شکیل اعظمی کا نیا شعری مجموعہ ’بنواس‘ہم عصر اردو شاعری کے سرماے میں الگ سے دکھائی دینے والی ایک شَے ہے۔ نصف درجن شعری مجموعوں اور بہت ساری ادبی اور عوامی مقبولیت کے حصول کے بعد یہ بات لازمی مانی جائے گی کہ شاعر اپنی مشق میں ایک خاص منزل تک پہنچ چکا ہے۔ریاضت اکثر شعرا کے لیے تجربہ پسندی کے دروازے بند کرنے کا ذریعہ ہو تی ہے اور اَن گڑھ پن سے دور لے جاکر اکثر و بیش تراُسے شاعر کو ایک ایسے چٹیل میدان میں پہنچا دیتی ہے جہاں اساتذۂ فن کے کھیل تماشے تو بہت ہو تے ہیں مگر شاعری کی وہ معصوم دو شیزہ سات پردوں میں چھپ کر ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتی ہے۔شکیل اعظمی نے مشق ِ سخن میں اپنے معصوم جذبوں اور اَن گڑھ تجربوں کا خون نہیں کیابلکہ میر کی طرح اسی اَن گڑھ اور نو آمیزی میں مزید ڈوبنے اور ابھرنے کے امکانات دیکھتے رہے۔زندگی کے عمودی سفر کے بجاے اُفقی سفر کو شکیل اعظمی نے اپنے لیے منتخب کیا۔ہر بار زندگی کچھ اور گہرا ئی، کچھ اور معصومیت اور کچھ مزید کشادگی کے ساتھ شاعر کے ہاتھ لگتی ہے۔آج کی زندگی سے کل ایک دوسری زندگی نظر آتی ہے اور اگلے روز پھر کوئی نیا رنگ سامنے آجا تا ہے۔
شکیل اعظمی کی پو ری شاعری زندگی کی مانوس کیفیات اور اور جہات سے عبارت ہے۔پریم چند کو پڑھتے ہو ئے ہمیں یہ بار بار محسوس ہو تا ہے کہ یہ ہمارے آس پاس ہی نہیں بلکہ ہماری زندگی کے حقیقی قصّے ہیں۔شکیل اعظمی گاؤں،گھر ،کھیت ،کھلیان،پیڑ ،پودے اور مٹی، آسمان کے دائرے میں اپنی بساطِ شاعری کو آراستہ کرتے ہیں۔وہ خود عروس البلاد ممبئی کی چکا چوند میں ہو تے ہیں مگر جب شاعری کی پریاں اُن پر سوار ہوتی ہیں تو وہ اعظم گڑھ کے گاؤں کے لڑکے بالے کی زندگی میں بڑی آسانی سے لَوٹ جاتے ہیں ۔ان کی تما م و کمال شاعری اسی فضامیں پروان چڑھتی ہے۔بڑے شہر کی زندگی میں گاؤں کی یاد پہلی محبوبہ کی یادکی طرح سے ہے جسے کوئی کھونا نہیں چاہتا۔شکیل اعظمی کا یہ کمال ہے کہ انھوں نے اس درد و محبت کو نئے سِرے سے کچھ اس طرح اپنی زندگی میں بسا لیا ہے جیسے وہ کہی ںہ ہوں مگران کے حقیقی خواب اور ان کی سانسیں اسی پہلو سے مرتّب ہوں۔اس فضا میں وہ جس قدرچین اور قرار سے نظر آتے ہیں،اس بات کا یہ ثبوت ہے کہ وہ زندگی کے سچّے خوابوں اور حقیقی تصورات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
’بنواس‘ میں انھوں نے اپنے سارے اجزا سمیٹ کر، اپنے ایک ایک پَر یک جا کر کے اپنانیا تخلیقی محاورہ وضع کیا ہے۔اوپر اوپر دیکھیے تو کہیں سادھو سنتوں کی بھاشا نظر آئے گی، کبھی بیراگیوں کے راگ سنائی دیں گے،کبھی دنیا سے بے زارآدمی کی ہڑبڑاہٹ اورکبھی راہِ فرار اختیار کرنے والے شخص کا کوئی طَور محسوس ہو گا۔ سرسری انداز سے چیزوں کا مطالعہ کریں تو محسوس ہو گا کہ ارتداد کا کوئی ماحول پیدا ہو رہا ہے یا آسان اور سہل پسند تجزیہ کریں تو محسوس ہو گا کہ فرقوں کی آندھیوں میں کہیں یہ شخص بہہ تو نہیں رہا ہے۔ہم عصر زندگی میں ایسے بہت سارے منظر نامے ادب اور صحافت میں دستیاب ہیں جن کی وجہ سے ایسے نتائج اخذ کرنے والوں کی ایک خاصی تعداد ضرور ملے گی مگر شکیل اعظمی نے اپنے فلسفۂ شعرکو وضع کرتے ہوئے حیرت انگیزسنجیدگی ،استحکام ،صلابت اور گہرائی کا مظاہرہ کیا ہے۔وہ مفکّر اور فلسفی ہو نے کا دعوا نہیں کرتے۔ان کا شعری مزاج اتنا سادہ اور بہت حد تک اکہرا نظر آتا ہے جہاں کوئی کیوں کر زندگی کا گہرا فلسفہ تلاش کر سکتا ہے مگر ان کے مزاج اور شعری تجربے میں وہ کون سی صفت ہے جس نے انھیں اس’بنواس‘تک پہنچایا ہے؟اس سوال کے جواب کی تلاش میں ہمیں بہر طور کوشش کرنی ہو گی۔ ( یہ بھی پڑھیں شراب ‘شبستاں اور شاعر مجاز -حقانی القاسمی)
ہماری لغات میں ایک لفظ فطرت ہے اور دوسرا قدرت ۔انگریزی میں بالعموم نیچر(Nature) سے ان دونوں الفاظ کے مطالب سمجھ میں آتے ہیں اور اسی لیے جب نیچرل پوئٹری کی اصطلاح مغرب میں رائج ہوئی تو اس کے قدر دا ن بھی پیدا ہو ئے۔عظیم رومانی شعرا نے تو نیچرپوئٹری کوحیرت انگیز اونچائی عطا کی جس کی وجہ سے اسے ادبِ عالیہ کا درجہ حاصل ہو ا ۔معلوم ہو ا کہ زندگی کا کون سا بھید ہے یا زمین وآسمان کی پنہائیوں میں ایسا کون سا پوشیدہ عنصر ہے جو اس شاعری میں موجود نہیں۔ہر چند کہ اردو شاعری نے مغرب سے فیضان حاصل کر کے اس معیار کا سرمایہ تیارنہیں کیامگر جیسے جیسے بیسویں صدی میں انسانیت اورا نسانوں کے سامنے جو بڑے مسائل کھڑے تھے، ان میں ایک طرف بھوک،افلاس،اور تشدد سے مقابلے اور ان کی پیش کش کا ماحول پیدا ہوا،وہیں امن ِ عالم کے حصول کے ساتھ ساتھ ماحول(Environment)کے تحفّظ کے تئیں بیداری کے لیے بھی توجہ پید ا ہوئی۔صنعتی انقلاب اور اور سائنس اور ٹکنالو جی کے فروغ میں انسان یہ بات بھول چکا تھا کہ قدرت کے اس نظام کا توازن بھی قائم رہنا ہے۔رفتہ رفتہ یہ بات ہمارے ذہن میں ڈالنے کی کوشش ہوئی کہ اگرہم اس نظامِ شمسی کی حفاظت نہ کر پائیں گے تو کل کی مشکلات اور بڑھ جائیں گے۔
یہ سچ ہے کہ اب بھی تھوڑے ہی ادیب اور شاعر ہیں جن کے ادب میں ماحولیاتی فکر روشن ہوئی ہے حالاں کہ عالمی سطح پر ماحولیاتی شاعری اور ایکو فرینڈلی ادب کے نمونے دیکھنے کو مل ہی جاتے ہیں۔ہندستان میں بھی مختلف زبانوں کے ادیب اور شاعر ان موضوعات کو اپنے ادب کو حصہ بنانے لگے ہیںاور رفتہ رفتہ یہ موضوع ماہرین ِماحولیات سے بڑھ کر فن کاروں تک پہنچ رہا ہے مگر حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ شعر و ادب میں آزمائے ہوئے امور پر چلنے والے کچھ زیادہ ہی ہو تے ہیں۔پھر روایت سے بھی ہم نے ایسا کچھ سیکھ لیا ہو تا ہے کہ نئے تجربے کی طرف ہمیں قدم بڑھانا مشکل معلوم ہو تا ہے۔کسی نئے موضوع کے انتخاب یا کسی مختلف دائرہ علم کی طرف لپک میں سب سے بڑا خطرہ یہی ہو تا ہے کہ کب آپ کو ادب باہر قرار دے دیا جائے ،یہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا اور نتیجے میں آپ ایک مخصوص انداز کی ادبی اشرافیت کا شکار ہو جائیں گے۔اس لیے ایک بڑا طبقہ نئی چیزوں یا نئے موضوعات کو برتنے سے ہمیشہ گریز کرتا ہے۔
شکیل اعظمی نے نیچرل پوئٹری اور ماحولیاتی شاعری کے بیچ ایک نقطۂ مفاہمت کی تلاش کی ہے۔ان کے پچھلے مجموعوں میں بھی ان کی جھلکیاں مل رہی تھیں مگر’بنواس‘ توحقیقت میں ایک خواب سراے ہے۔کتاب کے نام سے لے کر آخری لفظوں تک فطرت اور قدرت کے مظاہر میں ڈوبے ہو ئے بول یکجا ہوگئے ہیں۔یہاں مذہب بھی ہے اور قدرت بھی مگر شاعر کے لیے یہ خاص چیلنج تھا کہ وہ اپنے مجموعے کے آدھے حصّے میں کہیں رامائن کے اجزا کو تو پھیلا دینے پر اکتفا نہیں کر رہا ہے؟یہ بھی بڑا خطرہ تھاکہ پیڑ،پہاڑ،جنگل اور جانور کی روداد سناتے سناتے شاعر ہمیں کسی ایسی دنیا میں تو نہیں پہنچا دے گاجہاں سے ہماری اپنی دنیا کا سلسلہ ہی کٹ جائے گا۔یہ سوال توہر قاری پوچھے گاہی کہ شکیل اعظمی ہماری دنیاسے دور، شہروں کی بھیڑبھاڑسے الگ جنگل میں لے جا کر ہمیں کیوں چھوڑ دیتے ہیں۔کوئی نادان دوست اس کتاب کے ایک حصّے کو مذہبی شاعری یا دھارمک بیان کہہ سکتا ہے اور دوسرے حصّے کو’ جنگلی شاعری ‘سے بھی تعبیر کرسکتا ہے۔
بعض فلسفیوں کا یہ ماننا ہے کہ انسانی تہذیب نے جس طرح جنگلوں سے سفر شروع کیا تھا، پھر ایک بار انھی جنگلوں میں انسانی تہذیب کی واپسی ہوجائے گی۔ مذہبی ضوابط مختلف نتائج کی طرف ہمیں متوجہ کرتے ہیں۔ دوسرے مکتبۂ خیال کے ماننے والے ہوبہو اسی طرح جنگلوں میں لوٹنے سے متفق نہیں۔ تہذیبِ انسانی کے فروغ نے بے شک ابتدائی زندگی اور معاشرے سے بہ تدریج دوریاں پیدا کیں۔ آریا جب ہندستان پہنچے تو دراویڈی قوم اور آدی واسیوں کے ساتھ مل جل کر ایک نئے معاشرے کی تشکیل کے لیے کوشاں نہیں ہوئے بلکہ فاتح قوم کے انداز میں معاشرے کی ایک ہم مشربانہ بنیاد قائم کرنے کے بجاے انھوں نے حاکم اور محکوم یا فاتح اور مفتوح کی بنیادوں پر اس معاشرے کی تعمیر یا تقسیم کرنے میں مُنہمک ہوئے۔ یہیں سے نابرابری کی معاشرتی جڑیں قائم ہوئیں۔ ایک طرف سے جنگل کاٹ کر فاتح قوم شان و شوکت سے جینے لگی، دوسری طرف دراویڈی اور آدی واسی اقوام حاشیے تک پہنچا دی گئیں۔ کہیں نہ کہیں گورے اور کالے کی تفریق بھی یہیں پیدا ہوئی ہوگی۔
اب ذرا اس بات کا قیاس کیجیے کہ آریائی قوم دراویڈی اور آدی واسیوں کے ساتھ مل کر ابتدائی معاشرت کی تشکیل میں مصروف کار ہوئی ہوتیں تو آج فطرت سے عدم توازن اور بگاڑ پیدا کرکے جینے کی انسانی عادتوں کا شاید مسئلہ ہی پید انہیں ہوتا۔ نباتات اور جمادات کا ایک فطری کارخانہ ہوتا اور حسبِ ضرورت ایک دوسرے کی سب معاونت کررہے ہوتے۔ ہزار طرح کی انسانی نابرابری نہ ہوتی اور کنکریٹ کے جنگل کے مقابلے ہم نے سب کا خیال رکھتے ہوئے جینے کی اپنی ادائیں قائم کی ہوتیں۔ آج ماحولیاتی تشویشات اور تصادمات میں مبتلا انسانیت کے لیے شکیل اعظمی کا یہ شعری مجموعہ اسی خیال و خواب کی دنیا کا ایک مرقع ہے۔ اس میں صرف ہماری ابتدائی زندگی کے چند مذہبی قصے نہیں قلم بند ہوئے ہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں انسان اور جانور، جنگل اور پہاڑ؛ یہاں تک کہ ہماری تاریخ و تہذیب بھی شیر و شکر ہوکر سامنے آرہی ہے۔ غالب نے بے درودیوار والے گھر کا تصور پیش کیا تھا۔ شکیل اعظمی ایک ایسی انسانی معاشرت کا تصور سامنے لارہے ہیں جہاں پیڑ پودے، جنگل پہاڑ اور نئے پُرانے تاریخی کردار سب ہمارے آس پا س بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہزاروں سال کی معاشرت یک رنگ اور یک جاہوکر ہمیں اپنی بانہوں میں سمیٹ رہی ہے۔ اس معاشرے میں ایک اطمینان اور قرار ہے؛توازن اور اخلاق و مروّت ہے۔ شاید انھی اوصاف کی تلاش میں ساری دنیا اب تک بھٹک رہی ہے۔ شکیل اعظمی نے کاغذ کے صفحات پر ایک ایسی انوکھی دنیا بسائی ہے جہاں ہماری بے چینیاں ختم ہوجاتی ہیں اور جہاں ہم پہلے سے زیادہ خوش اور مطمئن نظر آتے ہیں۔
صفدر امام قادری
صدر شعبہ اردو،
کالج آف کامرس،
آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

