح یہ کتاب محققوں کے لیے تحقیق کی راہ میں بے حد آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرسکتی ہے۔

خواجہ صاحب کا کی شاعری کا مجموعہ ”ابیات“ کے نام سے ہے۔ان کی شاعری میں سوز و گداز اور وہ شیرینی ہے جو طبیعت کو آسودگی بخشتی ہے۔ ان سے انٹریو میں یہ سوال کیا گیا کہ آپ اپنی شاعری کے بارے میں کیسی رائے رکھتے ہیں؟

انھوں نے جواب دیا: ”مجھے اپنے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔ یہ آپ سامنے شیلف دیکھ رہے ہیں، اس میں ڈیڑھ سو سے زیادہ تذکرے ہیں جن میں تقریبا آٹھ ہزار شاعروں کی لاشیں محفوظ ہیں اور لوگ ان میں سے صرف پچیس یا پچاس شعرا کے ناموں سے واقف ہیں۔ جب ان ہزاروں شاعروں کاحشر میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں تو میں خود اپنی شاعری کو کیسے اہم اور لافانی قرار دے دوں۔

چند اشعار دیکھیں:

نقش گذرے ہوئے لمحوں کے ہیں دل پر کیا کیا

مڑ کے دیکھو تو نظر آتے ہیں منظر کیا کیا

 

کتنے چہروں پہ رہا عکس میری حیرت کا

مہرباں مجھے پہ ہوئے آئینہ پیکر کیا کیا

 

وفا کے باب میں اس سے تو کچھ کمی نہ ہوئی

میں آپ اپنی خوشی سے یہ بازی ہار گیا

ایک غزل اور دیکھیں:

کیوں خلوت غم میں رہتے ہو،کیوں گوشہ نشیں بیکار ہوئے

آخر تمھیں صدمہ کیا پہنچا، کیا سوچ کے خود آزار ہوئے

کیوں راستہ چھوڑ کے چلتے ہو، کیوں لوگوں سے کتراتے ہو

کیوں چلتے پھرتے اپنے لیے تم آپ ہی اک دیوار ہوئے

کیا اٹھتے بیٹھتے سوچتے ہو، کیا لکھتے پڑھتے رہتے ہو

اس عمر میں یہ بے کیفی کیوں، کس واسطے نیک اطوار ہوئے

کیوں ایسے سفر پر نکلے ہو، منزل نہیں جس کی کوئی بھی

کیوں ایسی راہ پہ چلتے ہو، سائے بھی جہاں دیوار ہوئے

کیوں ترک علائق کو تم نے سمجھا ہے علاجِ غم آخر

دیکھو تو ولی صوفی بھی یہاں کس ٹھاٹ کے دنیادار ہوئے

اس کوچے کی راہ تو سمجھاؤ جس کو چے میں جانا مشکل ہے

اس شخص کا نام تو بتلاؤ تم جس کے لیے بیمار ہوئے

ان اشعار کی چلمن سے ان کی شخصیت کے کچھ رنگ جھلک جاتے ہیں۔

ایک اور غزل کے چند اشعار دیکھیں:

رہتا ہے آنکھوں میں کہاں شام و سحر ایک ہی شخص

زندگی بن نہ گیا ہوتا اگر ایک ہی شخص

ہنسنے والے تو ہزاروں تھے مگر ہم کو ملا

رونق انجمنِ دیدہ تر ایک ہی شخص

دل کی شادابی کا ساماں تو بہت سوں سے ملا

دل کی بے تابی کا باعث ہے مگر ایک ہی شخص

ہر حسین شے کو بڑے غور سے دیکھا ہم نے

سامنے آیا بعنوانِ دگر ایک ہی شخص

یہ اشعار جہاں شاعر کے خوابوں اور یادوں میں آباد کسی پیکرِ جمیل کی خوشبو میں رچے بسے ہیں، وہیں اس کے اندرونی جذبات کے بھی غماز ہیں۔

