مولانا آزاد کے ایک دوست جناب فضل الدین احمد نے مولانا سے خودنوشت سوانح تحریر کرنے کی درخواست کی تھی بلکہ اصرار پیہم کیا تھا۔ آزاد نے جب اپنی خودنوشت پیش کرنے کی غرض سے قلم اٹھایا تو ان کا قلم ماضی کی اتھاہ گہرائیوں میں کھوگیا۔ واپسی تب ہوئی جب چونتیس ابواب مکمل ہوچکے، اس طرح یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ باب چونتیس کے بعد کے چار ابواب کا تذکرہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کتاب میں چونتیس باب تک اکابر و اسلاف، مجتہدین و مجددین کا ذکر ہے، ان کے کارناموں اور آپسی چپقلشوں کا بیان ہے۔ اس لیے آخر کے چار ابواب تذکرہ میں مثل پیوند معلوم ہوتے ہیں۔ خودنوشت سوانح میں اپنے ہمعصروں کا ذکر ضمنی طور پر پیش کرنا باعثِ معلومات بھی ہوتا ہے، مگر یہاں تو خود مصنف (سوانح نگار) کا ذکر ضمنی طور پر آخری چار ابواب میںا ٓیا ہے۔ پھر یہ کہ یہاں جن اکابر و اسلاف کی سیرت اور کارناموں کو پیش کیا گیا ہے وہ آزاد کے ہمعصر بھی نہیں تھے۔ تذکرہ میں آزاد نے سیرت نگاری اور تاریخ نگاری کا خوب خوب مظاہرہ کیا ہے۔ سیرت نگاری میں ان کی دلچسپی بھی رہی تھی۔ امام احمد بن حنبل کے ضمن میں انھوں نے ’البلاغ‘ میں سیرت امام احمد بن حنبل اور شرح نامہ وصیت امام احمد بن حنبل بغرض اشاعت تحریر کرنا شروع کیا تھا مگر ’البلاغ‘ پر حکم امتناع کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ بھی منقطع ہوگیا۔ اس دلچسپی اور شوق کی صدائے بازگشت ’تذکرہ‘ میں سنائی دیتی ہے۔
’تذکرہ‘ کی تصنیف کے دوران ہی انھوں نے ایک ہفتے کی قلیل مدت میں 173 صفحات پر مشتمل سیرت حضرت شیخ سرہندی مجدد الف ثانی تحریر کی تھی جس کا مسودہ حسب وعدہ جناب فضل الدین احمد کے پاس بھیجا گیا تھا۔ مگر افسوس کہ تذکرہ کے بقیہ مسودے کی طرح یہ مسودہ بھی صیغۂ خفا میں چلا گیا۔ اس کی گونج ’تذکرہ‘ کے باب 28میں سنائی دیتی ہے۔ اسی طرح وہ ’سیرت حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی‘ لکھ چکے تھے جس کی جھلک اس کتاب میں موجود ہے۔ اس ضمن میں جناب یٰسین مظہر صدیقی کی یہ بات مصدقہ ہے:
’’تنقیدی تجزیہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ’تذکرہ‘ اصلاً نہ خودنوشت سوانح عمری کے طور پر شروع ہوا ور نہ کسی خاص منصوبہ اور خاکہ کے مطابق بلکہ مولانا مرحوم کے پاس جو قلمی مسودے بچ رہے تھے ان کا ایک علمی ہیولا ہے جو اُن کے سحر آفریں قلم نے ایک کتاب کی صورت میں پیش کردیا ہے۔‘‘
(فکر و نظر، آزاد نمبر، علی گڑھ، 1989، ص 126)
اگر تذکرہ کسی منصوبہ کے تحت لکھا جاتا تو اس میں انضباط و ارتباط ضرور ہوتا۔ پھر تو یہ ایک جامع اور مبسوط کتاب ہوسکتی تھی۔ مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ اگر وہ اپنے کوائف نہ لکھ کر ائمہ و اکابر کی زندگی اور ان کے کارناموں کو پیش کرنا چاہتے تھے تو اس میں نظم و حزم کا خیال رکھا جاسکتا تھا۔ امام ابن تیمیہ ہی کو لیجیے، ان سے متعلق ضمنی ذکر کے علاوہ چھ ابواب ہیں جو پوری کتاب میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ان کے عنوانات یوں قائم کیے گئے ہیں:
