ادب اپنے عہد کا عکاس ہوتا ہے اورادیب اپنے عہد میں رہنے کی وجہ سے جس عہد کی ترجمانی کرتا ہے،وہ سماج کے اُس پردے کا عکاس ہوتا ہے جہاں اُس کے لیے سانس لینا نہایت ضروری ہوتا ہے۔وہ قرب و جوار کے مسائل کو اپنے فن پاروں میں اس طرح سموتا ہے گویا پڑھنے والا اُسی عہد میں سانس لے رہا ہو۔ایک فنکار کی جہاں تک بات کی جائے تو وہ معاشرے میں جی رہے عام لوگوں سے زیادہ حساس ہوتا ہے یا اگر زیادہ حساس نہ بھی ہو تو فنکار کے پاس قلم کی وہ طاقت ہوتی ہے جو پورے معاشرے کی نمائندگی کرسکے اور اپنے عہد کی عکاسی بہتر طور پر کر سکے۔سعادت حسن منٹو نے جس عہد میں آنکھیں کھولیں اور پوری زندگی بسر کی،وہ ہندوستان کی غلامی کا عہد تھا جہاں ہر شخص غلامی کی طوق پہنے ہوئے تھا اور نجات چاہتا تھا۔منٹو کے ہمعصروں میں اکثر فنکاروں نے اس بات کا اظہار شدت سے کیا ہے۔افسانوں کی بات کی جائے تو غلام عباس،اوپندر ناتھ اشک،احمد ندیم قاسمی، عصمت چغتائی اور اسی طرح کے دوسرے فنکاروں کی تحریروں میں غلامی کی شدت کا احساس صاف طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔انگریزوں کے خلاف شدید نفرت کا ہی صلہ تھا کہ ہندوستانیوں کو آزادی نصیب ہوئی لیکن اُس کی صورت ذرا مختلف تھی۔فرنگیوں نے آزادی تو دی لیکن یہاں کی دو تہذیبوں کو آپس میں اس طرح مدغم کر دیا اور دونوں فریق میں زہر کا ایسا بیج بو دیا،جس سے دونوں قدیم تہذیبیں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی ہوگئیں۔اس طرح سے ملک ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا اور پاکستان کی صورت میں نیا ملک وجود میں آیا جسے خالص اسلامی ملک قرار دیا گیا۔بر صغیر ہند وپاک کی جدید تاریخ میں ۱۸۵۷ء کے واقعات کے بعد ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند کا واقعہ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ قوموں کی زندگیوں کے دھارے کو بدلنے والے واقعات تاریخ میں روز رونما نہیں ہوتے ۔ تقسیم ِ ہند اُن میں سے ایک ایسا ہی واقعہ ہے ۔ یہ واقعہ بے مثل ہجرت ، سفاکانہ خوں ریزی ، مجرمانہ غارت گری ، عورتوں کی بے حرمتی اور ان کے نفس پرستانہ اغوا جیسی وارداتوں سے عبارت ہے۔اس نے اس خِطّے کی قوموں ، خصوصاً مسلمانوں، کی زندگی کے تمام شعبوں کو جس طرح متاثر کیا اس کی دوسری مثال نہیں ملتی ۔ اس واقعہ نے ان کی معیشت ، سیاست اور تہذیب کے نقشے کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔
مورخین اور دیگر سماجی علوم کے ماہرین نے تقسیم ہند کے اسباب سے بحث کی ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے ۔ اس نوع کے کام عموماً سرکاری اعداد وشمار اور متنوع ٹھوس تاریخی دستاویزات پر مبنی ہیں ۔ یہ کام ہمیں باخبر تو بناتے ہیں لیکن ہماری حسیّت کو بیدار کرنے میں خاطر خواہ کامیابی نہیں حاصل کرپاتے ۔ اس طرح انسانی معاشرے کے اہم ترین پہلو ، انسانوں کی جذباتی زندگی کی پیش کش اور ترجمانی کا حق ادا ہونے سے رہ جاتاہے ۔ تقسیم ہند کے واقعہ نے انسانوں کی جذباتی زندگی اور اندرونی دنیا میں جو عظیم تبدیلیاں پیداکیں اور ان کے جو اثرات بعد کے برسوں میں مرتب ہوئے ان کی ترجمانی تخلیقی فن پاروں ہی میں ممکن ہوسکتی تھی۔اس حوالے سے غلام عباس کی تخلیقات کو کسی بھی طرح فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اُن کے افسانوں میں اس کے واضح اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں جس میں انھوں نے تقسیم کے کرب،سانحے اور تشدد کو بیان کیا ہے۔