ایک دفعہ خواجہ صاحب سے پوچھا گیا کہ تحقیق،شاعری اور کالم نگاری یہ تینوں کام ایک دوسرے سے مختلف بلکہ کچھ حد تک متضاد ہیں، آپ ایک ساتھ یہ تینوں کام کیسے کر لیتے ہیں؟ خواجہ صاحب نے جواب دیا کہ تحقیق کے ذریعے بزرگوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں،شاعری کرتا ہوں تاکہ خود اپنی ذات کو سمجھ سکوں اور کالم لکھتا ہوں تاکہ اپنے عہد کے ادیبوں اور ان کی تخلیقات کے بارے میں سچائیاں بیان کر سکوں۔ اور حقیقتاً انھوں نے خامہ بگوش بن کراچھی طرح خبر لی ہے۔

ان سے انٹرویو میں یہ بھی پوچھا گیا کہ جن ادیبوں یا کتابوں کا آپ مضحکہ اڑاتے ہیں، ان کی جانب سے خفگی کا اظہار کیا جاتا ہے، اس نوعیت کے تاثرات پر آپ کا رد عمل کیا ہوتا ہے؟آپ نے بہت ہی اچھا جواب دیا کہ جن ادیبوں کے متعلق میں نے کالم لکھے،ان میں سے بعض بے حد حساس تھے۔ ان کا یہی خیال ہے کہ میں نے کسی خاص وجہ سے ان کے خلاف کالم لکھے ہیں۔ حالانکہ میں نہ کسی کے خلاف لکھتا ہوں اور نہ ہی اس میں کوئی وجہ کارفرما ہوتی ہے۔ اگر کسی کتاب میں مجھے کوئی مضحکہ خیز بات نظر آتی ہے تو میں اس طرف اشارہ کردیتا ہوں۔ اس کا ذاتیات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ یا اگر میں کسی غلط رجحان کی مذمت کرتا ہوں تو کیا برا کرتا ہوں۔ میں نے تقریباتِ رونمائی کے خلاف بہت کچھ لکھا ہے کیوں میں دیانتداری سے اسے ادب اور ادیب کے حق میں مضر سمجھتا ہوں۔ اسی طرح میں نے بعض اداروں مثلاً ’اکادمی ادبیات پاکستان‘کے خلاف لکھا ہے کیوں کہ میری رائے میں اس ادارے نے ادیبوں کی خدمت نہیں کی ہے بلکہ ادیبوں میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ غیر ادبی ذرائع سے نام و نمود کس طرح حاصل کیا جائے۔میں نے ان سرکاری افسروں کو نشانہ بنایا ہے جو ذاتی شہرت کے لیے اپنے عہدے استعمال کرتے ہیں۔ ایسا شخص جو 12 نقادوں کا صرف اپنے عہدے کی وجہ سے ممدوح بن جاتا ہے، اگر اسی شخص سے اس کا عہدہ چھین لیا جائے تو 12 نقاد تو کیا اس کے پاس ایک نوحہ گر بھی نہ ہو۔ اگر میں نے ایسے شخص کو اس کی حقیقت بتائی ہے تو کیا غلط کیا ہے۔ میں اپنے کالموں سے مطمئن ہوں۔ اس لیے کہ میں نے کبھی بدنیتی سے نہیں لکھا۔

انھوں نے دوسروں کو تو کیا خود کو بھی نہیں بخشا ہے۔ واقعہ بھی یہی ہے کہ جب تک آدمی دوسروں کے ساتھ اپنی ہنسی اڑانے کی ہمت نہ رکھتا ہو اس کی ہنسی نہ تو بامعنی بنتی ہے اور نہ اس میں گہرائی آتی ہے۔ غالب جگہ جگہ خود کو نشانہ بناتے ہیں۔ مثلاً  ع

آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے

صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

 

چاہتے ہیں خوب رُویوں کو اسدؔ

آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے

اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں جن میں خود کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خواجہ صاحب نے برجستہ اور لطیف طنز و ظرافت کا جو معیار اپنے کالموں کے ذریعہ قائم کیا ہے اس کی نظیر بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔ ایک بار مجتبیٰ حسین کے تعلق سے ایک کالم مشفق خواجہ کا چھپا۔ مجتبیٰ حسین نے لکھا ہے کہ کالم پڑھ کر میرے تاثرات اور تعصبات تو پس منظر عام پر چلے گئے البتہ اس کالم کی روانی،شگفتگی اور بے ساختگی مجھ پر غالب آگئی۔ اس کالم کے لکھنے والے کا نام تھا ”خامہ بگوش“ دن بھر سوچتا رہا کہ یہ خامہ بگوش کون ہوسکتا ہے۔پاکستان کے بہت بڑے ادیبوں کا خیال آیاکہ شاید فلاں ادیب ہو لیکن جیسے ہی اس تحریر کو کسی بڑے ادیب سے وابستہ کرنے کی کوشش کرتا تو یہ تحریر اس بڑے ادیب سے بھی بڑی نظر آنے لگتی۔

