ہندوستان کی عظیم الشان تاریخ کے سنہرے پنوں پر مغلیہ سلطنت کے زوال اور اقتدار کی طرف بڑھتے فرنگیوں کے قدم کی داستان رقم کرتے ہوئے مورخ کا قلم فرطِ جذبات میں کانپنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں تاریکیاں چھانے لگیں۔ یہ تاریکیاں دلّی کو اپنے حصار میں لینے ہی والی تھیں کہ مورخ کی آنکھوں نے ایک ننھے دیے سے پھوٹتی شعاعوں کو دیکھا۔جس نے سلطنت مغلیہ کی طرف بتدریج بڑھتی ہوئی تاریکیوں کو آہستہ آہستہ روشنی میں تبدیل کرنا شروع کردیا۔ اس عمل سے مورخ کی آنکھوں میں تھوڑی دیر کے لیے ہی صحیح امید کی کرن جاگ اٹھی اور اس کے کانپتے ہوئے قلم کو سہارا مل گیا۔
یہ ننھا سا دیا کوئی اور نہیں ٹیپو سلطان تھا۔ جس نے 20 نومبر 1750 کو اس آب و گلِ میں اپنی آنکھیں کھولیں۔ حیدر علی حرف شناسی سے آشنا نہ تھے لیکن انہوں نے شہزادے ٹیپو سلطان کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ان کی ابتدائی تعلیم روایتی انداز میں ہوئی، بعد ازاں وہ اسلامی تعلیمات اور فنِ سپہ گری سے آراستہ ہوئے۔ انہوں نے پہلی جنگ والد کے ہمراہ صرف پندرہ سال کی عمر میں لڑی۔جس میں انہیں کامیابی ملی اور جنگ کا یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔ والد کے انتقال کے بعد 1782 میں ٹیپو ایک وسیع سلطنت کے فرما ں روا بن گئے۔انہیں ورثے میں سرنگا پٹن کا خزانہ ملا۔ جس میں تقریباً تین کروڑ روپے، ہیرے جواہرات اور دوسری بیش قیمت اشیا تھیں۔اِن کے علاوہ 88 ہزار آدمیوں پر مشتمل ایک بڑی فوج، محافظ دستے اور صوبہ داری کے لیے الگ فوجیں ملیں۔ حیدر علی کے زمانۂ اقتدار میں مسلسل جنگ نے شاہی خزانے پر منفی اثر ڈالا تھا، چنانچہ فوجیوں، محافظوں اور دوسرے کارکنان کی تنخواہوں کی ادائیگی وقت پر نہیں ہوتی تھی۔ صاحبِ مملکت ہونے کے بعد ٹیپو نے بقایا تنخواہ کی فوری ادائیگی کی ہدایت دیتے ہوئے حکم جاری کیا کہ ہر تیس دن کے بعد فوجیوں کی تنخواہیں ادا کر دی جائیں۔ ( یہ بھی پڑھیں مثنوی‘‘ اَضراب سلطانی’’ کا تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر نوشاد منظر)
ایک مضبوط حکومت کے قیام کے لیے فوج کو نئے سرے سے منظّم کرنا ضروری تھا۔ اس کے خورد و نوش اور دوسری ضروریات کی اشیا مہیا کرانا بھی ایک مسئلے سے کم نہ تھا۔ حکومت کی بقا اور ترقی و کامرانی کا انحصار انتظامی خرابیوں کو دور کرنے اور تغلّب کے خاتمے پر تھا۔ علاوہ ازیں ٹیپو کے سامنے رعایا کی خوشحالی مقدم تھی،ان باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں نے سڑکیں بنوائیں، کنویں کھدوائے، غیر قانونی معافیوں اور زمینداری نظام کا خاتمہ کرکے کسانوں کو کھیتی کے لیے زمینیں دستیاب کرائیں۔ جس میں کسان زمین کی اہلیت کے مطابق اچھی اور قسم قسم کی کاشت کرتے تھے۔ٹیپو ایک رحم دل و شفیق آقا اور لائق و ہر دلعزیز حکمراں تھے۔ وہ اپنی رعایا کی فلاح و بہبود کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ مِل نامی ایک انگریز ٹیپو سلطان کی زراعتی حکمت عملی کی داد دیتے ہوئے کہتا ہے:
”داخلی حکمرانی میں بڑے سے بڑے مشرقی فرماں روا سے اس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے….. اس کی قلمرو میں بہترین زراعت ہوتی تھی اور اس کی رعایا ہندوستان میں سب سے زیادہ خوشحال تھی۔“
اس موقعے پر میں ڈرائم کے الفاظ نقل کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ جس نے کہا تھا:
”دانشمندانہ اقدام کی وجہ سے اُس(ٹیپو سلطان) کا علاقہ نظام کے علاقے کے مقابلے میں بہت ترقی یافتہ ہے، زراعت بھی خوب ہوتی ہے، رعایا خوش اور مطمئین معلوم ہوتی ہے، اس کے برعکس دوسروں کی رعایا پر ہر طرف سے ظلم ہوتا رہتا ہے۔“
اس حکمتِ عملی سے ملک میں خوشحالی تو ضرور آئی لیکن ان پر ہونے والا صرفہ اندازے سے کہیں زیادہ تھا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ ملک اور بیرونِ ملک میں تجارت وصنعت کو فروغ دیا جائے۔ ٹیپو سلطان کی دور اندیشی کام آئی۔ اس نے تجارت کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے ملک اور بیرونِ ملک میں تجارتی کوٹھیاں قائم کیں اور بہت سے ملکوں کے ساتھ تجارتی روابط پیدا کیے۔
ٹیپو نے تجارت و صنعت کو فروغ دینے کے لیے اہلِ یورپ کی طرز پر کَچھ میں دو کو ٹھیاں بنوائیں۔ جس میں سات داروغہ اور تقریباً ڈیڑھ سو سپاہی تھے۔ ان کوٹھیوں کے قیام کا مقصد کچھ اور میسور کے درمیان وسیع پیمانے پر تجارت کو فروغ دینا تھا۔ اپنے ملک کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے وہ میسوری مصنوعات ہی استعمال کرتے اور اپنے افسروں کو بھی ان کے استعمال کی ہدایت کرتے۔ ( یہ بھی پڑھیں ٹیپو سلطان کی مذہبی رواداری – ڈاکٹر محمد تحسین زماں)
انہوں نے صنعت و تجارت کی غرض سے مختلف ممالک میں کوٹھیاں تعمیر کرائیں۔ ان میں اہم نام ارموز، جدہ، عمان، مسقط، ایران اور افغانستان کے علاوہ بُحیرہئ احمر اور خلیج فارس کے ممالک بھی شامل ہیں۔ ان ممالک میں ٹیپو سلطان نے جو سفارتیں بھیجیں، ان کا مقصد تجارتی روابط کو استحکام دینا تھا۔ سفیروں کو خاص ہدایت کی گئی تھی کہ میسورد اور متعلقہ ملکوں کے مابین تجارتی رابطہ قائم کریں اور سلطنتِ میسور کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے ان ملکوں سے ماہرین حاصل کریں۔ اس مشن میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی۔ بڑے پیمانے پر بر آمد و در آمد کا کاروبار شروع ہوا۔ برآمد کے طور پر جو اشیا میسور سے بھیجی جاتی تھیں، ان میں عمارتی لکڑی، صندل کی لکڑی، ریشم، الائچی، سیاہ مرچ، چاول، ہاتھی دانت اور کپڑا شامل تھا۔ جو چیزیں در آمد کی جاتی تھیں ان میں زعفران کے بیج، ریشم کے کیڑے، گھوڑے، پستہ، کشمش، پہاڑی نمک، موتی، گندھک، تانبا، کھجور اور چینی کے معمولی برتن شامل تھے۔ اس امرِ واقعی کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ در آمد کی گئی چیزوں میں ریشم کی صنعت کے لیے کیڑوں کی ضرورت ہوتی تھیں، جس سے ریشم تیار کرکے برآمد کر دیا جاتا تھا۔ اسی طرح فوج کے لیے گھوڑوں اور بارود کے لیے کندھک کی اہمیت سے انکار نہیں۔ جو اشیا برآمد کی جاتی تھی ان میں چاول بہت اہم تھا۔ دوسری صورت میں عمان کے لوگوں کی بے چینی قابلِ دید تھی۔ میسور میں صنعتوں کو روشناس کرنے کے لیے بیرونی ممالک سے ماہرین بھی لائے جاتے، جو یہاں کے لوگوں کو صنعت کا ہنر سکھاتے تھے۔ جن ملکوں سے تجارت ہوتی، ان میں سے بیشتر ملکوں میں ٹیپو کے اہلکار وں کو ترجیحی مراعات حاصل تھیں۔ انہیں بے خوف و خطر ہر جگہ آنے جانے کی اجازت تھی اور انہیں دوسروں کے مقابلے میں بہت کم چنگیاں ادا کرنی پڑتی۔ جس کی بنا پر متعلقہ ممالک کے لوگوں کو بھی میسور کی بندرگاہوں پر خاص رعایات حاصل ہوگئیں۔
مسقط میں انگریزی اور فرانسیسی طرز پر ایک کارخانہ قائم کیا گیا۔ جس کا سربراہ ایک داروغہ تھا۔ اس کی ماتحت میں کئی دوسرے لوگ بھی تھے۔ خرید و فروخت کا کام بیشتر داروغہ کے ذمے ہوتا مگر کبھی کبھی دلالوں سے بھی مدد حاصل کی جاتی۔ داروغہ سے ٹیپو کی مسلسل مراسلت رہتی۔ وہ خرید و فروخت کے علاوہ دوسرے تجارتی معاملات اور کارخانے کے انتظام کی بابت داروغہ کو تفصیلی ہداہت بھیجتے رہتے۔ مثلاً ایک مراسلے میں انہوں نے لکھا:
”جو موتی اس نے خریدے ہیں وہ گراں ہیں اور یہ کہ اسے بحرین سے موتی خریدنا چاہیے۔ جہاں وہ ارزاں نرخ پر ملتے ہیں۔“