امام ابن تیمیہ کے معارف مختصہ
معاف ابن تیمیہ کے برکات جاریہ
امام ابن تیمیہ کی زندگی ہی میں ان کے معارف کی شہرت اور رفعت ذکر
امام ابن تیمیہ اور ان کے مشہور مخالفین
امام ابن تیمیہ کی نسبت علماء ہند کی بے خبریاں
آٹھویں صدی ہجری کا عہد مفاسد و فتن اور امام ابن تیمیہ کا عملاً اقدام
اگر وہ چاہتے تو امام ابن تیمیہ پر ایک گوشے کی شکل میں ہی اپنے تاثرات اور ان کے کارناموں کو پیش کردیتے جو کہ ممکن نہ ہوسکا اور اسی فقدانِ تسلسل کے سبب تذکرہ گہر میں پرویا ہوا ہونے کے باوجود انتشارِ ذہنی کا اقرار نامہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ’اعتذار‘ پڑھ کر حالات کا اندازہ ہوتا ہے مگر جب ایسے حالات تھے تو اتنے اہم موضوع پر قلم اٹھانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ ’اعتذار‘ سے یہ اقتباس:
’’یہ اجزاء جس وقت لکھے گئے، اس وقت وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ اس قدر جلد اور اہم تالیفات سے پہلے شائع ہوجائیں گے۔ متعدد حصے نظر ثانی کے محتاج تھے… نہیں معلوم نظر ثانی کے بعد کتاب کی صورت کیا ہوتی۔‘‘ (اعتذار، تذکرہ، ص 5)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا آزاد کے ذہن میں ’تذکرہ‘ کا کوئی متعین خاکہ نہیں تھا۔ امام ابن تیمیہ کے علاوہ دعوت و عزیمت اور بدعات و خرافات کی مخالفت کرنے والو ںمیں امام احمد بن حنبل کا ذکر بڑے ہی والہانہ و عقیدت مندانہ انداز میں کرتے ہیں۔ ایک دلدوز واقعہ بھی ’تذکرہ‘ میں امام بن حنبل کے ضمن میں پیش کیا ہے کہ حق سے پھرنے کے لیے ان پر جبر کیا گیا۔ یہاں تک کہ ان کے پیروں میں چار چار بیڑیاں ڈال دی گئیں اور بغداد سے طرطوس جانے کا حکم دے دیا گیا۔ پشت پر تازہ دم جلادوں سے کوڑے لگوائے گئے مگر ہر کوڑے کے بعد آواز نکلتی: ’’القرآن کلام اللہ وغیر مخلوق‘‘ جب معتصم باللہ نے دربار میں ضرب تازیانہ لگانے کے لیے جلادوں کو حکم دیا تو بہت سے علما اہلِ سنت نے اقرار کرکے رخصت حاصل کرلی مگر ابن حنبل نے انکار کردیا:
’’عین حالت صوم میں کہ صرف پانی کے چند گھونٹ پی کر روزہ رکھ لیا تھا نوتازہ دم جلادوں نے پوری قوت سے کوڑے مارے، یہاں تک کہ تمام پیٹھ زخموں سے چور ہوگئی… جب ہوش آیا تو چند آدمی پانی لائے اور کہا پی لو، مگر میں نے انکار کردیا کہ روزہ نہیں توڑ سکتا۔‘‘ (تذکرہ، ص 143)
اس کے بعد خون سے لت پت کپڑوں میں ہی اسحاق ابن ابراہیم کے مکان پر ابن سماء کی امامت میں ظہر کی نماز ادا کی۔ ابن سماء نے کہا کہ اس حالت میں پاکی کہاں رہی۔ امام احمد بن حنبل نے حضرت عمرؓ کی مثال پیش کی جنھیں عین حالتِ نماز میں قاتل نے زخمی کردیا مگر انھوں نے نماز پوری کی۔ آزاد اس واقعے پر اس طرح جذباتی انداز میں روشنی ڈالتے ہیں:
’’اگر یہ ناپاک ہے تو دنیا کی تمام پاکیاں اس ناپاکی پر قربان اور دنیا کی ساری طہارتیں اس پر نچھاور۔ یہ کیا بات ہے کہ پاک سے پاک انسان کی میت کے لیے بھی غسل ضروری ٹھہرا مگر شہیدانِ حق کے لیے یہ بات کوئی کہ شرمندۂ آب غسل نہیں۔ بلکہ ان کے خون میں رنگے ہوئے کپڑوں کو بھی ان سے الگ نہ کیجیے… اللہ اللہ یہاں طہارت جسم و لباس کا کیا سوال ہے؟ امام احمد بن حنبل نے اپنی تمام عمر میں گرپاک سے پاک اور سچی سے سچی نماز پڑھی تھی تو یقینا وہ وہی ظہر کی نماز تھی۔‘‘ (تذکرہ، ص 144)
یہ طرزِ اظہار مولانا آزاد کی جولانیِ طبع اور طرزِ خطابت و تبلیغ کی غمازی کرتا ہے۔ ’الہلال‘ و ’البلاغ‘ کی جو نثر تھی اس کا بھی طرۂ امتیاز یہی طرز و اسلوب تھا۔ وہ جذبات سے اکثر مغلوب ہوجاتے تھے۔ امام ابن تیمیہ کے سلسلے میں وفورِ عقیدت میں لکھتے ہیں:
’یہاں تک کہ ان پر یہ بات صادق آتی ہے کہ جس حدیث کو امام ابن تیمیہ نہیں جانتے وہ حدیث ہی نہیں۔‘‘ (تذکرہ، ص 168)
حالانکہ تمام اوصاف اور صفات علمیہ کے باوجود امام بن تیمیہ بھی انسان تھے۔ خطا و نسیان سے تعلق جس طرح سارے انسانوں کا ہے، ان کا بھی رہا ہے۔ اس طرح کا غلو و مبالغہ آزاد کی تحریروں میں جابجا ملتا ہے۔ یہاں اس کی تفصیل کی گنجائش نہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں آزادبھارت میں ہندو مسلم اتحاد کا مشعل بردار: مولانا ابو الکلام آزاد – ڈاکٹرعبدا لرزاق زیادی )
مولانا آزاد نے ’تذکرہ‘ میں ایک مقصد کو پیش کیا ہے۔ یہاں وہ جن زعمائے ملت اور اسلاف کا ذکر کرتے ہیں، ان کے اندر دعوت و عزیمت کی متموج کرنیں موجود تھیں۔ معاشرے اور امتِ مسلمہ میں پیدا شدہ خرابیوں اور انتشار کی اصلاح و تربیت کے لیے اسلاف نے سعیِ پیہم بھی کی اور بڑی بڑی قربانیاں بھی دیں۔ آزاد کو ان کے اعمال مبارکہ سے اپنی زندگی میں عمل گزاری کے لے توانائی حاصل ہوتی ہے۔ اگر وہ چاہتے تو اپنی زندگی کے اسرار اور شب و روز کو جزیات کے ساتھ قلم بند کرسکتے تھے مگر انھوں نے امتِ مسلمہ کو خواب سے بیدار کرنے اور ان کے اندر سیاسی، سماجی، اخلاقی اور مذہبی شعور پیدا کرنے کی غرض سے اپنی زندگی کے حالات کو ثانوی حیثیت دی اور اپنے اکابر و اسلاف اور علماء و صلحاء کی زندگی اور ان کے عملی کارناموں کو آئینۂ ایام کے سامنے پیش کیا تاکہ یہ زبوں حال امت ماضی سے کچھ سبق حاصل کرسکے۔ شاید یہی وہ غالب مقصد تھا جس کے سبب کہیں کہیں جذبات غالب ہوگئے۔ علماء سو کا ذکر کرتے ہوئے ان کا انداز اور بھی جذباتی ہوجاتا ہے۔ بری رسوم اور جہل و تقلید کو انھوں نے ہدف تنقید بنایا ہے۔ علماء سو کی غلط کاریوں اور برے رجحانات سے وہ پردہ ہٹاتے ہیں تاکہ عوام غلط عقائد کی جکڑبندیوں سے آزاد ہوسکے۔ دنیا پرست علماء اور ہواپرست جہلاء کی جماعت کے ساتھ ساتھ ایک اور جماعت تھی جس سے متعلق حضرات نے حکمت و دانش مندی سے الحاد اور بے دینی اور اباحت کو رائج کردیا تھا۔ آزاد لکھتے ہیں:
’’مذہب کے دکانداروں نے جہل و تقلید اور تعصب و ہوا پرستی کا نام مذہب رکھا ہے اور روشن خیال و تحقیق جدید کے عقل فروشوں نے الحاد و بے دینی کو حکمت و اجتہاد کے لباس فریب سے سنوارا ہے۔‘‘ (تذکرہ، ص 40)
اسی طرح مخدوم الملک اور ملا عبدالنبی کے درمیان شدید رقابت کا ذکر کچھ اس طرح کرتے ہیں:
’’چونکہ دنیا کے عشق نے دونوں میں رقابت کا رشتہ قائم کردیا تھا، اس لیے خود بھی ہمیشہ لڑتے جھگڑتے رہتے… سانپ اور بچھو ایک سوراخ میں جمع ہوجائیں گے لیکن علمائے دنیا پرست کبھی ایک جا اکٹھا نہیں ہوسکتے۔ کتوں کا مجمع ویسے تو خاموش رہتا ہے، لیکن اِدھر قصائی نے ہڈی پھینکی اور اُدھر ان کے پنجے تیز اور دانت زہر آلود ہوگئے۔ یہی حال ان سگانِ دنیا کا ہے۔‘‘
(تذکرہ، ص 104)
اس طرح علماء سو اور دنیا پرست مذہبی رہنماؤں سے اصل مذہب کو جو نقصان ہوا یا پھر علماء کے مابین تفرقوں اور پنپ رہے عُجب و نخوت سے ملت اسلامیہ کو جو زک پہنچی، تذکرہ ان تمام زاویوں کا احاطہ کرتا ہے۔ افکار پاکیزہ اور مذہب و عقود اصلیہ پر پڑی گرد کو صاف کرنے کی غرض سے مولانا آزاد نے علماء سو اور علماء حق پرست دونوں کی سچی تصویریں پیش کیں۔ عہد اکبری میں مذہب سے بے خبر بادشاہ کی امامت کا سوال اٹھا تو کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ اس کی مخالفت کرے۔ علماء کو اپنے منصب نیابت اور پاسبانیِ رسالت کا خیال نہ رہا۔ یہاں بھی مولانا نے دو ٹوک انداز میں تبصرہ کیا۔ لکھتے ہیں:
’’علماء سونے اپنی بداعمالیوں سے اپنا اثر پہلے ہی کھودیا تھا؛ مجبوراً سب کو دستخط کرنے پڑے۔ سب سے پہلے انہی گردن کشوں نے سرجھکایا جن کی رگ گردن سب سے زیادہ موٹی تھی اور جس کی فصد کھولنے کے لیے یہ نشتر تیز ہوا تھا۔ یعنی ملا عبدالنبی صدر اور مخدوم الملک نے۔ پھر قاضی القضانات جلال الدین ملتانی اور شیخ عبدالحئی مفتی وغیرہ نے بے چوں و چرا اپنی اپنی مہریں ثبت کردیں اور علماء دربار میں سے کسی کو انکار و تامل کی جرأت نہ ہوئی۔‘‘ (تذکرہ، ص 41)
اسی لیے مولانا آزاد کو نسبی اور خاندانی افتخار سے نفرت ہے۔ ممکن ہے بزرگانِ دین کی اولادیں بدقماش ہوجائیں اور ایک نومسلم چمار اپنے حسنِ عمل سے بلند مرتبہ حاصل کرلے۔ استخوان فروشی یعنی خاندانی نام و نسب کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ مذہب اسلام نے بھی نسلی و نسبی تفاخر کا خاتمہ کردیا ہے۔ مولانا آزاد نے باب اوّل میں اس پر بالتفصیل روشنی ڈالی ہے۔ جب وہ خود تذکرہ شروع کرتے ہیں تو باب سے پہلے اسی طرف اشارہ کرتے ہیں مگر ان کے بیان میں نسبی تفاخر کا اندازہ بھی ملتا ہے۔ فارسی شعر اور عربی عبارت کے بعد اردو عبارت کا پہلا پیراگراف دیکھیے:
’’میرے خاندان میں تین مختلف خاندان جمع ہوئے ہیں اور تینوں خاندان ہندوستان و حجاز کے ممتاز بیوتِ علم و فضل اور اصحاب ارشاد وہدایت میں سے ہیں۔ دنیوی عزت و جاہ کی اگرچہ ان میں سے کسی نے خواہش نہیں کی، لیکن دنیا نے اپنی عزتوں اور شوکتوں کو ہمیشہ اُن کے سامنے پیش کیا اور کبھی انھوں نے قبول کیا، کبھی رد کیا۔‘‘ (تذکرہ، ص 25)
شیخ جمال الدین عہدِ اکبری کے مشہور بزرگ تھے جو شیخ بہلول دہلوی سے معروف ہوئے۔ یہ مولانا آزاد کے پر دادا کے نانیہالی بزرگ تھے۔ یہاں سے مولانا آزاد تذکرہ شروع کرتے ہیں اور پھر ہندوستان کے دوسرے بڑے اکابر اور بیرونِ ملک کے اکابر اسلام کے دعوت و عزیمت کے نمونوں اور ان کے اجتہادات کا ذکر کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر اس کتاب کا نام ’ذکر دعوت و عزیمت‘ یا ’ذکرِ اسلاف‘ بھی ہوتا تو کوئی قباحت نہ تھی۔ جہاں تک ’تذکرہ‘ کا تعلق ہے، تو یہ نام بھی مناسب ہے مگر اس میں خود مولانا آزاد کی شمولیت مناسب نہیں ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ مولانا آزاد کی خودنوشت سوانح اس لیے کیوں پڑھی جائے گی کہ اس سے امام ابن تیمیہ، امام احمد بن حنبل، امام داؤد ظاہری، امام ذہبی و امام عسقلانی کی زندگی اور نشیب و فراز کا کا علم ہو یا پھر اس کا علم ہو کہ دعوت و عزیمت کا مقام کیا ہے، اصل مبداء دعوت و امامت کیا ہے یا پھر یہ کہ وراثت کا ملہ نبوت کا علم ہو یا اس کی جانکاری حاصل ہو کہ موجودہ فتنہ الحاد کے مقابلے میں صرف اصحابِ حدیث و سنت ہی کامیاب ہیں۔ ’تذکرہ‘ اگر خودنوشت سوانح ہے تو اس کا مطالعہ اس لیے کیا جائے گا کہ ’آزاد‘ یا ’آزادیات‘ کی تفہیم کی راہیں ہموار ہوں نہ یہ کہ اس کے بین السطور سے ’تاریخ فرشتہ‘، ’تاریخِ بغداد‘، ’تاریخ العراق‘، ’تحفۃ الاخوان‘، ’تاریخ الرسل و الملوک‘، ’تذکرہ علمائے ہند‘، ’تزکِ جہانگیری‘، ’اخبار الاخیار‘، ’سیرۃ الاولیاء‘، ’طبقاتِ اکبری‘، ’منتخب التواریخ‘، ’تذکرۃ الواصلین، ’تفہیماتِ الٰہیہ‘ وغیرہ کی بازگشت سنائی دے۔ اس لیے بے کم و کاست یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے کہ ’تذکرہ‘ تاریخ نگاری و سیرت نگاری کا مرقع ہے نہ کہ مولانا آزاد کی خودنوشت سوانح۔ یہاں اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ اخیر کے چار ابواب کا ہٹایا جانا اس بات کی معنویت میں اضافہ کرتا ہے اور امت مسلمہ (خواص) کے لیے ایک تحفے کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے۔ اس کی ایک ہی سبیل سمجھ میں آتی ہے کہ اگر ان چار ابواب کو مولانا کی تصنیف ’آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی‘ میں بطور ضمیمہ شامل کرلیا جائے تو شاید کوئی قباحت نہیں رہ جائے گی اور ظاہر ہے یہ اقدام یا عمل آیاتِ قرآنی میں تحریف و تبدل کا عمل نہیں کہ گنجائش نہ نکل سکے۔ کاش اس طرف کوئی اقدام ہو۔
(رسالہ ’جامعہ خصوصی اشاعت ،‘ جلد نمبر97، شمارہ1-3، جنوری تا مارچ 2000)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہترین تحریر