غلام عباس نے کم لکھا لیکن اس کے باوجود ہم عصروں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ انھوں نے کسی بھی تحریک سے وابستہ ہونے کے بجائے غیر جانب دارانہ طور پر اپنے فنی سفر کو جاری رکھا۔ انھوں نے سماج میں بدلتے میلانات پر ہمیشہ نظر رکھی۔ ساتھ ہی نو آبادیاتی نظام کی یلغاراور سرمایہ دارانہ نظام کی شکست اپنی آنکھوں سے دیکھی۔تقسیم کے سانحے کے حوالے سے انھوں نے جتنی بھی کہانیاں لکھیں ان میں غیر جانب دارانہ طورپر اپنے خیالات کا برملا اظہار کیا۔ اس ضمن کی ایک کہانی ’’لچک ‘‘ ہے جس میں ایک مولوی کا کردار اس لیے زیادہ بامعنی ہو جاتاہے کہ وہ ہندستان میں ہے اور ہندستان ہی میں رہنا چاہتا ہے۔وہ ہم وطنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کئی اہم نکات کی جانب اشارے بھی کرتا ہے جس سے پوری صورت واضح ہوجاتی ہے۔وہ تقریر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’برادران اسلام!میں آج اپنی اس تقریر میں آپ سے کچھ باتیں صاف صاف کہنا چاہتا ہوں۔آپ کو معلوم ہے کہ تقسیم ہند اَب حقیقت بن چکی ہے اور دو مملکتوں کا قیام بھی عمل بھی آچکا ہے مگر میں پھر بھی ڈنکے کی چوٹ پر کہوں گا کہ یہ تقسیم سراسر غیر فطری،خلاف حقیقت اور فتنہ انگیز ہے‘‘۔مولانا کی تقریر سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں مملکتوں کی تقسیم یقینی ہے اور لوگ اس بات پر غور وخوض کررہے ہیں کہ اس مسئلے کا تدارک کیسے کیا جائے اور کیا مسلمانوں کو اس ملک میں رہنے کی ویسے ہی آزادی ہوگی یا کچھ پالیسیوں میں ترمیم ہوگی۔مولانا کا یہ جملہ پوری سیاست پر شدید طنز کرتا ہے اور یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ملک کے حالات کچھ تو پہلے سے کشیدہ تھے اور کچھ بعد میں بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔مقرر صاحب مذہب کی بات کرتے ہوئے مذہبِ اسلام اور ہندو مذہب میں مصالحت کی بنا پر کچھ زیادہ مغائرت نہیں پاتے ہیں۔مثال کے طور پر ہندوؤں کے سبھی فرقے توحید الٰہی کے بارے میں متفق ہیں۔وہ فنائے عالم،نیک وبد کی سزا و جزا اور حشر ونشر کے قائل ہیں۔یاد رکھو!ان کی بت پرستی شرک کی وجہ نہیں بلکہ ان کا یہ عمل ’تصور شیخ‘کے فلسفے سے مشابہت رکھتا ہے جو ہمیشہ سے صوفیائے اسلام کا شعار رہا ہے۔
اس افسانے میں مولوی کر دار اس لیے بامعنی ہے کہ وہ اپنا ملک چھوڑنے پر بالکل بھی تیار نہیں بلکہ وہ ہندساتن جیسے ملک میں مسلمانوں کے رہنے کی تاویلیں بھی کر ڈالتا ہے۔وہ ہندو متھ سے مسلمانوں کے عقائد کو جوڑنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ بھی تاویل کرتا ہے کہ ہندستانی مسلمان بھی کسی زمانے میں ہندو ہی تھے اور انھوں نے کسی نہ کسی زمانے میں ’تبدیلیٔ مذہب‘ سے ہی مسلمان ہوئے ہیں۔اسی لیے ان کے اکثر رسوم ورواج میں ہندو کلچر کی بازگشت دکھائی دیتی ہے۔