چند مثالیں:

Ûمختصر یہ کہ (ابن انشا) نہایت قابل اور ذہین انسان تھے۔ یہ قابلیت ان میں زیادہ تر اپنی تحریروں کے مطالعے سے پیدا ہوئی تھی۔

Ûیہاں یہ امر ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ انن انشا اپنے ایک بزرگ ہم عصر نقاش فرصت، حضرت ایم، اسلم کی طرح بسیار نویس نہیں تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن انشا صرف فرصت کے اوقات میں لکھتے تھے۔ اور ایم اسلم صاحب کو دیکھنے سے فرصت ہی نہیں ملتی تھی۔

Ûعالی کے نغمے بچے بچے کی زبان پر تھے اور آخری زمانے میں تو صرف بچوں ہی کی زبان پر رہ گئے۔

Ûکہا جاتا ہے کہ برناڈ شانے اپنے ڈراموں پر جو دیباچہ لکھے ہیں، وہ ایسے اعلیٰ پائے کے ہیں کہ اُن کے سامنے ڈراموں کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے۔ یہی حال بلکہ اس سے کچھ زیادہ بُرا حال بشیر بدر کا ہے جنھوں نے اپنے مجموعۂ کلام ”آمد“ پر ایسا فکر انگیز دیباچہ لکھا ہے کہ اُس کے سامنے اُن کا کلام ”آورد“معلوم ہوتا ہے۔

Ûآپ بیتی ایک عجیب و غریب صنفِ ادب ہے، جس کا موضوع بظاہر تو لکھنے والے کی اپنی ذات ہوتی ہے،لیکن بحث عموماً دوسروں کے اعمال و کردار سے کی جاتی ہے۔ لکھنے والے کو اجازت ہوتی ہے کہ ہر اُس بات کو پھیلا کر بیان کرے جس کا اصل موضوع سے کوئی تعلق نہ ہو اور ہر اُس بات کو نظر انداز کردے جس سے اصل موضوع پر روشنی پڑنے کا امکان ہو۔ آپ بیتی اس لیے نہیں لکھی جاتی کہ لکھنے والے کو کچھ کہنا ہوتا ہے بلکہ اس لیے لکھی جاتی ہے کہ لکھنے والا بہت کچھ چھپانا چاہتا ہے اور بہت سے حقائق پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔

غرضیکہ ایک اکیلا شخص جو اتنے کمال رکھتا ہو ہمارے زمانے میں کہیں نظر آجائے تو اسے اتفاق سمجھنا چاہیے۔ پھرسب سے زیادہ متاثر کرنے والی چیز یاصفت یہ کہ اس زمانے میں جب لوگوں میں اپنا ڈھول آپ پیٹنے کی وبا عام ہوگئی ہو وہ زمانہ اور زندگیاں عدم میں جا پہنچی ہوں۔جب بڑے سے بڑا کارنامہ خاموشی سے وجود میں آتا تھا۔ اس ابتذال شیوہ ماحول میں کوئی اپنے آپ سے بے نیاز اور خود اشتہاری کی بیمارے سے محفوظ دکھائی دے تو بڑی حیرت ہوتی ہے۔ ایسی صفات کے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ میر صاحب کا شعر ہے   ع

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

 

مصادر

۱۔     ’مشفق خواجہ:ایک مطالعہ‘ مرتبہ خلیق انجم

۲۔     ’یہ صورت گر کچھ خوابوں کے‘ مرتبہ طاہر مسعود

 

 

 

نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثخامہ بگوش کے قلم سےمشفق خواجہ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ٹیگور کاناول ’گورا‘: تجزیاتی مطالعہ- ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی
اگلی پوسٹ
’’کہانی کا سچ عام زندگی کے سچ سے کہیں بڑاسچ ہوتا ہے۔‘‘ (محمد حمید شاہد سے مکالمہ)- ڈاکٹر محمد غالب نشتر

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں