20 نومبر 1750 کو پیدا ہونے والے اور 27 دسمبر 1772 کو اپنے ہی باپ حیدر علی کی جگہ لینے والے ٹیپو سلطان گوند حیدر علی تھے اور نہ اورنگ زیب،انہوں نے نہ کسی سلطنت کی بنیاد رکھی اور نہ ہی تخت تک پہنچنے کے لیے انہیں خون کی ندیاں عبور کرنی پڑی مگر تاریخ گواہ ہے کہ ان میں بہ یک وقت حیدر علی کے اوصاف بھی تھے اور نگ زیب عالم گیر کی خصوصیات بھی ۔ٹیپو سلطان کی زندگی کے تمام پہلو روشن اور تابتاک ہیں ۔آج ہم ٹیپو سلطان کو ان کے مجاہدانہ کارناموں کی وجہ سے ہی جانتے ہیں انہیں سراہتے ہیں۔لیکن ان کی زندگی کے دوسرے شعبے ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں یہ سچ ہے کہ ٹیپو سلطان اپنی جاہ و جلال،اعلی ذہنیت،سوجھ بوجھ اور ذاتی خوبیوں کے باعث مطلع جہانبانی پر آفتاب عالمتاب بن کر چمکے۔او ر میسور جیسی چھوٹی ریاست کو پوری دنیا میں مثال بناکر قائم کر دیا۔
اٹھارویں صدی عیسوی کا وہ نہ مساعداور نہ سازگار زمانہ جب ہندوستانی عوام کی زندگی کے تمام شعبے سیاسی، سماجی، معاسی،تہذیبی ،ثقافتی گو کہ انکی عزت،عصمت،دولت،غیرت،وقار حتیٰ کہ قومی وجود تک تنزل کی گہری کھائی میں دھنستا چلا جا رہا تھا تب ٹیپو سلطان نے ان حالات پرماتم کرنے کے بجا ے نہ صرف صبرو استقلال کے دامن کو تھامے رکھا بلکہ اپنی بلند ہمت بالغ انظری،سوجھ بوجھ سے ان حالات کو درست کرنے میں اپنی ساری قوت صرف کردی۔1784 سے 1788 تک کا وہ زمانہ جب ٹیپو سلطان کو لگاتار چار سال تک مسلسل جنگوں کا سامنا کرنا پڑا، صلح نامہ منگلور کے وقت دو محازوں پر سلطان کو فتح نصیب ہویٔ مگر عین اسی وقت جب معاہدۂ منگلور اور ملتحد ریاستوں کی سرکوبی کی خبرین نشر ہو رہی تھیں مرہٹوں اور نظام دکن نے اس شیر خدا کے خلاف ایک نیا محاذ چھیڑ دیا۔یہ دونوں حریف اپنی اپنی فوجیں مسیورگی حدود میںبڑھا لاے، انہوں نے مسجدیں ویران کیں،نہتی آبادی کو تہ تیغ کر دیا لہٰذا یہ ناممکن تھا کہ سلطان شیر مسیور اس گستاخی کو برداشت کر لیتے،انہوں نے ہوا کی سی تیزی سے ان دونوں افواج کو شکست کی دھول چٹا دی۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ معایدہ منگلور اور مرہٹوں اور دکینوں کو شکست دینے ک بعد ٹیپو سلطان نے ایک ایسی نظام حکومت کی بنیاد رکھی جسکی مثال جنوبی ہند کی تاریخ میں شاز ہی ملے گی ۔رعایا کو خوشحال بنانے کے لیے انہوں نے جو منصوبے تیار کیے وہ دوسرے عہد میں کبھی تصورر بھی نہیں کیے گئے ہوں گے۔ ( یہ بھی پڑھیں ٹیپو سلطان کی شخصیت کی مختلف جہتیں – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی)
ٹیپو سلطان نے اپنے معاشی نظام میں سب سے زیادہ توجہ کسانوں پر دی۔ یہ بچاری مخلوق ہزاروں سال سے جاگیر داروں اور زمین داروں کے ظلم سے کچلی جاتی رہی تھی۔ان کی حالت میں سدھار لانے کے لیے سب سے پہلے جاگیرداری نظام کو ختم کرنا تھا۔ٹیپو سلطان نے ورزاء اورعمال ریاست کے خلاف جاکر اس نظام کو یکسر توڑ ڈالا۔تمام زمینیں جاگیرداروں اور زمینداروں کے چنگل سے نکال کرسرکاری ملکیت قرار دے دی اور ان کو ازسرنوع کسانوں کے سپرد کردیا۔چنانچہ کسان زمینوں کے خود مالک ومختارہو گیے۔ٹیپو سلطان نے ان زمینوں کے متعلق کچھ ہدایات بھی جاری کیں۔جو مندرجہ ذیل ہیں ۔
1 ۔ کوئی بھی کسان اس وقت تک زمین سے الگ نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ زمین کو ذرخیز بناے رکھتا ہے
2۔ٹیپو سلطان نے ان زمینوں پر مناسب محاصل بھی رکھا تھا۔کسان جب تک زمینوں کی کاشت کرتے اور مال گذاری ادا کرتے تب تک وہ اس زمین پر قابض رہ سکتے تھے۔
3۔بنجر اراض پر پہلے سال کوئی لگان نہیں لگایا گیا تھا بلکہ حکومت کی طرف سے انہیں بیج اور دوسری سہولتیں فراہم کی جاتیں تھیں،
4 ۔اسی طرح خشک زمینوں کی کاشتکاری جن کی ذرخیزی کا انحصار صرف بارش پر ہوتا ہے انہیں پیداوار کا ایک تہائی حصہ بطور لگان نقد ادا کرنا پڑتا تھا۔
5۔جن زمینوں کی کاشتکاری میں آبپاشی کے لیے نہروں،تالابوں یا دریاؤں کا استعمال کیا جاتا وہ کاشکار مالگذاری جنس کی شکل میں ادا کرتے تھے۔اس نظام کی بدولت زمینوں کی ذرخیزی اور آبادکاری میں اضافہ ہو گیا اور ایسی زمینوں پر کاشتکاری کی جانے لگی جو ہزاروں سال سے بنجر پڑی ہوئی تھیں۔ٹیپو سلطان نے اپنی سلطنت میں محاصل کی حصولیابی کے لیے خود اپنے افسران مقرر کیے تھے جن کا مراسلہ براہِ راست ٹیپو سلطان سے تھا۔اس لحاظ سے درمیانی لوگوں یا ساہوکاروں کو کسانوں کا استحصال کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔لگان کی وصولیابی میں بھی نرمی برتی جاتی تھی کسان ایک سال میں تین قسطوں میں اپنا ٹیکس ادا کرسکتے تھے۔ ( یہ بھی پڑھیں ٹیپو سلطان کی مذہبی رواداری – ڈاکٹر محمد تحسین زماں)
شجر کاری کا ٹیپو سلطان کو بہت شوق تھا۔اس کام کے لیے اس نے اپنی حکومت میں نرسریاں بھی قائم کیں تھیں ۔بیجوں،پودھوں کے رکھ رکھاؤ سے متعلق جو تجویزیں ٹیپو سلطان نے پیش نظر رکھی تھیں اس سے متعلق پروفیسر محبرالحسن اپنی کتاب’’ تاریخ ٹپو سلطان ‘‘میں لکھتے ہیں۔
’’ٹیپو کے بنگلور اور سرنگاپٹم کے باغات میں جنہیں لال باغ کہا جاتا تھا۔نرسریاں تھیں جہاں دنیا بھرکے ملکوں سے بیج اور پودھے لاکر لگاے جاتے تھے ان نرسریوں میں پہلے مربع تختے بناے جاتے پھر روش بناکر انہیں ایک دوسرے سے جدا کیا جاتا اور روشوں کے کنارے کنارے سرو کے درخت لگاے جاتے تمام تختے پھل پیدا کرنے والے درختوں اور سبزیوں کے پودوں سے بھر جاتے ہر درخت کی پود کے لیے الگ الگ تختے ہوتے ۔شہتوت ،کپاس اور نیل کے پودوں سے اور آم سیب،نارنگی اور امرود کے درختوں سے دونوں باغ بھر جاتے‘‘ (ص405 مترجم حامداللہ افسر عتیق صدیقی)
ٹیپوسلطان کے معاشی نظام کے مطابق شجر کاری کے لیے بھی کسانوں کو مناسب محصول ادا کرنا ہوتا ۔انناس،ببول،ساگوں ،آم،سوپاری اور صندل کی شجرکاری پر پہلے پانچ سال کے لیے ٹیکس معاف تھا۔جب کے چھٹے سال کے بعد عام شرح کا نصف ہی وصول کیا جاتا تھا۔اس کے بعد ہر سال انہیں پورا ٹیکس ادا کرنا ہوتا۔ٹیپو سلطان نے اپنی ر یاست میں نشیلی چیزوں کی کھیتی جیسے بھانگ کی کاشت کو ممنوع کر رکھا تھا۔ ریشم سازی کی صنعت کو بھی ٹیپو سلطان نے فروغ دیا۔ اس نے ریشمی کیڑوں کی پرورش وپر داخت کے لیے جگہ جگہ شہتوت کے درخت لگوائے۔موجود ہ کرناٹک کو ریشمی صنعت میں عالمی شہرت کا سبسب ٹیپو سلطان کی اسی کاوش کا ہی ثمرہ ہے ۔ ( یہ بھی پڑھیں سلطنت خداداد کی تجارتی و زرعی پالیسیاں – ڈاکٹر عادل حیات )
ملک کی زرعی ترقی کے ساتھ ساتھ ٹیپو سلطان نے تجارت کو بھی فروغ دیا۔اس نے ملک کے طول وعرض میں ہونے والی تجارت کو اپنے ذاتی نظام و نگرانی میں لے رکھا تھا۔صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرونی ممالک سے تجارتی تعلقات قائم کرنے کے لئے با قاعدہ ایک وزارتی شعبہ ’’کچھری ملک التجار‘‘کے نام سے قائم کیاگیا تھا و۔اس محکمے کی نگرانی کرنے اور دوسرے ممالک سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی غرض سے نوسربراہوں کو مقرر کیا گیا تھا۔یہ سر براہ محکمے کی جملہ امور کی رپورٹ ٹیپو سلطان کو بھیجتے تھے جو صدر کی حیثیت رکھتا تھا ۔کیا مجال تھی کہ کوئی تاجر کسی قسم کی بلیک مارکیٹنگ کر سکتا یا زیادہ منافع کما سکتا ۔
ٹیپو سلطان نے تجارت کے جملہ اموکی غرض وغایت کو مد نظر رکھتے ہوئے کوٹھیوں کو تعمیر کرانے کا حکم دیا۔اس طرح سلطنت میں تیس کوٹھیاں اور بیرونِ ممالک جیسے جدہ،بصرہ ،مسقط اور عدن وغیرہ میں 17 تجارتی کوٹھیاں قائم کیں۔ان تمام کوٹھیوں کی نگرانی ،خرید فروخت کے تمام امور کا حساب کتاب رکھنے کے لئے ایک مشیر طیعنات کیا جاتا تھاجس کا تعلق براہِ راست ٹیپو سلطان سے ہوتاتھا ۔تجارتی نقطۂ نگاہ سے مسقط کو بڑی فوقیت حاصل تھی ۔یہ شہر خلیج فارس اور بحرہ احمر کے درمیان ایک منڈی کا کام کرتا تھا جس کے ذریعہ میسوری مصنوعات کو دوسرے ملکوں میں بھیجا جاتا اور دوسرے ملکوں سے ضروری اشیاء ہندوستان میںلائی جاتی تھیں ۔درآمدی اشیاء میں گھوڑے،ریشم کے کیڑے ،موتی،تانبہ اور کھجوریںوغیرہ ہوتیں ۔اور برآمدید اشیاء میں چاول،ہاتھی دانت گرم مصالحے ، صندل کی لکڑی اور عمارتی لکڑی وغیرہ ہوتی۔ ( یہ بھی پڑھیں مثنوی‘‘ اَضراب سلطانی’’ کا تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر نوشاد منظر )
ٹیپو سلطان کی تجارتی ترقی کے بارے میں حکم فیض عالم صدیقی اپنی کتاب’’سلطان ٹیپو شہید‘‘ میں مولانا محمد رئیس اعجازامدارس کا یہ قول نکل کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