ان ممالک کے درمیان در آمدو برآمد کے اعدادو شمار دستیاب نہیں، لیکن بعض مشاہدے کی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ ہر سال پانچ سے چھ مال بردار جہاز ان ممالک سے آتے جاتے تھے۔ جن پر ٹیپو سلطان کا علم نصب ہوا کرتا تھا۔ ان کے علاوہ ہند و عرب کی مستولی کشتیاں اور ڈونگیاں تھیں۔ جو خلیج فارس اور مالابار کے مابین دوڑا کرتی تھیں۔
ٹیپو سلطان نے اپنی ریاست کے کئی شہروں میں مختلف اقسام کے کارخانوں کی بنیاد رکھی۔ جس میں ہندوستانی صنّاع کے ساتھ یورپین بھی کام کرتے تھے۔ ان کارخانوں میں قینچی، چاقو، ریت گھڑی، تفنگ، دستی بندوقیں، بارود، کاغذ، گھڑیاں اور قسم قسم کے برتن تیار کیے جاتے تھے۔ان کے دورِ حکومت میں پتھر کی کانوں سے پتھر تراشے جانے کا کام شروع ہوا، شیشے کے آلات تیار کیے جانے لگے۔ ان کے علاوہ کئی میلیں تھیں، جہاں عمدہ قسم کی چینی تیار کی جاتی تھی۔ چینی بنانے کا فارمولا خود سلطان کا ایجاد کردہ تھا، جسے صیغہئ راز میں رکھا جاتا تھا۔ گھریلو صنعت کو فروغ دینے کے لیے بنکروں کی ہمت افزائی کی گئی۔ جو اعلیٰ درجے کے کپڑے تیار کرنے میں ماہر ہوگئے تھے۔ ان کپڑوں کو واجب دام پر حکومت خرید لیتی اور بحری جہازوں کے ذریعے برآمد کر دیتی تھی۔
اس کے باوجود کہ ٹیپو سلطان بذاتِ خود تجارت و صنعت کے مالک و مختار تھے، ان کے دورِ حکومت میں مخصوص اشیا کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کے کاروبار کا حق رعایا کو بھی حاصل تھا۔ ان چیزوں کی خرید و فروخت پر انہیں واجب محصول ادا کرنا ہوتا۔ ٹیپو سلطان نے عوام و خواص کی دلچسپی صنعت و سوداگری سے پیدا کرنے کے باعث ایک تجارتی کمپنی قائم کی۔ اس کمپنی میں ریاست کا ہر شخص کچھ پیسے لگاکر منافع کما سکتا تھا۔ کمپنی کی پالیسی کے مطابق جو شخص پانچ روپئے سے پانچ سو روپئے جمع کرتا، اسے سال کے آخر میں پچاس فیصدی منافع دیے جاتے، پانچ سو سے پانچ ہزار تک جمع کرنے والے کو پچیس فیصدی اور پانچ ہزار سے زیادہ جمع کرنے والوں کو ساڑھے بارہ فیصدی منافع دیے جاتے تھے۔ تھوڑے روپئے میں زیادہ منافع دینے کی پیش کش در اصل کم رقم لگانے والوں کی ہمت افزائی تھی۔ اتنا ہی نہیں ٹیپو سلطان میں جدت پسندی اور تجسس کا بھی مادہ تھا جو ہمیں جلال الدین محمد اکبر کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیت کی بنا پر نئی تقویم، ناپ تول اور پیمائش کے نئے پیمانے اور نئے سکوں کی ایجاد کی۔ جن میں بیشتر کی افادیت و اہمیت موجودہ زمانے میں بھی محسوس کی جاتی ہے۔
ٹیپو سلطان کی دور اندیشی اور ان کی نئی نئی حکمتِ عملی صنعت و تجارت کے میدان میں حکومتِ میسور (جسے بعض امتیاز کے ساتھ سلطنتِ خداداد کے نام سے بھی جانا اور پہچانا جاتا تھا) کو خود کفیل و خود مختار بنا دیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلسل جنگ کے باوجود سلطنت خداداد میں کسی بھی چیز کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ ٹیپو کی صلاحیت نے ریاست میں خوشحالی کا جو بیج بویا، اس پر وفاداری کے رنگ برنگے پھول کھلے۔ چنانچہ کیا رعایا اور کیا فوج آخری وقت تک سلطان کے ہم قدم و ہم رکاب رہے۔ جب انگریزوں نے 4 مئی 1799 میں ٹیپو سلطان کو شہید کرکے میسور فتح کرلیا تو سلطنت خداداد کی خوشحالی دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی۔ وہ یہ سوچ کر حیران و پریشان ہوئے کہ اتنی جنگوں سے نَبرد آزما ہونے کے باوجود یہاں کی سلطنت میں لوگ اتنے خوش و خرم کیسے ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
[…] فکر و عمل […]
[…] فکر و عمل […]