اساطیر فنونِ لطیفہ کی سب سے قدیم پُر اسرار متحرک روایت ہے۔ انسان کے نسلی لاشعور (Collective Unconsciousness) میں سیال پگھلی ہوئی سرسراتی ہوئی روایت، رقص، مجسمہ سازی، مصوری اور لٹریچر کی اس قدیم پُر اسرار روایت نے عمدہ اور عمدہ ترین تخلیقات عطا کی ہے۔ لیجنڈ لوک کہانی اور ’خالص مِتھ‘ تینوں اساطیر کی تشکیل میں شامل ہیں۔ تمثیل (Allegory) نے اساطیر کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اشیا و عناصر کو شخصیتیں ملی ہیں، چاند سورج ستارے، پانی، ریت، قوس قزح، آبشار، سمندر وغیرہ کو شخصیتیں عطا کی ہیں، ان میں تحرک پیدا کیا ہے۔ واقعات و کردار کو اجتماعی ’فینتاسی‘ (Collective Phantasy) کی صورت عطا کرنے میں تمثیل ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔
1952-53 میں پٹنہ یونیورسٹی میں ایم اے کا طالب علم تھا۔ اس وقت کرسٹوفر کاڈوِل (Christopher Caudwell) کی مشہور تصنیف ’’الیوژن اینڈ ریئلیٹی‘‘ (Illusion and Reality) نظر سے گزری تھی۔ کاڈوِل نے مارکسی نقطۂ نظر سے شاعری کے تعلق سے مختلف موضوعات پر گفتگو کی تھی۔ مثلاً ’شاعری کا جنم‘، ’جدید شاعری کا ارتقا‘، ’انگریزی شعرا اور پرانی روایت‘، ’انگریزی شعرا اور صنعتی انقلاب‘، ’انگریزی شعرا اور سرمایہ داری کا زوال‘، ’شاعری کی خصوصیات‘، ’سائیکی اور فینتاسی‘، ’شاعری اور خواب کا عمل‘، ’شاعری کا مستقبل‘ وغیرہ۔ ان ہی موضوعات میں ایک موضوع تھا ’اساطیر کی موت‘ (The Death of Mythology)۔ کرسٹوفر کاڈوِل نے مارکسی نقطۂ نظر سے اساطیر کی موت کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ شاعری کو اساطیر کی نہیں مادی سچائیوں کی شعور کی ضرورت ہے۔ اس خیال سے اتفاق کیا تھا کہ ’مِتھ‘ سچی نہیں ہوتی، اس میں صرف فوق الفطری کردار ہوتے ہیں۔ اس کا جواب اس طرح دیا گیا تھا کہ تخلیق کے تعلق سے کوئی نہ کوئی تصور موجود ہوتا ہے، جو احساس کی دین ہوتا ہے اور اس تصور کی بڑی اہمیت ہے۔ اساطیر ایک خاموش متحرک روایت ہے کہ جس کا سفر ہمیشہ جاری رہے گا۔ تخلیقی آرٹ کا باطنی رشتہ کسی نہ کسی سطح پر اساطیر اور اس کی روایت سے قائم رہتا ہے۔ معروف علم نفسیات جے سی یونگ (J.C. Yuang) نے نسلی اور اجتماعی لاشعور (Collective Unconsciousness) کا تصور پیش کر کے اور اس پر تفصیلی گفتگو کر کے یہ ثابت کردیا کہ اساطیری روایت و کردار انسان کے لاشعوری کی گہرائیوں میں موجود رہتے ہیں اور کوئی بڑا تخلیقی فنکار ان سے خود کو بچا کر نہیں جاسکتا۔ اجتماعی یا نسلی شعور سے اس کی لہریں نامحسوس طور پر آتی رہتی ہیں، شعور متاثر ہوتا رہتا ہے، اجتماعی لاشعور میں اس کی آنچ بہت تیز ہوتی ہے۔
’مِتھ‘ (Myths) اور آرچ ٹائپس کی علامتوں(Archetypal Symbols) کو تین دائروں میں رکھ کر لٹریچر کے مطالعے میں مدد لیں تو بہتر ہوگا۔ ایک دائرہ ایسے مِتھ کا جو خالص ہیں، دیوتائوں اور عفریتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ دو مختلف دنیائوں کی پہچان ہوتی ہے جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن استعارے انہیں ایک دوسرے سے منسلک رکھتے ہیں۔ لٹریچر میں جنت جہنم کا ذکر ہوتا رہتا ہے اور مذہب ایک سے زیادہ سطح پر انہیں ایک دوسرے سے قریب رکھتا ہے۔ دوسرا دائرہ رومانی ہے۔ اپنی دنیا میں اساطیری دنیا کے نقش ابھرتے رہتے ہیں، جو انسان کے تجربوں سے بہت قریب ہوتے ہیں، رومانی ذہن انہیں بہت قریب کرلیتا ہے اور تیسرا دائرہ بہت حد تک حقیقی مادی دنیا سے تعلق رکھتا ہے لیکن اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے فنکار کا تخلیقی ذہن اساطیری فضائوں کی جانب لپک رہا ہے یا لپکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایلن پو (Ellen Poe)، ٹھامس ہارڈی (Thomas Hardy) اور ورجنیاولف (Virginia Wolf) کی تخلیقات میں مثالیں ملتی ہیں۔ اساطیر میں جو دنیا آباد ہے اس میں پانچ دنیائوں کی پہچان مکمل طور پر ہوتی ہے۔ ایک روحانیت کی دنیا، دوسری انسان کی، تیسری جانوروں اورپرندوں کی چوتھی نباتات کی اور پانچویں معدنیات کی۔ ان سب کے پیکر، ان سب کی علامات موجود ہیں۔
لٹریچر میں اساطیر کی روشنی کہیں بہت تیز رہی ہے اورکہیں ہلکی، ادیبوں کا رشتہ ’مِتھ‘ سے براہ راست بھی رہا ہے اور یہ بھی ہوا ہے کہ کلاسیکی اور پرانی ’مِتھ‘ سے ہلکی روشنی حاصل کر کے تخلیقی فنکاروں کے ’وژن‘ نے اپنی ’مِتھ‘ بنالی ہے۔ یونانی، رومن، چینی، ہندوستانی، مصری اور لاطینی امریکی اساطیر کی روایات سے فائدہ تو اٹھاتا ہے ساتھ ہی اپنے تجربوں اور خصوصاً مذہبی تجربو ںکی روشنی میں اپنی ’مِتھ‘ خلق کرلی ہے۔ ولیم بلیک (William Blake) نے اساطیر کی جمالیات کے رنگ وآہنگ سے اپنی نظموں میں جو حرارت اور چمک دمک پیدا کی ہے ہم جانتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عیسائیت نے بھی اسے خوب متاثر کیا ہے اور اپنی ’مِتھ‘ کی تخلیق میں اس نے اپنے مذہب کو بہت قریب رکھا ہے۔ (محمد اقبال کی تخلیق ’جاوید نامہ‘ سے بھی اسی قسم کی سچائی سامنے آتی ہے) بعض شعرا کو اس بات کا احساس تھا کہ وہ اپنی ’مِتھ‘ بھی خلق کر رہے ہیں۔ ڈبلیو بی ایٹس(W.B. Yeats) نے 1926 میں ‘A Vision’ میں اپنی ’مِتھ‘ کی وضاحت کی ہے۔ ہرمین ملول (Herman Melvile) نے ’موبی ڈِک‘ (Moby Dick) میں، جیمس جوائس (James Joyce) نے ’یولائی سس‘ (Ulysses) میں اور ڈی ایچ لارنس (D.H. Lawrence)نے ‘The Plumed Serpant’ میں جہاں کلاسیکی اساطیر سے مواد حاصل کیے وہاں اپنی ’مِتھ‘ بھی تخلیق کی ہے۔ ان تخلیق کے مطالعے سے ایک بات کا احساس بڑی شدت سے ہوتا ہے کہ ان فنکاروں نے کلاسیکی اساطیر سے براہ راست روشنی بہت کم لی ہے اس ’لاشعور‘ کا عمل بہت زیادہ ہے کہ جسے یونگ نے اجتماعی یا نسلی لاشعور (Collective Unconsciousness) کہا ہے۔