اس کے بعد مولوی ایسے خیالات رکھنے والے لوگوں پر طنز بھی کستا ہے۔اس کے الفاظ’’مگر ہمارے بھائی ہم سے کہتے ہیں کہ ہندو سماج میں تمہاری کوئی جگہ نہیں ہے۔تم نے یہاں چاہے کتنی صدیاں حکومت کی ہو مگر تمہاری حیثیت ایک اجنبی اور بیرونی حملہ آورکی رہی ہے۔اب تمہارے لیے یہی مناسب ہے کہ یا تو یہاں سے نکل جاؤ یا خود کو ہندو سماج میں سمو دو۔اپنے اسلامی ناموں کو بدل لو۔مکے مدینے کو بھول جاؤ اور رام لکشمن اور سیتا جی کے آستانوں پر سر جھکاؤ‘‘۔اس اقتباس سے مولوی صاحب کے نظریات کی تصدیق ہوتی ہے اور وہ ایک طرح سے پورے معاشرتی نظم پر طنز کرتے ہیں۔
غلام عباس کی کہانیاں تقسیم ہند کی روداد پیش کرنے کے علاوہ اور بھی کئی سارے موضوعات ہیں جو انھیں معاصر فنکاروں سے ممیز کرتے ہیں انہی کہانیوں میں کہانی ’’اوتار‘‘ہے جو دیو مالائی عنصر لیے ہوئے ہے۔اسطورہ؍اساطیر،دیومالا اور متھ Myth مختلف زبانوں میں یکساں معنی میں مستعمل ہیں جو یونانی زبان کے لفظ ’مائی تھس‘سے ماخوذ ہے جس کا لغوی مفہوم’وہ بات جو زبان سے ادا کی گئی ہو یعنی کوئی قصہ یا کہانی۔‘لیکن اس کے اصطلاحی معنوں پر غور کیا جائے تو یہ وضاحت ہوتی ہے کہ اس کا اطلاق ہر اُس کہانی یا واقعے پر ہوتا ہے جس کا سرا دیوتاؤں،پرانے قصوں اور اکابرین کے معجزوں سے جا ملتا ہے۔داستانوں ،ناولوں اور افسانوں میں اس کی واضح مثالیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اساطیر فی الاصل ماورائیت پسند ہوتی ہے اور اس کے ضابطے کی بنیاد مذہبی عقائد پر رکھی جاتی ہے۔اس کا دائرہ کار ایک مخصوص مسئلے پر محیط ہوتا ہے۔اس کہانی میں متھ سے استفادہ کرتے ہوئے افسانہ نگار نے تقسیم کے نتیجے میں ہونے والے فساد کو موضوع بنا کر کہانی کو خوب صورتی سے پیش کیا ہے۔ نئے ملک کا قیام جن مقاصد کے تحت عمل میں آیا تھا، اس کے آثار ابتدائی دنوںسے ہی مٹتے نظر آ رہے تھے ۔ ( یہ بھی پڑھیں وہ اور پرندہ:فنی محاسبہ – محمد غالب نشتر)
افسانہ’’اوتار‘‘میں غلام عباس نے ہندو متھ کا بنیادی حوالہ بناتے ہوئے طنز کا نشانہ بنایاہے جس میں انھوں نے براہ راست اِندر مہاراج،گنیش جی،وشنو بھگوان،برہما اور دیگر سے براہ راست سوالات قائم کیے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آپ آکاش میں رہتے ہوئے کسی بھی سمسیا کا سمادھان نہیں کر سکتے اور اُس کے بعد مہادیوجی کے بارے میں اپنی علمیت کا بھی اظہار اس طرح سے کرتے ہیں:
’’مہادیو جی کو شوجی بھی کہتے ہیں۔ان کے پانچ چہرے،چار بازو اور تین آنکھیں ہیں۔تیسری آنکھ ماتھے کے درمیان ہے۔وہ ایک بیل پر جس کا نام نندی ہے،سوار ہوتے ہیں ۔وہ جٹا دھاری سادھو کا روپ بنائے ہوئے انگوں میں مسانوں کی بھبھوت لگائے کمر پر مرگ چھالا لٹکائے،گلے میں پھنکارتا ہوا سانپ مالا کی طرح ڈالے،بن بن پھرتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔اور وہ سب دیوتاؤں کے ساتھ لیے وہاں پہنچے جہاں چھیر سمندر میں وشنو جی اپنی پتی لکشمی رانی کے ساتھ شیش ناگ اننت پر بسرام لے رہے تھے۔‘‘
اس اقتباس سے ایک بات کا اندازہ صاف طور پر لگایا جا سکتا ہے کہ غلام عباس کو ہندو متھ سے خاصی دلچسپی ہے اور خاص انداز میں بیان کرنے کا سلیقہ بھی جانتے ہیں۔ان کرداروں کو بیان کرنے کا ایک واضح مقصد یہ بھی ہے کہ وہ اُن بھگوانوں سے یہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ انھوں نے اس دنیا کو یونہی کیوں چھوڑ رکھا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں پردۂ سیمیں پر بیدی کی دستک – ڈاکٹر سلمان فیصل )
کہانی کا دوسرا رخ اس وقت شروع ہوتا ہے جب راوی مراد آباد کے قصبہ سنبھل کے سانحے کا ذکر کرتا ہے اور تقسیم کے زمانے میں وہاں کے مسلمانوں پر ہونے والے دردناک المناک واقعے کا ذکرکرتا ہے۔راوی بتاتا ہے کہ ملک کی تقسیم سے پہلے سنبھل میں ہندؤں اور مسلمانوں کی مخلوط آبادی تھی مگر تقسیم کے بعد ہندستان کے دوسرے شہروں کی طرح یہاں بھی ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوگیا اور مسلمان جو بھاری اکثریت میں تھے ،مسلمانوں کو تاخت وتاراج کرنے لگے۔اس قصبے میں رہنے والے مسلمانوں میں اکثر نے اپنی جان گنوا دی اور کچھ بہت احتیاط سے نظر بچا کر کسی دور دراز علاقے میں جان بچانے میں کامیاب ہوگئے۔کہانی ابراہیم کے واقعات کے سہارے آگے بڑھتی ہے ۔راوی ہمیں یہ بتاتا جاتا ہے کہ وہ مسلم عورتیں جنھیں سورج کی کرنوں نے کبھی چھوا تک نہیںتھا،وہ مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کرتی ہیں تاکہ غربت کی ردا کو اپنے جسم سے الگ کیا جا سکے۔اسی زمانے میں ابراہیم کے ہاں ہمزہ کی صورت میں ایک لڑکا پیدا ہواجو اسم با مسمیٰ تھا۔جوان ہو کر اُس کے اندر ایک یادداشت کے حصے نے کچوکے لگانا شروع کیا اور وہ بات تھی کہ کسی نے اسے بتایا تھا کہ ہندوؤں کی قوم نے اسے اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے تو وہ شہر جانے کی ضد مچانے لگا جب کہ اس کی بیوی سارا طرح طرح کی قسمیں کھانے لگی کہ وہ اسے چھوڑ کر کہیں نہ جائے۔لیکن ہمزہ نے قسم کھا رکھی تھی کہ وہ شہر جا کر رہے گا۔ وہ شہر جاتا ہے اور ایک طویل مدت کے بعد واپس آتا ہے تو گھر اور گاؤں والوں کو ایک حقیقت سے انکشاف کراتا ہے کہ مسلمانوں کا برا حال ہے اور وہ ہر جگہ ستائے جارہے ہیں۔اس کے بقول:
’’میں جہاں کہیں گیا،میں نے مسلمانوں کو بڑی مظلومیت ،کسمپرسی اور بے چارگی کی حالت میں دیکھا۔وہ ہر وقت ڈرے سہمے رہتے۔ان کی مساجد ،اولیا کے مزاروں اور اُن کے قبرستانوں کو مسمار کیا جاتا مگر وہ دم نہ مارسکتے۔ہندستان کا کوئی شہر ایسا نہ تھا جہاں آئے دن مسلمانوں پر بلوے نہ ہوتے رہتے۔ان بلوؤں میں ہزاروں بے گناہ زن و مرد،بچے و بوڑھے موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے۔‘‘
اس کے بعد وہ گاؤں والوں کی نظروں سے بچتے ہوئے شہر کی جانب چلاجاتا ہے۔دن گزرتے رہتے ہیں کہ ہندوؤں کو پریشان کرنے کی سوجھتی ہے اور وہ مسلمانوں کو کنویں سے پانی بھرنے سے منع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جب وہ کسی طرح نہیں مانتے تو شب خون مارتے ہیں اور خون خرابا ہونے لگتا ہے۔ہندوؤں کے نظریے کے مطابق یہی بات صحیح نظر آتی ہے کہ آگ دہکاکر مسلمانوں کو نذر آتش کیا جائے۔وہ جب اس کام کو آگے بڑھاتے ہیں تو سارہ کی دلسوز صدا سے آسمان پھٹ پڑتا ہے اور ایک شخص نمودار ہوتا ہے جسے دیکھتے ہوئے کافر بے دست و پا بھاگنے لگتے ہیں۔آسمانی فرشتہ انھیں مخاطب کرتے ہوئے یوں گویا ہوتا ہے:
’’میں وشنو ہوں۔جب کبھی سنسار میں نیکی گھٹ جاتی ہے اور بدی غلبہ پالیتی ہے تو میں دیو لوک میں اپنے استھان چھوڑ کر یہاں آتا ہوں تاکہ نیکوں کی حفاظت کر سکوں اور بدکاروں کو سزا دوں۔۔۔۔۔تم شاستروں کے احکام کے مخالف ہو۔تم ویدوں سے منحرف ہوگئے ہو۔ہندو دھرم جو سب دھرموں میں بڑا اونچا درجہ رکھتا تھا،تم نے اس کو بٹا لگایا ہے۔۔۔۔تم نے عورتوں کو بے آبرو کیا ہے۔تم نے اُن کو ننگا کرکے بازاروں میں پھرایا ہے۔تم نے ان کی چھاتیاں اور ناک کاٹ کر انھیں زندہ چتاؤں میں جلایا ہے۔تم نے ان بچوں کو بھالوں کی انیوں پر لٹکایا ہے۔کیا ہندو دھرم کا یہی کرتویہ ہے؟‘‘
غلام عباس نے اس کہانی کو بیان کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ وہ ہندو مذہب کی تمام باریک نکات کو بیان کر سکیں اور فسانے کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔کہانی کے آخر میں جب سفید براق میں سوار جب آخری جملہ بولتا ہے تو سب شسدر رہ جاتے ہیں۔وہ کہتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔میں اسی بات کو ثابت کرنے کے لیے اب کسی ہند و راج محل میں نہیں بلکہ ایک غریب مسلمان لوہار کے جھونپڑے میں جنم لیا ہے۔۔۔۔۔۔اس کے بعد تمام کفار سر بہ سجود ہوجاتے ہیں جو اُن کے کمزور ایمان کی دلیل ہے۔اس طرح سے دیکھیں تو افسانہ تقسیم کے بعد ہونے والے اقلیت طبقے پر ہونے والے مظالم کی جانب اشارہ کرتا ہے اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔کیوں کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کی اصلی صورتحال کا لب لباب بھی یہی ہے کہ اقلیت کو غربت کی زندگی جینے پر مجبور کیا جائے اور اُن کی تہذیب کو مسمار کیا جائے۔
غلام عباس نے تقسیم ہند کو موضوع بنا کر ایک ایسا ہی افسانہ’’ایک درد مند دل‘‘لکھا ہے۔یہ افسانہ ’’ایک دردمند دل‘‘ ایک ایسے ہی شخص کی کہانی ہے جو بے روزگاری سے نجات حاصل کرنے کے لیے نئے ملک میں ڈانس کلب کھول کر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ اسی طرح غلام عباس نے مہاجروں کے دکھ درد کو اپنے افسانوں میں موضوعِ خاص بنایا ہے۔یہ ڈانس کلب خاص لوگوں کی توجہ کا مرکز اس لیے ہے کہ اس میں ناچنے والے بڑے مہذب لوگ ہیں جن کی بابت مشرقی لوگوں کے ذہن میں ایک بات مشہور ہے کہ وہ ہم سے زیادہ مہذب ہیں۔اسی طرح افسانہ ’’فینسی ہیر کٹنگ سیلون‘‘میں چند ایسے مہاجروں کی داستان حیات ہے جو زمانے کے ہارے ہوئے ہیں اور نئے ملک پہنچ کر سیلون کی دکان سے اپنی نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔اس طرح غلام عباس کی مندرجہ بالا کہانیوں کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو وہ ایک ممتاز افسانہ نگارکی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔تقسیم ہند کے موضوعات والے افسانوں کے علاوہ انھوں نے کئی اہم موضوعات پر چند اہم کہانیاں لکھی ہیں جن میں آنندی،گوندنی والاتکیہ،نواب صاحب کا بنگلہ وغیرہ اہمیت کے حامل ہیں اور وہی افسانے غلام عباس کا افسانوی ادب میں بنیادی حوالہ بھی ہیں۔
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

