کسی بھی ملک کی ثقافت ‘تہذیب ‘کلچر اور قدروں میں اس ملک کے ادب ‘آرٹ ‘اور موسیقی کی جڑیں پیوستہ ہوتی ہیں ۔تہذیب وثقافت صرف ا ٹھنے بیٹھنے ،ملنے جلنے اور کھانے پینے غمگین ہونے اورخوشیاں منانے تک ہی محد ود نہیں ،بلکہ ایک ایسی لامحدود شیئے ہے جو کئ طرح سے داخلی ‘ظاہری ‘باطنی ‘انفرادی اور اجتماعی طور پرسماج کی تشکیل میں معاون اور اثر انداز ہوتی ہے ۔انفرادی طور طریقوں سے تہذیب کی اجتماعی صورت سماج کی شکل میں تیار ہوتی ہے ،اور پھر سماج کی یہی اجتماعیت انفرادیت کو اپنے رنگ میں رنگ لیتی ہے ۔تہذیب اجتماعی ہوتی ہے یا انفرادی یاپھر اکثریت کی تہذیب اجتماعی تہذیب تخلیق کرتی ہے ۔ معاشرہ کی تخلیق کامعاملہ یہ ہے کہ یہاں جمہوریت کی طرح اکثریت کو کل سمجھا جاتا ہے اور اکثریت کی تہذیب معاشرے کی تہذیب کہلاتی ہے ۔ Edward Taylor تہذیب کی تعریف یوں کرتا ہے:
Culture is that complex whole which includesBelief, art, morals, law custom any other Compatibilities and habits acquired by man As a member of society
(Edward Taylor: Primitive culture 1871-Vol -1)
یعنی کلچرایک ایسی پیچیدہ شئے ہے جواپنے اندر علم‘عقیدہ ‘فن‘اخلاقیات ‘قانون ‘رسم و رواج اور معاشرے میں رہنے والے افرادکی اپنائی ہوئی عادتیں بھی سمیٹے ہوئے ہے۔ اگر ایڈورڈ کی اس تعریف کو کلچر کی تعریف مان لیا جائے تویہ کہاجاسکتا ہے کہ قرۃ العین حیدر کا رپورتاژ’ستمبر کاچاند ‘ جاپان کے کلچر پر تحریر کیا گیا اب تک کا بہترین رپورتاژ ہے ،دلیل اس د عوے کی یہ ہے کہ اس رپورتاژ میں جاپان کے طورطریقے علم ‘عقیدہ ‘ فن اخلاقیات ‘قانون ‘ رسم ورواج کے علاوہ جاپان کی تاریخ پراس قدر پر مغز اور فن کارانہ طریقہ سے بات کی گئ ہے کہ قاری خود کو اس تہذیب کا حصہ اور ملک جاپان کے باشندہ کی حیثیت سے اس کتاب میں شامل پاتاہے ۔اس رپورتاژ کا نام ستمبر کاچاندکیوں رکھا گیا، اس سلسلے میں اس رپورتاژ کی مصنفہ نے اس کتاب میں کوئی اشارہ نہیں دیا البتہ ژوکیمی کا تیوہار جوجاپان کی تہذیب میں بڑی اہمیت رکھتاہے اور وہ ستمبر کے ماہ میں آتاہے اس سے اس رپورتاژ کے عنوان کی کڑی ملتی معلو م ہو تی ہے ۔ ( یہ بھی پڑھیں دنیا کا پہلا پکارسک ناول- ایم۔ خالد فیاض)
ژوکیمی جاپان میں بڑی دھوم دھام سے منایا جاتاہے ۔۔ ستمبر کے ماہ میں جب چاند اپنے پورے آب و تاب سے آسمان دنیا پر جلوہ افروز ہوتاہے تواس دن جاپانیوں کی خوشی کی انتہا نہیں ہوتی ۔ویکسنگ مون (Waxing moon)کے نام سے مشہوریہ جاپانی تیوہار چینی روایت سے جاپان میں منتقل ہوا ،کب اور کس طرح اس کی شروعات ہوئی ابھی تک یہ ایک تحقیق طلب امر ہے۔ عموما یہ ماناجا تاہے کہ ہیان عہد (Heian period)سے یہ روایت رائج ہے ۔اس دن بہت سے لو گ ا یک جگہ جمع ہوتے ہیں اور چاند کی شان میں قصیدے اور نغمے گاتے ہیں ، ستمبر کی چود ھویں کوجب چاندپوراہوتا ہے اور نہایت ہی چمکدار اور صاف دکھائی پڑتاہے توجاپانی لوگ باجماعت چاند دیکھنے کااہتمام کرتے ہیں اور یہ رؤیت ہلال کا عمل ان کیلئے عید کی خوشی سے کم نہیں ہوتا ، اس دن وہاں خاص قسم کاروایتی کھانا بنایا جاتاہے جسکو مقامی زبان میںژوکیمی دانگو (Tsukimi Dango)کہتے ہیں ۔یہ ایک خاص سفید چاول سے تیار کیا جاتاہے ، اس کے علاوہ ’تارو‘(Taro) ادامام (edamame )وغیرہ دوسری ژوکیمی کے خاص پکوان ہیں ۔ان تمام قسم کے کھانے جوژوکیمی کیلئے مختص ہیں مقامی زبان میں وہاں کے لو گ اس کو ’ژوکیمی ریوری ‘( Tsukimi ryouri)کہتے ہیں ، جاپان کے الگ الگ حصوں میں اس تہوار کیلئے الگ الگ تاریخیں بھی مقرر ہیں۔ کہیں تیرہ ستمبر کو کہیں پندرہ ستمبر کو تو کہیں سترہ ، تئیس اور چھبیس ستمبر کو منایا جاتا ہے۔سن ۸۶۲ سے ۱۶۸۴ تک پو رے جاپان میں یہ تیوہا ر تیرہ ستمبر کو منایا جاتا تھا ۱۶۸۴ میں پہلی ستمبر کی تاریخ اس خوشی کے موقع کیلئے مختص کی گئ َ، کچھ لوگوں نے اس تبدیلی کو بدعت مانا اور ’ایڈو‘ (جو آج کا ٹوکیو ہے )میں پندرہویں ستمبر کو منا یا جانے لگا ۔حاصل کلام یہ کہ ۱۶۸۴ سے پہلے پورے جاپان میں یہ تیوہار تیرہ ستمبر کو منایا جاتا تھا ۔ژوکیمی کی یہ روایت محض جاپان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک چین ، منگولیا ، جنوبی کوریا ، شمالی کوریا ، اور ویت نام کے علاوہ اس کے آ س پاس کے ملکوں میں بھی جوش وخروش سے منایا جاتا ہے ۔ایک خاص قسم کا مشرو ب بھی پرانے زمانے میں زو کیمی کے دن پیا جاتاتھا۔ جسے وہاں کے لوگ سیک (sake)کہتے تھے۔ خرگوش نما کھلونے اور ایک خاص جاپانی گھاس (susuki)سے گھروں کو سجایاجاتا ہے اور جم کر خوشیاں منائی جاتی ہیں ۔
جاپان کی اس پرانی روایت نے جاپانی ادب کو بھی بہت کچھ دیا ، چاند کی تعریف میں کہی جا نے والی شاعری’تانکا ‘ (Tanka)کہلاتی ہے ۔ یہ کو ئی صنف خاص نہیں بلکہ کسی بھی صنف میں کہی جانے جانے والی شاعری ہو تی ہے ۔ہائیکو ۔چونکہ ایک خاص صنف تھی اس لئے ساری دنیا میں مشہو رہوئی ،مگر’تانکا ‘اسی طرح جاپان کی روایتوں سے جڑی ہے جس طرح ہمارے یہاں مرثیہ اور مثنوی کے اصناف ہماری تہذیب سے جڑے ہیں۔محض ’تا نکا ‘ ہی نہیں بلکہ ’نوہ ‘اور’کابکی‘ تھیٹر بھی جاپانی ادب پر گہری چھاپ رکھتے ہیں۔
’تانکا‘ (Tanka ) دراصل جاپانی صنف شاعری واکا (Waka)کی چار قسموں میں سے ایک ہے ۔تانکا کے علاوہ باقی کی تین قسمیںچوکا (Choka)سیڈوکا (sedoka)اورکٹوکا (Katoka )کی ہیئتیں تقریبا مردہ ہوچکی ہیں ۔کل ملا کر صرف تانکا موجودہے اس لئے اب وا کاکی اصطلاح بھی بے معنی سی ہو گئی ہے ۔جاپانی شاعری کے دواہم ستون ہم تانکا اور ہائیکو کو کہ سکتے ہیں ، حالانکہ تانکا ہائیکوکے مقابلے پرانی صنف ہے ۔مردہ ہوچکی صنف ’چوکا ‘کی مثال ملاحظہ کیجیے؛
Uri hameba When I eat melons
Kodomo Omohoyu My children come to my mind;
Kuri hameba When I eat chestnuts Mashite Omowayu The longing is even worse
Izuku Yori Where do they come from
Kitarishi monoso flickering before my eyes.
Manakai ni Making me helpless
Motona kakarite Endlessly night after night
Yasui shi nesanu Not letting me sleep in peace?
یہ واکا کی وہ صنف ہے جس کا استعمال سب سے پہلے بندہوچکا ۔مندرجہ بالا نظم جاپان کے سب سے پرانے شعری مجموعہ مان یو شو (Manyoshu)سے لی گئی ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ مان یو شو نارا عہد میں ۷۵۹ کے قریب وجود میں آیا ، مندرجہ بالا نظم کا شاعر (Yamanoue no okura )کومانا جاتا ہے او کورا کی نظم تانکا کی صنف میں ملاحظہ کیجئے۔
Shirokane mo What are they to me.
Kugane mo tama mo Silver, or gold, or jewels?
Nanisemu ni How could they ever
Masareru takara Equal the greater treasure
Koni shikame yamo That is a child? They can not.
کو ئی ضروری نہیں کہ تانکا صنف محض چاند کی تعریف کیلئے استعمال کی گئ ہے۔ البتہ اس صنف کو ژوکیمی کے موقع کی شاعری کیلئے اس قدر استعمال کیا گیا کہ تانکا کوژوکیمی کی شاعری کی صنف سمجھا جانے لگا ۔
یہ تو ہوئی جاپان کی ژوکیمی اور ژوکیمی سے متعلق شا عری کی باتیں ۔ژوکیمی کا ذکر در اصل یہاں اس لئے کیا گیا کہ قرۃالعین حیدر کا مشہورزمانہ رپورتاژ کامجموعہ ’ستمبر کاچاند‘ کی وجہ تسمیہ معلوم ہوسکے ۔اس مجموعہ میں کل پانچ رپورتاژ شامل ہیں ایک مختصر سا دیباچہ ہے جواس لئے کافی اہمیت رکھتاہے کہ اس میں قرۃالعین حیدر نے رپورتاژ کی تعریف اور ابتداء کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیاہے ، ان کے مطابق :
’’رپورتاژ اور سیدھے سادے سفر نامے میں محض انداز بیان کا فرق ہے ، رپورتاژ افسانے کی زبان میں لکھا جا تا ہے ، اس میں زیب داستان بھی اس حدتک ہوتی ہے کہ اس سے حقائق کی پر دہ پوشی نہ ہو یا واقعات کو غلط رنگ میں نہ پیش کیا جا ئے ، مثال کے طو ر پر افسانے اور حقیقت کا امتزاج ہمیں یلدرم کے مضمون ’سفر بغداد‘ میں ملتا ہے جو ۱۹۰۴ میں لکھا گیا ،اور جسے اردو کا پہلا رپورتاژکہا جاتا ہے ،،
(ستمبر کا چاند قرۃالعین حیدر صفحہ ۷)
اس مجموعہ کا پہلا رپورتاژ’لندن لیٹر‘جو قرۃالعین حیدر کا پہلا رپورتاژ بھی ہے جیسا کہ نام سے ظاہر ہے سفر لندن پرمبنی ہے۔ دوسرا رپورتا ژجس کے نام پر اس مجموعہ کا نام رکھا گیا یعنی ’ستمبر کا چاند ‘جسکی وجہ تسمیہ مندرجہ بالا چندسطورمیں بیان کی گئ جاپان کے سفر کے دوران مصنفہ کے مشادہ پر مبنی ہے اس رپور تاز میں تقریبا ہر جملہ جاپانی اور ہندوستانی تہذیب کا تقابل بیان کرتاہے ، جیسا کہ قرۃ العین حیدر کا ادبی شیوہ ہے کہ تہذیب اور کلچراور ا س کی تاریخ کے بغیر ان کا کوئی بھی ادب پارہ مکمل نہیں ہوتا ۔
جس طرح قرۃالعین حیدر نے آگ کا دریا کی شروعات ٹی ایس ایلیٹ کی فلسفیانہ نظم کے اردو ترجمہ سے کی ہے، اسی طرح ستمبر کا چاند کی شروعات ایذرا پاؤنڈکی نظم تیرہوا ںکینٹو کے اردو ترجمہ سے کی ہے ۔اس نظم سے اس رپورتاژ کی ابتدایہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ اس رپورتاژژمیں تہذیبوں اور قدروں کاتقابل اہم موضوع ہے۔ ملاحظہ کیجئے اس نظم کا اردو ترجمہ :
’’اور کونگ نے کہا ۔۔
مجھے ابتک وہ زمانہ یاد ہے جب مؤرخوںنے ان باتوں کے لیے
تاریخ کے صفحات خالی چھوڑدئے تھے جنہیں وہ نہیں جانتے تھے خوبانی کے شگوفے ہواؤںکے ساتھ
مشرق سے مغرب کی طرف اڑرہے تھے
اور میں ان کو گر نے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں ۔‘‘
ایذراپاؤنڈ(تیرہواں کنئو)
دراصل یہ کنٹو تیرہ کاآ خری حصہ ہے ۔ایذرا پاؤنڈ کے سارے کنٹو کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انہوںنے ان میںچینی کرداروں کو بھی شامل کیا ہے اور امریکی کہاوتوں کو بھی ۔جاپانیوں نے اپنی تہذیب چین سے مستعار لی تھی ،تو کہیں نہ کہیں اس نظم کا تعلق تہذیب کے اعتبار سے اس خاص جاپانی تہذیب سے ملتا ہے، جو مصنفہ کا موضوع ہے ۔قرۃالعین حیدر ادیبوں کی بین الاقوامی کانگریس کے انتیسویں سالانہ اجلاس میں شرکت کی غرض سے جاپان پہنچی تھیں وہاں جاپان اور جاپانیوں کے متعلق جو مشاہدہ انہوں نے کیا وہ ستمبر کا چاند کی صورت میں رقم کرکے اس اجلاس کو تاریخی بنا دیا ۔
رپورتاژ کے اسلوب بیان کے با رے میں تودیباچے ہی میں رائے قائم کر دیا کہ رپورتاژ افسانے کی زبان میں لکھا جاتاہے۔ ایک افسا نہ اور رپورتاژ میں کیا فرق ہے۔ رپو رتاز میں کہانی حقیقت پر مبنی ہوتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیا فرق پڑتاہے اگر کہانی حقیقت ہو یا افسانہ۔ فنی اعتبار سے تو ظاہر ہے کہ افسانہ میں پلاٹ ہو تاہے رپورتاژ میں نہیں ہوتا ۔ مصنفہ کا حال یہ ہے کہ اس رپورتاژ کو انہوں نے اس اندازسے لکھا ہے کہ قاری کو یہ احساس ہو تا ہے کہ وہ رپورتاژنہیں کوئی ناول کا حصہ پڑ ھ رہا ہے، اور پھراچانک اسے یہ علم ہو تا ہے کہ نہیں یہ رپورتاژ ہے ۔ستمبرکا چاند میں منظر کشی کا یہ حصہ ملاحظہ کیجئے :
’’امپیریل ہوٹل کی سرخ قالینوں والی فرلانگوں لمبی گیلریوں میں رپ رپ کرتی خادمائیں سفیدفراقوں میں ملبوس سائے کی طرح گذررہی ہیںکسی ایک گیلری میں مادام صوفیہ وادیا مدراسی ساڑی پہنے بالوں میں پھول لگائے باہر نکلتی ہیں اور کیمرہ میں ان کی طرف دوڑ پڑے ہیں‘‘
(ستمبر کاچاند قرۃالعین حیدر صفحہ ۳۳ا)
مندرجہ بالا اقتباس کے بارے میں اگر قاری کو پہلے سے یہ علم نہ ہو کہ یہ افسانہ کا حصہ ہے ، یا ناول کا یا ایک رپورتاژ کا تو قاری یہ گمان بھی نہین کر سکتا کہ یہ فکشن کا اقتباس نہین ہے بلکہ ایک رپورتاژ کا ہے ۔اب قرۃ العین حیدر کے مشہور ناول آگ کا دریا میں منظر نگا ری کی یہ ادبھت مثال ملاحظہ کیجئے ۔
’’شام کی نیلگوں روشنی میں وہ درختوں کے قمقموں کے نیچے بیٹھے رہے ، فضا کا غم گہرا ہوتا گیاچمپا چلو ‘‘نو بجے سے ریہر سل شروع ہے ‘‘ پھولوں کے پر ے سے کسی لڑکی نے پکارا ‘‘ اچھا ْ وہ سا ئیکل سنبھال کر پھاٹک کی طرف چلی گئ گھا س پر بیٹھے ہوئے لوگ اسے روشن پرسے گذر تادیکھتے رہے ،، (آگ کادریا قرۃالعین حیدر صفحہ ۳۵۲)
اب مندرجہ بالا دونوں اقتاباسات کا تقابل کیجئے دونوں میں منظر پیش کیا گیا ، دونوں میں بہت خوبصورت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں دونوں کا انداز بیان بہت شستہ ہے مگر ایک رپورتاژ کا اقتباس ہے اور دوسرا ناول کا ۔ قرۃالعین حیدر کی بد قسمتی یہ رہی کہ ناقدین نے ان کو بخیثیت ناول نگار اور افسانہ نگار کے ان کی امیج کو اس طرح پورٹرے کیا کہ ان کی دیگر صلاحیتیں اور دوسری اصناف میں ان کے ادبی کمالات اور ان کے فنی محاسن کو وہ توجہ نہیں مل سکی جوملنی چاہیے ۔
ان کے ادبی مضامین اور رپورتاژکے اصناف میں ان کے جواہر اب تک پردئہ خقا میں ہیں ۔یہاں تک کہ فکشن میں بھی’آ گ کا دریا ‘ہی کے حوالے سے ایک زمانے تک ان کی امیج کو قید رکھا گیا ۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ اب نقادوں نے انہیں ’آگ کا در یا ‘کے علا وہ دوسرے ناولوں ‘چاندنی بیگم ‘ـ’گردشرنگچمن‘اور’میرےصنمخانے‘کےحوالےسےبھییادکرناشروعکردیاہے۔البتہ ان کی تر جمہ نگا ری مضمون نگاری رپورتاژ نگاری اور بچوں کا ادب اب تک نقادوں اور قارئین دونوں کی توجہ چاہتے ہیں ۔
جاپان کی تہذیب ہم ہندوستانیوں کیلئے کسی دوسری دنیا کی مخلوق کی تہذیب سے کم نہیں لگتی ۔جب ہم جاپانیوں کی ضیافت خوش ا خلا قی ، حسن سلوک ، اور ادب سے محبت اور دلچسپی کے بارے میں معلوم کر تے ہیں تو ان کا تصور ہمارے ذہن میں ایلین کی طرح ابھرتاہے۔ دوسری جنگ عظیم سے بربادی اور تباہی سے گذر نے کے بعد جاپان نے جس طرح خودکو اس بڑے سانحہ سے بہ آسانی ابھارا اس میں جاپانیوں کی ہمت اور استقلال کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔
جاپانیوں کی تہذیب میں مہمان نوازی کیا اہمیت رکھتی ہے اس کا اندازہ ستمبر کا چاند کے اس اقتباس سے آپ کو بخوبی ہوسکتاہے :
’’عین اسی لمحے ایک جید جاپانی نا ول نگا رآن مو جو دہو ئے ، وہ سامنے کھڑ ے جھک جھک کر کہ رہے تھے اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو خاتون اندر لا ؤنج میں انتظار ہو رہاہے اسکے بعد میرے نہایت ادنی جھونپڑے میں قدم رنجاں فرماکر۔۔۔
میں نے کتاب گھاس پر سے اٹھا لی ، ارادہ یہ تھا کہ اگر چند منٹ کی مہلت ملے تو کسی کونے میں بیٹھ کر پڑھونگی مگر یہ جاپان ہے جہاں ادیبوں کی بین الا قوامی کانگریس کا انتیسواں سالانہ اجلاس ہو نے والاہے اور ہر جاپانی کا فرض ہے وہ خاطروں کے مارے مہمانوں کی جان نکا ل لے صبح جان اسٹن بک جب شکریے کے کوئی الفاظ نہ بن پڑے تو انہوںنے عاجز آ کر کہا کہ تعذیب کا سب سے خوبصورت طریقہ یہ ہے کہ اتنی تواضع کرو مہمان آدھ موا ہوکر رہ جائے‘‘ (ستمبر کاچاند قرۃالعین حیدر صفحہ ۳۴)
جاپان میں مہمان نوازی کی اس خصوصیت کو اس سے زیادہ خوبصورتی سے پیش نہیں کیا جاسکتا تھا ،جس خوبصو رتی سے قرۃالعین حیدر نے ستمبر کا چاند میں پیش کیا ہے ۔
صرف اتنا ہی نہیں اس رپورتاژ میں پورے جاپان کی تہذیب الفاظ میں رکھ دی گئ ہے ۔جاپان کی پوری تہذیب سیاست ‘ سماج اور ادب سب پر اس رپورتاژ میں اتنی پر مغز گفتگواور منظر کشی ہے کہ قاری اس رپورتاژ کو پڑھتے وقت کبھی کبھی خود کو جاپان میں محسوس کر تا ہے۔ خواہ وہ اس متن کی قرأت دنیا کے کسی بھی حصے میں کیوں نہ کررہاہو۔اس رپورتاژ میں بھی فلسفہ اور فلسفیانہ مکالمے جابجا موجود ملتے ہیں۔ ایک خاص معنیاتی نظام کے تحت اس فلسفے کو نہیں سمجھا جاسکتا ۔کچھ علامتیں بھی ہیں اور کچھ زیریں لہر بھی۔ قدرے مبہم مگر معنیاتی حسن سے لبریزمکالمے کا یہ حصہ دیکھیے:
’’اچھا تو آؤ زین فلسفہ پڑھیں ۔ یہ جاپان ہے اور پائین کے درختوں پر خزاں کے بادل چھائے ہیں وغیرہ ،،زین کا مطلب تمہیں معلو م ہے ؟ میں نے پیشانی بل ڈا ل کر پوچھا ، نہیں ‘‘
’’زین سنسکرت کے لفظ دھیان کی جاپانی شکل ہے اور چین سے یہاں آیا ، اب آگے پڑھو ‘‘
اس نے دوبارہ کتاب کھولی ،
بیل تو کبھی نہ گما تھا پھر اسے ڈھونڈنے سے کیا فائدہ ، چروایا خوداپنے کو کھوئے بیٹھا ہے ،،
( ستمبر کا چاند قرۃالعین حیدر صفحہ ۳۸)
مندرجہ بالا اقتباس سے متن کا قد متعین کرنا کس قدر ٹیڑھی کھیر ہے ۔یہ بھی پتہ چلتا ہے اور اس بات کا بھی احساس ہوتاہے کہ متن جتنا اپنے اندر وجودپذیر ہے اس سے زیا دہ باہر ہے۔ اس فلسفہ کے بہت سے مطالب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ جو میری سمجھ میں آتا ہے کہ زین لفظ تہذیب کی علامت ہے جس کا سنسکرت سے چین اور پھر جاپان منتقل ہو نا اس بات کی طرف اشارہ کہ جاپانی تہذیب کی جڑیں بالواسطہ ہندوستان سے ملتی ہیں ، البتہ مندرجہ بالا متن کی اس کے علاوہ اور بھی توضیحات ہو سکتی ہیں اس سے انکارنہیں کیاجاسکتا۔
یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ ستمبر کا چاند میں محض جاپان ہی کی تہذیب نہیں بلکہ اس کانگریس میں حصہ لینے آئے مختلف مہمانوں کاتعارف کرانے کے ساتھ ساتھ مختلف ادب ،زبان ، اور تہذیب پر پر مغز بحثیں بھی موجود ہیں مشرق اور مغرب کی تہذیب کا تقابل بھی بڑی خوش اسلو بی سے پیش کیا گیا ہے ۔ہندوستان اور ہندوستانی ادب کے بارے میں اس رپورتاژ میں قرۃ العین حیدر اپنا خیال یوں پیش کرتی ہیں :
ـ’’ہمآرٹاورخیالاتکیعالمگیرقدروںمیںیقینرکھتےہیں لیکن ہم اپنی انفرادیت کےبھی قائل ہیں ہندوستانیت کوجدیدیت یاعالمگیریت کی لاٹھی سےنہیں ہانکاجاسکتا صدیوں سے ہندوستان کی تشریح کی جارہی ہے پچھلی نسل کیلئے ہندوستان غیر مغربی یا غیر جدید کے مترادف تھا آج ہندوستان میں سب کچھ شامل ہے لیکن اس کی روح منفرد ہے ۔
ہمارے لکھنے والوں کا مستقبل کیا ہے ؟ غالبا جلد موڈرن اور گاندھین راستوں میں سے ایک انتخاب کرنا ہوگا اور یہ فیصلہ بڑاتکلیف دہ ہوگا مغربی لیکھکوں کے سامنے اس قسم کی کوئی اذیت دہ فیصلہ نہیں ہے ‘‘
( ستمبر کا چاند قرۃالعین حیدر صفحہ ۷۲ )
اس طرح ستمبر کا چاند کی مصنفہ نے تہذیب اور قدروں کے ایک بڑے ہی پیچیدہ عقدے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ہندوستانی ادب اور مغربی ادب کے چیلنجوں پربحث کی ہے۔ اس طرح کی متعدد بحثیں مختلف ممالک اور ان کے ادب کے متعلق اس رپورتاژ میں موجود ہیں جو یہ اشارہ دیتی ہے کہ قرۃالعین حیدر نے صرف فکشن ہی نہیں بلکہ مضمون نگاری اور رپورتاژ نگاری میں بھی شاہکار چھوڑے ہیں۔ ضرورت ہے تو صرف ناقدین کی توجہ کی۔
پو رے رپورتاژ میں مصنفہ نے کہیں بھی ژوکیمی کاذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ انہوں نے اس رپورتاژ کا نام ستمبر کاچاند کیوں رکھا ،ملک جاپان اور یہ نام ستمبر کاچاند میں ژوکیمی کے علا وہ کو ئی تو رشتہ نظر نہیں آتا اس لئے ستمبر کا چاند کی وجہ تسمیہ ژوکیمی کی روایت ہی کو مانا جاسکتا ہے۔ میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مصنفہ نے عمدا اس کی وضاحت سے گریز کیا ہے ظاہر ہے کہ ادب میں پوشیدگی بھی فن کاری اور اور ہنر مندی کے زمرے میں آتی ہے ۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] متفرقات […]