اس سے قبل کہ ’سائیکی‘ اور آرچ ٹائپ (Archetypes) پر کچھ اور گفتگو کی جائے، خود اساطیر کی ایک گہری اور معنی خیز روایت ’لوک کہانی‘ کی بابت کچھ جانکاری حاصل کرلیں تو بہتر ہے۔’لوک کہانی‘ بلاشبہ اساطیرکی گہرائیوں میں اپنی جڑیں پھیلائے بیٹھی ہے۔ دنیا کے مختلف علاقوں کی لوک کہانیوں نے اپنے اپنے علاقوں میں اساطیر کی بنیادیں مضبوط کی ہیں، کہانیاں پہلے زبانی سنائی جاتی تھیں۔ ہر جگہ Oral Traditions کی مثالیں موجود ہیں۔ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کا سفر کہانیوں کو مسلسل متاثر کرتا رہا ہے، تبدیلیاں بھی ہوئی ہیں لیکن کہانیاں موجود رہی ہیں۔ سفر کرتے ہوئے کہانیوں میں جو تبدیلیاں ہوئیں وہ عین فطری ہیں۔ ’مِتھ‘ اور ’ایپک‘ کی روایتوں کی مددگار کہانیاں آج بھی موجود ہیں، ’مہابھارت‘ اور مقامی اساطیر میں ان کی پہچان ہوتی ہے۔ لوگ کہانیوں میں ’علاء الدین اور اس کا چراغ‘، ’علی بابا چالیس چور‘، ’حضرت سلیمان اور جنات‘، ’پری بانو اور جادوگر‘، ’شرون کمار‘، ’ماہی گیر اور جن‘، ’سند باد جہازی‘، ’آبِ حیات اور خوجہ خضر‘ کیکائوس[’اوستا‘ میں کاوی اوسان (Kavi Us’an) رِک وید میں ’کاویہ اوساناس‘ (Kaya Us’anas)] ’پورن بھگت‘، ’الاودل‘، ’ہیرانجھا‘، ’سوہنی مہینوال‘، ’لیلیٰ مجنوں‘، ’شیریں فرہاد‘، ’مرزا صاحبان‘ اور جانے کتنی لوک کہانیاں صدیوںصدیوں سے احساس اور جذبے سے قریب ہیں۔ نسل در نسل یہ کہانیاں چلی آرہی ہیں، مختلف علاقوں اور مختلف زبانوں اور بولیوں میں انگنت لوک کہانیاں موجود ہیں۔ بہت سی لوک کہانیاں گیتوں اور لوک نغموں میں بھی پیش ہوتی رہی ہیں اور آج بھی گائوں، دیہاتوں میں سنائی جاتی ہیں۔ فردوسی کے ’شاہنامہ‘ اور مہابھارت میں پرانی لوک کہانیاں شامل ہیں جو جگہ جگہ موضوعات میں چمک دمک پیدا کرتی ہیں۔
آئیے اپنے ملک کے ایک دور دراز علاقے سنتھال پرگنہ کی ایک لوک کہانی سناتے ہیں جو اپنی معنی خیزی لیے توجہ کا مرکز بنتی ہے۔ ہم نے پچھلے صفحات میں دیکھا ہے کہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں تخلیق کے تعلق سے ایک سے زیادہ کہانیاں موجود ہیں۔ تخلیقِ کائنات، دنیا کی تخلیق، زندگی کی تخلیق، انسان اور اشیا و عناصر کی تخلیق، یونان، روم، مصر چین، ہندوستان ایسے ممالک ہیں کہ جہاں اجتماعی احساس اور اجتماعی فکر نے ’تخلیق‘ کو بہت اہمیت دی ہے۔ کائنات کی تخلیق کیسے ہوئی، دنیا کس طرح بنی، انسان کب اورکیسے وجود میں آیا، اشیا و عناصر کی تخلیق کیونکر ہوئی، کہانیوں کے ذریعہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سنتھال پرگنہ (جھارکھنڈ) کی یہ لوک کہانی اس طرح ہے (موضوع ’تخلیق‘ ہے):
’ابتداء میں ہر جانب صرف پانی ہی پانی نظر آتا تھا ’ٹھاکر جیو‘ (خالق) نے سب سے پہلے مگرمچھ، کیکڑے، مچھلیاں اور چھوٹے بڑے آبی جانور پیدا کیے اور انہیںپانی میں ڈال دیا، اس کے بعد پرندوں کا ایک جوڑا بنایا جو اس کے کلیجے کے اندر سے نکلے پھراس جوڑے کو زندہ کردیا، اس کے بعد حکم دیا کیکڑوں کو ، مگرمچھوں کو، مچھلیوں اور تمام چھوٹے بڑے آبی جانوروں کو کہ وہ پانی کے اندر سے زمین کو باہر نکالیں۔ ان سب نے مل کر زمین کو اوپر کیا اس کے بعد ٹھاکر جیو نے پہاڑ پیدا کیے، پھر زمین میں بیج ڈالے، گھاس لگائی، درخت اُگائے، پرندوں کو غذا ملی اور وہ چہچہانے لگے، ان پرندوںنے اپنا گھونسلہ بنایا، مادہ پرندے نے دو انڈے دیے، ان سے ایک لڑکے اورایک لڑکی نے جنم لیا، انہوں نے کھیتوں سے دانے کھائے، دونوں اس وقت تک ننگے رہے جب تک کہ ٹھاکر جیو نے انہیں لباس کا احساس نہ بخشا، دونوں نے پتوں سے اپنا ننگا پن دور کیا، دونوں بڑے ہوئے اور سات اولادیں ہوئیں پھر تعداد بڑھتی گئی، اس کے بعد ٹھاکر جیو کو ایسا لگا جیسے انسان گمراہ ہورہا ہے۔ انہوں نے انہیں پہاڑوں اور غاروں کے اندرجگہیں دیں، پھر آگ کی بارش کی، سب آگ کی اس بارش میں نہائے۔ اس کے بعد افزائش نسل کا سلسلہ اور تیز ہوگیا۔ ٹھاکر جیو نے آبادی کو تقسیم کر کے مختلف علاقوں میں آباد کردیا اور وہ آج وہیں ان علاقوںمیں آباد ہیں۔
ایسی لوک کہانیوں میں پانی، مٹی، ہوا اور آگ کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ دنیا، انسان اور اشیا و عناصر کی تخلیق میں ان کا ذکر کم و بیش ہر جگہ ہے۔ دھرتی، بیج، اناج، جنس، رحم مادر، موسم اور موسم کی تبدیلی وغیرہ کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔اکثر لوک کہانیوں میں مادی زندگی سے آگے بڑھ کر روحانی زندگی کی جہتوں کو بھی نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم نے یونانی اساطیر میں ایسے کئی قصے پچھلے صفحات میں پڑھے ہیں کہ جن میں لہو کے قطروں سے گلِ لالہ اور دوسرے کئی سُرخ پھولوں نے جنم لیا ہے اور آنسوؤں کے قطروں سے سفید پھولوں کی بہار آگئی ہے۔ہندوستان میں ایسی لوک کہانیاں بھی ملتی ہیں کہ جن میں انسان کا جسم نغموں اورآہنگ کا مرکز ہے، اس کی ہڈیوں سے سریلے نغمے نکلنے لگتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک سنتھال لوک کہانی توجہ طلب ہے کہ جس میں اساطیر کا جوہر صاف دکھائی دے رہا ہے۔
ایک ضعیف جوڑے کے سات بیٹے تھے اور ایک بیٹی تھی، ایک روز ایسا ہوا کہ لڑکی کی انگلی زخمی ہوگئی، جو سبزی کاٹ رہی تھی اس میں انگلی سے ٹپکتا لہو جذب ہوگیا۔ سات بھائیوں نے سبزی کھائی تو بڑی لذت ملی، وہ سوچنے لگے کہ میری بہن کے لہو کے چند قطروں سے سبزی اتنی لذیذ ہوگئی ہے تو یقینا اس کے گوشت میں بھی بڑی لذت ہوگی۔ ان بھائیوں نے یہ سوچ کر اپنی بہن کو قتل کردیا۔ گوشت نکال کر ہڈیاں لے کر ایک تالاب کے پاس آئے۔ ایک مچھلی تالاب سے اوپر آئی کہا، ان ہڈیوں کو تالاب کنارے دفن کردو وہاں جہاں چونٹیاں رینگ رہی ہیں، بھائیوں نے مچھلی کی بات مان لی اور اپنی بہن کی ہڈیاں کو چیونٹیوں کے پاس تالاب کے کنارے دفن کردیا۔ ابھی زیادہ دن گزرے نہ تھے کہ وہاں کہ جہاں ہڈیاں دفن تھیں ایک انتہائی خوبصورت پودا نکل آیا کہ جس میں نفیس، پُرکشش پھول آگئے، پودا بڑھتے بڑھتے درخت ہوگیا اور پھلوں سے جھک گیا——پھر ایسا ہوا درخت سے ایک انتہائی خوشگوار موسیقی سنائی دینے لگی۔ ایک بھائی نے درخت کی ایک چھوٹی سی ڈالی کاٹ لی اور اس سے بنسری بنالی، بنسری منہ پر رکھتے ہی سریلی آواز نکلنے لگی۔ بجائے بغیر صرف ہونٹوں پر رکھنے سے اتنی دلفریب آواز سن کر علاقے کے تمام لوگ دیوانے سے ہوگئے، لگے رقص کرنے۔
اور پھر اس کے بعد اس درخت کی ڈالیوں سے بنسریاں بننے لگیں!
انسان غور نہیں کرتا اس کا وجود نغموں سے بھرا ہوا ہے، اس کا جسم گنگناتا رہتا ہے۔ اس کی ہڈیوں سے انتہائی لطیف آہنگ پھوٹتا رہتا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں اردو کے چند اہم ناولوں کا اساطیری پہلو – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی )
ٹھاکر جیو(خالق کائنات) نے انسان میں کائناتی آہنگ (Cosmic Rythm) کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ مرتب کردیا ہے۔ ذرا سنتے رہیے اپنے وجود کے آہنگ کودیکھئے پوری کائنات میں کیسی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں!
ہندوستان میں آریا، یونانی، ہون، عرب، ترک، ایرانی، منگولی، افغانی سب آئے، جنگیں بھی ہوئیں اور محبتوں کے رشتے بھی قائم ہوئے۔ صدیوں میں تمدنی اور تہذیبی آمیزشوں کی تاریخ پھیلی ہوئی ہے۔ زبانیں متاثر ہوئیں، مذاہب اور تمدنی اقدار متاثر ہوئے، زندگی کو دیکھنے کا زاویہ نگاہ بھی تبدیل ہوتا رہا، قصوں کہانیوں پر گہرے اثرات ہوئے، لوک کہانیوں میں نئے موضوعات شامل ہوتے گئے، ایک قوم کی کہانیاں دوسری قوم کی کہانیوں پر اثر انداز ہوئیں۔ لوک کہانیوں کے موضوعات میں جہاں فوق الفطری پیکروں، پریوں، روحوں، عفریتوں، دیوؤں اور دیوی دیوتائوں کے کردار موجود رہے وہاں پرندوں، جانوروں اور سانپوں کے کردار بھی متحرک رہے۔ جنگل و جدل، جادو ٹونا، شاہی خاندانوں میں سازشیں اور بادشاہوں کے خلاف سازشیں گائوں کی زندگی، چور، ڈاکو، لٹیرے، مذہبی پیشوا، صوفیوں اور سادھو مہاتمائوں کی عظمت لوک قصوں کہانیوں میں یہ موضوعات بھی شامل رہے۔ مذہبی اور روحانی تجربوں سے نئے تجربوں تک عوامی ذہن نے سفر کیا اور عام سمجھ بوجھ کی کہانیاں سامنے آئیں۔
مختلف علاقوںمیں گھوم گھوم کر کہانیاں سنانے کی روایت بہت ہیقدیم ہے۔رامائن اور مہابھارت کی کہانیاں بھی اسی طرح سنائی جاتی تھیں۔ پرانے لوک کہانیاں سنانے والوں کو کتھا کار کہاجاتا تھا۔ کہانیاں سنانے والے تنہا بھی ہوتے اور کئی لوگوں کے ساتھ بھی۔ کہانیاں سنانے کے لیے شاعری ، ڈراما، رقص موسیقی سب کا سہارا لیا جاتا، ’پنچ تنتر‘ کی کہانیاں پیش ہوئیں تو کردار اکثر خود جانوروں کا روپ دھار لیتے۔ آج بھی گائوں دیہات میں گیتوں کے سہارے کہانیاں سناکر بھیک دکشنا لینے والے نظر آتے ہیں۔
اس بات میں یقینا بڑی صداقت ہے کہ جو شخص ’مِتھ‘ اور لوک کہانیوں کے بغیر رہتا ہے وہ بے جڑ کا پودا ہے۔ اس کی جڑیں مضبوط اور گہرائیوں میں اتری ہوئی نہیں ہیں۔ اجتماعی ذات (Collective Self)سے رشتہ رکھے بغیر بھلا کون سچائی یا حقیقت کو بخوبی جان سکتا ہے۔ اجتماعی اور نسلی شعور ہی سے حقیقت کی معنویت میں کشادگی پیدا ہوتی ہے۔ اپنے وجود کی سچائی کا علم ہوتا ہے۔