’’کہ میسور کی موجودہ تجارتی ترقی کی پہلی اینٹ سلطان نے ہی رکھی ۔اس نے فرانسیسی انجیروں سے کاویری میں آبپاشی کی خاطربند بنوایا ۔ریاست کی ذرعی ترقی کی اسکیم مکمل کروائی تھی اور اسکی ابتدا بھی ہو چکی تھی کہ موت کے بے رحم ہاتھوں نے مہلت نہ دی‘‘ (شیر سیو سلطان ٹیپو شہدہ ص169)
ٹیپو سلطان کو انگیزوں سے بہت ذیادہ نفرت تھی۔اس نے انگریزی تجارتی کمپنیوں کو اپنی سلطنت میں کاروبار کرنے پرشدید پابندیاں لگا رکھی تھیں ،۔میسوری تاجروں کو بھی انگریزی تاجروں سے خرید وفروخت کی ممانت تھی۔یہی وجہ تھی کہ زمانہ ٹیپو سلطان میں یورپی تجارت کو وہ فروغ حاصل نہیں ہو پایا جو بعد میں ہوا ۔
ٹیپو سلطان کو اپنی رعا یاکی ترقی اور خوشحالی کی بڑی فکر تھی۔اس نے اپنے معاشی نظام میں سدھار لانے کے لئے صنعت و ،حرفت کو بھی خوب ترقی دی اور اس میدان میں حیرت انگریز اقدام اٹھائے۔ٹیپونے میسوری ریاست میں فرانسیسی اور امریکی قیدیوں کو بھی کام لینے سے گریز نہیں کیا۔فرانسیسی کاریگروں کی مدد سے ہی سلطنت میں مختلف مقامات پر کارخانے تعمیرکرایے ۔ٹیپو سلطان نے پوری دنیا میں پہلی بار پانی سے چلنے والا ایک انجن تیار کیا۔جوتوپوں میں با آسانی سراخ کرنے کے کام اتا تھا۔پوری دنیا میں سب سے پہلے راکٹ کی ایجاد کرنے والوں میں بھی ٹیپو سلطان کا نام سر فہرست لیا جاتا ہے اس لحاظ سے اسلحہ سازی کے کارخانے ریاست مسیورمیں کافی اہم تھے۔ان کارخانوں میں یو روپین اور ہندوستانی صناع کام کرتے تھے جو نئی طرزکے ہتھیار بنانے میں مہارت رکھتے تھے ۔ان کارخانوں میں چاقو ،قینچی،گھڑیاں ،دستی بندوقیں ،تلواریں ،نیزے اور تیر وغیرہ تیار کیے جاتے ۔
اسلحہ سازی کے علاوہ ٹیپو سلطان اپنی سلطنت خداداد میں مسیوری کپڑے،برتن،لکڑی کے سامان،ریشمی منصوعات، ہاتھی دانت کا کام ،لوہے کی صنعت اور دوسری قسم کی صنعتوں نے کافی ترقی کر لی تھی جس کے نتیجے میں میسور ی عوام نہ صرف خود کفیل ہو گیی تھی بلکہ ریاست کا ۔کوئی بھی فرد نا کارہ یا بے روزگار نہیں بچا تھا ۔ سال بھر میں سلطنت میسور اتنا سامان تیار کرتی جس سے نہ صرف عوامی زندگی کی ہر ضرورت کو پورا کیا جاتا بلکہ حکومت اسے باہر بھی بھیجتی۔
ٹیپو سلطان نے اپنی رعایا کی محض اقتصادی اور زرعی زندگی میں ہی انقلاب پیدا نہیں کیا بلکہ انکی اجتماعی زندگی میں بھی غیر معمولی اصلاحات کیں۔اس نے اپنے ملک کو جنت نمہ بنانے کا جو خواب دیکھا تھا اس کو سچا کرنے ک لئے اپنی پوری زندگی وقف کردی ۔یہ ہندوستانی عوام کی بدنصیبی ہے تھی کہ ٹیپو سلطان جو بیک وقت ایک بڑا مصلح،ایک سپاہی، مجاہد،اور بہت بڑا آزادی پسند مسلمان تھااندرونی شازسوں کا شکار ہو گیااور ان ظالموں نے جوانگریزوں سے ملے ہوئے تھے مرہٹوں اور نظام سے بھی ساز باز کررکھی تھی ٹیپو سلطان کو دشمنوں کے نرغے میں جھونک دیا۔اس طرح ٹیپو سلطان نے ۴ مئی 1790 میں سری رنگاپٹم کے آخری محاصرے میں شہادت پائی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