’ذہن اور ’ذہنی عمل‘ کی جگہ یونگ نے ’سائیکی‘ اور ’سائیکک‘ (Psychic) کی اصطلاحیں استعمال کی ہیں اس لیے کہ ’ذہن اور ’ذہنی عمل‘ دونوں شعور (Consciousnes) سے تعلق رکھتے ہیں۔ ’سائیکی‘ اور ’سائیکک‘ کا شعور اور لاشعور دونوں سے تعلق ہے۔ یونگ کا خیال ہے کہ شعوری ذہن ’لاشعوری سائیکی‘ سے ابھرتا ہے۔ اور اجتماعی یا نسلی لاشعور (Collective Unconsciousness) ذات کے شعور سے کہیں زیادہ گہرائیوں میں ہے۔ ’آرچ ٹائپس‘ (Archetypes) اجتماعی لاشعور میں جذب ہیں، جو مختلف علامتوں اور پیکروں میں ظاہر ہوتے ہیں اور جو بہت قدیم ہیں۔’مِتھ‘ اور اساطیر کے گہرے مطالعے سے یونگ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ انسانی فطرت کے بنیادی اظہار کے ذرائع ہیں۔
یونگ نے ’سائیکی‘ کو پیچیدہ، مرکب اور الجھا ہوا (Complex) کہا ہے۔ یہ نفسیاتی الجھنوں کا گہوارہ ہے۔ جس طرح انسان کا جسم مختلف حصوں سے جڑا ہوا ہے، ہاتھ پائوں، گردن، دھڑ وغیرہ اسی طرح ’سائیکی‘ کے بھی لاشعوری حصے میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم ’سائیکی‘ کی بھی ایک مرکب الجھی ہوئی زندگی بسر کرتے ہیں۔ لاشعور کے دو واضح حلقے میں ایک حصہ ’ذات‘ کا ہے اور دوسرا ’نسل‘ کا۔ ذاتی لاشعور میں آرچ ٹائپس‘ (Archetypes) ہوتے ہیں۔ ’سائیکی‘ کا داخلی ماحول لاشعور کا ماحول ہے جو شعور کے ماحول سے قطعی مختلف ہے۔ ’ذات‘ کے حصے کے پس منظر میں نسلی لاشعور ہے کہ جس میں ’آرچ ٹائپس‘ ہیں۔
’آرچ ٹائپ‘ جو ایک نفسیاتی اصطلاح ہے اس کی بنیاد یونانی لفظ ’آرچ‘ (Arche)ہے۔ ’آرچ‘ کے لغوی معنی ہیں ’خالص، بنیادی، اولین، قدیم ترین، قدیمی! ’ٹائپ ٹائپوس (Typos) ہے یعنی ’صورت‘، ’فارم‘ اصطلاحی معنی ہیں۔ بنیادی صورت، اولین، قدیم ترین یا خالص فارم، یونگ نے ’آرچ ٹائپ‘ (آر کی ٹائپ) کی اصطلاحی ’نسلی اور اجتماعی لاشعور‘ (Collective Unconsciousness) کے مواد، مضمون یا مافیہ کے لیے استعمال کیا اور اس کے بعد یہ اصطلاح ادبی اور فنی تنقید میں استعمال ہونے لگی، رفتہ رفتہ یہ ایسی جمالیاتی اصطلاح بن گئی جو تخلیقی فنکار کے اجتماعی یا نسلی لاشعورکے اولین قدیمی اور بنیادی جمالیاتی علامتوں اور استعاروں اورنسلی تجربوں کو سمجھانے لگی۔ یونگ سے قبل بھی ’آر کی ٹائپ‘ کی اصطلاح کے استعمال ہونے کی خبر ملتی ہے۔ فیلو جوڈیوز (Philo Judeaus) نے انسان کے ذہن میں خدا کے پیکر (God Image) کو سمجھانے کے لیے اس اصطلاح کو استعمال کیا تھا، اس طرح آئرنیوس (Irenaeus) نے اس اصطلاح کو اپنی ذات یا اپنے وجود کے اندر سے خلق نہیں کیں بلکہ اس کے وجود کے باہر جو ’آر کی ٹائپس‘ تھے ان کی نقل کی ہے‘‘۔ قدیم یونانی مفکروں نے خالقِ کائنات کو نور اور روشنی ’آر کی ٹائپ‘ کہا تھا اور خیال، تصور یا ’آئیڈیا‘ میں اُلوہی خصوصیات کو پانے کی کوشش کی تھی۔ ( یہ بھی پڑھیں بیدی کے فن کی استعاراتی اور اساطیر ی جڑیں – گوپی چند نارنگ )
’آرچ ٹائپ‘ اولین، بنیادی، قدیمی، یا خالص تصورات کا سرچشمہ ہے۔ تخلیقی فنکاروں کی حسی اور نفسی کیفیتوں کی شدت سے ’آرچ ٹائپس‘ میں تحرک پیدا ہوتا ہے اور بنیادی اور قدیمی علامات اپنی تہہ داری اور معنی خیز جہتوں کے ساتھ نمایاں ہونے لگتی ہیں۔ خود فنکار ان کے مسلسل عمل اور اظہار کی پہچان بن سکتا یا پہچان نہیںپاتا۔ نسلی یا اجتماعی لاشعور سے بعض ایسی بنیادی صورتیں اور تصویریں سامنے آجاتی ہیں جواپنی معنویت کو لیے ہوئے فنکار کے تجربوں کی معنویت میں وسعت، گہرائی ، کشادگی پیدا کردیتی ہیں، تخلیقی فنکار کے اپنے تجربے اور پیکر ’آرچ ٹائپس‘ کی شدت کے وسیلے سے روشن اور معنی خیز بن جاتے ہیں۔ تخلیق کا پُر اسرار عمل ہی ’آرچ ٹائپس‘ کے سرچشمے سے باطنی رشتہ قائم کر کے انہیں متحرک کرتا ہے۔ بنیادی معاملہ اعلیٰ ترین سطح پر فنکار کے تخلیقی عمل کا ہے۔ پہلی جہت کی شاعری اور دوسری جہت کی شاعری کا تحرک ’آرچ ٹائپس‘ کو متحرک نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف بڑے تخلیقی فنکاروں کی تخلیقات میں ’آرچ ٹائپس‘ کا مطالعہ ادبی تنقید میں اہمیت رکھتا ہے ، اس لیے کہ بڑی تخلیق ایک انتہائی پُر اسرار تخلیقی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے، نیز دوسری جہت سے اور آگے بڑھ کر تیسری اور چوتھی جہت تک پہنچ جاتی ہے۔ پہلی اور دوسری جہت تک پہنچنے والے ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات میں بعض لفظوں یا بعض علامتوں یا استعاروں کے بار بار استعمال سے اکثر یہ غلط فہمی پیدا ہوجاتی ہے کہ ’آرچ ٹائپس‘ ہیں یا ’آرچ ٹائپس‘ کے تحرک کا نتیجہ ہیں۔ ادبی تنقید میں تخلیقی فنکار کی شخصیت اور اس کے ذہن کی حیثیت غیر معمولی ہے، شخصیت اور ذہن کا بہترمطالعہ کیا جائے تو ’سائیکی‘ کو سمجھنے میں زیادہ مدد ملے گی، ’آرچ ٹائپس‘، ’سائیکی‘ ہی میں موجود ہوتے ہیں، نفسیات کے علما نے اسے اہمیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’سائیکی‘، ’مدر لکوڈ‘ (Mother Liquid) ہے، پچھلی نسلوں، قوموں اور قبیلوں کے بنیادی تجربوں کا سفر جاری رہتا ہے اور انسان کے نسلی لاشعورمیں یہ تجربے موجود رہتے ہیں۔ تخلیقی فنکار کی ’سائیکی‘ میں جب شدت پیدا ہوتی ہے تو ان تجربوں سے ایک انتہائی پُر اسرار معنوی رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔ ’آرچ ٹائپس‘ کا اظہار عموماً استعاروں اور علامتوں میں ہوتا ہے۔ دیومالا اور قدیم ترین قصوں کہانیوں کے کردار اور حسّی تصورات نے تجربوں کی معنویت میں ابھرتے ہیں، صرف ایک ’امیج‘ یاپیکر جانے کتنی سچائیوں کا مظہر اور علامیہ بن جاتا ہے۔ انسان کی پچھلی نسلوں، قوموں اور قبیلوں میں آگ، روشنی، سانپ، عورت، مرد، آفتاب، آسمان، رات، لہو، پانی، جادو وغیرہ جو اہمیت رکھتے ہیں ہمیں اس کا علم ہے۔ یہ سب اور ان کے علاوہ جانے اور کتنے کا رشتہ ان سے قائم ہوتا ہے اور ان کی معنی خیزی نئے تجربوں میںجہتیں پیدا کرتے ہوئے جانے کتنے جلوؤں کو کھینچ لیتی ہے، ان کے تعلق سے جانے کتنے جلوے سامنے آجاتے ہیں۔جمالیاتی ’آرچ ٹائپس‘ کی پہچان اسی منزل پر ہوتی ہے کہ جہاں کوئی بڑا فنکار ’سائیکی‘ سے گہرا معنی خیز باطنی رشتہ کر کے (جو عموماً لاشعوری ہوتا ہے) اپنی انفرادی اسطوری کیفیتوں اورنقوش کی تخلیق کردیتا ہے۔ ا ردو بوطیقا میں غالبؔ اس کی سب سے بڑی مثال ہیں کہ جنہوں نے آتش ، نور، خدا، محبوب، لہو، پرچھائیں وغیرہ سے ایک انفرادی اساطیر کی جمالیات سامنے رکھ دی ہے۔ دنیا کے کسی بھی ادب کی تاریخ سامنے رکھلیجئے اور کسی بھی ادب کی عمدہ تخلیقات کا مطالعہ کیجئے ایک سچائی بار بار ابھرے گی کہ کسی بھی بڑے تخلیقی فنکار کے فن میں تجربہ اور ’مِتھ‘ کا رشتہ حد درجہ گہرا ہے اور ’مِتھ‘ کے گہرے رشتے کی وجہ سے فن میں تابناکی اور معنی خیزی پیدا ہوئی ہے اور کبھی کبھی اس حد تک کہ خود فنکار کی تخلیق ایک اعلیٰ ’مِتھ‘ کا جمالیاتی نمونہ بن کر لیجنڈ بن گئی ہے۔شیکسپیئرؔ، غالبؔ، گٹےؔ، حافظ، رومیؔ، کبیرؔ اور اقبالؔ سب مِتھ سے ایک پُر اسرار ذہنی رشتہ رکھتے ہیں۔ ’آرچ ٹائپس‘ میں مِتھ کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ ’مِتھ‘ سے ذہنی اور جذباتی رشتہ اور اس رشتے کی جمالیاتی صورتیں ’آرچ ٹائپس‘ کی قدر وقیمت اور اہمیت کو اور بڑھادیتی ہیں، اس لیے کہ حقیقت نگاری اور فطرت نگاری کی ایک نئی جہت توجہ طلب بن جاتی ہے۔
’سائیکی‘ کے ’آرچ ٹائپس‘ کی کئی جہتیں نمایاں ہوتی رہتی ہیں۔ سب سے اہم اور معنی خیز جہت علامتوں کی ہے، جو اکثر تخلیقی فنکاروں کے ذاتی ’مِتھ‘ کو نمایاں کرتی ہے اور نفسی سطح پر ایک آہنگ بخشتی ہے، جس سے فنکار کے تخلیقی ذہن تک پہنچنے میں آسانی ہوتی ہے۔
یونگ نے چند اہم ’آرچ ٹائپس‘ کا ذکر کیا ہے ان میں ’مدر آرچ ٹائپ‘ (Mother Archetype)، شیڈو (پرچھائیں) (The Shadow)’ضعیف دانش مند‘ (Wise Old Man)، منڈل (Mandala) ’ذات‘ (The Self) وغیرہ معنی خیز سرگوشیاں کرتے ہیں۔
اردو کے جن تخلیقی فنکاروں کے تخلیقی وژن میں ’سائیکی‘ کی لہروں اور سائیکو اساطیر (Psycho-mythology) کی چمک دمک کی زیادہ پہچان ہوتی ہے ان میں کبیرؔ، میرؔ،غالبؔ، اقبالؔ، فراقؔ اور اختر الایمانؔ وغیرہ کے نام اہم ہیں۔

